Book 12 Completed Sadia
📢 بارھواں سلسلہ درس " رجعت "
# درس 1
# رجعت کا معنی و مفہوم اور فلسفہ
# *استاد مہدویت علامہ علی اصغر سیفی صاحب* 🎤🌹
ہماری گفتگو کا موضوع عقیدہِ رجعت ہے اور یہ اسلام میں فقط مکتب تشہیو کے ساتھ خاص ہے اور دوسرے الفاظ میں ایک شیعہ کی پہچان یہ ہے کہ وہ عقیدہ رجعت چاہتا ہو۔
انشاءاللہ رجعت کے حوالے سے درج ذیل موضوعات دروس کی شکل میں بیان ہونگے۔
۔ ⭐رجعت کا معنیٰ مفہوم اور اس کا فلسفہ
۔ ⭐قرآن و حدیث سے اس پر دلائل
۔⭐ رجعت کی خصوصیات
۔⭐ کن کن ہستیوں نے رجعت کرنی ہے
آج ہمارا موضوع رجعت کا معنیٰ اور اس کا مفہوم ہے۔
*معنیٰ* :💎
رجعت کا لفظی اعتبار سے معنیٰ پلٹنا ہے۔
*تعریف* :💎
اس کی تعریف یہ ہے کہ قیامت سے پہلے معصومؑ الہیٰ حجتیں (انبیاؑء اور آئمہؑ)، اسی طرح خالص مومنین کا گروہ اور اسی طرح کچھ کفار اور منافقین دنیا میں پلٹیں گے۔
*رجعت کا فلسفہ* : 💎
رجعت یعنی یہ کیوں پلٹیں گے۔ اس حوالے سے کچھ روایات اور علمائے کرام کے اقوال آپ کی خدمت میں پیش ہوتے ہیں۔
*سب سے پہلے امام محمد باقرؑ کا فرمان: 🌹*
رجعت کے حوالے سے فرماتے ہیں کہ:
*مومنین پلٹیں گے تاکہ وہ عزت پائیں اور ان کی آنکھیں روشن ہوں اور ظالموں کو پلٹایا جائے گا تاکہ وہ ذلیل و خوار ہوں۔*
یعنی وہ مومنین جو مظلومانہ حالت سے دنیا سے گئے جن کو دشمنانِ خدا جو ظالمین ہیں انہوں نے اتنا تنگ کیا ، ان پر ظلم کیا اور بظاہر انہیں ذلیل کیا تو خدا انہیں دنیا میں دوبارہ پلٹائے گا اور انہیں عزت دے گا اور جو ظالمین اور ان کے قاتلوں کو خدا مہدیؑ زہراؑ کی عدالت کے ذریعے دنیا میں ذلت دکھائے گا اور مومنین کی آنکھیں ٹھنڈی ہونگی جب وہ ایمان والوں کو عزت پاتا دیکھیں گے اور دشمنان دین اور دشمنان خدا کو ذلت میں گرتا ہوا دیکھیں گے۔
اب ہوسکتا ہے کہ کوئی یہ کہے کہ اصل میں تو یہ سب قیامت میں ہونا ہے۔
درست ہے۔ 🫴
لیکن❗ اللہ کا ارادہ یہی ہےکہ وہ قیامت سے پہلے جزا اور سزا کا کچھ حصہ رجعت کی شکل میں امام مہدیؑ کی عدالت کے ذریعے دنیا والوں کو دکھانا چاہتا ہے۔ ⚖️۔ (یہ ارادہ پروردگار ہے اور انشاءاللہ اس پر دلائل بیان ہونگے۔ )
رجعت کا ایک اور فلسفہ یہ ہے کہ وہ مومنین اور مومنات جو مولاؑ عج کی نصرت کا جذبہ رکھتے ہیں اور بہت سارے مومنین کے دلوں میں یہ خواہش ہے کہ وہ مولاؑ کے ناصر بنیں جیساکہ بہت ساری دعائیں ہیں جیسے دعائے عہد تو اب یہ جو دعائیں اور خواہشات ہیں اور یہ آرزو اور تمنا ہے۔ یا تو خدا انہیں اتنی طولانی عمر عطا کرے کہ وہ بلآخر امامؑ عج کا زمانہِ ظہور دیکھیں اور مولاؑ کی رکاب میں دشمنان دین سے جنگ کریں۔ بہت سارے لوگ مولاؑ عج کی رکاب میں شہادت کا جذبہ بھی رکھتے ہیں۔ تو یہ جو امامؑ عج کی رکاب میں شہادت کا جذبہ اور خواہش ہے تو یہ کس صورت میں پوری ہوگی۔ یا تو ان لوگوں کو پروردگار طولانی عمر عطا کرے یا جب بھی مولاؑ عج ظہور فرمائیں یہ لوگ اگر مر چکے ہوں تو خدا انہیں دوبارہ زندہ کرے۔
*انشاءاللہ*🩵 ۔
جیسا کہ بہت بڑی شخصیت مرحوم علامہ سید مرتضٰیؒ جو کہ اوائِل غیبت کبریٰ میں بہت بڑی شخصیت تھے اور ان کی بہت خدمات ہیں اور شیخ مفیدؒ کے شاگرد ہیں اور سید رضیؒ (جنہوں نے نہج البلاغہ لکھی) ان کے بڑے بھائی اور بہت بڑے فقیہہ ہیں اور اس کے علاوہ بھی بہت سارے کمالات اور علوم کے مالک تھے۔
*مرحوم علامہ سید مرتضیٰ ؒ اپنی کتاب رسائل میں فرماتے ہیں کہ: 🌻*
اللہ تعالیٰ امام مہدیؑ عج کے ظہور کے وقت شیعوں کا ایک گروہ جو دنیا سے جا چکا ہے پروردگار انہیں پلٹائے گا۔ تاکہ وہ حضرت کی نصرت کا ثواب حاصل کر سکیں۔
امام عصرؑ عج کی زیارت ہے اور جو بلخصوص سامرا کے سرداب مقدس میں جو زیارت پڑھی جاتی ہے اس میں ہم پڑھتے ہیں کہ:
*حوالہ (مفاتیح الجنان صفحہ 1016 زیارت دیگر امام آخر الزمانؑ) 📖👉*
*مولائی فان ادرکنی الموت قبل ظھورک فانی اتوسل بک وبابآئک الظاھیرین الی اللہ تعالیٰ واسئلہ ان یصلی علی محمد وآل محمد و ان یجعل لی کرۃً فی ظھورک ورجعتہً فی ایامک لابلغ من طاعتک مرادی واشفی من اعدائک فوءٰدی* 🩵
اگر آپ کے ظہور سے پہلے مجھے موت آجائے تو بے شک میں وسیلہ بناتا ہوں آپؑ کو اور آپؑ کے پاک بزرگان کو خدا کے حضور اور اس سے سوال کرتا ہوں کہ وہ رحمت فرمائے محمدؐ و آل محمدؑ پر اور یہ کہ آپؑ کے ظہور کے وقت مجھے زندہ کرے اور آپؑ کے دور میں مجھے واپس لائے تاکہ آپ کی اطاعت سے اپنی مراد کو پہنچوں اور دشمنوں کی نابودی سے اپنا دل ٹھنڈا کروں۔
*الہیٰ آمین۔* 🤲
یہ امامؑ عج کی زیارت کے الفاظ ہیں اوراس طرح کے الفاظ ہماری اور بھی دعاؤں میں ہیں جیسا کہ دعائے عہد۔ 📖
*رجعت کا فلسفہ دو چیزوں میں سامنے آیا: 🫴*
۔ 1۔🔹 وہ مومنین جو نصرت کا جذبہ رکھتے ہیں پروردگار انہیں پلٹائے گا۔
۔ 2۔ 🔹وہ لوگ جنہوں نے ظلم کیا تھا اور دنیا میں اپنے ظلم کی سزا نہیں پائی اور پروردگار یہ چاہتا ہے کہ ان کو قیامت سے پہلے سزا دے ان کفار اور منافقین کو بھی خدا دنیا میں پلٹائے گا تاکہ دنیا میں ذلت پائیں۔ اور ان کے مدمقابل جو مظلومین ہیں جن پر ظلم کیا گیا ان کو بھی خدا پلٹائے گا تاکہ وہ عزت پائیں۔
اسی طرح وہ لوگ جو امام زمانہؑ عج کی حکومت دیکھنے کے خواہشمند تھے اور انبیاءؑ اور آئمہؑ بھی تشریف لائیں گے۔ اور جو عصر ظہور میں امام ؑ عج کی خدمت کے خواہشمند تھے وہ پلٹائے جائیں گے۔ اور مظلومنین اور ظالمین کو بھی پلٹایا جائے گا۔ اور امام مہدیؑ کی حکومت میں ظالمین قیامت سے قبل سزا پائیں گے۔
*انشاءاللہ* ۔ 💞
جیسا کہ عرض کیا تھا کہ رجعت کا موضوع خاص شیعہ عقائد میں سے ہے اور اس سلسلے میں الحمدللہ بہت ساری آیات ہیں اور سینکڑوں روایات ہیں جو معصومینؑ اور پیغمبرؐ سے نقل ہیں۔
ہمارے ایک بہت بڑے عالم بزرگوار *مرحوم شیخ حُرعاملیؒ* نے اپنی کتاب *الایقاظ*📖 میں 520 روایات فقط رجعت کے موضوع پر نقل کیں۔ اور علامہ مجلسیؒ یہ فرمایا کرتے تھے کہ اگر رجعت کی احادیث متواتر نہ ہوں تو پھر کسی موضوع میں ہم تواتر کا دعویٰ نہیں کر سکتے۔
اس سے ہٹ کر ہمارے تمام شیعہ علماء کا اس پر اجماع ہے کہ رجعت ضروریات مذہب تشہیو میں سے ہے یعنی اس پر عقیدہ واجب ہے۔ 🫴
*جاری ہے🔹* 🔹🔹🔹🔹
پروردگار سے دعا ہے کہ ہمیں توفیق دے اور انہیں لوگوں میں سے قرار دے جو رجعت کریں امام زمانہؑ عج کا دور بھی دیکھیں اور ان کی نصرت بھی حاصل کریں۔
*الہیٰ آمین۔* 🤲
والسلام
شہر بانو ✍️
*عالمی مرکز مہدویت قم* 🌍
📢 بارھواں سلسلہ درس " رجعت "
# درس 2
# رجعت پر قرانی دلائل
*استاد مہدویت علامہ علی اصغر سیفی صاحب* 🎤🌹
ہماری گفتگو رجعت کے بارے میں ہے ہم نے گذشتہ درس میں فلسفہ رجعت، اور رجعت کا معنیٰ و مفہوم اور ہماری دینی کتب بلخصوص احادیث کی کتب میں کتنی تعداد میں روایات میں رجعت کا ذکر ہے یہ ہمارا موضوع گفتگو رہا۔
آج ہم قرآن و حدیث کی رو سے اور قرآن سے بلخصوص جو رجعت پر دلائل ہیں ان پر گفتگو کریں گے۔
*رجعت پر قرانی دلائل:*
🌷🌷🌷🌷🌷
*سورہ البقرہ آیت* 56🩵
*ثُـمَّ بَعَثْنَاكُمْ مِّنْ بَعْدِ مَوْتِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ*
پھر ہم نے تمہیں تمہاری موت کے بعد زندہ کر اٹھایا تاکہ تم شکر کرو۔
یہ آیہ مجیدہ اصل میں قوم موسٰیؑ کے ان ستر منتخب شدہ افراد کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ جو حضرت موسٰی ؑ کے ہمراہ کوہِ طور پر گئے تھے تاکہ حضرت موسٰیؑ کی اپنے پروردگار سے گفتگو کو دیکھیں اور خدا کو دیکھیں۔ کیونکہ یہ وہ لوگ تھے کہ جو اصل میں خدا کو دیکھنا چاہتے تھے۔ اگرچہ خدا نے فرمایا تھا کہ تم مجھے نہیں دیکھ سکتے لیکن اس کے باوجود انہوں نے اصرار کیا اور یہ حضرت موسیٰ کے ہمراہ چلے گئے۔ اور جب انہوں نے حضرت موسٰیؑ کی اپنے خدا سے گفتگو کو دیکھا تو کہنے لگے کہ اے موسٰیؑ تو اللہ کے ساتھ گفتگو تو کر رہا ہے لیکن ہم اس وقت تک تجھ پر ایمان نہیں لائیں گے مگر یہ کہ ہم خدا کو بلواضع دیکھیں۔
⚡
حضرت موسٰیؑ نے ان کی اس عجیب سی خواہش سے ان کو روکا لیکن انہوں نے اصرار کیا اور پھر احادیث میں آتا ہے اور خود قرآن مجید کی آیات بھی اسی موضوع پر ہیں کہ آسمانی بجلی گری اور یہ سارے مر گئے۔
💫حضرت موسٰیؑ نے جب ان کی موت دیکھی اور پھر اس نتائج جو بنی اسرائیل پر رونما ہونے تھے اس پر پریشان ہوئے اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ ان کو دوبارہ زندگی دی جائے۔
حضرت موسٰیؑ کی یہ دعا قبول ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے اسی آیت کی رو سے کہ *ثُـمَّ بَعَثْنَاكُمْ مِّنْ بَعْدِ مَوْتِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ* ان کو دنیا کی جانب پلٹا دیا یعنی رجعت ہوگئی۔
اگرچہ یہ مر چکے تھے اور ان کی روح بدن سے جدا ہو چکی تھی لیکن حکم خدا سے یہ دوبارہ زندہ ہوگئے۔
**اس حوالے سے بحارالنوار 📚کے اندر امیرالمومنینؑ کی حدیث موجود ہے کہ؛*
*مولاؑ فرماتے ہیں* 🌷 :
یہ لوگ دوبارہ زندہ ہوئے اور اپنے گھروں کی طرف لوٹ گئے۔ انہوں نے ایک مدت زندگی پائی اس میں بچے دار بھی ہوئے ان کی اولاد بھی ہوئی اور پھر جب ان کی موت آئی تو یہ دنیا سے گئے۔
اب یہ آیت بتا رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے پہلے بھی لوگوں کو رجعت دے چکا ہے۔ یعنی وہ لوگ جو مر چکے تھے اور دنیا سے جا چکے تھے وہ حکم خدا سے زندہ ہوئے۔
🌷🌷🌷🌷🌷
*سورہ النمل آیت* 83🩵
*وَيَوْمَ نَحْشُرُ مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ فَوْجًا مِّمَّنْ يُّكَذِّبُ بِاٰيَاتِنَا فَهُـمْ يُوْزَعُوْنَ*
اور جس دن ہم ہر امت میں سے ایک گروہ ان لوگوں کا جمع کریں گے جو ہماری آیتوں کو جھٹلاتے تھے پھر ان کی جماعت بندی ہوگی۔
*یہ آیہ مجیدہ ایک ایسے دن کا ذکر کر رہی ہے کہ جس میں لوگوں کا ایک گروہ زندہ ہو گا۔* *اب یہ قیامت سے ہٹ کر ایک دن ہے کیونکہ قیامت میں تو سب انسانوں نے زندہ ہونا ہوگا* ۔
جناب مرحوم طبرسیؒ نے تفسیر مجمع البیان کے اندر لکھا ہے۔ 📖📚
کہ:
بہت ساری روایات اہلبیتؑ کی اس آیہ مجیدہ کے حوالے سے ہم تک پہنچی ہیں ان روایات کی رو سے یہ آیہ مجیدہ رجعت پر دلالت کرتی ہے کہ رجعت والے دن شیعوں کا ایک گروہ اور دشمنان دین کا ایک گروہ مولا کے ظہور کے وقت دنیا کی جانب پلٹایا جائے گا۔
ایک روایت میں آتا ہے کہ امام جعفر صادقؑ سے اس آیہ مجیدہ کے حوالے سے سوال ہوا تو آپ نے فرمایا:🌷
کہ لوگ (اہلسنت کے علماء) اس کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟
راوی نے کہا:
وہ یہ کہتے ہیں کہ یہ آیہ مجیدہ قیامت کے بارے میں ہے۔
*امام صادقؑ نے فرمایا:* 🌷
کہ کیا خدا قیامت والے دن ایک گروہ کو اٹھائے گا اور باقی گروہوں کو چھوڑ دے گا؟
ایسا ہرگز نہیں ہے۔
*فرمایا* :
یہ آیتِ رجعت ہے۔ رجعت میں ایک گروہ اٹھایا جائے گا لیکن قیامت میں سب اٹھائے جائیں گے۔
جیسا کہ پروردگار نے ایک اور آیت جو قیامت کے بارے میں ہے اس میں واضح طور پر فرمایا کہ:
*وَّحَشَرْنَاهُـمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْـهُـمْ اَحَدًا* 🩵
اور سب کو جمع کریں گے اور ان میں سے کسی کو بھی نہ چھوڑیں گے۔
یعنی اس دن سب کو اٹھایا جائے گا اور کسی ایک کو بھی نہیں چھوڑا جائے گا۔
تو یہ جو دشمنان خدا اور دشمنان دین میں سے ایک گروہ کو اٹھایا جائے گا جو آیات الہیٰ کی تکذیب کرتے تھے یہ وہی زمانہ ظہور میں رجعت کے موقع پر اٹھایا جائے گا اور وہاں عدالتِ الہیٰ بپا ہوگی۔
*رجعت کا موضوع قرآنی موضوع ہے* اور اس حوالے سے مذید آیات پر گفتگو جاری رہے گی۔
*رجعت کا موضوع اللہ کی قدرت کی جانب اشارہ کر رہا ہے* کہ خدا جو ہمیں جب ہم کچھ بھی نہ تھے ہمیں خلق کر سکتا ہے تو ہمارے مردہ وجود کو جس طرح روزِ محشر زندہ کرے گا اسی طرح دنیا میں بھی زندہ کر سکتا ہے اور اس سے پہلے بھی اللہ نے زندہ بھی کئے ہیں اور انشاء اللہ اسی طرح کی آیات الہٰی اور اس طرح کے معجزات الہیٰ دنیا میں دوبارہ بھی دیکھے جائیں گے اور بلخصوص زمانہ ظہور میں۔ انشاءاللہ🩵
پروردگار ہم سب کو وہ زمانہ دکھائے الہیٰ آمین۔ 🤲
والسلام
شہربانو: ✒️
*عالمی مرکز مہدویت قم*🌏
📢 بارھواں سلسلہ درس " رجعت "
# درس 3
# رجعت پر قرانی و حدیثی دلائل اور رجعت کی خصوصیات
# *استاد مہدویت علامہ علی اصغر سیفی صاحب* 🎤🌹
*رجعت پر قرانی و حدیثی دلائل اور رجعت کی خصوصیات*
ہماری گفتگو رجعت کے موضوع پر جاری ہے اور ہم نے گذشتہ درس میں قرآن مجید سے چند آیات اور ہمارے علماء نے جو احادیث کی رو رجعت پر دلائل پیش کئے وہ آپ کی خدمت میں پیش کئے۔
*رجعت کا موضوع قرآنی موضوع ہے۔* 🌷
📖
سورہ انبیاء کی آیت نمبر 95 میں پروردگار فرما رہا ہے۔
*وَحَرَامٌ عَلٰى قَرْيَـةٍ اَهْلَكْنَاهَآ اَنَّـهُـمْ لَا يَرْجِعُوْنَ*
اور جن بستیوں کو ہم فنا کر چکے ہیں ان کے لیے ناممکن ہے کہ وہ قیامت کے دن ہمارے پاس پلٹ کر نہ آئے۔
محمدؐ و آل محمدؑ کی احادیث اور روایات کی رو سے یہ آیت رجعت پر ایک بہترین دلیل ہے۔ کیونکہ جو لوگ ہلاک ہوچکے ہیں انہوں نے بلآخر روز محشر پلٹنا ہے۔ یہ جو اس آیت میں پروردگار فرما رہا ہے کہ ان پر پلٹنا حرام ہے تو یہ یقیناً روز محشر پر گفتگو نہیں ہورہی بلکہ رجعت ہے۔
عام طور پر اس قسم کی آیات کو دیگر اہل مکتب روز قیامت پر تتبیع کرتے ہیں۔ تو اگر ہم آیت کو غور سے پڑھیں تو قیامت والے دن سب نے تو سب نے آنا ہے کافر، منافق، دشمنان خدا، مومنین، موحدین سب نے آنا ہے اس دن تو خدا کسی کو بھی نہیں چھوڑے گا۔
🫴 یہاں اس آیت میں پلٹنا (حرام ہے)۔ یہ قیامت والے دن کے بارے میں نہیں ہے بلکہ کسی اور دن یعنی رجعت میں بھی کچھ لوگوں کا پلٹنا قرار ہے کہ جن کے بارے میں ارادہِ پروردگار ہوگا کہ یہ پلٹیں گے۔ لیکن ان میں سے ہلاک شدہ اقوام نہیں آئیں گے۔
*روایت* :
کتاب بحار النوار📚
*امام محمد باقرؑ اور امام جعفر صادقؑ نے اسی آیت کے ذیل میں فرمایا ہے۔* 🌷
"ہر وہ بستی جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے عذاب سے ہلاک کیا ہے وہ رجعت میں نہیں پلٹیں گے۔"
یہ آیت رجعت کے دلائل میں ایک اہم ترین دلیل ہے کیونکہ کوئی بھی مسلمان اس بات کا منکر نہیں ہے کہ سب لوگ قیامت کےدن پلٹیں گے چاہے کوئی ہلاک ہوا ہے یا نہیں۔ اور پھر معصومؑ فرماتے ہیں کہ یہ جو اس آیت میں بیان ہوا ہے کہ نہیں پلٹیں گے یہ رجعت کے حوالے سے بیان ہوا ہے نہ کہ قیامت کے دن کے بارے میں ہے۔ کیونکہ قیامت کے دن تو سب پلٹیں گے اور سب اللہ کے عذاب سے ہلاک ہونے والے پلٹیں گے بلکہ جہنم میں داخل ہونگے۔
(توجہ فرمائیں🫴
آپ کی خدمت میں ان آیات کے ذیل میں روایات بھی بیان ہوئیں ہیں)۔
اب یہ موضوع رجعت تشہیو کے اندر اتنی کثرت سے بیان ہوا ہے کہ یہ ہماری روایات اور زیارات کا بھی حصہ بن گیا ہے۔
امام علی نقیؑ سے جو زیارت جامع کبیرا نقل ہوئی ہے اس میں معصومؑ کے جملے ہیں۔ 🌷
**مُعْتَرِفٌ بِکُمْ مُؤْمِنٌ بِإِیابِکُمْ*
*مُصَدِّقٌ بِرَجْعَتِکُمْ مُنْتَظِرٌ لأِمْرِکُمْ**
اے حجت خدا میں آپؑ کی امامت کا اقرار کرتا ہوں۔ آپ کےبزرگان کا معتقد ہوں ۔ آپ کی رجعت کی تصدیق کرتا ہوں۔ آپ کے دور کا منتظر ہوں۔🌷
*خود امام مہدیؑ عج سے متعلق جو زیارات ہیں وہاں بھی یہ موضوع بیان ہوا۔ حتہ دعائے عہد میں بھی بیان ہوا۔
*یہاں سوال ہوتا ہے کہ رجعت کی خصوصیات کیا ہیں؟*
اگر ہم ایک مختصر سا جائزہ لیں۔ تو ہم تقریباً چھ خصوصیات کی جانب اشارہ کریں گے۔ 🫴
1۔ *رجعت پروردگار کے عظیم دنوں میں سے ایک دن ہے۔* ♥️
قرآن مجید میں *سورہ ابراھیم* اور *سورہ جاثیہ* میں لفظِ "ایام اللہ" آیا ہے یعنی اللہ کے دن۔ یعنی وہ ایام کہ جن میں خدا اپنی قدرت کا اظہار کرے گا۔ کچھ دن ہیں کہ جن میں خدائے واحد، خدائے قہار اپنی قدرت کا اظہار کرے گا۔ اور ناممکن کو ممکن کر کے دکھائے گا۔
*امام صادقؑ فرماتے ہیں کہ ایام اللہ تین دن ہیں۔* 🌹
۔۔ 🔹
امام قائمؑ عج کا قیام ایام اللہ میں سے ایک دن ہے جو اس ہزاروں اور لاکھوں سالوں پر مشتمل اس دنیا میں کبھی بھی الہیٰ نظام قائم نہیں ہوسکا اور شیاطانی ، ابلیسی اور باطل قوتوں کا راج رہا ہے۔ امام قائمؑ عج اس کو ممکن کریں گے اور پوری دنیا کو اک حکومت کی شکل میں لائیں گے اور پوری دنیا پر خدا کا نظام نافذ ہوگا۔
( *انشاءاللہ* )!♥️
فرماتے ہیں۔
۔۔ 🔹
دوسرا دن رجعت کا دن ہے جس میں مردوں نے قدرتِ پروردگار سے زندہ ہونا ہے۔
۔۔🔹
تیسرا دن قیامت کا دن ہے کہ جس میں سب نے زندہ ہونا ہے۔
*یہ تین دن ایام اللہ ہیں۔*🫴
2۔💫
رجعت پر عقیدہ شیعان اہلبیتؑ کی نشانیوں میں سے ہے۔
*امام صادقؑ کا فرمان ہے کہ:* 🌹
" اگر کوئی شخص رجعت پر ایمان نہیں رکھتا تو وہ ہم میں سے نہیں"۔
3۔ 💫
تیسری خصوصیت یہ ہے کہ رجعت ہر کسی نے نہیں کرنی🫴 بلکہ وہ جو خالص مومن ہیں جو امامؑ عج کی نصرت کریں گے اور وہ جو خالص کفار اور خالص منافقین ہیں جنہوں نے ظلم کئے اور دنیا میں اپنے ظلموں کی سزا پانی ہے۔
4۔ 💫
جو رجعت کریں گے ان میں انبیاءؑ اور معصومینؑ بھی ہیں۔ اور سب سے پہلے جس امام ؑ نے رجعت کرنی ہے اور امام مہدیؑ عج کے بعد اس حکومت الہیٰ کو سنبھالنا ہے وہ امام حسینؑ ابن علیؑ ہیں کہ جنہوں نے ایک طویل عرصہ حکومت کرنی ہے۔ 🌹🌹🌹🌹🌹
5۔ 💫
پانچویں خصوصیت یہ ہے کہ تمام اہل انتظار جو دل و جان امام مہدیؑ عج کے عاشق ہیں اور منتظر ہیں اور ظہور سے قبل دنیا سے چلے گئے سب کا احتمال ہے کہ وہ پلٹیں گے اور امامؑ کی نصرت حاصل کریں گے۔
*امام صادقؑ کا فرمان ہے کہ*🌹
"کوئی بھی شخص اگر چالیس دن دعائے عہد کی تلاوت کرے تو وہ مولاؑ عج کے ان ناصرین میں سے ہوگا کہ اگر ظہور سے قبل مر چکے ہوئے تو اللہ انہیں ان کی قبور سے اٹھائے گا۔ اور مولاؑ عج کی نصرت کی انہیں توفیق دے گا۔
یہ تمام روایات بحار النوار سے بیان ہوئی ہیں۔ 📚
6۔ 💫
🔹 *رجعت اختیاری*
چھٹی خصوصیت یہ ہے کہ مومنین تو اپنی خواہش سے اور آرزو و تمنا سے اور دعاؤں سے رجعت کریں گے مومنین کی رجعت اختیاری ہے۔
🔹 *رجعت اجباری*
کفار اور منافقین اجباری رجعت کریں گے۔ یعنی کفار اور منافقین جن کو سزا دینے کے لیے عدالت الہیٰ نافذ ہوگی ان کو زبردستی اجبار کے ساتھ پلٹایا جائے گا۔
*امام صادقؑ کا فرمان ہے کہ:* 🌹
"جب امام مہدیؑ عج قیام کریں گے تو خدا کے فرشتے عالم ارواح میں اس بندے سے رابطہ کریں گے کہ اے بندہ مومن تمھارے مولاؑ عج نے ظہور کیا اور اگر آپ اپنے مولاؑ کے لشکر میں شامل ہونا چاہتے ہیں تو آپ آزاد ہیں۔ خدا آپ کو یہ توفیق دے رہا ہے لیکن اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ اسی برزخی نعمات میں غرق رہیں تو پھر بھی آپ کو اختیار ہے۔
*اللہ اکبر!* 😭😭
پروردگار ہم سب کو توفیق دے کہ ہم بھی ان لوگوں میں سے قرار پائیں کہ جو رجعت کریں اور امام وقت عج کے ناصرین سے محلق ہوں۔
الہی آمین۔
*دعائے عہد:* 🩵
*اَللّٰھُمَّ إنْ حالَ بَیْنِی وَبَیْنَہُ الْمَوْتُ الَّذِی جَعَلْتَہُ عَلَی عِبادِکَ حَتْماً مَقْضِیّاً فَأَخْرِجْنِی مِنْ قَبْرِی* 😭🤲
اے معبود اگر میرے اور میرے امام(ع) کے درمیان موت حائل ہو جائے جو تو نے اپنے بندوں کے لیے آمادہ کر رکھی ہے تو پھر مجھے قبر سے اس طرح نکالنا
*مُؤْتَزِراً کَفَنِی شاھِراً سَیْفِی مُجَرِّداً قَناتِی مُلَبِّیاً دَعْوَةَ الدَّاعِی فِی الْحاضِرِ وَالْبادِی* 🤲
کہ کفن میرا لباس ہو میری تلوار بے نیام ہو میرا نیزہ بلند ہو داعی حق کی دعوت پر لبیک کہوں شہر اور گاؤں میں🤲😭😭
والسلام
شہربانو: ✒️
*عالمی مرکز مہدویت قم*
📢 بارھواں سلسلہ درس " رجعت "
# درس 4
# کون رجعت کریں گے
# *استاد مہدویت علامہ علی اصغر سیفی صاحب* 🎤🌹
ہماری گفتگو رجعت کے موضوع میں ہے اور آج ہمارا موضوع ہے کہ رجعت کون کریں گے۔
*احادیث کے اندر مختلف شخصیات ہیں* کہ جن میں انبیاءؑ ہیں آئمہ معصومینؑ ہیں اصحاب معصومینؑ ہیں اور مختلف شخصیات ہیں۔ بطور قلی ہم نے ذکر کیا تھا کہ احادیث اور روایات کی رو سے دو طرح کے لوگ رجعت کریں گے۔
🔹 پہلے وہ ظالمین جنہوں نے بے پناہ ظلم کئے اور دنیا میں اپنے ظلموں کی سزا نہیں پائی تو *قیامت سے پہلے عدالتِ الہیٰ کے تحقق کے لیے زمین پر امام زمانؑ عج الشریف کے توسط سے ایک عالمی عدالت لگے گی جس میں گذشتہ امتوں سے لیکر اب تک تمام بڑے بڑے ظالموں کو زندہ کر کے دنیا میں انہیں ان کے اعمال کی سزا دی جائے گی اور مظلوموں کو بھی زندہ کیا جائے گا تاکہ وہ اپنی آنکھوں کے سامنے ان ظالموں کو ذلت سے سزا پاتے دیکھیں۔*
*انشاءاللہ* !💦
البتہ عرض کیا تھا کہ کچھ گناہ اور جرم ایسے ہیں کہ جن کی دو سزائیں ہیں ایک دنیا میں اور دوسری آخرت میں لیکن بعض ایسے گناہ ہیں جن کی سزا یا دنیا میں ملے گی یا پھر آخرت میں اور کچھ لوگوں کے گناہ ایسے ہوتے ہیں کہ جن کے بارے میں ارادہِ الہیٰ یہی ہوتا ہے کہ انہیں دنیا میں بھی ذِلت دکھائے اور آخرت میں بھی سزا دے۔
تو ایسے لوگوں میں بعض کو سزا مل چکی ہے جیسے فرعون اور شمر لعین لیکن! کچھ لوگ ظلم کرتے کرتے بسترِ راحت پر مرے ہیں تو ان کو قائمؑ عج کے زمانے میں اٹھایا جائے گا اور ان کو دنیا میں ان کے ظلم کی سزا ملے گی۔
*انشاءاللہ* !💦
*لیکن* ! 🫴
کچھ لوگ ایسے بھی رجعت کریں گے کہ جو امام قائمؑ عج کے زمانہ کو دیکھنے کی آرزو رکھتے تھے۔ اور یہ لوگ بارگاہِ خداوندی میں یہی آرزو کرتے کرتے دنیا سے چلے گئے۔
اب یہ جو تمنا اور آرزو رکھتے تھے ان میں آئمہؑ معصومین اور انبیاؑء بھی ہیں۔ جیسے امام صادقؑ اور امام حسینؑ اور دیگر آئمہ ؑ اور یہ دعائیں اور آرزوئیں ان سے نقل ہوئی ہیں کہ " کاش ہم قائمؑ کے زمانہ میں ہوتے اور ان کو درک کرتے اور ان کی خدمت کرتے"۔
یہ آرزو انبیاؑء میں بھی تھیں کہ آخری زمانہ میں جو پروردگار کی طرف سے جو مصلح نجات دہندہ آنا ہے ہم ان کی ہمراہی کریں۔ یہی آرزو آئمہؑ اور ان کے اصحاب میں بھی تھی۔ یہی آرزوئیں اولیاء میں بھی تھی اور ہم شیعوں میں سے اکثر یہ آرزو رکھتے ہیں۔
اب پروردگار عالم انہی میں سے انتخاب کرے گا کہ جنہوں نے ہر صورت میں قائمؑ کا زمانہ دیکھنا ہے اور مولاؑ عج کی نصرت کا شرف حاصل کرنا ہے۔
اس حوالے سے ہماری روایات کہتی ہیں کہ انبیاؑء اور آئمہؑ آئیں گے۔
بعنوان مثال امام صادقؑ سے جو یہ آیہ مجیدہ ہے کہ :
*سورہ مومن:* 💦
*اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا فِى الْحَيَاةِ الـدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ (51)*
ہم اپنے رسولوں اور ایمانداروں کے دنیا کی زندگی میں بھی مددگار ہیں اور اس دن جب کہ گواہ کھڑے ہوں گے۔
*اسی آیت کے ذیل میں امام صادقؑ فرماتے ہیں🌷*
"خدا کی قسم اس آیت کی تفسیر رجعت میں ہو گی آیا تم نہیں جانتے کہ جن پیغمبرؑوں کو دنیا میں نصرت نہیں ملی اور ان کو مدد حاصل نہیں ہوئی اور وہ اللہ کی راہ میں قتل ہوئے ہیں۔ اور آئمہؑ جو اللہ کی راہ میں قتل ہوئے ہیں تو یہ مدد اور یہ کامیابی انہیں رجعت کے موقع پر حاصل ہوگی۔ "🌷
اسی طرح بعض روایتیں انبیاؑء کی رجعت کو عدد کے ساتھ یاد کرتی ہیں ہمیں یہ بتاتی ہیں کہ انبیاؑء اتنی تعداد میں رجعت کریں گے۔ مثلاً امام صادقؑ فرماتے ہیں کہ:🌷
💫امام حسینؑ اپنے یاران (شہدائے کربلا) کے ساتھ رجعت کریں گے تو اسوقت ستر کے قریب انبیاؑ ء بھی ان کے ساتھ رجعت کریں گے۔
مثلاً
💫حضرت موسیٰ ؑ ابن عمرانؑ ستر انبیاؑ کے ساتھ رجعت کریں گے۔
بعض روایات بعض انبیاؑ اور آئمہؑ کے نام کے ساتھ بیان کرتی ہیں جیسے امام صادقؑ کا فرمان ہے کہ: 🌷
💫حضرت دانیالؑ اور حضرت یونسؑ دونوں امیرالمومنینؑ کے ساتھ رجعت کریں گے۔ رسالت مآبؐ کی رسالت کا اقرار کریں گے اور ان کے ساتھ ستر نفر اور بھی ہونگے۔
*اسی طرح امام زین العابدینؑ سے روایت ہے کہ : 🌷*
تمھارے اندر امیر المومنینؑ اور باقی آئمہؑ رجعت کریں گے۔ یا تمھارے اندر تمھارے نبیؐ رجعت کریں گے۔
🌷🌷🌷🌷🌷
*سب سی پہلی ہستی کون رجعت کرے گی؟* 🫴
*امام صادقؑ فرماتے ہیں کہ*🌷
سب سے پہلی ہستی جو دنیا کی طرف رجعت کریں گے (اپنی قبر سے اٹھیں گے) وہ امام حسینؑ ہیں۔
اور وہ پہلی ہستی ہیں جو گذشتہ لوگوں میں سے سب سے پہلے امام قائمؑ عج کے ساتھ ملحق ہونگے اور امام ؑ کے ناصر و مددگار ہونگے۔
*روایت کی رو سے امام زمانہؑ عج کے بعد امام حسینؑ ایک طولانی عرصے تک اس حکومت کو سنبھالیں گے۔*
*انشاءاللہ* !🩵
اسی طرح ہماری روایات بتاتی ہیں کہ انبیاءؑ اور آئمہؑ سے ہٹ کر بہت سارے صالح لوگ اور بہت سارے صاحب تقویٰ گذشتہ امتوں سے اور اسی طرح امت اسلام سے ہیں وہ بھی رجعت کریں گے۔ جیسے گذشتہ امتوں سے جو ذکر ہے وہ اصحاب کہف اور مومن آل فرعون کا رجعت کرنا ہے۔ اور امت اسلام سے اصحاب پیغمبرؐ جیسے سلمان فارسی ، مقداد، مالک اشتر اور ابودجانہ انصاری ہیں۔ اسی طرح آئمہؑ کے اصحاب کا ذکر ہے حتکہ آئمہ ؑ کی اولاد میں جناب اسماعیل کا نام ہے۔ اصحاب میں جناب مفضل، جناب حارث عقیل ، زبیر اور مختلف نام ہے۔
*خلاصہ بیان:* 🫴💫
رجعت ہر صورت میں ہوگی۔ رجعت پر قرآنی دلائل ہیں اور رجعت کرنے والوں کے نام تک ذکر ہیں۔ یہ حق عقیدہ ہے اور یہ مکتب تشہیو کا امتیاز ہے۔
مکتب تشیہو یعنی وہی حقیقی اسلام۔ جو جو اسلام کے عقائد ہیں وہ سب مکتب تشہیو میں موجود ہیں۔
جیسا کہ آئمہ ؑ نے فرمایا کہ : 🌷
*جو رجعت کا قائل نہیں وہ شیعہ نہیں*
*رجعت ایک قرآنی عقیدہ ہے اور قدرتِ پروردگار کا اظہار ہے* ۔ اور جو کہتے ہیں کہ ایسا نہیں ہوسکتا تو جو خالق اکبر قیامت کے دن سب کو زندہ کر سکتا ہے وہ اس سے پہلے بھی زندہ کر سکتا ہے۔ اور یہ حکومت الہیہ کی ایک بہت بڑی نشانی ہے کہ اس میں یہ عظیم عدالت بھی بپا ہوگی اور گذشتہ امتوں میں سے بھی لوگ آئیں گے جو مولاؑ عج کے ناصر بنیں گے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ان لوگوں میں سے قرار دے جو زمانہ ظہور دیکھیں اور ہمیں رجعت کرنے والوں میں سے قرار دے۔
الہیٰ آمین۔🤲
والسلام
شہر بانو ✒️
*عالمی مرکز مہدویت قم*🌏
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں