Book 3 First 7 lessons

 




تیسرا کتابچہ: " امام مہدی عج قرآن کی رو سے اہمیت ، قرآن کا جامع و کامل ہونا اور تفسیر و تاویل ہونا اورتفسیر و تاویل سے مراد
 
 
خلاصہ: 
قرآن مجید کے اندر تقریباً 200 سے زائد  آیات امام زمانہؑ کی شان میں نازل ہوئیں۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ اس ہستی کا ذکر نہ ہو کہ جس نے قرآن کو نافذ کرنا ہے۔  امام زمانہؑ جب ظہور فرمائیں گے تو حکومت قرآن ہو گی۔ ابھی تو قرآن فقط غلاف میں بند ہے اور مردوں پر پڑھنے والی کتاب ہے ۔ لیکن تب قرآن ہماری زندگیوں میں شامل ہوگا۔  اس دور میں یہ زندوں  کی کتاب ہو گی۔ اور اس دور میں لوگ کہیں گے کہ امام زمانہؑ کی حکومت دولت قرآن ہے۔  
قرآن مجید جس کے اندر سب حقائق موجود ہیں وہاں اس ہستی کا ذکر نہ ہو کہ جس نے دنیا کو عدل سے بھر نا ہے۔ 
قرآن بہترین دلیل ہے امام زمانہؑ کی شناخت حاصل کرنے کے لیے۔ ہم سب کا فریضہ ہے کہ امام زمانہؑ کی معرفت حاصل کرے۔ 
جو بھی  کلمہ گو ہے اسے اپنے دور  کے پیغمبر کے وصی کی معرفت حاصل کرنا ضروری ہے۔ 
حدیث ہے کہ جو شخص اس حال میں مرا کہ زمانے کے امامؑ کی معرفت حاصل نہ کرے تو وہ جہالیت (یعنی قبل از اسلام  کفر) کی موت مرا۔
یعنی حقیقی امام کی معرفت، آج دنیا میں بہت سے  مختلف فرقے اور مسلک ہیں جو خود کو حقیقی اسلام کہتے ہیں لیکن حقیقی اسلام وہیں ہے جہاں حقیقی امام ؑ ہیں اور امام ؑ تک پہنچنے کا بہترین راستہ قرآن مجید ہے۔ 
قرآن مجید خود ایسی پاکیزہ  راہ ہے جو  معصوم ہے صراط مستقیم ہے۔ اس سے بڑی دلیل کوئی نہیں۔
مولا علیؑ فرماتے ہیں
" جان لیں کہ اگر کوئی شخص  قرآن سے علوم حاصل کر رہا ہے تو اب اس شخص پر  احتیاج باقی نہیں رہی یعنی اب وہ شخص محتاج نہیں اور قرآنی علوم حاصل کرنے سے قبل کوئی شخص غنی نہیں ہے۔ 
بس قرآن سے اپنی بیماریوں (روحانی) کی شفا مانگو اور مشکلات میں قرآن سے مدد مانگو۔"
قرآن در حقیقت روحانی بیماریوں کی دوا ہے۔ قرآن کے ذریعے علم طب بنا جو جسمانی بیماریوں کی دوا ہے۔ 
ہمیں قرآن اور امامؑ کی معرفت ہونی چاہیے۔ 
جب ہم قرآنی نگاہ سے کسی موضوع پر کام کرتے ہیں تو پھر اس موضوع پر شک و شعبہ کی گنجائش نہیں۔ 
اسلام آخری دین ہے۔ پیغمبرؐ کی رحلت کے بعد سلسلہ وحی نہیں آئے گی۔ آئمہؑ  حامل وحی نہیں بلکہ محافظ وحی ہیں۔ 
بعض دفعہ ہمارے ممبر سے ایسی گفتگو کی جاتی ہے کہ لگتا ہے کہ امام ؑ بھی     حامل وحی ہیں ۔ جس کی وجہ سے ہمارے مخالف دھڑے اور اہلسنت کہتے ہیں کہ شعیہ ختم نبوت کے قائل نہیں۔ اور دین آنے کا سلسہ باقی رہا اور یہ 13 نبیوں کے قائل ہیں ۔ ہمارا بھی یہی عقیدہ ہے کہ پیغمبر ؐ کے بعد وحی نہیں آئی۔  آئمہ ؑ  پر الہام ہوتا ہے۔ آئمہ محافظ وحی  اور احادیث ہیں۔ 
معصوم فرماتے ہیں کہ اگر کوئی عام شخص 40 دن اپنی زبان کو گناہوں سے پاک کر لے  تو پروردگار اس کے قلب پر حکمت  کے چشمے کھول دیتا ہے۔ تو جب ایک عام انسان پاکیزگی کی راہ اختیار کرے تو   خدا خود معلم بن جاتا ہے۔  تو جو پاکیزہ لوگوں کا امام ہے ۔  جو مطلقاً امام معصوم ہے۔  اسپر الہام ہوتے ہیں۔
آئمہؑ  کو علم غیب عطا ہوا ۔ کیونکہ امامؑ عوام میں بطور مشکل کشا ہوتے ہیں تو ان کی غیبی مدد ہوتی ہے۔  لیکن وحی کا سلسلہ ختم ہے۔
مولا علیؑ   نے بعد از رحلت  پیغمبرؐ    فرمایا کہ:
یا رسول ؐ اللہ آپ ؐ  کی موت سے  بشریت اس چیز سے (وحی)  محروم ہو گئی ہے ۔ جو آج سے پہلے نہ ہوئی تھی۔ یعنی سلسلہ وحی سے محروم ہو گئی ہے۔  اور آسمانی دین کا سلسلہ ختم ہو گیا۔  یہ دین قیامت تک رہے گا۔ 
ہر دور کے لیے قرآن کامل اور جامع کتاب ہے۔ اس میں تمام مسائل کا حل ہے۔ 
پروردگار عالم نےفرمایا: " اے نبیؐ ہم نے آپؐ پر ایسی کتاب نازل کی کہ جس میں ہر چیز (کی ہدایت ) کا بیان موجود ہے۔ 
جیسے احکام شریعت۔ عقائد، اخلاق یعنی ایسی چیزیں  جو انسان کو راہ راست  پر لاتی ہیں جو انسان کو بندگی سیکھاتی ہیں جو انسان کو انسان بناتی ہیں۔  اگر ایک انسان بگڑ جائے تو وہ معاشرے کے لیے ناسور بن جاتا ہے۔  اگر وہ طاقتور ہو تو پوری مملکت کو جنگ میں جھونک دیتا ہے۔ 
اگر کوئی انسان بن جائے تو  وہ فائدہ مند  ہے  وہ  امت کو ترقی کی جانب لے جاتا ہے۔ پورا محلہ اس سے استفادہ لیتا ہے۔ 
قرآن ہدایت ہے۔ 
سورہ البقرہ کی ابتدائی آیا ت بتاتی ہیں : کہ " ھدی المتقین" میں اہل تقویٰ کے لیے کتاب ہدایت ہوں۔ 
یعنی قرآن انسان کی نجات ہے۔ 
قرآن کی تفسیر و تاویل ہونی چاہیے۔ تفسیر کو انسان علوم کے ذریعے ہوتا ہے۔ لیکن تاویل کے لیے امامؑ کا ہونا ضروری ہے یعنی وہ حقائق جو قرآن کے باطن میں ہیں ان کے لیے امامؑ کا ہونا ضروری ہے۔ 
قرآن کے ظاہر اور باطن کے لیے احادیث اور معصومین اور بلخصوص امام زمانہؑ کے ہونے کی ضرورت ہے۔ 
امام ؑ معلم قرآن ہے اور ان کی ہدایت اور فیض حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ 
واسلام



تیسرا کتابچہ "امام مہدی عج قرآن مجید کی رو سے "
  درس نمبر:  2
نبی ؐاکرم و اور اھل بیت علیھم السلام کا مقام،اھل ذکر کون ہیں؟
خلاصہ:
قرآن مجید ایک ایسی کتاب ہے جس میں  ہدایت سے متعلق تمام نکات ، موضوعات موجود  ہیں۔ قرآن ایک کامل کتاب ہے ۔ ہدایت سے متعلق تمام ابحاث و نکات قرآن کے ظاہر میں بھی ہیں اور باطن میں بھی ہیں۔  اور باطن سے آگاہی محمدؐ و آل محمدؑ سے ممکن ہے۔ 
پیغمبرؐ اور آئمہؑ کا قرآن کے ہمراہ  کردار
قرآن  ایک  ایسی کتاب ہے جو نوع انسان کے لیے ہدایت کے تمام پہلو رکھتی ہے لیکن انسان کی  اپنی محدود عقل  یہ صلاحیت نہیں رکھتے کہ اس آسمانی کتاب کے اندر  کی تمام تر ہدایت کو مکمل طور پر درک کر سکیں  ۔ اس لیے ہم  ان ہستیوں کی طرف رجوع کرتے ہیں جو ہستیاں صاحبان وحی ہیں ۔  وہ ہستیاں کہ جن کو خود پروردگار عالم نے وحی اور الہام کے ذریعے حقائق سے آشنا کیا ۔ وہ ہستیاں جو سفیر  پروردگار ہیں جو حجت الہیٰ ہیں۔  وہ ہستیاں جو مبین اور مفسر قرآن ہیں۔ 
سورہ نحل کی آیت 46 میں ارشاد پروردگار عالم ہو رہا ہے۔ "اے رسول ؐ ہم نے آپؐ کی طرف ذکر (قرآن) تم پر نازل کیا۔ تاکہ جو کچھ بندوں کے لیے نازل ہوا  آپؐ ان کے لیے بیان کریں۔ 
رسالت مآبؐ مفسر قرآن ہیں۔ آپؑ  کی رحلت کے بعد اب ہم قرآن کی تفسیر کس سے پوچھیں۔
رسولؐ اللہ نے اپنی زندگی میں یہ انتظام کیا۔ 
حدیث ثقلین میں فرمایا۔ میں تمھارے درمیان دو گراں قدر چیزیں  چھوڑ کر جارہا ہوں  ایک قرآن اور دوسرے میرے اہلبیتؑ۔ اگر ان دونوں سے تمسک کرو گے تو کھبی  گمراہ نہ ہو گے کیونکہ یہ دونوں ایک دوسرے سے  جدا نہیں یہاں تک کہ روز قیامت مجھ تک پہنچ جائیں۔    معلوم ہوا کہ اگر رحلت رسولؐ اللہ کے بعد اگر ہم نے ذکر کو سمجھنا ہے تو پھر اہل ذکر کو سمجھنا ہو گا۔  
 قرآن میں  ارشاد  پروردگار عالم ہے"اگر تم کوئی چیز نہیں جانتے تو اہل ذکر سے رجوع کرو۔ "
اہلسنت اور تشیہوں روایات میں ہے کہ " ہم  ( اہلبیتؑ ) اہل ذکر ہیں   ۔ ہمارے بارے میں سوال کیا جائے گا کہ کیوں نہیں ان کی جانب رجوع کیا۔ 
یہ   روایت اہلسنت کی 12 تفاسیر میں موجود ہے کہ اہل ذکر سے مراد محمد ؐ و آل محمدؑ ہیں۔  علیؑ و بتولؑ ہیں۔  یہ اہل ذکر ہیں اہل عقل ہیں ، اہل بیان ہیں ۔ حکمت و دانائی ان سے حاصل کریں 
جب ہم کہتے ہیں کہ قرآن ایک زندہ کتاب ہے۔ تو اس کے معنی ہیں کہ قرآن ایک زندہ امام ؑ کے ساتھ ہے۔ 
قرآن  ایک جامع ہے۔ تو امامؑ اس  کے مفسر ہیں جو اس کا ظاہر و باطن بتا رہے ہیں۔ 
آج کے دور میں عترت محمدؐ کا مسداک امام مہدیؑ ہیں جن کی جانب ہم نے رجوع کرنا ہے۔ ۔  جو مفسر قرآن ہیں ، جو مبین قرآن ہیں جو قرآن کے ہمراہی ہیں۔  اور یہ وہ ہستی ہیں کہ جنہوں نے قرآن کو دنیا پر نافذ کرنا ہے۔ جن کی حکومت قرآنی حکومت ہے۔ 
وہ  ہستی جنہوں نے قرآنی ثکافت کو رائج کریں گے۔ مولا ؑ قرآن کو لوگوں کی زندگی کی اساس بنائیں گے۔




تیسرا کتابچہ: امام مہدیؑ قرآن  مجید کی رو سے
درس: 3 : قرآن میں تعارف کا طریقہ، ہماری تحقیق کی روش۔ 
خلاصہ: 
امام زمانہؑ کے بارے میں سوال ہوتا ہے کہ قرآن مجید میں امام زمانہؑ کا نام کیوں نہیں ہے۔  علماء نے اس حوالے سے  دو طرح کے جواب دیے ایک تو یہ کہ جب لوگوں نے فیصلہ کر لیا کہ اپنا من پسند خلیفہ بنانا ہے اور حکم رسول ؐ  اللہ کی مخالفت کرنی ہے تو انہوں نے قرآن پر بھی ظلم کرنا شروع کر دیتے۔   اور آیات کو بدل دیتے تو  اللہ تعالیٰ نے ان  ناموں کو پوشیدہ رکھ کر قرآن کو محفوظ کر دیا۔ 
لیکن اس کا بہترین جواب یہ ہے کہ پروردگار  کی سنت الہیٰہ یہ ہے کہ جب وہ کسی کا قرآن میں تعارف کراتا ہے تو تین طرح سے کراتا ہے۔  بعض مرتبہ نام سے تعارف کراتا ہے۔ جیسے ( انبیاء کا نام ، لقمان کا نام۔  طالوت، جالوت، فرعون، وغیرہ ،  اس  طرح سورہ آل عمران میں محمدؐ کا نام  آیا اور سورہ صف میں محمدؐ نام آیا۔ 
دوسرا طریقہ یہ ہے کہ  بعض لوگوں کے اعداد کے ذریعے ان کا تعارف کراتا ہے۔  کہ  حق اور باطل کے متعلق وضاحت ہو۔ مثلاً بنی اسرائیل میں 12 اوصیا آئے۔  یا پھر  حضرت موسیٰ 70 آدمی لے کر کوہ ٰ طور پر گئے۔ 
پھر قرآن مجید صفات کے ذریعے تعارف کراتا ہے۔ نیک لوگوں کی صفات،، منافقین کی صفات، ظالمین کی صفات، پیغمبرؐ کے دشمنوں کا صفات کے ذریعے تعارف، کفار کا تعارف، اسی طرح صالحین کا صفات کے ذریعے تعارف ہے اور مجاہدین کا تعارف ہے۔ 
اب اسی طرح قران مجید نے رسولؐ اللہ کے وصیوں کا تعارف جو خلیفہ ء بلا فصل ہیں ان کا تعارف  صفات کے ذریعے کیا۔ 
سورہ اعراف کی آیت میں رسولؐ اللہ کا تعارف اُمی  کہہ کے پکارا۔ یعنی واحد رسولؐ ہیں جنہوں نے دنیا میں لکھنا پڑھنا نہیں سیکھا تھا اور قرآن کا عظیم معجزہ ان کے لسان مبارک سے جاری ہوا۔ یہ رسولؐ اللہ کی خاص صفت ہے آپؐ نےدنیا میں کسی سے تعلیم نہیں لی بلکہ خدا کی جانب سے علوم کے حامل ہیں۔ ۔ 
اسی طرح سورۃ مائدہ کی آیت ۔۔جس میں مولا علیؑ کی ولایت کی نشانی ہے۔ 
"تمھارا ولی  اللہ ہے اور تمھارا ولی اللہ کا رسول ؐ ہے اور وہ صاحبان ایمان ہے جو نماز کو قائم کرتے ہیں اور حالت رکوع میں زکوٰۃ دیتے ہیں ۔"
سب جانتے ہیں کہ تاریخ میں یہ ایک ہی واقع ہوا تھا۔ اور اگر یہاں مولا علیؑ کا نام آجاتا تو مخالفین اس آیت  پر  ظلم کرتے اور مولا ئے کائنات کا نام ہٹا دیتے۔ لیکن اللہ نے اس طرح سے قرآن کو مخفوظ کر لیا اور اہل حق تک پہنچنے کا راستہ کھلا رکھا کہ  اس آیت کی تحقیق کرو اور حق تک پہنچ جاؤ۔ 
قرآن میں مولا علیؑ کا تعارف صفات کے ذریعے ہوا ہے۔ 
اسی طرح جب پروردگار عالم نے اپنا خلیفہ  جناب طالوت کو بنایا تو ان کی حقانیت پر ان کی  صفات بیان کی کہ ان کی حقانیت کی دلیل یہ ہے کہ یہ دشمن سے اس تابوت کو لائیں گے جس میں جناب موسیٰ ؑ اور جناب ہارونؑ  کے تبرکات و آثار تھے۔ اور ایسا ہی ہوا   لوگوں کو اطمینان ہو گیا کہ جناب طالوت حق ہیں۔ 
قرآن میں آیت تطہیر شان اہلبیتؑ  کی گواہ ہے۔ کہ  جس میں صفات  پنجتن بیان ہوئیں اور اہل حق   ان صفات کی تحقیق کے ذریعے اہلبیتؑ تک پہنچ جائیں۔ اگر یہا ں پر نام ہوتے تو دشمن نے قرآن میں تحریف  کر دیتے۔ جنہوں  نے قرآن کی زندہ  آیات کو شہید کیا ناطق قرآن کو شہید کیا وہ قرآن سامت کی آیات کو بھی تبدیل کر سکتے تھے۔ 
قرآن مجید میں بہترین  طریقہ جو متعارف ہو جس کے ذریعے انسان حق کی طرف پہنچتا ہے وہ صفات کے ذریعےتعارف ہے
قرآن میں  200 سے زائد آیات میں  امام زمانہؑ کی شان میں نازل ہوئیں ۔ ان آیات پہ کا م کرنے کے  ماہرین کے تین طریقے ہیں۔ 
-1 ان آیات پر کام کریں جن میں تفسیر و تاویل بیان ہوئی۔ 
2۔ موضوع کے اعتبار سے  کام کریں مثلاً پہلے وہ آیا ت  بیان کریں  جس میں صفات  ہیں پھر آیات غیبت کو بیان کریں پھر آیات حکومت کو بیان کریں۔  پھر آیات انتظار کو بیان کریں۔ 
3 ۔ سورہ الحمد سے شروع کریں  کہ امام زمانہؑ کی بارے میں آیت کہا ں ہے۔  
اور بہترین طریقہ تفسیر و تا ویل ہے۔ کہ آیت کو ان دو حصوں میں تقسیم کیا جائے۔  یعنی پہلے ان آیات کا ذکر کریں جن کے ظاہر میں امام مہدیؑ عج کا ذکر ہے پھر ان آیات کو بیان کریں جن کے باطن میں امام زمانہؑ کا ذکر ہے۔  یعنی تاویل۔





قرآن کی رو سے  درس نمر: 4
اسلام کا تمام ادیان پر غلبہ اور  امام مہدی عج کا  ظہور
سورہ توبہ ، فتح، اور صف کی رو سے  
خلاصہ:
قرآن مجید میں سورۃتوبہ ، سورۃ فتح  اور سورۃ صف میں  مہدوی موضوع  اسلام کا تمام ادیان پر غلبہ بیان  ہوا ہے۔ 
سورۃتوبہ کے اندر پروردگار عالم ارشاد فرما رہا ہے۔ 
" وہ اپنی پھونک کے ذریعے خدا کے نور کو بجھانا چاہتے ہیں لیکن خدا انہیں مہلت نہیں دے گا جب تک اس کا نور کمال کے مراحل طے نہ کر لے ۔ اگر چہ کافروں کو یہ بات ناگوار کیوں نہ گزرے وہ خدا جس نے اپنے پیغمبر کو صحیح دین اور ہدایت کے ساتھ بھیجا تاکہ وہ اسے تمام ادیان پر کامیاب قرار دے اگرچہ مشرکوں کو ناگوار ہی کیوں نہ گذرے۔ 
سورۃ فتح میں ارشاد پروردگار عالم ہو رہا ہے 
" وہ خدا ہے جس نے اپنے نبیؑ کو اس مقصد سے صحیح دین و ہدایت دے کر بھیجا تاکہ وہ انہیں سب ادیان پر کامیاب قرار دے اور خدا کا شاہد ہونا کافی ہے۔ 
سورۃ صف میں ارشاد ربانی ہے۔ 
" وہ اپنی  پھونک سے خدا کے نور کو بجھانا چاہتے ہیں لیکن  خدا اپنے نور کو کام کرکے رہے گا اگرچہ کافروں کو یہ بات ناگوار گزرے۔ خدا وہ ہے جس نے اپنے پیغمبر کو دین  حق و ہدایت دے کر بھیجا  تاکہ وہ تمام ادیان پر غلبہ پاسکے اگرچہ مشرکوں کو  ناگوار ہو۔ 
ان تینوں آیات میں لفظ ( لیظھرہ) آیا ہے یعنی غلبہ ، برتری ۔  پروردگار عالم ان آیات میں چند چیزوں کا اشارہ کر رہا ہے۔ دشمنان  مہدی   جو  امام ؑ  کے ظہور کے لیے رکاوٹیں  کھڑی کریں گے لیکن   کو پروردگار عالم انہیں  ایک  پھونک سے اڑا دے گا۔ خدا اپنے نور کو کامل فرمائے گا۔ اور حجت خدا اپنے وقت پر ہر  حالت میں ظہور فرمائیں گے۔  دین حق کا غلبہ ہو گا اور دشمنان اسلام مایوس ہو نگے ۔  
یہ وہ بشارت ہے جو ہماری روایات میں بھی موجود ہے  اور تمام اسلامی محقیقن اور علماء  اور محدیثین سب  کا متفقہ فیصلہ ہے ان روایات اور احادیث کے ذریعے جو معصومینؑ سے ہم تک پہنچی  کہ  یہ دن کہ جب اسلام پوری دنیا پر غلبہ پائے گا اور پوری دنیا پر  اسلامی حکومت ہو گی وہ امام زمانہ ؑ کے ظہور کے بعد ہونا ہے اور اس واقعہ کا گواہ خود خدا ہے۔ 
محمد بن فضیل کہتا ہے کہ امام موسیٰ کاظم ؑ سے پوچھا گیا۔ کہ مولا ؑ  خدا کے  اس فرمان  لیظھرہ علی الدین کلہ) سے کیا مراد ہے۔ 
امامؑ نے فرمایا اس سے مراد یہ ہے کہ قیام امام مہدیؑ کے وقت اللہ تعالیٰ دین اسلام کو تمام ادیان پر کامیابی و کامرانی عطا کرے گا۔  یعنی دین اسلام کی حکمیت کا زمانہ۔
ابو بصیر کہتے ہیں  کہ امام جعفر صادقؑ  سے ( ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی و دین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ و لوکرہ المشرکون) کے متعلق سوال کیا گیا۔ 
تو آپ  ؑ نے فرمایا۔ " خدا کی قسم ابھی تک اس کی تاویل نہیں آئی اور نہیں آئے گی ، جب تک حضرت قائمؑ خروج و ظہور نہ فرمائیں۔ بس جب قائم خروج کریں گے تو کوئی کافر و مشرک باقی نہیں بچے گا مگر یہ کہ وہ قائم کے ظہور سے ناگواری محسوس کرے گا اور ناراض ہو گا حتی اگر کافر و مشرک کسی پتھر کے درمیان بھی پنہاں ہو جائے گا تو وہ پتھر گویا ہو گا : اے مومن میرے اندر کافر چھپا ہے مجھے توڑ کر اسے قتل کر دیجئے۔"
معصوم فرماتے ہیں جو اللہ اور آئمہ ؑ کے منکر  یعنی  کفار اور منافقین سب کو ظہور برا لگے گا اور یہ دنیامیں جہاں چھپیں گے  مومنین ان کو قتل کر دیں گے ۔ دنیا میں کفر و منافقت کی کوئی جگہ نہ  ہو گی۔ 
دنیا ایک مملکت کی مانند ہو جائے گی کہ جس کے حاکم امام  مہدی ؑ ہونگے اور پوری دنیا میں اسلام اور عدل کی حکومت ہو گی۔ 
ان آیات کے ذیل میں دو نقطے واضح ہوئے ۔
1۔ پوری دنیا میں اسلام کی  حاکمیت ہو گی۔  جیسا کہ امیر المونینؑ  اس آیت کے ذیل میں فرماتے ہیں۔ 
" کوئی بھی دنیا میں ایسی بستی نہیں بچے گی جہا ں شہادتین کا اعلان نہ ہو رہا ہو۔"
2۔ یہ سب بعد از ظہور امام مہدیؑ عج الشریف ہو گا۔ 
یہ مہدی ؑ زہراؑ ہیں جو ان تینوں آیات کے مجسم ، تاویل و تفسیر و تصویر  ہیں  کہ جن کے ذریعے دین اسلام غلبہ پائے گا انشاءاللہ۔
شیخ صدوق رحمہ اللہ نے اپنی کتاب  کمال الدین میں امام حسینؑ کا فرمان نقل کیا۔ 
امام ؑ فرماتے ہیں۔"  ہم بارہ کے بارہ ہی مہدی ہیں ہم بارہ کے بارہ ہی ہدایت کے سر چشمے ہیں ہم میں سے پہلے  امیر المونین علیؑ ہیں اور آخری میری نسل میں سے نویں ہیں جو  بارویں امام قاؑئم ہیں جو حق کے ساتھ قیام کریں  گے۔  خدا ان کے وجود مبارک سے مردہ زمین کو زندہ کرے گا۔ اور ان کے وجود مبارک سے دین حق تمام ادیان پر غلبہ کرے گا اگرچہ مشرکین کو یہ بات ناگوار لگے۔ 
امام مہدی کی غیبت  میں  بہت سارے لوگ دین حق سے ہٹ جائیں گے اور ایک گروہ   دین حق پر ثابت قدم رہے گا ۔ انہیں اذیتیں دی جائیں گی اور انہیں کہا جائے گا یہ وعدہ کب پورا ہو گا۔  لیکن یاد رکھو  جو بھی ان کی غیبت میں ان اذیتوں اور جھٹلانے پر صبر کرے  اس مجاہد کی مانند ہے جو تلوار لیے ہوئے رسول ؐ اللہ کے سامنے تلوار لیے اللہ کے دشمنوںسے لڑ رہا ہو۔






: تیسرا کتابچہ "امام مہدی عج قرآن مجید کی رو سے "
#  درس 5
# سورہ نور آیت 55، اللہ تعالیٰ کے وعدے 
خلاصہ:
سورہ نور آیت نمبر: 55 میں پروردگار عالم نے ایک وعدہ کر رہا ہے۔
"خدا نے تم لوگوں میں سے جو ایمان        لائے ہیں اور اچھے شایستہ کام بھی انجام دئیے ہیں ، انسے وعدہ کیا ہے کہ انہیں لازمی طور پر زمین پر اپنا  جانشین قرار دے گا جس طرح ان سے پہلے لوگوں کو زمین پر جانشین قرار  دیا ہے اور وہ دین    جو ان کے لیےپسندیدہ ہے ان کے نفع میں قرار دیا اور ان کے خوف کو امن میں تبدیل کر دیا ہے تاکہ وہ میری  عبادت کریں ، کسی کو میرا شریک قرار نہ دیں، اس کے بعد جو بھی کفر اختیار کرے وہ نافرمانوں میں سے ہے۔"
۔اس آیت میں پہلا وعدہ  یہ ہے کہ ان کے لیے ایک مخصوص صالح معاشرہ قائم کرے گا  کہ اس دور میں زمین پر انہیں حکمران قرار دے گا۔ 
۔ ان کے دین کو تمام ادیان پر برتری عطا کرے گا (آیت تکمیل دین)
-ان کے ڈر و خوف کو امن و امان میں تبدیل کر دے گا
۔ صرف خدا کی اطاعت کریں گے۔  صرف اللہ کی عبادت کریں گے۔ 
۔ ، اس کے بعد جو بھی کفر اختیار کرے وہ نافرمانوں میں سے ہے۔
اس آیت مبارکہ سے پتہ چل رہا ہے کہ عصر ظہور میں انسان کے لیے اتنا سارا امن و امان ، دین کا استحکام، زمین کا  عدل و انصاف سے بھرنا  اور شیاطین کے مرنے کے باوجود انسان اتنا اختیار رکھتا ہے  یعنی کفر کرنے والے کر سکتے ہیں  گناہ کرنے والے  کر سکتے ہیں لیکن  امام ؑ کی تربیت میں  ایسا ماحول ہو گا کہ گناہ نہ ہونے کے برابر ہو نگے۔ اختیار ہو گا۔ ۔ 
اس آیہ مبارکہ میں تین   وعدے ہیں اور ان کا نتیجہ ہے اور تنبیہیہ ہے۔ 
پہلا وعدہ ہے  کہ پروردگار عالم امت محمدی میں سے ایک گروہ  کو زمین پر اپنا خلیفہ قرار دے گا  اور روایات کی رو سے یہ حکومت پوری زمین پر ہے۔ اور روایات کے مطابق جناب ذولقرنین نے تقریباً  پوری زمین سے باطل  حکومتوں کو ختم کیا۔یا جناب نوح۔ اور جو اللہ کی جانب سے  جو رسول ؑ حاکم بھی تھے جیسے جناب ہارؑون و سلیمانؑ  اور پھر جناب رسالت مآبؐ کی حکومت ہے۔ لیکن اس آیہ میں پروردگار عالم جس حکومت کا ذکر فرما رہا ہے۔  یہ پور ی زمین پر ایک حکومت ہو گی اور زمین عدل و انصاف سے بھر جائے گی ایک لازوال حکومت ہو گی۔ ایک دین  اسلام ہوگا جو جناب جبرائیل امین لے کر آئے تھے۔ امن  امان ہو گا۔ تو پھر حق یہ ہے کہ پھر دین خالص میں خدا کی  خالصانہ عبادت ہوگی۔  اور جو اللہ کو نہیں مانے گا تو پھر اسلامی قوانین کے مطابق سزا ہو گی۔ 
یہ وعدہ سارے لوگوں سے نہیں بلکہ مسلمانوں میں سے بھی وہ لوگ جو عمل صالح اور اہل ایمان ہونگے۔ 
تو پروردگار عالم ان عمل صالح اور اہل ایمان کو یہ قوت عطا فرمائے گا کہ وہ ظہور امامؑ سے پہلے تیاری کریں گے۔ اور امام زمانہؑ کے ظہور کا باعث بھی ہونگے۔  یہ آیت تیاری ظہور کی جانب بھی اشارہ  کر رہی ہے۔ 
کہ ظہور امامؑ کے لیے عمل صالح اور ایمان کی ضرورت ہے۔ 
اس آیہ  سے یہ بھی ظاہر ہو  رہا ہے کہ امام مہدی ؑ وقت کے زندہ امامؑ ہیں۔  امامؑ کی جانب  سے اسباب مہیا ہو رہے ہیں اور لوگ امامؑ کی جانب توجہ کر رہے ہیں۔ لیکن یہاں ضرورت ایما ن اور  عمل صالح کی ہے۔ 
 یہ پروردگار کا قانون ہے۔  آیت مبارکہ ہے کہ " خدا اس قوم کی تقدیر کو اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک کہ وہ خود نہ بدلیں۔ 
امام صادقؑ فرماتے ہیں۔ 
اس آیت کا مصداق ابھی تک نہیں آیا۔ قائم کے زمانے  کو پانے والے اس آیت کی تاویل کو  دیکھیں گے۔  فرماتے ہیں کہ جو اس  زمانے کو  پائے گا  اس آیت کی تصویر اور تاویل کو پائے گا پھر دیکھے گا کہ دین محمدی وہاں پہنچا ہے جہاں رات پہنچتی ہے"
۔  اور پھر زمین پر کوئی مشرک  باقی نہیں رہے گا۔ ۔






درس نمبر: 6
سورۃ انبیاء میں بشارت الہی، امام مہدی عج اور انکے انصار زمین  کے وارث 
پروردگار عالم سورہ انبیاء  کی 105 نمبر آیت میں ارشاد فرما رہا ہے۔ 
وَلَـقَدۡ كَتَبۡنَا فِىۡ الزَّبُوۡرِ مِنۡۢ بَعۡدِ الذِّكۡرِ اَنَّ الۡاَرۡضَ يَرِثُهَا عِبَادِىَ الصّٰلِحُوۡنَ‏ ﴿۱۰۵﴾
اور بیشک ہم نے زبور میں نصیحت کے بعد لکھ دیا کہ اس زمین کے وارث میرے نیک بندے ہوں گے (ف۱۸۷) ﴿۱۰۵﴾
پروردگار عالم  اس آیت میں  اپنے صالح بندوں کی بشارت دے رہا ہے ۔ کہ ہمارے صالح بندے زمین کے وارث ہیں ۔  یہ آیت مجیدہ ذکر اور ظہور کے بارے میں ہے۔ 
آیت  سے مراد تورات  اور قرآن مجید یعنی کلام   الہیٰ ہے۔  اور اس میں لکھا ہے کہ زمین کے وارث ہمارے صالح بندے ہونگے۔  یہاں زمین کے ایک خاص خطہ کے بات نہیں ہو رہی۔ یہ پوری زمین کے بارے میں بات ہو رہی ہے۔ 
اس سے پہلے بھی زمین کے مختلف حصوں پر صالحین کی حکومتیں رہیں۔ جیسے رسول ؐ خدا  کی حکومت  ، حضرت سلیمان ؑ و داؤد ؑ  ،  بنی اسرائیل جہاں جہاں آباد تھے وہاں وہاں صالحین کی حکومتیں رہیں۔ یوشع بن نون کی حکومت ایک خطے پر تھے۔ یہ آیت پوری زمین کی بات کر رہی ہے ۔ تمام شیعہ سنی مفسرین کہتے ہیں کہ یہ آیت   مہدویت ہے۔   یہ اس واقعہ کی نشاندہی کر رہی ہے جو آخر الزمان میں ہو گا۔ یعنی آخری زمانے میں صالح بندے کی حکومت پوری  زمین پر ہو گی۔ اور یہ وہی واقعہ ہے جس کے بارے میں بہت ساری احادیث ہیں ۔ 
رسولؐ خدا نے  آخری زمانے میں اپنی نسل سے آنے والے مہدیؑ عج الشریف کی بشارت دی ہے جو زمین کو عدل و انصاف سے بھریں گے۔  اور حکومت  الہیہ کا قیام کریں گے۔ 
اس آیت مبارکہ میں   پروردگار عالم نے جن لوگوں کو زمین کا وارث بنانا ہے ان کی دو صفات بیان فرمائی ہیں؛
1۔  یہ بندےعبد خدا ہیں۔ ان کے اندر عبودیت ہے۔ وہ کسی چیز میں خود کو مستقل نہیں سمجھتے۔  وہ تمام تر اللہ سے وابستہ ہیں۔ ان کے اندر ایمان راسخ ہے۔  توحید حقیقی پر فائز ہیں۔   وہ ہر  چیز میں پروردگار کی طرف متوجہ ہیں اور اس کی منشا کے مطابق حرکت کرنے والے ہیں۔ 
2۔ صالح سے مراد یہ ہے کہ یہ شائستگی رکھتے ہیں کہ حکومت کریں ان کے اندر صلاحتیں ہیں ان کے اندر  بصیرت و مہارت و حکمت و علم ہے۔ 
 بعض افراد کہتے ہیں کہ یہ آیت مجیدہ پروردگار عالم کا قلی وعدہ ہے۔ اور یہ بتدریج ہوگا۔  لیکن جو حکومتیں بھی برپا ہوئیں وہ مخصوص خطوں میں تھیں اور عالمی حکومت فقظ مہدیؑ آخرالزمان عج الشریف کی ہے۔ 
رسولؐ اللہ اور آئمہ ؑ کے جتنی وہ روایات اس آیہ مبارکہ کے ذیل میں آئیں ہیں وہ یہی بیان کر رہی ہیں کہ  یہاں  صالح سے مراد امام زمانہؑ اور ان کے شیعہ اور انصار ہیں۔ 
قرآن میں جہاں بھی لفظ کتَبَا آیا ہے اس کا مطلب ہے کہ  یہ اللہ کا وعدہ ہے۔ یہ اللہ کا کتبی حکم ہے۔  یہ ہو کر رہے گا۔ 
لفظ ارض آیا   ہے یعنی پوری زمین پر یہ ہوگا۔
وارثت سے مُراد یہ حکومت تا قیامت رہے گی۔ 
پروردگار نے یہ نہیں کہا کہ میں حاکم بناؤں گا۔ بلکہ وارث کہا۔  یعنی روایات میں آیا ہے کہ جب امام ؑ وارث بنیں گے تو  قیامت تک صالحین  مالک ہونگے ۔ زمین ان کے دائرہ قدرت میں ہوگی۔ 
امام مہدی ؑ اس حکومت کے پہلے مالک ہیں۔  70 سال حکومت فرمائیں گے  اوربعض  روایات میں ہے کہ آپ کے بارہ جانشین پھر حکومت فرمائیں گے۔ 
ہمارا فریضہ یہ ہے کہ  مولاؑ جان کی حکومت  کے لیے اپنے وظائف ادا کرے اور ظہور  کی راہ ہموار کریں۔ 
امام محمد باقرؑ نے اسی آیت مبارکہ کے ذیل میں  فرمایا:  کہ اس آیت میں جو کہا گیا وہ تورا ت اور زبور تک نہیں بلکہ تمام آسمانی کتابوں  میں یہ بشارت دی گئی ہے۔ اور  ( ان  الارض۔۔۔) سے مراد قائم ؑ اور ان کے انصار
:



 تیسرا کتابچہ "امام مہدی عج قرآن مجید کی رو سے "
#  درس 7
# سورہ انبیاء میں مستضعفین کی حکومت اور وراثت زمین کی بشارت،سورہ حدید میں زمین کے دوبارہ زندہ ہونے کی بشارت،مستضعفین کون ہیں اور زمین کی زندگی سے مراد
خلاصہ: 
سورہ قصص آیت نمبر 5:
وَنُرِيْدُ اَنْ نَّمُنَّ عَلَى الَّـذِيْنَ اسْتُضْعِفُوْا فِى الْاَرْضِ وَنَجْعَلَـهُـمْ اَئِمَّةً وَّّنَجْعَلَـهُـمُ الْوَارِثِيْنَ (5)
اور ہم چاہتے تھے کہ ان پر احسان کریں جو ملک میں کمزور کیے گئے تھے اور انہیں سردار بنا دیں اور انہیں وارث کریں۔
سورہ حدید آیت نمبر 17
ٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّ ٱللَّهَ يُحۡيِ ٱلۡأَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِهَاۚ قَدۡ بَيَّنَّا لَكُمُ ٱلۡأٓيَٰتِ لَعَلَّكُمۡ تَعۡقِلُونَ
یقین مانوکہ اللہ ہی زمین کو اس کی موت کے بعد زنده کر دیتا ہے۔ ہم نے تو تمہارے لیے اپنی آیتیں بیان کردیں تاکہ تم سمجھو. 

یہ آیات مہدویت کے حوالے سے ہیں ۔ شیعہ سنی مفسرین ان آیات کو  امام  زمانہؑ کی حکومت سےتفسیر اور تاویل کرتے ہیں۔ 
سورہ قصص کی آیت نمبر 5 میں پروردگار عالم زمین پر کمزور لوگوں کی حکومت  کی بشارت دے رہا ہے۔ وہ لوگ جن کا حق چھینا گیا۔ 
بظاہر یہ آیت حضرت موسیٰ ؑ کی داستان سے مربوط ہے۔ فرعون بنی اسرائیل پر بے پناہ ظلم کرتا تھا۔ ان کے نومولود بچوں کا قتل کرنا ان کی عورتوں کو کنیزی میں لینا۔ فرعون چاہتا تھا کہ وہ   بنی اسرائیل کو مکمل طور   پر برباد کر دے لیکن رب کا ارادہ کچھ اور تھا۔ پروردگار عالم نے  اسی کمزور قوم سے حضرت موسیٰ کو پیدا کیا اور پروردگار عالم نے اپنے احسان سے حضرت موسیٰ کو وہ طاقت بخشی کہ جناب موسیٰؑ نے اپنی قوم کو ظالم فرعون سے آزاد کروایا۔ اور قوم موسیٰؑ بعد میں مصر  کی اور پھر فلسطین  اور بالاآخر   ایک حکومت تشکیل  دی جو صالحین کی حکومت تھی۔ 
پروردگار کا یہ ارادہ فقط اس وقت نہیں تھا بلکہ ہمیشہ یہ ارادہ ہے۔  لوگوں نے آئمہؑ کی حکومت کو برپا نہ ہونے دیا  تو بالآخر پروردگار مظلومین کی مدد فرماتا ہے اور   ظالمانہ حکومت کو ختم کرتے ہیں اور حکومت عدل کو قائم فرماتا ہے۔ 
اس آیت کے ذیل میں جو روایات ہیں ان سے یہ معلوم   ہوتا ہے کہ پروردگار نے یہ لطف دوبارہ بھی کرنا ہے اور آل محمدؑ  جن کا حق تھا کہ وہ پیغمبر ؐ کے بعد وہ پیشوا، حاکم اور خلیفہ بنتے۔ 
آج  دنیا میں  جو ظلم ہے اور کمزور لوگ تباہ ہو رہے ہیں تو انشاءاللہ  کہ پروردگارعالم آل محمدؑ کی مدد فرمائے گا۔  اور ان کے دشمنوں کو ذلیل و خوار کرے گا۔ 
امیرالمونین ؑ علی ابن ابی طالبؑ  اسی آیت کے ذیل میں فرماتے ہیں۔  " یہاں پر مصتفصین سے مراد ایک مصداق آل محمدؑ ہیں  اور ان میں سے پروردگار عالم امام مہدیؑ کو اٹھائے گا اور مبعوث کرے گا اور عزت بخشے گا اور پھر قیامت تک حکومت آل محمدؑ کے پاس ہو گی۔ " انشاءاللہ
سورہ آل عمران میں آیت نمبر 164 میں 
لَقَدْ مَنَّ اللّـٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ اِذْ بَعَثَ فِـيْهِـمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِهِـمْ يَتْلُوْا عَلَيْـهِـمْ اٰيَاتِهٖ وَيُزَكِّـيْـهِـمْ وَيُعَلِّمُهُـمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَۚ وَاِنْ كَانُـوْا مِنْ قَبْلُ لَفِىْ ضَلَالٍ مُّبِيْنٍ (164)
اللہ نے ایمان والوں پر احسان کیا ہے جو ان میں انہیں میں سے رسول بھیجا (وہ) ان پر اس کی آیتیں پڑھتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب اور دانش سکھاتا ہے، اگرچہ وہ اس سے پہلے صریح گمراہی میں تھے۔

اور خدا اپنے ارادے کی  خلاف ورزی نہیں کرتا۔ 
شیخ صدوق رحمہ اللہ نے اپنی کتاب کمال الدین میں  پیغمبر ؐ اکرم  سے جو روایات نقل کی ہیں کہ امام مہدیؑ وہی ہستی ہیں کہ جنہوں نے زمین کو عدل سے بھرنا ہے۔  

شیخ صدوق اپنی کتا ب میں بیان فرماتے ہیں کہ جب امام مہدیؑ کی ولادت ہوئی تو آپؑ نے اسی آیت مبارک (سورہ قصص آیہ 5) کی تلاوت فرمائی۔ 
یعنی   امام زمانہؑ ہی وہ ہستی ہیں جو دنیا  کے فرعونوں سے لڑیں گے اور امام بنیں گے اور دنیا میں حکومت عدل بپا ہو گی۔ 
اور دوسری آیت سورہ حدید آیت نمبر 17 ہے 
"یقین مانوکہ اللہ ہی زمین کو اس کی موت کے بعد زنده کر دیتا ہے۔ ہم نے تو تمہارے لیے اپنی آیتیں بیان کردیں تاکہ تم سمجھو". 
 اس میں  پروردگار مومنین کی تنبیہ بھی فرماتا ہے کہ کیا خشوع کا وقت نہیں آیا اور وہ  قلوب جو مر چکے ہیں وہ ذکر الہیٰ سے زندہ ہونگے۔  جس طرح  مردہ زمین بارش کے   قطروں سے زندہ ہوتی ہے۔
اس آیت میں زمین سے مراد اہل الارض ہیں۔ 
جسطرح زمین بارش سے زندہ ہوتی ہے اہل الارض ذکر الہیٰ سے زندہ ہوتے ہیں۔ 
 اور ساری زمین تب زندہ ہوگی جب قائمؑ کا ظہور ہو گا۔ اسوقت   تمام اہل الارض زندہ ہونگے اس وقت حقیقی معنوں میں ذکر الہی زندہ ہو گا۔ اس وقت حقیقی اسلام پھیلے گا اس وقت عدل و انصاف ہو گا۔ 
امام محمد باقرؑ فرماتے ہیں۔ 
" اللہ زمین کو بعد موت زندہ کرے گا۔ یہاں زمین کے مرنے سے مراد کفر ہے اور کافر ہمیشہ میت ہوتا ہے۔" 
اس آیت کے ذیل میں ۔محقق کلینی رحمتہ اللہ  نے  امام جعفر صادقؑ سے نقل فرماتے ہیں۔
امام مہدؑی ظلم کے بعد جب عدل کو جاری فرمائے گے تو اہل زمین امامؑ کی عدالت سے زندہ ہونگے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

(Ist pdf) 👈 مہدویت پر بحث کی ضرورت (استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب)

دروس عقائد کا امتحان

کتاب غیبت نعمانی کے امتحان کے سوالات اور ان کے جوابات