BOOK 7 COMPLETED Sadia
Shehr Guide✒️
کتابچہ 7
امام زمان عج سے زمانہ غیبت میں فیض
درس 1: غیبت میں امام زمان عج سے کیسے فائدہ حاصل کریں، اھل سنت کا اعترض اور جواب؟
استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب🌺
عالمی مرکز مہدویت قم💚
خلاصہ:
زمانہ غیبت میں امام زمان عج سے کیسے فائدہ حاصل کریں۔ اور ان کے وجود سے کیسے فیض یاب ہوں ایک امام اپنی غیبت میں کیسے فیض یاب کر سکتا ہے۔
البتہ یہ واضح سی بات ہے کہ امام ؑ کے وجود مبارک سے اس وقت فیض حاصل کیا جا سکتا ہے جب ان کی معرفت پیدا ہو۔
ہمارے آئمہؑ کے زمانے میں بھی ہر کوئی شیعہ اپنے امام کو نہیں دیکھ سکتا تھا بلکہ امام ؑ کا نمائندہ ہر علاقے میں ہوتا تھا جس کی وجہ سے لوگ خط وکتابت ، یدیات اور سوالات کرتے تھے اور بسا اوقات شیعہ لکھتے تھے کہ مولا آپ کی زیارت کرنا چاہتے ہیں لیکن آپ بہت دور ہیں اور بسا اوقات ہمارے دل میں کوئی حاجت ہوتی ہے لیکن سفر اور فاصلہ طویل ہے تو آئمہ ؑ فرماتے تھے کہ اگر آپ ہم سے کوئی فیض حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اپنی حاجت بیان کرنا چاہتے ہیں تو یہ ضروری نہیں کہ آپ ہمیں دیکھیں اللہ نے ہمیں طاقت عطا کی ہوئی ہے کہ ہم آپ کی حاجت کو سن لیتے ہیں اور آپ کی حاجت کو پورا کرتے ہیں۔
تو آج بھی امام زمانؑ عج موجود ہیں اور ہماری گفتگو اور حاجات ان تک پہنچتی ہیں لیکن ان سب کا تعلق امام زمانؑ عج کی معرفت اور شناخت سے ہے۔
ہم امامؑ سے غیبت میں کیسے کوئی فائدہ اٹھا سکتے ہیںَ
ہر سوال کرنے کا ہدف اور عقیدہ الگ الگ ہے۔
اہلسنت جب سوال کرتے ہیں تو ان کا عقیدہ امامت کچھ اور ہے وہ ہمارے عقیدہ امامت کو ہی درست نہیں سمجھتے اور بسا اوقات ان کا سوال طنز ہوتا ہے۔
اہل تشہیو جب سوال کرتے ہیں تو وہ اصل میں میں فیض یاب ہونے کی راہ ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں۔
اہلسنت کے اندر ان کے مشہور عالم قاضی عبد الجبار معتزلی ہم سے یہ سوال کرتے ہیں کہ:
اگر امام ظاہر نہ ہو تو اس کے کے ذریعے نقص و کمی کا جبران ہو تو اس کے وجود کا کیا فائدہ یہ اس طرح ہے کہ زمین پر کوئی حجت نہ ہو۔
اسی طرح اہل سنت کے اکے ایک اور مشہور عالم تفتازانی لکھتے ہیں کہ:
امام کا لوگوں کی نگاہوں سے پوشیدہ ہونا مسئلہ اس انداز سے ہے کہ صرف اس کا نام لوگوں میں ہو نہایت بعید ہے اور اس کی یہ مخفی انداز سے امام ایک لغو چیز ہے۔
یقیناً جب یہ لوگ سوال کرتے ہیں تو ان کا عقیدہ امامت کچھ اور ہے اور جب اہل تشہیو سوال کرتے ہیں تو ان کا عقیدہ فیض یاب ہونا ہے۔ کہ کس طرح سے بادلوں کی اوٹ میں مخفی سورج سے معنوی نور اور حرارت کا فیض حاصل کر سکیں۔
اہلسنت کے درمیان سوال کی وجہ طنز ہے:
اہلسنت کہتے ہیں امام یعنی حاکم کہ وہ ان کے اندر بیٹھ کر حکومت کرے اور فقہی اور ظاہری مسائل کا حل کرے اور دشمنوں سے جنگ کرے۔
جیسے قاضی عبد الجبار معتزلی لکھتے ہیں کہ :
امام کے وجود کی ضرورت اس لیے ہے کہ وہ احکام شرعی کا اجراء کرے مثلاً حدود الہیٰ قائم کرے اسلامی مملکت اور اس کی سرحدوں کو محفوظ رکھے اور دشمن سے جنگ کے لیے مسلمانوں کے لشکر تشکیل دے وغیرہ۔
قاضی ابوبکر باقلالی اشعری لکھتے ہیں:
اسلامی سپاہ کی سپاہ سالاری ، سرحدوں کی حفاظت ، ظالموں کو ختم کرنا، مظلوموں کی حمایت، الہی حدود کا قیام، بیت المال کو مسلمانوں کے درمیان تقسیم کرنا اور اسے دشمنوں سے جہاد کرنے کے لیے صرف کرنا ایسے امور ہیں کہ جن کی بنا پر امام کو نصب کیا جاتا ہے اور یہ سب اس کے وظائف اور ذمہداریاں شمار ہوتی ہیں۔
جبکہ شیعہ امامیہ قرآن و عترت سے تمسک کرتے ہوئے امام کو روئے امین پر حجت خدا اور خلیفہ خدا سمجھتے ہیں۔ جو نبیؐ کی مانند اللہ کی جانب سے معبوث ہے۔ فرق یہ ہے کہ نبیؐ حامل وحی خدا ہے اور امام محافظ وحی خدا اور اور باقی تمام اوصاف میں امامؑ نبیؑ کی مانند ہے۔
اہلسنت جو فائدہ سمجتھے ہیں وہ ایک فائدہ ہے جب امام لوگوں کے درمیان ہو اور لوگ ان کی نصرت کریں اور ان کو حاکم تسلیم کریں۔
ہماری بحث اس سے وسیع تر ہے یعنی اگر نبیؑ یا امام حاکم نہ ہو تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس کی نبوت یا امامت کا کوئی فائدہ نہیں یہ اہلسنت کا عقیدہ ہے۔ لیکن ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ امام حاکم سے پہلے ایک ھادی ہے۔ اور امامؑ کے بہت سارے وظائف ہیں۔
1۔ وہ فوائد و وظائف کہ جو ان کےاسلامی معاشرہ میں حضور اور ظہور پر موقوف ہیں 🔅
۔۔۔۔ مسلمانوں کے معاشرتی نظام کو محفوظ رکھنا
۔۔۔۔ اجتماعی عدالت برقرار کرنا
۔۔۔ احکام اسلامی اور قرآن مجید کی تفسیر و تشریح بیان کرنا
۔۔۔۔ شریعت کی پاسداری کرنا
۔۔۔۔ الہیٰ حدود کا اجراء کرنا
۔۔۔۔ اجتماعی ذمہ داریاں مثلاً جہاد اور دفاع
۔۔۔۔ بیت المال کی تقسیم اور دیگر اس طرح کے امور
2۔ وہ فوائد اور وظائف کہ جو امام کے وجود پر موقوف ہیں۔ یعنی ایسے امام جو ابھی ظاہر نہیں ہیں۔
ان کی ایک نورانی معنویت ہے اور ولایت سے بھرپور دینی حرارت ہے۔
والسلام۔ 🤲
Shehr Guide✒️
کتابچہ 7
امام زمان عج سے زمانہ غیبت میں فیض
درس 2: غیبت میں امام زمان عج سے فیض وجود، زمین اور اس پر بے شمار نظام امام زمانہ عج کی وجہ سے جاری ہیں
استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب
عالمی مرکز مہدویت قم💚
خلاصہ:🪷
غیبت میں امام زمان عج سے فیض وجود کے بے پناہ فوائد ہیں۔ اور بہت سارے ایسے بھی فوائد ہیں کہ جن کا اس بات سے تعلق نہیں کہ امامؑ ظاہر بظاہر ہوں۔ امام عج کا زمین پر ہونا کافی ہے۔
غیبت میں یقیناً استفادہ کم ہوتا ہے۔ لیکن اتنا ضرور ہوتا ہے کہ ہمارا دین ، ہمارا وجود باقی رہے۔ جیسے بادلوں کی اوٹ سے سورج اتنی حرارت دیتا ہے کہ زندگی باقی رہتی ہے۔
پہلا فائدہ: 🔆
واسطہ فیض:
امامؑ اللہ اور مخلوق کے درمیان واسطہ فیض ہے۔ 🙏
اللہ نے کائنات کا ایک ایسا نظام بنایا ہے کہ اس نظام کا مرکز حجت خدا کو بنا دیا ہے۔ یعنی حجت خدا ہیں تو یہ نظام کائنات ہے۔
سبحان اللہ!❤️❤️❤️
مثال کے طور پر ہمارے بدن کو اللہ نے ایسے ترتیب دیا ہے کہ قلب کو اس کا مرکز بنا دیا ہے۔ اب جب تک قلب کی ڈھرکن ہے تو بدن کے سارے نظام چل رہے ہیں لیکن اگر یہ رک جائے تو جاندار ختم ہے۔
اسی طرح کائنات کا نظام ہے۔ اور کائنات کا نظام تخلیقات ایک نظام ہے۔ ہوا کا نظام ہے، روشنی کا نظام ہے۔ سیارے، چاند، ستارے ، سورج، کہکشائیں حرکت میں ہے۔ ان تمام نظاموں میں سے ایک نظام تخلیق ہے۔ اور جب سے یہ نظام تخلیق خلق ہوا۔ روایات جو محمدؐ و آل محمدؑ سے نقل کی گئیں یہ کہتی ہیں۔
اللہ نے سب سے وجہ ہمیں خلق کیا۔ یعنی ہمیں نقطہ مرکزی قرار دیا اور پھر ہمارے سبب سے باقیوں کو خلق کیا۔
یعنی محمد ؐ و آل محمدؑ خالق نہیں بلکہ سبب تخلیق ہیں۔ جیسے ماں باپ بچے کے خلق ہونے میں سبب تخلیق ہیں۔
ایک جملہ کہا جا سکتا ہے کہ نوع بشریت کی مادی اور معنوی حیات بلکہ کائنات کا مکمل نظام وجود امام اور حجت خدا سے وابستہ ہے۔ ❤️
فیض نعمات مادی
روایات: 🍀
امام سجادؑ فرماتے ہیں۔ 🌟
یہ ہمارے وجود کی برکت ہے کہ اللہ نے آسمان کو گرنے سے روکا ہوا ہے۔ یہ ہمارے وجود کی برکت ہے کہ اللہ نے زمین کو لرزش اور اس میں ساکن لوگوں کو بے آرامی سے بچایا ہوا ہے۔ بارشیں ہمارے وسیلے سے برستیں ہیں۔ رحمت ہمارے وسیلے سے پھیلتی ہے۔ زمین کی برکات یہ پودے نبادات یہ مادنیات ہمارے برکت سے خارج ہوتی ہیں۔
اور اگر ہم حجت الہیٰ میں سے کوئی نہ ہو تو زمین اپنے رہنے والوں کو نگل لے گے اور سب مارے جائیں گے۔
رسولؐ اللہ سے جب جناب جابر ؒ نے سوال کیا کہ غائب امامؑ کے کیا فوائد ہیں۔
فرمایا:🌟
اس خدا کی قسم کہ جس نے مجھے نبیؐ بنا کر بھیجا لوگ ان کے نور سے استفادہ کریں گے جیسے لوگ سورج سے استفادہ کرتے ہیں جب وہ بادلوں کی اوٹ میں ہو۔
ہماری بعض روایات میں امام ؑ عج کو پانی سے تشبیہہ دی گئی ہے وہ پانی جو خالص ہے اور انسانی حیات کا ایک بنیادی رکن ہے کہ اگر وہ زمین پر نہ ہو تو حیات ممکن نہیں۔
دعائے عدلیہ کا ایک خوبصورت جملہ ہے کہ : 🪔
دنیا ان کے واسطہ سے باقی ہے ، مخلوقات کو ان کی برکت سے روزی دی جارہی ہے زمین اور آسمان ان کی بنا پر ثبات و قرار رکھتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے وسیلہ سے زمین کو عدل و انصاف سے پر کرے گا بعد اس کے وہ ظلم و جور سے پر ہو چکی ہو گی۔
یہ روایات بتا رہی ہیں کہ اگرچہ امام پردہ غیبت میں ہیں ۔ لیکن ان کا یہ وجود جو زمین پر ہے یہ کائنات کے زندہ ہونے کے لیے کافی ہے۔ امام کا سب سے بڑا فیض ، فیضِ تخلیق ہے ، فیض حیات ہے۔
والسلام۔🤲
👇
*خواہران سے التماس ہے کہ خلاصے کو ایڈٹ کاپی کر کے اور اپنے نام سے منسوب کر کے نہ بھیجیں بلکہ ایک حقیقی منتظر کے طور پر آغا صاحب کے دروس کو سن کر لکھا کریں۔ میں تقریباً 40منٹ میں سنتی اور ٹائپ کرتی ہو اور میں ایک گھریلو خاتون بھی ہوں ۔ عزیزان کوشش کریں کہ ہم امام زمانہؑ عج کی راہ میں محنت ،کوشش اور حرکت کریں۔ اور اپنے استاد محترم کے دروس سے استفادہ اٹھائیں والسلام* 🙏
Shehr Guide:✒️
Shehr Guide✒️
کتابچہ 7
امام زمان عج سے زمانہ غیبت میں فیض
درس 3: غیبت میں امام زمان عج سے فیض ھدایت، ھدایت کی اقسام ، فیض ھدایت باطنی کیا ہے اور کیسے حاصل ہوتی ہے🪔
استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب🪷
عالمی مرکز مہدویت قم💚
خلاصہ: 📜
زمانہ غیبت میں امام زمانؑ عج کا فیض:
فیض ہدایت: 🥀
امام کا ایک مقام جو اللہ نے ان کو عطا فرمایا وہ ھادی ہے۔ 🥀
امام ؑ سے تین طرح کی ہدایت ہوتی ہے
🌺1۔ تشریحی ہدایت یا ظاہری ہدایت:
جس میں امامؑ لوگوں کو احکام الہیٰ بیان فرماتے ہیں۔ قرآن مجید کی آیات کی تفسیر اور پیؐغمبر اسلام کی حقیقی سنت کو بیان فرماتے ہیں ۔ دین اسلام کو انحرافات سے محفوظ کرتے ہوئے حقیقی شکل میں بیان کرتے ہیں۔ اگر امام غائب ہوں تو یہ فیض امامؑ کے نائبین سے جاری ہوتا ہے جیسے ہم آج بھی فقہا ء اور مراجع کی جانب سے یہ فیض دیکھ رہے ہیں۔ یہ سب سلسلہ امامت کے شاگرد ہیں۔ امام زمانہؑ نے ہی انہیں حجت قرار دیا اور ان کے پشت پناہ بھی ہیں۔
2🌺۔ راہنمائی کرنا، بیمار کو شفا دینا۔
3۔🌺 ہدایت باطنی۔
امام جسطرح ظاہر میں ہدایت کرتے ہیں اسی طرح ہمارے باطن کی بھی ہدایت کرتے ہیں۔
علمائے کرام اس جانب اشارہ فرماتے ہیں کہ جناب ابراہیم ؑ جو کہ نبی اور رسولؑ تھے اور ھادی تھے تو یہاں مفسرین نے اشارہ کیا کہ یہ وہی ہدایت باطنی ہے۔ اور بہت سارے انبیا ھادی تھے جسطرح حضرت داؤدؑ، حضرت سلیمانؑ یا جسطرح ہمارے پیغمبرؑ جو سردار ہیں اوردونوں مقام رکھتے ہیں یعنی پیغمبر بھی اور نبی بھی
انبیاٰؑ کے بارے میں قرآن کریم میں ارشاد ہو رہا ہے
ہم نے ان کو امام قرار دیا کہ وہ ہمارے امر خاص کی جانب ہدایت کریں۔
اب وہ پہلے بھی ہدایت کر رہے تھے اب امام قرار دے کر کونسی ہدایت کرنی ہے تووہ یہی ہدایت باطنی ہے۔ امام اللہ کے حکم سے انسان کی روح اور اسکے ذہن کا اور اس کے باطن پر تصرف کر سکتا ہے اور لوگوں کو راہ ہدایت کی طرف لے کر جا سکتا ہے۔ لوگوں کو گناہوں کی جانب جانے سے روکتا ہے۔
ہدایت باطنی ہر ایک کو حاصل نہیں ہوتی اس کے لیے انسان ایسا امر خیر انجام دیتا ہے کہ جس سے یہ فیض حاصل ہوتا ہے۔
اور ہم تاریخ میں ایسی بہت ساری مثالیں دیکھتے ہیں۔ اور امام یہ کیسے کرتے ہیں ہوسکتے ہیں ہم اس کو نہ سمجھ سکیں یہ کوئی طاقت ہے یا فرشتہ ۔
قرآن مجید کے اندر اس طرح کے موضوعات آئے ہیں۔ اور احادیث میں بھی ہے۔
" ہم نے امر میں سے روح آپ کی طرف وحی کی ۔ "
احادیث کہتی ہیں کہ یہ روح خاص فرشتہ ہے اور یہ حضرت جبرائیل اور حضرت میکائیل سے برتر ہے اور یہ ہمیشہ حضرت رسولؐ اللہ کے ہمراہ ہوتا تھا اور ان کی تسلی قلب ، اوران کی تائید اور تمام دشواریوں میں ان کی مدد کرتا تھا۔ تو اس طرح کی روحانی طاقتیں تمام مومنین کے ساتھ ان کی روحانی طاقت کے مطابق ہوتی ہیں۔
اور پروردگار عالم کی جانب سے شیطانی طاقتوں کے مقابلے میں یہ روحانی طاقتیں مومنین کی مددگار ہوتی ہیں۔ اور یہ وہی ہدایت باطنی کی ایک قسم ہیں۔
اب امام کے پاس یہ روحانی طاقتیں ہیں یا کچھ اور ۔ لیکن جو بھی ہے وہ ہے۔ جیسے ہم تاریخ میں مشاہدہ کریں کہ ایک شخص جو دشمن امام ہے لیکن چند لحظوں میں منقلب ہو جاتا ہے جیسے جناب حرؑ
جن پر امام حسین ؑ کا لطف خاص ہوا ۔
اگرچہ امام زمانہؑ عج ہماری نگاہوں سے غائب ہیں اور بلآخر ہمارے درمیان موجود ہیں اور وہ یہ روحانی طاقت رکھتے ہیں کہ کسی بھٹکے ہوئے شخص کو راہ راست پر لے آئیں۔ اور اسکے قدم گناہ کی راہ سے ہٹ کر نیکی کی راہ پر اٹھیں اس لیے ضروری ہے کہ امامؑ سے توسل کیا جائے اور ان سے اپنے امور میں راہنمائی مانگی جائے کیونکہ وہ ھادی حق ہیں وہ قادر ہیں لوگوں کو راہ حق کی طرف لانے پر۔
یا صاحب الزمانؑ عج ادرکنی۔ 🙏
والسلام۔
Shehr Guide✒️
کتابچہ 7
امام زمان عج سے زمانہ غیبت میں فیض
درس 4: غیبت میں امام زمان عج سے فیض، امید ظہور ، تشیع کی حیات و پائیداری کا باعث ، مولا عج باعث امن و آسائش ، اہل زمین دنیاوی عذابوں سے محفوظ ہیں
استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب🪷
عالمی مرکز مہدویت قم💚
خلاصہ:📜
تیسرا فائدہ: 🌟🌟🌟
غیبت میں امام زمان عج سے فیض، امید ظہور ، تشیع کی حیات و پائیداری کا باعث ہے:
امید کسی فرد یا معاشرے کی سعادت اور ترقی حیاتی اور حیرت انگیز کردار کسی پر پوشیدہ نہیں ہےایک جملہ کہا جاسکتا ہے "انسان امید پر زندہ ہے۔ "
پیغمبرؐ فرماتے ہیں:🔆
" اگر امید نہ ہوتی تو کوئی عورت اپنے بچے کو دودھ نہ دیتی اور کوئی درخت نہ اگاتا۔ "
کسی بھی طاقتور لشکر کی شجاعت اس کی امید سے وابستہ ہے۔ جنگ احد میں اسلامی سپاہ کی شکست کے اہم ترین اسباب میں سے ایک نسبت پیغمبرؐ کے قتل ہونے کی افواہ تھی ۔ اسی طرح خندق میں لشکر احزاب کی شکست کی وجہ ان کی امید ختم ہونا اور حوصلہ ہارنا تھا۔
اور آج بھی دشمن اپنے اسی مقصد یعنی دنیا کے اندر سب سے بڑی نفسیاتی جنگ یہی ہے کہ مدمقابل کے خلاف ایسی افوائیں اٹھائی جائیں میڈیا اور دیگر ذرائع سے کہ مد مقابل اپنی امید ختم کر دے۔
امام عج اگرچہ غائب ہیں لیکن وہ موجود ہیں اور ہمارے امور پر نگاہ رکھتے ہیں ہمیں دیکھتے ہیں اور ہمارے مسائل کو جانتے ہیں۔ یہی وہ چیز ہے کہ جس نے تشہیو کو سختیوں اور مظالم میں بھی زندہ رکھا ہے اور وہ مولا کے ظہور کے لیے آگے قدم بڑھا رہے ہیں۔
تاریخ میں سب سے زیادہ قتل و غارت شیعوں کی ہوئی ہے۔ اور اسکے علاوہ دنیا کے باقی ظالم سماج اسلام میں شیعوں کو دشمن سمجھتا ہے۔ اور یہ شیعہ کی حقانیت اور فرقہ ناجیہ ہونے کی دلیل بھی ہے۔
اب شیعہ ابھی تک کیوں باقی ہیں تو ابھی تک ان کا امامؑ باقی ہے اور ان کے ظہور کے انتظار نے شیعوں کو متحرک رکھا ہوا ہے۔
اہلسنت میں بھی مہدویت ہے لیکن وہ مہدویت سرد اور خاموش ہے کیونکہ ان کا عقیدہ ہے کہ امام ابھی پیدا ہونگے ۔ اس لیے حرکت نہیں کرتے ۔ لیکن شیعہ جانتے ہیں کہ مولاؑ ظہور فرمائیں گے۔ وہ زمانہ غیبت میں اپنی ذمہ داریاں اور فرائض نبھا رہے ہیں وہ اللہ کی طاقتور حجت ہیں۔
وہ ہمارے مسائل اور امور کو غیبت میں رہتے ہوئے بھی حل کرتے ہیں ۔
👈
اسی وجہ سے شیعہ ان کی عنایات اور توفیقات کی بنا پر ہمیشہ اپنے آپ کو قائم رکھے ہوئے ہیں۔ یہ مکتب الحمد للہ آگے بڑھا ہے ، پھیلا ہے اور حکومتیں بنائی ہیں اور اپنا لوہا منوایا ہے۔
جس کی ایک واضح مثال ایران کا اسلامی انقلاب ہے۔
چوتھا فائدہ: 🌟🌟🌟🌟
امن و آسائش کی فراہمی:
کائنات میں جو اتنا گناہ، معصیت، ظلم و فساد ہے اگر امام زمان عج کا پربرکت وجود نہ ہوتا تو اب تک لوگ کئی بار الہیٰ عذاب میں گرفتار ہو کر تباہ و ہلاک ہو چکے ہوتے لیکن چونکہ امام اہل زمین کے لیے امان ہیں۔ پروردگار ان کے با برکت وجود کے وسیلے سے لوگوں کو مہلت دیتا ہے کہ وہ غفلت سے نکل آئیں اور توبہ کے ساتھ ابدی شقاوت سے نجات پالیں۔
پیغمبر ؐ اسلام امیرالمونینؑ کو فرماتے ہیں: 🥀
اللہ تعالیٰ تمہاری نسل سے آئمہ کے وسیلہ سے باران رحمت میری امت پر ناذل کرتا ہے اور ان کی دعاؤں کو قبول کرتا ہے اور ان سے بلاء و مصیبت کو دور کرتا ہے۔
امام باقر ؑ فرماتے ہیں: 🌺
اللہ تعالیٰ ہمارے واسطہ سے عذاب کو آپ سے دور کرتا ہے۔
اور ایک مقام پر فرماتے ہیں :🍀
اگر زمین ایک دن بھی امام اور حجت خدا سے خالی ہو جائے تو اللہ انہیں بدترین عذابوں میں مبتلا کر دیتا ہے۔
زمین پر زندگی کا نظام حجت خدا کی وجہ سے باقی ہے۔ اور لوگوں کے امور میں انہیں حجت خدا کے وسیلے سے ہدایت اور استغفار کا موقعہ ملتا ہے۔
جب بھی قدیم قومیں نے اجتماعی گناہ کئے ان پر عذاب آیا۔ لیکن اب ایس نہیں۔ کیونکہ نبیؐ کریم اور ان کے نسل سے حجت خدا باقی ہیں ان کے وجود مبارک کی برکت سے لوگوں کو توبہ اور اصلاح کا موقع ملے گا۔
امام زمانہ ؑ عج فرماتے ہیں: ❤️
میں زمین والوں کے لیے باعث امن ہوں۔
واسلام۔ 🤲
Shehr Guide✒️
کتابچہ 7
امام زمان عج سے زمانہ غیبت میں فیض🪔
درس 6: غیبت میں امام زمان عج سے فیض، مکتب تشیع کی حفاظت اور عام لوگوں کی فریاد کو پہنچنا ، مولا عج کی شیعوں پر عنایات🥀
استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب🌺
عالمی مرکز مہدویت قم💚
خلاصہ:
غیبت میں امام زمان عج سے فیض
پانچواں فائدہ:👈
مکتب تشیع کا تحفظ:🌸
پوری تاریخ میں جو کچھ بھی اس مکتب اور اہل مکتب کے ساتھ ہوا ۔ بے پناہ شیعوں کا قتل ہوا۔ دینی مدارس اور کتب خانے جلائے گئے۔ حتہ ہمارے فقہاء معراجع اور آئمہؑ اور ان کے اصحاب کو شہید کیا گیا۔
اور ہم غیبت کبرٰی میں بھی ہم دیکھ رہے ہیں شہید اول، شہید ثانی ، شہیدثالث جو بڑے فقہاء اور معراجع شہید ہوئے ۔ ناصیبیوں نے کیا کیا نہ اس مکتب کے ساتھ کیا لیکن پھر بھی پروردگار عالم نے مکتب اہلبیتؑ جو دین اسلام کی حقیقی شکل ہے اسے باقی رکھا۔ اور غیبت کبریٰ میں امام زمانہؑ عج کی بھرپور پشت پناہی اور ان کی نظر کرم سے یہ مکتب اور بہتر انداز سے اجاگر ہوا ۔ بہت بڑے بڑے حوضے بنے اور بڑی بڑی دینی شخصیات سامنے آئیں۔
امام زمانہ عج شیخ مفید ؒ مرحوم کی طرف ایک توقیع میں فرماتے ہیں۔
ہم تمہاری خبروں اور حالات سے آگاہ ہیں اور تمہاری کوئی بھی چیز ہم پر پوشیدہ اور مخفی نہیں ہے ۔ ہم نے تمہارے امور کے حل کرنے اور تمہاری سرپرستی میں کوئی کوتاہی نہیں کی ہے اور تمہیں بھلایا نہیں ہے اگر ایسا نہ ہوتا تو مشکلات اور مصبیتیں تم پر نازل ہو جاتیں اور دشمن تم کو نیست و نابود کردیتے۔
پہلی جنگ عظیم کے دوران کہ جب ایران انگریز اور روسی افواج کے قبضہ میں تھا اور ان کے ایران کی مظلوم ملت پر حملے عروج پر تھے تو یہ حالات دیکھ کر آیت اللہ العظمی نائنیی قدس سرہ شیعوں کے حوالے سے بہت پریشان اور متفکر رہا کرتے تھے۔
ایک رات انہوں نے امام زمانہ عج س توسل کیا اور گریہ و توسل کی حالت میں سوگئے تو عالم خواب میں دیکھا کہ ایران کے نقشہ کی شکل میں ایک بہت بڑی دیوار گرنے کے قریب ہے اور عورتوں اور بچوں کی ایک جماعت اس کے نیچے بیٹھے ہوئے ہیں ۔ یہ منظر ایسا ھولناک تھا کہ انہوں نے خواب کی حالت میں فریاد بلند کی کہ اسی حالت میں دیکھا کہ امام زمانہؑ عج تشریف لائے ہیں۔ اور اپنی مبارک انگلی کو دیوار کی طرف کیا اور اسے اپنی جگہ پر قائم کیا اور فرمایا یہ شیعوں کی جگہ ہمارا گھر ہے ۔ ٹوٹ جائے ، خم ہو جائے خطرہ ہے لیکن ہم اسے گرنے نہیں دیں گے سنبھال کر رکھیں گے۔😭
چھٹا فائدہ : 🥀
فریاد کو پہنچنا:🙏
امام بے آسرا اور بے پناہ لوگوں کی فریاد کو پہنچنے والوں میں بہت سے لاچار اور گمشدہ لوگ حضرت کی لطف و عنایت کے ساتھ نجات پاتے ہیں کہ ان واقعات کو لکھنے اور نقل کرنے بیٹھ جائیں تو سینکڑوں جلد کتاب تیار ہو جائے گی
میر مہر (پور سید آقای) ص 73📚
ایک شخص بیان کرتا ہے میں تعلیمی حوالے سے ایک یورپی ملک میں مشغول تھا میرے محل سکونت اور یونیورسٹی کے درمیانی فاصہ میں سوائے ایک بس کے کوئی اور ذریعہ آمد و رفت نہ تھا۔ جب میں آخری امتحان کے لیے یونیورسٹی روانہ ہوا تو بس خراب ہوگئی۔ ڈرائیور کی ہر سعی و کوشش بھی بیکار گئی۔ کوئی اور ذریعہ بھی نہ تھا میں مضطرب اور ناامید ہو گیا۔ ایک دم میرے ذہن میں کوند سی لپکی کہ جب ہم ایران میں ہوتے تھے تو مشکلات میں امام زمانہؑ عج سے توسل کرتے تھے۔ میرے ٹوٹے ہوئے دل نے پکارا اے بقیتہ اللہ آپ کہاں ہیں۔ اگر آج آپ میری مشکل کردیں تو وعدہ کرتا ہوں اول وقت میں نماز ادا کروں گا۔
کچھ دیر بعد کوئی شخص آیا اور ڈرائیور کے ساتھ کوئی بات کی اور بس کے انجن کو کچھ کیا اور کہا کہ سٹارٹ کرو۔ بس چل پڑی۔ میں بے پناہ خوش تھا بہت جلدی میں تھا اور اس شخص کی جانب توجہ نہ کی۔ جیسے ہی گاڑی چلنے لگی۔
اس شخص نے میرا نام لیکر مجھے پکارا اور کہا جو ہم سے وعدہ کیا ہے اسے بھولنا نہیں۔ ۔۔۔
یاصاحب الزمانؑ عج۔۔😭😭
یہ وہ چیزیں ہیں جس سے مہدویت باقی ہے ہم بے وارث نہیں ایک حجت خدا ہیں کہ جن کو اللہ نے ہمارے امور پر سرپرست قرار دیا ہے اور الحمد للہ ان کے وجود مبارک سے ہم بہر مند ہیں۔
پروردگار ہمیں امام وقت سے توسل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ 🙏
آمین
والسلام۔ 🤲
کتا بچہ7
اما م زمان عج سے غیبت میں فىض
درس5:
خلاصہ :امام زمان عجکا اہم تر تن فىض مکتب تشیع کى حفا ظت ہے پور ى تا رىخ مکتب تشیعکے ساتھ جو ہوا- کتب خانے جلائے گئے ہمارے مرا جع اورآئمہ عاوران کے اصحاب کو شہید کیا گیا-
غیبت کبرى میں ہم دىکھ رہے ہیں شہیداول ،شہىد ثا نى،شہىد ثا لث جو بڑے مر ا جع ان کو شہید کا گیانا صىبىو ں اور دشمن اہلبیت نے کیا کچھ اس مکتب کے ساتھ نہ کیا- ىہ الله کى منشا تھى کہ اس نے مکتب اہلبیت کو محفو ظ رکھا
اما م وقت کى تو جہ ہے کہ آج مکتب تشیع پھیلا-
اما م زمان عج شیخ مفیدرحمتہ مر حو م کہ طر ف ایک تو صىع میں فر ماتے ہیں
ہم تمہاری خبروں اور حا لات سے آگاہ ہیں کوئى چیز ہم پر
پو شىدہ اور محفى نہیں ہے ہم نے امور کے حل کرنے میں تمہاری سر پرستى
میں کوئى کو تا ہى نہیں کى اور نہ تمہیں بھلا یااگر ایسا نہ ہوتھا تو مشکلات اورمصىبتىں تم پر نا زل ہو تىىں اور دشمن تم کونست و نا بو د کر دیتے
پہلى جنگ عىظم کے دوران جب آدھااىر ان انگر یزکے ہاتھ اورآدھا روسى افوا ج کے ہاتھ میں تھا کہتے ہیں کہ بر ا دور
تھا قحط تھا غىر ملکى افواج ہیں وہ ملت پر بے پنا ہ ظلم کرر ہى تھى تو اس زمانے میں بڑا
مر اجع وہ جو بڑے پر شا ن تھے
ایک را ت انہوں نے اما زمان سے تو سل کیا تو عا لم خو اب میں دیکھتے ہیں کہ اىران کا نقشہ ایک بڑ ى دىو ار کى شکل میں گرنے کے قر ىب ہے اور عو رتوںاور بچو ں کہ بڑ ى جما عت
اس کے نیچے بىٹىھے ہوئے ہے انہوں نے خواب کہ حالت میں فر ىا د بلند کى اسى حا لت میں دیکھتے ہیں کہ زمانہ عج تشریف
لا ئے اور اپنى مبا رک انگلى کو اپنى جگہ قائم کے ہو ئے ہیں اورفر ما ىا کہ شىعوں کہ جگہ ہما را گھر ہےىہ ٹو ٹ جا ئے خم ہو جا ئے لىکن ہم اسے گر نے نہیں دىں گئے
Shehr Guide
Shehr Guide✒️
کتابچہ 7
امام زمان عج سے زمانہ غیبت میں فیض
درس 6: غیبت میں امام زمان عج سے فیض، تربیت و تزکیہ لینا، علوم الہی سے استفادہ ، قلبی و روحانی اور دینی استحکام
استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب🌺
عالمی مرکز مہدویت قم💚
خلاصہ: 📜
غیبت میں امام زمانہ عج سے فیض:
مومنین کا تزکیہ و تربیت: 🌟
زمانہ غیبت ہو یا پھر زمانہ ظہور امام ؑ کا ایک اہم کردار لوگوں کے لیے مربعی معلم اور ھادی ہونا ہے۔
قرآن مجید میں کچھ آیات اس جانب اشارہ کرتی ہیں کہ امام ہمارے اعمال پر نگاہ رکھتے ہیں۔
سورہ توبہ 105
وَقُلِ اعْمَلُوْا فَسَيَـرَى اللّـٰهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُوْلُـهٝ وَالْمُؤْمِنُـوْنَ ۖ وَسَتُـرَدُّوْنَ اِلٰى عَالِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَـيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُـمْ تَعْمَلُوْنَ (105)
اور کہہ دے کہ کام کیے جاؤ پھر عنقریب دیکھ لیں گے تمہارے کام کو اللہ اور اس کا رسول اور مسلمان، اور عنقریب تم لوٹائے جاؤ گے غائب اور حاضر کے جاننے والے کی طرف، پھر وہ تمہیں بتا دے گا جو کچھ تم کرتے تھے۔
یعنی تین ہستیاں تمھارے اعمال کو دیکھ رہی ہیں ایک پروردگار ایک نبیؐ اور ایک مومنین کا گروہ
یہاں مومنین کے گروہ سے مراد آئمہ معصومینؑ ہیں۔
جو ہمارے اعمال کو دیکھتے ہیں۔
تو اب یہ ہمارے اعمال امام ؑ تک پہنچتے ہیں۔ اور خدا کی راہ میں چلنے والے جب اس نقطے کو دیکھتے ہیں کہ ہمارے اعمال خدا اور امامؑ کی بارگاہ میں جاتے ہیں تو وہ گناہ کرتے وقت شرمندہ ہوتے ہیں۔ اور یہ امامؑ کی جانب سے ہدایت کا سامان بھی مہیا ہوتا ہے اور امام کی باطنی ہدایت شامل حال ہو جاتی ہے۔
عرفہ فرماتے ہیں کہ اپنے آپ کو پروردگار عالم کی بارگاہ میں متوجہ کریں۔ باعث شرم ہے ہمارے لیے کہ ہم اللہ کی بارگاہ میں اور ولی خدا ، حجت خدا کی بارگاہ میں حاضر ہوں اور وہ ہمارے گناہوں کو دیکھ رہےہوں۔
ہم جب امامؑ کو سلام کرتے ہیں تو وہ ہمارے امور کو دیکھ رہے ہوتے ہیں۔
فکری اعتبار سے اس کے کئی فوائد ہیں۔ 🪔
اللہ نے حجت خدا کے ذریعے جو علوم بھیجے ہیں وہ زمانہ غیبت میں اس کے اہل افراد کو مل رہے ہیں۔ امامؑ عج بعنوان معلم فقہاء اور اہل علم کی مدد کرتے ہیں۔
اور زمانہ ظہور میں یہ عروج پر ہوگا اور مولا کا یہ چھوٹا سا لشکر ان علوم کے باعث پوری دنیا پر حکومت کرے گا۔ ان علوم کے آگے دنیا کی ٹیکنالوجیز فیل ہو جائیں گی۔
یہ عقیدہ ہی فکری اعتبار سے انسان کے دل و وجود جان اور ایمان غرض کہ ہر چیز کے استحکام کا باعث ہے۔
آج دیکھیں تو مسجد جمکران میں لاکھوں لوگ جمع ہوتے ہیں اور اربعین پر لاکھوں افراد جمع ہوتے ہیں یہ محمدؐ و آل محمدؑ اور خصوصی طور پر امام زمانؑہ سے محبت اور ان کے لیے تیاری اور امام کی پشت پناہی ۔ یہ ساری چیزیں اس بات کا احساس دلاتی ہیں کہ شیعہ اپنے امام عج سے جڑے ہیں اور ان کے لیے تیاری کر رہے ہیں اور ان پر قربان ہونے کو تیار ہیں۔
اور گناہوں کو چھوڑتے ہیں اور ایک ذمہدار منتظر کے طور پر خود کو پیش کرتے ہیں۔
یہ ہماری چیزیں بتاتی ہیں کہ امام عج ہم پر ناظر ہیں۔
والسلام 🤲
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں