Book 10 (Completed) Sadia
Book Number10 has only 11 lessons
*کتابچہ* 10📖
شرائط و علامات ظہور
درس 1
تمہیدی گفتگو
علامات اور شرائط میں فرق
*استاد مہدویت محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب🎤🌹*
خلاصہ: 📚📖
موضوع سخن علامات اور اسباب ظہور ہیں۔ 🫴
انسان جب سے اس زمین پہ آیا وہ اپنے اردگرد کے ماحول میں اور اپنے امور میں صرف اور صرف عدالت کو چاہتا ہے۔ عدالت اس کی فطرت میں ہے۔ اور ادھر ہم جتنے بھی دین آئے ہم ان سب کے اندر آخرالزماں میں عادلانہ ایک الہیٰ حکومت کی بشارت بھی دیکھتے ہیں۔ اور خود ہمارے اپنے دین میں آخرالزماں میں ہونے والی الہیٰ عادلانہ حکومت کی بے پناہ خبریں ہیں جو کہ آخری پیغمبرؐ کے نسل سے آنے والے آخری وصیؑ عج کے ذریعے تشکیل پائے گی۔
آغاز سے ہی احادیث کا سلسلہ جاری ہے جو اہلبیت، اصحاب اور تابین کے ذریعے بیان ہوتا رہا۔ اور یہ بشارت ہر دور میں نقل ہوئی۔ لیکن ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ایسے لوگ بھی ہیں جو اس موضوع سے غلط فائدہ اٹھاتے ہیں اور الہیٰ انقلاب کے لیے رکاوٹیں بنے ہوئے ہیں اور ایسے لوگ ہماری اپنی امت میں بھی ہیں اور اردگرد دیگر ملتوں اور عالمی سطح پر بھی ظالم اور سامراج کسی صورت میں بھی نہیں چاہتے کہ عادل حکمران ، عادل منجی، الہیٰ عادل دنیا پر حکومت کرے جس کی وجہ سے دنیا سے ظلم ختم ہو۔
*اب یہاں سوال یہ ہے کہ:* ✨
ہم اب کیا کریں اور کس طرح امامؑ عج کے ظہور کے لیے تیار ہوں۔ آیا ظہور کی کوئی شرائط ہیں تو وہ بتائی جائیں اور اگر کوئی علامات ہیں تو وہ بتائی جائیں۔ کیونکہ اب تو لوگ ہر چیز کو ہی علامت سمجھ بیٹھے ہیں اور فوراً ہی لوگ گفتگو شروع ہو جاتے ہیں کہ یہ علامت ظہور ہے۔ جیسے ترکی کے زلزلے کو لوگوں نے ظہور کی علامت سمجھنا شروع کر دیا۔ اس سے قبل کرونا کا مرض آیا تھا تو لوگوں نے اس کو بھی علامت قرار دیا۔ اسی طرح جیسے آجکل اسرائیل ، فلسطین غزہ کے حالات خراب ہیں تو لوگوں نے اس کو بھی علامت قرار دیا ہے۔
اسی طرح ہوسکتا ہے کہ کل کوئی اور واقع ہو جائے تو اسے بھی علامت سمجھا جائے اسی لیے ضروری ہے کہ ہمیں علم ہونا چاہیے کہ بلآخر امامؑ کے ظہور کی علامات کیا ہے۔ اسی لیے کہا گیا ہے کہ امامؑ کی معرفت حاصل کی جائے کیونکہ جب ہم معرفت حاصل کرتے ہیں تو سب چیزوں کو اچھے انداز سے پڑھتے ہیں اور ہمیں معلوم ہو جاتا ہے کہ حق کیا ہے اور باطل کیا ہے۔
یہ جو زمانہؑ غیبت ہے اس میں اللہ نے لوگوں کو طاقت دی ہے کہ ہمارے پاس موبائل انٹرنیٹ جیسے وسائل آئے ہیں اور جو ہماری علمی ترقی ہے جیسے طرح طرح کے کورسز۔ بلآخر یہ وہ زمانہ ہے کہ جس میں لوگ عقلی حوالے سے بہت ترقی یافتہ ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ جو واقعاً امام زماں عج کی معرفت حاصل کریں گے اور ان کے مددگار بھی بنیں گے۔
*اس حوالے سے امام جعفر صادقؑ سے روایت نقل ہوئی:* 🌟
فرماتے ہیں کہ نبیؐ کریمؔ نے جو مولا علیؑ سے جو وصیت کی تھی اس میں ایک جملہ ہے کہ:
یا علیؑ جان لیں کہ وہ لوگ جو ایمان کے اعتبار سے عجیب ترین (حیرت انگیز) ہونگے اور یقین کے اعتبار سے عظیم ترین ہونگے ۔ یہ وہ قوم ہے جو آخری دور میں آئے گی۔ اور انہوں نے پیغمبرؐ کو نہیں دیکھا ہوگا اور حجت الہیٰ بھی پردہ میں ہوگی اور وہ کاغذوں پر لکھی ہوئی سیاہی پر ایمان رکھتے ہونگے۔
*سبحان اللہ!🌷*
آج کے دور کے لوگوں کی بہت زیادہ تعریف ہے۔ اور یہ تعریف اس لیے ہے ہم وہ لوگ ہیں جو اگر چاہیں تو ساری دنیا کا نظام بدل سکتے ہیں۔ کیونکہ معرفت کے سارے وسائل موجود ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ ہمیں کیا کرنا ہے اور ہم وقت کے دشمن کو بھی پہچانتے ہیں اور ہم اسی زمانے میں ہیں کہ جس زمانے میں مولاؑ ظہور کر سکتے ہیں۔ ( *انشاءاللہ* )🌺
ہماری گفتگو کا موضوع شرائط ظہور اور علامات ظہور ہیں۔
*شرائط اور علامات میں فرق۔🤌*
*شرائط* :🫴⭐⭐
ظہور شرائط پر موقوف ہے۔ یعنی جس پر ظہور موقوف ہے۔
*علامات* : 🌻🌻
ایسے واقعات ہیں کہ جن سے یہ پتہ چلے گا کہ جس ہستی نے ظہور کیا ہے یہ مہدیؑ حق ہیں۔
یعنی علامات صحیح ظہور، صحیح مہدیؑ اور جھوٹے مہدی میں تشخیص کا ذریعہ ہے۔
تاریخ میں کتنے ہی لوگوں نے جھوٹے مہدی کا دعوٰی کیا۔ اس وقت علماء نے علامات پوچھیں اور علامات نہ ہونے کی وجہ سے انہوں نے رد کیں۔
آج بھی اگر کوئ مہدی ہونے کا اگر دعویٰ کرے تو ہم یہ دیکھیں گے کہ علامات تو نہیں آئیں پس یہ جھوٹا ہے۔
تو پس یہ علامات امامؑ کے ظہور سے قبل دیڑھ سال کے عرصے میں مکمل ہونگی جو بتائیں گی کہ اب جو آرہا ہے وہ حقیقی مہدیؑ زماں ہیں۔
بطور قلی اگر ہم اپنی گفتگو کو سمیٹیں تو یوں کہیں گے کہ علامات ظہور کی کاشف ہیں۔ لیکن شرائط ظہور کو وجود میں لانے والی ہیں۔ علامات کسی بھی زمانے میں ہوسکتی ہیں اول، اوسط آخر لیکن شرائط اکھٹی ہونگی تو ظہور ہوگا۔ اسباب ہونگے تو مسبب ہوگا۔ اور تیسری چیز یہ ہے کہ علامات کا آپس میں تعلق نہ ہو۔ ایک آسمانی ندا ہے ایک یمنی کا خروج ہے ایک خصف بیدا ہے لیکن شرائط آپس میں اکھٹی ہیں۔
یہ بھی ممکن ہے کہ علامات میں سے ایک ظاہر نہ ہو۔ لیکن شرائط ساری ہونگی تو ظہور ہوگا۔
یہ بھی ممکن ہے کہ ساری علامات قابل شناخت ہیں ہم ان کو سمجھیں گے ان کا پتہ چلے گا۔
یہ شرائط کے بارے میں ممکن ہے کہ ہمیں معلوم نہ ہو۔ جیسے ممکن ہے کہ امام کے 313 ناصر ہوں اور ہمیں پتہ نہ ہو۔
ظہور ہماری تیاری پر موقوف ہے۔ 🫴
*جاری ہے۔ ☘️* ☘️☘️
پروردگار ہمیں توفیق دے کہ مہدوی ابحاث کو دقت سے سمجھیں خود بھی معرفت حاصل کریں اور آگے بہت سارے لوگوں کو بھی مولاؑ کی معرفت پر لگائیں تاکہ راہِ ظہور کے راہیوں میں اضافہ ہو اور ظہور ہو۔ تیاری کا ایک اہم عنصر ان چیزوں کو جاننا اور آگے نشر کرنا ہے۔ 🌷
والسلام
شہر بانو ✒️
*عالمی مرکز مہدویت قم۔* 🌍
کتابچہ 10📖
شرائط و علامات ظہور
درس 2
علامات کو جاننے کا فائدہ
اسباب کیا ہیں
پہلے سبب کی تشریح
استاد مہدویت محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب🎤🌹
خلاصہ:📚📖
موضوع سخن امام زماں عج کے ظہور کی علامات اور شرائط ہیں اس سے پہلے ہم علامات اور شرائط کے درمیان فرق بیان کر چکے ہیں۔
بسا اوقات لوگ یہ پوچھتے ہیں کہ اس بحث کو جاننے کا فائدہ کیا ہے بلخصوص علامات: 🫴
علامات کو جاننے کا فائدہ یہ ہے کہ انسان کو مولاؑ کی معرفت حاصل ہوتی ہے۔ کیونکہ جب علامات ظاہر ہونگی اس وقت حقیقی معنوں میں امام زماں عج کے ظہور کا زمانہ ہوگا۔
پوری تاریخ میں جھوٹے مہدی آئے کیونکہ علامات نہیں تھیں اس لیے ہمیں معلوم ہوگیا کہ یہ شخص جھوٹا ہے۔ جیسے قادیانی فرقے کے سربراہ میرزا قادیانی نے جب جھوٹی مہدویت کا دعویٰ کیا تو علماءاسلام نے اس وقت یہی کہا کہ چونکہ علامات ظاہر نہیں اس لیے آپ جھوٹے ہیں۔
اسی طرح فرقہ بابی کا سربراہ علی محمد شیرازی نے جب جھوٹی مہدویت کا دعویٰ کیا تو اس وقت بھی علمائے کرام نے اسے جھٹلا دیا کیونکہ علامات ظاہر نہیں تھیں۔ تو علامات جاننے کا فائدہ یہ ہے کہ انسان کو حقیقی مہدی اور جھوٹے مہدی میں تشخیص کی صلاحیت مل جاتی ہے۔ وہ صحیح اور واضح طور پر امام مہدیؑ عج کے ظہور کو جانتا ہے اور اسے فرق معلوم ہو جائے گا کہ یہ جھوٹا مہدی ؑ عج ہے یا پھر یہ حقیقی مہدی ؑ عج ہیں اور جب علامات شروع ہو جاتی ہیں تو انسان چونکہ متوجہ ہو جاتا ہے اور وہ تب بہتر انداز سے تیاری کر سکتا ہے کیونکہ ان علامات کو پورا ہونے میں تقریباً ڈیڑھ سال لگے گا اور اس میں انسان کے پاس توبہ کرنے اور ظہور کی تیاری کرنے کا وقت ہے۔
جب علامات شروع ہو جائیں گی تو وہ لوگ جو ظہور کے منکر ہیں ہوسکتا ہے کہ منکران مہدی عج اور منکران ظہور مہدیؑ عج کو بھی حقیقیت معلوم ہو جائے اور وہ اپنے اس غلط عقیدے سے پلٹ آئیں۔
علامات ظہور مخالفین امام مہدیؑ اور مخالفین ظہور مہدیؑ عج کے لیے ایک الہیٰ انتباہ (وارنیگ) ہے۔ اس جھوٹے نظریات اور باطل نظریات سے ہٹ جائیں۔ اور اہل ایمان و اہل اسلام کے زمرہ میں داخل ہوں۔ 🌟
اور ان علامات سے مایوسی کا خاتمہ ہوگا۔ کہ کب مولاؑ عج کا ظہور ہو اور کب ہم ان مصیبتوں سے نکلیں تو امید پیدا ہوگی اور لوگ بلآخر اچھے دور اور امام کی ہمراہی کے لیے اچھے انداز میں تیار ہو سکیں گے ۔ لیکن جیسے پہلے عرض کیا کہ علامات فقط تشخیص کا ذریعہ ہیں۔ لیکن ظہور شرائط پر موقوف ہے۔ اور شرائط ہماری تیاری پر موقوف ہے۔
شرائط کیا ہیں؟🫴
شرائط اسباب ہیں۔ خود ہم اردگرد جو دنیا ہے وہ بھی اسباب مسببات کا ذریعہ ہے۔ گندم کے ایک بیج کو پودے کی شکل دینے کے لیے کتنے شرائط و اسباب کی ضرورت ہے۔ سورج کی روشنی ، ہموار زمین، پانی، ایک ماہر کاشتکار، اور پھر وہ اس گندم کی نشوونما میں جو رکاوٹیں ہیں ان کو دور کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
دنیا میں کوئ کام بھی بغیر اسباب کے نہیں ہوتا۔
اگر کسی ملک میں ایک چھوٹا سے انقلاب آیا ہے تو اسباب کی وجہ سے ہوا ہے۔ انسان جب بھی ترقی کرتا ہے تو کچھ اسباب مہیا ہوتے ہیں۔
امام زماں عج کا یہ عالمی انقلاب کے بھی کچھ شرائط ہیں۔ یہ عالمی انقلاب شرائط کے بغیر ممکن نہیں۔ مثلاً یہ ایران میں جو انقلاب اسلامی آیا تو امام خمینی جیسا رہبر تھا اور ان کے ساتھ ایک گروہ تھا کہ جنہوں نے ہر صورت ان کا ساتھ دیا پھر ان کا ایک لائحہ عمل تھا کچھ اہداف تھے کچھ پروگرام تھے لیکن یہ کسی بھی انقلاب کو لانے والی عمومی شرائط ہیں۔ رہبر ہو اس کے لوگ ہوں اور اس کے اہداف ہوں جنہیں اس کے ساتھ چلنے والے لوگ پسند کریں اور ان کو پورا کرنے کے لیے انقلاب لائیں۔
ماہرین مہدویت نے احادیث مہدویت کی رو سے امام زماں عج کے ظہور کے لیے چار شرائط کا ذکر کیا۔
الف :☘️ مکمل ضابطہ حیات۔
ب:☘️ امام زماں عج کی قیادت اور رہبری
ج: ☘️انصار و مددگار
مولاؑ عج کے ناصرین کی موجودگی اور ان کی ایک مخصوص تعداد جو اہمیت اور کیفیت کے اعتبار سے ہے۔ یہ تیسرا اور اہم ترین سبب ہے کہ جس کے بغیر ممکن ہی نہیں۔
د: ☘️عام لوگوں کی آمادگی:
یعنی لوگ موجود ہیں لیکن تیار نہیں۔ ان کی تیاری ضروری ہے۔
پہلا موضوع شرائط
مکمل ضابطہ حیات: 🌟⚖️
ضابطہ حیات یعنی امام کے اہداف کیونکہ زمین کی اصل زندگی تو امامؑ عج کے ظہور سے شروع ہو گی۔
اس ضابطہ حیات میں امام زماں عج کے پاس دو اہم چیزیں ہیں:
1۔ 🌻معاشرے میں موجود برائیوں اور خرابیوں کا خاتمہ کرنا ہے اور اس کے لیے امامؑ عج نے ایک روش ترتیب دینی ہے۔
2۔ 🌻اور پھر بہترین اور نیک معاشرے کے تحقق اور پھر اس کی ترقی اور استحکام کے لیے ایک منظم اور مکمل قانون اور لائحہ عمل کو وجود میں لانا ہے۔
پہلے مرحلے امام زماں عج منظم ومکمل لائحہ عمل کے تحت دنیا سے ظلم ، برائیوں ، اور ظالمین کا صفایا کریں اور دوسرے مرحلے میں امامؑ عج پوری دنیا والوں کو صحیح و سالم اور عدل و انصاف پر قائم زندگی عطا کریں گے۔ اور یہ کام انشاءاللہ مولا ؑ عج کے قیام میں ہوگا۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کی جو مادی معنوی، انفرادی اور اجتماعی ضروریات ہیں اس کے مطابق خدا نے ایک مکمل اور صحیح دستور العمل عطاکیا ہے۔ اور وہ نبیؐ اکرمؔ پر دین اسلام اور قرآن مجید کی شکل میں نازل ہوا اور آپؐ کے آخری جانشین امام زمان عج کے ذریعے اجرا ہوگا۔ ابھی تک وہ دستور العمل اجراء نہیں ہوا۔ ابھی قرآن کو مُردوں پر پڑھنے والی کتاب سمجھا جاتا ہے اور اس سے صحیح استفادہ نہیں کیا اور ابھی تک زندہ لوگوں نے قرآن سے اپنی زندگی کا دستور العمل نہیں سمجھا۔ ابھی تک سنت رسولؐ کی جگہ بدعات اورانحراف ہے۔
تو یہ جو حقیقی دستور اور لائحہ عمل ہے جو اللہ نے اسلام کی شکل میں انسانوں کی ترقی اور کمال کے لیے بھیجا یہ بیان تو ہو رہا ہے لیکن ابھی صحیح معنوں میں اجراء نہیں ہوا اور سنت نبویؐ بھی امام ؑ عج کے دور میں اجراء ہوگی۔
اسی سلسلے میں رسول ؐ اللہ نے فرمایا: 🌷
(سُنتہ سنتی یُقیَمُ الناسَ علی ملتی و شر یعتی ویدعوھم الی کتاب ربی عزوجل)
مہدی ؑ عج کی سیرت اور سنت میری ہی سیت و سنت ہے اور لوگوں کو میرے دین اور آئین پر چلائے گا اور انہیں کتاب خدا کی طرف دعوت دے گا۔
(کمال الدین 2/ب 39/ ح6)🌷
اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ تفسیر عیاشی ج 2، ص 56 ، ح 48 میں جو اس آیت (وقاتلو ا المشرکین کافہ۔۔۔) کے ذیل میں امام جعفر صادقؑ سے منقول ہے کہ: 🌷
ابھی تک اس آیت کی تاویل نہیں آئی ہے اور جب ہمارا قائم قیام کرے گا جو بھی اسے درک کرے گا اس آیت کی تاویل پالے گا۔ وہ دین محمدی(ص) کو پوری دنیا میں پھیلا دے گا، یہاں تک کہ روئے زمین پر شرک کی کوئی چیز بھی باقی نہ رہے گی۔
یہ پہلا سبب ہے کسی انقلاب کی کامیابی کے لیے کہ یہ ہوگا تو باقی اسباب ہونگے۔
جاری ہے۔۔۔۔۔
والسلام
شہر بانو ✍️
عالمی مرکز مہدویت قم۔ 🌍
کتابچہ 10
شرائط و علامات ظہور
درس 3
علامات کو جاننے کا فائدہ
اسباب کیا ہیں
دوسرے سبب کی تشریح
عالمگیر رہبر و امام کی صفات
استاد مہدویت آغا علی اصغر سیفی صاحب
عالمی مرکز مہدویت قم
شرائط و علاماتِ ظہور...
شرائط ظہور میں پہلی شرط مکمل ضابطہ حیات اور دستور ہے...
امام ع کے پاس ایک مکمل لائحہ عمل موجود ہے.جس کے تحت وہ پوری دنیا میں انقلاب لائیں گے...
قیادت اور رہبری...
کوئی بھی تحریک اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک کہ اسکا رہبر شجاع.. با بصیرت اور لوگوں کے لئے درد رکھنے والا نہ ہو. اپنی تحریک کے اھداف کو حاصل کر ےگا...
ہمیشہ انقلاب کے لئے رہبر ہونا چاہیے.. قرآن پاک میں بنی اسرائیل کے لئے ایک حکایت نقل ہوئی ہےاس زمانے کے ظالم سے مقابلے کے لیے ایک رہبر طلب کیا جب اللّٰہ نے حضرت طالوت کو حاکم مقرر کیا تو انہوں نے اعتراض کیا... اللّٰہ نے ان کے اعتراض کا جواب دیا... سورہ بقرہ آیت 246..47.. ہم نے ایسی ہستی کو آپ کےلئے حاکم مقرر کیا ہے کہ جسے اپنے علم اور جسم میں تم پہ فضیلت حاصل ہے... امامِ زماں علیہ السلام جب قیام فرمائیں گے تو یہ دونوں صفات اور عناصر ان میں موجود ہونگے .... قرآن اور دین کی مکمل معرفت.. اور آئمہ ع کی شجاعت امام ع میں موجود ہے...
نبی کریم ص نے فرمایا "مہدی میری اہلبیت ع میں سے ہی ایک فرد ہیں جو زمیں کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے جیسے وہ ظلم و جور سے بھر چکی ہو گی...."
خدا ہمارا شمار حقیقی ناصرین میں فرمائے آمین ان شاء اللّٰہ..
التماسِ دعا: شہر بانو
☘️کتابچہ 10☘️
شرائط و علامات ظہور
درس 3
علامات کو جاننے کا فائدہ
اسباب کیا ہیں
دوسرے سبب کی تشریح
عالمگیر رہبر و امام کی صفات
استاد مہدویت آغا علی اصغر سیفی صاحب🎤🌹
عالمی مرکز مہدویت قم🌍
خلاصہ:📜
موضوع سخن علامات اور شرائط ظہور ہیں۔ اور شرائط ظہور یعنی اسباب ظہور اور اس میں ہم نے جو پہلا سبب کہ جس کی وجہ سے مولاؑ عج ظہور کریں گے وہ بیان کیا کہ مولاؑ جب ظہور فرمائیں گے تو ان کے پاس ایک مکمل لائحہ عمل ہے کہ جب امامؑ عج ظہور فرمائیں گے تو کس طرح وہ صالح معاشرہ برقرار ہوگا۔
اس حوالے سے اللہ نے اپنے لامحدود علم و حکمت سے امام زماں عج کو ایک مکمل پروگرام دیا ہوا ہے کہ جس کی خبر ہمیں روایات اور احادیث سے ملتی ہے۔
دوسرا اہم سبب :
قیادت اور رہبری :💎
کوئی بھی موفیق یا موئثر اسلامی تحریک اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتی کہ جب تک اس کا رہبر ایک بابصیرت، شجاع اور واقعاً لوگوں سے درد دل رکھنے والا نہ ہو۔
ایسا رہبر اپنی تحریک کے اہداف کو بہترین انداز سے حاصل کرے گا کیونکہ اس کی رہبری اور قیادت میں الہیٰ مدد بھی شامل ہوگی اور لوگ بھی اس کے اخلاص، اس کی شجاعت اور اس کی معرفت کو دیکھتے ہوئے اس کی بھرپور ہمراہی کریں گے۔
ہمیشہ انقلاب کے لیے رہبر ہونا چاہیے بغیر رہبر کے کوئی بھی اجتماعی حرکت یا تحرک کامیاب نہیں ہوتا۔
سورہ البقرہ آیت 246
أَلَمْ تَرَ إِلَى الْمَلَإِ مِن بَنِي إِسْرَائِيلَ مِن بَعْدِ مُوسَىٰ إِذْ قَالُوا لِنَبِيٍّ لَّهُمُ ابْعَثْ لَنَا مَلِكًا نُّقَاتِلْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ۖ🌷
کیا آپ نے بنی اسرائیل کے ایک گروہ کو نہیں دیکھا کہ انہوں نے حضرت موسیؑ کے بعد اپنے نبی سے کہا کہ ہمارے لیے حکمران معین کر۔ تاکہ ہم (اس کی حکمرانی میں) راہ خدا میں جہاد کریں۔
قرآن مجید میں بنی اسرائیل کی داستان نقل ہوئی ہے کہ اُس زمانے کا ایک بہت بڑا ظالم جالوت جب بنی اسرائیل پر ظلم کر رہا تھا تو اس کے مدمقابل جنگ کے لیے انہوں نے اللہ سے ایک رہبر مانگا اور پیغمبرؑ سے کہا کہ ہمارے لیے ایک حاکم معین کریں تاکہ ہم اس کی قیادت میں راہ خدا میں جہاد کریں اور جب اللہ نے ان کے لیے جب جناب طالوت کو ان کے لیے بطور حاکم معین کیا تو انہوں نے اس پر اعتراض کیا کہ طالوت ایک چھوٹے طبقہ سے ہیں یا ایک غریب گھر سے ہیں وہ دنیا کی بنائی ہوئی طبقاتی تقسیم کے مطابق ایک امیر کو حاکم سمجھتے تھے۔
پروردگار نے ان کے اعتراض کا جواب یوں دیا۔
سورہ البقرہ آیت247
قال ان اللہ اصطفینہ علیکم و زادہ بسطۃ فی العلم و الجسم🌷
اس نبی نے کہا خدا نے اسے تم پر فضیلت دی ہے اور اسے علم اور جسم میں تمھاری نسبت وسعت عطا فرمائی ہے۔
اب یہاں پروردگار نے ایک رہبر کے لیے جو شرائط بیان کیں۔
1۔ 🌀 علم بصیرت اوراس کا آگاہ ہونا ہے
2۔ 🌀 شجاع، اور طاقت
امام عصرؑ عج جب قیام فرمائیں گے تو آپ کی قیادت میں بھی یہ دو شرائط موجود ہیں۔ کہ اس عالمگیر قیام کا جو رہبر ہے وہ علمی اعتبار سے تو پروردہ امامت اور سرچشمہ وحی سے متصل ہے اور دوسری طرف وہ بلآخر مولاؑ علی جیسے شجاع امام کی نسل مبارک سے ہیں اور یہ ہمارا شیعہ عقیدہ ہے کہ امام تمام تر صفات میں سب سے برتر ہوتا ہے اور صفت شجاعت میں بھی سب سے بڑھ کر ہے۔ ایک طرف قرآن اور دین کے مکمل معارف ہیں اور ان کا احاطہ ہے اور تمام انبیاءؑ کے علوم کے وارث اور ادھر سے ہزار سال سے زیادہ ان کی زندگی ہے کہ جس میں انہوں نے بےپناہ سختیاں اور بے پناہ صبر و تحمل اور شجاعت اور اس دوران جتنے بھی انقلابات اور جتنی ملتیں حکومتیں اور ان پر مولاؑ کی کڑی نگاہ کا ہونا ۔ یہ ساری چیزیں مولاؑ عج کے علم و بصیرت اور شجاعت اور ان کا تحمل اور صبر یہ ساری چیزیں بتا رہی ہیں کہ ہمارا رہبر و قائد ہمارا امامؑ عج علم اور شجاعت میں کتنی ہی وسعت رکھتے ہیں۔
اسی لیے تو آپؑ عج کے بارے میں یہ حدیث سنی شعیہ کتابوں میں کثرت سے نقل ہوئی ہے کہ
نبیؐ کریمؔ نے فرمایا: 🌷
المھدی رجل من اھل بیتی یملا الارض عدل و قسطا کما ملئت ظلما و جورا
مہدیؑ عج میرے اہلبیتؑ میں سے ایک فرد ہے جو زمین کو عدل و انصاف سے بھردے گا جیسا کہ ظلم و جور سے بھری ہوئی ہو گی۔
یہ ایک اہم شرط ہے اور جب تک یہ شرط موجود نہ ہو تو ہم نہیں سمجھتے کہ اس کے بغیر کوئی بھی انقلاب کامیاب ہو سکتا ہے۔
اس کے علاوہ مذید شرائط بھی ہیں۔ جیسے انصار و مددگار ہوں اور ان کی صفات کیا ہیں۔
جاری ہے۔۔۔۔۔ 🔺🔺🔺
پروردگار ہمیں توفیق دے کہ ہم اس عالمگیر انقلاب کہ جو محقق ہونا ہے اس عظیم رہبر اور قائد کی رہنمائی عطا فرمائے اور ہم بھی مولاؑ عج کے ہمراہ اس عالمگیر انقلاب کو بپا کریں۔
انشاءاللہ🤲
والسلام
خلاصہ و پیشکش:
شہر بانو
عالمی مرکز مہدویت قم۔🌍
کتابچہ 10📚📖
شرائط و علامات ظہور
درس 4
تیسرا اہم سبب انصار و مددگار
انبیاء الہی کا تبلیغ دین میں مددگار مانگنا
کیوں امیر المومنین ع اور امام حسن ع خانہ نشین ہوئے
امام صادق ع کی دو شیعوں سے گفتگو
استاد مہدویت آغا علی اصغر سیفی صاحب🎤🌹
عالمی مرکز مہدویت قم
موضوع سخن اسباب ظہور میں سے تیسرا سبب انصار و مددگار ہے۔
دنیا کا کوئی بھی انقلاب اسوقت تک کامیاب نہیں ہو سکتا جب تک رہبر کے ساتھ ساتھ اس کے مددگار نہ ہو اور ایسے پکے مددگار جو اپنے رہبر کی حمایت اور اس انقلاب کے اہداف کو حاصل کرنے کے لیے اپنی جانیں قربان کریں۔
ہم دیکھتے ہیں کہ تاریخ انبیاء میں انبیاؑء نے بھی اپنی تبلیغ کی دعوت کو اللہ کی راہ میں کامیاب کرنے کے لیے خدا سے ناصر و مددگار مانگے۔
جیسے اللہ نے جب حضرت موسیٰ ؑ کو تبلیغ کا حکم دیا کہ جاؤ فرعون کو دعوت تبلیغ دو ۔ تو ہم دیکھتے ہیں کہ یہ جو دعوت حضرت موسیٰ ؑ نے دینی تھی اس کی کامیابی کے لیے انہوں نے اللہ سے ناصر مانگا۔
قرآن مجید میں ہے کہ:
سورہ طحہٰ
وَاجْعَلْ لِّىْ وَزِيْـرًا مِّنْ اَهْلِىْ (29) ↖
اور میرے لیے میرے کنبے میں سے ایک معاون بنا دے۔
هَارُوْنَ اَخِىْ (30) ↖
ہارون کو جو میرا بھائی ہے۔
اُشْدُدْ بِهٓ ٖ اَزْرِىْ (31) ↖
اس سے میری کمر مضبوط کردے۔
اسی طرح حضرت عیسی ؑ نے بھی دین اور اہداف الہیٰ کی ترقی اور تکمیل کے لیے انصار و مددگاروں کی بات کی:
قَالَ مَنْ اَنْصَارِىٓ اِلَى اللّـٰهِ ۖ قَالَ الْحَوَارِيُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللّهِۚ
ہا کہ اللہ کی راہ میں میرا کون مددگار ہے؟ حواریو ں نے کہا ہم اللہ کے دین کی مدد کرنے والے ہیں🌷
خود ہمارے پیغمرؐ اسلام جو کہ کائنات میں سب سے افضل اور خاتم الانبیاؐ ہیں جب اللہ نے انہیں حکم دیا کہ آپ علی الاعلان مشرکین مکہ کو اسلام کی جانب دعوت دیں تو انہوں سے سب سے پہلے اپنے خاندان والوں کو جمع کیا۔
قرآن میں ہے کہ:
سورہ شوریٰ 214
وَاَنْذِرْ عَشِيْـرَتَكَ الْاَقْـرَبِيْـنَ (214)🌷
اور اپنے قریب کے رشتہ داروں کو ڈرا۔
اور اس دعوت کا ہدف بھی یہی تھا کہ پیغمبرؐ اپنے لیے مددگار تلاش کریں کہ جوعمومی تبلیغ میں ان کے پشت پناہ ہو۔ یہ ذولعشیرہ کا واقعہ ہے کہ جس کا ذکر قرآن و احادیث میں ملتا ہے۔
🌷
آنحضرت ؐ نے امیرالمومنینؑ کو غذا تیار کرنے کا حکم دیا اور پھر بھری مجلس میں اعلان نبوت کرنے کے بعد آپؐ نے ارشاد فرمایا:
ایکم یوازرنی علی ھذاٰ الامر:
تم میں سے کون اس امر میں میرا وزیر و مددگار ہوگا۔
تین مرتبہ یہ کام ہوا اور ہر مرتبہ مولا علیؑ نے کھڑے ہو کر اپنی نصرت کا اعلان کیا
اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ جب ہجرت مدینہ کا وقت تھا تو رسولؐ اللہ نے سب سے پہلے اہل یثرب سے مدد اور وفاداری کا وعدہ لیا۔
اب ہم تاریخ کا ایک دوسرا چہرہ بھی دیکھتے ہیں کہ اگر مددگار نہ ہو تو پھر کیا ہوتا ہے۔ 🫴
مولا علیؑ جیسا بہادر اور شجاع کہ جن کی شجاعت میں کوئی ان کا ثانی نہیں تھا اور جن کی شان میں جبرائیل ؑ امین نے لاسیف الا ذوالفقار لا فتی الا علیؑ کا قصیدہ پڑھا اور جہنوں نے جنگ خندق میں عمرو بن عبدود اور جنگ خیبر میں مرحب جیسے جنگجوؤں کو قتل کیا۔ قلعہ خیبر فتح کیا مرحب اور کتنے ہی ظالموں کو فنار کیا نیز مسلمانوں کو بہت سی فتوحات اور کامیابیوں سے ہمکنار کیا لیکن آخر کیا وجہ ہوئی کہ بعد از رسولؐ علی جیسا شجاع کئی سال خانہ نشین ہوگیا۔ یا امام حسنؑ مجتبیٰ کیوں مجبور ہوگئے امیر شام سے صلح کرنے پر۔ 😭
اس کی سب سے اہم وجہ یہی ہے کہ الہیٰ رہبر تو موجود تھے لیکن ان کا کوئی مددگار نہ تھا۔ یا اگر ہیں تو تعداد میں اتنے کم ہیں کہ جس کی وجہ سے انقلاب اور اہداف حاصل نہیں ہو سکتے۔
ہم دیکھتے ہیں کہ شب عاشور بی بی زینبؑ نے فرمایا کہ اے بھائی کیا تو نے اپنے اعوان و انصار کو آزما لیا ہے کہ کہیں تمھیں اکیلا چھوڑ کر چلے نہ جائیں، کس قدر عبرت انگیز جملہ ہے؟ اور اس کے اندر پوری ایک تاریخ ہے کہ جس میں وفا کا تقاضا ہوا ہے اور بے وفائی نظر آئی ہے۔ 😭
🌷
امام جعفر صادق ؑ سے ایک شخص نے انحصرت کی خدمت میں عرض کی:
مولاؑ آپؑ پر قربان جاؤں، اللہ کی قسم میں آپ اور آپ کے چاہنے والوں کو دوست رکھتا ہوں میرے آقا آپ کے شیعہ کس قدر زیادہ ہیں۔
امام ؑ نے فرمایا : ☘️
ان کی تعداد کتنی ہے؟
عرض کی آقا بہت زیادہ۔
امامؑ نے فرمایا کیا آپ انہیں شمار کر سکتے ہیں
کہنے لگا۔ مولا ان کی تعداد قابل شمار نہیں ہے۔
امامؑ نے فرمایا: ☘️
اما لو کملت العدۃ الموصوفتہ ثلاچمائتہ و بضعتہ عش کان الذی تریدون۔
آگاہ ہو جس وقت تین سو دس اور کچھ نفر جمع ہو جائیں گے تو اس وقت وہی کچھ ہوگا جو آپ چاہتے ہیں۔ یہ ارشاد فرمانے کے بعد امامؑ نے شیعہ کی صفات کا تذکرہ فرمایا۔
کہتے ہیں کہ جناب سدیر سلفی امام صادقؑ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا
اللہ کی قسم اب آپ کے بیٹھنے کا زمانہ نہیں ہے۔ یعنی آپ قیام کریں۔
امامؑ نے فرمایا: ☘️
کیوں اے سدیر، میں نے عرض کی:
آپ کے چاہنے والوں ، شعیوں، اور مددگاروں کیوجہ سے اللہ کی قسم اگر امیر المومنینؑ کے پاس اتنی تعداد میں پیروکار اور مددگار ہوتے تو قبیلہ بنی تیم اور عدی اس میں میں ٹانگ نہ اڑاتے۔
(قبیلہ تیم سے ابوبکر تھے اور قبیلہ عدی سے عمر تھے اور امر سے مرادد خلافت اور حکومت)
امام ؑ نے فرمایا: ان کی تعداد کتنی ہے۔ 🫴
سدیر نے کہا:
ایک لاکھ آدمی
امام ؑ نے تعجب سے پوچھ ایک لاکھ؟🫴
کہا جی مولاؑ بلکہ دو لاکھ
پھر امام ؑ نے معتجب ہو کر کہا دولاکھ؟🫴
سدیر نے جواب دیا۔ جی مولا بلکہ نصف دنیا:
اس مقام پر امامؑ خاموش ہوگئے اور مجھے اپنے ہمراہ مدینہ سے باہر چلنے کا حکم دیا ، جیسے ہی مدینہ سے باہر نکلے امام نے ایک جوان چرواہے کے بھیڑوں کے گلہ پر نظر ڈالی اور فرمایا: ☘️
اللہ کی قسم اے سدیر اگر ان بھیڑ بکریوں کی تعداد کے برابر میرے پاس شیعہ ہوتے تو میں ہرگز نہ بیٹھتا یعنی ضرور قیام کرتا۔
سدیر کہتا ہے میں نے جب ان بھیڑ بکریوں کو شمار کیا تو تعداد سترہ تھی۔ 😭
یعنی نام لیوا شیعہ تو بہت ہوتے ہیں اور آج بھی ہیں بےشمار ماتمی، عزادار ، پرسہ دار لیکن کتنے ہیں جو اپنے مولاؑ کے اہداف پر جانیں فدا کریں گے۔🫴
اصل مولا ؑ کے ہدف پر کتنے لوگ ہیں جو عمل کر رہے ہیں۔ مثلاً مولاؑ کا اصل ہدف عدالت ہے تو کتنے لوگ ہیں جو اپنے وجود میں اپنے گھر میں عدالت الہیٰ کو جاری کئے ہوئے ہیں۔ 🫴
جو خود اہداف مولاؑ پر عمل کر رہے ہیں یہی زمانہ ظہور کے ناصر ہیں اگر ہم دین کی کچھ چیزوں پر عمل کرتے ہیں اور شیعہ نام بھی رکھتے ہیں محبان اہلبیتؑ بھی کہلاتے ہیں لیکن اگر ہماری زندگیوں میں گناہ اور شیطان ہے تو ہم پھر ناصر نہیں ہے اور یہ وہ چیز ہے کہ جس کی وجہ سے غیبت ہوئی ہے۔
اگر ہم اپنے اعمال اور گفتار دونوں سے اپنے زمانے کے اماموں کی مدد کرتے تو ہمیشہ ہمارے آئمہ ؑ حاکم ہوتے اور آج ہم امامؑ وقت عج کے پُر برکت وجود سے محروم نہ ہوتے۔ 😭
خلاصہ یہ ہے کہ غیبت اور ظہور میں تاخیر کی وجہ بھی ہم خود ہیں جتنے جلدی ناصر تیار ہونگے اتنی جلدی ظہور ہوگا۔ 🙏
اصل تعجیل ظہور اس سبب میں چھپی ہوئی ہے۔ جب تک ہم عملی طور پر تیار نہ ہونگےدعا کرنی چاہیے لیکن عملی تیاری کے بغیر دعا کافی نہیں۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو وہ ناصر بننے کی توفیق دے کہ جو مولاؑ کے ظہور کا سبب بنیں۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔ 🌻🌻🌻
والسلام
خلاصہ و پیشکش : ✍️
شہر بانو
عالمی مرکز مہدویت قم۔ 🌍
🌻کتابچہ 10🌻
شرائط و علامات ظہور
درس 5
تیسرا اہم سبب انصار و مددگار
(دوسرا حصہ)
امام صادق ع کے فرمان میں انصار کی صفات
امام تقی ع کے فرمان میں کیفیت ظہور اور انصار کی اقسام
*استاد مہدویت آغا علی اصغر سیفی صاحب🎤🌹*
*خلاصہ* :📜
موضوع سخن امام زمانہؑ عج کے ظہور کے اسباب ہیں۔ ترتیب کے ساتھ ہماری گفتگو تیسرے اہم سبب انصار مددگار پر شروع ہوئی تھی اور آج اس گفتگو کا دوسرا حصہ بیان ہوگا۔
اسلامی تاریخ بلکہ اگر ہم یوں کہیں کہ حضرت آدمؑ سے لیکر اب تک انسانی تاریخ کا اگر ہم سرسری سا مطالعہ کریں تو سمجھ آتا ہے کہ دنیا میں کوئی بھی انقلاب یا تحریک اس وقت تک کامیاب نہیں ہوئی جب تک اس تحریک کے پیشوا اور رہبر کے ساتھ انصار و عوان نہ ہوئے۔
انصار و عوان کی اہمیت بہت ہی واضح ہے۔ خود ہماری اسلامی تاریخ کے اندر ہم اس چیز کو جانتے ہیں کہ امیرالمومنینؑ کی خانہ نشینی اور ان کی ہمراہی نہ ہونا اور اسی طرح ہمارے باقی آئمہ ؑ بہت اشتیاق رکھتے تھے کہ جس طرح ان کے شیعہ ان کے محب ہیں عزاداری کرتے ہیں اسی طرح اجتماعی اور سیاسی تحریک میں ان کے ناصر بنیں اور نتیجہ یہ ہوا کہ ایک ایک کرکے ہمارے آئمہؑ شہید ہوتے گئے۔ اور آخر میں امام زماں کی غیبت ہوگئی اور اس کی اہم وجہ یہ تھی کہ ایسے ناصر و مددگار نہ تھے کہ امام ان کے ساتھ مل کر ظالمین کے خلاف قیام کرتے۔ کیونکہ امامؑ عج نے اپنے آپ کو تنہا محسوس کیا اور حکم خدا سے غیبت کو اختیار کیا اور اب جب مولاؑ عج کے ناصر دنیا میں ظاہر ہونگے یعنی ایسی قوم آئے گی کہ جنہوں نے سچے معنوں میں مولاؑ عج کا انتظار کیا ہوگا اور وظائف منتظرین پر عمل کیا ہوگا اور خود کو ایسے تیار کیا ہوگا جیسے مولاؑ عج چاہتے ہیں۔ تو یہ وہ زمانہ ہوگا کہ ہمیں یہ یقین ہوگا کہ امام زماں عج ظہور کرنے والے ہیں۔
*روایات کی رو سے ناصرین امام زماں کے اوصاف: 🌟*
بحار / ج 52/ ص 308📖📚
*امام جعفر صادقؑ آنحضرت عج کے اعوان و انصار کی یوں توصیف کرتے ہیں۔*
*فرماتے ہیں کہ:* 🌺
رجال کان قلوبھم کز بر الحدید لا یشوبھا شک فی ذات اللہ اشد من الحجر۔۔۔۔
حضرت مہدی ؑ عج کے اصحاب ایسے لوگ ہیں کہ جن کے قلوت لوہے کی ٹکڑوں کی مانند مضبوط ہیں (یعنی ایمان میں اتنے مظبوط ہیں) اور ذات خدا کی نسبت ان کے دل میں کوئی شک اور شبہ نہیں پایا جاتا اور وہ پتھر سے زیادہ سخت ہیں۔ (اصحاب مہدی عج ) ایسے لوگ ہیں جو راتوں کو آرام نہیں کرتے اور شہد کی مکھیوں کے چھتے سے آنے والی آواز کی مانند ان کی نماز کی آواز سنائی دیتی ہے وہ اپنے امام کے سامنے ایک غلام اور کنیز سے بھی زیادہ مطیع اور فرمانبردار ہیں۔ ان کے دل شمع کی مانند ہیں۔ وہ اللہ کے خوف سے ہمیشہ محتاط رہتے ہیں۔ وہ شہادت کی دعا کرتے ہیں اور خدا کی راہ میں جان قربان کرنے کی آرزو رکھتے ہیں۔
یہاں ہم یہ نتیجہ لیں گے امام مہدیؑ عج کا ماننے والا ہر حالت میں اپنے امام کی پیروی کرتا ہے اور اس کا سارا درد و غم امام کی اطاعت اور فرمانبرداری ہے۔
بحار / ج/ 52/ ص 129📖📚
*رسول ؐ اکرمؔ نے فرمایا:* 🌺
طوبی لمن ادرک قائم اھل بیتی وہ ھو مقتد بہ قبل قیامہ یاتم بہ
خوش بخت ہے وہ انسان جو میرے اہلبیتؑ میں سے قائم کو درک کرے اس حالت میں کہ وہ اس کے قیام سے پہلے اس کی اقتداء اور پیروی میں ہو۔
جس وقت امام ؑ عج کے مددگار آمادہ اور تیار ہو جائیں گے تو آنحضرت عج اذن پروردگار سے ظہور فرمائیں گے۔ اور ان کے ظہور کی کیفیت مختلف روایات میں ہے:
کمال الدین، ج 2 ب 37 ح 2📖📚
*حضرت امام محمد تقیؑ فرماتے ہیں۔ 🌺*
یجتمع الیہ من اصحابہ عدۃ اھل بدر ثلاثمائتہ و ثلاثتہ عشر رجالاً من اقصیی الارض و ذلک قول اللہ عزوجل:
*سورہ البقرہ آیت 148*
وَلِكُلٍّ وِّجْهَةٌ هُوَ مُوَلِّـيْـهَا ۖ فَاسْتَبِقُوا الْخَيْـرَاتِ ۚ اَيْنَ مَا تَكُـوْنُـوْا يَاْتِ بِكُمُ اللّـٰهُ جَـمِيْعًا ۚ اِنَّ اللّـٰهَ عَلٰى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيْرٌ ()
فاذا اجتمعت لہ ھذا العدۃ من اھل الاخلاص الظھر اللہ امرہ فاذا اکمل لہ العقد و ھو عشر الاف رجل خرج باذن اللہ عزوجل
*فرمایا* :
آنحضرت ؑ عج کے پاس اہل بدر کی تعداد کے برار تین سو تیرہ افراد روئے زمین میں سے جمع ہوںگے اور ارشاد خداوندی :
تم جہاں کہیں بھی ہوگے خدا تم سب کو لائے گا تحقیق اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔
اس آیت کا مفہوم اور معنی کا حاصل ہے ۔ پس وقت آنحصرت عج کی مدد کے لیے مخلصین کی یہ تعداد جمع ہو جائے گی اور سپاہیوں کا لشکر تیار ہوجائے گا تو اللہ تعالیٰ اپنے امر کو ظاہر کرے گا اور جب اس دس ہزاز نفر کے ساتھ عہد مکمل ہو تو اس وقت خدا اذنِ قیام عطا فرمائے گا۔
معصوم فرماتے ہیں کہ دس ہزار وہ جوان ہیں جو مولا ؑ عج کے ساتھ عہدوپیمان کریں گے اور پھر اللہ اذن قیام عطا فرمائے گا۔
اب یہاں امام محمد تقیؑ کے فرمان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ مولاؑ عج کے ناصر چند اقسام پر مشتمل ہیں۔
1۔ 🕊️ تین سو تیرہ ہیں کہ جب وہ پوری دنیا سے جمع ہونگے تو پروردگار عالم مولا کو اذن ظہور دے گا۔
2 ۔🕊️ اسی طرح دس ہزار جوان جو امامؑ عج کے گرد جمع ہونگے اور عہد و پیمان باندھیں گے جس کے بعد پروردگار اذن قیام دے گا۔
3۔🕊️ اسی طرح معلوم ہوتا ہے کہ اور بھی لوگ ہونگے یعنی باقی دنیا کے لوگوں کو اجازت ہوگی کہ وہ اپنی بری اور آلودہ زندگی کو چھوڑیں اور مولا ؑ عج کے ماننے والوں کی صفوں میں شامل ہوجائیں اوراللہ نے جو بھی ان کو علم و صلاحتیں عطا فرمائی ہیں وہ ان کے مطابق امام زماں عج کی مدد کریں۔
پروردگار ہم سب کو توفیق دے کہ ہم بھی مولاؑ عج کے ناصرین کی ان صفوں میں شامل ہو اور اپنے امام ؑ عج کی ہمراہی کریں اور بلآخر وہ عظیم انقلاب بپا ہو۔ 🤲🏻
والسلام۔
تحریر و پیشکش: ✍️
شہر بانو
*عالمی مرکز مہدویت قم۔* 🌍
: کتابچہ 10
شرائط و علامات ظہور
درس 5
تیسرا اہم سبب انصار و مددگار
(دوسرا حصہ)
امام صادق ع کے فرمان میں انصار کی صفات
امام تقی ع کے فرمان میں کیفیت ظہور اور انصار کی اقسام
استاد مہدویت آغا علی اصغر سیفی صاحب
عالمی مرکز مہدویت قم
السلام علیکم
انسانی تاریخ کا مطالعہ کریں تو معلوم ھوتا ھے کہ انصار کا ھونا کامیاب ھونے کو یقینی بناتا ھے
جیسے امام علیؑ کے دور میں دیکھے امام علیؑ انصار و ساتھیوں نے بغاوت کی اور نتیجہ منفی نکلا
اور اسطرح ھمارے امامؑ ایک ایک کر کے شھید ھوتے رہیے ۔
امام مھدیؑ کی غیبت کی اصل وجہ یہی تھی کہ امامؑ کے پاس انصار و ناصر نہیں تھے کہ امام دشمنوں کے مقابلے میں قیام کرتے اس لیے امامؑ نے خدا کے حکم سے غیبت اختیار کی
اب جب جس جس نے امام کا انتظار کیا ھو گا امام کے انصار و ناصر ھوں گے تو ظھور ھو گا
ان شاءاللہ
*انصار کے اوصاف*
فرمان امام صادق
امام مھدیؑ کے جو انصار ہیں یہ ایسے لوگ ہیں کہ ان کے دل گویا لوہے کے ٹکڑے ہیں مضبوط و محکم
خدا کی ذات کی نسبت ان دلوں میں شک و شبہ نہیں پایا جاتا
اللہ پر ایمان کامل ھے
وہ ہستیاں ہیں کہ راتوں بھی ارام نہیں کرتے انکی دعاؤں کی نمازوں منجات کی اواز اتی ھے جیسے شہد کی مکھی کے چھتے سے اواز اتی ھے انکے حجروں کمروں سے اواز اتی ھے
یہ وہ لوگ ہیں کہ جو ایک غلام اور کنیز سے بھی زیادہ فرمابردار و معطیع ہیں
یعنی امام کی اطاعت میں کامل ہیں
پھر فرماتے ہیں ان کے دل شمع کی مانند ہیں روشن اور اللہ کے خوف اے ھمیشہ محتاط رہتے ہیں ہر وہ چیز جس میں شبہ بھی ھو کہ گناہ ھے دوری اختیار کرتے ہیں
شھادت کی ارزو رکھتے ہیں اور اللہ کی راہ میں جان قربان کرنے کی ارزو رکھتے ہیں
پس امام مھدیؑ کا پیرو کار ہر حال میں امام کا فرمابردار ھے
فرمان رسولﷺ
خوش بخت ھے وہ انسان جو میرے اھلبیت میں سے قائم کو درک کرے اور اس حالت میں قائم کو دیکھے کہ ان کے قیام سے پہلے امام زمن کی اقتدا اور پیروی کرے
پس جب یہ ہستیاں ھوں گی تو ظھور ھو جاۓ گا
خدا وند فرماتا ھے
تم سب جہاں کہی بھی ھوں گے اللہ تم سب کو لاۓ گا اور بیشک اللہ ہر چیز پہ قادر ھے
امام تقی فرماتے ہیں
پوری زمین میں تین سو تیرا افراد ھوں گے
امام کے سپاہی چند اقسام پر مشتمل ھوں گے
پہلی قسم تین سو تیرہ
دس ہزار نوجوان ھوں گے
ان کے علاوہ بھی لوگ ھوں گے جن کو اجازت ھو گی کہ وہ اپنی الودہ زندگی کو چھوڑے اور امام کی صفوں میں شامل ھو جاۓ جو بھی صلاحیت ھے اس سے امام کی مدد کرے
خدا وند ھم سب کو توفیق عطا فرماۓ کہ ھم سب بھی امام کی صفوں میں شامل ھوں اور امام کی مدد کر سکے ۔ الہی آمین
وسلام
✍️ شہر بانو
: کتابچہ 10
شرائط و علامات ظہور
درس 6
چوتھا سبب ، عام لوگوں کی آمادگی ، مدینہ میں اسلامی نبوی اور علوی حکومت کے آغاز میں عام لوگوں کا کردار ، کربلا اور انبیاء کی تاریخ میں مثالیں ، قائم کی حکومت کیسے شروع ہوگی ، امام زمان عج کا شکوہ
استاد مہدویت آغا علی اصغر سیفی صاحب🎤🌹
موضوع سخن اسباب ظہور ہیں۔ اور اس حوالے سے تین اہم سبب بیان ہو چکے۔
1۔ 🌀ضابطہ حیات
2۔ 🌀قیادت اور رہبری
3۔ 🌀انصار و مددگار
اور چوتھا جو سبب آج بیان کریں گے وہ عام لوگوں کی آمادگی ہے۔
4۔🌀 عام لوگوں کی آمادگی:
کسی بھی انقلاب کے لیے یہ ایک اہم نقطہ ہے کہ عام لوگ بھی یہ چاہتے ہوں کہ یہ انقلاب بپا ہو۔ اگر لوگ نہ چاہیں اور رہبر جتنی بھی تیاری کر لیں۔ کتنے ہی ناصر کیوں نہ ہوںوہ مکمل طور پر کامیاب نہیں ہو سکتے۔
ہمارے سامنے اہل مدینہ کی مثال ہے کہ رسولؐ اللہ مکہ سے مدینہ تشریف لائیں اور حکومت کریں اور مدتوں سے انتظار کر رہے تھے ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ رسولؐ اللہ آئے اور اہل مدینہ نے بھرپور استقبال کیا اور اسلامی حکومت کا نفاذ ہوا۔
لوگوں کا چاہنا بہت اہم ہے۔ تاریخ میں اس کی بڑی بڑی مثالیں ہیں ہم واقعہ کربلا کو ہی دیکھ لیں کہ سب نے چاہا تھا تو یہ عظیم واقعہ ہوا۔ اور اگر سب نہ چاہتے اور امامؑ کو تنہا چھوڑ دیتے تو شائد اس طریقے سے یہ کامیاب نہ ہوتا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ بوڑھے جوان خواتین بچے سب نے چاہا تو یہ عظیم انقلاب برپا ہوا کہ جس کے آثار آج تک ہیں۔
📚📖
اگر انبیا ؑ کی تاریخ کو دیکھا جائے تو جب حضرت یونسؑ اپنی قوم سے ناراض ہوئے اور بددعا دے کر چلے گئے تو عذاب الہیٰ نازل ہوا تو جب وہ عذاب الہیٰ میں گھر گئے تو توبہ پر آمادہ ہوگئے اور توبہ نصوح کا صحیح اور درست راستہ اختیار کرتے ہوئے اپنے آپ کو عذاب الہی سے بچالیا اور رحمت پروردگار کے مستحق ٹھہرے۔
سورہ رعد 11
اِنَّ اللّـٰهَ لَا يُغَيِّـرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّـٰى يُغَيِّـرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِـمْ🌻
بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت کو نہ بدلے
قوم جب چاہتی تو سب کچھ ہوتا ہے اور جب نہیں چاہتی تو نہیں ہوتا حتہ بعض مرتبہ قوم ایسے کام کرتی ہے کہ ان پر عذاب الہیٰ نازل ہوتا ہے جیسے قوم صالح نے جو اس اونٹنی کو مارا تو کچھ لوگوں نے مارا لیکن باقی قوم وہاں تماشہ دیکھ رہی تھی یعنی وہ بھی اس جرم میں شامل تھے۔ نتیجتہً پوری قوم پر عذاب الہیٰ آگیا۔ تو ایک جانب پوری قوم پر عذاب الہیٰ آیا اور ایک جانب پوری قوم عذاب الہیٰ سے بچ رہی ہے۔ یعنی ایک قوم کا ارادہ ، لوگوں کا ارادہ کس قدر اہم ہے۔
ایک طرف لوگ یہ چاہتے تھے کہ مدینہ میں نبیؐ کی حکومت قائم ہو تو مدینہ میں اسلامی حکومت قائم ہوئ۔ جب لوگوں نے یہ چاہا کہ ہم پر مولا علی ؑ جیسا امام حاکم ہو تو مولا علیؑ کی حکومت قائم ہوئی اور لوگوں نے عدالت علوی کے بے پناہ نمونے دیکھے اور جب لوگوں نے نہیں چاہا تو وہ علیؑ ہیں جو بعد از رسولؐ خانہ نشین ہو گئے۔
سورہ مائدہ میں ارشاد ہو رہا ہے🌻
قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِنَّا لَنْ نَّدْخُلَهَاۤ اَبَدًا مَّا دَامُوْا فِیْهَا فَاذْهَبْ اَنْتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا هٰهُنَا قٰعِدُوْنَ(24)
کہا اے موسیٰ! ہم کبھی وہاں داخل نہیں ہوں گے جب تک کہ وہ اس میں ہیں، سو تو اور تیرا رب جائے اور تم دونوں لڑو ہم تو یہیں بیٹھے ہیں۔
☘️🫴
جب حضرت موسیٰ ؑ اپنی قوم کو لے کر چلے تو درمیان میں ایک طاقتور قبیلے سے جنگ تھی تو حضرت موسیٰ ؑ نے کہا کہ اس قبیلے سے جنگ کرنا ضروری ہے لیکن قوم نے نہیں چاہا اور چالیس سالوں تک بیابانوں اور صحراؤں میں سرگرداں رہے اور جب چاہا تو اٹھے تو جنگ کی فتح پائی اور فلسطین میں داخل ہوئے۔
ایک قوم کا ارادہ بہت اہم ہے۔ جب امام زمانہؑ عج تشریف لائیں گے تو ان کا قیام تب ہوگا جب لوگ چاہیں گے۔
کسی نے امام محمد باقرؑ کی خدمت میں عرض کی کہ جب قائمؑ آئیں گے تو کیا تب سارے کام خود بخود ٹھیک ہو جائیں گے۔
فرمایا۔ :🌺
ہرگز ایسا نہیں ہے۔ مجھے قسم ہے اس خدا کی کہ جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر کسی ذات کے امور خود بخود انجام پذیر ہوتے تو رسولؐ خدا کے لیے یہ کام ضرور ہوتا۔
امام زماں عج عمومی ارادے کے منتظر ہیں فقط دعا کی حد تک نہ رہیں بلکہ عملی طور پر بھی اپنے اندر حرکت پیدا کریں۔ نیک اعمال کریں آپس میں ہمدلی کی فضا پیدا کریں۔ بلآخر باہم تیاری کریں گے تو امامؑ ظہور کریں گے۔
جیسا کے امام زماں عج کی آخری توقیع جو انہوں نے شیخ مفید ؒ کو لکھی اس میں انہوں نے یہی شکوہ کیا کہ :📜
اگر ہمارے شیعہ کہ اللہ انہیں اپنی اطاعت کی توفیق دے اس عہد ایمان کو پورا کرتے کہ جو ان پر ہے تو ہماری ملاقات کی سعادت میں تاخیر نہیں ہوگی یعنی ہماری ملاقات کی خوشیاں انہیں جلدی نصیب ہوں گی۔
وعدہ یہی تھا کہ ہم نے مل کر تیاری اور حرکت کرنی ہے۔ یہ تمام اسباب مہم ہیں اور جب اکھٹے ہونگے تو ظہور ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس عظیم اجتماعی حرکت کی سعادت نصیب فرمائے۔
آمین۔
والسلام
خلاصہ و پیشکش:✍️ شہر بانو
عالمی مرکز مہدویت قم۔ 🌍
کتابچہ 10📖📚
شرائط و علامات ظہور
درس 7
علامات ظہور سے آشنائی، علامات کی مختلف طرح سے تقسیم، حتمی و غیر حتمی ، متصل و منفصل ، عادی و غیر عادی ، زمینی و آسمانی علامات
استاد مہدویت آغا علی اصغر سیفی صاحب🎤🌹
موضوع سخن علامات ظہور ہیں۔ احادیث اور روایات کی رو سے علامات ظہور کی بہت ساری اقسام ذکر کی گئی ہیں۔
ا۔ حتمی علامات جو یقینی ہو۔ 🌟🌟
۔ غیر حتمی علامت ہے کہ جس کا وقوع ہونا غیر یقینی ہے۔ ممکن ہے ہو اور ممکن ہے کہ نا ہو۔
حتمی علامت : 🌟🌟
سفیانی کا خروج:
یہ خروج ہر حالت میں ہوگا۔ اس حوالے سے امام باقرؑ فرماتے ہیں:
روایت:🌺
بعض امور موقوف ہیں یعنی غیر حتمی ہیں اور بعض حتمی ہے اور پھر فرماتے ہیں جیسے سفیانی کا خروج حتمی ہے۔
شیعہ روایات کی رو سے غیرحتمی علامات جیسے دجال کا خروج اور سورج کا مغرب سے طلوع ہونا
اس روایت کے علاوہ اور بہت سی روایات ہیں کہ جن میں علامات ظہور کو دو قسموں حتمی اور غیر حتمی میں تقسیم کیا ہے۔
ب: متصل و منفصل: 🌟🌟
متصل علامات سے مراد وہ علامتیں ہیں جن کے وقوع کا زمانہ حضرت عج کے زمانہ ظہور کے نزدیک اور اس کے ہمراہ ہو گویا ان میں فاصلہ نہ ہو ۔
منفصل علامات سے مراد وہ علامتیں ہیں کہ جن کے وقوع کا امانہ اور امامؑ عج کے ظہور کے زمانہ کے درمیان فاصلہ پایا جاتا ہے۔ البتہ مومنین کے دلوں میں اطمینان اور امید پیدا کرتی ہیں۔
امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں: 🌺🌺
قائم عج کے قیام اور نفس زکیہ کے قتل کے درمیان صرف پندرہ راتوں کا فاصلہ ہوگا۔
ج۔:
عادی اور غیر عادی: 🌟🌟
عادی علامات سے مراد وہ قدرتی علامتیں ہیں جو دوسری چیزوں کی طرح بطور عادی وقوع پذیر ہوں گی جیسے نفس ذکیہ کا قتل اور سفیانی کا خروج اور غیر عادی علامات وہ ہیں کہ جن کا وقوع قدرتی طور پر ممکن نہ ہو۔ جیسے آسمانی آواز اور خسف بیدا یا جیسے ماہ رمضان کے آخر میں چاند گرہن اور وسط میں سورج گرہن
ثعلبہ سے نقل ہوا ہے کہ:
حضرت امام محمد باقرؑ فرماتے ہیں:
قائم کے قیام سے پہلے دو علامتیں وقوع پذیر ہوں گی ایک یہ کہ ماہ مبارک رمضان کے وسط میں سورج اور دوسری یہ کہ اسی مہینے کے آخر میں چاند کو گرہن لگے گا۔
میں نے کہا کے اے فرزند رسول خدا عام طور پر سورج گرہن آخر ماہ اور چاند گرہن وسط ماہ میں وقوع پذیر ہوتا ہے ۔
فرمایا:
جو میں کہہ رہا ہوں اسے میں بہتر جانتا ہوں۔ یہ دو ایسی علامتیں ہیں جو حضرت آدم کے زمانہ سے لیکر آج تک وقوع پذیر نہیں ہوئیں۔
د۔ 🌟🌟
آسمانی و زمینی علامتیں:
آسمانی علامتوں سے مراد وہ علامتیں ہیں جو آسمان میں ظاہر ہوں گی مثلاً آسمانی آواز ، چاند گرہن اور سورج گرہن جیسی علامات۔
زمینی علامات سے مراد وہ علامتیں ہیں جو روئے زمین پر وقوع پذیر ہوں گی جیسے سفیانی کا خروج اور نفس ذکیہ کا قتل
والسلام۔
تحریر و پیشکش: ✍️
شہر بانو
عالمی مرکز مہدویت قم۔ 🌍
کتابچہ 10
شرائط و علامات ظہور
درس 8
عقیدہ بداء کیا ہے؟ یہودی کا واقعہ ، تقدیر انسان کے ھاتھ میں ہے ، ہوسکتا ہے علامات ظہور سب یا کچھ ظاہر نہ ہوں
تطبیق کے نقصانات
استاد مہدویت آغا علی اصغر سیفی صاحب🎤🌹
خلاصہ:
موضوع سخن علامات ظہور ہیں۔
علامات ظہور کی بحث سے قبل چند چیزوں کا جاننا ضروری ہے۔
قاعدہ بدا:🌀
ہماری کلامی اعتقادی کتابوں میں یہ قاعدہ بیان ہوا ہے اور یہ بحث فقط مکتب تشیہو میں ہی بیان ہوتی ہے باقی فرقوں اور مکاتب میں یہ بیان نہیں ہوتی۔
بدا کا معنیٰ ہے کوئی چیز ظاہر ہو۔ لیکن عقائد کے لحاظ سے جو اصل معنیٰ بیان ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ انسان کی تقدیروں کے اندرتبدیلی۔ مثلاً کوئی چیز انسان کے مقدر میں لکھی جاتی ہے لیکن اس کے لیے شرائط ہوتی ہیں۔ اگر کوئی انسان ان شرائط کو انجام دے تو اس چیز تک پہنچتا ہے اور اگر انجام نہ دے تو تقدیر بدل جاتی ہے اور پھر وہ چیز اسے نہیں ملتی۔
اس کی مزید وضاحت کے لیے روایت پر غور کریں گے جسے علامہ مجلسی کی کتاب کافی سے نقل کیا ہے۔
روایت:📜
ایک دن رسول اکرمؐ اصحاب کے ساتھ بیتھے ہوئے تھے کہ ایک یہودی جو لکڑیاں جمع کرنے کے لیے جا رہا تھا آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا۔ السام علیک (تجھے موت آجائے)۔ آنحضرتؐ نے جواب دیا علیک (تو لقمہ اجل بن جائے) اصحاب نالاں ہوئے اور کہنے لگے اے رسولؐ خدا یہودی نے آپ کی موت کی آرزو کی ہے۔
آنحضرت نے فرمایا: میں نے بھی اسے جواب دے دیا ہے۔ آج ایک زہریلا سانپ اسے ڈس کر ہلاک کر دے گا اور وہ واپس لوٹ کر نہیں آئے گا۔
الغرض یہودی چلا گیا ۔ اور تھوڑی دیر کے بعد لکڑیوں کا گٹھا اٹھائے ہوئے واپس آگیا۔ جب اصحاب نے دیکھا تو حیران ہو کر رسول اکرمؐ سے اس کے زندہ رہنے کا سبب دریافت کیا۔
آنحضرت نے یہودی کو گٹھا زمین پر رکھنے کا حکم دیا۔ اور جیسے اس پر نگاہ ڈالی تو لکڑیوں کے درمیان ایک زہریلا سانپ دیکھا۔ آنحضرتؐ نے یہودی سے پوچھا کہ آج تو نے کون سا نیک کام کیا تھا۔ یہودی نے جواب دیا: میں نے کوئی خاص کام انجام نہیں دیا مگر یہ کہ اپنی دو روٹیوں میں سے ایک روٹی فقیر کو دی ہے۔
رسولؐ خدا نے فرمایا: یہی وجہ ہے کہ اللہ نے اس بلا اور مصیبت سے تجھے بچا لیا ہے کیونکہ صدقہ بلاؤں کو ٹال دیتا ہے۔
البتہ اللہ تعالی یہودی کی دونوں حالتوں کا علم رکھتا ہے اور ممکن ہے کہ رسولؐ خدا بھی باخبر ہوں لیکن اصحاب کو تعلیم دینے کے لیے پہلے حالت اول یعنی سانپ کا یہودی کو ڈسنا بیان فرمایا۔
بدا سے مراد ہماری زندگی میں بارہا ہماری زندگی میں ارتقاء ہوتا ہے اور ہم اللہ کے اس قانون سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہیں۔ یعنی انسان کے اپنے بس میں ہے کہ وہ اپنی تقدیر بنائے۔ یہ اس حدیث اور واقعے سے واضح ہو رہی ہے ۔
اب ہوسکتا ہے کہ امام زماں ؑ عج کے بارے میں جو علامات بتائی جاتی ہے ان میں بھی بدا ہو ہو سکتا ہے کہ بعض ظاہر ہوں اور ہو سکتا ہے کہ بعض ظاہر نہ ہوں۔ یعنی یہ ہماری تیاری پر موقوف ہے کہ اگر ہم مکمل طور پر ظہور کے لیے تیار ہو گئے تو ہو سکتا ہے کہ بعض علامات ظاہر ہی نہ ہوں اور ظہور ہو جائے۔
جیسے بعض روایات کہتی ہیں کہ ظہور ناگہانی ہو گا۔ یعنی یہ امکان ہے۔ لیکن یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ہماری تیاری سست روی سے جاری ہو لیکن جیسے ہی علامات ظاہر ہوں تو پھر ہم خود کو سرعت کے ساتھ تیار کریں۔ اور اس وقت ان علامات کا آنا ضروری ہو تاکہ ہم پندرہ مہینے میں خود کو مولاؑ کے لیے تیار کریں۔
آئمہ معصومینؑ کے فرامین میں بھی اس مطلب کی طرف اشارہ کیا گیا ہے انہوں نے علامات ظہور کو حتمی اور غیر حتمی علامات میں تقسیم کیا ہے۔ یہ علامات لسان محمدؐ وآل محمؑد سے اللہ کے علم سے بیان ہوئی ہیں۔ لیکن ان کا مطلب یہ نہیں کہ یہ ساری پوری ہونگی ان میں بدا ہوسکتا ہے یعنی اللہ نے ان علامات کے لیے شرائط اور حالات مقرر کئے ہوں ۔ کہ اگر لوگ ان حالات اور شرائط کو پورا کردیں تو ہو سکتا ہے کہ یہ علامات نہ ہوں۔
2۔ علامات کی تطبیق:🌀
ایک اہم نقطہ تطبیق کا ہے۔ کچھ لوگ دنیا میں ہونے والے ہر واقعے کو علامات پر تطبیق دینا شروع کر دیتے ہیں اور نتیجتاً لوگوں میں جوش و خروش پیدا ہوتا ہے اور لوگ سمجھتے ہیں بس ابھی ظہور ہونے والا ہے حالانکہ ایسا نہیں ابھی تو معمول کے مطابق واقعات ہیں جو دنیا میں رونما ہو رہے ہیں۔ جیسے کہ کرونا جسے کتنے ہی لوگوں نے کہا کہ یہ وہی سفید موت ہے کہ جس کا ذکر علامات میں آیا ہے اور سب لوگ ایک دوسرے کو خوشخبریاں دے رہے ہیں۔ کہ عنقریب امام زماںؑ عج کا ظہور ہونے والا ہے۔ حالانکہ اس وقت بھی بیان کیا گیا تھا کہ نہیں یہ تو طاعون کی طرح بیماری ہے جو ہر صدی میں آتی ہے بلکہ آئمہؑ کے دور میں بھی آئی تھی۔ یا لوگوں نے کہا کہ جب بڑے پیمانے پر زلزلے آئے تو یہ وہی خونی زلزلے ہیں اور عنقریب ظہور ہوگا۔ یا پھر ابھی جو فلسطین کے حالات ہوئے تو کہا گیا کہ یہ وہی خونی جنگیں ہیں جو ظہور سے قبل ہونگی۔
ہمیں یہ حق نہیں کہ ہم خواہمخواہ علامتوں کو دنیا کے اندر رونما ہونے والے واقعات پر تطبیق دیں۔ دنیا کے اندر ایسے واقعات پہلے بھی رونما ہوئے ہیں بہت سی خونی جنگیں جو اس جنگ سے شدید تھی۔ بہت سے زلزلے اور بیماریاں آئیں۔ لیکن جب تک ہماری تیاری نہیں ہو گی ظہور نہیں ہوگا۔
واقعات کو علامات سے تطبیق دینے کا نتیجہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ لوگ عقیدہ مہدویت سے خارج ہو جائیں۔ لہذا اس بات سے منع کیا گیا ہے اور اگر کوئی شخص تطبیق دے تو وہ کذاب ہے۔ لہذا ضروری ہے کہ بڑے علماء سے اور مہدویت کے ماہرین سے رجوع کیا جائے اور ان سے اس حوالے سے وضاحت پوچھی جائے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق کہ ہم ان تمام ابحاث مہدویت میں صحیح معنوں میں آگاہی حاصل کریں اور مولاؑ عج کے حقیقی اور فکری سرباز بنیں۔
الہیٰ آمین۔ 🤲
والسلام
تحریر و پیشکش: ✍️
شہر بانو
عالمی مرکز مہدویت قم۔ 🌍
کتابچہ 10📖
شرائط و علامات ظہور
درس 9
علامات اور طہور کے زمانے کا مخفی ہونا، ظہور کا وقت معین کرنے والے جھوٹے ہیں، علامات ظہور پر اجمالی تجزیہ، حالات قبل از ظہور اور علامات ظہور میں فرق۔
استاد مہدویت آغا علی اصغر سیفی صاحب۔🎤🌹
خلاصہ:
موضوع سخن علامات ظہور ہیں۔ اس سلسلے میں تمہیدی گفتگو میں بیان کیا تھا کہ علامت بداء ہو سکتی ہے یعنی علامت ہو لیکن عین وقت پر ظاہر نہ ہو۔ دوسری چیز جو بیان کی تھی وہ تطبیق ہے۔
تطبیق یعنی علامات کے موضوع میں ہمیں حق نہیں کہ اگر دنیا میں کوئی واقع رونما ہو ہے تو اسے علامت سے متابقت دیں۔
3۔ ظہور کے زمانے کا پوشیدہ ہونا:🌀
ہمیں نہیں معلوم کہ کب علامات ظاہر ہوں اور کب ظہور ہو۔ بہت ساری روایات کے اندر آئمہؑ سے نقل ہوا ہے کہ کَذِبَ الوقَاتون۔۔ ۔۔ ۔۔ وقت کی تعیین کرنے والے جھوٹے ہیں۔
غیبیت نعمانی ب 16، ج 146، 12، 13📚📖
شیخ طوسیؒ کی نقل کے مطابق امام جعفر صادقؑ نے ایک ہی حدیث میں تین مرتبہ اس جملے کو بیان فرمایا ہے۔ کہ جو بھی ظہور کا وقت معین کرے وہ کذاب ہے۔
غیبت ظوسی، ص 425 ، ش 411📚📖
خود امام زماں عج نے بھی اپنی آخری توقیع 📜میں اپنے آخری نائب کو واضح طور پر بتایا :
فلا ظھور بعد اذن اللہ تعالی ذکرہ
ظہور کا زمانہ اذن پروردگار پر موقوف ہے اور جب خدا چاہے گا ظہور وقوع پذیر ہوگا۔
غیبت طوسی، ص395، ش 365📚📖
البتہ بعض روایات میں آنحضرت ؑ کے ظہور کے یکدم پر وقوع پذیر ہونے کو بیان کیا گیا ہے۔ جب جناب کمیت نے امام محمد باقر ؑ سے ظہور کے وقت کے بارے میں سوال کیا تو آپؑ نے فرمایا:
لقد سُیِلَ رسول اللہ عن ذلک فقال: انما مثلہ کمثل ساعتہ لا تاتیکم الا بغتتہ۔
فرمایا:🌷
رسول گرامی اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی سلسلے میں سوال کیا گیا تو آنحضرت نے ارشاد فرمایا:
ہمارا مہدیؑ عج قیامت کی طرح ظہور کرے گا۔ یعنی جس طرح قیامت کی گھڑی کا کسی کو علم نہیں ہے اس طرح زمانہ ظہور بھی معلوم نہیں ہے۔
بحار، ج 36، ص 391، ح 2📚📖
البتہ ہم اس کی تشریح یوں کرتے ہیں کہ ظہور ان لوگوں کے لیے ناگہانی ہے کہ جو لوگ ظہور کے منکر ہے اسے قصہ یا خرافات سمجھتے ہیں اور منکر مہدیؑ عج ہیں اور کہتے ہیں کہ ایسا کوئی امام ؑ عج بھی ظاہر نہیں ہوگا اور دنیا ایسے ہی رہے گی۔ اور وہ لوگ جو ظہور امام عج پر ایمان رکھتے ہیں ان کو تو علامات سے معلوم ہو جائے گا کہ ظہور نزدیک ہے۔ جیسے جیسے پندرہ مہینے قبل ظہور علامات ظاہر ہونا شروع ہو جائیں گی ان کو معلوم ہو جائے گا کہ ظہور نزدیک ہے۔ ان کے لیے یہ ظہور ناگہانی نہیں ہوگا۔
مذکورہ بالا مطلب کی روشنی میں یہ نتیجہ نکلتا ہے:
1۔☘️ علامات، ظہور کے قریبی زمانے کو بیان کرتی ہیں۔ قطعی زمانے کو بیان نہیں کرتیں۔
2۔ ☘️اگر کسی علامت ظہور کے زمانہ کو قطعی طور پر بیان کیا گیا ہے تو اس کی کئی توجیہات بیان کی جا سکتی ہیں۔
علامات ظہور کا اجمالی تجزیہ: 🫴
اگر ہم علامات کا اجمالی سا تجزیہ کریں تو ہم دیکھتے ہیں کہ بعض علامات پر بہت زیادہ تاکید ہے۔
عمر بن حنظلہ کہتے ہیں۔ 🌻
سمعت ابا عبداللہ علیہ السلام:
یقولُ قبل قیام الائم خمس محتومات:
الیمانی والسفیانی والصیحتہُ و قتل النفس الزکیہ والخسف باالبیداء
میں نے امام جعفر صادق ؑ سے سنا ہے ۔ کہ آپؑ فرما رہے تھے:🌷
قائمؑ عج کے قیام سے پہلے پانچ علامتیں ہیں: یعنی یمانی کا خروج، سفیانی کا خروج، آسمانی آواز، نفس ذکیہ کا قتل اور سرزمین بیداء میں دھنس جانا۔
اس روایت کی سند مورد قبول ہے۔
کمال الدین ض 2، ب57 ح 7📚📖
یہ پانچ حتمی علامات ہیں جو ہر صورت میں ہو کر رہیں گی۔ اور خراسانی کا قیام، دجال کا خروج یا مغرب سے سورج کا طلوع ہونا غیر حتمی ہیں ہوسکتا ہے ہوں ہوسکتا ہے نہ ہوں اور کچھ چیزیں قبل از ظہور کے حالات ہیں۔ جیسے بنی عباس کی حکومت کا خاتمہ یہ بعنوان علامت بیان ہوا حالانکہ یہ واقعات ہیں جو قبل از ظہور ہوں گے۔ اس حکومت کو ختم ہوئے صدیاں گذر گئی ہیں اسی طرح بیماریوں کا آنا سفید موت جنگوں کا ہونا یعنی سرخ موت، زلزلوں کا آنا ، لوگوں کا بدی کی جانب مائل ہونا۔ زمین پر فساد اور ظلم و ستم ہونا یہ سب قبل از ظہور حالات ہیں۔
علامات اور حالات میں فرق ہے۔ 🫴
علامات قبل از ظہور پندرہ ماہ کے عرصے میں ظاہر ہونگے اور جبکہ حالات ہر صدی میں ہو رہے ہیں۔ اسی لیے ہم حالات کو تطبیق نہیں دے سکتے کہ یہ زمانہ ظہور پر دلالت کرتے ہیں۔ ظہور کے قریب تو حالات بہتر ہونگے کیونکہ منتظرین پوری دنیا میں کام کر رہے ہونگے۔ اور عالمگیر پیمانے پر ظہور کی تیاری ہوگی۔
🤲
پروردگار عالم ہمیں توفیق عطا کرے کہ ہم علامات ظہور پر دقت کریں اور فکری اعتبار سے معرفت اور عملی اعتبار سے خود کو تیار کریں اور مولاؑ عج کے خادم بنیں۔
والسلام۔
تحریر و پیشکش: ✍️
شہر بانو
عالمی مرکز مہدویت قم۔ 🌍
*کتابچہ* 10📖📚
شرائط و علامات ظہور
درس 10
سفیانی کی علامت کا حتمی ہونا ، سفیانی کی خصوصیات ، خسف بیداء کیا ہے
*خطابت* : 🎤🎤🎤
*استاد مہدویت آغا علی اصغر سیفی صاحب🌹*
*خلاصہ* :
موضوع سخن علامات ظہور ہے اور آج سفیانی کے حوالے سے گفتگو ہے سفیانی امام زماںؑ عج کے ظہور کی ایک اہم ترین علامت ہے۔ اور اس سے ملتی جلتی علامت جو اسی سے مربوط ہے وہ خسف بیداء ہے۔
*سفیانی کون ہے؟* 🫴
آئمہؑ معصومینؑ کی جانب سے بہت ساری روایات نقل ہوئیں۔ ان روایات میں بہت ساری سند کے اعتبار سے صحیح ہیں اور کچھ مورد بحث ہیں۔ اب ہم روایات کا جو خلاصہ پیش کریں گے۔
کہ سفیانی کے خروج کو علامات ظہور میں ایک حتمی علامت پیش کیا گیا ہے ۔
🌻
*امام جعفر صادقؑ سے جناب ابو حمزہ ثمالی نے عرض کی کہ* میں نے امام محمد باقر ؑ سے سنا ہے کہ سفیانی کا خروج حتمی امور میں سے ہے، آسمانی آواز حتمی ہے اور سورج کا مغرب سے طلوع حتمی ہے۔
مولاؑ نے اس کی تائید کی۔
اسی طرح امام محمد باقرؑ سے سورہ الانعام کی آیت نمبر 2 کے حوالے سے ایک فرمان ذکر ہوا 🌻
*هُوَ الَّـذِىْ خَلَقَكُمْ مِّنْ طِيْنٍ ثُـمَّ قَضٰٓى اَجَلًا ۖ وَاَجَلٌ مُّسَمًّى عِنْدَهٝ ۖ ثُـمَّ اَنْتُـمْ تَمْتَـرُوْنَ (2)🌺*
اس آیت میں پروردگار عالم نے اجل کی بات کی اور اجل مسمی تو یہاں مولا ؑ نے فرمایا:
اجل یعنی مدت :👉
اس کی دو قسمیں ہیں
1۔ ♦️اجل محتوم (مقرر)
2۔♦️ اجل موقوف (یعنی یہ ہمارے امر پر موقوف ہے)۔
حمران نے سوال کیا: مولاؑ اجل محتوم کیا ہے؟
*فرمایا* : 🌻
اجل محتوم وہ اجل ہے جس کا خدا نے ارادہ کر رکھا ہو۔
حمران نے عرض کی: میری خواہش ہے کہ اجل سفیانی ، اجل موقوف ہو۔
*امامؑ نے فرمایا: 🌻*
نہیں اللہ کی قسم اجل سفیانی یقینی اور حتمی امور میں سے ہے۔
سفیانی ایک حاکم ہے جو کچھ عرصہ حکومت کرے گا اور اس کی حکومت میں نیک لوگ بلخصوص شیعیان اہلبیتؑ اذیت کا شکار ہونگے۔
اسی زمانے میں جناب یمانی بھی قیام کریں گے۔ شیعہ لوگ پریشان ہونگے اور سفیانی کے آنے سے قبل شیعوں کی یہی دعا ہوگی کہ یہ نہ آئے۔
سفیانی امام زماںؑ عج کے ظہور کو روکنے کے لیے اٹھے گا اور مولاؑ عج سے جنگ و جدال کرے گا تاکہ امامؑ عج کو نقصان پہنچائے اور شہید کرے اور اس کا ایک لشکر وادی بیداء میں دھنس جائے گا۔
*سفیانی کی خصوصیات* :👺
روایات بیان کرتی ہیں کہ یہ ایک نہایت خبیث اور پلید شخص ہے اور اس کی حکومت کے مقاصد ہر چیز باطل ہے ۔ یہ بےپناہ ظالم اور قتل و غارت کرنے والا ہے اور اس کے زمانے میں شیعوں کے قتل پر انعام مقرر ہونگے اور بلخصوص عراق میں یہ بہت قتل و غارت کرے گا۔ مثلاً ہم بعض روایات میں دیکھتے ہیں کہ یہ جب کربلا میں قتل و غارت کرنا چاہے گا تو یمانی اور خراسانی کی افواج بچائیں گی۔ بعض روایات میں ہم دیکھتے ہیں کہ بلآخر دوسرے لوگ آکر بچائیں گے۔ یہ سارے ظلم کرے گا۔
اس سے ملتی جلتی علامت *خسفِ بیداء* ہے۔🫴
لفظ خسف کا معنی دھنس جانا 👉
بیداء مکہ اور مدینہ کے درمیان کی ایک جگہ کا نام ہے۔ اس علامت کو حتمی علامات میں سے شمار کیا گیا ہے۔ اور یہ ایک *معجزہ نما علامت* ہے۔ کہ سفیانی کا لشکر امام زماںؑ عج سے جنگ کرنے کے لیے مکہ کی طرف روانہ ہوگا اور حکم خدا سے بیداء کے مقام پر زمین میں دھنس جائے گا۔
مرحوم نعمانی نے اس سلسلے میں اپنی کتاب غیبۃ کے باب 14 میں ایک طولانی حدیث ذکر کی ہے۔
۔۔ غیبت نعمانی، ب۔ 14 ح13📚
*امام محمد باقر ؑ سے نقل ہونے والی ایک حدیث کا حصہ یہ ہے کہ: 🌻*
*ترجمہ* :
پس جس وقت سفیانی کا لشکر سر زمین بیداء پر پہنچے گا تو آسمان منادی ندا دے گا:
" *اے سر زمین بیداء ان لوگوں کو ہلاک کر دے ۔ پس سر زمین بیداء انہیں نگل جائے گی۔*
ہم دیکھتے ہیں کہ علماء اور فقہاء نے اس علامت پر اس قدر اعتماد کیا ہے کہ اپنے فقہی کتب میں اس مقام کو باب صلوۃ میں ان مقامات میں شمار کیا ہے کہ جہاں نماز پڑھنا مکروہ ہے اور ساتھ ہی سفیانی کے لشکر کے اس زمین میں غرق ہونے کی جانب اشارہ کیا ہے یعنی یہ وہ زمین ہے کہ جہاں اللہ کا عذاب نازل ہوگا۔
یہاں تک ذکر ہے کہ صرف دو آدمی بچیں گے ایک امام زماںؑ عج تک پہنچ کر خبر دے گا اور دوسرا سفیانی کو جا کر بتائے گا کہ اللہ کا عذاب نازل ہوا ہے۔
پروردگار عالم ہم سب کو توفیق دے کہ ہم سفیانی کا مقابلہ کرنے والے اور اپنے امامؑ عج کے مددگاروں میں سے ہوں اور سفیانی جیسے فتنوں سے لڑنے والوں میں سے قرار پائیں۔ 🤲
والسلام
تحریر و پیشکش: ✍️
شہر بانو
*عالمی مرکز مہدویت قم۔* 🌍
*کتابچہ* 10📖
شرائط و علامات ظہور
*درس* 11
یمانی کا خروج، آسمانی آواز اور نفس ذکیہ کی شہادت، روایات پر تجزیہ
*خطابت* :🎤🎤🎤🎤🎤
*استاد مہدویت آغا علی اصغر سیفی صاحب* 🌹🌹
موضوع سخن علامات ظہور ہیں۔ جن میں سے اہم علامات سفیانی کا خروج اور خسف بیداء بیان ہو چکی ہیں۔ باقی تین اہم علامات آپ کی خدمت میں مختصرً بیان ہونگی۔
3۔ *یمانی کا خروج۔*
جناب یمانی یمن سے تعلق رکھنے والی ایک شخصیت ہیں جس زمانے میں سفیانی خروج کرے گا یہ بھی اس زمانے میں لوگوں کو عدالت اور حق کی جانب دعوت دیں گے۔
احادیث اور روایات میں ان کے قیام کی تفصیلی کیفیت ذکر نہیں ہوئی صرف اتنا ذکر ہوا ہے کہ پانچ اہم علامات میں سے ایک علامت ان کا قیام ہے اور یہ لوگوں کو حق اور عدالت کی جانب دعوت دیں گے۔
*غیبت نعمانی، ب* ، 14ح13📖📚
امام محمد باقر ؑ ارشاد فرماتے ہیں۔🌻
*خروج السفیانی والیمانی والخراسانی فی سنتہ واحدہ۔۔۔ ولیس فی الرایات رایتہ لھدی من رایتہ الیمانی۔*
"سفیانی ، یمانی اور خراسانی کا خروج ایک ہی سال میں ہوگا اور سارے پرچموں میں سے یمانی کا پرشم ہی پرچم ہدایت ہوگا۔"
روایات میں شعیوں کو یہ کہا گیا ہے کہ جب بھی جناب یمانی کی تحریک اٹھے تو ان کی مدد کریں۔
4۔ آسمان سے آنے والی آواز:
روایات میں صیحہ کے علاوہ ندا، صوت اور فزعہ جیسے الفاظ بھی آئے ہیں۔
یہ ندا ماہ رمضان میں آئے گی اور لوگوں کو خوفزدہ کرے گی۔
اب یہاں سوال ہے کہ کیا یہ ایک ندا ہوگی یا زیادہ ہوں گی۔ یہ آواز صرف رمضان میں آئے گی۔ یہ آواز کیا دعوت حق دے گی امامؑ عج کی جانب دعوت دے گی یا پھر باطل آواز بھی ہوگی؟
یہاں ایک قطعی نظر دینا مشکل ہے۔ لیکن جو کچھ بھی روایات کے اندر ہے چونکہ روایات بھی کچھ صحیح ہیں اور کچھ ضعیف ہیں اور ادھر سے ہمارا عقیدہ بداء بھی ہے لیکن اگر ہم ایک نتیجہ نکالیں تو یہ ہے کہ ایک ایسی آواز آئے گی جو امام زماں عج کے ظہور کی جانب بشارت دے گی۔ یہ آواز مومنین کو سرور دے گی اور دشمان امام زماں عج کو ڈرائے گی۔
اس آواز میں امام زمان عج کی معرفت اور حقانیت ہے اور یہ دلیل ہوگی کہ جسے تمام لوگ درک کریں گے اور اس بات کی طرف متوجہ ہو جائیں گے کہ موعود اور منجی حقیقی یہی ذات ہیں۔
*غیبت نعمانی،* ب 14، ح 17📖📚
ابن ابی یعفور کہتے ہیں۔
امام صادق ؑ نے مجھے فرمایا:
" فلاں شخص یعنی ابن عباس کے ایک شخص کا نام لیا کہ اس کی ہلاکت ، سفیانی کا خروج، نفس ذکیہ کا قتل ، وہ سپا جو زمین میں دھنس جائے گی اور آواز تک ہاتھ روک لو۔ میں نے پوچھا: آواز کیا ہے؟ آیا یہ وہ منادی ہے؟ فرمایا: ہاں اور صاحب الامر کی اس کے ذریعے شناخت ہوگی۔ "
اس آواز کا ردعمل یہ ہوگا کہ اولاد آدمؑ کے ساتھ دیرینہ دشمنی اور کینے کی بنا پر شیطان بھی اس سلسلے میں خاموش نہیں رہے گا۔ بلکہ کسی نہ کسی طرح اولاد آدم کو گمراہ اور پریشان کرنے کی کوشش کرے گا ۔ لہذا ممکن ہے شیطان کی طرف سے بھی کوئی ندا سنائی دے جس سے لوگ حیران اور پریشان ہو جائیں ۔
*غیبت نعمانی، ب 14،* 29📖📚
اس حوالے سے جناب زرارہ کہتے ہیں:
میں نے امام جعفر صادقؑ کی خدمت میں عرض کی:
میں حیرت میں ہوں کہ اللہ آپؑ کے امور کی اصلاح کرنے میں قائمؑ عج کے حوالے سے بہت حیران ہوں کہ لوگ لشکر کے زمین بیداء میں غرق ہو جانے اور آسمان سے آنے والی نداء جیسے معجزات کو دیکھنے کے باوجود کس طرح ان سے جنگ کریں گے؟
امام صادقؑ نے ارشاد فرمایا: 🌻
شیطان انہیں نہیں چھوڑے گا یہاں تک ویسی ہی ندا دے گا جیسی ندا روزِ عقبہ رسولؐ اللہ کے بارے میں دی تھی۔
یہ روایت سند کے لحاظ سے معتبر ہے۔
اب اگر ہم تسلیم بھی کریں کہ شیطان کی طرف سے ایک ندا آئے گی تو یہ اس ندا سے مختلف ہو گی جو امام زماںؑ عج کے حق میں بلند ہوگی۔ اور لوگوں کو پتہ جائے گا کہ صدائے حق کونسی ہے اور صدائے باطل کونسی ہے۔
*غیبت نعمانی* باب 14 ح 13📖📚
ان دونوں آوازوں میں فرق:
امامؑ زماں عج کے حوالے سے صدائے آسمانی ہوگی۔
شیطان کی آواز زمینی ہوگی۔
اور یہی چیز امام جعفر صادقؑ کی روایت میں موجود ہے۔
*غیبت نعمانی* ب14 ح38📖📚
آسمانی آواز میں کہا جائے گا کہ امام مھدیؑ عج آپ لوگوں کے امیر ہیں اور بےشک علیؑ اور ان کے شیعہ کامیاب ہیں۔
جناب زرارہ ؒ پوچھتے ہیں کہ مولاؑ پھر کون جنگ کرے گا۔ فرمایا: پھر شیطان آواز دے گا۔۔ کہ فلاں یعنی دشمن امیر المومنینؑ جو بنو امیہ میں سے ایک شخص ہے اس کے ماننے والے کامیاب ہیں۔
تو جناب زرارہؒ کہتے ہیں کہ سچے اور جھوٹ یعنی حق و باطل کی کون تمیز کرے گا۔
امامؑ نے فرمایا کہ: 🌻
حق کو وہی لوگ پہچان کریں گے جو ہماری حدیث کو بیان کرتے ہیں اور ظہور کے واقع ہونے سے پہلے ظہور کا عقیدہ رکھتے ہیں اور آئمہؑ کے حق اور صادق ہونے کے قائل ہیں۔
اب ہم اسی لیے تو کہتے ہیں کہ امامؑ عج کی معرفت ضروری ہے کیونکہ یہ حق ہے یعنی جو ظہور سے قبل معرفت اور عقیدہ ظہور کو حق سمجھتا ہے اور ناصر و مددگار اور معرفت رکھتا ہے وہ شیطان کے جال میں نہیں پھنسے گا۔
*غیبت نعمانی، باب 14* حدیث 32📖📚
*سورہ یونس، آیت* 35
اس بارے میں امام جعفر صادق ؑ کا ایک فرمان ہے:
"ظہور کے وقت وہی شخص ظہور کی تصدیق کرے گا جو ظہور سے پہلے اس پر ایمان رکھتا ہوگا۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
*قُلْ هَلْ مِنْ شُرَكَآئِكُمْ مَّنْ يَّـهْدِىٓ اِلَى الْحَقِّ ۚ قُلِ اللّـٰهُ يَـهْدِىْ لِلْحَقِّ ۗ اَفَمَنْ يَّـهْدِىٓ اِلَى الْحَقِّ اَحَقُّ اَنْ يُّتَّبَعَ اَمَّنْ لَّا يَـهِدِّىٓ اِلَّآ اَنْ يُّـهْدٰى ۖ فَمَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُوْنَ (* 35)🌻
تو پھر جو حق کی راہ دکھاتا ہے وہ اس بات کا زیادہ حقدار ہے کہ اس کی پیروی کی جائے یا وہ جو خود اپنی راہ نہیں پاتا جب تک اس کی راہنمائی نہ کی جائے۔ تمھیں ہو کیا گیا ہے اور تم کیسے فیصلے کر رہے ہو۔
5۔ *قتلِ نفس زکیہ:*
آخری علامت نفس زکیہ کا قتل ہے یہ ہستی مکہ مکرمہ میں رکن و مقام کے درمیان شہید ہونگے۔
*کمال الدین جاب22، حدی16، غیبت طوسی، ص* 444، ش439📖📚
امام محمد باقر ؑ زمانہ ظہور کی خصوصیات اور علامات ظہور پر مشتمل ایک حدیث میں ارشاد فرماتے ہیں🌻
وقُتلَ غلام من آل محمد بین الرکن والمقام
رکن و مقام کے درمیان آل محمدؑ میں سے ایک جوان قتل کیا جائے گا۔
*غیبت شیخ طوسی باب علائم ظہور،* س445، ش 440📖📚
امام جعفر صادق ؑ کا فرمان ہے:🌻
لیس بین قیام القائم و بین قتل النفس الزکیۃ الا خمس عشرۃ لیلۃ
قائمؑ عج کے قیام اور قتل نفس زکیہ کے درمیان پندرہ راتوں سے زیادہ فیصلہ نہیں ہے اس قسم کی روایات امام محمد باقر ؑ سے بھی نقل ہوئی ہیں۔
👈کہتے ہیں کہ یہ شخص امام مھدیؑ کے انصار میں سے ہوگا امامؑ عج اسے ظہور کی خوشخبری کے ساتھ مکہ مکرمہ بھیجیں گے لیکن امام ؑ عج کے دشمن اسے رکن مقام کے درمیان شہید کریں گے۔
*اس کے علاوہ کچھ غیر حتمی علامات بھی ہیں۔* جیسے ماہ مبارک رمضان کے وسط میں سورج گرہن اور آخر میں چاند گرہن لگنا۔ مغرب سے سورج کا طلوع ہونا، آسمان پر ہتھیلی کا ظاہر ہونا۔
🫴🏻
اب سوال یہ ہے کہ آیا ابھی تک کوئی علامات ظہور میں سے کوئی ایک علامت پوری ہوئی ہے تو جواب ہے کہ نہیں ابھی تک کوئی علامت پوری نہیں ہوئی۔ 👉
*جنگیں اور بیماریاں حالات ہیں جو ہر صدی میں رہے ہیں۔* 👉
حتمی علامات ظہور پانچ ہیں اور مومنین کو چاہیے کہ ان کی جانب توجہ رکھیں۔ 🫴
*پروردگار ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ہم امام ؑ عج کی معرفت حاصل کریں اور جب ظہور ہو تو ہم مولاؑ عج کی ہمراہی کریں۔*
*انشاءاللہ*
والسلام🤲
تحریر و پیشکش: ✍️
شہر بانو
*عالمی مرکز مہدویت قم* ۔🌍
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں