Course 2 Book 7 Me

 



*کتابچہ 7*
*امام زمان عج سے زمانہ غیبت میں فیض*
*درس 1: غیبت میں امام زمان عج سے کیسے فائدہ حاصل کریں، اھل سنت کا اعترض اور جواب؟*
*استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب*
*🖇️خلاصہ:*

*💫غیبت میں صاحب الزمان علیہ السلام  عج کے فیوض و برکات:*
 اس سوال کے متعلق شیعہ و سنی ہر  ایک دو الگ ہدف رکھتے ہیںکیونکہ اہلسنت ہمارے عقیدہ امامت کے قائل نہیں ہیں جیسے ← ایک *اہلسنت عالم دین قاضی عبد الجبار معتزلی* کہتے ہیں کہ غیبت میں امام کا وجود بے فائدہ ہے کیونکہ امام حاکم کی طرح حکومت بنائے اور دفاع اسلام کے لئے لشکر تشکیل دے، جنگ کرے وغیرہ۔
←  *جناب تفتازانی* کہتے ہیں امام کا لوگوں کی نگاہوں سے پوشیدہ ہونا ایسے ہی ہے کہ جیسے صرف ان کا نام لوگوں کی زبان پر ہو اور ایسی امامت کا کوئی فائدہ نہیں ہےیہ ان کے ایک لحاظ سے طنز ہے ان کے نزدیک امام کی حیثیت صرف ایک حاکم کی ہے جو حکومت تشکیل دے اور ان کے زندگی سے جڑے مسائل کو حل کرے۔
*🌸ایک سوال:*
←جبکہ شیعہ کا سوال اس لئے ہے کہ ہم کیسے فیض حاصل کریں؟؟
 جیسے بادل کی اوٹ سے سورج سے لوگ حرارت و نور لیتے ہیں۔
 قرآن و احادیث کی رو سے یقین رکھتے ہیں کہ امام زمین پر حجت خدا ہے خواہ وہ  بظاہر حاکم ہو یا نہ ہو۔ یہ عقیدہ نبوت کی طرح ہے جیسے نبی خدا کی طرف سے مبعوث کئے گئے ویسے امام بھی مبعوث کئے گئے صرف وحی کے فرق کے ساتھ نبی صاحب وحی ہے امام محافظ وحی ہے۔
اہلسنت امامت کا صرف ظاہری حاکم کا فائدہ دیکھتے ہیں جو اس وقت ممکن ہے جب امام لوگوں کے درمیان موجود ہو۔
جبکہ امام  نبی کی طرح بعنوان ہادی کام کرتے ہیں۔
ہماری بحث اہلسنت کی نسبت بہت وسیع تر ہے۔
←امام لوگوں  کے  درمیان موجود ہوں تو آپ کے وظائف ، فیض و برکات کو ایسے بیان کر سکتے ہیں:
١- معاشرتی نظام محفوظ
٢- اجتماعی عدالت کا قیام 
٣- احکام اسلامی و قرآن کی درست تشریح 
٤-شریعت کا محافظ
٥- حدود الہی کا اجراء
٦- اجتماعی ذمہ داریوں مثلاً جہاد و دفاع سر انجام 
٧- بیت المال کی تقسیم  

🟣← آخر الزمان امام عج کا معاملہ اس فرق کے ساتھ ہے کہ آپ ظاہر نہیں ہیں اور حاکم نہیں ہیں۔
والسلام
التماس دعا




*کتابچہ 7*
*امام زمان عج سے زمانہ غیبت میں فیض*
*درس 3:  غیبت میں امام زمان عج سے فیض ھدایت، ھدایت کی اقسام ، فیض ھدایت باطنی کیا ہے اور کیسے حاصل ہوتی ہے*
*استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب*
*🌼خلاصہ:*
_فائدہ نمبر2:_
*🌼غیبت صاحب الزمان عج میں فیض ہدایت:*
 امام عج اللہ کی جانب سے ہادی ہیں
←ہدایت دو قسم کی ہے: 
*🖇️١- ہدایت تشریعی:*  
یعنی ہدایت ظاہری، لوگوں کو احکامِ الٰہی اور تفسیرِ قرآن  کی  تعلیم، پیامبرِ اسلامﷺ کی حقیقی سنت بیان کرنا اور دین الٰہی کو انحرافات سے محفوظ رکھنا۔
امام عج چونکہ پردہِ غیبت میں ہیں اس لئے یہ فیض عوامُ الناس کو آپ عج کے نائبینِ خاص، فقہا اور مراجع کے ذریعے مل رہا ہے کیونکہ یہ تمام آپ عج کی تعلیمات کے شاگرد ہیں۔
←ہدایت کی ایک قسم یہ ہے کہ امام عج توسل کرنے والے کسی راستہ بھولنے والے کو راستہ بتا دیں یا مریض کو شفایاب فرما دیں۔
*🟣ہدایت باطنی:*
یعنی امام ہماری روح و نفس کی اصلاح فرماتے ہیں.
←حضرت ابرہیم علیہ السلام کو جب خدا نے امامت کے منصب پر فائز فرمایا تو مفسرین بیان کرتے ہیں کہ:
  آپ کے رتبے میں ہدایتِ باطنی کا اضافہ ہوا
←ایسے ہی حضرت داؤد علیہ السلام ، حضرت سلیمان علیہ السلام ، ہمارے پیغمبر اسلام ﷺ سب منصب امامت پر فائز تھے۔
*سورہ انبیاء آیت نمبر 53:*
_🟢ترجمہ:_
"ہم نے ان کو امام قرار دیا تاکہ ہمارا امر ہدایت کریں۔"
یعنی آپ علیھم السلام صلاحیت رکھتے ہیں کہ لوگوں کے باطن پر تصرّف کر سکیں اور ہدایت کی طرف لے جائیں۔
ہدایت باطنی حاصل کرنے کی کچھ شرائط ہوتی ہیں کہ ایسے امر خیر انجام دئیے جائیں کہ یہ فیض حاصل کر سکیں۔
ہر مومن کی ہدایت کا سامان خدا کی طرف سے مہیا کیا گیا ہے جتنے زیادہ نیک اعمال انجام دئیے جائیں اتنا زیادہ ہم باطنی ہدایت کے قابل ہو جاتے ہیں اور خدا نخواستہ معصیت کی صورت میں یہ اہلیت کمزور ہو جاتی ہے پس شیطانی طاقتیں جو انسانی نفس میں وسوسہ پیدا کرتی ہیں ان کے مقابل روحانی طاقتیں بھی مدد کے لئے موجود ہوتی ہیں۔
←جیسے حضرت حُر علیه السلام کا حضرت زہیر بن قین؀ کا فیض امام  سے منقلب ہونا۔
پس ان سب سے توسل امام عج کی اہمیت پر روشنی ڈالنی  ہے۔
والسلام
التماس دعا


*کتابچہ 7*
*امام زمان عج سے زمانہ غیبت میں فیض*
*درس 2:  غیبت میں امام زمان عج سے فیض وجود، زمین اور اس پر بے شمار نظام امام زمانہ عج کی وجہ سے جاری ہیں*
*استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب*
*🌼خلاصہ:*

غیبتِ امام عج سے استفادہ اتنا ضروری ہوتا ہے کہ ہمارا دین اور اسکا  وجود باقی رہے جیسے بادلوں کے پیچھے سورج کی روشنی اور حرارت اتنی ضرور ہوتی ہے کہ ہر قسم کی حیات کے لئے کافی ہو

 *🌸فائدہ 01:*
_🖇️واسطہ فیض:_
 امام  عج کا وجود مقدس اللہ تعالیٰ اور مخلوقات کے درمیان واسطہ فیض ہیں خدا نے اس کائنات کا نظام اس طرح خلق فرمایا ہے کہ اپنی حجت کے وجود کو اس کا مرکز قرار دیا ہے جیسے بدن انسانی میں قلب جب تک قلب کی دھڑکن ہے انسانی زندگی باقی ہے۔

← کائنات میں جاری کروڑوں نظام میں سے ایک تخلیقات کا نظام ہے جس سے ہر قسم کی حیات آگے بڑھتی ہے
محمد و آل محمدﷺ خدا کی اولین مخلوق ہیں اور آپ علیھم السلام باقی مخلوقات کی تخلیق کا سبب قرار پائے
جیسے والدین بچے کے خالق نہیں ہیں اس کی پیدائش کا سبب بنتے ہیں۔

امام عج کا وجودِ مقدس کا اولین فیض یہ ہے کہ کائنات میں جاری تمام نظام خواہ ان کا تعلق کسی بھی پہلو سے ہو آپ عج کے سبب سے قائم ہیں

*✨روایتِ امام سجاد علیہ السلام کا:*
_امام فرماتے ہیں کہ:_
*"یہ ہمارے وجود کی برکت ہے کہ اللہ نے آسمان کو گرنے سے روکا ہوا ہے اور یہ ہمارے وجود کی برکت ہے کہ اللہ نے زمین کی لرڑش اور اسکے ساکن لوگوں کو بےآرامی سے بچائے ہوئے ہے بارشیں ہمارے وسیلے سے نازل ہوتی ہیں رحمت ہمارے زریعے پھیلتی ہے اور زمین کی برکات ہماری وجہ سے خارج ہوتی ہیں اور اگر ہم سے کوئی زمیں پر موجود نہ ہو تو زمین اپنے رہنے والوں کو اپنے اندر نگل لے۔۔۔"*
*💫مفہوم:*
یہ ہمارے وجود کی برکت ہے کہ اللہ نے زمین و آسمان کے نظام قائم ہیں، بارشیں اور رحمتیں ہمارے سبب سے نازل ہوتی ہیں، حیات ہمارے سبب سے نمو پاتی ہےاگر زمین پر حجت خدا کا وجود نہ رہے تو یہ اپنے رہنے والوں کو نگل لے۔
 ←بعض روایات میں امام عج کے وجود  مقدس کو صاف و شفاف پانی سے تشبیہ دی گئی ہے جو ہر قسم کی حیات کی اساس ہے پس فیض تخلیق، فیض بقا امام  علیہ السلام کے وجود مقدس کی بدولت ہے۔
والسلام
التماس دعا

 
*کتابچہ 7*
*امام زمان عج سے زمانہ غیبت میں فیض*
*درس 4:  غیبت میں امام زمان عج سے فیض، امید ظہور ، تشیع کی حیات و پائیداری کا باعث ، مولا عج باعث امن و آسائش ، اہل زمین دنیاوی عذابوں سے محفوظ ہیں*
*استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب*
_🖇️خلاصہ:_
*فائدہ نمبر3:*
🌼 _امید دلانا:_
 بہتری کی امید کے لئے انسان ہمیشہ کوشش کرتا ہے جیسے
آج کی سب جنگیں نفسیاتی جنگیں ہیں کہ کسی طرح دشمن کی امید ختم کر دی جائے۔
امام عج گو کہ ہمیں نظر نہیں آتے  لیکن آپ عج کی موجودگی، ہمارے اعمال سے با خبر ہیں  ہمارے مسائل جانتے اور حل فرماتے ہیں  *"یہ ایسی امید ہے جس نے مکتب تشیع کو بے انتہا ظلم و ستم کے باوجود زندہ و قائم رکھا ہے"*
 ترقی کی ہے اور عزت و سربلندی حاصل کی ہے
🟣←اہلسنت میں مہدویت سرد اور خاموش ہےان کا عقیدہ کہ امام مہدی عج ابھی پیدا ہوں گے  اس لئے متحرک نہیں ہوتے
←🌼 ایران کے انقلاب کی خوبصورت مثال سامنے ہے جو مہدویت کے عنوان سے ممکن ہوا ہے۔
*فائدہ نمبر4:*
_🟣امن و آسائش کی فراہمی:_

✨←کائنات میں اب  بھی ظلم و گناہ ہو رہا ہے لیکن گذشتہ امتوں کی طرح عذاب الٰہی میں مبتلا نہیں ہوئے اس کی وجہ حجت خدا کا وجود مقدس ہے جو اہل زمین کے لئے امان ہیں۔ اور انسانوں کو  توبہ کرنے کی مہلت حاصل ہے۔
بارانِ رحمت کانزول، دعاؤں کی قبولیت، بلاؤں کا دور ہونا یہ سب آئمہ علیہم السلام کے وسیلے سے انجام پاتا ہے زمیں ایک دن بھی وجود امام علیہ السلم سے خالی ہو جائے تو خدا ان کے گناہوں کے سبب انہیں بدترین عذاب میں مبتلا فرما دے۔
پس یہ غیبت میں وجود مقدس امام عج کی برکات کا بیان ہے۔
والسلام
التماس دعا





*کتابچہ 7*
*امام زمان عج سے زمانہ غیبت میں فیض*
*درس 5:  غیبت میں امام زمان عج سے فیض، مکتب تشیع کی حفاظت اور عام لوگوں کی فریاد کو پہنچنا ، مولا عج کی شیعوں پر عنایات*
*استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب*

*✨دور غیبت میں امام زمان عج کا اہم ترین فیض مکتبِ تشیع کی حفاظت:*
*فائدہ نمبر5:*
✨••مکتب تشیع کا تحفظ:••
_🌸شیعت:_ 
 شیعت جو دینِ اسلام کی حقیقی شکل ہے پر ہر طرح کے مالی، جانی و علمی ظلم و ستم کے باوجود از لطف ہروردگار، صاحب الزمان عج کی نظر خاص ہے جس نے اس مکتب کو محفوظ رکھا۔
*🌸ایک توقیع میں امام عج فرماتے ہیں کہ:*
_"ہم تم سے آگاہ ہیں اور کوئی چیز ہم سے مخفی نہیں ہے اور ہم نے تمہاری سرپرستی میں کوئی کوتاہی نہیں کی اور نہ تمہیں بھلایا ہے اگر ایسا نہ ہوتا تو دشمن تمہیں نیست و نابود کر دیتے...."_
س
🟣← کہتے ہیں کہ پہلی جنگِ عظیم میں جب نصف ایران پر انگریز اور نصف پر روسی قابض تھے تو ایران ہر طرح کے مسائل کا شکار تھا اس دور میں *عظیم شخصیت آیت اللہ نائنی رح* بہت پریشان رہا کرتے تھے ایک شب آپ نے امام زمان عج سے توسل کیا اور سو گئے۔ خواب میں دیکھا کہ ایک بہت بڑی دیوار پر ایران کا نقشہ ہے، اور وہ دیوار گرنے کے قریب ہے۔ جس کے پاس بچے اور خواتین بیٹھی ہیں یہ منظر بہت ہولناک تھا تو انہوں نے خواب میں ہی امام عج کو پکارا تو دیکھا کہ صاحب الزمان عج تشریف لائے اور اپنے انگشت مبارک سے دیوار کو اپنی جگہ پر قائم کیا اور فرمایا کہ: *یہ شیعوں کی جگہ ہمارا گھر ہے ہم اسے کبھی نہیں گرنے دیں گے*
_فائدہ نمبر6:_
*💐فریاد کو پہنچنا:*
← بہت بے پناہ لوگ جو گوناگوں  مشکلات کا شکار ہیں جب حالتِ اضطراب میں مولا کو پکارتے ہیں تو بے پناہ عنایات کا اپنی زندگیوں میں مشاہدہ کرتے ہیں جیسے:
 🟡←ایران میں ایک کتاب *"میر مھر"* جنہیں بہت بڑی علمی شخصیت نے لکھا ہے۔
اس میں یورپ میں تعلیم حاصل کرنے والے  ایک ایرانی نوجوان کا واقعہ ہے جو یونیورسٹی کے آخری پیپر کے روز سواری کی طرف سے مشکل میں مبتلا تھا تاکہ بروقت یونیورسٹی پہنچ سکے اس نے اس مشکل میں امام ع سے توسل کیا اور وعدہ کیا کہ یہ مشکل حل فرمائیں آئندہ ہمیشہ اول وقت نماز ادا کروں گا۔ اسی وقت کوئی شخص ڈرائیور کے پاس آیا ، اس کے انجن کو کچھ کیا اور گاڑی سٹارٹ ہو گئی اس شخص نے گاڑی سے اترتے ہوئے اس طالبعلمی کا نام پکار کر کہا کہ ہم سے کیا ہوا وعدہ نہ بھولنا
ہم اپنی زندگی پر غور کریں تو یہ عنایات ہماری زندگی میں موجود ہیں ہمارا سرپرست موجود ہیں جو از طرف پروردگار مشکلات میں ہماری مشکل کشائی فرماتے ہیں۔

والسلام
التماس دع






*کتابچہ 7*
*امام زمان عج سے زمانہ غیبت میں فیض*
*درس 6:  غیبت میں امام زمان عج سے فیض، تربیت و تزکیہ لینا، علوم الہی سے استفادہ ، قلبی و روحانی اور دینی استحکام*
*استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب*
*🔵خلاصہ:*
*فائدہ نمبر7:*
🟡 _الہی علوم کی حفاظت:_
وہ علوم جو حضرت آدم علیہ السلام زمین پر لائے اور وہ جو سب انبیاء علیہ السلام وحی کے ذریعے پہنچاتے رہے اور ایک حجت سے دوسری حجت منتقل ہوتا رہا اور ہر زمانہ کی حجت ان علوم کی حفاظت کی اور اب امام زمانہ عج ان علوم کی محافظ ہیں۔

فائدہ نمبر8:

*تربیت و تزکیہ:*
امام ہمارے تمام اعمال کی شاہد ہیں اور ہمارے تمام اعمال امام عج کے سامنے پیش ہوتے ہیں یہ چیز ہمارے اندر خوبیوں اور بری خصلتوں سے بچنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
← تزکیہ کے راہ میں قدم اٹھانے میں عظیم حرکت اور امام کی دعائے خیر سے بہرہ مند ہونا ہو سکتی ہے۔
والسلام
التماس دعا

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

(Ist pdf) 👈 مہدویت پر بحث کی ضرورت (استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب)

دروس عقائد کا امتحان

کتاب غیبت نعمانی کے امتحان کے سوالات اور ان کے جوابات