Book 11 Complete Sadia
سلسلہ دروس عصر ظہور 🌟🌟
کتابچہ: 11📖
موضوع :عصر ظہور کی اجمالی تصویر
پہلا درس
خطابت: 🎤🎤
استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب🌹
تمھیدی گفتگو۔🫴
اس سے پہلے ہماری گفتگو علامات اور اسباب ظہور میں اس سے متعلق مختلف موضوعات میں جاری رہی ہے ۔ انشاءاللہ اب سے ہماری گفتگو عصر ظہور میں شروع ہورہی ہے۔
پوری دنیا یہ امید رکھتی ہے کہ اس جہان کا بلآخر اختتام یوٹوپیا پر ہوگا یعنی وہی مدینہ فاضلہ وہی باسعادت کہ جہاں تمام انسانی کمالات ظاہر ہونگے۔ بعض مفکر اسے
Promise Society
کے عنوان سے بھی یاد کرتے ہیں یعنی جامع موعود۔ یعنی وہ معاشرہ جہاں حق والے پلٹیں گے۔ انسانی فضیلتیں اور خوبیاں پلٹیں گی۔ اور دنیا کی جو سیاہ تاریخ ہے اور سیاہ ضربیں وہ ختم ہو جائے گی اور دنیا کی ایک روشن تاریخ شروع ہو جائے گی۔
ویسے تو پوری دنیا امیدوار ہے لیکن پوری دنیا میں اسلام اور بلخصوص مکتب تشیہو اس عصر ظہور پر قطعی اور یقینی عقیدہ رکھتا ہے۔ اور باقاعدہ عصر ظہور کی راہ کو ہموار کرنے کے لیے کوشش بھی کر رہا ہے۔ کیونکہ عصر ظہور یہ وہ باسعادت دور ہے کہ بہت ساری قرآنی آیات اس دور کی تصویر کو پیش کرتی ہیں یعنی اسے مجسم کرتی ہیں۔
سورہ النور 55🌹
وَعَدَ اللّـٰهُ الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّـهُـمْ فِى الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّـذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِـمْۖ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَـهُـمْ دِيْنَهُـمُ الَّـذِى ارْتَضٰى لَـهُـمْ وَلَيُـبَدِّلَـنَّـهُـمْ مِّنْ بَعْدِ خَوْفِهِـمْ اَمْنًا ۚ يَعْبُدُوْنَنِىْ لَا يُشْرِكُـوْنَ بِىْ شَيْئًا ۚ وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُـمُ الْفَاسِقُوْنَ (55)🌺
اللہ نے ان لوگوں سے وعدہ کیا ہے جو تم میں سے ایمان لائے اور نیک عمل کیے کہ انہیں ضرور ملک کی حکومت عطا کرے گا جیسا کہ ان سے پہلوں کو عطا کی تھی، اور ان کے لیے جس دین کو پسند کیا ہے اسے ضرور مستحکم کر دے گا اور البتہ ان کے خوف کو امن سے بدل دے گا، بشرطیکہ میری عبادت کرتے رہیں اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں، اور جو اس کے بعد ناشکری کرے وہی فاسق ہوں گے۔
بعنوان مثال سورہ نور کے اندر آیت نمبر 55 میں اگر ہم اس آیت کے اندر پروردگار کی جانب سے جو عصر ظہور کے متعلق مختلف نکات بیان ہوئے اگر ہم ان کی جانب توجہ کریں۔ تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ کتنا حقیقی اور یقینی عقیدہ ہے کہ جو بلآخر محقق ہو کیونکہ اس کو بیان کرنے والا خالق کائنات ہے اور خالق جب وعدہ کرتا ہے تو اس وعدے کی مخالفت نہیں کرتا ۔ وہ پروردگار جو ہمیں وعدہ پورا کرنے کا حکم دیتا ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ وعدہ پورا نہ کرے۔
اس آیت مجیدہ میں پروردگار عالم فرما رہا ہے۔
سورہ نور آیت: 55🌻
وَعَدَ اللّـٰهُ الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ
یہ اللہ کا وعدہ ہے ان لوگوں میں سے کہ جو تم میں سے صاحب ایمان ہیں اور عمل صالح انجام دیتے ہیں۔
🌻
ان میں دو شرطیں ہیں یعنی ایمان بھی رکھتے ہیں اور عمل صالح بھی انجام دیتے ہیں۔
ایمان یعنی توحید عدل، نبوت ، امامت، قیامت یعنی اصول دین پر حالت ایمان یعنی حالت یقین ہے اور یہ وہی معرفت پروردگار و رسولؐ و حجت خدا ہے۔ اور دوسری شرط وہی عمل صالح کرتے ہیں یعنی اس ایمان کے مطابق اتباع کرتے ہیں۔ وہ رب کی عبادت کرتے ہیں اور رسولؐ اور حجت خدا کی اتباع کرتے ہیں۔
پروردگار ان لوگوں سے جو واقعاً اہل ایمان اور عمل صالح انجام دینے والے ہیں جو آج کے دور میں اہل انتظار ہیں۔ کیونکہ مومنین ہر دور میں اسی حجت خدا کے عنوان سے پہچانے جاتے ہیں۔ اور آج حجت خدا کا تقاضا انتظار ہے اور آج کے مومنین اسے عنوان سے پہچانے جاتے ہیں۔
اور آج کے دور میں اہل انتظار سے اللہ کا وعدہ ہے کہ:
لَيَسْتَخْلِفَنَّـهُـمْ فِى الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّـذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِـمْۖ🌻
پروردگار انہیں زمین پر اسی طرح خلافت دے گا جس طرح اس سے پہلے والوں کو اللہ نے زمین پر خلافت بخشی۔ جیسے حضرت ذوالقرنینؑ، حضرت داؤدؑ اور حضرت سلیمانؑ اور بھی ہستیاں ہونگی کہ جنہیں ہم نہیں جانتے۔ تو پروردگار نے انہیں زمین پر حکومت دی ان کو بھرپور نعمات سے نوازہ بھرپور وسائل، قوت وطاقت، کرامات و معجزات ، ملائکہ حتہ کہ چرند پرند اور کائنات کی تمام اشیاء ان کی حکومت میں ان کی مددگار تھیں اور پروردگار عالم ان لوگوں کو جو اہل ایمان اور عمل صالح کرنے والے ہیں بشارت دے رہا ہے کہ خدا تمھیں ہر صورت میں زمین پر اسی طرح خلافت و حکومت عطا کرے گا کہ جس طرح اس سے پہلے والوں کو دی تھی۔
وَلَيُمَكِّنَنَّ لَـهُـمْ دِيْنَهُـمُ الَّـذِى ارْتَضٰى لَـهُـمْ 🌻
اور صرف بات خلافت اور حکومت کی نہیں ہے بلکہ وہ دین وہ قانون وہ ضابطہ حیات کہ جسے اللہ نے تمھارے لیے پسند کیا ہے اللہ اس کو بھی زمین پر مستحکم بپا کرے گا
اس حوالے سے ہمارے پاس بہت ساری روایات ہیں کہ اسلام شرق و غرب پر نافذ ہو گا۔ جیسا کہ امام صادقؑ فرماتے ہیں کہ:
دنیا کا کوئی ایسا کونہ نہ ہوگا کہ جہاں سے اشھد ان لا الہ الا اللہ واشہد ان محمد رسولؐ اللہ یہ صدائیں آذان ہر جگہ سے آئے گی اور ہر جگہ اسلام کی حکومت ہو گی۔ یعنی پروردگار ایک تو حکومت کی بشارت دے رہا ہے ایک دین اسلام کی پوری دنیا پر نافذ ہونے کی بشارت اور ایک:
وَلَيُـبَدِّلَـنَّـهُـمْ مِّنْ بَعْدِ خَوْفِهِـمْ اَمْنًا ۚ 🌻
کہ تمھارے ہر خوف کو امن میں تبدیل کر دے گا۔ یعنی پھر کوئی خوف خوف ہی نہ رہے گا۔ اب انسان کو آج کے دور میں جتنے بھی خوف ہوتے ہیں یعنی جان و مال، عزت و ناموس، صحت اور کتنے ہی خوف ہمیں دن رات گھیرے رکھتے ہیں لیکن یہ وہ دور ہو گا کہ جس میں پروردگار عالم ہمیں امن و اطمینان ، سکون ، آرامئش اور سعادت میں بدل دے گا۔ اس کے بعد کوئی خوف بچے گا ہی نہیں۔ اس کے بعد فرمایا کہ:
يَعْبُدُوْنَنِىْ لَا يُشْرِكُـوْنَ بِىْ شَيْئًا ۚ وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ 🌻
کہ پھر اس وقت پوری دنیا روئے زمین پر پروردگار کی عبادت کرے گی اور کسی چیز کو اللہ کا شریک نہیں قرار دیں گے۔ آج کل تو ہم مختلف قسم کے شرک میں مبتلا ہوں شرک خفی ، شرک جلی۔ بعض اوقات ہم اللہ کی منشا کو چھوڑ کر اپنے نفس کی مان لیتے ہیں بعض مرتبہ لوگوں کی مان لیتے ہیں بلآخر آج بھی کئی قسم کی بت پرستی ہو رہی ہے۔
یہ وہ زمانہ ہے کہ جس میں کسی قسم کا شرک نہیں ہوگا ۔ لیکن اس کے بعد پھر پروردگار تنبیہہ بھی کر رہا ہے۔
فَاُولٰٓئِكَ هُـمُ الْفَاسِقُوْنَ🌻
کہ لیکن اگر کوئی اتنی نعمات کے بعد بھی کفر کرے یعنی عمل صالح کرنے والوں کو حاکم بنایا۔ دین کو نافذ کیا عدالت سے زمین کو بھر دیا اور عبادت کے مواقع دیے شرک کو ختم کر دیا لیکن اگر پھر بھی کوئی ہوائے نفس کے تحت چلا اور شرک کیا تو پھر وہ لوگ فاسق ہیں اور اہل فسق کی جگہ جہنم ہے۔
اب قرآن مجید نے عصر ظہور کو کتنے خوبصورت اور تفصیل سے بیان کیا ہے کہ وہ عصر ظہور جس میں دین اسلام جو پوری دنیا پر نافذ ہے اور لوگوں پر روحانی اور معنوی اوصاف اجاگر ہیں۔ حجت خدا مہدیِ زہراؑ عج کی ولایت اور امامت پوری دنیا پرنافذ ہیں اور لوگ عدالت، امن اور سعادت مند زندگی گذار رہے ہیں۔
جیساکہ ہماری روایات میں ہے کہ :
یملأ الارض قسطا و عدلا🌟
زمین کو مہدی زہرا عدل و انصاف سے بھر دیں گے۔ جس کا جو بھی حق ہے وہ اس کو ملے گا۔ جو بھی لوگوں کے حق کو ضائع کرتے ہیں انہیں سزا ملے گی لیکن مظلومین کو ان کا حق ملے گا۔ کیونکہ یہ دنیا کا وہ دور ہے کہ جب دنیا اس آخری کمال اور ہدف کو مکمل کرے گی کہ جس کی خاطر اللہ نے اس دنیا اور انسانوں کو خلق کیا۔
پروردگار عالم نے فرمایا کہ میں نے انسانوں کو اپنی عبادت کے لیے خلق کیا تو اس زمانے میں لوگ اس ہدف کو پائیں گے۔ یعنی روح عبادت اور عبودیت تمام معاشروں پر حاکم ہوگا۔
بعض لوگ اس لیے عبادت کرتے ہیں کہ شیطان کا خوف ہے۔ شیطان انہیں فقرسے ڈراتا ہے اور بدکاری کی جانب لاتا ہے۔ لیکن اس زمانے میں یہ ساری چیزیں ختم ہو جائیں گی۔ ہر قسم کا فتنہ و فساد اور ظلم ختم ہوگا ، خود ابلیس بھی ختم ہو جائے گا۔
دنیا عدل و انصاف سے بھر جائے گی اور بے پناہ برکات ہونگی۔ آسمان سے برکتوں والی بارشیں ہونگی کہ جس سے انسانوں کو احساس رحمت ہوگا۔ زمین کے بے پناہ خزانے اور برکات ظاہر ہونگی۔ کہ جس سے بے پناہ علم اور صنعت ترقی کرے گی اور ایجادات ہونگی۔ لوگ ظاہری طور پر بھی ترقی یافتہ ہونگے اور عقلی اور روحی طور پر بھی کمال پر ہونگے۔ تمام دنیا کے ممالک آباد اور خوش و خرم زندگی گذاریں گے۔ پھر نہ کوئی ویرانی ہوگی نہ خشک سالی نہ جنگ بلکہ ہر جگہ پر آبادی اور رونق ہوگی۔ ⚖️
دنیا میں ہر کوئی خوشحال ہونگے۔ جیسے کسان خوشحال ہونگے۔ زمین بے پناہ ثمرہ دے گی۔ دنیا میں اقتصاد بے پناہ ترقی کرے گا۔ لوگوں کے پاس بے پناہ پیسہ ہوگا سب لوگ بے نیاز ہو جائیں گے حتہ کہ لوگوں کو زکوۃٰ ، اور زکوۃٰ دینے کے لیے کوئی فقیر نہیں ملے گا۔ سب خوشحال ہونگے۔ 🌺
علم طب اتنی ترقی کرے گا کہ دنیا میں کوئی بیماری نہیں رہے گی۔ جیسے احادیث میں بھی آتا ہے کہ دنیا میں کوئ بیماری نہ رہے گی اور آج کے انسان سے اسوقت کے لوگ دس گنا زیادہ صحت مند ہونگے۔ اس لیے ان کی عمریں بھی طولانی ہونگی۔
دنیا کے امور کو چلانے کے لیے مولاؑ عج صالح لوگوں کا انتخاب کریں گے اور ایک ایسی عادلانہ حکومت کو قائم کریں گے کہ جس کے اندر کام کرنے والے تربیت یافتہ، بااخلاق، موحد اور لوگوں کی خدمت کرنے والے اور رفاع اور امنیت مہیا کرنے والے ہو نگے ۔ یہ وہ پرامس سوسائٹی ہوگی۔ یہ وہی یوٹوپیا ہے۔ جسے قرآن و احادیث نے بیان کیا یہ وہی عصر ظہور ہے کہ جس کے بارے میں سب گفتگو کر رہے ہیں۔ لیکن قرآن اس کے بارے میں گفتگو کر رہا ہے۔
قرآن میں بار بار اسلام کہہ رہا ہے کہ: 🌺
یہ ساری برکات اس لیے حاصل ہونگی کہ جب اسلام تمام ادیان پر غالب آئے گا یعنی تمام جھوٹے مکاتب اور لوگوں کے بنے ہوئے نظریات پر جب دین خدا غلبہ کرے گا اس وقت زمین اس انداز میں روشن ہوگی جس طرح بیان کیا گیا ہے۔
اور یہ بشارتیں صرف اسلام سے شروع نہیں ہوئی بلکہ شروع سے چلی آرہی ہیں ۔اگر ہم پچھلے ادیان کے بارے میں مطالعہ کریں تو حضرت آدمؑ سے لیکر خاتمؐ تک ایک ایسے منجی کے بارے میں ایک ایسے نجات دہندہ کے بارے میں مسلسل بشارتیں چلی آرہی ہیں بعنوان بقیتہ اللہ ایک ایسی ہستی کو روئے زمین پر خدا باقی رکھے گا، غائب رکھے گا کہ جب تک اللہ ارادہ کرے گا دنیا میں سعادت مند دور شروع ہو۔
تمام ادیان بلخصوص ادیان ابراہیمی ہیں، جیسے دین یہود، مسیحی، وغیرہ اس کے اندر بے پناہ بشارتیں ہیں کہ سب لوگ منتظر ہیں اس مسیحی کے جو لوگوں کو مس کرے لوگوں کے سروں پر ہاتھ رکھے اور ان کی تکلیفوں اور مصیبتوں کو حل کرے اور اس طرح دنیا کی ہر مصیبت اور مشکل کو حل کرے جیسے ایک ماں اپنے بچوں کی تکالیف ومسائل کو حل کرتی ہے۔
تمام ادیان، زرتش، ہندو، بت مت اس کی خبر دے رہے ہیں۔ ہندو کلکی کے منتظر ہیں۔ بت مت پانچویں بدھا کی خبر دے رہے ہیں۔ زرتش سفیانش کی خبر دے رہے ہیں۔
لبرال لوگ جن کے اندر کوئی الہیٰ مذہب کا تصور نہیں وہ بھی دنیا کے انجام کو اچھی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
✍️
ایک مشہور مفکر فیوکویامہ اپنی کتاب میں دنیا کے انجام کے بارے میں اچھے تصورات لکھتا ہے۔ بلآخر دنیا ایسی نہیں رہے گی۔ دنیا میں ترقی یافتہ با رشد اور کمالات کا عروج ہوگا۔
اسلام سب سے زیادہ اس موضوع کو بیان کرتا ہے اور ہمارے دیگر مکاتب جیسے اہلسنتؔ وہ بھی امام مہدیؑ عج کے ظہور پر عقیدہ رکھتے ہیں اور ان کی کتابوں میں یہ عقیدہ بیان ہوا اور ان کے اور ہمارے درمیان کوئی خاص فرق نہیں ہے۔
🫴
لیکن مکتب تشیہو بہت ہی سراحت کے ساتھ اس موضوع کو بیان کرتا ہے بلکہ یہ بھی بیان کرتا ہے کہ جس ہستی کے ذریعے یہ عظیم اور باسعادت دور شروع ہونا ہے وہ ابھی بھی موجود ہے۔ اور وہ منتظر ہے کہ کب ہم لوگ اس عظیم دور کے لیے اٹھیں تیاری کریں اور وہ اسباب مہیا کریں کہ مولاؑ عج ظہور فرمائیں۔
مکتب تشیہو صرف اس دور کی تصویر پیش نہیں کر رہا البتہ ہمارے ہاں بہت روایات ہے عصر ظہور کی بلکہ ہمارے لیے اس عصر ظہور تک پہنچنے کا راستہ بھی بیان کر رہا ہے اورتیسری چیز اہداف بیان کر رہا ہے کہ ہم اس دور میں کیا حاصل کرنا چاہ رہے ہیں اور کیا حاصل کریں گے۔ (اصلی اہداف اور تفریحی اہداف)۔ اور کس لیے یہ دورشروع ہو رہا ہے اور کب تک چلے گا اور اس کے اہم ترین مراحل سب کو مکتب تشیہو کھل کر بیان کر رہا ہے۔
عصر ظہور میں ہمارے اہداف۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے۔ 🪻🪻🪻🪻🪻
دعا ہے کہ پروردگار ہم سب کو اس دور سے متصل کرے اور ہم سب کو ہمارے امام عج کی زیارت اور ان کے ظہور پرنور سے مشرف کرے۔ 🤲
پروردگارا بحق محمدؐ و آل محمدؑ ہماری زندگیوں میں ہی یوسف زہراؑ کا ظہور فرما اور ہمیں ان کے خدمتگار ناصروں میں شمار فرما۔ 🤲
آمین۔
والسلام🤲
شہر بانو ✍️
عالمی مرکز مہدویت قم 🌍
[سلسلہ دروس عصر ظہور
درس دوم 📖 کتابچہ 11
موضوع: عصر ظہور کے حتمی ہونے پر احادیث
خطابت:🎤🎤
استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب🌹
ہماری گفتگو عصر ظہور کے حوالے شروع ہے اور عرض کیا تھا کہ ویسے تو دنیا کے تمام مذاہب میں عصر ظہور کے حوالے سے گفتگو ہے لیکن اسلام نے اسے مکمل طور پر بیان کیا اور اسلام کے اندر مکتب تشہیو جو ہے وہ عصر ظہور کو ناصرف بیان کرتا ہے بلکہ عصر ظہور تک پہنچنے کی راہ تک کو بھی بیان کر رہا ہے۔ اور وہ امام جس کے ذریعے عصر ظہور محقف ہو گا اور انسان کو وہ تمام سعادتیں مہیا ہونگی۔ مکتب تشہیو کا یہ عقیدہ ہے کہ وہ امامؑ عج اب بھی ہمارے اندر موجود ہیں صرف ان کی نصرت کی ضرورت ہے تاکہ ہم عصر ظہور تک پہنچیں۔
اب ایک سوال جو سامنے آتا ہے کہ عصر ظہور سے ہمارا ہدف کیا ہے۔ اور دنیا کے مذاہب اسے مختلف ناموں سے یاد کر رہے ہیں مثلاً
یوٹوپیا
Promise Society
باسعادت دور
آخرالزماں
ہمارا جو ہدف ہے (احادیث اور سورہ نور کی آیت 55 کو مدنظر رکھتے ہوئے) وہ یہ ہے کہ دنیا میں ایک ایسا اسلامی معاشرہ تشکیل پائے جو انسان کو کمال حقیقی تک پہنچائے اور یہ کمال حقیقی انسانوں کو اس صورت میں ملے گا جب اس کے اندر عبودیت اور توحید پرستی ہے اور پروردگار کے فرامین جو اس کی حجت عج کے ذریعے جاری ہونگے اس کی مکمل طور پر اطاعت ہے۔ اور ان تمام چیزوں میں اس کا مقصود بارگاہ پروردگار میں قربت حاصل کرنا اور رضائے الہیٰ ہے۔
یہ چیزیں اصل میں عصرظہور تک پہنچنے کے لیے بنیادی ہدف ہیں اور اس ہدف تک پہنچنے کے لیے ہم چار اہداف یا چار بہترین راستوں کا ہم انتخاب کریں گے کہ جس کے ذریعے ہم اس بڑے ہدف تک پہنچیں گے۔
پہلا ہدف: 🌟🌟
پروردگار کے ساتھ رابطہ:
ہمارا پہلا ہدف ہے کہ پروردگار کے ساتھ درست رابطہ قائم کرنے پر کام شروع کر دیں۔ یعنی اپنے اندر توحید پیدا کرنے کی کوشش کریں اور اس کے لیے قرآن اور احادیث رسولؐ اور فرامین معصومین موجود ہیں۔ اور خود ہماری عقل بتا رہی ہے کہ شرک اور کفر کی کوئی حقیقت نہیں۔
بلآخر خالق تک پہنچنا ہے اسے پہچاننا ہے۔ خالق نے اتنے ھادیؑ بھیجے ہوئے ہیں اور توحید تک پہنچنے کے لیے سارے راستے مہیا ہیں صرف ہم کوشش نہیں کرتے ورنہ یہی جو آجکل کے جدید وسائل مہیا ہیں وہ ہمیں پہنچا رہے ہیں اسی موبائل سے ہم توحید ،خدا شناسی، خدا پرستی عبودیت لکھیں تو بےشمار چیزیں ہم جان سکتے ہیں۔
اللہ سے جو ہمارا ارتباط ہے اس پر کام کرنے کی ضرورت ہے اور پھر جو ہمارا اپنے وجود کے ساتھ جو ارتباط ہے اس پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اللہ نے ہمیں روح اور جسم عطا کیا جوبہت بڑی نعمت ہے جس سے ہماری زندگی تشکیل پائ ہے۔ تو اب ہم نے اپنے بدن سے کیسے کام لینا ہے اور اپنے نفس کی کیسے تربیت کرنی ہے اس حوالے سے جو اخلاقی ابحاث ہیں جو فردی تربیت کو سامنے لاتی ہیں اور انسان کی چار قوتوں کو کہ کیسے عقل جو ہے وہ قوتِ شہوت ، غضب اور وہم پر حاکمیت رکھتی ہے۔ بلآخر اخلاقی ابحاث کو سنجیدگی سے لیں کہ میں خود بحثیت فرد کے خود کو ٹھیک کروں گا میں کسطرح کسی اور کو ٹھیک کروں کیونکہ جب تک سارے مسائل میرے اندر موجود ہیں میں کیسے اپنے مولا ؑ عج کا ناصر بن سکتا ہوں۔
اللہ نے انسان کو کائنات کے اندر اتنی نعمات دیں ہیں۔ ہوا، پانی نور، غذائیں اور کتنی ہی بےشمار نعمات ہیں جو ہمارے لیے ہیں تو ہم ان نعمات کے مدمقابل کیسے ہوں ہم نے ان سے استفادہ کرنا ہے اور اصراف نہیں کرنا اور ہدف وہی ہے تقرب الہیٰ، اور عصر ظہور میں اپنے مولاعج کی ہمراہی ہے ۔ تو پوری کائنات اس کام میں مہیا ہے۔ اور ہمارا جو حقیقی معنوں میں ارتباط ہونا چاہیے ہمیں اس پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔
اسی طرح دیگر انسانوں کے ساتھ جیسے ہمارے خاندان والے ، رشتہدار، اہل محلہ ان لوگوں کے ساتھ ہمارا ارتباط عدالت والا ہونا چاہیے۔ اور احسان اور نیکیاں کرنے والا ہونا چاہیے۔ اور ان کے ساتھ میں فقط اپنے مال اور شکم کی فکر نہ کروں بلکہ ان سب کو اپنا ایمانی بھائی اور بہن اور اخوت والے حقوق کو مدنظر رکھو۔ اپنی زوجہ کو واقعاً اپنی زندگی کا ساتھی اور اپنے بچوں کی کفالت کروں یہ میرے پاس اللہ کی امانتیں ہیں اور تمام حقوق کو مدنظر رکھتے ہوئے میں عدالت کے ساتھ چلوں۔
یہ تمام وہ راہیں ہیں جو اس بڑے ہدف تک پہنچائیں گی۔
اور اگر آج میں اپنے وظائف کو ادا نہیں کروں گا تو اور لوگ پہنچیں گے اور وہ کریں گے ۔ اور اسی حوالے سے ہوسکتا ہے کہ میرا حساب ہو ہم روز محشر ہم سے سوال ہوگا کہ تم نے عصر ظہور کو محقق کرنے کے لیے اپنا کردار کیوں نہیں ادا کیا ۔ ورنہ عصر ظہور وہ زماں ہیں کہ جس کے بارے میں اتنی ہی بشارتیں ہیں۔
رسول ؐ اللہ نے فرمایا:
اے لوگوں تمھیں بشارت ہو ظہور کی اور یہ اللہ کا وعدہ ہے۔
قرآن میں وعدہ ہے۔ جیسے سورہ نور55 میں وعدہ ہے۔
پھر فرمایا:
اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ
لَا یُخْلِفُ
اللہ نے اپنے صالحین سے وعدہ کیا ہے اور عصر ظہور ضرورمحقق ہوگا کیونکہ خدا اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا ۔ خدا کا وعدہ ہر صورت میں پورا ہو کر رہتا ہے۔
وَ ھُوَ الۡحَکِیۡمُ الۡخَبِیۡرُ 🌻
وَفَتْحٌ قَرِيبٌ🌻
انشاءاللہ دنیا پر وہ دور آنے والا ہے جب پوری دنیا پر دین خدا نافذ ہوگا اور خدا والے زندگی گذاریں گے۔ بلآخر ہر چیز کا آغاز ہے اور اختتام ہے۔ یہ دنیا کئی کڑوڑوں عربوں سالوں سے بنی ہے۔ تو اب ہم جس دور میں ہیں یہ دنیا کا آخری دور ہے۔ پیغبرؐ فرماتے تھے کہ میں آخر الزماں کا پیغمبرؐ ہوں اور ان کے آخری ھادی کی ہم امت ہیں اور اس ھادی عج کے درمیانی دور غیبت میں ہم ہیں اور عصر ظہور کے نزدیک ہیں اور ہماری حرکت اس جانب ہے اور یہ دور امام زماں عج کے ذریعے محقق ہونا ہے کہ جو عترت رسولؐ ہیں۔
کہ جن کی اتنی بشارتیں ہیں:
مشہور روایت ہے کہ رسولؐ اللہ نے فرمایا:🌺
منا آل محمدؐالمھدیؑ
مھدیؑ عج ہم آل محمدؑ میں سے ہیں۔
اہلسنت کی کتابوں میں بھی یہ سوال ہے جو رسولؐ اللہ سے ہوا کہ آیا امام مھدیؑ عج آپ سے ہیں۔ جسے جلال الدین سیوطی نے بھی اپنی کتاب العرف الوردی میں اور دوسری کتابوں میں بھی ہے کہ مولاؑ علیؑ نے رسولؐ خدا سے پوچھا کہ کیا امام مھدیؑ عج ہم میں سے ہیں یا ہمارے غیر میں سے۔
رسولؐ اللہ نےفرمایا: 🌺
ہم میں سے ہیں کہ اللہ ان کے ذریعے دین کو ختم کرے گا جیسے ہم سے آغاز کیا اور ہم وہ لوگ ہیں کہ جن کے ذریعے اللہ شرک کو دنیا سے ختم کرے گا۔
تو امام مھدی ؑ عج کی بشارت مسلم شعیہ سنی کتابوں میں ہےاور ان کے ذریعے عصر ظہور محقق ہوگا۔ دنیا کو شرک سے نجات ملنی ہے۔ ہمارا بنیادی ہدف عصر ظہور میں توحید کو بپا کرنا ہے۔
رسولؐ اللہ مولا علیؑ سے فرماتے ہیں۔🌺
میرے بعد 12 امام ہیں ان میں سب سے پہلے آپؑ ہیں یاعلیؑ اور آخری وہ قائمؑ عج ہیں کہ جن کے ہاتھوں سے پروردگار دنیا کے مشرق کو مغرب کو فتح کرے گا۔
یہ ساری عصر ظہور کی بشارتیں ہیںَ
حتکہ کہ فرمایا:
لَوْ لَمْ يَبْقَ مِنَ اَلدُّنْيَا إِلاَّ يَوْمٌ وَاحِدٌ لَطَوَّلَ اَللَّهُ ذَلِكَ اَلْيَوْمَ حَتَّى يَخْرُجَ فَيَمْلَأَهَا عَدْلاً وَ قِسْطاً كَمَا مُلِئَتْ جَوْراً وَ ظُلْماً‘‘۔ 🌺
اگر دنیا کا ایک دن بھی رہ جائے تو پروردگار اس دن کو طولانی کرے گا کہ میری نسل سے ایک شخص کو اٹھائے گا کہ جس کا نام میرا نام ہے اور وہ دنیا کو عدل و انصاف سے پر کرے گا کہ جس طرح وہ ظلم و ستم سے بھری ہوگی۔
اب اس سے بڑھ کر عصر ظہور کی بشارت اور کیا ہوگی۔ پیغمبرؐ ایک مثال دے رہے ہیں کہ اگر دنیا ختم ہونے میں ایک دن بھی رہ گیا تو یہ ظہور ہر صورت میں ہونا ہے۔
اسی طرح دیکھیں کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ قیامت نزدیک ہے جبکہ ابھی تو عصر ظہور باقی ہے۔
حاکم نیشاپوری نے اپنی مٗسند اور احمد بن حمبل نے اپنی مسند میں اور اسی طرح اور بھی اہلسنت کے علما ء لکھتے ہیں
کہ پیغمبرؐ فرماتے ہیں کہ: ☘️
قیامت بپا نہیں ہوسکتی جب تک زمین جو کہ ظلم و ستم سے بھر نہ جائے تو اسوقت میرے ہی خاندان سے ایک شخص قیام کرے گے جو زمین کو عدل و انصاف سے بھرے گا۔
یہاں ایک نقطہ ہے کہ دنیا ظلم سے بھرے گی نہ کہ ظالموں سے۔
ہم نے قیامت کا ابھی انتظار نہیں کرنا ابھی ہم نے عصر ظہور کا انتظار کرنا ہے جو ہر صورت میں امام مھدیؑ عج سے محقق ہونا ہے۔
عصر ظہور میں کیا ہوگا؟ 🫴
کہ امام مھدیؑ عج اور پھر ان کے اوصیا جو آل محمد ؑ سے ہیں ان کی حکومت ہوگی۔
پیغمبرؐ فرماتے ہیں :
یہ امت محرومہ ہے اس کا نبیؐ بھی اسی میں سے ہے اور اس کا مھدیؑ عج بھی انہیں میں سے ہے۔ اس دین کا ہمارے ذریعے آغاز ہوا ہے اور ہمارے ذریعے ہی اختتام ہوگا۔ اورآنے والے زمانے میں ہماری ہی حکومت قائم ہوگی اور پھر کوئی اور حکومت نہ ہوگی۔
ہم ہیں وہ اہل عاقبت جن کے بارے میں قرآن میں گفتگو ہے۔
والعاقبة للمتقين🌻
بلآخر انجام متقین کا ہے وہ متقین ہم ہیں۔ ہمارے ذریعے اہل تقوٰی اپنے انجام کو پہنچیں گے۔ ہمارے ذریعے لوگ تقویٰ اختیار کریں گے۔
بلآخر دنیا پر تقویٰ کا رنگ چھائے گا۔
آج کی تمھیدی گفتگو کا نتیجہ: 🫴
عصر ظہور ایک ایسی چیز ہے کہ جس کے بارے میں سنی شیعہ دونوں میں روایات موجود ہیں ۔ یہ عصر ظہور ہر صورت میں آنا ہے اور اس کو بپا کرنے والا نسل رسولؐ سے ان کا ہمنام مھدیؑ عج ہے۔ اور قیامت تک کے لیے ان کی ہی حکومت بپا ہوگی۔
قرآن میں جو آیا ہے
والعاقبة للمتقين ہی عصر ظہور ہے۔ ⚖️
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔☘️☘️
پروردگار عالم کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہم سب کو توفیق دے کہ ہم اپنی اسی زندگی میں عصر ظہور کے لیے حقیقی معنوں میں عقیدہ پیدا کریں اور اس کی جانب حرکت کریں اور ناصر امام وقت عج بنیں اور اپنے امام کے لیے کچھ کریں اور عصر ظہور کی تعجیل کے لیے کچھ کریں اور فقط بیٹھ کر دعا نہ کریں۔ بلکہ امام کے ظہور کے لیے حرکت کریں
والسلام🤲
شہر بانو ✍️
عالمی مرکز مہدویت 🌍
گیارھواں کتابچہ عصر ظہور
تیسرا درس
موضوع اھل سنت کا عقیدہ
خطابت:🎤🎤
استادِ محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب🌹
خلاصہ:
امام مھدیؑ عج کا ظہوربعنوان منجی عالم، بعنوان عالمگیر مصلح، سب عوام ، سب ملتیں سب ادیان مولا عج کے منتظر ہیں۔
اسلام کے اندر یہ ان عقائد میں سے ہے کہ جس پر تمام مسلمان متفق ہیں۔ شیعہ سنی اشتراکات میں سے اہم ترین اشتراک مہدویت ہے کہ جس پر سب کا عقیدہ ایک ہے۔ البتہ کچھ جزیات ہیں کہ جیسے ہم کہتے ہیں کہ امامؑ عج پیدا ہو چکے ہیں اور سنی علماء کے مطابق امام عج ابھی پیدا نہیں ہوئے۔ لیکن بعنوان منجی اور آخری حجت خدا امام من اللہ جو دنیا کو عدل و انصاف سے بھریں گے اور پوری دنیا پر اسلام کی حکومت ہوگی۔ اور ان کے زمانے میں کوئی فقر، مشکل فتنہ و فساد نہیں رہے گا۔ ان تمام چیزوں پر شعیہ سنی متفق ہیں کیونکہ امام عج کے حوالے سے جو بشارتیں ہیں وہ عصر رسالت مآبؐ سے چلی آرہی ہیں اور آغاز اسلام سے امام مھدیؑ عج کی بشارتوں کا بھی آغاز ہے۔ اسی لیے شعیہ سنی کتابوں میں مولاؑ کے ظہور پر بہت ساری روایات موجود ہیں۔
پچھلے درس میں ان میں سے کچھ روایات کا ذکر ہوا ۔ اور آج اہلسنت ؔ کے کچھ بزرگان کا ذکر کرنا ہے۔ کہ اہلسنتؑ کے بزرگ علماء کی موضوع امام مھدیؑ عج پر کیا نگاہ ہے۔ آج اس سلسلے میں کچھ اقوال بیان کئے جائیں گے۔
🌻
ان کے ایک اہم عالم جناب کُریدی اپنی کتاب الصوائق ذھب کہ جسے آیت اللہ صافی گلپایگانی نے امامت و مہدویت میں ان کے اس قول کو نقل کیا ہے۔
کہتے ہیں کہ:
جس چیز پر علمائے اہلسنت کا اتفاق ہے وہ یہ ہے کہ مہدیؑ عج وہی ہیں کہ جو آخرالزماں میں قیام کریں گےاور زمین کو عدل و انصاف سے بھریں گے۔ اور امام مہدیؑ اور ان کے ظہور کے بارے میں روایات بہت زیادہ ہیں۔
🌻
اسی طرح اہلسنت کے عالم ابن حجر حسمی وہ یہ نقل کرتے ہیں البتہ ان کی اس بات کو اہلسنت کے ایک اور عالم متقی ہندی نے اپنی کتاب البرھان فی علامات مھدیہ آخر الزمان میں نقل کیا ہے۔
ابن حجر کہتے ہیں کہ امام مھدیؑ عج منتظر پر عقیدہ وہ صحیح احادیث کی بنا پر لازمی ہے۔ کہتے ہیں کہ انہی کے زمانے میں حضرت عیؑسیٰ اور دجال بھی ظاہر ہونگے۔ اور جب بھی المھدی بطور مطلق ذکر ہو تو اس سے مراد آپؑ عج ہیں۔
🌻
اہلسنت کی ایک تاریخی اور مشہور شخصیت ابن خلدون اگرچہ وہ بعض احادیث مہدوی کا انکار بھی کرتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود یہ کہتے ہیں کہ:
تمام مسلمانوں میں اور ہر دور میں یہ مشہور رہا ہے کہ یقیناً آخرالزماں میں خانوادہ نبوت میں سے ایک فرد ظہور کرے گا کہ جو دین کی نصرت کرے گا، عدل کو وسعت دے گا اور مسلمان اس کی پیروی کریں گے اور وہ فرد تمام اسلامی ممالک پر حاکم ہو جائے گا اور اس کا نام مہدی ہوگا۔
یہ عبارت ابن خلدون کی کتاب مقدمہ ابن خلدون کے اندر موجود ہے۔
اسی طرح ان کے ایک مشہور عالم ابن ابی الحدید لکھتے ہیں۔ 🌻
تمام اسلامی فرقوں کے درمیان یہ متفقہ بات ہے اور اس پر یقین ہے کہ دنیا کی عمر، یہ احکام اور یہ جو ہماری تکالیف شرعیہ یعنی شرعی فرائض یہ تب ختم ہونگے جب مہدیؑ عج ظہور کریں گے۔
یعنی مہدویت ایک مُسلَم عقیدہ ہے اور اس کا انکار ایسا ہی ہے گویا رسولؐ اللہ کی تمام احادیث کا انکار ہو۔ چونکہ احادیث رسولؐ میں یہ بات کثرت سے ذکر ہوئی ۔
🌻
خود اہلسنت کی احادیث کے اندر امام ؑ مہدیؑ کو کئی عناوین کے ساتھ یاد کیا گیا۔ یعنی وہ القابات جو پیغمرؐ نے دیے ہیں۔
آخرالزماں کا خلیفہ ، وہ امیر کے جس کے آنے سے زمین سے فتنے ختم ہو جائیں گے ۔ زمین کا بادشاہ ، انسانوں کا بادشاہ، لوگوں کا امام ، عرب کا حاکم، میری امت کا سرپرست اور ولی، مشرق اور مغرب کا سلطان۔ یعنی یہ سارے وہ القابات ہیں جو اہلسنت کی احادیث کے اندر خود پیغمبرؐ سے نقل ہوئے۔
🌻
اہلسنت کے اندر بہت سارے احادیث ہیں اور اگر ہم ان احادیث کو دیکھیں تو محسوس نہیں ہوتا کہ ہم شیعوں اور اہلسنت کے درمیان مہدویت کے حوالے سےکوئی فرق ہے تقریباً ایک جیسا ہی عقیدہ ہے۔
🌻
مثلاً احادیث کہتی ہیں۔
مہدیؑ عج ہم اہلبیتؑ میں سے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کے امر کو ایک رات میں ہی درست کر دے گا۔
یعنی وہ ظہور کریں گے اور تمام امور درست ہو جائیں گے البتہ یہاں ایک رات سے مراد یہ ہے کہ چونکہ ظہور کی تیاری ہوئی ہوگی اور ناصرین تیار ہونگے اور فقط پیشوا اور رہبر کا انتظار ہے جب وہ ظہور فرمائیں گے تو ناصرین کام شروع کر دیں گے۔
🌻
اہلسنت کے ایک مشہور عالم ابی الفضل عبد اللہ بن محمد ادریسی انہوں نے کتاب لکھی ہے المہدی المنتظر اور انہوں نے وہاں تمام روایات جمع کی ہیں یہ روایت وہاں سے نقل کی گئ ہے۔
🌻
اسی طرح ان کے ایک اور عالم متقی ہندی نے اپنی کتاب البرھان فی علامات مھدیہ آخر الزمان میں ایک روایت نقل ہوئی ہے۔
کہتے ہیں کہ رسولؐ اللہ نے فرمایا کہ مہدیؑ میرے اہلبیتؑ سے ظہور کریں گے اور ان کا نام میرے نام جیسا ہے اور ان کا اخلاق اور سیرے میرے اخلاق و سیرت جیسی وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھریں گے جیسے وہ ظلم و ستم سے بھری ہوگی۔
ینابیع المودت جناب قندوزی حنفی کی کتاب میں یہ روایت نقل ہے کہ رسولؐ اللہ نے فرمایا کہ:
مہدیؑ عج میرے خاندان سے ہیں اور میری بیٹی فاطمہ کی نسل سے ہیں اور اسی طرح فرمایا کہ مہدیؑ عج میرے بیٹے حسینؑ کی نسل سے ظہور کریں گے۔
یہ روایت ینابیع میں بھی ہے اور مقدش شافی کی کتاب میں بھی ہے۔ 🫴
🌻
اسی طرح اہلسنت کے ایک بہت مشہور عالم جناب جلال الدین نے ایک کتابچہ لکھا ہے "نزولِ عیؑسیٰ ابن مریم آخرالزماں"
جس میں وہ بیان کرتے ہیں کہ جب مہدیؑ عج ظہور فرمائیں گے تو حضرت عیسیٰ ان کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔
وہ روایت نقل کرتے ہیں کہ:
پیغمبر فرماتے ہیں۔
وہ ہم میں سے ہے کہ جس کے پیچھے عیسیٰ ابن مریمؑ نماز کی اقتداء کریں گے۔
منّا الذی یصل عیسیٰ بن مریم علیہ السلام خلفہ “🌷
اسی طرح پیغمبرؐ کی یہ روایت بھی اہلسنت کی کتابوں میں موجود ہے کہ
ومن کذب بالمہدی فقد کفر🌷
جو مہدی کا انکار کرے گویا اس نے کفر کیا۔
اسی طرح ینابیع المودت میں یہ روایت موجود ہے کہ: 🌻
پیغمبر ؐ نے فرمایا:
کہ میری امت میں ایسا خلیفہ آئے گا جو لوگوں کو وسعت سے مال بخشے گا اور پھر اس کا حساب بھی نہیں لے گا۔ یعنی وہ لوگوں کو بے شمار بخشے گا۔
ایک اور جگہ پر فرمایا: 🌻
وہ زمین سے خزانے نکالے گا اور لوگوں میں مال کو تقسیم کرے گا۔
یہ روایت بھی ینابیع المودت میں ہے اور اہلسنت کی ایک مشہور کتاب الفتن والملاحم جو نعیم بن حماد نے لکھی ہے اس میں بھی موجود ہے۔
اسی طرح کی روایت جو ہماری کتابوں میں بھی ہے جس میں پیغمبرؐ فرماتے ہیں کہ لوگوں میں مال بخشے گا لیکن اپنی حکومت کے کارکنوں پر سختی کریں گے تاکہ لوگوں کو انصاف ملے اور مسکینوں کے ساتھ مہربانی سے پیش آئیںگے۔
🌻
اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ ینابیع المودت میں ایک اور اہم روایت ہے۔
کہ :
اللہ تعالیٰ زمین کو قائمؑ عج کے وسیلے سے زندہ کرے گا اور ان کا لوگوں سے طرز عمل عادلانہ ہوگا اور زمین عدل کی وجہ سے زندہ ہوگی حالانکہ وہ اس سے پہلے ظلم کی وجہ سے مردہ ہوچکی تھی۔
ہماری اور اہلسنت کی روایتوں میں فرق محسوس نہیں ہوتا۔
اور یہ روایت کہ:
مہدیؑ عج کی خلافت پر زمین اور آسمان پر رہنے والے راضی ہونگے۔
اسی طرح مقدس شافعی بیان کرتے ہیں۔ 🌻
پیغمبرؐ نے فرمایا:
مہدیؑ میری امت میں ظہور کریں گے اور اللہ تعالیٰ لوگوں کی فریاد رسی کے لیے ان کو معبوث کرے گا اور ان کے زمانے میں میری امت نعمتوں سے بھر جائے گی۔ حتکہ حیوانات کہ جن کا گوشت لوگ کھاتے ہیں وہ زیادہ ہوجائیں گے اور زمین سے نبادات زیادہ ہو جائیں گی۔ یہ دونوں نعمات سے تعلق رکھتی ہیں۔
اسی طرح اہلسنت کے عالم ابی الفضل عبد اللہ بن محمد ادریسی انہوں نے کتاب لکھی ہے المہدی المنتظر
لکھتے ہیں کہ: 🌻
پیغمبرؐ فرماتے ہیں کہ:
آسمان سے ایک منادی ندا دے گا ۔ خبردار توجہ کریں کہ اللہ کا منتخب شدہ برگزیدہ شخص مہدی ہے۔ پس اس کے فرمان کی جانب توجہ کریں اور اطاعت کریں۔
اہلسنت کا امام مہدیؑ کے حوالے سے ایک محکم عقیدہ ہے اور جو روایات ان کی کتابوں میں نقل ہوئی ہیں بلکل ہماری کتابوں میں نقل ہونے والی روایات جیسی ہیں۔
البتہ اہلسنت میں بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ درست ہے کہ ہمارا امام مہدی پر عقیدہ ہے اور ہم منکر نہیں ہیں لیکن یہ سید ابھی دنیامیں پیدا نہیں ہوئے ہیں۔ اور معلوم نہیں کہ کب پیدا ہوں۔ تو جب یہ پیدا ہونگے اور بڑے ہونگے تو یہ دنیا میں قیام کریں گے۔ اور ہم جانتے ہیں کہ یہ سیدہ فاطمہؑ اور ان کے فرزند امام حسینؑ کی نسل میں سےہیں۔
جیسے اہلسنت کے عالم جناب شبراوی شافعی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ شیعوں کا عقیدہ ہے کہ امام مہدی الموعود کہ جن کا ذکر روایات میں ہے اور وہ امام حسن عسکریؑ کے فرزند ہیں اور وہ آخرالزماں میں ظہور کریں گے لیکن ہمارے نزدیک صحیح بات یہ ہے کہ یہ ابھی پیدا نہیں ہوئے اور یہ پیدا ہونگے اور بڑے ہونگے اور یہ اہلبیتؑ رسولؐ کے اشراف میں سے ہیں۔
📖📚
ابن ابی الحدید نہج البلاغہ کی شرح میں لکھتے ہیں کہ ہمارے اکثر محدثین کا یہ عقیدہ ہے کہ مہدیؑ عج حضرت فاطمہؑ کی نسل سے ہیں اور ان کا اعتراف بھی کرتے ہیں فقط فرق یہ ہے کہ ہمارے عقیدے میں ابھی وہ پیدا نہیں ہوئے (عقیدہ اہلسنت)
اب یہ بات درست ہے کہ اہلسنت کا مہدیؑ پر عقیدہ قطعی ہے چونکہ روایات ہیں۔ لیکن موجودہ دور میں وہ کسی مہدی کے قائل نہیں ہیں۔
اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ اہلسنت کی کتابوں میں بہت سی روایات ہیں جو ہماری کتابوں میں ہیں۔ 📚
مثلاً جو روایات ہم ان کی کتابوں سے نکالتے ہیں۔ امام مہدیؑ پیغمبر ؐ کی عترت سے ہیں، سیدہ ؑ کی نسل سے ہیں، امام حسینؑ کی نسل سے ہیں امام مہدیؑ وہی ہیں جو زمین کو عدل و انصاف سے بھریں گے ۔ وہ خلیفہ ہیں، رہبر ہیں اور بارہ اماموں میں سے بارویں ہیں جن کی بشارت پیغمبر ؐ نے اپنی امت کو دی تھی یہ روایت اثنا عشر ان کی کتابوں میں بھی موجود ہے جیسے صحیح بخاری میں ہے، سنن ابن داؤد ، مسند احمد، اور صحیح مسلم میں ہے۔ 🌻
یعنی اہلسنت کی کتابوں میں بارہ اماموں کی روایت موجود ہے کہ یہ پیغمبرؐ نے بشارت دی تھی کہ امام بارہ ہیں جن میں بارویں امام مہدیؑ عج ہیں۔
🌻
اسی طرح یہ روایت بھی موجود ہے کہ امام مہدیؑ عج جب آئیں گے تو دنیا کے تمام شہروں اور ممالک پر حاکم ہو جائیں گے اور ان کے لشکر کفر کو شکست دیں گے۔ دین اسلام، توحید پروردگار ان کے ذریعے پوری پر چھا جائے گی اور دنیا میں کوئی شخص ایسا نہ ہوگا مگر یہ کہ جو خدا کی توحید کا قائل ہوگا۔ اور امام مہدی ؑ کے زمانے میں لوگ اتنی نعمات اور سعادتوں میں خود کو محسوس کریں گے کہ جس کی مثل کسی دور میں بھی نہ تھی۔
🌻
یہ ساری روایات اہلسنت کی ہیں۔ اور اسی طرح وہ پیغمبرؐ کے ہمنام ہیں اور لوگوں کو پیغمبر کی سنت اور شریعت کی اور ان کی امت کی جانب پلٹائیں گے اور کتاب اور سنت رسولؐ کو زندہ کریں گے اور عیسی ابن مریمؑ ان کی اقتداء میں نماز پڑھیں گے تو ہم دیکھتے ہیں یہ ساری روایات اہلسنت کی کتابوں میں ہیں حتہ کہ ان کے علماء یہ کہتے ہیں کہ امام مہدیؑ کے حوالےسے ساری روایات متواتر ہیں۔
احادیث دو قسم کی ہوتی ہیں ایک خبر واحد یعنی اتنی روایات نہیں کہ یقین آجائے ان کے حوالے سے۔ 🫴
روایات متواتر جو ہر دور میں اتنے راویوں نے نقل ہوں کہ یقین آجائے۔ اور علما کہتے ہیں کہ روایت قطعی ہے یہ یقینی ہے۔
اہلسنت کے علما مطمئن ہیں کہ امام مہدیؑ عج اہلبیتؑ رسولؐ میں سے ہیں اور وہ سات سال دنیا پر حکومت کریں گے۔ البتہ شعیہ روایات کے اندر امام صادق ؑ کا فرمان ہے کہ یہ سات سال تمھارے ستر سال کے برابر ہونگے۔🫴🌹
اہلسنت اور ہم دونوں اس روایت کو مانتے ہیں لیکن ہمارے اندر اس روایت کی تشریح موجود ہے جو ان کےاندر نہیں تو امام مھدیؑ سات سال حکومت کریں گے اور دنیا کو عدل و انصاف سے بھریں گے اور عیسیٰ ان کی نصرت کریں گے اور دجال قتل کریں گے اور امام ؑ عج کی نصرت کے لیے ظاہر ہونگے۔ اور امام مہدیؑ اس امت کے پیشوا اور امام ہیں اور عیسیٰ ان کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔
🌻
یہ عبارت اہلسنت کے بڑے عالم عبدالعلیم عبدالعظیم ازھری بستوی جنہوں نے کتاب لکھی المہدی المنتظر سے لی گئی ہے۔
تو یہ وہ عقیدہ ہے کہ جو اہلسنت امام مہدیؑ عج کے بارے میں بیان کرتے ہیں ۔
پروردگار عالم ہمیں توفیق دے کہ ہم امامؑ عج کے خدمتگار بامعرفت ناصر بنیں۔
والسلام
شہربانو✍️
عالمی مرکز مہدویت قم🌍
کتابچہ عصر ظہور
چوتھا درس
موضوع : شیعہ فرقوں کا عقیدہ
خطابت: 🎤🎤
استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب🌹
خلاصہ:📜
ہماری گفتگو عصر ظہور میں ہے مکتب تشہیو میں جو مختلف فرقے بنے تاریخ میں اور جو اب بھی موجود ہیں۔ ان کی مہدویت اور امام مہدیؑ عج کے ظہور کے حوالے سے ان کی آراء اور عقائد کیا ہیں۔
اس میں تو کوئی شک نہیں کہ حقیقی اسلام مکتب اہلبیتؑ ہے اور مکتب اہلبیتؑ میں شیعہ اثنا عشری یہی صراط مستقیم ہے ، یہی مکتب اہلبیتؑ ہے یہی اسلام ہے۔ کیونکہ شیعہ سنی کتابوں کے اندر جو احادیث ہیں جن میں پیغمبرؐ اسلام نے اپنے بعد بارہ وصی، بارہ امامؑ ، بارہ ولی، بارہ خلفہء کی بشارت دی تھی۔ فقط مکتب اہلبیتؑ شعیہ اثناعشری ہیں جو پیغمبرؐ کی بتائی ہوئی اس راہ پر چل رہے ہیں اور آج الحمدللہ ان بارہ اوصیاؑ میں سے بارویں وصی کے زمانے میں ہیں۔ اور یہ بارویں وصی
امام محؑمد ابن حسنؑ عسکریؑ کہ جنہیں ہم امام مہدیؑ ،بقیتہ اللہ، صاحب العصر والزماں، حجت، القائم کہتے ہیں وہی ہیں کہ جو 260 ھ کو پردہ غییبت میں چلے گئے اور 329 ھ کو یہ غیبت صغریٰ غیبت کبریٰ میں بدلی اور جب تک پروردگار کا حکم ہو گا اس وقت تک مولاؑ عج پردہ غیبت میں ہیں اور حکم الہیٰ سے اور یقیناً اس وقت انصار بھی مہیا ہونگے مولاؑ عج ظہور فرمائیں گے اور دنیا کو عدل و انصاف سے بھریں گے۔
مولاؑ عج 255 ھ میں نیمہ شعبان دنیا میں تشریف لا چکے ہیں اور حی اور حاضر امام ہیں۔ یہ ہم شیعہ اثنا عشری جتنی بھی امت ہے اس کا عقیدہ ہے اور یہ عقیدہ قرآن و حدیث سے ثابت ہے۔ اور اس پر بہت سارے عقلی اور منقول دلائل موجود ہیں۔
لیکن ہمارے اندر بنام شعیہ کچھ فرقے موجود ہیں اور وہ اس فرد اور اس ہستی میں گمراہ ہوگئے اور اجتبیٰ کا شکار ہوگئے۔ اگرچہ ان کا عقیدہ مہدویت والا ہے لیکن وہ کسی اور کو مہدی سمجھ بیٹھے۔
فرقہ کسانیہ:🔅
سب سے پہلے جو فرقہ سامنے آتا ہے۔ یہ امام سید سجادؑ کے زمانے میں فرقہ کسانیہ ہے۔
یہ لوگ محمد حنفیہ جو کہ امام علیؑ کے فرزند ہیں ان کی امامت کے قائل ہوئے اور ان میں سے تو بعض نے ان کی موت کا انکار کردیا اور کہا کہ وہ ابھی زندہ ہیں اور وہ مدینہ کے پاس جو کوہ رضوی ہے اس میں پنہاں ہو چکے ہیں اور جب خدا کا حکم ہوگا تو وہ ظہور کرے گا۔
یہ بات ہماری تاریخ علم کلام کی کتاب الملل والنحل ہے۔۔ یہ کتاب فرقوں اور عقائد کے بارے میں ہے۔
فرقہ کسانیہ یہ وہی لوگ ہیں کہ جنہوں نے قاتلین سید الشہدؑاء سے انتقام لیا اور ایک حکومت بھی قائم کی تھی جو بعد میں عبداللہ ابن زبیر کی فوج کے ہاتھوں ختم ہوئی۔ لیکن کسانیہ بعد میں بھی کافی عرصہ تک رہے اور محمد حنفیہ کے بعد اس کے بیٹے محمد بن حنفیہ کی امامت کے قائل رہے جو ابو الھاشم بھی کہلاتے ہیں۔ اور پھر اس کے بعد عبداللہ بن معاویہ اور پھر محمد بن عبداللہ نفس ذکیہ یعنی حسنی سادات میں سے امامت کے قائل ہوئے اور بعد میں بنی عباس ظاہر ہوئے اور انہوں نے ان سے استفادہ کیا اور حکومت قائم کی اور بعد میں پھر انہی لوگوں کا قتل عام کیا۔ اس کی ایک تاریخ ہے ۔ بنی عباس پہلے کسانیہ تھے اور بعد میں انہی لوگوں کا قتل کیا اور تمام علوی اور سادات فاطمی اور شیعہ کا قتل کیا۔
تاریخ تشیہو میں سب سے پہلا انحراف: 👉
محمد حنفیہ امام غائب ہیں
فرقہ زیدیہ:🔅
اسی زمانے میں ایک اورفرقہ جو سامنے آتا ہے وہ فرقہ زیدیہ ہے اور یہ امام سید سجادؑ کے بیٹے زید ابن علی کی امامت کے قائل تھے۔ اور پھر ان کے بیٹے محمد بن عبداللہ کی امامت کے قائل ہوئے۔ اور یہجو فرقہ زیدیہ میں ایک فرقہ آتا ہے فرقہ جارودیہ وہ یہ عقیدہ رکھتے ہیں محمد بن عبداللہ ابھی زندہ ہیں اوریہ قتل نہیں ہوئے اور یہ خروج کریں گے، قیام کریں گے اور زمین کو عدل و انصاف سے بھریں گے۔
اب یہ محمد بن عبداللہ یعنی ان کا نام رسولؐ اللہ کے نام پر ہے اور والد کا نام بھی رسولؐ اللہ کے والد گرامی کے نام پر ہے تو یہ ان کی امامت کے قائل ہوگئے۔
فرقہ باقریہ: 🔅
فرقے تو بہت سارے ہیں اور ان میں سے ایک فرقہ باقریہ بھی ہے جو امام محمد باقرؑ کو امام مہدیؑ سمجھتے ہیں اور قائل ہیں کہ امام محمد باقرؑ رجعت کریں گے۔ یعنی دوبارہ پلٹیں گے اور قیام کریں گے۔
فرقہ ناوسیہء:🔅
یہ امام جعفر صادقؑ کی حیات کے قائل ہیں اوران کا یہ عقیدہ ہے کہ امام صادقؑ ہی وہ مہدی اور قائم ہیں اور آخرالزماں میں ظاہر ہونگے اور دنیا میں حکومت عدل قائم کریں گے۔
فرقہ اسماعیلیہ:🔅
یہ لوگ امام صادقؑ کے بڑے بیٹے اسماعیل کی امامت کے قائل ہیں اور اس کے بعد اس کے بیٹے محمد کی امامت کے قائل ہیں۔ اب یہ جو لوگ ہیں یہ کہتے ہیں کہ امام صادقؑ کے بعد جناب اسماعیل امام ہیں اور وہ زندہ ہیں جب کہ اسماعیل امام صادقؑ کی زندگی میں ہی وفات پا چکے ہیں اور مولاؑ نے کئی مرتبہ لوگوں کو ان کا جسد دیکھایا لیکن اس کے باوجود شیطان کا کام ہے یا ہوائے نفس ہے یا تواہمات ہیں کہ یہ گروہ اسماعیل کی وفات کا منکر ہوگیا اور اسے امام قائم سمجھتے ہیں اور اس کے منتظر ہیں۔
فرقہ واقفیہ: 🔅
یہ امام موسیٰ کاظم ؑ کی حیات کے قائل ہیں اور امام علی رضاؑ کی امامت کے منکر ہوگئے۔ اور یہ امام موسیٰ کاظمؑ کو ہی مہدی منتظر سمجھتے ہیں کہ وہ قائم ہیں اور وہی قیام کریں گے۔
فرقہ موسویہ: 🔅
اسی زمانے میں ایک اور فرقہ سامنے آیا جس میں بعض امام موسیٰ کاظم کی رجعت اور بعض حیات کے قائل ہیں۔
فرقہ مغیریہ:🔅
یہ حسنی سادات کے اندر جو ایک سلسلہ امامت قائم ہے یہ اسی نفس ذکیہ کے قائل ہیں یعنی نفس ذکیہ محمد بن عبداللہ ابن حسن ابن حسنؑ ابن علیؑ ابن ابی طالبؑ ۔
محمد بن عبداللہ بنی عباس کے زمانے میں قتل ہوگیا تھا لیکن یہ کہتے ہیں کہ محمد بن عبداللہ قتل نہیں ہوا بلکہ کوہ ھاجر میں غائب ہوگئے ہیں اور حکم خدا سے ظاہر ہونگے اور یہ وہی مہدی ہے کہ جس کا نام پیغمبرؐ کے نام کے مشابہہ ہے اور جس کے والد کا نام پیغمبرؐ کے والد گرامی کے نام کے مشابہہ ہے۔
تاریخ علم کلام میں ہماری جو مختلف کتابیں ہیں جیسے الملل والنحل 📚جو کہ عبدالکریم شھرستانی کی کتاب ہے یا دائرہ التمعارف📚یا ایک کتاب ہے فرقہ الشیعہ 📚یہ ابو محمد موسی بن نوبختی کی کتاب ہے اس میں بھی یہ ساری ابحاث موجود ہیں۔ ایک کتاب ہے الفرق البین الفِرق 📚 جو ابو منصور بغدادی کی کتاب ہے۔ ان تمام کتابوں میں یہ تمام تفصیلات موجود ہیں تو:
🫴🌟
خلاصہ یہ ہے کہ شیعہ کے اندر اور بھی جو فرقے ہیں لیکن وہ بھی کسی مہدی کے منتظر ہیں کہ جو دنیا کو عدل و انصاف سے بھرے گا۔
البتہ یہ فرقے اس مہدی کی شناخت میں گمراہ ہوگئے ہیں۔ اجتبیٰ کا شکار ہوگئے ہیں اور خطا کھا گئے ہیں۔ اور اب اس خطا کی وجہ شیطان ہے، ہوائے نفس ہے،انحرافات ہیں، توہمات ہیں یا ان کی بدعات ہیں وہ علیحدہ ابحاث ہیں۔ یقیناً یہ سب گمراہ ہیں ان میں سے اسماعیلیہ اور جارودیہ موجود ہیں باقی ختم ہو چکے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود ہم دنیا کے دوسرے مذاہب جیسے یہودیت، عیسائیت، بدھمت، ہندو، زرتشتی۔ یا پھر اسلام میں سنی، وھابی، اہل حدیث ہیں جس طرح سب میں مہدویت موجود ہے اسی طرح ان میں بھی مہدویت موجود ہے اور یہ بھی مہدی کے ظہور کے قائل ہیں۔تو اصل عقیدہ مہدویت سب میں موجود ہے یعنی ہم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ یہ سارے مذاہب چاہے وہ حق ہیں یا باطل یہ سارے ایک منجی اور ایک مصلح کے منتظر ہیں۔
البتہ جس طرح مکتب تشیہو اثنا عشری میں تفصیلات موجود ہیں اور جس طرح شفاف انداز میں گفتگو موجود ہے اس طرح کسی مذہب میں نہیں ہے۔
یہ مکتب تشیہو اثنا عشری ہے جو قرآنی آیات اور احادیث کی رو سے آنے والی دنیا اورمستقبل کا نقشہ بیان کر رہا ہے کوئی اور مکتب اور مذہب بیان نہیں کر رہا۔
پروردگار عالم ہم سب کو توفیق دے کہ ہم حقیقی معنوں میں امام زماں کے خدمتگار ناصر بنیں اور ان شعیوں میں سے قرار دے جو مولاؑ عج کے ظہور کا باعث بنیں۔
آمین۔ 🤲
والسلام
شہر بانو ✍️
عالمی مرکز مہدویت قم🌍
گیارھواں کتابچہ عصر ظہور 📖
پانچواں درس
موضوع : شیعہ اثنا عشری رو سے ہمارا مستقبل
خطابت:🎤🎤
استادِ محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب🌹
خلاصہ:
ہماری گفتگو عصر ظہور میں جاری ہے اور اس حوالے سے دیگر اسلامی فرقےخصوصاً اہلسنت اور اسی طرح تشیہو کے اندر جتنے منحرف فرقے ہیں ان کی آراء کو ہم نے جان لیا۔ ایک بنیادی فرق ہے کہ مہدویت پر تو سب کا عقیدہ ہے تمام اہلسنت اور شیعہ فرقوں کا بھی۔ لیکن مکتب اثنا عشریہ جو کہ حقیقی اسلام ہے اور مکتب اہلبیتؑ ہے۔ جس طرح ہمارے مکتب کے اندر جو آئیندہ دنیا کی تصویر ہے اور جو شکل ہے اور جس انداز میں دنیا نے آئیندہ حرکت کرنی ہے جس انداز میں ہمارے ہاں بیان ہوا وہ کسی مکتب میں بیان نہیں ہوا۔
چونکہ اہلسنت کچھ حد تک علامات کو تو بیان کرتے ہیں باقی وہ منتظر ہیں کہ ایک شخص پیدا ہو اور دنیا کو سنبھالے اور ہم اس دور میں داخل ہوں اور باقی شیعہ فرقے اس شخص کے حوالے سے خطا کا شکار ہیں۔
یہ فقط مکتب اثناعشریہ ہیں کہ جنہوں نے یہ واضح کیا ہے کہ وہ ہستی کہ جس کے ذریعے دنیا میں عدالت اور سعادت کا زمانہ شروع ہونا ہے وہ اس وقت بھی موجود ہیں اور پردہ غیبت میں ہیں۔ اور کس انداز سے یہ تمام مراحل طح ہونگے۔
اگر ہم اس کو کچھ نکات کی شکل میں بیان کریں تو کچھ اس انداز سے ہوگا کہ مکتب اہلبیتؑ شیعہ اثنا عشری میں یہ بات بیان ہوئی ہے کہ:
۔۔۔ دنیا کا آغاز اور انجام ہمارے ہاتھوں میں ہے:
یعنی ہم محمدؐ و آل محمدؑ وہ لوگ ہے کہ جن کی وجہ سے یہ جہان بپا ہوا اور ہدایت شروع ہوئ۔ خود پیغمبرؐ کی وجہ سے اسلام کا آغاز ہوا اور ان کے اوصیاؑ کی وجہ سے اسلام کی تکمیل ہوئی۔ یعنی ہماری وجہ سے ہدایت کا آغاز ہوا اور آخر دنیا میں اگر ہدایت ملے گی تو وہ بھی ہماری وجہ سے ہی ہوگی۔
وَالْعَاقِـبَةُ لِلْمُتَّقِيْنَ
(سورہ الاعراف 128)🌻
اس حوالے سے امام محمد باقرؑ کا فرمان اصول کافی میں موجود ہے۔ فرماتے ہیں:🌻
"اے لوگوں کس طرف جا رہے ہو اور تمھیں کہاں لے جایا جا رہا ہے۔ خدا نے تمھارے پہلے والوں کو بھی ہمارے ہاتھوں ہدایت دی گئی ہے اور تمھاری آخری نسلوں کو بھی خدا ہمارے ہاتھوں ہی ہدایت دے گا۔ اور یہ تمھاری حکومتیں عارضی ہیں۔ جلد ختم ہونے والی ہیں لیکن ہمارے حکومت پائیدار ہے۔ اور ہماری حکومت کے بعد کوئی حکومت نہیں کیونکہ ہم ہیں اہل عاقبت۔ تاقیامت پھر محمد و آل محمد کی حکومت ہوگی۔
امام مہدی ؑ عج اس حکومت کے آغاز گر ہیں اور پھر اور بھی صالحین انشاءاللہ آئیں گے اور اس حکومت کو بڑھائیں گے اور یہ صالحین کی حکومت ہوگی۔
مولا علیؑ فرماتے ہیں: 🌻
اس امر (دین حق) کا آغاز ہمارے ذریعے ہوا یعنی پیغمبرؐ کے ذریعے اور انجام بھی ہمارے ذریعے ہوگا یعنی دین اسلام کے آخری ادوار بھی ہمارے ذریعے محقق ہونگے جب یہ پوری دنیا میں چھا جائےگا۔
عصر جہالیت پیغمبرؐ اور ان کے اوصیا کے ذریعے ختم ہوا اور ہمارے ذریعے ہی آخر دنیا میں عدالت پھیلے گی۔ یعنی اگر نظریاتی طور پر تمھیں گمراہیوں اور باطل مذاہب اور کفر و شرک سے ہم نے نجات دی ہے تو عملی طور پر بھی ہم ہی تمھارے وجود کو تمھارے معاشرے کو، تمھاری دنیا اور اس زمین کو ظلم و ستم سے نجات دیں گے اور پوری دنیا میں عدالت نافذ کریں گے۔ ۔ تو بس مکتب اثنا عشری دنیا کے آغاز و انجام کو بھی بیان کر رہا ہے اور مولاؑ عج کے ظہور اور قیام کی کیفیت کو بھی بیان کر رہا ہے کہ کس انداز سے امام مہدیؑ عج ظاہر ہونگے۔
اگرچہ باقی تمام مذاہب میں میں ایک منجی کی خبریں ہیں۔ لیکن یا تو فرد میں اجتبی ہے یا پھر اس کی کیفیت کو بیان نہیں کر رہے کہ جس انداز سے ہونا چاہیے اور اس کیفیت کو محمدؐ و آل محمدؑ سے جو روایات ہم تک پہنچی ہیں وہ تفصیل سے بیان ہوئیں تاکہ کسی کو پھر شک نہ رہے کہ امام ؑ عج کس طرح ظاہر ہونگے۔
یہ ہم اثنا عشری جو حقیقی اسلام ہیں اور دنیا کا واحد مکتب یا فرقہ ہیں ہم یہ کہتے ہیں کہ وہ ہستی کہ جس سے دنیا کا آخر الزماں تشکیل پانا ہے اور وہ حکومت عدل تشکیل پانی ہے وہ ہستی ابھی بھی موجود ہے اور زندہ ہے اور ہماری پشت پناہ ہے۔ اور جن کی غیبت کی خبریں تو رسولؐ اللہ اپنے زمانے میں دے چکے ہیں۔ امام زماں عج نے پیدا نہیں ہونا بلکہ وہ پیدا ہوچکے ہیں۔ اور موجود ہیں اور جب اللہ کا ارادہ ہوگا وہ ظہور کریں گے اور اس کفر و باطل اور اس ظالم محاذ کے مدمقابل عدل حق اور صالحین کا محاذ تشکیل دیں گے۔
روایات میں ہے کہ ایک مرتبہ رسولؐ اللہ امام حسینؑ سے مخاطب ہیں اور فرماتے ہیں کہ: 🌻
اے حسینؑ وہ جو امیروں کا امیر ہے اور وہ بادشاہ جس کی دنیا کی منتظر ہے وہ تیری ہی نسل سے نواں ہے یہ وہی ہے کہ جس کی غیبت پر سب حیرت زدہ ہوجائیں گے اور یہ وہی ہے کہ جن و انس پر جو غلبہ پائے گا۔
سبحان اللہ! 💞
یعنی کس طرح دقیق انداز میں رسولؐ اللہ نے بتا دیا تھا کہ مہدی عج کس کی نسل میں سے ہیں اور انہوں نے کس انداز سے جن و انس پر غلبہ پیدا کرنا ہے وہ کسی بھی نبیؑ یا وصیؑ کے زمانے میں نہیں ہوا ہو گا اور پھر ان کے ظہور کی کیفیات جو ہمارے ہاں بیان ہوئی ہیں۔ وہ کہیں اور بیان نہیں ہوئی ہیں۔
امام صادقؑ فرماتے ہیں: 🌻
وہ ظہور کریں گے ، خروج کریں گے کہ اس انداز سے کہ ان کے سر پر سفید بادل ہوگا جو انہیں دھوپ اور سورج سے محفوظ کرے گا اور ان کی حفاظت کرے گا۔ اور اس بادل کے اندر ایک فرشتہ ہوگا جو فصیح عربی زبان میں ندا دے گا۔
ھذا المھدی خلیفۃ اللہ یتبعُ
یہ مہدیؑ عج خلفیہ پروردگار ہیں ان کی اتباع کرو۔
اللہ اکبر!😭🙏
امام مھدیؑ عج کی کیفیت ظہور ہماری کتابوں میں واضح پر موجود ہیں۔ اب کتنے ہی جھوٹے مہدی آئے اور اور بہت سارےسنی مکتب میں لوگ گمراہ ہوئے حتکہ شیعوں میں بہت سے منحرف لوگ گمراہ ہوئے بالخصوص یہ غالی لوگ۔
لیکن اثنا عشری جو کہ امام کے نائبین اور فقہہ کے تابع ہیں وہ کبھی بھی گمراہ نہیں ہوئے اور ہم نے جھوٹے مہدیوں کی مذمت اور انکار کیا اور وہ کیفیات جو محمدؐ و آل محمدؑ کی روایات میں بیان ہوئی ہیں ان کی بنا پر ان جھوٹے مہدیوں کو باطل قرار دیا کیونکہ ان میں یہ کیفیات نہیں تھیں۔
ہمیں معلوم ہے کہ ظہور کی علامات اور کیفیات کیا ہے اور کیسے امام زماںؑ عج نے لوگوں کو دعوت دینی ہے اور کیسے جنگ کا آغاز ہونا ہے۔
دعا ہے کہ پروردگار عالم ہمیں وہ زمانہ دکھائے کہ ہم اپنی آنکھوں سے ظہور کی ان تمام کیفیات کو دیکھیں اور اپنے امامؑ عج کی نصرت کریں۔ 😭🤲
والسلام۔
شہر بانو ✍️
عالمی مرکز مہدویت قم 🌍
📢 گیارھواں کتابچہ " عصر ظہور"
# چھٹا درس
# شیعہ اثنا عشری رو سے عصر ظہور
# نکتہ: امام عج کی دعوت اور قیام
خطابت: 🎤🎤🌟
استاد مہدویت آغا محترم علی اصغر سیفی صاحب🌹
خلاصہ:
ہماری گفتگو عصر ظہور میں ہے۔ اور اس حوالے سےشیعہ اثنا عشری کا موقف بیان ہو رہا ہے کہ دنیا کا جو مستقبل ہے اور آنے والے دور کا جو نقشہ ہے کہ کس طرح لوگوں نے سعادت اور کمال تک پہنچنا ہے۔ اور کس طرح یہ دنیا جنت کا اعلیٰ ترین نمونہ بنے گی یہ سب مکتب شیعہ اثنا عشری میں بیان ہوا ہے۔ خود امام مہدیؑ کا ظہور اور ان کے قیام کی کیفیات کو محمدؐوآل محمدؑ نے اپنی روایات میں بیان کیا۔
اس حوالے سے پچھلی گفتگو میں مولاؑ عج کے ظہور، قیام اور دنیا کے آغاز اور انجام پر کچھ نکات بیان ہوئے۔
آج کا موضوع گفتگو ہے کہ امام زماں عج الشریف کس انداز سے لوگوں کو دعوت دیں گے اور پھر جنگ کیوں اور کن لوگوں سے ہوگی۔
اس میں تو کوئی شک نہیں کہ جب امام ؑ عج کا ظہور ہوگا تو امامؑ کہ جن کی سیرت انبیاؑ کی سیرت ہے امامؑ عج لوگوں کو حق کی جانب دعوت دیں گے اور لوگوں کو حق کی جانب ارشاد فرمائیں گے۔ اور لوگوں کو عدل اور روحانیت ، تذکیہ نفس اور الہیٰ تقویٰ کی جانب دعوت دیں گے اور ظاہرہے کہ جہاں مولاؑ عج کا یہ پیغام اور دعوت بہت سارے لوگوں کی بھلائی اور ہدایت کا باعث بنے گی اور بہت سارے نیک لوگوں کے لیے راحت اور شادمانی کا باعث بنے گی۔ اور بہت سارے لوگ جو برائیوں اور آلودگیوں میں گھرے ہوئے تھے وہ بھی اس فرصت کو غنیمت سمجھیں گے اور مولاؑ عج کی جانب کھنچے چلے آئیں گے۔ اور راہِ توبہ اور باب توبہ جو ہمیشہ کھلا ہے تو لوگ صدقِ دل سے برائیوں کو ترک کریں گے اور نیکیوں کی جانب بڑھیں گے۔ اور ایک انسان والی زندگی کو اختیار کریں گے اور مولا ؑ کے سرباز اور ناصر بنیں گے۔
وہاں کچھ ایسے بھی لوگ ہیں جو ظالم اور باطل پسند ہیں۔ جو ظلم اور فساد ڈالتے ہیں اور باعث گمراہی ہوتے ہیں وہ یقیناً مولاؑ کی اس حجت اور دعوتِ حق کا ان ظالمین پر کوئی اثر نہ ہوگا اور نتیجۃً یہ لوگ امام ؑ عج کے مدمقابل آئیں گے اور خود امام زماں عج سے جنگ شروع کریں گے۔ چونکہ یہ امامؑ عج کو اپنی باطل خواہشات اور دنیاوی آرزؤں اور حرام فائدوں کے لیے امام ؑ عج اور ان کے ناصرین اور جن لوگوں نے توبہ کی ہوگی وہ ان سب کو اپنے مخالف سمجھیں گے اور نتیجتاً دنیا دو حصوں میں تقسیم ہو جائے گی۔
ایک اہل باطل جو دشمن دین ہیں ، دشمن حق ہیں دشمن اہلبیتؑ ہیں یہ سارے ایک طرف ہو جائیں گے۔
دوسرے اہل حق ہونگے جو ناصرین امامؑ ہونگے، شیعہ اور وہ لوگ جو تائب ہونگے یعنی جنہوں نے گناہوں کی زندگی کو ترک کیا ہوگا اور مظلومین ہونگے اور اہل حق اور اہل باطل الگ ہو جائیں گے اور دنیا دو حالت میں تقسیم ہو جائے گی۔
اب یہاں امام مہدیؑ عج الشریف کی سیرت کیا ہے؟
اس حوالے سے قرآن مجید کی آیت:
سورہ الصف آیت 9
لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ🌺
اس کو سب دینوں پر غالب کرے، اگرچہ مشرک نا پسند کریں
اس آیت کے ذیل میں امام صادقؑ کا ایک فرمان ہے اور یہ فرمان تفسیر فراتِ کوفی میں بھی ہے اور علامہ مجلسی نے بحارالنوار میں بھی لکھا ہے اور کتاب بصائر الدراجات میں بھی موجود ہے۔
امام صادقؑ فرماتے ہیں کہ: 🌻🌻
یہ آیت جو بیان کر رہی ہے کہ اسلام باقی تمام جھوٹے ادیان پر غلبہ پا جائے گا۔ اور یہ سب مہدی کے ہاتھوں سے ہوگا۔ اور ہم سب اہلبیتؑ جتنے اوصیاءؑ ہیں ہم رسولؐ اللہ کے شیوہ پر ہیں۔ ویسے تو ہم لوگوں کو حق کی جانب ہدایت دیتے ہیں لیکن خدا نے ہمیں اجازت دی ہے کہ اس کے دین کے غلبہ کے لیے حق اور عدل کے غلبہ کے لیے تلوار نکالیں اور لوگوں کو دین خدا کی طرف دعوت دیں اور ہم نے آخر میں وہی کام کرنا ہے جو رسول ؐ اللہ نے کیا ہے۔
ہمارے پیغمبرؐ اسلام کا کردار اور شیوہ یہی تھا کہ پہلے انہوں نے اپنی گفتگو اور سیرت سے لوگوں کو دعوت حق کی دعوت دی۔ نتیجۃً لوگوں نے کفر و شرک اور گناہوں والی زندگی کو چھوڑ دیا اور نیک اور صالح بنے اور پیغمبر کے ناصر بنے۔ لیکن مدمقابل ظالمین نے پیغمبرؐ اور ان کے انصار کو تنگ کیا۔ اور جب پیغمبرؐ مدینہ پہنچے تو جو رسولؐ اللہ تیرہ سال تک اپنے کردار اور اپنی گفتگو سے لوگوں کو دعوت دیتے تھے اب پیغمبرؐ نے بلآخر دنیا کو ظلم سے نجات دلوانے کے لیے اور اہل باطل کہ جن کے دل سیاہ ہوچکے تھے ان کو ان کا اصلی مقام دیکھانے کے لیے کہ جن پر پروردگار کہہ رہا ہے
خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ 🚫
ان کے دلوں پر مہریں لگ گئی تھیں۔ تو پیغمبرؐ نے شمشیر کے ذریعے خدائی غضب کا اظہار کیا اور دشمنان حق کو بیان کیا کہ جسطرح آج تمھارے لیے ہلاکت ہے روز محشر بھی تمھارے لیے جہنم ہے۔ آخر انسان کب تک صبر کرے بلآخر مہلت کی ایک مدت اور حد ہے اور پھر ظالمین کے لیے دنیا میں بھی ذلت ہے اور آخرت میں بھی عذاب ہے۔
امام مہدیؑ عج بھی یہی کریں گے۔ جو نیک ہیں اور جنہوں نے نیک ہونا ہے وہ مولاؑ کے اس لشکر حق میں اکٹھے ہو جائیں گے۔ اور مدمقابل جو باطل محاذ ہے جس میں شرک و گمراہی، کفر و منافقت اور جس میں فتنہ و فساد ہے
نتیجتاً وہ جنگ ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں اور جس طرح رحمت العالمین پیغمبرؐ نے تلوار نکالی اور باطل کو بتایا کہ خدا کا عذاب کیا ہے اور دنیا کو عرب و عجم کے اس چھوٹے سے خطے کو ظالموں اور جھوٹ کے بڑے بڑے ستونوں سے دنیا کو اس وقت پاک کی تاکہ لوگ باسعادت زندگی گذاریں ۔ تو یہی کام امام زماںؑ عج کریں گے۔
امام صادقؑ فرماتے ہیں۔ 🌻
کہ بلآخر یہ دنیا ختم نہیں ہوگی اور ایک وقت آئے گا کہ آسمان سے ندا کرنے والا یہ ندا دے گا (علامات ظہور ندائے آسمانی)
"اے اہل حق ایک جگہ جمع ہوجائیں" 🌟
اور پھر سب نے مکہ کی جانب جانا ہے کہ مکہ ظہور مہدیؑ عج کی جگہ ہے۔ اور دوسری باطل ندا بھی ہو گی۔
"اے اہل باطل تم بھی ایک جگہ اکھٹے ہو جاؤ۔" اور پھر اہل باطل بھی اکٹھے ہو جائیں گے یہ روایت الغیبت نعمانی میں بھی ہے اور علامہ مجلسیؒ نے بحار النوار میں بھی لکھا ہے۔ 👉
اس کے بعد کیا ہوگا کہ اس کے بارے میں امام موسیٰ کاظم ؑ فرماتے ہیں کہ:
یہ فرمان کمال الدین میں شیخ الصدوق نے نقل کیا ہے۔
فرماتے ہیں کہ: 🌻
پھر امام مہدیؑ اور ان کے ناصر اسقدر دشمنان خدا کو قتل کریں گے کہ اللہ راضی ہو جائے گا۔
یعنی یہ جو کسی صورت ہدایت پانے والے نہیں ہیں ان کو اتنی دیر تک قتل کیا جائے گا کہ جب تک خدا خود راضی ہو نہ جائے اور کہے کہ بس اب ختم کردیں کیونکہ ان کو سبق مل چکا ہے اب باقی لوگوں پر آپؑ رحم فرمائیں کیونکہ ان کی قوت کا کس بل نکل گیا ہے اور ان کا شیرازہ منتشر ہو گیا ہے۔ اب یہ اس قابل نہیں رہے کہ حق کے مدمقابل کھڑے ہوں اور اب دنیا مکمل طور پر امام مہدیؑ کے ہاتھوں اور ان کے انصار کے ہاتھوں قرار پائے گی ۔ اب طاقت کا منبہ امام مہدی ؑ اور ان کے انصار ہیں۔
انشاءاللہ
یہ جنگ کتنی مدت تک ہوگی اس کے حوالے سے امام صادقؑ کتاب غیبت نعمانی میں فرماتے ہیں کہ: 🌻
"مہدیؑ زہرا آٹھ مہینوں تک تلوار اپنے کندھوں پر رکھیں گے اور دشمنان خدا کو قتل کریں گے۔
البتہ یہاں تلوار سے مراد اس زمانے کا جدید اسلحہ ہے۔ کیونکہ جس زمانے میں امام صادقؑ تلوار کہہ رہے تھے اس زمانے میں تلوار بہترین اور سب سے بڑا اسلحہ تھا۔ تلوار نشان غضب تھا نشان شجاعت تھا۔
امام مہدؑی کے دور میں بھی جو اسلحہ سب جدید اسلحوں کا سردار ہوگا وہ امام ؑ کے پاس ہوگا۔ کہ جس سے دشمنان خدا کو امامؑ عج شکست دیں گے۔
یہ نہیں کہ امام ؑ دشمنان خدا کو معجزے سے شکست دیں گے ایسا نہیں ہے بلکہ خود امامؑ اور ان کے ناصرین دشمنوں سے لڑیں گے اور امام کے ناصرین شہید بھی ہونگے لیکن شکست دشمنان حق کو ہوگی اور فتح حق کی ہوگی جسطرح رسولؐ اللہ کے اصحاب زخمی بھی ہوتے تھے اور شہید بھی لیکن فتح ان کو نصیب ہوتی تھی۔
اس لڑائی کی خبریں ہماری بہت ساری کتابوں میں ہیں آئمہؑ نے اس پر بہت ساری گفتگو کیں۔ خود امیرالمومنینؑ کا فرمان ہے :
فرمایا:
میرا باپ فدا ہو سب سے بہترین کنیز کے بیٹے پر۔ 🌹
امام مہدیؑ کی والدہ کو تمام کنیزوں کی سردار کنیز کہا گیا ہے۔
چونکہ جتنی بھی خواتین خاندان اہلبیتؑ سے باہر سے آئیں ہیں اور وہ کنیز نہ تھیں بلکہ اچھے اچھے خاندانوں سے تعلق رکھتی تھیں لیکن وہ فخر کرتیں تھیں کہ ہم خاندان اہلبیتؑ میں آل محمدؑ کی کنیزیں ہیں۔ تو لہذا بی بی نرجس خاتون جو ہیں وہ باہر سے آنےوالی تمام خواتین جن کو یہ شرف حاصل ہے کہ وہ آئمہؑ کی ازواج بنیں ان سب کی سردار بی بی نرجس ؑ ہیں۔
مولاؑ فرما رہے ہیں کہ: 🌻
میرا باپ فدا ہو سب سے بہترین کنیز کے بیٹے پر کہ جو ظالمین پر غلبہ پائے گا۔
یہ ظالم جو آل محمدؑ پر آج غلبہ پائے ہوئے ہیں ان کو ہمارا فرزند مہدی ؑ ہلاک کرے گا اور ان کے حلق میں زہر ڈالے گا۔ (یعنی شکست کا زہر)🫴
یعنی وہاں فقط خطبہ نہیں بلکہ جنگ کریں گے۔
مولا ایسے ہی کریں گے جیسے ایک ڈاکٹر پہلے دوائی کے ذریعے علاج کرتا ہے اور بعد میں آپریشن کے ذریعے پورے جسم کو اس اذیت سے نجات دیتا ہے۔
اسی طرح باقی پوری دنیا کو بچانے کے لیے امام ؑ عج مصلح جنگ کے ذریعے دنیا کو باطل سے نجات دیں گے۔ اور اس جنگ کا ذکر ہماری روایات اور کتابوں میں ہے۔
قرآن کریم میں ارشاد ہو رہا ہے۔ :
سورہ السجدہ 21🌹
لَنُذِیْقَنَّهُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰى دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ
اس کے بارے میں جب امام صادق سے پوچھا گیا تو فرمایا:
کہ یہاں جو عذاب نزدیک ترین ہے وہ مہنگائی ہے کہ جس سے لوگوں کی زندگی سخت ہوتی ہے۔
البتہ یہ ہمارے اپنے اعمال کی وجہ سے ہے کیونکہ جب ہم ظلم کرتے ہیں تو ہم پر بھی ظالمین مسلط ہو جاتے ہیں۔ یعنی جب لوگ ایک دوسرے پر رحم نہیں کرتے تو پھر کوئی ان پر بھی رحم نہیں کرتا ۔
جب ہم ایسے لوگوں کو اپنا حاکم قرار دیتے ہیں تو پھر یہی حالات ہونگے۔
بڑا عذاب کیا ہے: 🫴
فرماتے ہیں کہ وہ مہدیؑ عج کا شمشیر کے ساتھ قیام ہے۔
امام مہدیؑ عج کی یہ آٹھ مہینے کی خونی جنگ عام خطاکار لوگوں کے ساتھ نہیں ہے
کیونکہ بعض مرتبہ ہمارے ممبروں سے ایسی گفتگو ہوتی ہے کہ لوگ خوفزدہ ہو جاتے ہیںَ ایسا ہرگز نہیں بلکہ عام لوگ جو توبہ کرنا چاہیں گے امامؑ عج ان کو بھرپور موقع دیں گے جو گناہ کی زندگی چھوڑ کر حق کی زندگی میں آنا چاہتے ہیں یہ جنگ ان کے ساتھ نہیں بلکہ یہ جنگ کفار، ظالمین، باطل، گمراہ اور فتنہ پسند لوگوں کے ساتھ ہے کہ جو اپنی ان حرکتوں سے باز نہیں آرہے اور مولاؑ عج سے جنگ کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن اگر کوئی جنگ کے دوران بھی توبہ کر لیتا ہے اور پیچھے ہٹ جاتا ہے تو وہ تو امامؑ کے حلقہ میں داخل ہوگا۔
جنگ کا مقصد ہدایت کی طرف لانا ہے اور اگر کوئی ہدایت نہیں چاہتا اور مولاؑ سے جنگ کا آغاز کرے گا تو امامؑ اس کے نجس وجود سے باقی دنیا کو پاک کریں گے۔
اور ظالمین پر جو یہ عذاب اکبر ہو گا وہ امام مہدیؑ عج اور ان کے ناصر ہیں۔ جس کا نتیجہ پوری دنیا پر حق کی فتح اور باطل کی نابودی ہے۔ 🌹
جاری ہے۔۔۔🪻🪻🪻🪻🪻
پروردگار عالم ہمیں توفیق دے کہ ہم ان دو محاذوں میں اُس محاذ میں قرار پائیں جو امام مہدیؑ عج اور ان کے ناصرین کا محاذ ہے۔
پروردگار ہمیں اپنے گناہوں اور خطاؤں سے توبہ کرنے کی توفیق دے۔ ہمیں نیک بنائے اور ہمیں اپنے امام ؑ کی معرفت اور عمل صالح والی زندگی حاصل ہو اور اس کا آغاز ابھی اپنے اردگرد لوگوں کے ساتھ اپنے رویے سے کریں۔
والسلام۔ 🤲
شہربانو: ✍️
عالمی مرکز مہدویت قم 🌍
📢 گیارھواں کتابچہ " عصر ظہور"📖
# ساتواں درس
# شیعہ اثنا عشری رو سے عصر ظہور
# نکتہ: حق کا غلبہ اور باطل کی نابودی، ساری زمین پر غلبہ اور الہی حکومت کی تشکیل
# استاد مہدویت علامہ علی اصغر سیفی صاحب 🎤🌹
ہماری گفتگو عصر ظہور میں جاری ہے اور گذشتہ گفتگو میں بیان کیا تھا کہ مولاؑ عج کی جنگ حتمی ہے۔ چونکہ سب انسان فقط مذاکرات یا گفتگو سے راہ راست پر آنے والے نہیں ۔ بلآخر بہت سے لوگوں کو ضرب لگے گی اور وہ چونکیں اور راہِ ہدایت کی طرف پلٹیں۔
کچھ ایسے ہونگے کہ جن کا وجود نحس ہوگا۔ کہ جو اب کسی بھی صورت میں قابل ہدایت نہیں ہیں۔ گمراہ کرنے والے ظالم فتنہ گر، مفسدین یہ سب لوگ ختم ہونگے اور زمین ان کے نجس وجود سے پاک ہوگی۔
بلآخر مولا ؑ عج جنگ کریں گے اور امام مہدیؑ عج اور ان کے ناصرین کے ذریعے ظالمین پر اللہ کا عذاب ہوگا۔
جنگ کا نتیجہ:🫴
آج ہماری گفتگو اس نقطے پر ہو گی کہ
۔۔ 🌟اس جنگ کا نتیجہ حق کی فتح اور باطل کی نابودی ہے۔
۔۔🌟 پوری دنیا پر مولاؑ عج اور ان کے انصار کا قبضہ اور تسلط ہے۔
امام مہدیؑ کے جو سپاہ ہے جو مومن اور شجاع ہونگے۔ اس تمام جنگ میں جو سات ماہ تک جاری رہے گی۔ اس میں بلآخر خدا کی امداد غیبی بھی شامل حال ہوگی اور یہ ان تمام جنگوں میں کامیاب ہونگے اور باطل کا محاذ بلکل ختم ہوجائے گا۔ کفار ، ظالمین، مفسدین سے بدترین انتقام لیا جائے گا۔
امام موسیٰ کاظم ؑ فرماتے ہیں🌻
کمال الدین ج 2۔ ص 379
"ہم میں سے جو بارواں ہے، اللہ تعالیٰ ان کے لیے ہر دشواری کو آسان کرے گا۔ اور ہر ظالم مہدیؑ عج کے ذریعے سختی سے ختم ہوگا اور ہر شیطان ہلاک ہو جائے گا۔
علامہ مجلسیؒ نے بحارالنوار میں امام علی نقیؑ سے نقل کیا:
امام فرماتے ہیں۔ : 🌻
"مہدیؑ عج کے ذریعے پوری دنیا میں واحدت کلمہ جاری ہوگا۔ سب لوگ ایک ملت کی شکل میں ہونگی اور اس کے ذریعے نعمات کامل ہوجائیں گی۔ اس کے ذریعے حق مکمل طور پر ابھرے گا اور باطل مکمل طور پر نابود ہوگا۔
یہ ہستی وہی مہدیؑ عج ہیں کہ جن کا انتظار ہوگا"۔
امام محمد باقرؑ فرماتے ہیں: 🌻
کہ "جب قائمؑ عج قیام کریں گے تو تب ہر باطل حکومت ختم ہوجائے گی"۔
ہماری روایات میں عصر ظہور میں جنگ کا ذکر ہے اور امام زمانہؑ عج اور ان کی افواج کی فتح کا ذکر ہے۔
بعد والا نقطہ یہ ہے کہ اس فتح کی حدود کہاں تک ہیں تو یہ حدود مشرق سے مغرب تک ہیں یعنی پوری دنیا ہے پوری زمین ہے۔ ایسا نہیں کہ زمین کا کچھ حصہ پر فتح پائیں گے اور باقی حصہ ان کے اختیار سے خارج رہے گا اور دشمنان جو ہیں وہ ان کے مدمقابل ایک باطل حکومت قائم رکھیں گے اور ہمیشہ ان کے درمیان جنگ رہے گی جیسے حضرت سلیمانؑ و داؤدؑ کے زمانے میں ہوتا تھا۔ ایسا نہیں ہوگا۔
دوسرا نقطہ 🌟🌟
امامؑ مہدیؑ عج اور ان کی سپاہ کا تمام دنیا پر غلبہ ہے اور جب سپاہ کفر کو نابود کردیں گے تو پوری دنیا پوری زمین پر امامؑ عج کا غلبہ اور حکومت ہوگی۔ اور قرآن مجید کی جتنی بھی آیات ہیں جو عصر ظہورکو بیان کررہی ہیں وہ بیان کرتی ہیں کہ پوری دنیا پر ان کی حکومت ہوگی۔
ایک روایت ہے کہ رسولؐ خدا سے نقل ہورہی ہے، کمال الدین میں بھی ہے اور علامہ مجلسی نے بھی اسے بیان کیا ہے۔
فرماتے ہیں کہ: 🌻
مہدی کی حکومت کا تسلط مشرق سے مغرب تک ہوگا اور اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے سے پوری دنیا فتح کرے گا۔ پوری دنیا مہدیؑ اور ان کے انصار کے تحت آئے گی۔ اور یہ روایت متواتر بھی ہے اور مشہور بھی۔
تیسرا نقطہ:🌟🌟🌟
جب پوری دنیا ان کے اختیار میں آ گئی اور ظالم ، کافر اور مفسد ختم ہوگئے تو اب وہ لمحہ آن پہنچا ہے کہ جب اس عظیم الہیٰ حکومت کو تشکیل دیا جائے جس کے لیے انسانیت شروع سے منتظر ہے۔ جس کے لیے تمام ادیان نے بشارت دی اور جس کے لیے اوائل اسلام سے بشارتیں آرہی ہیں۔
دنیا نے اب تک فقط کفر و شرک، ظلم ،جنگیں، بیماریاں اور ظالم حکومتیں دیکھیں ۔ جنہوں نے فساد کیا، اپنے خاندان اور اپنی پارٹی کے فائدے کے لیے کام کیا نہ کہ دنیا کے لیے اور جنہوں نہ تو دنیا میں امن و صلح قائم کی نہ ہی سکون دیا اور اقتصادی، معاشی اور معاشرتی ہر لحاظ سے نقصان دیا۔ دنیا میں معنویت، عدالت اور روحانیت کا بہت بڑا بحران ہے۔ انسان بلآخر پریشان ہے۔ لیکن جب امامؑ اور ان کی سپاہ دنیا پہ غلبہ پائے گی تو دنیا میں عدالت اور توحید پر سارے کام ہونگے اور لوگوں کو ظاہری و باطنی غرض ہر لحاظ سے سکون میسر آئےگا۔
سورہ الحج کی 41 نمبر آیت میں اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ:
اَلَّـذِيْنَ اِنْ مَّكَّنَّاهُـمْ فِى الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلَاةَ وَاٰتَوُا الزَّكَاةَ وَاَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَنَـهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ ۗ وَلِلّـٰهِ عَاقِـبَةُ الْاُمُوْرِ (41)⚖️
وہ لوگ کہ اگر ہم انہیں دنیا میں حکومت دے دیں تو نماز کی پابندی کریں اور زکوٰۃ دیں اور نیک کام کا حکم کریں اور برے کاموں سے روکیں، اور ہر کام کا انجام تو اللہ کے ہی ہاتھ میں ہے۔
امام محمد باقرؑ فرماتے ہیں کہ یہ آیت آل محمدؑ امام مہدیؑ عج اور ان کے انصار کی شان میں نازل ہوئی ہے۔⚖️
یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ طاقت و قدرت دے گا۔ جو شرک و غرب کے مالک ہونگے اور یہ وہ لوگ ہیں کہ جن کے ذریعے دین اسلام کو فتح حاصل ہوگی اور ان کے ہاتھوں سے بدعتیں ختم ہونگی۔ تمام باطل چیزیں ان کے ہاتھوں ختم ہوجائیں گی۔ اور جو اس سے پہلے جاہل و احمق و گمراہ تھے اور انہوں نے حق کو ختم کیا ہوا تھا وہ سب ختم ہو جائیں گے اور زمین پر کوئی ظلم و باطل کی علامت باقی نہ رہے گی۔
یہ دنیا کی کامل ترین حکومت ہوگی جسے دنیا کے تمام لوگ پسند کریں گےاور یہ آخری حکومت ہوگی جو قیامت تک رہے گی۔ 🌟
اس حوالے سے امام محمد باقرؑ کا فرمان اصول کافی میں موجود ہے۔ فرماتے ہیں:🌻
"اے لوگوں کس طرف جا رہے ہو اور تمھیں کہاں لے جایا جا رہا ہے۔ خدا نے تمھارے پہلے والوں کو بھی ہمارے ہاتھوں ہدایت دی گئی ہے اور تمھاری آخری نسلوں کو بھی خدا ہمارے ہاتھوں ہی ہدایت دے گا۔ اور یہ تمھاری حکومتیں عارضی ہیں۔ جلد ختم ہونے والی ہیں لیکن ہمارے حکومت پائیدار ہے۔ اور ہماری حکومت کے بعد کوئی حکومت نہیں کیونکہ ہم ہیں اہل عاقبت۔
فقط اور فقط حکومت اہلبیتؑ ہوگی۔
انشاءاللہ۔ 💞💞
اور یہ متقین جب حاکم ہونگے تو اس وقت پوری دنیا پر تقویٰ الہیٰ کے جلوے ہونگے اس وقت دنیا سعادت کو دیکھے گی۔ اس وقت حُسن عاقبت کو دیکھے گی۔
امام صادقؑ بھی یہی فرماتے ہیں🌻
کہ ہمارے قائمؑ عج کی حکومت کے بعد کوئی اور حکومت نہ ہوگی۔ ہر ایک نے حکومت کر لی۔ اب قائم ؑ عج کی حکومت ہماری حکومت آخر الزمان ہے۔ اگر دنیا کے باقی رہنے میں ایک دن بھی باقی ہوا تو پروردگار اس دن کو اتنا طولانی کر دے گا کہ ہمارے اہلبیتؑ میں سے شخص (امام مہدیؑ) وہ ظاہر ہونگے اور اس حکومت کو برپا کریں گے۔
(ایک دن صرف تعبیرہے)🫴
یہ حکومت ہر صورت میں محقق ہونی ہے اور دنیا اس وقت والعاقبۃ المتقین کی عملی شکل ہوتے دیکھے گی اس وقت دنیا کے لوگ واقعاً سعادت مند ہونگے۔
جاری ہے۔۔۔۔☘️☘️
پروردگار عالم ہمیں توفیق دے کہ ہم اس الہیٰ حکومت کو دیکھیں اور ہمیں توفیق دے کہ ہم اس الہی حکومت کو برپا بھی کریں۔
والسلام 🤲
شہربانو: ✍️
عالمی مرکز مہدویت قم🌍
📢 گیارھواں کتابچہ " عصر ظہور"
# آٹھواں درس
# شیعہ اثنا عشری رو سے عصر ظہور
# نکتہ: امام مہدی عج کی حکومت کے مختلف نام و خصوصیات
# استاد مہدویت علامہ علی اصغر سیفی صاحب🎤🌹
خلاصہ:📜
ہماری گفتگو عصر ظہور میں جاری ہے۔ شعیہ اثناء عشریہ کی رو سے جو ہماری نگاہ ہے اس حوالے سے کچھ موضوعات ذکر ہوئے۔
آج اس حوالے سے گفتگو ہوگی کہ رسولؐ خدا اور آئمہؑ اس عظیم عالمگیر حکومت کو کیا نام دیا ہے۔ کیونکہ ان ناموں سے اس عظیم الہیٰ حکومت کی خصوصیات ظاہر ہونگی۔
۔۔ دولت کریمہ:🌟🌟
مثلاً ہم دیکھتے ہیں کہ دعائے افتتاح کے اندر اس حکومت کو🌺 "دولت کریمہ" 🌺کا نام دیا گیا ہے۔
دعائے افتتاح امام زماں عج کے دوسرے نائب خاص محمد بن عثمان سے نقل ہوئی ہے۔ اور یہ دعا ماہ رمضان کی راتوں میں کثرت سے پڑھی جاتی ہے۔
اس دعا کے اندربہت ساری چیزیں ہیں۔ اس دعا کے اندر خدا شناسی ہے اور دعا کرنے کی حکمت بھی ہے۔ اور امام زماں عج کی حکومت اور جو اہداف اور مقاصد ہیں ان سب کی جانب اشارہ ہے۔
ظاہرً یہی لگتا ہے کہ یہ دعا امام زماں عج سے نقل ہوئی ہے اور دنیائے تشہیو کو یہ دعا امام زماں عج کی جانب سے ایک تحفہ ہے۔ پروردگار ہمیں پڑھنے کی توفیق دے۔
اس دعا میں جہاں امام زماں عج کی حکومت کا ذکر ہے وہاں ہم اس دعا میں مولاؑ کی حکومت کا نام اس طرح دیکھتے ہیں کہ:
الھم انا نرغب الیک فی دولہ کریمہ تعزبھا الاسلام واھلہ وتذل بھا النفاق و اھلہ
اے معبود! ہم ایسی حکومتِ کریمہ کے سلسلے میں تیری جانب مشتاق ہیں جس کے ذریعے تو اسلام اور اہل اسلام کو عزت دے اور نفاق اور اہل نفاق کو ذلت سے دوچار کر دے۔
اس دعا کے اندر اس حکومت کو ایک خوبصورت نام ملا ہے یعنی حکومت کریمہ جس میں انسانی عظمتیں اور کمالات ظاہر ہونگے اور اس سے ان لوگوں کی نفی ہوتی ہے کہ جو مولاؑ کی حکومت کو اس عنوان سے پیش کرتے ہیں کہ اس کے اندر بے رحمی ہے۔ ایسا ہرگز نہیں بلکہ یہ حکومت بہترین انسانی خصائل اور کمالات کا اظہار ہے۔
اسی طرح ہم پیغمبرؐ اسلام کے فرامین میں اس حکومت کو سب سے بہترین حکومت کا نام ملتا ہے۔
پیغمبرؐ اسلام نے امیرالمومنینؑ سے فرمایا۔ 🌺
مہدیؑ عج کی حکومت سب سے بہترین حکومت ہے۔
امام صادقؑ نے فرمایا: 🌻
مہدیؑ عج کی حکومت آخری حکومت ہے اور سب سے بہترین حکومت ہے۔
۔۔ دولہ القائم
امام صادقؑ نے فرمایا🌻
قائمؑ کی حکومت کے بعد کسی اور کے لیے خدا کی طرف سے حکومت مقدر نہیں ہوئی۔
اور ایک اور جگہ پر مولاؑ فرماتے ہیں کہ: 🌻
ہمارے شیعہ حکومت قائمؑ میں مقامات بلند کے حامل اور زمین کے حاکم ہیں۔
اب ہم یہاں دیکھتے ہیں کہ اس حکومت کا ایک نام حکومت قائمؑ ہیں۔
۔۔ دولہ حق🌟🌟
اسی طرح ایک طولانی حدیث جس میں اس حکومت کو دولتہ حق کہا گیا ہے۔ یہ طولانی حدیث اصول کافی اور شیخ صدوقؒ نے کمال الدین میں بھی نقل ہوئی اور اس سے پہلے والی احادیث بھی احادیث کی کتابوں اور بحارالنوار میں نقل ہے۔
معصومؑ فرماتے ہیں۔ 🌻
تم اس حال میں کہ اہل ایمان ہو نماز، روزہ، حج قائم کر رہے ہو ۔ کارخیر انجام دے رہے ہو ، فقہی احکام انجام دے رہے ہو۔ اللہ کی عبادات کررہے ہو اپنے دشمن سے خوف و ہراس میں ہو اور تمہارا امامؑ غائب ہے اور اس کے باوجود تم اس کے فرامین پر عمل کر رہے ہو اور جس طرح تمہارا امام صبر کر رہا ہے تم بھی صبر کر رہے ہو اور دولت حق کے ظہور کا انتظار کر رہے ہو۔
امام محمد باقرؑ نے قرآن مجید کی آیت 🌺
و جعل الحق و ذھق الباطل کے ضمن میں فرماتے ہیں کہ: 🌻
جب قائم قیام کریں گے یعنی جب دولت حق قائم ہوگی باطل حکومتیں نابود ہو جائیں گی
۔۔ خلافت اور امامت:🌟🌟
اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ پانچواں لقب خلافت و امامت سے تعبیر ہوا۔ اس حوالے سے بحار النوار میں روایات موجود ہیں۔
امام صادقؑ فرماتے ہیں کہ: 🌻
مہدیؑ کی خلافت میں زمین اور آسمان کے رہنے والے ان سے راضی ہوں گے
ایک اور مقام پر امامؑ فرماتے ہیں:🌻
قسم ہے اس پروردگار کہ کہ جو قائم کے قیام کے وقت ان کی امامت کوکامل کرے گا۔
یہاں ہم دیکھتے ہیں کہ امام زماںؑ کی حکومت کو امامت سے بھی تعبیر کیا گیا۔
امام محمد باقرؑ فرماتے ہیں کہ: 🌻
اللہ تعالی مہدیؑ کو زمین پر خلیفہ قرار دے گا
۔۔ دولہ احمدی🌟🌟
امیرالمومنینؑ کے فرامین میں اس حکومت کو دولہ احمدی قرار دیا گیا۔ چونکہ پیغمبرؐ کے نام محمدؐ اور احمدؐ ہیں اس لیے اسے دولہ احمدی بھی قرار دیا گیا ہے۔
امیرالمومنینؑ فرماتے ہیں کہ: 🌻
پیغمبرؐ کے پرچم کو لئے ہوے احمدی حکومت کا حامل ظہور کرے گا۔
۔۔ دنیا کا مالک و حاکم 🌟🌟
اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ جہان کا مالک و حاکم کا عنوان بھی ملا ہے۔
پیغمبرؐ اسلام فرماتے ہیں۔ 🌻
میرے اہل بیتؑ میں سے ایک شخص دنیا کا مالک اور حاکم ہوگا
فرماتے ہیں:🌻
زمین پروردگار کے نور سے منور ہوجاے گی اور اس کے سلطنت دنیا کے شرق و غرب تک پھیل جاے گی
اسی طرح امیرالمومنینؑ فرماتے ہیں:🌻
ہماری حکومت سلیمانؑ نبی کی حکومت سے بڑی اور ہماری بادشاہی سلیمان کی بادشاہی سے وسیع ہوگی
اس سے ہم عنوان لیں گے کہ یہ دنیا کی عالمگیر حکومت ہوگی۔
۔۔ دولہ عدل⭐⭐
یہ سب سے بڑا اور آٹھواں عنوان ہے یعنی دولہ عدل۔
پیغمبرؐ اسلام فرماتے ہیں : 🌻
مہدیؑ مجھ سے ہے اور زمین کو عدل و انصاف سے بھرے گا
امام صادقؑ فرماتے ہیں کہ
جب قائم قیام کریں گے تو حکومت عدل بپا کریں کریں گے اور ان کے زمانہ میں ظلم و ستم بلکل ہی ختم ہوجائے گا۔
ہماری احادیث اور روایات اس الہیٰ حکومت کو مختلف عناوین سے یاد کرتی ہیں اور اس سے اس کی خصوصیات بیان ہوتی ہیں اور اس سےاس حکومت کے عظیم مقاصد اور مولاؑ کے اس حکومت کے اندر بڑے بڑے اقدامات بیان ہوتے ہیں۔
پس ان روایات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ حکومت کہ جس کو مختلف نام دیے گئے ہیں۔
🌟 یہ حکومت ہر صورت میں بپا ہوگی۔
یہ حکومت وسیع جہت سے اقدامات کرے گی اور
لوگوں کو تمام فوائد پہنچیں گے جو اس حکومت کی خصوصیات کو بیان کریں گے۔
🌟اس حکومت میں لوگوں کو وسیع پیمانے پر عدل ملے گا۔
🌟 دین اسلام اور توحید کی ترویج ہوگی۔
🌟 ظلم و ستم کا مقابلہ ہوگا۔
🌟 حکومت الہیٰ میں امام مہدیؑ عج کے زیر سایہ کسی قسم کا ظلم و ستم نہیں ہوگا۔
🌟 اس حکومت کا پایہ تخت کوفہ قرار پائے گا۔
🌟 یہ حکومت تمام مظلومین کی سرپرستی کرے گی اور ان کے تمام حقوق دلائے گی۔
🌟 یہ حکومت لوگوں کی تربیت کرے گی اور انہیں تمام انسانی کمالات تک پہنچائے گی۔ اور لوگ ہر لحاظ یعنی مادی، معنوی، روحانی ترقی کریں گے۔ اور لوگوں کے فکر، عقل اور اخلاق بلند ہونگے۔
🌟 یہ وہ حکومت ہوگی جس پر زمین و آسمان والے راضی ہونگے۔
جاری ہے۔۔☘️
دعا ہے کہ پروردگار عالم ہمیں اس الہی حکومت کو دیکھنے کی توفیق دے اور ہم ان لوگوں میں سے قرار پائیں جو مولاؑ عج کے ناصرین و مددگار بنیں۔ انشاءاللہ۔
آمین۔ 🤲
والسلام
شہر بانو ✍️
عالمی مرکز مہدویت قم۔ 🌍
📢 گیارھواں کتابچہ " عصر ظہور"
# نواں درس
# شیعہ اثنا عشری رو سے عصر ظہور
# نکتہ: امام عج کا انتقام ،ظالموں کا قتل عام ،ساری دنیا کا تسلیم ہونا،مدت قیام
# استاد مہدویت علامہ علی اصغر سیفی صاحب 🌹🎤
خلاصہ:📜
ہماری گفتگو عصر ظہور کے بارے میں ہیں ۔ عصر ظہور کی ابحاث کافی طولانی بھی ہیں اور اہم بھی ہیں کیونکہ یہ ہمارا اور دنیا کا مستقبل ہیں۔ یہ وہ زمانہ ہے کہ جس کا انتظارہزاروں سال سے ہو رہا ہے۔
امامؑ عج کا انتقام:⚔️
ایک اہم موضوع جو عصر ظہور کے حوالے سے عام طور پر بعض لوگوں کے ذہنوں میں موجود ہے اوراس حوالے سے ہمارے اہل ممبر کا بھی کردار ہے کہ امامؑ عج کے ظہور کے حوالے سے انتقام اور قتل و غارت بہت زیادہ بیان کی گئیں ہیں۔
اس بات میں تو شک نہیں کہ امامؑ عج کے ظہور کے بعد جنگ ہوگی لیکن وہ عام لوگوں سے نہیں ہوگی اور نہ ہی عام لوگ قتل ہونگے بلکہ امامؑ عج کی جنگ ظالمین سے ہوگی۔ جیسے رسولؐ اللہ کے سامنے لوگ قتل ہوتے تھے۔ امیرالمومنینؑ کے سامنے آتے تھے۔ یعنی وہ ظالم لوگ جو خود حجت خدا سے لڑنا چاہتے تھے اور جہنم رسید ہونا چاہتے تھے۔
الہیٰ حجتوں کا پہلا کام یہی ہے کہ وہ لوگوں کو ہدایت کی جانب دعوت دیتے ہیں حتکہ ظالمین کو بھی دعوت حق دیتے ہیں۔ لیکن اگر مدمقابل لڑنا چاہے اور بعض نہ آئے تو پھر اس صورت میں یہی حل ہے۔ جیسے ڈاکٹر کی دوائی سے فرق نہ پڑے تو پھر چارہ یہی ہے کہ اس فاسد عضو کو آپریشن کے ذریعے نکال دیا جائے تاکہ باقی جسم بچ جائے۔ اسی طرح بعد از ظہور یہی ہوگا۔
لیکن اہل ممبر جو کچھ بیان کرتے ہیں البتہ ہماری کچھ ایسی روایات بھی ہیں جن میں کچھ صحیح ہیں اور کچھ ضعیف۔ صحیح روایات کو سمجھا نہیں گیا اور ضعیف روایتیں تو ہیں ہی جھوٹ۔
تجزیہ:🫴
اس طرح کی باتوں کی روایات کی رو سے حقیقیت:
عصر ظہور کے حوالے سے روایت بیان ہوئی ہے کہ امام مہدیؑ عج سید الشہداءؑ کا انتقام لیں گے۔ اور امام مہدیؑ کے انصار کا نعرہ ہوگا
یا لثارات الحسینؑ
ظالموں کا قتل عام:👺🪓
اب ہماری مختلف کتابوں میں بالخصوص بحار النوار اور تفسیر عیاشی میں ایسی بہت ساری روایات موجود ہیں اور کچھ روایات ہم اصول کافی اور علل الشرائع میں بھی دیکھتے ہیں۔📚
ایک روایت جو معصومینؑ کی طرف سے آئی ہے۔
ہمارے قائمؑ عج جب قیام کریں گے تو امام حسین ؑ کے خون کا انتقام لیں گے۔
امام محمد باقرؑ کا فرمان ہے کہ
یہ جو آیت ہے : سورہ الاسراء 33
وَ مَنْ قُتِلَ مَظْلُوْمًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِیِّهٖ سُلْطٰنًا🌺
فرماتے ہیں کہ یہاں قُتِلَ مَظْلُوْمًا سے مراد حسینؑ ابن علیؑ ہیں کہ جو مظلومانہ شہید ہوئے اور ہم ان کے خون کے وارث ہیں اور جب ہمارے قائمؑ قیام کریں گے تو وہ خون حسینؑ کا انتقام لیں گے۔
یہاں آیت میں مقتول سید الشہداءؑ ہیں اور انتقام لینے والے وارث امام زماں عج ہیں۔ اب یہ روایت تفسیر عیاشی میں بھی ہے اور علامہ مجلسیؒ نے بحار النوار میں بھی نقل کی ہے۔
اسی طرح ایک روایت علل الشرائع اور اصول کافی میں بھی ہے اس میں امام صادقؑ فرماتے ہیں کہ:📚
جب امام حسینؑ شہید ہوئے تو فرشتوں نے گریہ کیا تو فرشتوں نے گریہ کیا اور کہا پروردگارا حسینؑ کے ساتھ یہ ہوا کہ وہ تیرا برگزیدہ ہے اور تیرے پیغمبرؐ کا فرزند ہے۔
یعنی فرشتوں کے کہنے کا مقصد ہے کہ اے پروردگارا تو نے مدد نہیں کی۔
تو پروردگار نے قائمؑ عج کے نور کی زیارت کروائی کہ اس کے ذریعے میں ان سے انتقام لوں گا۔
اسی طرح اور بھی روایت ہے کہ جس میں امام صادقؑ فرماتے ہیں کہ جب ہمارے قائمؑ عج قیام کریں گے تو جو ہمارے مخالفین ہیں تو ان کا خون حلال ہوگا یعنی امام قائمؑ انتقام لیں گے۔ بعض روایات میں تو نام بھی آیا ہے کہ بنو امیہ اور جو ناصبی ہیں ان سے امام قائم انتقام لیں گے۔
بعض روایت کے اندر ہم دیکھتے ہیں کہ امام قائمؑ عج کا قریش اور بنو امیہ دونوں سے انتقام لینے کا ذکر ملتا ہے۔
اس طرح ایک روایت بحار النوار میں ہے کہ: 📚
امام صادقؑ سے نقل ہوتا ہے کہ
جب ہمارے قائمؑ قیام کریں گے تو ان کے اور عرب اور قریش کے درمیان سوائے تلوار کے کوئی چیز نہیں۔
ساری دنیا کا تسلیم ہونا:🌍🌺
یہ روایات تو انتقام کے حوالے سے تھیں۔ اسی طرح کچھ روایات ایسی ہیں جو قتل عام کی ہیں۔
مثلاً یحییٰ بن الہ نقل کرتے ہیں اور یہ روایت اثبات الھدٰی میں بھی ہے اور شیخ طوسی کی غیبت میں بھی ہے۔ 📚
پیغمبرؐ فرماتے ہیں
اللہ اس امت میں سے ایک شخص کو اٹھائے گا اور وہ شخص مجھ سے ہیں اور میں اس سے ہوں۔ اور پروردگار عالم اس کے ذریعے آسمان اور زمین کی برکات کے دروازے کھول دے گا اور وہ شخص اتنا قتل کرے گا کہ ایک جاہل کہے گا کہ اگر یہ ذریہ محمدؐ ہوتا تو رحم کرتا۔
اس طرح کی روایات میں بےپناہ قتل کی بات ہوئی۔
اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ ایک روایت جو اصول کافی میں اور علامہ مجلسی نے بھی نقل کی:📚
معصومؑ نے روایت میں فرمایا۔
کہ اگرتم میں سے کوئی قائمؑ کے ظہور کی آرزو کرتا ہے تو اسے عافیت کے ساتھ آرزو ہے۔ تو پیغمبرؐ کو تو اللہ نے رحمت العالمین بنا کر بھیجا لیکن قائمؑ عج تو انتقام کے لیے آئیں گے۔
اب بعض روایت کے اندر یہ ہے کہ جیسے امام محمد باقرؑ سے منسوب ہے کہ جب ہمارے مہدیؑ قیام کریں گے تو ان ظالموں کے ساتھ کیا کریں گے کہ یہ ظالم یہ چاہیں گے کہ کاش ہم انہیں نہ دیکھتے اور وہ اس کا فیصلہ قریش سے تلوار کے ساتھ شروع کریں گے۔ اور اتنا ان ظالموں کو قتل کریں گے کہ لوگ کہیں گے کہ یہ مہدیؑ آل محمدؐ میں سے نہیں کیونکہ اگر آل محمدؐ میں سے ہوتے تو رحم کرتے۔
اب یہ روایت ہم دیکھتے ہیں کہ الغیبت نعمانی، اثبات الھدیٰ میں ہے۔ 📚
اسی طرح ایک اور فرمان آغا نعمانی نے الغیبت میں اور اثبات الھدیٰ میں نقل ہوا اور یہ بھی زرارہ کا ہے کہ جو امام محمد باقرؑ سے پوچھتے ہیں کہ آیا مہدیؑ پیغمبرؐ کی سیرت پر عمل کریں گے۔
تو فرمایا:
ہرگز ہرگز نہیں وہ رسولؐ اللہ کی سیرت پر عمل نہیں کریں گے رسولؐ اللہ کی سیرت لوگوں کے درمیان رحمت تھی۔ وہ ان کے دلوں کو مائل کرتے تھے لیکن قائمؑ عج جو ہیں وہ قتل عام کریں گے اور ان کو یہی ذمہ داری دی گئی ہے کہ وہ ان لوگوں کو قتل کریں وہ لوگوں کو توبہ کی دعوت نہ دیں گے اور ہلاکت ہے اس شخص کے لیے کہ جو قائم سے دشمنی کرے۔
اب اس قسم کی روایات ہے کہ جو کچھ اور ہی نقشہ بیان کرتی ہیں۔ البتہ یہ ذہن میں رہنا چاہیے کہ کچھ روایات تو ہیں ہی ضعیف اور کچھ ظالموں کا نقشہ بیان کرتی ہیں۔ وہ روایات عام لوگوں کے حوالے سے نہیں کہ سبھی لوگوں کے ساتھ ایسا ہوگا۔
اسی طرح ایک اور موضوع اس کے اندر یہ ہے کہ دنیا کے جتنے بھی ظالم ہیں وہ مولاؑ عج اور ان کے انصار کے مدمقابل تسلیم ہونگے جیسے مولا محمد باقرؑ فرمان احتجاج طبرسی میں بھی اور بحارالنوار میں بھی ہے ۔ 📚
فرماتے ہیں کہ :
سارے شہر تسلیم ہوجائیں گے کوئی کافر نہیں بچے گا مگر یہ کہ امام ؑ عج رہینگے اور کوئی ایسا فاسد ظالم باقی نہیں بچے گا مگر یہ کہ راہ حق صراط مستقیم پر آ جائے اور مہدیؑ مشرق و مغرب پہ مالک ہو جائیں۔
شیخ صدوقؒ نے کمال الدین میں نقل کیا ہے کہ: 📚
فرماتے ہیں کہ:
میں قائمؑ عج کے اصحاب کو دیکھ رہا ہوں کہ جو مشرق سے مغرب تک تمام علاقوں کو تسلط میں لے لیا ہے اور کوئی چیز باقی نہی رہی سب کچھ ان کے تحتِ فرمان ہے اور اتنا ان کا تسلط اور قوت ہے کہ جنگلوں اور صحراؤں کے درندے اور آسمان کے پرندے بھی مولاؑ کی رضائیت کے طالب ہیں۔ اور جب مولاؑ کا کوئی ناصر کسی زمین پر قدم رکھے گا تو وہ زمین کا ٹکڑا فخر کرے گا کہ آج قائم ؑ عج کے ناصر نے مجھ پر قدم رکھا ہے۔ یعنی اتنا تسلط ہے۔
اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ امام رضاؑ کا فرمان ہے کہ کوئی بھی اسلام کو قبول نہیں کرے گا تو اس کی گردن اتار دی جائے گی ۔ یہاں تک کہ مشرق و مغرب میں کوئی باقی نہ رہے گا یہاں تک کہ وہ توحید پرست ہوجائے۔
بلآخر اس طرح کی روایات ہیں کہ جن میں آیا ہے کہ امام قائمؑ عج اور ان کے ناصرین کا وسیع پیمانے پر تسلط ہے اور یہ تسلط طاقت کے زور پر ظاہر ہوا۔
جیسے امام صادقؑ فرماتے ہیں کہ
اللہ ان کے وسیلے سے اسلام کو ذلت کے بعد عزت بخشے گا اور وہ ساری چیزیں جو افسردہ ہوچکی تھی وہ زندہ ہونگی اور مہدیؑ تلوار کے ساتھ (اسلحے کے ساتھ) لوگوں خدا کے گھر دعوت کریں گے اور ان کا مدمقابل ذلیل ہوگا۔ سوائے دین خالص کے کوئی دین نہیں بچے گا
مدت جنگ: 🗡️⚔️
اب یہ جو جنگ ہے یہ کتنا عرصہ رہے گی تو روایات کہتی ہیں کہ یہ آٹھ مہینے ہوگی۔ جیسے امام صادقؑ فرماتے ہیں۔
امام مہدیؑ جو ہیں وہ پروردگار کا اپنے بندوں پر غضب کی علامت بن کر لوگوں پر ظہور کریں گے اور رسولؐ اللہ کا وہ پیراھن جو جنگ احد میں انہوں پہنا تھا وہ زیب تن کریں گے اور رسولؐ اللہ کی شمشیر ذوالفقار ان کے ہاتھ میں ہوگی اور اس کو بے نیام کریں گے اور آٹھ مہینے تک جنگ کریں گے۔
یہ آٹھ مہینے کی روایت مولا علیؑ سے بھی ہے اور امام محمد باقرؑ سے بھی نقل ہے کہ فرمایا۔
کہ آٹھ مہینے کے بعد جب خدا راضی ہوگا تو امامؑ عج چھوڑیں گے۔
راوی نے پوچھا کہ کیسے پتہ چلے گا کہ خدا راضی ہوگیا ہے تو فرمایا کہ :
خدا ان کے دل میں رحم ڈالے گا۔
اسی طرح امام محمد باقر ؑ فرماتے ہیں کہ :
جَآءَ الْحَقُّ وَ زَهَقَ الْبَاطِلُؕ
یہ آیت قیام امام قائمؑ کے بارے میں ہے کہ جب وہ قیام کریں گے تو دنیا میں ساری دنیا پر حق غالب ہوگا اور باطل مٹ جائے گا۔
🫴
اب یہ جو کچھ آپ کی خدمت میں بیان کیا ہے یہ وہ عام روایات ہیں جو بیان ہوتی ہیں اور سننے والے اس سے یہ تاثر لیتے ہیں کہ مولاؑ کے قیام میں کوئی توبہ اور مصالحت نہیں ہے صرف ایک ہی کام ہوگا کہ قتل و غارت ہوگی اور خون کی نہریں بہیں گی۔ جیسے بعض روایات کہتی ہیں کہ دنیا کے دو حصے مارے جائیں گے یا یہ جو مذکورہ بالا روایات بیان کی گئیں ہیں۔ 🫴
آنے والے دروس میں ہم ان روایات کا تجزیہ کریں گے کہ یہ کس حد تک درست ہیں اور کس حد تک غلط ہیں۔ بلآخر امام مہدیؑ حجت خدا ہیں اور شانِ امامؑ یہ ہے کہ امامؑ معصوم ؑ ہیں ہر گناہ اور خطا سے پاک ہیں تو کسطرح یہ امام ؑ عج کے حق میں سازگار ہے۔
جاری ہے۔ ☘️☘️
پروردگار عالم سے دعا ہے کہ وہ ہمیں حقیقی معنوں میں امام زماں ؑ کا ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔ 🤲
والسلام
شہر بانو: ✍️
عالمی مرکز مہدویت قم 🌍🌍
📢 گیارھواں کتابچہ " عصر ظہور"
# دسواں درس
# شیعہ اثنا عشری رو سے عصر ظہور
# نکتہ: عصر ظہور کی جنگوں کی حقیقت، جھوٹی روایات کی کثرت،جنگ کی مدت،امام عج کی سیرت
# استاد مہدویت علامہ علی اصغر سیفی صاحب 🎤🌹
عصر ظہور کی جنگوں کی حقیقت: ⭐
موضوع سخن عصر ظہور میں جاری ہے ایک اہم نقطہ جو مدنظر ہے کہ جب بھی عصر ظہور کا ذکر ہوتا ہے تو جنگوں کا ذکر ہوتا ہے تو بعض لوگ بغیر تحقیق کئے اس حوالے سے گفتگو کرتے ہیں کہ جس کا کوئی تصور ہی نہیں۔ اس میں تو کوئی شک نہیں کہ یہ جنگ ظالموں سے ہوگی جو اہل باطل ہیں اور اہل حق کے مقابلے میں آئیں گے۔ اور اس فتنے کے خاتمے کے جنگ ضروری ہے تاکہ دنیا میں ایک عظیم الہیٰ حکومت قائم ہوسکے۔
یہ جنگ ترقی یافتہ ٹیکنولوجی کے ساتھ ہوگی اور دنیا پیچھے کی جانب نہیں جائے گی بلکہ اس زمانے میں جو جدید اسلحہ ہوگا اور اس زمانے کی عظیم ترین ٹیکنالوجی کے ساتھ ہو گی ۔ اور امامؑ عج اور ان کے ناصروں کے پاس اس سے بھی بڑی اور جدید ٹیکنالوجی ہوگی کیونکہ یہ علوم الہیٰ سے متصل ہیں اور اس جنگ کے ذریعے ظلم اور فتنے کو ختم کریں گے۔
جیسے قرآن مجید کہہ رہا ہے:
وَ قٰتِلُوْهُمْ حَتّٰى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّ یَكُوْنَ الدِّیْنُ لِلّٰهِؕ
سورہ البقرہؔ 193 🌻
اور ان سے اس وقت تک جنگ جاری رکھو جب تک سارا فتنہ ختم نہ ہو جائے اوردین صرف اللہ کا نہ رہ جائے۔
یعنی دین اسلام پوری دنیا پر عقلی، علمی، قلبی، فکری ہر حوالے سے غالب آجائے۔
پیغمبرؐ اسلام جو کہ رحمت العالمینّ تھے انہوں نے بھی کفار و منافقین سے جنگ کی اسی طرح امیرالمومنین ؑ نے ناصبین اور ناقصین سے اور مختلف قسم کے گمراہ خوارج اور کفر اور دشمنی اہلبیتؑ کا محاذ سنبھالے ہوئے تھے ان والوں سے جنگ کی۔
دنیا میں ایسے کئی قسم کے محاذ ہیں اور امام مہدیؑ عج جب تشریف لائیں گے تو اس وقت دشمن اسلام، دشمن اہلبیتؑ، دشمن حق، دشمن عدالت تمام دشمنان اکٹھے ہو جائیں گے اور امام مہدیؑ عج ان سے جنگ کریں گے۔ کیونکہ اگر دنیا کو آرامش اور سکون دینا ہے تو یہ فتنہ ختم کرنا پڑے گا۔ جیسے بدن میں اگر کوئی بیماری ہو اور بدن کو اگر سکون دینا ہو تو اس عضو کو بدن سے جدا کرنا پڑتا ہے تاکہ باقی بدن کو سکون آجائے۔
جنگ چند مہینے ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ پورا عصر ظہور جنگوں سے بھرا پڑا ہے۔ آغاز میں پوری زمین پر تسلط پانے کے لیے جنگ ہے جس میں زمین کے اکثر لوگ مولاؑ عج کی ہمراہی کریں گے۔ کیونکہ وہ ظالمین اور کافر حکومتیں اپنی فوج کے ساتھ کم ہیں وہ زیادہ دیر تک مولاؑ عج کے مد مقابل نہیں ٹھہر سکیں گے۔ چونکہ انہی ممالک کی عوام مولاؑ عج کا ساتھ دیں گے۔ کیونکہ ایسے ممالک میں لوگوں کے حقوق پامال ہونگے۔ اسی لیے تو کہتے ہیں کہ بہت ساری جنگوں میں تو جنگ کی نوبت ہی نہیں آئے گی۔ لوگ اپنی حکومتوں کو خود گرائیں گے۔ یا بہت سارے مقامات پر دشمن کی افواج تسلیم ہو جائے گی۔
جھوٹی روایات کی حقیقت:🫴
بسا اوقات ہم روایات دیکھتے ہیں تو تعجب ہوتا ہے کہ یہ مولاؑ عج سے منسوب کیسی باتیں بیان کر رہے ہیں۔ کہ امام زمانہؑ عج کی عالمگیر تحریک اور ان کے چہرہ نورانیت کو اور چہرہ رحمت کو عجیب و غریب روایات سے خراب کیا جاتا ہے اور ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ اسرائیلیات ہیں۔ اور دشمنان اسلام نے انہیں ہماری کتابوں میں ڈالا ہے اور بعض ہمارے محقیقین واضح کرتے ہیں کہ ان روایات کا اہلبیتؑ یا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے جیسے دور حاضر کے مشہور محقق نجم الدین تبسیّ نے ایک کتاب لکھی جو مکالمے کی شکل میں بھی ہے جس میں انہوں نے واضح کیا کہ امام زمانہؑ عج کے اوائل میں جو جنگیں ہیں یہ تمام جنگیں دشمنوں نے قصوں کی شکل میں بنا کر ہماری روایات میں شامل کیا ہے۔ پھر اگر ہم ان روایات میں ویسے بھی غور کریں تو سند کے اعتبار سے جھوٹے لوگوں نے لکھی ہیںَ
آیت اللہ شیرازی نے خود اس موضوع پر جب تحقیق کی تو کہتے ہیں کہ اکثر ایسی روایات جن میں جنگوں کا ذکر ہے مثلاً تیس ایسے روایات جن میں جنگوں کا مغالبہ ہے اور مولاؑ کو سخت دیکھایا گیا ہے یہ تیس روایات محمد بن علی کوفی پر ختم ہو رہی ہیں۔ اور علمائے حدیث اور علمائے رجال اس شخص کو کذاب اور ناقل کہتے ہیں۔ اور بدنام ہے اور اس سے نقل ہونے والی تمام روایات معتبر نہیں۔
فضل ابن شاذان کہتے ہیں کہ وہ بہت زیادہ جھوٹ بولتا ہے اور میں آخر اس نتیجے پر پہنچ رہا ہوں کہ اپنی نماز کے قنوت میں اس پر لعنت بھیجوں۔
اور اسی طرح بعض روایات علی بن حمزہ بدانی پر ختم ہو رہی ہیں کہ جس کا تعلق واقفیہ فرقہ سے ہے جو کہ امام موسیٰ کاظم ؑ کو امام مہدی سمجھتے ہیں اور امام رضاؑ کی امامت کے منکر ہیں۔
ان روایات پر ہم کیسے غور کریں کے جن کی سند علی بن محمد کوفی جیسے شخص پر ختم ہو رہی ہیں۔ یہ کیسی بات نقل کرتا ہے کہ: اگر لوگ جانتے کہ امام مہدیؑ اپنے ظہور کے بعد کیا کریں گے تو اکثر ان میں سے امامؑ سے ملاقات کی آرذو ہی نہ کرتے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم امام ؑ عج کی نسبت ایسی بات کریں۔ پھر یہ کہتا ہے کہ اکثر لوگ کہیں گے کہ یہ آل نبیؐ نہیں کیونکہ اگر آل نبیؐ ہوتے تو رحم کرتے۔ یعنی کیسی عجیب بات ہے کہ آیا امامؑ بے رحم ہونگے۔ نعوذ باللہ۔
اب ہماری تاریخ میں بے رحم ترین شخص حجاج بن یوسف ہے تو اس نے امام عج کو کس کے ساتھ نسبت دے دی۔
بعض روایات شیعہ ہی نہیں۔ 🫴 ❌❌
کہتے ہیں مولاؑ کے ذریعے پچاس ہزار لوگ قتل ہونگے۔ بعض کہتے ہیں پانچ لاکھ قتل ہونگے یہ تمام روایات اہلسنت ہیں۔ یہ روایات کے حوالے سے مشکل ہیں جنہیں اہلسنت بھی سند کے اعتبار سے کذاب کہتے ہیں۔ 👺
اسی طرح کچھ ایسی کتابیں اور روایات ہیں جو ہماری شریعیت، اصول مذہب اور عقیدہ امامت کے خلاف ہیں۔
🫴
امامؑ عج معصوم ہیں امامؑ عج ایک چھوٹی سی خطا نہیں کرتے کجا ایسی باتیں اور ایسی نسبتیں۔ جبکہ خود ہماری کتابوں میں نقل ہوچکا ہے کہ
پیغمبرؐ اسلام نے فرمایا۔ 🌻
مہدی مجھ جیسا ہے۔ مہدیؑ عج کی سیرت میری سیرت ہے۔
امیرالمومنینؑ فرماتے ہیں کہ مہدی میری سیرت پر ہے۔
امام زمانہؑ عج خود فرماتے ہیں کہ میں اپنے دادا محمدؐ اور دادا علیؑ کی سیرت پر چلوں گا اور ان کا احیا کروں گا تو پھر ان جھوٹی روایات کا کیا معنیٰ ہے۔ یہ روایات درست نہیں۔
مدت جنگ:⚔️
طح شدہ بات ہے کہ مولاؑ کی حکومت پوری زمین پر ہوگی تو یہ جنگ پوری زمین پر ہوگی۔ اور دوسرے لفظو میں زمین پر جہاں جہاں بھی ظالم حکومتیں اور ظالم گروہ ہیں یہ جنگ ان کے ساتھ ہوگی۔ اور مدت کے اعتبار سے یہ جنگ آٹھ مہینے سے کم تر ہے۔ اور اگر کوئی روایت اس سے اگر زیادہ مدت کہتی ہے تو وہ روایت جھوٹی ہے۔
اسی طرح بعض مقامات پر جنگ نہیں ہوگی ان ممالک کے لوگ ظالم حکومتوں کے خلاف ہونگے اور ان ظالم حکومتوں کو گرائیں گے اور مولاؑ عج کو پیغام دیں گے کہ اپنا ناصر ہماری طرف بھیجیں تاکہ وہ ہم پر حکومت کرے۔
امامؑ عج کی سیرت:🌹
امامؑ عج کی سیرت کے حوالے سے ایک روایت ہے کہ جو شیخ صدوقؒ نے اپنی کتاب کمال الدین میں اور علامہ مجلسیؒ نے بحار النوار میں نقل کی:
پیغمبرؐ فرماتے ہیں:🌻
مہدیؑ عج کی سنت اور سیرت میری ہے اور وہ لوگوں کو دین خدا پر نافذ کریں گے۔
امام صادقؑ فرماتے ہیں کہ: 🌻
جب قائم قیام کریں گے تو امیرالمومنینؑ عج کی سیرت پر چلیں گے اور اس روایت کو اصول کافی میں نقل کیا گیا ہے اسی طرح بعض مقام پر فرماتے ہیں کہ ان کی سیرت پیغمبؐر کی سیرت ہے۔
وہ جنگ سے قبل مذاکرہ کریں گے، دعوت حق دیں گے جیسے پیغمبرؐ کی سیرت ہے۔ آغاز میں صلح اور دعوت حق تھی لیکن جب کوئی چارہ نہ بچا تو جنگ کی۔
اسی طرح امام مہدیؑ اپنے بدترین دشمن سفیانی سے بھی مذاکرہ کریں گے اسے بھی راہ حق کی طرف بلائیں گے اور یہ جب مولاؑ عج سے بلمشافہ ملاقات کرے گا تو تیار بھی ہوجائے گا لیکن جب اپنی فوج میں واپس پلٹے گا تو جو اس کے ارد گرد ہونگے وہ اسے اکسائیں گے اور یہ جنگ کرے گا اور بری طرح شکست کھائے گا اور قتل ہوگا۔
امام زمانہؑ عج کی سیرت رسولؐ اللہ کی سیرت ہے اور اسلام امن کا دین ہے اور ہمارے تمام کام امن اور محبت سے شروع ہونگے۔ 💎
جاری ہے۔ ۔☘️
پروردگار ہم سب کو توفیق دے کہ ہم محمدؐ و آل محمدؑ کی سیرت پر چلتے ہوئے اپنی فردی اور اجتماعی امور میں یہی امن ومحبت والی سیرت کو قائم رکھیں اور یہی سیرت ہمیں ملتی رہے۔
والسلام
شہربانو: ✍️
عالمی مرکز مہدویت قم🌍
📢 گیارھواں کتابچہ " عصر ظہور"
# دسواں درس
# شیعہ اثنا عشری رو سے عصر ظہور
# نکتہ: عصر ظہور کی جنگوں کی حقیقت، جھوٹی روایات کی کثرت،جنگ کی مدت،امام عج کی سیرت
# استاد مہدویت علامہ علی اصغر سیفی صاحب 🎤🌹
عصر ظہور کی جنگوں کی حقیقت: ⭐
موضوع سخن عصر ظہور میں جاری ہے ایک اہم نقطہ جو مدنظر ہے کہ جب بھی عصر ظہور کا ذکر ہوتا ہے تو جنگوں کا ذکر ہوتا ہے تو بعض لوگ بغیر تحقیق کئے اس حوالے سے گفتگو کرتے ہیں کہ جس کا کوئی تصور ہی نہیں۔ اس میں تو کوئی شک نہیں کہ یہ جنگ ظالموں سے ہوگی جو اہل باطل ہیں اور اہل حق کے مقابلے میں آئیں گے۔ اور اس فتنے کے خاتمے کے جنگ ضروری ہے تاکہ دنیا میں ایک عظیم الہیٰ حکومت قائم ہوسکے۔
یہ جنگ ترقی یافتہ ٹیکنولوجی کے ساتھ ہوگی اور دنیا پیچھے کی جانب نہیں جائے گی بلکہ اس زمانے میں جو جدید اسلحہ ہوگا اور اس زمانے کی عظیم ترین ٹیکنالوجی کے ساتھ ہو گی ۔ اور امامؑ عج اور ان کے ناصروں کے پاس اس سے بھی بڑی اور جدید ٹیکنالوجی ہوگی کیونکہ یہ علوم الہیٰ سے متصل ہیں اور اس جنگ کے ذریعے ظلم اور فتنے کو ختم کریں گے۔
جیسے قرآن مجید کہہ رہا ہے:
وَ قٰتِلُوْهُمْ حَتّٰى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّ یَكُوْنَ الدِّیْنُ لِلّٰهِؕ
سورہ البقرہؔ 193 🌻
اور ان سے اس وقت تک جنگ جاری رکھو جب تک سارا فتنہ ختم نہ ہو جائے اوردین صرف اللہ کا نہ رہ جائے۔
یعنی دین اسلام پوری دنیا پر عقلی، علمی، قلبی، فکری ہر حوالے سے غالب آجائے۔
پیغمبرؐ اسلام جو کہ رحمت العالمینّ تھے انہوں نے بھی کفار و منافقین سے جنگ کی اسی طرح امیرالمومنین ؑ نے ناصبین اور ناقصین سے اور مختلف قسم کے گمراہ خوارج اور کفر اور دشمنی اہلبیتؑ کا محاذ سنبھالے ہوئے تھے ان والوں سے جنگ کی۔
دنیا میں ایسے کئی قسم کے محاذ ہیں اور امام مہدیؑ عج جب تشریف لائیں گے تو اس وقت دشمن اسلام، دشمن اہلبیتؑ، دشمن حق، دشمن عدالت تمام دشمنان اکٹھے ہو جائیں گے اور امام مہدیؑ عج ان سے جنگ کریں گے۔ کیونکہ اگر دنیا کو آرامش اور سکون دینا ہے تو یہ فتنہ ختم کرنا پڑے گا۔ جیسے بدن میں اگر کوئی بیماری ہو اور بدن کو اگر سکون دینا ہو تو اس عضو کو بدن سے جدا کرنا پڑتا ہے تاکہ باقی بدن کو سکون آجائے۔
جنگ چند مہینے ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ پورا عصر ظہور جنگوں سے بھرا پڑا ہے۔ آغاز میں پوری زمین پر تسلط پانے کے لیے جنگ ہے جس میں زمین کے اکثر لوگ مولاؑ عج کی ہمراہی کریں گے۔ کیونکہ وہ ظالمین اور کافر حکومتیں اپنی فوج کے ساتھ کم ہیں وہ زیادہ دیر تک مولاؑ عج کے مد مقابل نہیں ٹھہر سکیں گے۔ چونکہ انہی ممالک کی عوام مولاؑ عج کا ساتھ دیں گے۔ کیونکہ ایسے ممالک میں لوگوں کے حقوق پامال ہونگے۔ اسی لیے تو کہتے ہیں کہ بہت ساری جنگوں میں تو جنگ کی نوبت ہی نہیں آئے گی۔ لوگ اپنی حکومتوں کو خود گرائیں گے۔ یا بہت سارے مقامات پر دشمن کی افواج تسلیم ہو جائے گی۔
جھوٹی روایات کی حقیقت:🫴
بسا اوقات ہم روایات دیکھتے ہیں تو تعجب ہوتا ہے کہ یہ مولاؑ عج سے منسوب کیسی باتیں بیان کر رہے ہیں۔ کہ امام زمانہؑ عج کی عالمگیر تحریک اور ان کے چہرہ نورانیت کو اور چہرہ رحمت کو عجیب و غریب روایات سے خراب کیا جاتا ہے اور ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ اسرائیلیات ہیں۔ اور دشمنان اسلام نے انہیں ہماری کتابوں میں ڈالا ہے اور بعض ہمارے محقیقین واضح کرتے ہیں کہ ان روایات کا اہلبیتؑ یا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے جیسے دور حاضر کے مشہور محقق نجم الدین تبسیّ نے ایک کتاب لکھی جو مکالمے کی شکل میں بھی ہے جس میں انہوں نے واضح کیا کہ امام زمانہؑ عج کے اوائل میں جو جنگیں ہیں یہ تمام جنگیں دشمنوں نے قصوں کی شکل میں بنا کر ہماری روایات میں شامل کیا ہے۔ پھر اگر ہم ان روایات میں ویسے بھی غور کریں تو سند کے اعتبار سے جھوٹے لوگوں نے لکھی ہیںَ
آیت اللہ شیرازی نے خود اس موضوع پر جب تحقیق کی تو کہتے ہیں کہ اکثر ایسی روایات جن میں جنگوں کا ذکر ہے مثلاً تیس ایسے روایات جن میں جنگوں کا مغالبہ ہے اور مولاؑ کو سخت دیکھایا گیا ہے یہ تیس روایات محمد بن علی کوفی پر ختم ہو رہی ہیں۔ اور علمائے حدیث اور علمائے رجال اس شخص کو کذاب اور ناقل کہتے ہیں۔ اور بدنام ہے اور اس سے نقل ہونے والی تمام روایات معتبر نہیں۔
فضل ابن شاذان کہتے ہیں کہ وہ بہت زیادہ جھوٹ بولتا ہے اور میں آخر اس نتیجے پر پہنچ رہا ہوں کہ اپنی نماز کے قنوت میں اس پر لعنت بھیجوں۔
اور اسی طرح بعض روایات علی بن حمزہ بدانی پر ختم ہو رہی ہیں کہ جس کا تعلق واقفیہ فرقہ سے ہے جو کہ امام موسیٰ کاظم ؑ کو امام مہدی سمجھتے ہیں اور امام رضاؑ کی امامت کے منکر ہیں۔
ان روایات پر ہم کیسے غور کریں کے جن کی سند علی بن محمد کوفی جیسے شخص پر ختم ہو رہی ہیں۔ یہ کیسی بات نقل کرتا ہے کہ: اگر لوگ جانتے کہ امام مہدیؑ اپنے ظہور کے بعد کیا کریں گے تو اکثر ان میں سے امامؑ سے ملاقات کی آرذو ہی نہ کرتے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم امام ؑ عج کی نسبت ایسی بات کریں۔ پھر یہ کہتا ہے کہ اکثر لوگ کہیں گے کہ یہ آل نبیؐ نہیں کیونکہ اگر آل نبیؐ ہوتے تو رحم کرتے۔ یعنی کیسی عجیب بات ہے کہ آیا امامؑ بے رحم ہونگے۔ نعوذ باللہ۔
اب ہماری تاریخ میں بے رحم ترین شخص حجاج بن یوسف ہے تو اس نے امام عج کو کس کے ساتھ نسبت دے دی۔
بعض روایات شیعہ ہی نہیں۔ 🫴 ❌❌
کہتے ہیں مولاؑ کے ذریعے پچاس ہزار لوگ قتل ہونگے۔ بعض کہتے ہیں پانچ لاکھ قتل ہونگے یہ تمام روایات اہلسنت ہیں۔ یہ روایات کے حوالے سے مشکل ہیں جنہیں اہلسنت بھی سند کے اعتبار سے کذاب کہتے ہیں۔ 👺
اسی طرح کچھ ایسی کتابیں اور روایات ہیں جو ہماری شریعیت، اصول مذہب اور عقیدہ امامت کے خلاف ہیں۔
🫴
امامؑ عج معصوم ہیں امامؑ عج ایک چھوٹی سی خطا نہیں کرتے کجا ایسی باتیں اور ایسی نسبتیں۔ جبکہ خود ہماری کتابوں میں نقل ہوچکا ہے کہ
پیغمبرؐ اسلام نے فرمایا۔ 🌻
مہدی مجھ جیسا ہے۔ مہدیؑ عج کی سیرت میری سیرت ہے۔
امیرالمومنینؑ فرماتے ہیں کہ مہدی میری سیرت پر ہے۔
امام زمانہؑ عج خود فرماتے ہیں کہ میں اپنے دادا محمدؐ اور دادا علیؑ کی سیرت پر چلوں گا اور ان کا احیا کروں گا تو پھر ان جھوٹی روایات کا کیا معنیٰ ہے۔ یہ روایات درست نہیں۔
مدت جنگ:⚔️
طح شدہ بات ہے کہ مولاؑ کی حکومت پوری زمین پر ہوگی تو یہ جنگ پوری زمین پر ہوگی۔ اور دوسرے لفظو میں زمین پر جہاں جہاں بھی ظالم حکومتیں اور ظالم گروہ ہیں یہ جنگ ان کے ساتھ ہوگی۔ اور مدت کے اعتبار سے یہ جنگ آٹھ مہینے سے کم تر ہے۔ اور اگر کوئی روایت اس سے اگر زیادہ مدت کہتی ہے تو وہ روایت جھوٹی ہے۔
اسی طرح بعض مقامات پر جنگ نہیں ہوگی ان ممالک کے لوگ ظالم حکومتوں کے خلاف ہونگے اور ان ظالم حکومتوں کو گرائیں گے اور مولاؑ عج کو پیغام دیں گے کہ اپنا ناصر ہماری طرف بھیجیں تاکہ وہ ہم پر حکومت کرے۔
امامؑ عج کی سیرت:🌹
امامؑ عج کی سیرت کے حوالے سے ایک روایت ہے کہ جو شیخ صدوقؒ نے اپنی کتاب کمال الدین میں اور علامہ مجلسیؒ نے بحار النوار میں نقل کی:
پیغمبرؐ فرماتے ہیں:🌻
مہدیؑ عج کی سنت اور سیرت میری ہے اور وہ لوگوں کو دین خدا پر نافذ کریں گے۔
امام صادقؑ فرماتے ہیں کہ: 🌻
جب قائم قیام کریں گے تو امیرالمومنینؑ عج کی سیرت پر چلیں گے اور اس روایت کو اصول کافی میں نقل کیا گیا ہے اسی طرح بعض مقام پر فرماتے ہیں کہ ان کی سیرت پیغمبؐر کی سیرت ہے۔
وہ جنگ سے قبل مذاکرہ کریں گے، دعوت حق دیں گے جیسے پیغمبرؐ کی سیرت ہے۔ آغاز میں صلح اور دعوت حق تھی لیکن جب کوئی چارہ نہ بچا تو جنگ کی۔
اسی طرح امام مہدیؑ اپنے بدترین دشمن سفیانی سے بھی مذاکرہ کریں گے اسے بھی راہ حق کی طرف بلائیں گے اور یہ جب مولاؑ عج سے بلمشافہ ملاقات کرے گا تو تیار بھی ہوجائے گا لیکن جب اپنی فوج میں واپس پلٹے گا تو جو اس کے ارد گرد ہونگے وہ اسے اکسائیں گے اور یہ جنگ کرے گا اور بری طرح شکست کھائے گا اور قتل ہوگا۔
امام زمانہؑ عج کی سیرت رسولؐ اللہ کی سیرت ہے اور اسلام امن کا دین ہے اور ہمارے تمام کام امن اور محبت سے شروع ہونگے۔ 💎
جاری ہے۔ ۔☘️
پروردگار ہم سب کو توفیق دے کہ ہم محمدؐ و آل محمدؑ کی سیرت پر چلتے ہوئے اپنی فردی اور اجتماعی امور میں یہی امن ومحبت والی سیرت کو قائم رکھیں اور یہی سیرت ہمیں ملتی رہے۔
والسلام
شہربانو: ✍️
عالمی مرکز مہدویت قم🌍
📢 گیارھواں کتابچہ " عصر ظہور"📖
# درس 11
# شیعہ اثنا عشری رو سے عصر ظہور
# نکتہ: شیعہ نقطہء نظر سے مولا عج کے انتقام کی حقیقت
# استاد مہدویت علامہ علی اصغر سیفی صاحب 🎤🌹
خلاصہ:
ہمارا موضوع گفتگو عصر ظہور ہے اور اس حوالے سے مولاؑ عج کی جو ظالموں سے جنگ ہے بلآخر اوائل قیام کے اندر کچھ عرصہ جنگ ہے۔
اس حوالے سے چونکہ روایات میں افراط و تفریق ہے تو اس حوالے سے ایک ایک موضوع کر کے حقائق بیان ہو رہے ہیں۔
مولاؑ عج کا انتقام: ⚔️
ایک اہم نقطہ مولاؑ عج کا انتقام ہے اور اس طرح کی روایات کافی ہے۔ امام کا ہدف لوگوں کو توحید کی طرف دعوت دینا ہے، یکتا پرستی اور عدالت کا اجرا اور دنیا کو ظلم و فساد سے بچانا۔
حتماً مولاؑ عج ان ظالموں سے انتقام لیں گے کہ جنہوں نے پوری تاریخ کے اندر ظالموں کا خون بہایا اور بے پناہ ظلم کیے
اسی لیے ہم رجعت کے قائل ہیں۔ کہ رجعت میں وہ لوگ جنہوں نے بے پناہ ظلم کئےاور دنیا میں سزا نہیں پائی ان کو اور مظلومین کو پلٹایا جائے گا تاکہ ان مظلومین کے سامنے ان ظالموں سے انتقام لیا جائے گا۔
انتقام کا ذکر روایات میں کافی مرتبہ آیا۔
یہاں تک کہا گیا کہ:
مولاؑ عج کا ایک ہدف انتقام لینا ہے۔
لیکن کچھ لوگ مولاؑ کے قیام کو صرف انتقام کے معنی میں ہی لیتے ہیں۔ یہ انتقام سب کچھ نہیں۔ یہ انتقام مولاؑ دنیا میں جو اس وقت ظالم موجود ہونگے ان سے بھی لیں گے اور تاریخ میں جو ظالمین تھے ان سے بھی لیا جائے گا۔
کچھ روایات کربلا کے شہدا اور سید الشہداء کے انتقام لینا ہے۔
اب یہ سوال ہے کہ مولاؑ نے یہ انتقام کس سے لینا ہے یعنی جو لوگ یزید کے فعل پر راضی تھے جیسے آج بھی ہم ناصبی لوگ دیکھتے ہیں۔ کہ جو یزید کے حامی ہیں اور اس کو رضی اللہ کہتے ہیں اور جو لامحالہ امام حسینؑ کے خلاف ہیں اور امام کی شہادت پر راضی ہیں یعنی یزیدیوں کا بھی تسلسل ہے اور ایسے لوگ ہیں کہ جو یزید کے غلط عمل کہ دنیا کی تاریخ میں اس سے بڑا ظلم نہیں ہوا تو ایسے لوگ اس بات سے برآت نہیں کرتے۔ ان لوگوں کا دنیا پہ تسلسل ہے۔
پہلے یزیدیوں میں سے بہت سے لوگوں سے مختار نے انتقام لے لیا لیکن آج بھی ایسے یزیدی ہیں کہ جو شیعان اہلبیتؑ کو اسی انداز سے قتل کرتے ہیں جسیے پہلے کرتے تھے۔ اسی انداز میں گردنیں اڑاتے ہیں۔ بدنوں کے ٹکڑے کرتے ہیں۔ تو ایسی نسل یزید ہے۔
ایسے افراد سے زمانہ ظہور میں امام ؑ عج انتقام لیں گے۔ اسی لیے امام صادقؑ سے جب سوال ہوا کہ امام قائمؑ عج کس سے سید الشہداء کا انتقام لیں گے تو فرمایا انہیں نسل قاتلان سید الشہدا سے انتقام لیں گے کہ جو اپنے روحانی اجداد شمر و یزید کے کردار سے راضی ہیں مولاؑ ان سے انتقام لیں گے۔
فرماتے ہیں:
جو بھی کسی کے عمل پر راضی ہو گویا اس شخص کی مانند ہے کہ جس نے یہ عمل کیا ہو۔
تشیہو کی نگاہ یہ ہے کہ بہت زیادہ قتل عام یا انتقام کی بات نہیں ہے۔ بلکہ متعادل نظر ہے ہماری وہی ہے۔
خدا محور رحمت واسیعہ ہے ہر مجرم، گنہگار اور ظالم کو پروردگار نے توبہ کی توفیق دی ہے۔ اگر تو وہ توبہ تائب ہوتے تو امام ؑ عج ان کوقتل نہیں کریں گے۔ اور ایسے لوگ جو برے کردار کو ظلم کو چھوڑنا چاہیں تو ایسے لوگوں کو ظلمتوں سے نکال کر ہدایت کے چراغ تلے لانا چاہیے۔
مولاؑ عج ان لوگوں سے انتقام لیں گے کہ جو اپنے تجاوز ، ظلم اور زیادتیوں پر برقرار ہیں۔
یہاں بھی حضرت ؑ عج کی سیرت جنگ یہ ہے کہ پہلے آپ ان کوبرھان و دلیل سے بتائیں گے کہ تمھارا کام خلاف انسانیت ، خلاف دین ، خلاف منشاء پروردگار ہے اس وقت ان لوگوں میں جو لوگ عقلی طور پر رشید ہونگے ۔ ہوسکتا ہے کہ وہ امام ؑ عج کی اس گفتگو سے سپاہ کفر سے جدا ہو کر سپاہ اسلام میں امامؑ عج کی رکاب میں آجائیں۔
لیکن باقی جو اصرار کر رہے ہیں کہ ہم نے ہر صورت اس نجس زندگی کو بڑھانا ہے تو دنیا کو ان سے بچانے کے لیے امام ان سے جنگ کریں گے۔
انتقام محدود ہے۔ قتل عام کی روایات ضعیف ہیں۔
سید الشہداء کے حوالے سے نسل یزید جو کردار یزید پر راضی ہیں ان سے انتقام لیں گے۔ اولاد یزید اولاد حسینؑ کے مدمقابل خود بہ خود آجائے گی ۔ البتہ امامؑ عج ان کو بھی ہدایت دیں گے۔
آخری نقطہ یہ ہے کہ ایک بہت بڑی تعداد روایات کی بتاتی ہے کہ یہ انتقام یہ قتل و غارت ابتداء میں ہے۔ باقی امامؑ عج کی یہ سینکڑوں سالہ حکومت ایک سعادت مند زندگی ہے وہ مولا ؑ عج جو مظہر رحمت پروردگار ہیں۔
مولاؑ عج کی حکومت 70 سالہ ہے اور بعد میں ان کی اولاد یا ان کے بارہ جانشین کریں گے۔ یہ وہ حکومت ہوگی کہ جس میں لوگوں کی تربیت ہوگی۔ لوگوں کو عدالت فراہم ہوگی ۔ لوگوں کے روحانی ، معنوی ، مادی مسائل حل ہونگے۔ 🌹
اس لیے امام کی حکومت قیام اور جنگ کی حکومت نہیں بلکہ ایک بہت بڑی اسلامی، سیاسی اور اخلاقی حکومت ہے۔ کہ جس کے اندر عدالت طرز دیانت ہے اور جس کے اندر ہماری اخلاقی روایات ہیں۔
جاری ہے۔ ☘️☘️
پروردگار عالم کی بارگاہ میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب امام مہدیؑ عج کی رکاب میں قرار پانے والے انصار اور خدمت گذار ناصروں میں قرار دے۔
آمین۔
والسلام۔ 🤲
شہربانو:✍️
عالمی مرکز مہدویت قم🌍
📢 گیارھواں کتابچہ " عصر ظہور"
# درس 12
# امام کے قیام کا تجزیہ
# نکتہ: قائم بالسیف پر روایات کا تجزیہ
# استاد مہدویت علامہ علی اصغر سیفی صاحب🎤🌹
موضوع گفتگو عص ظہور ہے اور اس حوالے سے ہم نے مختلف مذاہب بلخصوص شعیہ اثنا عشریہ کا جو نظریہ ہے اور جو روایات ہیں وہ بیان کیں۔
اب ہم چاہتے ہیں کہ بطور قلی بلخصوص آنے والا زمانہ کہ جس میں امام زمانہؑ عج کی حکومت کا ایک تجریہ کریں۔
قائم بالسیف پر روایات کا تجزیہ:
ایک تصور جو عام طور پر روایات کو دیکھ کر لوگوں کےذہنوں میں آتا ہے کہ عصر ظہور میں امامؑ عج کی حکومت طاقت کے زور پر ہے۔ البتہ ہم یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ امامؑ عج کی حکومت دلوں پر ہے۔ یعنی امامؑ عج سلطان القلوب ہیں۔ وہ ارواح پر حکومت کریں گے جس سے اجسام بھی ان کے مدمقابل تسلیم ہوں گے۔
لیکن عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ جب ایک طاقت کسی پوری دنیا کو اپنے قبضے میں کرنا چاہتی ہے یا ایک ملک دوسرے ملک پر قبضہ کرتا ہے تو وہاں مادی وسائل کے ذریعے خوف و حراس پھیلاتے ہیں اور عسکری طاقت ، ٹیکنالوجی کے زور پر وہ فتح کرتے چلے آرہے ہیں۔ تاریخ میں ایسی کئی مثالیں ہیں جیسے سکندر اعظم، چنگیز خان، ھلاکو خان کہ جنہوں نے اپنے لشکر اور اسلحہ کی طاقت کے بل بوتے پر دنیا کو فتح کیا۔
اب یہ تصور امام زمانہؑ عج کے حوالے سے بھی ہے اور اس سلسلے میں کچھ روایات بھی ہیں کہ جن کی وجہ سے یہ ایک سطحی اور ظاہری تصور پیدا ہوتا ہے۔ لیکن اگر مجموعی طور پر تجزیہ نکالا جائے تو طاقت کا زور صرف ایک حصہ ہے۔ امامؑ عج نے فقط خوف و ہیبت اور اپنے رعب و دبدبہ جو امامؑ اور ان کے انصار کا ہے اس کی وجہ سے دنیا کو فتح نہیں کرنا۔
چونکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ بہت سارے ممالک خود بہ خود اس دور میں فتح ہوجائیں گے۔ دنیا کی طاقتور افواج تسلیم ہوجائیں گی۔ اس کے اندر امامؑ عج کی سیرت اور بلند و بالا اخلاق اور وہ روحانیت ہے جو مولا ؑ عج اور ان کے انصار کے اندر ہیں۔
روایات:
اکثر روایات جب مولاؑ عج کا ذکر کرتی ہیں تو کہتی ہے القائم بالسیف۔
البتہ یہاں سیف سے مراد واقعاً تلوار نہیں بلکہ اسلحہ ہے۔ یعنی امام ؑ عج کا قیام مسلح ہے۔ یعنی ان سے پہلے آئمہ کا قیام مسلح نہیں تھا لیکن قائم عج کا قیام مسلح ہے۔ اور یہاں مسلح قیام سے مراد ایسا قیام نہیں جیسے تاریخ میں کچھ لوگ گزرے جنہوں نے خوف و حراس پھیلا کر دنیا پر قبضہ کیا۔ اس سے مراد امام کا مسمم ہونا ہے کہ وہ ہر صورت میں حکومت الہیہ کو بپا کریں گے۔ اور اس میں کسی ظالم سے کسی ستمگر سے کسی دشمن سے مولا کسی قسم کی رعایت نہ کریں گے۔ یعنی امام ؑ عج اور ان کے انصار سوائے خدا اور اس کی مخلوق کے اندر مستضفین اور تشنائے عدالت افراد کے کسی کی پرواہ نہ کریں گے۔
موجودہ دور کی ایک بہت بڑی شخصیت جناب حکیمی انہوں نے ایک کتاب لکھی عصر زندگی۔ یہ کتاب ایران میں فارسی میں موجود ہے۔ اس میں انہوں نے ایک تجزیہ کیا ہے کہ یہ جو قائم بالسیف ہے اس میں جو امامؑ کا اسلحہ کے ساتھ تعارف ہے یہ امامؑ کے اذن کی جانب اشارہ ہے ۔
کہتے ہیں کہ:
امام مہدی اپنے اس پروگرام اور اپنے قیام کے اندرکسی کے ساتھ مصالحت نہیں کریں گے۔ مثلاً ہم دیکھتے ہیں کہ رسولؐ اللہ نے مجبوراً کفار کے ساتھ صلح حدیبیہ کی۔ اور امام حسنؑ نے مجبوراً حاکم شام کے ساتھ صلح کی۔ لیکن یہ کام امام قائمؑ عج نہیں کریں گے۔ کیونکہ اب پوری دنیا پہ ہر صورت حکم الہیٰ کو نافذ کرنا ہے۔ پیغمبرؐ اکرم دین اسلام کے آغاز میں تھے اور درمیان میں ایک لمبا عرصہ تھا کہ جس میں کفار نے بھی مسلمانوں پر تسلط پانا تھا۔ جیسا کہ آج ہم دیکھ رہے ہیں۔ تو پیغمبرؐ نےایک ایسی سیرت کو باقی رکھنا تھا کہ جس میں ہر دور میں مسلمان اپنی بقا کے لیے مختلف جو حربے ہیں ان کو استعمال کریں یعنی ہر جگہ جنگ نہیں۔ لیکن امام ؑ عج کی حکومت آخری حکومت ہے اور اس کے بعد کفار نے تسلط نہیں پانا اس لیے امام ؑ عج کسی جگہ پر صلح نہیں کریں گے اور تمام کفار اور دشمنان اسلام کو شکست دیں گے
امام مہدیؑ عج کسی دنیا کی طاقت سے نہیں ڈریں گے اور نہ مصالحت کریں گے ہر ظالم و ستمگر کو سزا دیں تاکہ پوری دنیا میں وسعت کے ساتھ عدالت بپا ہو اور ظلم و ستم کا خاتمہ ہو اور ایسا کرنے کے لیے امامؑ عج ذرا برابر رحم نہ کریں گے کیونکہ رحم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ بیماری باقی ہے۔ اور دوبارہ بڑھنا شروع ہوجائے گی۔ اس لیے امام ان کو مکمل طور پر ختم کریں گے تاکہ زمین ظالموں اور ظلم سے پاک ہوجائے۔
امام ؑ عج کی یہ ہیبت دشمنوں میں ہوگی نہ کہ عام لوگوں میں۔ امام سے ظالم ستمگر، گمراہی پھیلانے والے ڈریں گے۔ عام لوگ تو امام کا ساتھ دیں گے۔ امام ظالمین کی طاقت کو بھی ختم کریں گے اور ان کی سوچ کو بھی ختم کریں گے۔ تاکہ پوری دنیا میں صلح امن و امان اور عدالت قائم ہو۔ اور اس کے اندر امام کی فوجی طاقت اور مسلح قیام کا بڑا کردار ہے۔
احادیث میں آیا ہے کہ :
امام ؑ ننگی تلوار (جدید اسلحہ) زمین پر نہیں رکھیں گے اور مسمم ارادے کے ساتھ مولاؑ اور ان کے انصار تمام باطل قوتوں کو خوفزدہ کردیں گے اور ان کے محاذ، مورچوں اور ان کے جسموں پر جو مولاؑ اور ان کے انصار کی کاروائیاں ہوں گی ان پر لرزا طاری ہو جائے گا۔
ہم یہ دیکھتے ہیں کہ بظاہر ان روایات میں اور کیا کہا گیا ہے۔
مولاؑ عج کو کئی قسم کے القاب روایات میں ملے ہیں ۔ جیسے
القائم بالسیف
الصاحب السیف
اور کسی جگہ پر ہم دیکھتے ہیں کہ امیرالمومنینؑ فرماتے ہیں
محمدی پرچم والا امام ظہور کرے گا اور احمدیؐ حکومت کا مالک اس حالت میں ظہور کرے گا کہ ہاتھوں میں اسلحہ ہوگا اور اپنی گفتگو اور اپنے عظم میں سچے ہونگے۔
امام صادقؑ فرماتے ہیں:
ہم سب قائم ہیں ہم سب امر خدا کو قائم کرنے والے ہیں کہ یہاں تک کہ وہ قائم آئے کہ جو شمشیر کا مالک ہے یعنی اسلحہ والا ہے اور جب وہ قائم آئیں گے تو وہ پھر نئے دستور کے ساتھ آئیں گے۔
وہ ہر صورت میں ستمگر لوگوں کی ناک زمین سے رگڑے گا۔
حسن بن ہارون نے روایت کی کہ کسی نے امام صادقؑ سے پوچھا کہ آیا قائمؑ عج امیر المومنینؑ کی سیرت کے خلاف چلیں گے تو امام صادقؑ نے فرمایا:
ہاں
فرمایا:
چونکہ امیرالمومنین ؑ نے محبت کو مقدم کیا اور اس کی سیرت پر چلے۔ (جب امامؑ کا حق غضب ہوا تو آپ نے فقط احتجاج کیا۔ جانتے تھے کہ میرے بعد دشمن میرے ماننے والوں پر تسلط پیدا کر لیں گے۔
لیکن قائم مسلح قیام کریں گے جسمیں وہ دشمنوں کو ماریں گے بھی اور اسیر بھی کریں گے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اب شیعوں پر کوئی غلبہ نہیں پاسکتا۔ کیونکہ قائم ؑ عج کی حکومت آخری حکومت ہے اور اس کے بعد صالحین حکومت کریں گے۔
امام سید سجادؑ فرماتے ہیں کہ ہمارے قائمؑ میں سات انبیاؑ کی سنت ہے۔
پھر باقی انبیاؑ کی سنت بیان کرنے کے بعد پیغمبرؐ اسلام کی سنت جنگ بیان کرتے ہیں تو یہی سنت قائمؑ میں کامل تر ہے یعنی قائم مصالحت نہیں کریں گے۔
امام صادقؑ قرآن مجید کی آیت کے ذیل میں فرماتے ہیں
سورہ سجدہ
وَلَنُذِيْقَنَّـهُـمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰى دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَكْبَـرِ لَعَلَّـهُـمْ يَرْجِعُوْنَ (21)🌻
اور ہم انہیں قریب کا عذاب بھی اس بڑے عذاب سے پہلے چکھائیں گے تاکہ وہ باز آ جائیں۔
فرماتے ہیں یہاں
عذاب عدنہ بیماریاں قحط وغیرہ ہے
عذاب اکبر قائم بالسیف ہے۔
جاری ہے۔۔۔
والسلام
شہربانو:✍️
عالمی مرکز مہدویت قم🌍
📢 گیارھواں کتابچہ " عصر ظہور"
# درس 13
# امام کے قیام کا تجزیہ
# نکتہ: امام زمانہ عج کی اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد "رعب"
# استاد مہدویت علامہ علی اصغر سیفی صاحب 🎤🌹
خلاصہ:
منصور بالرعب:🌹
عصر ظہور کےحوالے سے مختلف نکات موضوع بحث ہیں آج ہماری گفتگو امامؑ عج کا لقب منصور بالرعب ہے کہ جب امامؑ عج ظہور فرمائیں گے تو ان کی ہیبت کافروں اور منافقین کے دلوں میں بیٹھ جائے گی۔ البتہ مومنین اور عام لوگ ہیں وہ امام ؑ عج کے ظہور سے خوشحال ہونگے۔ امام ؑ عج کی زیارت کریں گے اور آپ کے گرد جمع ہونگے۔ امام ؑ عج سے انس کا اظہار کریں گے لیکن کافر دہشت زدہ ہوجائے گا۔ حتہ کہ بہت سارے مقامات پر دشمن تسلیم ہوجائیں گے اور لڑنے سے انکار کر دیں گے۔
قرآن مجید میں سورہ آل عمران کے اندر آیت 151 میں سپاہ اسلام کی عظمت بیان ہو رہی ہے:
سَنُلْقِىْ فِىْ قُلُوْبِ الَّـذِيْنَ كَفَرُوا الرُّعْبَ
اب ہم کافروں کے دلوں میں ہیبت ڈال دیں گے
یہ ہیبت اور خوف پروردگار دلوں میں ڈالتا ہے کیونکہ وہ دلوں کا مالک ہے اور یہ اللہ کی جانب سے امامؑ اور ان کے انصار کی مدد ہوگی۔
محمد بن مسلم سقفی ایک روایت امام محمد باقرؑ سے نقل کرتے ہیں۔ اور یہ روایت ہماری مختلف کتابوں میں موجودہے مثلاً کمال الدین:
فرماتے ہیں:🌻
"ہمارے قائمؑ عج ان کی مدد جو پروردگار کی جانب سے ہوگی وہ یہی رعب اور ہیبت ہوگی جو دشمنوں کے دلوں میں پروردگار کی جانب سے بیٹھے گی۔
فرماتے ہیں کہ: 🌻
خدا خود ان کی مدد فرمائے گا اور زمین ان کے لیے سکڑے گی۔
(جیسے 7 ماہ میں یہ سپاہ بڑی صورت سے ساری دنیا کو فتح کریں گے اور پوری دنیا کو حکومت الہیٰ کے لیے ہموار کرے گی)۔
امام صادقؑ سے بھی اسی طرح کی روایت نقل ہوئی ہے جو کتاب الغیبت نعمانی میں ہےاور خود علامہ مجلسی نے بحارالنوار میں نقل کیا ہے۔
امام صادقؑ فرماتے ہیں:🌻
اللہ تعالیٰ ہمارے قائم عج کی تین لشکروں سے مدد کرے گا۔
سب سے پہلا لشکر ملائکہ کا
دوسرا لشکر مومنین کا
تیسرا لشکر رعب ہے۔
امام قائم اسی طرح دشمن کے مدمقابل خروج اور جنگ کریں گے جیسے رسولؐ اللہ آیا کرتے تھے۔
اسی طرح تفسیر عیاشی میں اور علامہ مجلسی روایت نقل کرتے ہیں کہ امام محمد باقرؑ فرماتے ہیں کہ: 🌻
مولاؑ عج اور ان کی سپاہ کا خوف دشمن کو ایک مہینہ پہلے ہی ہو جائے گا یہاں تک کہ جب وہاں سے گذر جائیں گے تو ایک ماہ بعد تک یہ خوف رہے گا۔
یعنی اگر کوئی دشمن بچ گیا تو جرت نہ رکھے گا کہ امامؑ عج کے مدمقابل آئے یا اس حکومت اسلامی کے خلاف کوئی کاروائی کرے۔
اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ امیرالمومنینؑ سے روایت نقل ہوئی ہے جو آیت اللہ صافائی صافی گولپائیگانی نے نقل کی ہے کہ مولاؑ فرماتے ہیں کہ:🌻
امام مہدیؑ عج کے آگے آگے ان کا رعب حرکت میں آئے گا۔ اور کسی میں جرت نہ ہوگی کہ امام ؑ کے مدمقابل آئے اور جو ایسی کوشش بھی کرے گا شکست کھائے گا۔
یہ روایت علامہ مجلسی نے بھی نقل کی ہے اور جناب کامل سلمان نے کتاب یوم الخلاص میں بھی نقل کی ہے۔
امام صادقؑ فرماتے ہیں کہ:🌻
امام قائمؑ عج جب حکم دیں گے کہ فلاں شخص کو گرفتار کیا جائے یا قتل کیا جائے تو لوگ اسے قتل کریں گے کیونکہ امامؑ عج ایسے تو کسی کے بارے میں حکم نہیں دیتے کیونکہ یہ حکم ہی لوگوں کو لرزائے گا۔ اور اس وقت کوئی گھر کے اندر بھی ظلم نہیں کرے گا کیونکہ اسے ڈر ہوگا کہ کہیں گھر کے در و دیوار مولاؑ عج کو نہ بتا دیں اور اسے سزا نہ ہو جائے۔ یعنی اس قدر خوف مجرمین، کافرین اور منافقین کے دلوں میں ہوگا نا کہ عام لوگوں کے دلوں میں ہوگا۔
یہ فرمان کمال الدین میں ہے
پیغمبرؐ اکرم کا فرمان ہے کہ:🌻
پروردگار قائمؑ عج کے لیے زمین کے خزانے اور معدنیات کو ظاہر کرے گا اور ان کی مدد رعب اور ہیبت کے ذریعے کرے گا اور مولا عدل و انصاف زمین کو بھریں گے۔ یعنی دو چیزوں کی جانب اشارہ کیا کہ
ایک تو یہ کہ زمین کے خزانے ان کے لیے ظاہر ہونگے اور دوسرے ان کا رعب ان کے دشمنوں کے دلوں پر بیٹھے گا۔
ایک طرف خوف ہے اور دوسری جانب بشارت ہے۔ یعنی مولاؑ ایک طرف ظالمین کا خاتمہ کریں گے اور دوسری جانب ان خزانوں سے مظلومین کی مدد کریں گے جس سے لوگوں کی بنیادی ضروریات بھی پوری ہونگی۔ اور سرمایہ داروں کو جو لوگوں کو تنگی دیتے تھے ان کو مولاؑ ختم کریں گے۔
جاری ہے:
والسلام
شہربانو:✍️
عالمی مرکز مہدویت قم🌍
📢 گیارھواں کتابچہ " عصر ظہور"
# درس 14
# امام کے قیام کا تجزیہ
# نکتہ: امام زمانہ عج کا دشمنان دین اور منافقین سے سخت طرزعمل ، مہدوی حکومت کی وسعت
# استاد مہدویت علامہ علی اصغر سیفی صاحب 🎤🌹
خلاصہ:
ہماری گفتگو عصر ظہور میں ہے اس حوالے سے موضوع سخن سیرت امام زماں ہے۔ آج کا موضوع سخن امام زمانہ عج کا دشمنان دین اور منافقین سے سخت طرزعمل اور مہدوی حکومت کی وسعت ہے۔
۔۔ امام زماںؑ عج کا دشمنان دین اور منافقین سے سخت طرز عمل:
امام دنیا کے اہل فساد ہیں کفار اور منافقین اورجو امامؑ سے دشمنی برقرار رکھیں گے امام ان سے سختی سے پیش آئیں گے اور ان کے حوالے سے کسی قسم کی چشم پوشی نہیں ہوگی۔ اور سختی سے حدود الہیٰ اور احکام خدا کو جاری کریں گے۔ اور گنہگاروں اور ظالموں کو معافی نہیں جبکہ عام گنہگاروں کو معافی ہوگی۔
مولاؑ عج کی اس سختی کو روایات میں بیان کیا گیا ہے
امام محمد باقرؑ فرماتے ہیں کہ: 🌻
جب ہمارے قائمؑ قیام کریں گے تو ایک نئی روش، قانون اور ایک نئی قضاوت کے ساتھ اور عربوں پر بہت سخت ہونگے۔ ( جیسا کہ بہت سے مسائل کا موجب یہ عرب ہی ہیں جیسے ہم دیکھیں کہ دنیا عرب کے رزق، وسائل اور معدنیات ہیں لیکن پھر بھی یہ فرہنگ کے غلام ہیں۔ ان کے حاکم اسلام کی بے آبروئی کا باعث ہیں۔ اور ظالم ہیں اسوقت یہی اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کر رہے ہیں اور فلسطین کو تنہا چھوڑ دیا یہ چیچنیا ، کشمیر کے مسئلے میں کبھی اکھٹے نہیں ہوئے۔ یہی بحرین و یمن پر ظلم کر رہے ہیں اور ایران عراق جنگ میں امریکہ کے ساتھ ہوگئے۔
فرماتے ہیں: 🌻
امام زماں عج کی جو سیرت ہے کہ شمشیر سے ، اسلحے سے اور طاقت سے ان کا مقابلہ کریں گے اور کسی ظالم کی توبہ کو قبول نہیں کریں گے۔
جب الہیٰ انتقام لیا جائے گا تبھی مظلوموں کے دلوں کو سکون آئے گا۔
لہذا ظالموں،منافقوں، مفسدوں، گمراہ کرنے والوں کی کوئی توبہ قبول نہیں ہوگی۔
فرماتے ہیں:🌻
وہ احکام الہیٰ میں کسی سرزنش کرنے والے کی سرزنش سے نہیں ڈریں گے۔ اور خدا کا حکم ہر صورت میں جاری کریں گے۔
انشاءاللہ!
اسی طرح امام صادقؑ فرماتے ہیں کہ : 🌻
جب ہمارے قائم قیام کریں گے تو اس وقت انہیں یہ ضرورت نہیں ہوگی کہ وہ تم سے نصرت طلب کریں (نصرت قبل از قیام ہے) لیکن جب ناصرین کی ایک بہت بڑی تعداد جمع ہوجائے گی اور مولاؑ قیام کریں گے تو پھر اپنے احکام الہیٰ کے اجراء میں پھر کسی سے مدد نہیں مانگیں گے۔ اور بہت سارے جو منافقین ہیں (جو باہر سے مسلمان اور اندر سے شیطان ہیں ) ان پر حد الہیٰ کو جاری کریں گے۔
البتہ بعض منافین ہوسکتا ہے کہ توبہ تائب کریں اور اپنے پچھلے کاموں سے امام ؑ کی بارگاہ میں خود کو پیش کریں ہوسکتا ہے کہ مورعد بخشش قرار پائیں۔ لیکن باقی پر حد الہیٰ جاری ہوگی۔
اسی طرح امام صادقؑ فرماتے ہیں کہ🌻
امام مہدیؑ جتنے بھی دشمنان دین ہیں کہ جنہوں نے نفاق کو اپنا پیشہ قرار دیا ہوا ہے ان کو امام ختم کریں گے۔
فرماتے ہیں کہ : 🌻
جب لوگ امر و نہی میں مصروف ہونگے تو اسوقت امام ؑ عج حکم دیں گے کہ ان لوگوں کو امر و نہی کرنے کا فائدہ نہیں لہذا ان کی گردنیں اتار دی جائیں۔
بعض مرتبہ جسم کے ایک عضو کو دوا سے شفا نہیں ہوتی تو اس کو جسم سے جدا کر دیا جاتا ہے تاکہ باقی جسم میں بیماری نہ پھیلے۔
فرماتے ہیں کہ: 🌻
ایسے لوگوں کو کہ جنہیں امر و نہی کیا جارہا ہوگا مولاؑ عج فرمائیں گے کہ ان کو امرو نہی نہ کیا جائے بلکہ ان کی گردنیں اڑا دی جائیں۔
فرماتے ہیں۔ 🌻
دنیا کے مشرق و مغرب میں کوئی بھی ایسا نہ رہے گا کہ جن پر امام کا خوف اور ہیبت طاری ہو۔
عام لوگوں کے دلوں میں مولا عج کی محبت ہوگی۔ لیکن منافقین کے دلوں پر خوف طاری ہوگا۔
روایات میں آیا ہے کہ: امام زماں عج اسی طرح عمل کریں گے کہ جس طرح رسولؐ خدا عمل کرتے تھے۔ اور جسطرح انہوں نے جہالیت شرک اور رسوم ورواج کو ختم کیا۔ اسی طرح امام زماں عج منافقت والی جہالیت کو ختم کریں گے۔
اسی طرح ایک اور روایت میں فرماتے ہیں کہ: 🌻
بہت زیادہ لوگوں پر مہربان ہیں۔ سخاوت کریں گے اور مساکین سے بہت زیادہ محبت کریں گے لیکن اپنی حکومت کے عہدیداروں کے ساتھ سخت گیر ہوں تاکہ وہ لوگوں کے ساتھ انصاف اور مہربانی سے پیش آئیںَ
اور امیر المومنین ؑ کا فرمان ہے کہ: 🌹
اگر کوئی مہدیؑ کی حکومت میں کوئی منصب دار خلاف حکم کام کرے گا تو مولاؑ عج اس کو سزا دیں گے ۔ اس طرح یہ حکومت پوری دنیا کو انصاف سے بھرے گی۔
مہدوی حکومت کی وسعت:🌍
یہ حکومت پوری دنیا پر قائم ہوگی۔ اور مولاؑ پوری دنیا پر آٹھ مہینے میں غلبہ پا لیںگے۔
امام صادقؑ فرماتے ہیں کہ:
مہدیؑ عج کا ظہور یوم الفتح ہے۔
خود پیغمبرؐ فرماتے ہیں کہ:
پوری زمین نور پروردگار سے چمکے گی۔ اور مہدی ؑ عج کی حکومت شرق و غرب تک پھیل جائے گی۔
امام محمد باقرؑ فرماتے ہیں کہ: ⭐
وری زمین ان کے لیے سکڑے گی۔ یعنی پوری زمین ان کے اختیار میں آجائے گی۔ اور اپنے خزانے ان کے لیے ظاہر کر دی گی۔
قرآن کے اندر لفظ زمین آیا ہے اور روایات میں بھی لفظ زمین آیا ہے۔
امام رضاؑ فرماتے ہیں کہ: 💎
خدا مہدیؑ عج کے ہاتھوں زمین کو منکر خدا اور کفار سے پاک کرے گا۔ اور زمین ان کے پاؤں کے نیچے سکڑے گی اور ان کے اختیار میں ہوگی۔
والسلام
شہربانو:✍️
عالمی مرکز مہدویت قم 🌍
📢 گیارھواں کتابچہ " عصر ظہور"
# درس 15
# امام کی سیرت کا تجزیہ
# نکتہ: امام زمانہ عج کی سیرت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ اور امیرالمومنین ع کے مشابہ ہے۔
# استاد مہدویت علامہ علی اصغر سیفی صاحب🎤🌹
ہماری گفتگو عصر ظہور میں سیرت امام زماں عج کے حوالے سے مختلف موضوعات اور روایات میں جاری ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ امام زمانہؑ عج بلآخر خلیفہ ء پروردگار ہیں اور وصی رسولؐ اللہ ہیں۔ ان کی حکومت کا مقصد دنیا پر اقتدار حاصل کرنا نہیں ہے۔ مولا ؑ عج اس لیے حکومت نہیں کریں گے کہ پوری دنیا کو اپنی رعایا قرار دیں اور ان پر حکومت کریں ۔ جس طرح عام طور پردنیا کے حاکموں کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ فقط حکومت کریں چاہے کسی بھی طریقے سے کیونکہ اس میں طاقت اور ان کی خواہشات کی تکمیل ہے۔
امام زماں ؑ عج کی حکومت ان حکومتوں جیسی نہیں بلکہ امام ؑ عج کی حکومت ایسی حکومت ہے جیسی رسولؐ اللہ کی حکومت تھی اور امیرالمومنین ؑ کی حکومت ہے۔
اسی لیے ضروری ہے کہ روایات کے اندر تجزیہ ہو کیونکہ ان کے اندر حق و باطل جمع ہیں ان میں کچھ روایات صحیح ہیں اور کچھ ضعیف ہیں۔
پہلی بات جو ہماری حل ہونی چاہیے کہ امامؑ عج طاقت اور اقتدار کی خاطر حکومت نہیں کریں گے۔ بلکہ امامؑ عج کا ہدف عدالت الہیہ کا اجرا کرنا ہے۔ اس امام زماں عج اپنی حکومت میں منتق اور تدبیر کے ساتھ آگے بڑھیں گے اور اپنے دشمنوں کو بھی دعوت حق دیں گے اور ان کے ساتھ بھی گفتگو اور مذاکرات کریں گے۔ لیکن اگر دنیا کے ظالم، ستمگار اور شرپسند لوگ اگر کسی صورت بھی کلمہ حق سننے کے لیے تیار نہیں ہونگے تو پھر وہاں واحد علاج یہی ہے کہ ان ظالمین کو طاقت کے زور پر ان کا اصلی مقام دکھانا تاکہ باقی دنیا ان شر پسند عناصر سے محفوظ رہے۔
جیسا کہ ہم رسولؐ اللہ کی زندگی میں دیکھتے ہیں اسی طرح ہم امیرالمومنینؑ کی زندگی میں دیکھتے ہیں کہ آپؑ نے جنگ جمل اور جنگ سفین میں کتنا عرصہ گفتگو کی اور انتظار کرتے رہے کہ جنگ نہ ہو اور لوگ صلح و صفائی کے ساتھ حق کی جانب آئیں۔ لیکن جب کوئی چارہ ہی نہیں ہے تو پھر حکم خدا سے جہاد ضروری ہے۔
جناب فضل ابن زبیر سے نقل ہوئی ہے جو کہتے ہیں کہ:
جناب زید ابن علی فرماتے تھے کہ:
وہ امامؑ عج کہ جن کا انتظار کیا جا رہا ہے وہ امام حسینؑ کی نسل سے ہیں اور یہ وہی مظلوم حسینؑ ہیں کہ جن کے بارے میں قرآن میں اللہ نے فرمایا:
سورہ الاسراء 33⭐⭐
وَ مَنْ قُتِلَ مَظْلُوْمًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِیِّهٖ سُلْطٰنًا فَلَا يُسْـرِفْ فِّى الْقَتْلِ ۖ
جو مظلوم قتل ہوتا ہے ہم اس کے ولی کو بدلہ کا اختیار دے دیتے ہیں۔
فرماتے ہیں کہ جناب حسینؑ کی نسل سے یہ ولیؑ ہو گا اور اس ولی کو اللہ طاقت دے گا لیکن یہ ولیؑ لوگوں کو قتل کرنے میں اصراف نہیں کریں گے بلکہ حق و عدالت کے ساتھ اپنی حکومت کریں گے
فرماتے ہیں
بلآخر ان کا جو تسلط ہے وہ ان کی حجت اور دلیل میں ہے جسے وہ پوری مخلوق خدا پر قائم کریں گے۔ اس طرح لوگوں پر حجت تمام کریں گے کہ لوگ پھر ان پر حجت تمام نہیں کر سکتے۔ یعنی مولاؑ پھر حق کی ساری راہیں دیکھیں گے۔ دلائل کے ساتھ ، ہدایت، راہ اخلاق، لوگوں کو دعوت دیں گے۔
پس یہاں سے واضح ہو رہا ہے کہ امام مہدیؑ عج کی سیرت امیرالمومنینؑ اور پیغمبرؐ کی سیرت ہے۔ اور ہم دیکھتے ہیں کہ شیعہ سنی کتابوں میں ایسی روایات موجود ہیں کہ جس میں یہ واضح کہا گیا ہے کہ وہ سنت محمدؐ پر چلیں گے۔ اسی طرح ہدایت دیں گے جس طرح پیغمبرؐ ہدایت دیتے تھے۔ اسی سیرت اور روش پر ہونگے۔
(کمال الدین، بحارالنوار)📚
جناب نعمانی نے الغیبت میں بھی یہی لکھا ہے کہ:
📖
فرمان امام محمد باقر ؑ ہے
الغیبت نعمانی :
بحار النوار
وہی رسولؐ اللہ کی سیرت ہے ۔ جس طرح رسولؐ اللہ تشریف لائے اور دعوت حق کا آغاز کیا تو پہلے تمام جاہلانہ رسومات کو ختم کیا۔ اسی طرح امام زماںؑ عج جب تشریف لائیں گے تو جتنی بدعتیں اور انحرافات آج اسلام کے اندر ہیں ان کو امام زماںؑ عج ختم کریں گے اور نئی بنیادوں پر یعنی اسی اسلام حقیقی کو لوگوں کے سامنے پیش کریں گے۔
قرآن مجید ہمارے پیغمبرؐ کو یہ فرما رہا ہے کہ آپ لوگوں کو محبت سے دعوت دیں۔ مثلاً سورہ آل عمران آیت 152میں ذکر ہوا۔ پیغمبرؐکی جو روش اور سیرہ ہے وہ یہی تھی کہ وہ کفار کے ساتھ نرمی اور بلند ترین اخلاق الہیٰ کو پیش کرتے تھے یعنی پیغمبرؐ کفار اور مسلمانوں میں فرق نہیں کرتے تھے اور سب کے ساتھ اخلاق اور نرمی سے پیش آتے تھے ۔ بلآخر رسولؐ اللہ کے وہی اخلاق متعالی ہے جو خدا کی جانب سے ان کو لطف حاصل ہوا تھا کہ اتنی خلق عظیم پر فائز ہوئے جس کی وجہ سے وہی کفار جوق در جوق دائرہ اسلام میں داخل ہوئے۔
فرماتے ہیں کہ یہی روش اور سیرہ امام زماںؑ عج کی ہے کہ وہ بھی پیغمبرؐ کی سیرہ کی طرح کفار سے پیش آئیں گے۔
صاحب کشف الغمہء میں ہم یہ روایت بیان کی ہے اور یہ روایت بھی نبیؐ سے ہے کہ
فرماتے ہیں:
یہ جو بارہ امامؑ آئیں گے اور ان میں سے امام حسین ؑ کی نسل سے نواں میرے اہلبیتؑ سے اور میری امت کا مہدیؑ ہے اور لوگوں میں سے سب سے زیادہ اپنے ظاہر شمائل و صورت اور اپنے افعال و اقوال میں مجھ سے مشابہہ ہے۔ یعنی پیغمبرؐ کی شبیہہ ہیں۔
تو نبیؐ کی حکومت اقتدار کے لیے نہیں تھی بلکہ ایک خدائی حکومت تھی جس میں لوگوں کو ان کے حقوق دیئے گئے تھے تاکہ وہ دنیا اور آخرت کی سعادت حاصل کریں۔ اور اگر کوئی جنگ بھی تھی تو وہ جنگ اس لیے تھی کہ حقدار کو اس کا حق ملے اور کفر و شرک و باطل ختم ہو۔ یہی حکومت مہدیؑ عج ہو گی کہ پروردگار عالم ہمیں یہی حکومت دکھائے اور اس کا حصہ قرار دے
انشاء اللہ۔
والسلام🤲
شہربانو: ✍️
عالمی مرکز مہدویت قم 🌍
📢 گیارھواں کتابچہ " عصر ظہور"
# درس 16
# امام کی سیرت کا تجزیہ
# نکتہ: سخت اقدامات والی روایات کا تجزیہ، حضرت کی محبت و شفقت کے مظاھر
# استاد مہدویت علامہ علی اصغر سیفی صاحب 🎤🌹
ہماری گفتگو عصر ظہور میں امام زماںؑ عج کی بعنوان حاکم سیرت مبارکہ ہے۔ جیسا کہ بیان کیا تھا کہ امام ؑ عج کی سیرت پیغمبرؐ کی سیرہ مبارکہ ہے۔
سخت اقدامات والی روایات کا تجزیہ:⭐
بسا اوقات یہ اعتراض اور شبہ پیش آتا ہے کہ اگر آپؑ عج پیغمبرؐ کی سیرت پر چلیں گے تو پھر کیوں ہماری کتابوں میں ایسی روایات موجود ہیں جن میں مولاؑ عج کی جانب سے سخت اقدامات بیان ہوئے ہیں جیسے کفار اور اہل کتاب سے جزیہ نہ لینا، اور ان کے قتل کا حکم دینا اور مسلمانوں میں سے جو جوان بیس سال کے ہو جائیں اور مسائل فقہ اور مسائل دین سے اگر آشنا نہیں اور ان کو حاصل نہیں کیا تو ان کے قتل کا حکم صادر کرنا، مساجد کو گرانا وغیرہ یہ کیا ہے؟
اب اس میں تمام اہل فن ہیں یعنی جو محدث ہیں جن کو فن حدیث اور فن رجال پر عبور حاصل ہیں ان سب کا کہنا یہی ہے کہ ایسی تمام روایات ضعیف ہیں اور صحیح نہیں انہیں بنایا گیا ہے۔ اور ہمارے آئمہؑ سے منسوب کی گئی ہیں اور کتابوں میں موجود ہیں۔ علمائے کرام کا کہنا ہے کہ ایسے روایات سیرت معصومؑ کے ساتھ سازگار نہیں ہیں۔ معصومؑ وہ ہوتا ہے کہ جو کبھی بھی خطا نہ کرے، کسی پر ظلم نہ کرے اور نہ ہی گناہ کرے۔ تو یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک ہستی جو معصومؑ ہو حجت ہو اور وہ لوگوں کے ساتھ اتنی سختی سے پیش آئے یہ ممکن نہیں۔
چونکہ ہمارے پاس جو صحیح اور مستند روایات ہیں وہ یہ کہتی ہیں کہ امام زماںؑ عج کی سیرہ پیغمبرؐ اور امیرالمومنینؑ کی سیرت مبارکہ ہے۔
مثلاً یہاں بعنوان مثال شیخ طبرسیؒ نے الام الاوراء میں بحار النوار سے اس طرح کی ضعیف روایات کے حوالے سے تجزیہ کیا ہے۔
لکتھے ہیں کہ یہ جو امام عصرؑ کے حوالے سے روایات ہیں کہ آپ اہل کتاب سے جزیہ نہیں لیں گے اور انہیں قتل کریں گے یا جو جوان مسلمان بیس سال کا ہو اور اس نے مسائل دینی یاد نہ کئے ہوں اس کو قتل کریں گے یا مساجد کو گرائیں گے اگر ان کے بارے میں کوئی سوال کرے کہ یہ کیا ہے؟ تو ہم یہ جواب دیں گے کہ ہرگز ایسا نہ ہو گا۔ آپ کی حکومت میں ایسی کوئی سختی نہ ہوگی اور اگر ہماری کتابوں میں ایسی کوئی بھی روایت ہو جو ایسی سختی کو بیان کرے تو وہ روایت ضعیف ہے۔ بلکہ حضرت کے سخت اقدامات پر موجود کوئی بھی روایت صحیح نہیں ہے۔ اور اگر کوئی ایسی روایت ہمیں ملتی ہے تو وہ روایت اور اس کا مضمون معتبر نہیں کیونکہ اس کی سند اور اس کو بیان کرنے والے لوگ ٹھیک نہیں ہیں وہ کذاب ہیں جنہوں نے ایسی روایات کو ہمارے آئمہؑ سے منسوب کیا ہے۔
اس بات سے واضح ہو رہا ہے کہ جب لوگ ایسی روایات امام ؑ عج کے حوالے سے سنتے ہیں تو پریشان ہوکر سوال کرتے ہیں۔ تو ان کے لیے یہ جواب ہے کہ ایسا ہرگز نہیں ہے۔ البتہ مولاؑ جب حکومت قائم کریں گے تو ان کا رعب چھائے گا اور یہ رعب ان کے اپنے لوگ جو ان کی حکومت کو تسلیم کرتے ہیں ان کے لیے نہیں ہوگا بلکہ یہ رعب دشمنان دین ، ظالمین اور سرکشوں پر ہوگا۔ مولاؑ اپنے لوگوں سے محبت کریں گے اور لوگوں کے دلوں میں بھی اپنے امامؑ اور حاکم کی محبت ہوگی۔
اہلسنت کے عالم دین جناب متقی ہندی نے اپنی کتاب البرھان فی علامات مہدیؑ آخر الزماں
پیغمبرؐ اکرمؔ کا فرمان ہے کہ:
"اللہ مہدیؑ عج کی محبت کو لوگوں کے دلوں میں ڈال دے گا۔ اور آپؑ کے پیروکار دنوں میں شیر ہونگے اور رات میں راہب ہونگے"۔
یعنی دن میں حق پر عمل کرنے والے، شیطان سے لڑنے والے اور ظالموں سے لڑنے والے ہونگے اور راتوں میں عبادت گذار ہونگے۔
یہ روایت ہماری کتابوں بلکہ اہلسنت کی کتابوں میں بھی موجود ہے۔
اسی طرح ایک اور روایت کہ جس پیغمبرؐ فرماتے ہیں کہ:
امام مہدی کی حکومت میں زمین و آسمان سب میں رہنے والے شادمان ہوں گے اور اہل زمین اور اہل آسمان سب آپؑ سے عشق و محبت کریں گے۔
اسی طرح محمد بن حسن طوسیؔ نے کتاب غیبت میں اور اربیلی نے کشف الغمہ میں اور محمد بن جریر طبری نے دلائل الامامہ میں یہ روایت لکھی ہے۔
یہ دنیا کی واحد حکومت ہے کہ جس میں زمین و آسمان کے سارے رہنے والے حاکم سے محبت کریں گے۔ اب دنیا میں جتنی بھی اچھی حکومتیں ممکن نہیں کہ سارے راضی ہوں لیکن امام زماںؑ عج کی حکومت سے سارے راضی ہونگے۔
یہ حکومت ہے جو دنیا کو سعادت دے گی اور دنیا کے مسائل حل کرے گی اور اس حکومت کا حاکم اخلاق حسنہ کا بر ترین اور کامل ترین نمونہ ہوگا۔ اور اس کے ساتھ حکومت کو چلانے والے لوگ ہونگے وہ اخلاق کے اعلیٰ ترین مراتب پر فائز ہونگے اور یہ حکومت لوگوں کو دنیا میں سعادت ، نجات اور اخروی نجات اور برائیوں اور بدکاریوں سے نجات کا سامان فراہم کرے گی اور لوگوں کو علمی ، معنوی مادی ہر لحاظ سے ترقی دے گی۔
حضرت کی محبت و شفقت کے مظاھر:⭐
امامؑ عج محتاج ، مظلوم ، ضعیف ، مسکین لوگوں کے ساتھ شفقت سے پیش آئیں گے اور محبت کے ساتھ ان کے مسائل حل کریں گے۔
ایک روایت جو جناب جلال الدین سیوطی جو کہ اہلسنت کے بزرگ عالم ہیں جہنوں نے اپنی کتاب میں بیان کیا ہے کہ:
نبیؐ اکرم فرماتے ہیں:
میری امت سے جب مہدیؑ قیام کریں گے تو تمام مستضفین محتاج لوگوں کی فریاد رسی کے لیے اللہ انہیں معبوث کرے گا۔
اور خود حضرتؑ عج فرمائیں گے کہ:
میں اہل زمین کے لیے آرام و آسائش کا موجب ہو۔ جو میری حکومت میں ہوگا اسے دنیاوی اور اخروی آسائش ملے گی، ظالموں سے نجات ملے گی۔
لیکن ایک بات کی جانت توجہ رہے کہ مولاؑ عج اپنے ساتھ اور اپنے عہدیداروں کے حق میں سخت ہونگے تاکہ وہ اپنی ذمہداریوں میں کوتاہی نہ کریں۔
مولاؑ عج نرم و نازک لباس نہیں پہنیں گے جو جسم کو اذیت دے یعنی کھدر کا لباس جیسے آئمہؑ پہنتے تھے اور ان کا کھانا بہت زاہدانہ ہوگا یعنی وہ اپنے نفس کے ساتھ بھی سختی کریں گے اور اپنے اہل منصب کے ساتھ بھی سختی کریں گے۔
ورنہ عام لوگوں کے ساتھ مولاؑ عج نہایت شفقت اور محبت سے پیش آئیں گے اور دنیا کے سارے مسائل کو نہایت شفقت اور محبت سے حل کریں گے۔
امام زماں عج رحمت الہیٰ کا جلوہ ہونگے۔
واللہ!💞
انشاءاللہ!🤲
جاری ہے۔۔۔☘️☘️
پروردگار عالم ہمیں توفیق دے کہ ہم اس عظیم الہی حکومت کو دیکھیں اور اس مہربان حاکم کی زیارت سے ہمیں مشرف کرے اور اس عظیم الہیٰ حکومت میں ہمیں رہنا نصیب فرمائے۔
آمین۔ 🤲
والسلام
شہر بانو ✍️
عالمی مرکز مہدویت قم 🌍
📢 *گیارھواں کتابچہ " عصر ظہور"*
# *درس* 17
# امام کی سیرت کا تجزیہ
# نکتہ:ایک رات میں سارے امور کا صحیح ہونے سے مراد،کون لوگ بغاوت کریں گے ، حکومت مہدی عج کا ھدف
# *استاد مہدویت علامہ علی اصغر سیفی صاحب* 🌹🎤
ہماری گفتگو عصر ظہور میں امام زماںؑ عج کی بعنوان حاکم سیرت مبارکہ ہے۔ جیسا کہ بیان کیا تھا کہ امام ؑ عج کی سیرت پیغمبرؐ کی سیرہ مبارکہ ہے۔ اس حوالے سے آج مذید نکات بیان ہوں گے۔
*نکتہ* :
*جب امام زماںؑ ظہور فرمائیں گے توایک رات میں سارے امور کا صحیح ہونے سے مراد،⭐*
روایت ہے کہ جب امام زماں عج ظہور فرمائیں گے تو اللہ ایک رات میں ہی تمام امور دنیا کو صحیح فرما دے گا اور امام پوری دنیا پر قبضہ کر لیں گے۔
تو اس روایت کو دیکھتے ہوئے بعض لوگ یہ تاثر لیتے ہیں اور ذہن میں یہ خیال رکھتے ہیں کہ بس مولاؑ عج کو ہماری نصرت کی ضرورت نہیں کیونکہ اللہ ایک رات میں ہی امامؑ کے تمام امور دنیا کو درست فرما دے گا تو پس یہ کہنا کہ امام ؑ عج کے ظہور کی تیاری کریں اور اپنے اندر مہدوی صفات کو پیدا کریں تو اس کا کیا فلسفہ ہے حالانکہ اللہ نے تو تمام امور کو ایک رات میں صحیح کر دینا ہے فرشتوں کی جماعت نازل ہو گی جنگ ہوگی اور ایک ہی رات میں سب دنیا ٹھیک ہو جائے گی اور مولا ؑ پوری دنیا پر قابض ہو جائیں گے؟
ایک طرف تو ہم بہت ساری روایات کی رو سے یہ کہتے ہیں کہ مولاؑ عج کے ظہور کی تیاری کریں مولاعج کو 313 ناصرین کی ضرورت ہے مولاؑ عج کے 313 کمانڈر ہیں اور اس کے علاوہ ہزاروں لاکھوں ناصروں کی ضرورت ہے۔
عرض خدمت یہ ہے کہ جب اتنی ساری روایات ہیں کہ جو ہمیں مولاؑ عج کے ظہور اور ان کی نصرت کے لیے تیاری کا حکم دے رہی ہیں اور فلسفہء انتظار بیان کر رہی ہیں تو ان تمام روایات کو دیکھتے ہوئے ہمیں واضح طور پر درج بالا روایت کا موضوع بھی واضح سمجھ آرہا ہے۔
روایت کہہ رہی ہے کہ مولاؑ عج کے امور جلد سمٹ جائیں گے اور مولا عج ایک رات میں دنیا پر قابض ہو جائیں گے۔ یہاں ایک رات ضرب المثل کے طور پر ہے جیسے ایک انسان کسی کو کہتا ہے کہ تم یہ کام شروع کرو بس چٹکیوں میں یہ کام ہوجائے گا جبکہ وہ کام چند دنوں میں مکمل ہوتا ہے۔
تو اب پوری دنیا پر جو قبضہ ہے یہ دنیا کے حاکموں سے ممکن نہیں خود سکندر اعظم کی تمام عمر صرف ہو گئی لیکن پوری دنیا پر قبضہ نہ کر سکا۔ اور اس وقت بھی دنیا کے اندر امریکہ جو خود کو سپر پاور کہتا ہے وہ ویتنام، افغانستان ، عراق جیسے ممالک پر بھی قبضہ نہ کر سکا۔ تو کجا دنیا کے طاقتور ترین چین اور روس جیسے ممالک۔
اگر دنیا کا طاقتور ترین حاکم بھی ہو تو اس کو ایک تو طول عمر اور سینکڑوں سال اس کام کو انجام دینے کے لیے درکار ہیں۔ لیکن امام زماں عج نے صرف سات یا آٹھ مہینوں میں پوری دنیا پہ قابض ہونا ہے تو یہ ایک رات ہی تو ہے ۔ کہ جس کام کو کرنے کے لیے سینکڑوں سال درکار ہیں۔ پروردگار عالم امام زماں عج اور ان کے سپاہیوں کو اتنا طاقتور بنا دے گا کہ سینکڑوں سال کا کام سات یا آٹھ مہینوں میں ہو جائے گا۔
اس قسم کی روایات خدائی امداد ہے جیسے امامؑ عج اور ان کے سپاہیوں کا دشمنوں کے دلوں میں رعب طاری ہونا ، فرشتوں کی نصرت ، الہی تائید ان چیزوں کو دیکھتے ہوئے جو سال سو سالوں میں مکمل ہونا تھا امام اسے چند مہینوں میں مکمل کر لیں گے۔
📚
*روایت* :
کمال الدین اور دیگر کتابو میں یہ فرمان موجود ہے
رسولؐ خدا کا فرمان ہے۔
مہدیؑ عج ہم اہلبیتؑ میں سے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے امور کی اصلاح ایک ہی رات میں کر دے گا۔
یعنی امامؑ عج کا خروج اور تسلط دنیا پر ایک ہی رات میں ہو جائے گا۔
اسی طرح امام محمد باقرؑ فرماتے ہیں۔ 🌹
امام زماں ؑ عج کے اندرجو حضرت یوسفؑ کے ساتھ ہے وہ یہ ہے کہ اللہ ان کے امور کو ایک رات کے اندر صحیح کرے گا۔
حضرت یوسفؑ کو سال ھا لگے کہ بلآخر ان کا مصر پر تسلط ہوا اسی طرح امامؑ عج چند مہینوں میں پوری دنیا پر تسلط قائم کریں گے۔
اب یہ ممکن ہے کہ وہ متبرک لحظے اس رات سے مشابہت رکھتے ہوں کہ جس میں وہ آخری کام ہونا ہو جیسے حضرت یوسفؑ کے لیے وہ ایک رات تھی کہ جب بادشاہ مصر کو ایک خواب آیا اور وہ اس خواب کی تعبیر کے لیے مجبور ہوا جناب یوسف کو رہائی ملی اور بادشاہ نے انہیں ترقی دیتے ہوئے عزیز مصر قرار دیا۔
*تو اب اس ایک رات سے مراد وہ مبارک رات ہوگی کہ جس میں اللہ انہیں اذن فرمائے گا اور امام زماں عج ظہور اور خروج فرمائیں گے اور پوری دنیا پر ان کا تسلط قائم ہوجائے گا۔*
امام کو اللہ کی جانب سے حکم ہو گا کہ وہ اعلان کریں اور اپنے انصار کی نصرت کے ساتھ اس مبارک امر کا آغاز کریں ۔ نہ کہ اس سے مراد ایک رات میں مولاؑ کا پوری دنیا پر تسلط ہے۔ کیونکہ اس کے مدمقابل بہت سی روایات ہیں جو یہ بیان کر رہی ہیں کہ امام کی کئی مہینوں کی جنگوں کو بیان کر رہی ہیں اور پھر امام کا تسلط ہے۔
*کون لوگ بغاوت کریں گے :* 👉
ایک اسی سے ملتا جلتا موضوع یہ ہے کہ جب مولاؑ عج پوری دنیا پر تسلط قائم کریں گے تو بہت ساری جگہوں پر مولاؑ عج کے مدمقابل بغاوتیں ہوں گی۔ ان بہت سارے گروہوں اور ملتوں کی جانب سے کہ جن کو ہوائے نفس اور سرکشیِ پروردگار کی عادت ہوگی اور ظالمین اور شیطان کے پیروکار اور خوارج جو دشمن اہلبیتؑ جو بار بار بغاوت کریں گے کیونکہ یہ سرکش چین سے نہیں بیٹھیں گے اور مسلسل کوشش کریں گے کہ امام کے خلاف بغاوت کریں۔
مولاؑ عج اور ان کے ناصرین بار بار ان کی بغاوت کو دبائیں گے اور ان کی سرکشی کو ختم کریں گے انہیں سزائیں دیں گے۔ بلآخر یہ فتنے ختم ہونگے۔
امام صادقؑ فرماتے ہیں🌹 کہ:
تیرہ شہر اور قبائل ہیں جو حضرت عج کے ساتھ جنگ کریں گے اور امام زماں عج ان کو اس جنگ میں شکست دیں گے۔ انشاءاللہ
ان شہروں میں جو لوگ شامل ہونگے جن میں مکہ ، مدینہ، شام ، بصرہ اور دنستیان شامل ہیں۔ اور قبائل میں کرد، بنی ذبح، غنی، باہلہ وغیرہ ہیں۔
روایت میں ہم دیکھتے ہیں کہ جب آپ مکہ پر تسلط قائم کریں گے اور وہاں اپنا ایک گورنر بنائیں گے اور جب آپ مدینہ کی جانب بڑھیں گے تو مکہ کے لوگ آپ کے گورنر کو شہید کر دیں گے اور آپ ؑعج واپس پلٹیں گے پھر ایک شخص کو گورنر بنائیں گے پھرآگے بڑھیں گے تو مکہ کے لوگ اسے بھی شہید کر دیں گے۔ آخر میں حضرت عج واپس پلٹیں گے اور مکہ کے ظالمین اور خوارج سے سخت انتقام لیں گے۔
اسی طرح مدینہ میں بھی ایک یا دو مرتبہ بغاوت کا ذکر ہے۔ اور بعض دیگر اسلامی ممالک کے اندر بغاوت ہوگی جو فرزند رسولؐ کی حکومت کو آسانی سے قبول نہیں کریں گے کہ جن کو ناصبیت، منافقت، دشمنی اہلبیتؑ، شیطانی عزائم اور بلخصوص شیطانی عزائم کی عادت پڑی ہو۔
اور ایسی بیشتر بغاوتیں عالم اسلام کے اندر موجود ہیں کہ جن سے حضرت بار بار نبٹیں گے۔
اسی طرح کی ایک بغاوت کے بارے میں امام محمد باقرؑ کا فرمان ہے🌹 کہ فلاں بغاوت آخری بغاوت ہوگی جسے امام قائم ختم کریں گے۔
بلآخر سات آٹھ ماہ کا جو قیام ہے جس کے بعد پوری دنیا پر مکمل قبضہ ہو جائے گا اور کوئی ایسی شیطانی طاقت باقی نہیں رہے گی کہ جس سے حضرت جنگ کریں گے۔ اس کے نتیجے میں حضرت اپنی فوجی وسائل کو ان وسائل میں تبدیل کریں گے کہ جو لوگوں کی فلاح کے لیے ہوں۔ امام فوج کو ختم کریں گے کیونکہ فوج کی ضرورت تب ہوتی ہے جب کوئی دشمن موجود ہو تو جب دنیا میں کوئی دشمن ہی نہیں رہے گا اور صرف لوگوں کو منظم رکھنے کے لیے پولیس کی حد تک ایک نظامی قوت ہوگی۔ باقاعدہ فوج اور فوجی ساز و سامان کی ضرورت نہیں ہوگی۔
امیرالمومنینؑ کا فرمان ہے🌹 کہ امام قائمؑ عج کے آنے کے بعد دنیا سے جنگیں ختم ہو جائیں گی۔
اہلسنت کے ایک عالم کہتے ہیں کہ پھر تلوار سے اور استفادے ہوں گےاس سے لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے اوزار بنیں گے۔
*حکومت مہدی عج کا ھدف:* ⭐
درست ہے امام مہدیؑ پوری دنیا پر قبضہ کریں گے اس کا صرف ایک ہدف ہے حق کو قائم کرنا اور باطل کو ختم کرنا۔ سیرہ پیغمبرؐ ، سیرہ امام حسینؑ اور امام مہدیؑ یعنی چہادہ معصومینؑ کی سیرت ایک ہے۔
😭 جب امیرالمومنینؑ کو پوری دنیا پر حکومت ملی تو امامؑ نے اپنی پھٹی ہوئی جوتی کو لوگوں کے آگے پیش کر کے فرمایا کہ یہ پھٹی ہوئی جوتی تمھاری اس دنیا کی حکومت سے بہتر ہے۔ مگر یہ کہ میں حق کو قائم کروں اور باطل کو ختم کروں اگر میں یہ نہیں کر سکتا تو یہ پھٹی ہوئی جوتی بہتر ہے۔
امام مہدیؑ عج کی حکومت کا بھی ہدف یہی ہے کہ وہ عدالت کو قائم کریں گے اور ظلم اور فتنہ و فساد اور گناہوں کو دنیا سے ختم کریں گے۔
تو پس یہ جنگیں ختم ہو جائیں گی اور یہ حکومت لوگوں کی تربیت ، اخلاق اور رشد پر توجہ کرے گی اور لوگوں کو دنیاوی، دینی اور اخروی ہر لحاظ سے کمال تک پہنچائے گی۔
مولاؑ کا حکومت لینے کا ہدف یہ نہیں تھا ہم صرف اہلبیتؑ حکومت کریں اور ہمارے پاس طاقت ہو۔
*امامؑ کا ہدف یہ تھا کہ حکم خدا قائم ہو اور انسانیت اپنے اصلی معنی میں جلوہ گر ہو۔ حقوق اللہ پر لوگ عمل کریں اور حقوق العباد پورے ہوں اور دنیا سے یہ ظلم و ستم ختم ہو۔*
یہ بغض و عناد کی کیفیت یہ ایک دوسرے کو مارنا قتل کرنا جو بھی رنج ہے وہ ختم ہو۔ اللہ نے اس لیے تو ہمیں نہیں بنایا کہ ہم لڑائی کریں۔ آج گھر گھر میں لڑائی ہے۔ اگر انہی لوگوں کو دنیا کی حکومتیں دے دیں تو یہ دوسرے لوگوں کو چین سے جینے نہیں دیں گے۔
*انسان اندر سے کتنا ظالم ہیں کہ گھر میں ایک چھوٹی سے طاقت کے ذریعے ظلم کر رہا ہے۔ اگر اسے حکومت دے دیں تو یہ چنگیز خان اور ہلاکو خان سے بھی ظالم ہوگا۔* 😭
یہ حکومت انسان کی اندرونی اصلاح کو جلوہ گر کرے گی۔ اور لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرے گی۔
امام محمد باقرؑ فرماتے ہیں🌹 کہ حقیقی جہاد آخرالزماں میں ہیں کیونکہ ہم جو یہ دنیا کی جنگیں دیکھ رہے ہیں یہ صرف مال غنیمت اور ممالک پر قبضہ کرنے کے لیے ہو رہی ہیں۔
جہاد فقط آخرالزماں میں ہے کہ جس کے اندر انسانیت کی نجات اور انہیں سعادت واقعی تک پہنچانے کے لیے جنگ ہوگی۔
پس امامؑ عج کا اصلی ہدف لوگوں کی نجات اور سعادت ہے۔ امامؑ عج کی زندگی زاہدانہ ہے وہ دنیا کی حکومت سے اپنی آسائش کے لیے کچھ بھی نہیں لیں گے۔
امام ؑ عج کی زندگی مولا علیؑ جیسی ہوگی۔ امام کا بیٹا امامؑ جیسی زندگی گذارے گا۔ اور دنیا کے اندر صلح اور لوگوں کے رویوں میں آسائش ہوگی۔
سبحان اللہ۔ 🌹
قربان۔
جب لوگوں کے اخلاق اور رویے درست ہو جائیں تو ساری چیزیں درست ہو جاتی ہیں اور دنیا سے غربت اور فقر خود بخود ختم ہو جاتا ہے۔
امام مہدیؑ عج ایسے لوگوں کو ختم کریں گے جو ظالمین ، منافیقین، مفسدین مستکبرین کو ختم کریں ہر قسم کے شر سے نجات دیں گے۔ لوگ حقیقی معنوں میں ایسے زندگی گذاریں گے جیسے گذارنی چاہیے۔ اور ان کی دنیاوی دینی مادی، روحی فکری تربیت محمدؐ و آل محمدؑ کی حکومت کرے گے۔
*سبحان اللہ۔* 🌹🌹
*العجل یا امامؑ عج۔* 😭🤲
دعا ہے کہ پروردگار عالم ہمیں ایسی حکومت کو دیکھنے اور پانے کی توفیق عطا فرمائے الہیٰ آمین۔ 🤲
والسلام،
شہر بانو ✍️
*عالمی مرکز مہدویت قم*🌏
گیارھواں کتابچہ " عصر ظہور"
# درس 18📖
# حجت خدا کی حکومت کی خصوصیات
# نکتہ: سیاست سے مراد اور اسلامی سیاست
استاد مہدویت علامہ علی اصغر سیفی صاحب 🎤🌹
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ🚩
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
موضوع گفتگو عصر ظہور اور امام زماںؑ عج کی حکومت طیبہ ہے۔
ایک حجت خدا کی حکومت اور باقی دنیا کی حکومت میں فرق یہی ہے کہ حجت خدا کی حکومت میں سیاست اور اخلاق دونوں اکٹھے ہیں۔ بلکہ یہ دونوں ایسی چیزیں ہیں جو آپس میں لازم و ملزوم ہیں۔ کیونکہ اگر سیاست ہو اور اخلاق نہ ہو تو پھر یہ مفادات، پارٹی بازی ظلم اور فرعونیت اور لوگوں کے دینی و دنیاوی حقوق ضائع کرنے والی حکومت ہے۔ جو لوگوں کو ان کے دینی و دنیاوی اور آخرت کے حقوق سے محروم رکھتی ہے اور مفید ثابت نہیں ہوتی۔ لیکن اگر اس حکومت کے اندر اخلاق الہیٰ شامل ہو جائیں تو پھر یہ حکومت انسان کو اس کے ہدف، اس کے کمال دنیوی اور کمال اخروی تک پہنچاتی ہے۔
حجت خدا کا دنیا میں آنے کا ہدف ہی یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کے اخلاق اور صفات الہیہ کو مکمل کرے۔ اور لوگوں کو الہیٰ انسان بنائے۔ جیسے ہمارے پیغمبرؐ نے اپنے معبوث ہونے کا جو ہدف بیان کیا ۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ذکر ہوا ہے پیغمبرؐ کی اخلاقی شخصیت اور ان کو خلق عظیم قرار دیا ہے۔
پیغمبرؐ نے فرمایا ہے کہ : 🌹
إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ مَکَارِمَ الْأَخْلَاق
میں اعلیٰ اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا ہوں۔
فرمایا: 🌻
میرا آپ لوگوں کے درمیان بعنوان نبیؐ معبوث ہونے کا ہدف یہی ہے کہ میں آپ لوگوں کے اندر جو اخلاقی صفات ہیں انہیں کامل کروں۔
انسان کے اندر کچھ نہ کچھ اخلاقی چیزیں ہوتی ہیں ایسا نہیں کہ انسان شروع سے اخلاق سے خالی ہوتا ہے۔ تو ان کو کمال تک پہنچانا ایک پیغمبرؐ ، نبیؐ اور امامؑ کا ہدف ہوتا ہے۔ کہ ان کو شگوفہ کریں ان میں نکھار آئے اور وہ گردوغبار جو ہماری خطائیں اور گناہ ہیں ان کو ہٹائیں تاکہ انسان کی اصلی الہیٰ شخصیت سامنے آئے۔
اب یہی حجت جب حاکم بنتے ہیں تو وہ اس اپنی قوت سے اس ہدف کو پایہ تکمیل تک پہنچاتی ہے اور اپنے سامنے جتنے بھی مانع ہیں یعنی گمراہ لوگ، منافق، ظالم سب کو ختم کرتی ہے اور دنیا کو حکمت اور علم الہیٰ سے بھر دیتے ہیں۔
سیاست سے مراد اور اسلامی سیاست 👉
اب ہمارے سامنے دنیا میں سیاست سے ایک بُرا معنی سامنے آرہا ہے۔ سیاست سے مراد پارٹیوں کے مفادات، حقوق کا ضائع ہونا ، خودغرضیاں اور دنیادار حاکم ہیں لیکن دراصل سیاست ایک مقدس لفظ ہے۔ یہ لفظ ہمارے انبیاءؑ اور آئمہؑ کے لیے بھی استعمال ہوا ہے۔
سیاست کیا ہے؟👉
اسلامی نقطہ نگاہ سے سیاست یہ ہے کہ لوگوں کو کمال تک پہنچایا جائے اور لوگوں کی اخلاقی صفات کو کمال تک پہنچایا جائے کہ ایک معاشرہ جو ہے وہ ایک پُر آسائش معاشرہ ہو جس میں ایک دوسرے کے لیے ایثار ہے ایک دوسرے کی مدد ہے ، ہمدلی، ایمان ، خوف خدا اور ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھتے ہوں۔
رہبر کبیر امام خمینؒی فرماتے ہیں کہ: 🌹
سیاست کا معنی یہ ہے کہ معاشرے ، ملت ، رعایا، ملت کو ایک حاکم ایسی راہ پر لے کر چلے اور ان کی ہدایت کرے کہ اس راہ کے اندر اُس قوم وملت کی مصلحت و فلاح ہو۔
(فردی اور مجموعی بھلائی ہو)
فرماتے ہیں کہ روایات میں ہمارے پیغمبرؐ کے لیے لفظ سیاست آیا ہے کہ پیغمبرؐ اس لیے مبعوث ہوئے ہیں تاکہ امت کی سیاست کواپنے ہاتھوں میں لیں اور لوگوں کی خیر و بھلائی ہو۔
آیت اللہ مکارم شیرازی فرماتے ہیں کہ:🌻
سیاست یعنی ایک ایسی حکومت ایک ایسا حاکم جو لوگوں کے امور کو ایک ایسا نظم دیتا ہے کہ لوگوں کا ہدف الہیٰ قرب کو حاصل کرنا ہوتا ہے۔ اور اس نظم کے اندر لوگوں کی تربیت ہوتی ہے۔
تو جب کسی ملت کے اندر پروردگار کے تقرب کی خواہش بڑھے اور ملت کی تربیت شروع ہو جائے تو یہاں یہ وہ مقام ہے کہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ اسلامی سیاست ہے۔
لہذا جب بھی کسی پیغمبرؐ یعنی چاہے حضرت داؤدؑ و سلیمانؑ ہوں یا ہمارے پیغمبرؐ ہوں یا کوئی حجت خدا ہوں جیسے امیرالمومنینؑ تو ان کی حکومت جب بھی محقق ہوتی ہےسب سے پہلی چیز جو سامنے آتی ہے وہ عدالت الہیٰ ہے۔ یعنی ہر چیز کو اس کے مقام پر رکھنا۔ ہر انسان کو اس کے مکمل حقوق ملتے ہیں جو اس کی دنیا اور آخرت کو مکمل کرتے ہیں۔
تو بس امامت کی شکل میں اب جو حکومت سامنے آئے گی وہ ہماری صفات و اخلاق کی تکمیل کے لیے ہوگی جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ لوگ سعادت مند ہونگے۔ کیونکہ جتنے بھی مسائل ہیں وہ ہمارے اندر ہیں ہمارا باہر صاف ہے۔ کچھ لوگوں کی تربیت نہ ہونے کی وجہ سے جب وہ حاکم بنتے ہیں تو پورا معاشرہ شکار ہوتا ہے۔
آج جو ملتیں ترقی کر رہی ہیں تو ان پر ایسے حاکم ہیں کہ جن کی کچھ نہ کچھ ترقی ہوئی ہوئی ہے۔ وہ لوگوں کو دنیاوی حقوق پورے دے رہے ہیں۔ اگر وہ باطنی طور پر بھی صالح ہو جائیں تو پھر ان کی حکومت حجت الہیٰ کی حکومت کی طرح ہو جائے گی کہ جس میں لوگوں کو دنیا حقوق بھی مل رہے ہیں اور ان کی باطنی تربیت بھی ہو رہی ہے اور تقرب الہیٰ پر بھی کام ہو رہا ہے۔ اور ایسی حکومت کے لیے ہم کہتے ہیں کہ یہ حکومت ایک معاشرے کو سعادت مند بنانے کے لیے قدم اٹھا رہی ہے۔
حکومت اسلامی کا بنیادی ہدف انسانی اخلاق کی تکمیل ہے۔ 🌻اور یہ تب ہو گا جب نبیؐ یا امامؑ حاکم ہو اور عدالت کو بحال کرے اور جب عدالت بحال ہوگی تو رعیت اور ملت کے مسائل ایک ایک کر حل ہوتے جائیں گے اور ظالمین، گناہ گاروں اور فتنہ کرنے والوں سے جب ان کی جان چھوٹتی جائے گی اور ان کی تربیت کے لیے اقدامات ہونگے تو یہی لوگ ایک دوسرے کے حق میں اتنا بہترین پرمحبت پر ایثار رویہ دکھائیں گے اور ایک دوسرے کے حق میں سخاوت دکھائیں گے کہ نتیجتہً یہی دنیا ان کے لیے بہشت اور مدینہ فاضلہ بن جائے گی۔
چونکہ بلآخر خیر و شر کی لڑائی تو ہمارے اندر ہے ہی لیکن یہ حکومت خیر کو شر پر غلبہ دے گی۔ جب انسان کے باہر کے حالات (حکومت کے حالات) برے ہوں تو شر غالب آجاتا ہے لیکن جب انسان کے باہر کے حالات اچھے ہوں یعنی حجت خدا کی وجہ سے شر کمزور ہو جاتا ہے اور خیر کا غلبہ ہوتا ہے اور انسان فردی اعتبار سے بھی قوی اور مفید ہوجاتا ہے اور اجتماعی اعتبار سے بھی اور تب ملت مفید ہوتی ہے۔
امام زماںؑ عج کی حکومت اخلاق کی حکومت ہے🌹 جس کے اندر اخلاق پر کام ہوگا لوگوں کے فکر و روح پر کام ہوگا۔ جس میں حقیقی شکل میں شریعت پیغمبرؐ سامنے آئے گی جو ہر قسم کی تحریف اور فرقے سے پاک ہوگی۔ اور حقیقی اسلام سامنے آئے گا اور امام زماںؑ عج لوگوں کی روحی ، معنوی اور فکری حیثیت پر کام کریں گے۔ 💞
جب مولا کو حکومت ملے گی تب لوگوں کو امامت سمجھ آئے گی کیونکہ اس وقت امامت اپنی تمام تر حالت میں سامنے آئی گی۔ ابھی جو ہم امامت کے حوالے سے مطالعہ کرتے ہیں وہ اس حوالے سے ہے کہ آئمہؑ کو حق حکومت نہیں ملا۔ انہوں نے اپنی محدود حالت میں افعالیت کی ہے لیکن جب امامؑ عج کو امامت کے ساتھ حکومت مل جائے گی پھر امامت اپنے تمام تر اوصاف کے ساتھ سامنے آئے گی پھر لوگوں کو پتہ چلے گا کہ امام کیا ہوتا ہے اور امام کہاں کہاں تک ایک انسان کی مشکلات کو حل کرتا ہے اور اس کی ضروریات کو پورا کرتا ہے۔
جیسے قرآن مجید میں سورہ حج کے اندر اللہ تعالیٰ صالحین کی حکومت کو اس طرح بیان فرما رہا ہے کہ:
اَلَّـذِيْنَ اِنْ مَّكَّنَّاهُـمْ فِى الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلَاةَ وَاٰتَوُا الزَّكَاةَ وَاَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَنَـهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ ۗ وَلِلّـٰهِ عَاقِـبَةُ الْاُمُوْرِ (41)💞
وہ لوگ کہ اگر ہم انہیں دنیا میں حکومت دے دیں تو نماز کی پابندی کریں اور زکوٰۃ دیں اور نیک کام کا حکم کریں اور برے کاموں سے روکیں، اور ہر کام کا انجام تو اللہ کے ہی ہاتھ میں ہے۔
نماز سے مراد لوگوں کے دلوں میں خوف خدا اور توجہ خدا بڑھے گی۔ زکوۃٰ دیں گے یعنی لوگوں میں فقر ختم ہوگی۔ 🌺
💶
آج ہم نے زکوۃ نہ دے کر الزام گورنمنٹ پر لگا دیے ہیں۔ یہ درست ہے کہ حکومت بھی ٹھیک نہیں لیکن ہم نے بھی مالی حقوق ادا نہیں کئے جس کی وجہ سے امیر امیر ترین ہے اور غریب غریب تر ہے۔ جب ہم مالی حقوق ادا کریں گے جو اللہ نے ہم پر فرض کئے ہیں تو کتنی حد تک مالی مسائل حل ہونگے اور جب نیکی کی طرف ابھاریں گے اور برائی کی طرف روکیں گے تو پھر معاشرہ اخلاقی اور بافضیلت معاشرے میں تبدیل ہو جائے گا۔ اور امام زماںؑ عج اور ان کے انصار ایسے ہی ہیں۔
⭐⭐
جیسا کہ خواجہ نصیر الدین طوسیؒ جو علامہ حلیؒ کے بھی استاد ہیں فرماتے تھے کہ:
امام ؑ وہ سیاست دان ہے کہ جو عدالت سے تمسک کرتے ہیں اور اپنی ملت کو صدیق لوگوں کی شکل میں تبدیل کرتے ہیں اور یہ مملکت کو خیر و بھلائی سے بھر دیتے ہیں اور اپنے خواہشات اور شہوات پر قابو رکھتے ہیں۔ یعنی امام زماںؑ عج کی حکومت ایسی ہوگی۔ 🌻
پروردگارہم سب کو توفیق دے کہ ہم اس عظیم الہیٰ حکومت کا حصہ بنیں اور اس کی راہ ہموار کریں اور ہماری تیاری سے ہمارے مولاؑ عج کا انتظار ختم ہو۔
الہیٰ آمین۔ 🤲
انشاءاللہ💞
والسلام۔
شہربانو: ✍️
عالمی مرکز مہدویت قم 🌍
📢 گیارھواں کتابچہ " عصر ظہور"
# درس 19
# سیرت امام مہدی عج
# نکتہ: زمانہ ظہور میں دینی و سیاسی سیرت
# *استاد مہدویت علامہ علی اصغر سیفی صاحب 🎤* 🌹
ہماری گفتگو عصر ظہور میں جاری ہے اور امام مہدیؑ عج کی سیرت طیبہ کو مختلف عناوین سے بیان کیا گیا ہے۔
آج ہم ایک قلی نگاہ ڈالیں گے کہ مجموعی طور پر روایات مولاؑ عج کی سیرت کو کس نگاہ سے دیکھتی ہیں۔ ایک قلی اور مجموعی نگاہ۔ یعنی ہر حوالے سے مولاؑ عج کی سیرت کو دیکھیں گے یعنی ایک سمندر کو ایک کوزے میں بند کر دینا۔
*زمانہ ظہور میں امامؑ عج کی دینی سیرت:. ⭐🌻*
سب سے پہلے روایات امام زماں عج کی دینی سیرت کو بیان کرتی ہیں کہ امام زماں عج ہمشیہ پروردگار کے مدمقابل خاضع ہیں۔
روایات کہتی ہیں کہ: 📖
امامؑ عج اس عقاب کی مانند ہیں کہ جو آسماں سے نیچے آگیا ہے اور اس نے اپنے پَر سمیٹ لیے ہیں اور سر جھکا لیا ہے۔ یعنی ایک خاضع اور خاشع عبد کی مانند پروردگار کی بارگاہ میں ہیں۔
اسی طرح روایات کہتی ہیں کہ امام مہدیؑ عج ایک عادل امامؑ عج ہیں کہ جس نے ذرہ برابر بھی حق کو ختم نہیں ہونے دیا اور ذرہ برابر بھی حق سے کوتاہی نہیں کی اور اللہ نے دین اسلام کو ان کے ہاتھوں سے غلبہ دیا ہے اور وہ ہمیشہ خوف خدا اپنے دل میں رکھتے ہیں اور ہمیشہ اللہ کی بارگاہ میں تقرب اور قربت کے خواہاں ہیں اور کبھی بھی مغرور نہیں ہیں۔ ان کی دل میں کبھی بھی دنیا داری نہیں ہے اور ان کی حکومت میں کسی کو نقصان نہیں ہوا اور کسی کے ساتھ ظلم نہیں ہوا اور اگر کسی کے ساتھ ظلم کیا ہے تو وہ یہی کہ حدود الہیٰ کو اجراء کیا ہے۔
*امامؑ عج کی اخلاقی سیرت:* 🌻
روایت یہ کہتی ہیں کہ صاحب حشمت، صاحب سکینہ، صاحب وقار ہیں۔
امام مہدیؑ عج سخت قسم کا لباس پہنتے ہیں اور جو کی روٹی کھاتے ہیں اور علم و حلم میں سب سے زیادہ ہیں ہمنام پیغمبرؐ ہیں اور ان کے اخلاق اخلاقِ محمدیؐ ہیں اور لوگوں کے اندر ہدایت کی روشن مشعل کی مانند چلتے ہیں اور صالحین کی مانند زندگی گذارتے ہیں۔
*امام ؑ عج کی عملی سیرت:* 🌻
جب امامؑ عج ظہور فرمائیں گے تو دنیا میں فقط اور فقط وحدت دیکھی جائے گی۔ لوگ ایک دوسرے کے ساتھ اتنے ہمدل ہونگے کہ ایک دوسرے کی چیز لے لیا کریں گے اور کوئی اسے روکے گا نہیں۔ لوگ ایک دوسرے سے بغیر منافع کے خرید و فروخت کریں گے۔ لوگوں کے دلوں سے کینہ ختم ہو جائے گا ہر جگہ امن و امان ہوگا اور امام مہدیؑ عج مال کی بخشش کریں گے۔ اور صرف جو حکومت کے اہلکار ہونگے ان پر سختی کریں گے تاکہ وہ لوگوں کے حق میں خدمت کریں۔ لیکن عام مساکین، مستحب اور مظلومین کے ساتھ بہت ہی رحمدل ہوں گے۔
*فرماتے ہیں کہ:* ⭐⭐
امیرالمومنین ؑ کی مانند زندگی گذاریں گے۔ خشک روٹی کھائیں گے اور زاہدانہ زندگی بسر کریں گے۔
*مولاؑ عج کی سیاسی سیرت:* 🌻
امامؑ عج کی سیاسی سیرت کے حوالے سے روایات میں ہے کہ ان کے دور میں ظالمین کی حکومت ختم ہو جائے گی اور منافق لوگ جو گروپ بازی کرتے ہیں اور سفارشوں اور رشوتوں سے اپنے کام نکلواتے ہیں وہ سب ختم ہوجائے گا اور خیانت کرنے والے ختم ہو جائیں گے۔ اور مکہ جو قبلۃ المسلمین ہے وہ امامؑ عج کی حکومت میں ایک بہت بڑا مرکز ہوگا۔ جہاں سے مولاؑ عج قیام شروع ہوگا اور امامؑ کے انصار ان کے گرد جمع ہونگے۔
مولاؑ عج دنیا سے یہود اور مسیحوں کا تسلط ختم کریں گے اور دنیا جو آج ان کے سودی نظام میں جکڑی ہوئی ہے اور یہ جو اسلحہ بیچتے ہیں اور دنیا میں ایک دوسرے کا قتل عام کراتے ہیں ، دنیا کو جو پیسہ دیتے ہیں اور اپنے قوانین ان سے منواتے ہیں یہ سب ختم ہو جائے گا اور وہ اصلی نسخہ جو تورات و انجیل کا ہے وہ امامؑ وقت غارِ انطاقیہ سے نکالیں گے کہ جہاں تابوت سکینہ ہے اور لوگوں کو دکھائیں گے کہ اے اہل تورات و انجیل تمھارے لیے انجیل و تورات میں یہ لکھا ہے اور اس کے مطابق ان کے درمیان حکم کریں گے اور حقائق ان پر ظاہر کریں گے اور انہیں اسلام کی دعوت دیں گے۔
مولاؑ عج کے زمانے میں اگر کوئی حکومت باقی رہے گی تو وہ حکومتِ حقِ اسلامی ہے حکومت قرآنی ہے۔ یہ امام زماں عج کی حکومت ہو گی جو شرق و غرب پر حکومت کرے گی۔ حضرت عیٰسیؑ آسمان سے آئیں گے مگر امام مہدیؑ عج کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔ جب مولاؑ عج بیت المقدس میں پہنچیں گے تو حضرت عیٰسیؑ آواز دیں گے کہ بیت المقدس کے در کو کھولو۔ تو تب دجال ستر ہزار یہودیوں کے ساتھ مدمقابل آئے گا تب حضرت عیٰسیؑ دجال پر حملہ کریں گے۔ دجال اس وقت فرار کرے گا اور حضرت عیسٰیؑ فرمائیں گے کہ میں تجھے ایک ہی ضرب میں قتل کروں گا اور نبیؑ خدا ایسا ہی کریں گے اور دجال کے ساتھ جو یہودی ہونگے وہ درختوں جانوروں اور پہاڑوں کی پناہ لیں گے اور پتھروں کے پیچھے چھپیں گے لیکن ہر چیز مسلمانوں کا ساتھ دے گی۔ اگر کوئی دشمن خدا کسی پہاڑ اور پتھر کے پیچھے چھپا ہوگا تو وہ پہاڑ یا پتھر آواز دے گا کہ اے بندہ خدا یہاں ایک یہودی چپھا ہوا ہے آؤ اسے مارو۔
*یہودی دو قسم کے ہیں* :🫴
1۔ جو مسیح کے انتظار میں ہیں👉
2۔ جو صہیونی ہیں👉
جو فلسطین اور پوری دنیا میں جگہ جگہ مسلمانوں پر ظلم کر رہے ہیں اور قتل و غارت کر رہے ہیں اور مسلمانوں کو آپس میں لڑا رہے ہیں اور پوری دنیا کا سودی نظام ان کے ہاتھوں میں ہے۔ اور بے پناہ ظلم و ستم کر رہے ہیں۔
مولاؑ عج ان ظالم یہودی صہیونیوں کے وجود سے دنیا کو پاک کریں گے اور دنیا میں کوئی ایسا حصہ باقی نہ رہے گا جہاں سے فقط ایک ہی آواز بلند ہوگی۔
*اَشْھَدُ اَنْ لَّآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رسولؐ اللہ*
انشاء اللہ🌹
*امام زماںؑ عج کی تربیتی سیرت* : 🌻
اُس زمانے میں امام زماںؑ عج سب لوگوں کو حکمت و علم سیکھائیں گے حتہ کہ خواتین گھروں میں بیٹھے ہوئے کتاب خدا اور سنت کے مطابق قضاوت کریں گی۔
لوگوں کی عقل اور فکر ترقی کریں گے ۔ مولاؑ عج خدا کی تائید سے لوگوں کی عقلوں کو کمال تک پہنچائیں گے اور فرماتے ہیں کہ مہدیؑ عج کے دور میں شیعوں سے ساری مصیبتیں دور ہوجائیں گی۔ مرد و خواتین فولاد بن جائیں گے۔ ایک انسان چالیس انسانوں جتنی طاقت رکھے گا۔ اور ان کی حکومت پوری زمین پر ہوگی۔ لوگ بدنی طور پر اتنے صحت مند اور قوی ہونگے کہ آج کے دور کے چالیس انسانوں جتنی طاقت رکھتے ہونگے۔
*امامؑ عج کی اجتماعی سیرت* :🌻
جب مولاؑ حکومت کریں گے انشاءاللہ تب دنیا سے جنگیں، مصبتیں، ظلم و ستم ختم ہوجائے گا۔ دنیا میں عدل و انصاف برپا ہوگا اور برکت نازل ہوگی۔ لوگ ایک دوسرے کے حق میں احسان کریں گے اور لوگوں کی روحیں زندہ ہوجائیں گی۔ حتہ کہ جانور اور نبادات میں برکت ہوگی ان کے اندر بھی عدالت ہوگی۔ سب لوگ امام مہدیؑ عج کے زمانے میں غنی اور بے نیاز ہو جائیں گے۔ اور کسی کے حق میں کوئی ستم نہیں کرے گا۔ حتہ کہ ایک روایت ہے کہ:
🔹کہتے ہیں کہ
مولاؑ عج کی حکومت کے زمانے کی نشانی یہ ہے کہ مکہ کے اندر مولاؑ عج کے نمائیندے یہ اعلان کریں گے کہ جو بھی اپنی جس نے بھی اپنی فریضہ نماز کو حجرہ اسود کے پاس اور طواف کی جگہ پر ادا کر دیا ہے اور اب وہ یہ نمازِ نافلہ پڑھنا چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ پیچھے ہٹ کر نماز ادا کرے تاکہ کسی اور کا حق پامال نہ ہو۔ اور جس نے نماز فریضہ پڑھنی ہے وہ آگے آئے اور ادا کرے۔ (سبحان اللہ!) ♥️
🔸بسا اوقات کعبہ میں ایسا ہوتا ہے کہ ایک انسان جس نے حجرہ اسود کے پاس اپنی فریضہ نماز ادا کی ہے وہ پھر نافلہ پڑھنے لگتا ہے اور بہت سارے لوگ منتظر رہتے ہیں ہر ایک کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ اس مقام پر فریضہ پڑھے تو عدالتِ مہدیؑ کی پہلی نشانی یہ ہوگی کہ اس مقام پر بھی عدالت کا اجراء ہوگا۔
روایت یہ بتا رہی ہے کہ اتنی دقت کے ساتھ لوگوں کے چھوٹے چھوٹے امور کا خیال رکھا جائے گا کجا کے دنیا کے بڑے بڑے مسائل ہیں۔
دعا ہے کہ پروردگار ہمیں اس عادلانہ حکومت کو دیکھنے اور اس عادلانہ حکومت کا حصہ بننے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین۔ 🤲
والسلام
شہربانو: ✍️
*عالمی مرکز مہدویت قم* 🌍
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں