حضرت امام زمانہ (عج) کا خط شیخ مفید کے نام
1: حضرت امام زمانہ (عج) کا خط شیخ مفید کے نام
حضرت امام زمانہ (عج) کا خط شیخ مفید کے نام
ہر دور کے ظالم و جابر کو ہمیشہ ہم سے ہی خطرہ رہتا ہے کہ ہم اس کے ظلم و ستم کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں، اور اس وقت ہمارے پاس بھی ایسی طاقتیں ہیں جو اس وقت کے سب سے بڑے ظالم و جابر کو منہ توڑ جواب دے سکیں اور وقت پڑنے پہ دیتی بھی ہیں اور دنیا دیکھتی بھی ہے۔
آج کی جس دنیا میں ہم زندگی بسر کر رہے ہیں اس میں ترقی کے ساتھ ساتھ مشکلات بھی ہیں جیسے جیسے دنیا ترقی کرتی جا رہی ہے ویسے ویسے نئی نئی مشکلیں بھی سامنے آرہی ہیں، البتہ طبیعی اور قدرتی مشکلیں کم ہیں اور خود لوگوں کی بنائی ہوئی زیادہ ہیں،آج انسان اپنے ذاتی مفاد و مقاصد اور حکومت و برتری کی غرض سے دوسروں پہ ظلم ڈھا رہے ہیں، انسانیت کا خون بہا رہے ہیں، جس کے پاس ظاہری قوت و طاقت ہے وہ کمزوروں اور بے سہارا لوگوں کو کچل رہے ہیں انھیں انسان سمجھنے کے قائل نہیں ہیں جیسے ان کو جینے کا حق ہی نہیں ہے، گویا کہ پوری دنیا میں اتھل پتھل اور ہنگامہ مچا ہوا ہے، اس پرتشدد اور پر فتن زمانہ میں اگر ہم تاریخ پہ نظر ڈالیں تو سب سے زیادہ ظلم مسلمانوں پہ ہوئے ہیں خاص طور سے شیعوں پہ دنیا میں سب سے زیادہ مظلوم شیعہ ہیں جن کے اوپر ہر دور اور ہر زمانہ میں ظلم و ستم ہوئے ہیں۔
عام طور سے ہوتا ہے کہ جو کمزور اور ضعیف و بے سہارا ہوتا ہے جس کا کوئی نہیں ہوتا ہے اس کے اوپر سبھی ظلم کرتے ہیں یہ سوچ کے کہ اس کا تو کوئی نہیں ہے اور نہ ہی اس کے پاس خود اتنی طاقت ہے کہ مقابلہ کر سکے یہی سوچ کے لوگ طرح طرح کے مصائب ڈھاتے ہیں، لیکن اگر کوئی ایسا انسان ہو جس کے بارے میں لوگوں کو پتہ ہو کہ اس کے اوپر کسی بڑی طاقت کا ہاتھ ہے اور وہ بے سہارا اور لاوارث نہیں ہے بلکہ اس کی پشت پناہی کرنے والے موجود ہیں تو ایسے انسان پہ لوگ ظلم و ستم و تشدد کرنے سے پہلے اک مرتبہ سوچتے اور ڈرتے ہیں۔
اس وقت شیعوں کے اوپر بھی جو اتنے ظلم و ستم ہو رہے ہیں اس کی بھی وجہ یہی ہے کہ دنیا والے سمجھ رہے ہیں کہ یہ کمزور و ناتوان ہیں اور ان کے پاس کوئی بڑی طاقت نہیں ہے کوئی پشت پناہی کرنے والا نہیں ہے کوئی سہارا دینے والا نہیں ہے، البتہ یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر دور کے ظالم و جابر کو ہمیشہ ہم سے ہی خطرہ رہتا ہے کہ ہم اس کے ظلم و ستم کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں، اور اس وقت ہمارے پاس بھی ایسی طاقتیں ہیں جو اس وقت کے سب سے بڑے ظالم و جابر کو منہ توڑ جواب دے سکیں اور وقت پڑنے پہ دیتی بھی ہیں اور دنیا دیکھتی بھی ہے، لیکن ان سب کے باوجود بھی شیعوں پہ ہونے والے ظلم و تشدد سے کوئی انکار نہیں کر سکتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ اتنے ظلم و ستم اور دشمنوں کے باوجود بھی کون سی ایسی طاقت ہے جس نے ہمیں زندہ رکھا ہے اور ظالم سے مقابلہ کرنے کی ہمت دے رکھی ہے جس اعتبار سے ظلم ہوئے ہیں اور ہو رہے ہیں اس لحاظ سے تو اب تک اس قوم کو ختم ہو جانا چاہئیے تھا، لیکن ان ساری مشکلوں کے با وجود ماننا پڑے گا کہ کوئی ایسی طاقت ہے جو ہماری پشت پناہی کر رہی ہے اور ہے بھی ایسا ہی کہ ہمارا ایک وارث ہے اور ہم لاوارث نہیں ہیں ایسا وارث جو ایک پل بھی ہم سے غافل نہیں ہوتا مسلسل ہماری فکر کرتا رہتا ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ امام نے خود اس کو بیان کیا ہے امام نے شیخ مفید علیہ الرحمہ کو جو خط لکھا ہے اس میں فرماتے ہیں کہ:"اِنّا غَیْرُ مُهْمِلینَ لِمُراعاتِکُمْ، وَلا ناسینَ لِذَکْرِکُمْ، وَلَوْلا ذلِکَ لَنَزَلَ بِکُمُ الَّلاْواءُ وَاصْطَلَمَکُمُ الاَْعْداءُ" (احتجاج برسی ج2 ص497 ناشر- نشر مرتضی مشہد) "ہم نے تمہاری سرپرستی اور مدد میں کوئی کوتاہی نہیں کی اور تمہیں بھولے بھی نہیں ہیں اور اگر ایسا نہ ہوتا تو تم مشکلات اور پریشانیوں میں گھر جاتے اور دشمن تم کو ہلاک و نابود کر دیتے"۔
ہمارا وارث اور ہمارا امام واقعا ہمیں کتنا چاہتا ہے کہ اک اک پل ہم سے غافل نہیں ہے وہ اپنا فرض نبھا رہے ہیں لیکن کیا ہم بھی اپنے وارث کو اتنا ہی یاد رکھتے ہیں یہاں پہ مسئلہ بڑا سخت ہوجائے گا کہ ہم کتنا اپنے صاحب و مالک کے سلسلہ سے کوشاں رہتے ہیں اور کتنی بے صبری سے اپنے امام کا انتظار کر رہے ہیں اور ان کے ظہور کے لئے کتنی دعائیں کرتے ہیں جب کہ پیغمبر اکرم(ع) نے فرمایا کہ: "أَفْضَلُ أَعْمَالِ أُمَّتِي اِنْتِظَارُ اَلْفَرَجِ مِنَ اَللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ"(کمال الدین و تمام النعمة ج 2 ص 644 ناشر- اسلامیہ تہران) "خدا کی طرف سے میری امت کے لئے بہترین عمل انتظار فرج(ظہور امام زمانہ علیہ السلام) ہے"۔
ہمیں خود دیکھنا چاہیئے کہ اس حدیث کی روشنی میں ہم اپنے امام کا کس قدر انتظار کر رہے ہیں اور کتنی بے قراری سے کر رہے ہیں ویسے بھی اولاد لائق ہو تب بھی ماں باپ خیال رکھتے ہیں اور اگر نالائق ہو تب بھی خیال کرتے ہیں بس فرق اتنا ہے کہ لائق ہوتی ہے تو خوشی خوشی اور دل سے چاہتے ہیں اور خیال کرتے ہیں لیکن اگر لائق نہ ہو تو یقینا افسوس کرتے ہیں اور غمزدہ ہوتے ہیں، اسی طریقہ سے ہم ہیں اگر نیک اور اچھے ہیں تب بھی ہمارا امام ہمارا خیال کرتا ہے اور اگر نیک نہیں ہیں تب بھی بہر حال امام اپنے لطف و کرم سے ہمیں محروم نہیں کرتے ہیں یہ اور بات ہے کہ نیک اور صالح ہونے کی بنیاد پہ امام خوش ہوتے ہوں گے اور نیک و صالح نہ ہونے کی بنا پر امام کا دل دکھتا ہوگا اور آپ ہمارے حال پہ روتے ہوں گے، امام علیہ السلام کا خوش ہونا اور ناراض ہونا خود ہمارے ہاتھوں میں ہے ہم چاہیں تو نیک اور اچھے عمل انجام دے کے اپنے امام کو خوش کردیں اور چاہیں تو اپنے برے اعمال سے اپنے امام کو ناراض کر دیں۔
یہاں پہ یہ بات بھی غور کرنے کی ہے کہ ہو سکتا ہے ہم میں سے بہت سے ایسے ہوں جو بہت زیادہ نیک عمل انجام دیتے ہوں اور زیادہ سے زیادہ اپنے وقت کو عبادت و ریاضت میں بسر کرتے ہوں لیکن پھر بھی اپنے امام سے غافل ہوں یعنی ہماری توجہ اپنے امام کے بارے میں نہ ہو یا کم ہو، ہم کو خود دیکھنا چاہیئے کہ ہم روزانہ کتنا اپنے امام کو یاد کرتے ہیں کتنی ان کی سلامتی اور ان کے ظہور کے لئے دعا کرتے ہیں، بات صرف عبادت کرنے کی نہیں ہے واجبات و مستحبات کے انجام دینے کی نہیں ہے بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ ہمارا اپنے اس امام سے کتنا رابطہ ہے جو ہر وقت ہماری جان و مال و ناموس کی حفاظت کر رہا ہے جو ہمیشہ ہمارے لئے دعائیں کرتا ہے جو ہمیشہ ہماری مشکلوں کو آسان کرتا ہے، جو ہمیشہ ہمارے لئے خیر چاہتا ہے، سخت سے سخت گھڑی ہو ہمیں تنہا نہیں چھوڑتا، ہمیں اپنے اس امام کے لئے زیادہ سے زیادہ دعائیں کرنا چاہیئے جو ہمارا صاحب و مالک اور ہمارا ولی نعمت ہے جس کے وجود کی برکت سے ہمارا وجود ہے اس لئے کہ امام باقر علیہ السلام نے فرمایا: "لَوْ بَقِيَتِ اَلْأَرْضُ يَوْماً وَاحِداً بِلاَ إِمَامٍ مِنَّا لَسَاخَتِ اَلْأَرْضُ بِأَهْلِهَا، وَ لَعَذَّبَهُمُ اَللَّهُ بِأَشَدِّ عَذَابِهِ، وَ ذَلِكَ أَنَّ اَللَّهَ جَعَلَنَا حُجَّةً فِي أَرْضِهِ وَ أَمَاناً فِي اَلْأَرْضِ لِأَهْلِ اَلْأَرْضِ"(دلائل الامامة ص 436 ناشر- بعثت قم) "اگر زمین ایک دن بھی ہم اماموں کے بغیر رہ جائے تو اپنے اہل کے ساتھ دھنس جائے گی اور خدا ان کے اوپر شدید عذاب نازل کرے گا، بے شک خدا نے ہمیں زمین پہ حجت اور اہل زمین کے لئے امان قرار دیا ہے"۔
ایک دوسری جگہ پہ ہے کہ راوی نے امام صادق علیہ السلام سے سوال کیا کہ "کیا زمین بغیر امام کے باقی رہ سکتی ہے؟ امام علیہ السلام نے فرمایا کہ اگر زمین بغیر امام کے باقی رہے گی تو دھنس جائے گی""أَ تَبْقَى اَلْأَرْضُ بِغَيْرِ إِمَامٍ قَالَ لَوْ بَقِيَتِ اَلْأَرْضُ بِغَيْرِ إِمَامٍ لَسَاخَتْ" (کافی ج1 ص 179 ناشر- دارالکتب الاسلامیہ تھران) ہمیں اپنے اس امام کے ظہور کے لئے زیادہ سے زیادہ دعائیں کرنا چاہیئے جو دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دے گا جس طریقہ سے وہ ظلم و جور سے بھری ہوئی ہے، جو مظلوموں کا سہارا ہوگا، بیکسوں کا مدد گار ہوگا، دنیا کے ظالم و جابر کا خاتمہ کرنے والا ہوگا، منتقم خون حسینی ہوگا، اور یہ بھی حقیقت ہے کہ ہماری ساری مشکلیں اور پریشانیاں اس وقت ختم ہوں گی جب امام علیہ السلام کا ظہور ہو جائے گا۔
واقعا اگر ہم اپنے امام کے لئے زیادہ سے زیادہ دعائیں نہیں کریں گے تو پھر ہماری عبادتوں کا کیا فائدہ، ہمارے نیک اعمال کا کیا فائدہ، اس لئے کہ اگر کوئی اپنے محسن، صاحب و مالک کو ہی یاد نہ کرے تو پھر اس کے سارے اعمال بے کار ہیں، اور ظاہر سی بات ہے کہ جب ہمارا رابطہ اپنے امام سے گہرا نہیں ہوگا تو پھر ان کا لطف و کرم بھی ہمارے ہی اعتبار سے ہوگا، وہ لوگ جن کا رابطہ امام سے گہرا تھا اور ہے ان کے اوپر امام کا لطف و کرم بھی ویسا ہی ہے اگر ہم دیکھیں تو ہم کو بہت سی ایسی شخصیتیں مل جایئں گی کہ جن کے اوپر امام کی ایک نظر کرم ہوگئ وہ ذرہ سے آفتاب بن گئے اور پوری دنیا ان سے فائدہ اٹھا رہی ہے، ایک اہم چیز یہ بھی ہے کہ ہمیں امام کے سلسلہ سے اور ان سے اچھے رابطہ کے لئے ضروری نہیں ہے کہ ہم بہت زیادہ ادھر ادھر بھاگتے پھریں بلکہ اگر ہم اپنے کو اور اپنے اعمال کو ایسا بنا لیں جیسا امام چاہتے ہیں تو پھر امام خود ہم سے ملنے کے لئے آئیں گے جیسا کہ بہت سی شخصیتیں اور علماء کے بارے میں ملتا ہے کہ امام علیہ السلام نے ان سے خود ملاقات کی، یہ تو بس اپنے اپنے ایمان اور اعمال کا نتیجہ ہے کہ بہت سے ایسے اللہ والے ہیں جو مسلسل اپنے امام کی زیارت کرتے رہتے ہیں اور بہت سے ایسے ہیں جو اپنے برے اعمال اور گناہوں کی وجہ سے اپنے امام کی زیارت سے محروم رہتے ہیں۔
آخر میں خدا وند عالم سے دعا ہے کہ خدا محمد(ص) و آل محمد علیہم السلام کے صدقہ میں ہمارے امام کے ظہور میں تعجیل فرمائے اور ہمیں اپنے امام کی معرفت عطا فرمائے ساتھ ہی ساتھ زیادہ سے زیادہ نیک عمل انجام دینے کی توفیق عنایت فرمائے اور ہمارے امام کو ہم سے راضی و خوشنود فرمائے اور امام علیہ السلام کے صدقہ میں تمام مومنین کو ہر بلاء و آفت سے محفوظ فرمائے۔
عام طور سے ہوتا ہے کہ جو کمزور اور ضعیف و بے سہارا ہوتا ہے جس کا کوئی نہیں ہوتا ہے اس کے اوپر سبھی ظلم کرتے ہیں یہ سوچ کے کہ اس کا تو کوئی نہیں ہے اور نہ ہی اس کے پاس خود اتنی طاقت ہے کہ مقابلہ کر سکے یہی سوچ کے لوگ طرح طرح کے مصائب ڈھاتے ہیں، لیکن اگر کوئی ایسا انسان ہو جس کے بارے میں لوگوں کو پتہ ہو کہ اس کے اوپر کسی بڑی طاقت کا ہاتھ ہے اور وہ بے سہارا اور لاوارث نہیں ہے بلکہ اس کی پشت پناہی کرنے والے موجود ہیں تو ایسے انسان پہ لوگ ظلم و ستم و تشدد کرنے سے پہلے اک مرتبہ سوچتے اور ڈرتے ہیں۔
اس وقت شیعوں کے اوپر بھی جو اتنے ظلم و ستم ہو رہے ہیں اس کی بھی وجہ یہی ہے کہ دنیا والے سمجھ رہے ہیں کہ یہ کمزور و ناتوان ہیں اور ان کے پاس کوئی بڑی طاقت نہیں ہے کوئی پشت پناہی کرنے والا نہیں ہے کوئی سہارا دینے والا نہیں ہے، البتہ یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر دور کے ظالم و جابر کو ہمیشہ ہم سے ہی خطرہ رہتا ہے کہ ہم اس کے ظلم و ستم کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں، اور اس وقت ہمارے پاس بھی ایسی طاقتیں ہیں جو اس وقت کے سب سے بڑے ظالم و جابر کو منہ توڑ جواب دے سکیں اور وقت پڑنے پہ دیتی بھی ہیں اور دنیا دیکھتی بھی ہے، لیکن ان سب کے باوجود بھی شیعوں پہ ہونے والے ظلم و تشدد سے کوئی انکار نہیں کر سکتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ اتنے ظلم و ستم اور دشمنوں کے باوجود بھی کون سی ایسی طاقت ہے جس نے ہمیں زندہ رکھا ہے اور ظالم سے مقابلہ کرنے کی ہمت دے رکھی ہے جس اعتبار سے ظلم ہوئے ہیں اور ہو رہے ہیں اس لحاظ سے تو اب تک اس قوم کو ختم ہو جانا چاہئیے تھا، لیکن ان ساری مشکلوں کے با وجود ماننا پڑے گا کہ کوئی ایسی طاقت ہے جو ہماری پشت پناہی کر رہی ہے اور ہے بھی ایسا ہی کہ ہمارا ایک وارث ہے اور ہم لاوارث نہیں ہیں ایسا وارث جو ایک پل بھی ہم سے غافل نہیں ہوتا مسلسل ہماری فکر کرتا رہتا ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ امام نے خود اس کو بیان کیا ہے امام نے شیخ مفید علیہ الرحمہ کو جو خط لکھا ہے اس میں فرماتے ہیں کہ:"اِنّا غَیْرُ مُهْمِلینَ لِمُراعاتِکُمْ، وَلا ناسینَ لِذَکْرِکُمْ، وَلَوْلا ذلِکَ لَنَزَلَ بِکُمُ الَّلاْواءُ وَاصْطَلَمَکُمُ الاَْعْداءُ" (احتجاج برسی ج2 ص497 ناشر- نشر مرتضی مشہد) "ہم نے تمہاری سرپرستی اور مدد میں کوئی کوتاہی نہیں کی اور تمہیں بھولے بھی نہیں ہیں اور اگر ایسا نہ ہوتا تو تم مشکلات اور پریشانیوں میں گھر جاتے اور دشمن تم کو ہلاک و نابود کر دیتے"۔
ہمارا وارث اور ہمارا امام واقعا ہمیں کتنا چاہتا ہے کہ اک اک پل ہم سے غافل نہیں ہے وہ اپنا فرض نبھا رہے ہیں لیکن کیا ہم بھی اپنے وارث کو اتنا ہی یاد رکھتے ہیں یہاں پہ مسئلہ بڑا سخت ہوجائے گا کہ ہم کتنا اپنے صاحب و مالک کے سلسلہ سے کوشاں رہتے ہیں اور کتنی بے صبری سے اپنے امام کا انتظار کر رہے ہیں اور ان کے ظہور کے لئے کتنی دعائیں کرتے ہیں جب کہ پیغمبر اکرم(ع) نے فرمایا کہ: "أَفْضَلُ أَعْمَالِ أُمَّتِي اِنْتِظَارُ اَلْفَرَجِ مِنَ اَللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ"(کمال الدین و تمام النعمة ج 2 ص 644 ناشر- اسلامیہ تہران) "خدا کی طرف سے میری امت کے لئے بہترین عمل انتظار فرج(ظہور امام زمانہ علیہ السلام) ہے"۔
ہمیں خود دیکھنا چاہیئے کہ اس حدیث کی روشنی میں ہم اپنے امام کا کس قدر انتظار کر رہے ہیں اور کتنی بے قراری سے کر رہے ہیں ویسے بھی اولاد لائق ہو تب بھی ماں باپ خیال رکھتے ہیں اور اگر نالائق ہو تب بھی خیال کرتے ہیں بس فرق اتنا ہے کہ لائق ہوتی ہے تو خوشی خوشی اور دل سے چاہتے ہیں اور خیال کرتے ہیں لیکن اگر لائق نہ ہو تو یقینا افسوس کرتے ہیں اور غمزدہ ہوتے ہیں، اسی طریقہ سے ہم ہیں اگر نیک اور اچھے ہیں تب بھی ہمارا امام ہمارا خیال کرتا ہے اور اگر نیک نہیں ہیں تب بھی بہر حال امام اپنے لطف و کرم سے ہمیں محروم نہیں کرتے ہیں یہ اور بات ہے کہ نیک اور صالح ہونے کی بنیاد پہ امام خوش ہوتے ہوں گے اور نیک و صالح نہ ہونے کی بنا پر امام کا دل دکھتا ہوگا اور آپ ہمارے حال پہ روتے ہوں گے، امام علیہ السلام کا خوش ہونا اور ناراض ہونا خود ہمارے ہاتھوں میں ہے ہم چاہیں تو نیک اور اچھے عمل انجام دے کے اپنے امام کو خوش کردیں اور چاہیں تو اپنے برے اعمال سے اپنے امام کو ناراض کر دیں۔
یہاں پہ یہ بات بھی غور کرنے کی ہے کہ ہو سکتا ہے ہم میں سے بہت سے ایسے ہوں جو بہت زیادہ نیک عمل انجام دیتے ہوں اور زیادہ سے زیادہ اپنے وقت کو عبادت و ریاضت میں بسر کرتے ہوں لیکن پھر بھی اپنے امام سے غافل ہوں یعنی ہماری توجہ اپنے امام کے بارے میں نہ ہو یا کم ہو، ہم کو خود دیکھنا چاہیئے کہ ہم روزانہ کتنا اپنے امام کو یاد کرتے ہیں کتنی ان کی سلامتی اور ان کے ظہور کے لئے دعا کرتے ہیں، بات صرف عبادت کرنے کی نہیں ہے واجبات و مستحبات کے انجام دینے کی نہیں ہے بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ ہمارا اپنے اس امام سے کتنا رابطہ ہے جو ہر وقت ہماری جان و مال و ناموس کی حفاظت کر رہا ہے جو ہمیشہ ہمارے لئے دعائیں کرتا ہے جو ہمیشہ ہماری مشکلوں کو آسان کرتا ہے، جو ہمیشہ ہمارے لئے خیر چاہتا ہے، سخت سے سخت گھڑی ہو ہمیں تنہا نہیں چھوڑتا، ہمیں اپنے اس امام کے لئے زیادہ سے زیادہ دعائیں کرنا چاہیئے جو ہمارا صاحب و مالک اور ہمارا ولی نعمت ہے جس کے وجود کی برکت سے ہمارا وجود ہے اس لئے کہ امام باقر علیہ السلام نے فرمایا: "لَوْ بَقِيَتِ اَلْأَرْضُ يَوْماً وَاحِداً بِلاَ إِمَامٍ مِنَّا لَسَاخَتِ اَلْأَرْضُ بِأَهْلِهَا، وَ لَعَذَّبَهُمُ اَللَّهُ بِأَشَدِّ عَذَابِهِ، وَ ذَلِكَ أَنَّ اَللَّهَ جَعَلَنَا حُجَّةً فِي أَرْضِهِ وَ أَمَاناً فِي اَلْأَرْضِ لِأَهْلِ اَلْأَرْضِ"(دلائل الامامة ص 436 ناشر- بعثت قم) "اگر زمین ایک دن بھی ہم اماموں کے بغیر رہ جائے تو اپنے اہل کے ساتھ دھنس جائے گی اور خدا ان کے اوپر شدید عذاب نازل کرے گا، بے شک خدا نے ہمیں زمین پہ حجت اور اہل زمین کے لئے امان قرار دیا ہے"۔
ایک دوسری جگہ پہ ہے کہ راوی نے امام صادق علیہ السلام سے سوال کیا کہ "کیا زمین بغیر امام کے باقی رہ سکتی ہے؟ امام علیہ السلام نے فرمایا کہ اگر زمین بغیر امام کے باقی رہے گی تو دھنس جائے گی""أَ تَبْقَى اَلْأَرْضُ بِغَيْرِ إِمَامٍ قَالَ لَوْ بَقِيَتِ اَلْأَرْضُ بِغَيْرِ إِمَامٍ لَسَاخَتْ" (کافی ج1 ص 179 ناشر- دارالکتب الاسلامیہ تھران) ہمیں اپنے اس امام کے ظہور کے لئے زیادہ سے زیادہ دعائیں کرنا چاہیئے جو دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دے گا جس طریقہ سے وہ ظلم و جور سے بھری ہوئی ہے، جو مظلوموں کا سہارا ہوگا، بیکسوں کا مدد گار ہوگا، دنیا کے ظالم و جابر کا خاتمہ کرنے والا ہوگا، منتقم خون حسینی ہوگا، اور یہ بھی حقیقت ہے کہ ہماری ساری مشکلیں اور پریشانیاں اس وقت ختم ہوں گی جب امام علیہ السلام کا ظہور ہو جائے گا۔
واقعا اگر ہم اپنے امام کے لئے زیادہ سے زیادہ دعائیں نہیں کریں گے تو پھر ہماری عبادتوں کا کیا فائدہ، ہمارے نیک اعمال کا کیا فائدہ، اس لئے کہ اگر کوئی اپنے محسن، صاحب و مالک کو ہی یاد نہ کرے تو پھر اس کے سارے اعمال بے کار ہیں، اور ظاہر سی بات ہے کہ جب ہمارا رابطہ اپنے امام سے گہرا نہیں ہوگا تو پھر ان کا لطف و کرم بھی ہمارے ہی اعتبار سے ہوگا، وہ لوگ جن کا رابطہ امام سے گہرا تھا اور ہے ان کے اوپر امام کا لطف و کرم بھی ویسا ہی ہے اگر ہم دیکھیں تو ہم کو بہت سی ایسی شخصیتیں مل جایئں گی کہ جن کے اوپر امام کی ایک نظر کرم ہوگئ وہ ذرہ سے آفتاب بن گئے اور پوری دنیا ان سے فائدہ اٹھا رہی ہے، ایک اہم چیز یہ بھی ہے کہ ہمیں امام کے سلسلہ سے اور ان سے اچھے رابطہ کے لئے ضروری نہیں ہے کہ ہم بہت زیادہ ادھر ادھر بھاگتے پھریں بلکہ اگر ہم اپنے کو اور اپنے اعمال کو ایسا بنا لیں جیسا امام چاہتے ہیں تو پھر امام خود ہم سے ملنے کے لئے آئیں گے جیسا کہ بہت سی شخصیتیں اور علماء کے بارے میں ملتا ہے کہ امام علیہ السلام نے ان سے خود ملاقات کی، یہ تو بس اپنے اپنے ایمان اور اعمال کا نتیجہ ہے کہ بہت سے ایسے اللہ والے ہیں جو مسلسل اپنے امام کی زیارت کرتے رہتے ہیں اور بہت سے ایسے ہیں جو اپنے برے اعمال اور گناہوں کی وجہ سے اپنے امام کی زیارت سے محروم رہتے ہیں۔
آخر میں خدا وند عالم سے دعا ہے کہ خدا محمد(ص) و آل محمد علیہم السلام کے صدقہ میں ہمارے امام کے ظہور میں تعجیل فرمائے اور ہمیں اپنے امام کی معرفت عطا فرمائے ساتھ ہی ساتھ زیادہ سے زیادہ نیک عمل انجام دینے کی توفیق عنایت فرمائے اور ہمارے امام کو ہم سے راضی و خوشنود فرمائے اور امام علیہ السلام کے صدقہ میں تمام مومنین کو ہر بلاء و آفت سے محفوظ فرمائے۔
2: حضرت امام زمانہ (عج) کا خط شيخ مفيد کے نام
جيسا کہ احتجاج ميں مرحوم طبرسي نے نقل کيا ہے کہ ماہ صفر 410 ھ ق ميں شيخ مفيد ايک خط امام زمانہ (عج) کي جانب سے دريافت کرتے ہيں کہ جس کا ايک حصہ يہ ہے :
” و انا غير مہملين لمراعاتکم و لا ناسين لذکرکم و لولا ذالک لنزل بکم البلاء “ ہم تمھاري رعايت و مراعات کي نسبت بے توجہ نہيں ہيں اور نہ تمہارے ذکر کو بھلانے والے ہيں اور اگر ايسا نہ ہوتا تو تم پر بلاء نازل ہوجاتي -
” مراعات “ مصدر ميمي ہے بمعنائے رعايت ، اور يہاں پر ” مراعاتکم “ يعني ” رعايتکم “ مراد ہے - حضرت امام زمانہ (عج) شيخ مفيد کے نام اپنے اس خط ميں تحرير فرماتے ہيں کہ :
” ہم تمھاري نسبت اہمال ( بے توجہي ) نہيں کرتے “ معلوم ہونا چاہئے کہ اہمال اور ترک کے درميان فرق ہے ، ترک کا معنيٰ اہمال سے اعم ہے ، امام (عج) نے فرمايا ہے کہ : ” اہمال نہيں کرتے “ يعني اگر ہم نے رعايت نہ کي تو اہمال ( بے توجہي ) ہماري طرف سے نہيں ہے بلکہ خود تمہاري جانب سے ہے -
دوسرے جملے ميں : ” و لا ناسين لذکرکم “ نسيان ( بھلانے ) کي عام و مطلق کي صورت ميں نفي کر رہے ہيں ، اس معنيٰ ميں کہ ہميشہ اور ہر جگہ ہم تمھيں ياد رکھتے ہيں کہ اگر ايسا نہ ہوتا تو تم پر بلا نازل ہوجاتي -
حضرت امام زمانہ (عج) ہمارے زندہ امام ہيں اور دوسرے ائمہ (ع) اس دنيا سے شہيد ہوکر جاچکے ہيں ، اگر چہ شيعوں کا اعتقاد ہے کہ امام معصوم کا حاضر و غائب ہونا اور زندہ و مردہ ہونا کوئي فرق نہيں رکھتا ، لہٰذا ہم زيارت ناموں ميں پڑھتے ہيں :
” اشہد انک تشہد مقامي و تسمع کلامي و ترد سلامي “ يعني ميں گواہي ديتا ہوں کہ آپ مجھے ديکھ رہے ہيں اور ميرا کلام سن رہے ہيں اور ميرے سلام کا جواب دے رہے ہيں ، يہ مسئلہ قطعي و يقيني ہے اور اس ميں کوئي شک و شبہہ نہيں ہے ، ليکن آج شيعہ حضرت امام زمانہ (عج) سے منسوب ہيں اور زمام امور آپ کے ہاتھوں ميں ہے -
البتہ حضرت امام زمانہ (عج) تمام ہستي و وجود ” ما سوي اللہ “ کے امام ہيں ، يہ مباحث اصول دين کے مباحث ميں سے ہيں کہ اپني جگہ پر ان سے متعلق تفصيل کے ساتھ بحثيں کي گئي ہيں اور ان کي دليليں تحقيق کے ساتھ بيان کي گئي ہيں -
معصوم عليہ السلام فرماتے ہيں کہ:
” ہلّلنا فھلّت الملائکۃ ، سبحنا فسبّحت الملائکۃ ، کنّا معلّقين بالعرش نسبّح و لم يخلق اللہ شيئاً غيرنا “ -
جس وقت خدا نے مخلوقات ميں سے کسي کو خلق نہيں کيا تھا ہم خدا کي تہليل و تسبيح کرتے تھے-
مرحوم علامہ مجلسي نے اس موضوع سے متعلق روايتوں کو بخوبي جمع کيا ہے اور ان کو اصول دين اور اسي طرح احوال معصومين عليہم السلام کے ابواب ميں ذکر کيا ہے-
3: حضرت امام زمانہ (عج) کا خط شیخ مفید کے نام
جیسا کہ احتجاج میں مرحوم طبرسی نے نقل کیا ہے کہ ماہ صفر ۴۱۰ ھ ق میں شیخ مفید ایک خط امام زمانہ (عج) کی جانب سے دریافت کرتے ہیں کہ جس کا ایک حصہ یہ ہے :
” و انا غیر مہملین لمراعاتکم و لا ناسین لذکرکم و لولا ذالک لنزل بکم البلاء “ (۱) ہم تمھاری رعایت و مراعات کی نسبت بے توجہ نہیں ہیں اور نہ تمہارے ذکر کو بھلانے والے ہیں اور اگر ایسا نہ ہوتا تو تم پر بلاء نازل ہوجاتی ۔
” مراعات “ مصدر میمی ہے بمعنائے رعایت ، اور یہاں پر ” مراعاتکم “ یعنی ” رعایتکم “ مراد ہے ۔ حضرت امام زمانہ (عج) شیخ مفید (۲) کے نام اپنے اس خط میں تحریر فرماتے ہیں کہ:
” ہم تمھاری نسبت اہمال ( بے توجہی ) نہیں کرتے “ معلوم ہونا چاہئے کہ اہمال اور ترک کے درمیان فرق ہے ، ترک کا معنیٰ اہمال سے اعم ہے ، امام (عج) نے فرمایا ہے کہ : ” اہمال نہیں کرتے “ یعنی اگر ہم نے رعایت نہ کی تو اہمال ( بے توجہی ) ہماری طرف سے نہیں ہے بلکہ خود تمہاری جانب سے ہے ۔
دوسرے جملے میں : ” و لا ناسین لذکرکم “ نسیان ( بھلانے ) کی عام و مطلق کی صورت میں نفی کر رہے ہیں ، اس معنیٰ میں کہ ہمیشہ اور ہر جگہ ہم تمھیں یاد رکھتے ہیں کہ اگر ایسا نہ ہوتا تو تم پر بلا نازل ہوجاتی ۔
حضرت امام زمانہ (عج) ہمارے زندہ امام ہیں اور دوسرے ائمہ (ع) اس دنیا سے شہید ہوکر جاچکے ہیں ، اگر چہ شیعوں کا اعتقاد ہے کہ امام معصوم کا حاضر و غائب ہونا اور زندہ و مردہ ہونا کوئی فرق نہیں رکھتا ، لہٰذا ہم زیارت ناموں میں پڑھتے ہیں :
” اشہد انک تشہد مقامی و تسمع کلامی و ترد سلامی “ یعنی میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ مجھے دیکھ رہے ہیں اور میرا کلام سن رہے ہیں اور میرے سلام کا جواب دے رہے ہیں ، یہ مسئلہ قطعی و یقینی ہے اور اس میں کوئی شک و شبہہ نہیں ہے ، لیکن آج شیعہ حضرت امام زمانہ (عج) سے منسوب ہیں اور زمام امور آپ کے ہاتھوں میں ہے ۔
البتہ حضرت امام زمانہ (عج) تمام ہستی و وجود ” ما سوی اللہ “ کے امام ہیں ، یہ مباحث اصول دین کے مباحث میں سے ہیں کہ اپنی جگہ پر ان سے متعلق تفصیل کے ساتھ بحثیں کی گئی ہیں اور ان کی دلیلیں تحقیق کے ساتھ بیان کی گئی ہیں ۔
معصوم علیہ السلام فرماتے ہیں کہ:
” ہلّلنا فھلّت الملائکۃ ، سبحنا فسبّحت الملائکۃ ، کنّا معلّقین بالعرش نسبّح و لم یخلق اللہ شیئاً غیرنا “ ۔ (۳)
جس وقت خدا نے مخلوقات میں سے کسی کو خلق نہیں کیا تھا ہم خدا کی تہلیل و تسبیح کرتے تھے۔
مرحوم علامہ مجلسی نے اس موضوع سے متعلق روایتوں کو بخوبی جمع کیا ہے اور ان کو اصول دین اور اسی طرح احوال معصومین علیہم السلام کے ابواب میں ذکر کیا ہے۔
شیخ مفید کا مرتبہ
حضرت امام زمانہ (عج) نے غیبت صغریٰ کے زمانے میں اسی طرح غیبت کبریٰ میں بھی بہت سے خطوط و توقیعات شیعوں اور بزرگان شیعہ کے لئے تحریر فرمائی ہیں ، اسی طرح حضرت (عج) اپنے نمائندوں کو خطوط تحریر فرماتے تھے ، اور کبھی کبھی بعض افراد کو جواب لکھتے تھے ، البتہ افسوس ہے کہ ان خطوط و توقیعات میں سے کچھ ہی ہمارے ہاتھوں تک پہونچی ہیں ، لیکن جو عبارتیں شیخ مفید کے متعلق اس خط میں آئی ہیں وہ کسی دوسرے کے متعلق نہیں آئی ہیں شاید ان تمام خطوط میں جو حضرت نے تحریر فرمائے ہیں کسی کی اس حد تک تعریف و تائید نہیں فرمائی ہے ۔ جیسا کہ ایک دوسرے خط میں جو کہ حضرت (عج) کی جانب سے شیخ مفید کو پہونچا ہے ، تحریر فرمایا ہے کہ :
” ادام اللہ توفیقک لنصرۃ الحق و اجزل مثوبتک علیٰ نطقک عنا بالصدق “ (۴) اس خط کا لفظ لفظ مفصل بحث کا طالب ہے ، حضرت امام زمانہ (عج) نے شیخ مفید کے علاوہ کسی اور کے لئے اس انداز سے اخلاص کی شہادت نہیں دی ہے ، حضرت شیخ مفید سے فرماتے ہیں کہ : ” اللہ نصرت حق کے لئے تمہاری توفیق کو قائم و دائم رکھے ، اور جو کچھ ہم سے روایت کی ہے سچ کہا ہے ، خداوند تعالیٰ تمہاری باتوں کے سبب تمہارے ثواب کو زیادہ کرے “ ۔
ایک وقت ایک عام شخص کسی دوسرے کے صالح و نیک ہونے کی گواہی دیتا ہے ، اور ایک وقت امام معصوم ایسی گواہی دیتے ہیں اس بات کی قیمت و عظمت تمام دنیا کی قیمت و عظمت سے زیادہ ہے ، کیونکہ دنیا تمام ہوجائے گی لیکن یہ قیمت و عظمت تمام ہونے والی نہیں ہے ۔ شیخ مفید کے انتقال کو ہزار سال سے زیادہ ہوگئے لیکن روز بروز پہلے سے زیادہ زندہ ہوتے جارہے ہیں ۔ آپ علامہ اقبال کے اس شعر کے مصداق کامل تھے :
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
اس مرتبہ و منزلت کے باوجود کوئی جگہ ایسی نہیں ملتی کہ شیخ مفید حضرت امام زمانہ (عج) کی خدمت با برکت میں پہونچے ہوں لیکن اپنے وظائف کو اسی طرح انجام دیتے تھے جیسا کہ امام چاہتے تھے اور اسی وجہ سے حضرت (عج) ان پر عنایت فرماتے تھے۔
شیخ مفید غیبت صغریٰ کے ختم ہونے کے بعد غیبت کبریٰ کے زمانہ میں پیدا ہوئے ہیں ، غیبت صغریٰ ۳۲۷ ھ ق یا ۳۲۹ ھ ق میں ختم ہوئی اور شیخ مفید ۳۳۶ ھ ق یا ۳۳۷ ھ ق میں پیدا ہوئے ہیں ، اور کسی وقت کوئی خط بھی حضرت امام زمانہ (عج) کو نہیں لکھا ہے بلکہ خود حضرت (عج) نے ایسا خط تحریر فرمایا ہے ، اور وہ بھی اس تفصیل کے ساتھ ایسا خط ، کہ جس سے یہ نتیجہ سمجھ میں آتا ہے کہ حضرت امام زمانہ (عج) شیخ مفید سے کلام و گفتگو کرنا چاہتے ہیں جیسا کہ کتابوں میں نقل ہوا ہے اس کی بناپر حضرت (عج) نے تین خطوط شیخ مفید کو تحریر فرمائے ہیں کہ ان میں سے دو خط دستیاب ہیں ، اور گویا تیسرا خط ظاہرا کتب خانوں کے جلانے کے واقعہ میں ناپدید ہوگیا ہے۔
شیخ مفید کون ہیں ؟
شیخ مفید ایک عام جوان تھے کہ آپ کے والد بزرگوار تل عکبری میں ( جو کہ بغداد سے دس فرسخ کے فاصلہ پر واقع ہے ) درس دیتے ، اور اسی وجہ سے آپ کو لوگ ” ابن المعلم “ کہتے تھے ، اس کے بعد آپ کے والد آپ کو بغداد درس حاصل کرنے کے لئے لے آئے ، دھیرے دھیرے اس مرتبہ تک پہونچ گئے کہ آپ کی وفات کے دن با وجود یکہ اہل بغداد کی اکثریت شیعہ نہ تھی آپ کی تشییع جنازہ نہایت شان و شوکت کے ساتھ ہوئی اور مؤرخین کے نقل کرنے کی بناپر آپ کی تشییع جنازہ تاریخ میں اس زمانہ تک بے نظیر و بے مثال تھی ۔ شیخ مفید کا مرتبہ اتنا رفیع و بلند ہے کہ حتیٰ آپ کے ناصبی دشمن بھی آپ کی تحسین و تعریف کرتے تھے اور اہل سنت کے بزرگ علماء آپ کی مجلس درس میں حاضر ہوتے تھے ۔ یافعی (۵) صاحب کتاب ” ابواب الجنان “ (۶) کہ جس میں بہت سارے جھوٹ نقل کئے ہیں لکھتا ہے کہ :
شیعہ کربلا کو ” حائر “ بھی کہتے ہیں اس لئے کہ جس وقت حضرت سید الشہدا علیہ السلام کی قبر تک پانی لایا گیا تا کہ اسے مٹادیں ، تو پانی حضرت سید الشہداء علیہ السلام کی قبر مطہر کے نزدیک تک بڑھا ، لیکن جب مرقد شریف کے قریب پہونچا تو پھر آگے نہ بڑھا اور اپنا راستہ بدل دیا ، اسی وجہ سے کہتے ہیں :
” حار الماء “ یعنی پانی حضرت سید الشہداء علیہ السلام کے حرم مطہر کے مقابل متحیر ہوگیا اور آگے نہ بڑھا “ ۔
یافعی اپنی کتاب میں اس واقعہ کو نقل کرنے کے بعد شیعوں کا مذاق اڑاتا ہے اور کہتا ہے کہ کیا پانی بھی انسانوں کے مانند تکلیف رکھتا ہے ، یا یہ کہ فرشتہ ہے جو درک و فہم رکھتا ہو ؟ لیکن یہی یافعی جب احمد بن حنبل (۷) کی بات کرتا ہے تو کہتا ہے :
” ایک دو سال دریائے دجلہ میں سیلاب آگیا اور تمام گھروں میں پانی پہونچ گیا ، لیکن جیسے ہی پانی احمد بن حنبل کی قبر تک پہونچا واپس آگیا اور قبر کے نزدیک نہ گیا اور بعد میں لوگوں نے دکھا کہ جو چٹائی اس کی قبر میں ہے ابھی گرد و خاک اس پر موجود ہے اور تر بھی نہ ہوئی ہے “ ۔ یہی پانی جب حضرت امام حسین علیہ السلام تک پہونچتا ہے تو بے عقل ہے ، لیکن احمد بن حنبل کے لئے عاقل ہوجاتا ہے ۔ یافعی شیعوں کے ساتھ اتنی شماتت و دشمنی رکھنے کے باوجود شیخ مفید کی تعریف کرتا ہے ۔
شیخ مفید کی رحلت کے بعد سنی علماء کے ایک گروہ نے کہا : ” اٴراحنا اللہ منہ “ یعنی خدا نے ہم کو ان سے راحت دی ۔ اور یہاں تک کہ ایک سنی نے شیخ مفید کی وفات کی مناسبت سے اپنے گھر کے در و دیوار کو سجایا اور جشن منایا ۔ لیکن بہر حال سنیوں نے بھی قدر دانی کی ہے ۔
حضرت امام زمانہ (عج) کی نظر میں شیخ مفید کا مرتبہ
شیخ مفید کا مرتبہ و منزلت اس حد تک بلند ہے کہ حضرت ولی عصر (عج) آپ کی وفات پر مرثیہ پڑھتے ہیں :
لا صوت الناعی بفقدک انہ
یوم علیٰ آل الرسول عظیم (۸)
یعنی تمہاری وفات کی مصیبت آل رسول (ص) کے لئے بہت بڑی مصیبت ہے ۔
آپ کے لئے اس سے بڑھ کر فخر کی بات کیا ہوسکتی ہے کہ حضرت امام مہدی (عج) آپ کو خطاب کرکے فرماتے ہیں :
” سلام علیک ایہا العبد الصالح الناصر للحق الداعی بکلمۃ الصدق “ سلام ہو تم پر اے خدا کے نیک بندے ، حق کی مدد کرنے والے اور راہ راست کی طرف دعوت دینے والے۔
شیخ مفید کا نمونہ
یہ جملے امام معصوم کی طرف سے ایک غیر معصوم شخص کے لئے بہت اہم ہیں ، شیخ مفید کیا کام کرتے تھے کہ حضرت امام زمانہ (عج) کی طرف سے ان جملون کے ساتھ توصیف کے لائق ہوگئے ؟ ۔ امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام اس خطبہ میں کہ جس کا ایک حصہ حضرت رسول اکرم (ص) کی تعریف و توصیف میں ہے ، اس بات کے بیان میں کہ حضرت رسول خدا (ص) کے آخری زمانہ حیات میں حالات کیسے پیدا ہوگئے کہ لوگ فوج در فوج دین اسلام میں داخل ہوگئے اور بقول قرآن ” و راٴیت الناس یدخلون فی دین اللہ افواجاً “ (۹) آپ نے دیکھا کہ لوگ دین خدا میں فوج در فوج داخل ہورہے ہیں ، ارشاد فرماتے ہیں :
” وثقوا بالقائد فاتّبعوہ “ یعنی لوگوں نے پیغمبر اسلام (ص) پر اعتماد و اطمینان پیدا کرلیا پس ان کی پیروی کی ۔
شیخ مفید نے اس نکتہ کو درک کیا تھا اور ایسا کام کیا کہ لوگ ان پر اعتماد و اطمینان پیدا کریں ، جو لوگ ، لوگوں کی ہدایت کرنا چاہتے ہیں انہیں اس نکتہ سے غافل نہ ہونا چاہئے اور دوسروں کے لئے قابل اعتماد و اطمینان ہونا چاہئے ۔
شیخ مفید اور امام زمانہ (عج) کا خط دریافت کرنا
سید بحر العلوم (۱۰) اس بحث کے ضمن میں کہ شیخ مفید نے حضرت امام زمانہ (عج) کو نہیں دیکھا تھا اور اس زمانے میں کوئی نائب بھی نہ تھا کہ یہ خط اس کے واسطے سے شیخ مفید کے ہاتھ میں پہونچے پس یہ خط کیسے شیخ مفید کے ہاتھ میں پہونچا ہے ؟ کہتے ہیں :
” چونکہ خط دریافت کرنے کا زمانہ غیبت کبریٰ کا زمانہ تھا ، اور طے نہیں تھا کہ اس زمانہ میں کوئی شخص واسطہ اور خاص نائب کے عنوان سے حضرت امام زمانہ (عج) کی خدمت میں پہونچے اور جس شخص نے خط شیخ مفید کو دیا ہے اس نے بھی نہیں کہا کہ امام زمانہ (عج) نے یہ خط مجھے دیا ہے ، ان تمام اوضاع و احوال کے ساتھ شیخ مفید کا مرتبہ باعث ہوا کہ یہ استثناء ( فضیلت ) انہیں کے بارے میں صورت پذیر ہو “ ۔
خلاصہ یہ کہ شیخ مفید امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے ارشاد کے بموجب حضرت رسول اکرم (ص) کے وصف کے حامل تھے ، وہ یہ کہ ” آپ سچے اور امین و معتمد تھے “
ایک سنی عالم جو کہ شیخ مفید سے بہت خار رکھتا تھا ، کہتا ہے کہ:
با وجودیکہ شیخ مفید کا مرتبہ اتنا بلند تھا کہ بادشاہ ، تاجر افراد اور مختلف شخصیتیں ان کے سامنے تواضع کرتی تھیں اور ان کے دیدار کی کوشش کرتی تھیں ، پھر بھی ” کان یلبس الخشن “ شیخ مفید ہمیشہ خشن اور موٹے لباس زیب تن کرتے تھے ۔ مشہور ہے کہ جملہٴ فعلیہ استمرار میں ظہور رکھتا ہے یعنی ایسا نہیں ہے کہ ایک بار یا دوبار دکھاوے کے طور پر موٹے لباس پہن لیں ، بلکہ وہ ہمیشہ ایسا ہی پہنتے تھے ۔
امیر المؤمنین حضرت علی (ع) شیخ مفید کے مقتدیٰ
جی ہاں ! شیخ مفید اس صفت کے مالک تھے کہ لوگوں کے اعتماد کو اپنے اعمال و اخلاق سے متاٴثر کرلیں ، یہاں تک کہ دوست و دشمن سبھی آپ کی تعریف و تحسین کرتے تھے ، یہ فضیلت آپ کو معصومین علیہم السلام کی اقتدا سے حاصل ہوئی تھی ۔
امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں :
” و اللہ ما کذبت کذبۃ “ (۱۱) قسم بخدا میں نے ایک جھوٹ بھی نہیں بولا ہے ۔ اور یہ دعویٰ تاریخ کی گواہی سے ثابت ہے ، کیونکہ کبھی کسی جگہ کوئی جھوٹ حضرت علی علیہ السلام سے نہیں سنا گیا ، حتیٰ اس موقع پر بھی کہ ایک چھوٹے سے جھوٹ کے ذریعہ تیرہ سال پہلے ہی روئے زمین کی سب سے بڑی حکومت پر حکمرانی کرتے ، کیونکہ عمر نے اپنے بعد خلیفہ کی تعیین کے لئے چھ افراد کی شوریٰ ( کمیٹی ) بنائی تھی ، عثمان اور امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام بھی ان کے درمیان تھے ، اور اس نے وصیت کی کہ میرے بعد ان چھ افراد کے درمیان سے ایک خلیفہ ہو ، اور اگر دو شخص برابر ووٹ حاصل کریں تو خلیفہ وہ شخص ہوگا جس کو عبد الرحمان بن عوف ووٹ دے ، سب کے ووٹ دینے کے بعد عبد الرحمان باقی رہا ، کہ ان میں سے جس کو بھی رای اور ووٹ دیتا وہ خلیفہ ہوجاتا ۔ عبد الرحمان بن عوف نے امیر المومنین علیہ السلام سے عرض کیا:
” اٴبایعک علیٰ کتاب اللہ و سنۃ رسولہ و سیرۃ الشیخین “ میں تم سے بیعت کروں گا کتاب خدا و سنت رسول (ص) اور شیخین ( ابوبکر و عمر ) کی سیرت پر ۔ حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام نے فرما یا :
” کتاب اللہ و سنۃ رسولہ “ کتاب خدا اور سنت رسول (ص) قبول ہے ، لیکن سیرت شیخین قبول نہیں کرتا ، کیونکہ میں خود مجتہد ہوں اور اپنی رائے پر عمل کروں گا ۔
پھر عبد الرحمان بن عوف نے یہی بات عثمان سے کہی ، اور اس نے سیرت شیخین کو قبول کرلیا اور خلیفہ بن بیٹھا ، البتہ بعد میں اس نے کسی ایک پر بھی عمل نہ کیا اور مسلمانوں کے ہاتھوں ماراگیا ۔
امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام اس حد تک تیار نہ ہوئے کہ ایک لفظ بھی اپنے عقیدہ کے برخلاف اور جھوٹ زبان پر لائیں اور اسی کام نے حضرت (ع) کو تیرہ سال پھر خلافت سے دور کردیا ، بہت سے لوگوں نے حضرت (ع) سے عرض کیا کہ ٹھیک ہے کہ آپ سیرت شیخین کو قبول نہ کرتے اور اس پر عمل نہ کرتے لیکن اس وقت قبول کرلینا چاہئے تھا ۔ لیکن علی علیہ السلام وہ شخص نہیں ہیں کہ اتنا سا بھی حقیقت سے فاصلہ اختیار کریں ۔
حضرت امام زمانہ (عج) کی امید شیعوں سے
بہت سے شیعہ یہ سوچتے ہیں کہ امام زمانہ (عج) کی خدمت میں کیسے پہنچا جاسکتا ہے اور کیسے حضرت سے ملاقات کی جاسکتی ہے ، حضرت امام زمانہ (عج) سے ملاقات ایک خاص مسئلہ ہے اور اس سے متعلق کتابوں میں ان افراد کے واقعات ذکر ہوئے ہیں جنہوں نے حضرت سے ملاقات کی ہے ، حضرت امام زمانہ (عج) سے ملاقات کرنے والوں میں عالم و عوام ، بوڑھے اور جوان ، مرد و عورت سبھی دکھائی دیتے ہیں ، لیکن آیا امام زمانہ (عج) نے شیعوں سے یہ چاہا ہے کہ غیبت کے زمانہ میں یہ کوشش کریں ؟ یا نہیں ، بلکہ وظیفہ کوئی دوسری چیز ہے ؟ اور آیا ہم اس سے زیادہ اہم وظیفہ نہیں رکھتے ∙∙∙ ؟
جیسا کہ ذکر کیا گیا کہ حضرت امام زمانہ (عج) سے تقرب کاسب سے زیادہ اہم وسیلہ خود اپنے وظیفہ انجام دینا ہے ، وہی چیز کہ جس کے لئے خداوند تعالیٰ نے حضرت کو امامت کو مرتبہ عطا فرمایا ہے ، وہی چیز کہ جس کے لئے حضرت رسول خدا (ص) تشریف لائے ہیں ۔
شیخ مفید کا وظیفہ انجام دینا
مرحوم آیت اللہ نجفی مرعشی رحمۃ اللہ علیہ جو کہ ایک محقق عالم تھے ، فرماتے تھے کہ:
” شیخ مفید نے خود کو مباحثہ و مناظرہ کے لئے وقف کر رکھا تھا اور مختلف مناظرے دوسرے تمام ادیان و مذاہب کے علماء سے انجام دیتے تھے ، یہاں تک کہ ایک بار ایک گروہ مناظرہ کے لئے آیا اور شیخ مفید سے وقت مانگا ، شیخ مفید نے فرمایا : ” میرے پاس وقت نہیں ہے “ ۔ ان لوگوں نے کہا: اے شیخ ! ہم بڑی دور سے آئے ہیں اور واپس جانا چاہتے ہیں ، شیخ مفید نے تھوڑاسا سوچ کر کہا : ” میرے پاس صرف صبح کی اذان سے پہلے دوگھنٹے وقت ہے اور اس وقت جتنے دن بھی چاہو آسکتے ہو ، ان لوگوں نے بھی کہا کہ کوئی چارہ نہیں ہے ، دن میں سوئیں گے اور رات میں مناظرے کے لئے آئیں گے ۔
کیا شیخ مفید سوتے نہ تھے ؟
آپ کے حالات میں لکھا ہے کہ آپ کی مجلس درس میں ابو العلاء معرّی ( جو کہ اہل سنت کے علماء میں سے ہے ) سے لیکر صوفیوں تک شرکت کرتے تھے آپ اس قدر حضور ذہن اور حاضر جوابی کے مالک تھے کہ خاص و عام کے لئے ضرب المثل تھے ، کسی وقت جلسہٴ درس میں کتاب سے شاہد و دلیل نہ لاتے تھے اور کبھی کبھی جو لغوی استدلالات آپ سے نقل ہوئے ہیں کسی لغوی کتاب میں پائے نہیں جاتے ۔ خلاصہ یہ کہ اپنی عمر اہل بیت (ع) کے نقش قدم پر گزاری اور آیہ ” یہدون باٴمرنا “ (۱۲) یعنی ” وہ لوگ ہماری طرف ہدایت کرتے ہیں “ کا نمونہ عمل تھے ، اور ائمہ علیہم السلام کی تمام روایتیں بھی اسی محور ” یھدون “ ( ہدایت بسوئے حق ) کے اردگرد گھومتی ہیں ۔
عالم کی فضیلت عابد پر
ایک روایت معاویہ بن عمار سے نقل ہوئی ہے کہ :
” قلت لاٴبی عبد اللہ علیہ السلام رجل راویۃ لحدیثکم یبث ذالک فی الناس و یشدہ فی قلوبھم و قلوب شیعتکم و لعلّ عابداً من شیعتکم لیست لہ ہٰذہ الراویۃ اٴیھا افضل قال الرّاویۃ لحدیثنا یشدّ بہ قلوب شیعتنا افضل من اٴلف عابد “ (۱۳) راوی نے امام علیہ السلام سے عرض کیا :
” آیا جو عابد حضرات اہل بیت علیہم السلام سے روایت نہیں کرتا ( آپ حضرات کی روایتیں نقل کرنے کے ذریعہ لوگوں کی ہدایت نہیں کرتا ) وہ افضل و برتر ہے یا جو آپ حضرات کی روایات کو نقل کرتا ہے اور اس کے ذریعہ آپ کے شیعوں کے قلوب و عقائد کو محکم و مضبوط کرتا ہے ؟ حضرت نے فرمایا کہ ہماری احادیث کا راوی ہزار عابد سے افضل و برتر ہے “ ۔
یہ روایت معاویہ بن عمار سے نقل ہوئی ہے جو کہ زرارہ اور محمد بن مسلم کے مانند اصحاب ائمہ علیہم السلام کے بزرگوں میں سے اوثقات میں سے ہیں ۔
حضرت امام زمانہ (عج) شیعوں سے چاہتے ہیں کہ لوگوں کی ہدایت کے لئے کوشش کریں ، البتہ اس کام کے چند مقدمات ہیں جن میں سے ایک حسن معاشرت ( سماج کے ساتھ اچھا برتاؤ ) اور زیادہ علم کا ہونا ہے ۔ اور پختہ ارادہ رکھیں کہ دوست و دشمن کے ساتھ نرمی و مداوا کریں ۔
ان خطوط میں کئی مرتبہ حضرت امام زمانہ (عج) نے لفظ ” صدق “ ( سچ ) شیخ مفید کو خطاب کرکے استعمال کیا ہے ، وہ ایک ایسا لفظ ہے کہ ہم جیسوں پر صادق آنے کے لئے کئی سال گزر جاتے ہیں ۔
اگر ” میں “ یعنی غرور ختم ہوگیا اور ملاک و معیار ” یہدون باٴمرنا “ ( ہمارے حکم سے ہدایت کرتے ہیں ) رہا تو پھر خشن اور غیر خشن لباس ، لذیذ اور سادہ غذا انسان کے لئے کوئی فرق نہیں رکھتا ، واقعاً شیخ مفید ہونا بہت مشکل ہے۔
شیخ مفید یہ سوچتے تھے کہ حضرت امام زمانہ (عج) ان سے کیا چاہتے ہیں اور اس کو انجام دیا۔
آج علماء پر وثوق و اعتماد حاصل نہ ہونے کے سبب بہت سے یہودی اور عیسائی ہیں ، یا یہ کہ شیعہ ہیں لیکن غفلت میں زندگی بسر کر رہے ہیں ۔
عالم اگر ثقہ و معتمد ہو تو لوگوں کو فوج در فوج دین خدا میں داخل کرسکتا ہے لیکن ( انسان اس قدر بے معتبر ہوجائے ) یہاں تک کہ اس کے بیوی بچے بھی اس پر اطمینان نہ رکھتے ہوں تو کوئی کام انجام نہیں دے سکتا ۔
اب ہم سب کو چاہئے کہ حضرت ولی عصر (عج) کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے یہ دو کام انجام دینے کی کوشش کریں :
۱۔ حضرت امام زمانہ (عج) سے عہد باندھیں کہ ہم ایسے ہوں ۔
۲۔ خود حضرت امام زمانہ (عج) سے مدد طلب کریں کہ حضرت (عج) ہمارے لئے دعا کریں اور ہماری کمک فرمائیں کہ ہم ایسے ہی بنیں۔
اور ان کی بنیاد تین چیزیں ہیں :
۱۔ بہت زیادہ تعلیم و تعلم ، اور ہم جانتے ہیں کہ اس مہینے ( ماہ شعبان ) کے بعد ماہ مبارک رمضان ، ماہ عبادت ہے اور سب سے زیادہ بڑی عبادت تعلیم و تعلم ہے۔
۲۔ انسان کو چاہئے کہ اس ” میں ہونے “ یعنی غرور و انانیت پر خط کھینچ دے اور اسے ترک کردے۔
۳۔ ہم کوشش کریں کہ حدیث کے ” راویۃ “ ہوں ، وہ راویہ جو کہ ” یشد بہ قلوب شیعتنا “ کا مصداق ہو ، یعنی جو راویت حدیث کے ذریعہ ہمارے شیعوں کے قلوب و عقائد کو محکم کرے ۔ ” الرّاویۃ “ کی تاء ، تاءِ مبالغہ ہے یعنی بہت زیادہ روایت کرنے والا۔
میں دعا کرتی ہوں کہ حضرت ولی عصر (عج) کی برکت سے خداوند تعالیٰ ہم سب پر لطف فرمائے اور ہم سب کو ان تین کاموں کے انجام دینے کی توفیق عطا فرمائے ۔ ( آمین )
4: حضرت امام زمانہ (عج) کا خط شیخ مفید کے نام
جیسا کہ احتجاج میں مرحوم طبرسی نے نقل کیا ہے کہ ماہ صفر ۴۱۰ ھ ق میں شیخ مفید ایک خط امام زمانہ (عج) کی جانب سے دریافت کرتے ہیں کہ جس کا ایک حصہ یہ ہے :
” و انا غیر مہملین لمراعاتکم و لا ناسین لذکرکم و لولا ذالک لنزل بکم البلاء “ (۱) ہم تمھاری رعایت و مراعات کی نسبت بے توجہ نہیں ہیں اور نہ تمہارے ذکر کو بھلانے والے ہیں اور اگر ایسا نہ ہوتا تو تم پر بلاء نازل ہوجاتی ۔
” مراعات “ مصدر میمی ہے بمعنائے رعایت ، اور یہاں پر ” مراعاتکم “ یعنی ” رعایتکم “ مراد ہے ۔ حضرت امام زمانہ (عج) شیخ مفید (۲) کے نام اپنے اس خط میں تحریر فرماتے ہیں کہ :
” ہم تمھاری نسبت اہمال ( بے توجہی ) نہیں کرتے “ معلوم ہونا چاہئے کہ اہمال اور ترک کے درمیان فرق ہے ، ترک کا معنیٰ اہمال سے اعم ہے ، امام (عج) نے فرمایا ہے کہ : ” اہمال نہیں کرتے “ یعنی اگر ہم نے رعایت نہ کی تو اہمال ( بے توجہی ) ہماری طرف سے نہیں ہے بلکہ خود تمہاری جانب سے ہے ۔
دوسرے جملے میں : ” و لا ناسین لذکرکم “ نسیان ( بھلانے ) کی عام و مطلق کی صورت میں نفی کر رہے ہیں ، اس معنیٰ میں کہ ہمیشہ اور ہر جگہ ہم تمھیں یاد رکھتے ہیں کہ اگر ایسا نہ ہوتا تو تم پر بلا نازل ہوجاتی ۔
حضرت امام زمانہ (عج) ہمارے زندہ امام ہیں اور دوسرے ائمہ (ع) اس دنیا سے شہید ہوکر جاچکے ہیں ، اگر چہ شیعوں کا اعتقاد ہے کہ امام معصوم کا حاضر و غائب ہونا اور زندہ و مردہ ہونا کوئی فرق نہیں رکھتا ، لہٰذا ہم زیارت ناموں میں پڑھتے ہیں :
” اشہد انک تشہد مقامی و تسمع کلامی و ترد سلامی “ یعنی میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ مجھے دیکھ رہے ہیں اور میرا کلام سن رہے ہیں اور میرے سلام کا جواب دے رہے ہیں ، یہ مسئلہ قطعی و یقینی ہے اور اس میں کوئی شک و شبہہ نہیں ہے ، لیکن آج شیعہ حضرت امام زمانہ (عج) سے منسوب ہیں اور زمام امور آپ کے ہاتھوں میں ہے ۔
البتہ حضرت امام زمانہ (عج) تمام ہستی و وجود ” ما سوی اللہ “ کے امام ہیں ، یہ مباحث اصول دین کے مباحث میں سے ہیں کہ اپنی جگہ پر ان سے متعلق تفصیل کے ساتھ بحثیں کی گئی ہیں اور ان کی دلیلیں تحقیق کے ساتھ بیان کی گئی ہیں ۔
معصوم علیہ السلام فرماتے ہیں کہ:
” ہلّلنا فھلّت الملائکۃ ، سبحنا فسبّحت الملائکۃ ، کنّا معلّقین بالعرش نسبّح و لم یخلق اللہ شیئاً غیرنا “ ۔ (۳)
جس وقت خدا نے مخلوقات میں سے کسی کو خلق نہیں کیا تھا ہم خدا کی تہلیل و تسبیح کرتے تھے۔
مرحوم علامہ مجلسی نے اس موضوع سے متعلق روایتوں کو بخوبی جمع کیا ہے اور ان کو اصول دین اور اسی طرح احوال معصومین علیہم السلام کے ابواب میں ذکر کیا ہے۔
شیخ مفید کا مرتبہ
حضرت امام زمانہ (عج) نے غیبت صغریٰ کے زمانے میں اسی طرح غیبت کبریٰ میں بھی بہت سے خطوط و توقیعات شیعوں اور بزرگان شیعہ کے لئے تحریر فرمائی ہیں ، اسی طرح حضرت (عج) اپنے نمائندوں کو خطوط تحریر فرماتے تھے ، اور کبھی کبھی بعض افراد کو جواب لکھتے تھے ، البتہ افسوس ہے کہ ان خطوط و توقیعات میں سے کچھ ہی ہمارے ہاتھوں تک پہونچی ہیں ، لیکن جو عبارتیں شیخ مفید کے متعلق اس خط میں آئی ہیں وہ کسی دوسرے کے متعلق نہیں آئی ہیں شاید ان تمام خطوط میں جو حضرت نے تحریر فرمائے ہیں کسی کی اس حد تک تعریف و تائید نہیں فرمائی ہے ۔ جیسا کہ ایک دوسرے خط میں جو کہ حضرت (عج) کی جانب سے شیخ مفید کو پہونچا ہے ، تحریر فرمایا ہے کہ :
” ادام اللہ توفیقک لنصرۃ الحق و اجزل مثوبتک علیٰ نطقک عنا بالصدق “ (۴) اس خط کا لفظ لفظ مفصل بحث کا طالب ہے ، حضرت امام زمانہ (عج) نے شیخ مفید کے علاوہ کسی اور کے لئے اس انداز سے اخلاص کی شہادت نہیں دی ہے ، حضرت شیخ مفید سے فرماتے ہیں کہ : ” اللہ نصرت حق کے لئے تمہاری توفیق کو قائم و دائم رکھے ، اور جو کچھ ہم سے روایت کی ہے سچ کہا ہے ، خداوند تعالیٰ تمہاری باتوں کے سبب تمہارے ثواب کو زیادہ کرے “ ۔
ایک وقت ایک عام شخص کسی دوسرے کے صالح و نیک ہونے کی گواہی دیتا ہے ، اور ایک وقت امام معصوم ایسی گواہی دیتے ہیں اس بات کی قیمت و عظمت تمام دنیا کی قیمت و عظمت سے زیادہ ہے ، کیونکہ دنیا تمام ہوجائے گی لیکن یہ قیمت و عظمت تمام ہونے والی نہیں ہے ۔ شیخ مفید کے انتقال کو ہزار سال سے زیادہ ہوگئے لیکن روز بروز پہلے سے زیادہ زندہ ہوتے جارہے ہیں ۔ آپ علامہ اقبال کے اس شعر کے مصداق کامل تھے :
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
اس مرتبہ و منزلت کے باوجود کوئی جگہ ایسی نہیں ملتی کہ شیخ مفید حضرت امام زمانہ (عج) کی خدمت با برکت میں پہونچے ہوں لیکن اپنے وظائف کو اسی طرح انجام دیتے تھے جیسا کہ امام چاہتے تھے اور اسی وجہ سے حضرت (عج) ان پر عنایت فرماتے تھے۔
شیخ مفید غیبت صغریٰ کے ختم ہونے کے بعد غیبت کبریٰ کے زمانہ میں پیدا ہوئے ہیں ، غیبت صغریٰ ۳۲۷ ھ ق یا ۳۲۹ ھ ق میں ختم ہوئی اور شیخ مفید ۳۳۶ ھ ق یا ۳۳۷ ھ ق میں پیدا ہوئے ہیں ، اور کسی وقت کوئی خط بھی حضرت امام زمانہ (عج) کو نہیں لکھا ہے بلکہ خود حضرت (عج) نے ایسا خط تحریر فرمایا ہے ، اور وہ بھی اس تفصیل کے ساتھ ایسا خط ، کہ جس سے یہ نتیجہ سمجھ میں آتا ہے کہ حضرت امام زمانہ (عج) شیخ مفید سے کلام و گفتگو کرنا چاہتے ہیں جیسا کہ کتابوں میں نقل ہوا ہے اس کی بناپر حضرت (عج) نے تین خطوط شیخ مفید کو تحریر فرمائے ہیں کہ ان میں سے دو خط دستیاب ہیں ، اور گویا تیسرا خط ظاہرا کتب خانوں کے جلانے کے واقعہ میں ناپدید ہوگیا ہے۔
شیخ مفید کون ہیں ؟
شیخ مفید ایک عام جوان تھے کہ آپ کے والد بزرگوار تل عکبری میں ( جو کہ بغداد سے دس فرسخ کے فاصلہ پر واقع ہے ) درس دیتے ، اور اسی وجہ سے آپ کو لوگ ” ابن المعلم “ کہتے تھے ، اس کے بعد آپ کے والد آپ کو بغداد درس حاصل کرنے کے لئے لے آئے ، دھیرے دھیرے اس مرتبہ تک پہونچ گئے کہ آپ کی وفات کے دن با وجود یکہ اہل بغداد کی اکثریت شیعہ نہ تھی آپ کی تشییع جنازہ نہایت شان و شوکت کے ساتھ ہوئی اور مؤرخین کے نقل کرنے کی بناپر آپ کی تشییع جنازہ تاریخ میں اس زمانہ تک بے نظیر و بے مثال تھی ۔ شیخ مفید کا مرتبہ اتنا رفیع و بلند ہے کہ حتیٰ آپ کے ناصبی دشمن بھی آپ کی تحسین و تعریف کرتے تھے اور اہل سنت کے بزرگ علماء آپ کی مجلس درس میں حاضر ہوتے تھے ۔ یافعی (۵) صاحب کتاب ” ابواب الجنان “ (۶) کہ جس میں بہت سارے جھوٹ نقل کئے ہیں لکھتا ہے کہ :
شیعہ کربلا کو ” حائر “ بھی کہتے ہیں اس لئے کہ جس وقت حضرت سید الشہدا علیہ السلام کی قبر تک پانی لایا گیا تا کہ اسے مٹادیں ، تو پانی حضرت سید الشہداء علیہ السلام کی قبر مطہر کے نزدیک تک بڑھا ، لیکن جب مرقد شریف کے قریب پہونچا تو پھر آگے نہ بڑھا اور اپنا راستہ بدل دیا ، اسی وجہ سے کہتے ہیں :
” حار الماء “ یعنی پانی حضرت سید الشہداء علیہ السلام کے حرم مطہر کے مقابل متحیر ہوگیا اور آگے نہ بڑھا “ ۔
یافعی اپنی کتاب میں اس واقعہ کو نقل کرنے کے بعد شیعوں کا مذاق اڑاتا ہے اور کہتا ہے کہ کیا پانی بھی انسانوں کے مانند تکلیف رکھتا ہے ، یا یہ کہ فرشتہ ہے جو درک و فہم رکھتا ہو ؟ لیکن یہی یافعی جب احمد بن حنبل (۷) کی بات کرتا ہے تو کہتا ہے :
” ایک دو سال دریائے دجلہ میں سیلاب آگیا اور تمام گھروں میں پانی پہونچ گیا ، لیکن جیسے ہی پانی احمد بن حنبل کی قبر تک پہونچا واپس آگیا اور قبر کے نزدیک نہ گیا اور بعد میں لوگوں نے دکھا کہ جو چٹائی اس کی قبر میں ہے ابھی گرد و خاک اس پر موجود ہے اور تر بھی نہ ہوئی ہے “ ۔ یہی پانی جب حضرت امام حسین علیہ السلام تک پہونچتا ہے تو بے عقل ہے ، لیکن احمد بن حنبل کے لئے عاقل ہوجاتا ہے ۔ یافعی شیعوں کے ساتھ اتنی شماتت و دشمنی رکھنے کے باوجود شیخ مفید کی تعریف کرتا ہے ۔
شیخ مفید کی رحلت کے بعد سنی علماء کے ایک گروہ نے کہا : ” اٴراحنا اللہ منہ “ یعنی خدا نے ہم کو ان سے راحت دی ۔ اور یہاں تک کہ ایک سنی نے شیخ مفید کی وفات کی مناسبت سے اپنے گھر کے در و دیوار کو سجایا اور جشن منایا ۔ لیکن بہر حال سنیوں نے بھی قدر دانی کی ہے ۔
حضرت امام زمانہ (عج) کی نظر میں شیخ مفید کا مرتبہ
شیخ مفید کا مرتبہ و منزلت اس حد تک بلند ہے کہ حضرت ولی عصر (عج) آپ کی وفات پر مرثیہ پڑھتے ہیں :
لا صوت الناعی بفقدک انہ
یوم علیٰ آل الرسول عظیم (۸)
یعنی تمہاری وفات کی مصیبت آل رسول (ص) کے لئے بہت بڑی مصیبت ہے ۔
آپ کے لئے اس سے بڑھ کر فخر کی بات کیا ہوسکتی ہے کہ حضرت امام مہدی (عج) آپ کو خطاب کرکے فرماتے ہیں :
” سلام علیک ایہا العبد الصالح الناصر للحق الداعی بکلمۃ الصدق “ سلام ہو تم پر اے خدا کے نیک بندے ، حق کی مدد کرنے والے اور راہ راست کی طرف دعوت دینے والے۔
شیخ مفید کا نمونہ
یہ جملے امام معصوم کی طرف سے ایک غیر معصوم شخص کے لئے بہت اہم ہیں ، شیخ مفید کیا کام کرتے تھے کہ حضرت امام زمانہ (عج) کی طرف سے ان جملون کے ساتھ توصیف کے لائق ہوگئے ؟ ۔ امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام اس خطبہ میں کہ جس کا ایک حصہ حضرت رسول اکرم (ص) کی تعریف و توصیف میں ہے ، اس بات کے بیان میں کہ حضرت رسول خدا (ص) کے آخری زمانہ حیات میں حالات کیسے پیدا ہوگئے کہ لوگ فوج در فوج دین اسلام میں داخل ہوگئے اور بقول قرآن ” و راٴیت الناس یدخلون فی دین اللہ افواجاً “ (۹) آپ نے دیکھا کہ لوگ دین خدا میں فوج در فوج داخل ہورہے ہیں ، ارشاد فرماتے ہیں :
” وثقوا بالقائد فاتّبعوہ “ یعنی لوگوں نے پیغمبر اسلام (ص) پر اعتماد و اطمینان پیدا کرلیا پس ان کی پیروی کی ۔
شیخ مفید نے اس نکتہ کو درک کیا تھا اور ایسا کام کیا کہ لوگ ان پر اعتماد و اطمینان پیدا کریں ، جو لوگ ، لوگوں کی ہدایت کرنا چاہتے ہیں انہیں اس نکتہ سے غافل نہ ہونا چاہئے اور دوسروں کے لئے قابل اعتماد و اطمینان ہونا چاہئے ۔
شیخ مفید اور امام زمانہ (عج) کا خط دریافت کرنا
سید بحر العلوم (۱۰) اس بحث کے ضمن میں کہ شیخ مفید نے حضرت امام زمانہ (عج) کو نہیں دیکھا تھا اور اس زمانے میں کوئی نائب بھی نہ تھا کہ یہ خط اس کے واسطے سے شیخ مفید کے ہاتھ میں پہونچے پس یہ خط کیسے شیخ مفید کے ہاتھ میں پہونچا ہے ؟ کہتے ہیں :
” چونکہ خط دریافت کرنے کا زمانہ غیبت کبریٰ کا زمانہ تھا ، اور طے نہیں تھا کہ اس زمانہ میں کوئی شخص واسطہ اور خاص نائب کے عنوان سے حضرت امام زمانہ (عج) کی خدمت میں پہونچے اور جس شخص نے خط شیخ مفید کو دیا ہے اس نے بھی نہیں کہا کہ امام زمانہ (عج) نے یہ خط مجھے دیا ہے ، ان تمام اوضاع و احوال کے ساتھ شیخ مفید کا مرتبہ باعث ہوا کہ یہ استثناء ( فضیلت ) انہیں کے بارے میں صورت پذیر ہو “ ۔
خلاصہ یہ کہ شیخ مفید امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے ارشاد کے بموجب حضرت رسول اکرم (ص) کے وصف کے حامل تھے ، وہ یہ کہ ” آپ سچے اور امین و معتمد تھے “
ایک سنی عالم جو کہ شیخ مفید سے بہت خار رکھتا تھا ، کہتا ہے کہ:
با وجودیکہ شیخ مفید کا مرتبہ اتنا بلند تھا کہ بادشاہ ، تاجر افراد اور مختلف شخصیتیں ان کے سامنے تواضع کرتی تھیں اور ان کے دیدار کی کوشش کرتی تھیں ، پھر بھی ” کان یلبس الخشن “ شیخ مفید ہمیشہ خشن اور موٹے لباس زیب تن کرتے تھے ۔ مشہور ہے کہ جملہٴ فعلیہ استمرار میں ظہور رکھتا ہے یعنی ایسا نہیں ہے کہ ایک بار یا دوبار دکھاوے کے طور پر موٹے لباس پہن لیں ، بلکہ وہ ہمیشہ ایسا ہی پہنتے تھے ۔
امیر المؤمنین حضرت علی (ع) شیخ مفید کے مقتدیٰ
جی ہاں ! شیخ مفید اس صفت کے مالک تھے کہ لوگوں کے اعتماد کو اپنے اعمال و اخلاق سے متاٴثر کرلیں ، یہاں تک کہ دوست و دشمن سبھی آپ کی تعریف و تحسین کرتے تھے ، یہ فضیلت آپ کو معصومین علیہم السلام کی اقتدا سے حاصل ہوئی تھی ۔
امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں :
” و اللہ ما کذبت کذبۃ “ (۱۱) قسم بخدا میں نے ایک جھوٹ بھی نہیں بولا ہے ۔ اور یہ دعویٰ تاریخ کی گواہی سے ثابت ہے ، کیونکہ کبھی کسی جگہ کوئی جھوٹ حضرت علی علیہ السلام سے نہیں سنا گیا ، حتیٰ اس موقع پر بھی کہ ایک چھوٹے سے جھوٹ کے ذریعہ تیرہ سال پہلے ہی روئے زمین کی سب سے بڑی حکومت پر حکمرانی کرتے ، کیونکہ عمر نے اپنے بعد خلیفہ کی تعیین کے لئے چھ افراد کی شوریٰ ( کمیٹی ) بنائی تھی ، عثمان اور امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام بھی ان کے درمیان تھے ، اور اس نے وصیت کی کہ میرے بعد ان چھ افراد کے درمیان سے ایک خلیفہ ہو ، اور اگر دو شخص برابر ووٹ حاصل کریں تو خلیفہ وہ شخص ہوگا جس کو عبد الرحمان بن عوف ووٹ دے ، سب کے ووٹ دینے کے بعد عبد الرحمان باقی رہا ، کہ ان میں سے جس کو بھی رای اور ووٹ دیتا وہ خلیفہ ہوجاتا ۔ عبد الرحمان بن عوف نے امیر المومنین علیہ السلام سے عرض کیا:
” اٴبایعک علیٰ کتاب اللہ و سنۃ رسولہ و سیرۃ الشیخین “ میں تم سے بیعت کروں گا کتاب خدا و سنت رسول (ص) اور شیخین ( ابوبکر و عمر ) کی سیرت پر ۔ حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام نے فرما یا :
” کتاب اللہ و سنۃ رسولہ “ کتاب خدا اور سنت رسول (ص) قبول ہے ، لیکن سیرت شیخین قبول نہیں کرتا ، کیونکہ میں خود مجتہد ہوں اور اپنی رائے پر عمل کروں گا ۔
پھر عبد الرحمان بن عوف نے یہی بات عثمان سے کہی ، اور اس نے سیرت شیخین کو قبول کرلیا اور خلیفہ بن بیٹھا ، البتہ بعد میں اس نے کسی ایک پر بھی عمل نہ کیا اور مسلمانوں کے ہاتھوں ماراگیا ۔
امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام اس حد تک تیار نہ ہوئے کہ ایک لفظ بھی اپنے عقیدہ کے برخلاف اور جھوٹ زبان پر لائیں اور اسی کام نے حضرت (ع) کو تیرہ سال پھر خلافت سے دور کردیا ، بہت سے لوگوں نے حضرت (ع) سے عرض کیا کہ ٹھیک ہے کہ آپ سیرت شیخین کو قبول نہ کرتے اور اس پر عمل نہ کرتے لیکن اس وقت قبول کرلینا چاہئے تھا ۔ لیکن علی علیہ السلام وہ شخص نہیں ہیں کہ اتنا سا بھی حقیقت سے فاصلہ اختیار کریں ۔
حضرت امام زمانہ (عج) کی امید شیعوں سے
بہت سے شیعہ یہ سوچتے ہیں کہ امام زمانہ (عج) کی خدمت میں کیسے پہنچا جاسکتا ہے اور کیسے حضرت سے ملاقات کی جاسکتی ہے ، حضرت امام زمانہ (عج) سے ملاقات ایک خاص مسئلہ ہے اور اس سے متعلق کتابوں میں ان افراد کے واقعات ذکر ہوئے ہیں جنہوں نے حضرت سے ملاقات کی ہے ، حضرت امام زمانہ (عج) سے ملاقات کرنے والوں میں عالم و عوام ، بوڑھے اور جوان ، مرد و عورت سبھی دکھائی دیتے ہیں ، لیکن آیا امام زمانہ (عج) نے شیعوں سے یہ چاہا ہے کہ غیبت کے زمانہ میں یہ کوشش کریں ؟ یا نہیں ، بلکہ وظیفہ کوئی دوسری چیز ہے ؟ اور آیا ہم اس سے زیادہ اہم وظیفہ نہیں رکھتے ∙∙∙ ؟
جیسا کہ ذکر کیا گیا کہ حضرت امام زمانہ (عج) سے تقرب کاسب سے زیادہ اہم وسیلہ خود اپنے وظیفہ انجام دینا ہے ، وہی چیز کہ جس کے لئے خداوند تعالیٰ نے حضرت کو امامت کو مرتبہ عطا فرمایا ہے ، وہی چیز کہ جس کے لئے حضرت رسول خدا (ص) تشریف لائے ہیں ۔
شیخ مفید کا وظیفہ انجام دینا
مرحوم آیت اللہ نجفی مرعشی رحمۃ اللہ علیہ جو کہ ایک محقق عالم تھے ، فرماتے تھے کہ:
” شیخ مفید نے خود کو مباحثہ و مناظرہ کے لئے وقف کر رکھا تھا اور مختلف مناظرے دوسرے تمام ادیان و مذاہب کے علماء سے انجام دیتے تھے ، یہاں تک کہ ایک بار ایک گروہ مناظرہ کے لئے آیا اور شیخ مفید سے وقت مانگا ، شیخ مفید نے فرمایا : ” میرے پاس وقت نہیں ہے “ ۔ ان لوگوں نے کہا: اے شیخ ! ہم بڑی دور سے آئے ہیں اور واپس جانا چاہتے ہیں ، شیخ مفید نے تھوڑاسا سوچ کر کہا : ” میرے پاس صرف صبح کی اذان سے پہلے دوگھنٹے وقت ہے اور اس وقت جتنے دن بھی چاہو آسکتے ہو ، ان لوگوں نے بھی کہا کہ کوئی چارہ نہیں ہے ، دن میں سوئیں گے اور رات میں مناظرے کے لئے آئیں گے ۔
کیا شیخ مفید سوتے نہ تھے ؟
آپ کے حالات میں لکھا ہے کہ آپ کی مجلس درس میں ابو العلاء معرّی ( جو کہ اہل سنت کے علماء میں سے ہے ) سے لیکر صوفیوں تک شرکت کرتے تھے آپ اس قدر حضور ذہن اور حاضر جوابی کے مالک تھے کہ خاص و عام کے لئے ضرب المثل تھے ، کسی وقت جلسہٴ درس میں کتاب سے شاہد و دلیل نہ لاتے تھے اور کبھی کبھی جو لغوی استدلالات آپ سے نقل ہوئے ہیں کسی لغوی کتاب میں پائے نہیں جاتے ۔ خلاصہ یہ کہ اپنی عمر اہل بیت (ع) کے نقش قدم پر گزاری اور آیہ ” یہدون باٴمرنا “ (۱۲) یعنی ” وہ لوگ ہماری طرف ہدایت کرتے ہیں “ کا نمونہ عمل تھے ، اور ائمہ علیہم السلام کی تمام روایتیں بھی اسی محور ” یھدون “ ( ہدایت بسوئے حق ) کے اردگرد گھومتی ہیں ۔
عالم کی فضیلت عابد پر
ایک روایت معاویہ بن عمار سے نقل ہوئی ہے کہ :
” قلت لاٴبی عبد اللہ علیہ السلام رجل راویۃ لحدیثکم یبث ذالک فی الناس و یشدہ فی قلوبھم و قلوب شیعتکم و لعلّ عابداً من شیعتکم لیست لہ ہٰذہ الراویۃ اٴیھا افضل قال الرّاویۃ لحدیثنا یشدّ بہ قلوب شیعتنا افضل من اٴلف عابد “ (۱۳) راوی نے امام علیہ السلام سے عرض کیا :
” آیا جو عابد حضرات اہل بیت علیہم السلام سے روایت نہیں کرتا ( آپ حضرات کی روایتیں نقل کرنے کے ذریعہ لوگوں کی ہدایت نہیں کرتا ) وہ افضل و برتر ہے یا جو آپ حضرات کی روایات کو نقل کرتا ہے اور اس کے ذریعہ آپ کے شیعوں کے قلوب و عقائد کو محکم و مضبوط کرتا ہے ؟ حضرت نے فرمایا کہ ہماری احادیث کا راوی ہزار عابد سے افضل و برتر ہے “ ۔
یہ روایت معاویہ بن عمار سے نقل ہوئی ہے جو کہ زرارہ اور محمد بن مسلم کے مانند اصحاب ائمہ علیہم السلام کے بزرگوں میں سے اوثقات میں سے ہیں ۔
حضرت امام زمانہ (عج) شیعوں سے چاہتے ہیں کہ لوگوں کی ہدایت کے لئے کوشش کریں ، البتہ اس کام کے چند مقدمات ہیں جن میں سے ایک حسن معاشرت ( سماج کے ساتھ اچھا برتاؤ ) اور زیادہ علم کا ہونا ہے ۔ اور پختہ ارادہ رکھیں کہ دوست و دشمن کے ساتھ نرمی و مداوا کریں ۔
ان خطوط میں کئی مرتبہ حضرت امام زمانہ (عج) نے لفظ ” صدق “ ( سچ ) شیخ مفید کو خطاب کرکے استعمال کیا ہے ، وہ ایک ایسا لفظ ہے کہ ہم جیسوں پر صادق آنے کے لئے کئی سال گزر جاتے ہیں ۔
اگر ” میں “ یعنی غرور ختم ہوگیا اور ملاک و معیار ” یہدون باٴمرنا “ ( ہمارے حکم سے ہدایت کرتے ہیں ) رہا تو پھر خشن اور غیر خشن لباس ، لذیذ اور سادہ غذا انسان کے لئے کوئی فرق نہیں رکھتا ، واقعاً شیخ مفید ہونا بہت مشکل ہے۔
شیخ مفید یہ سوچتے تھے کہ حضرت امام زمانہ (عج) ان سے کیا چاہتے ہیں اور اس کو انجام دیا۔
آج علماء پر وثوق و اعتماد حاصل نہ ہونے کے سبب بہت سے یہودی اور عیسائی ہیں ، یا یہ کہ شیعہ ہیں لیکن غفلت میں زندگی بسر کر رہے ہیں ۔
عالم اگر ثقہ و معتمد ہو تو لوگوں کو فوج در فوج دین خدا میں داخل کرسکتا ہے لیکن ( انسان اس قدر بے معتبر ہوجائے ) یہاں تک کہ اس کے بیوی بچے بھی اس پر اطمینان نہ رکھتے ہوں تو کوئی کام انجام نہیں دے سکتا ۔
اب ہم سب کو چاہئے کہ حضرت ولی عصر (عج) کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے یہ دو کام انجام دینے کی کوشش کریں :
۱۔ حضرت امام زمانہ (عج) سے عہد باندھیں کہ ہم ایسے ہوں ۔
۲۔ خود حضرت امام زمانہ (عج) سے مدد طلب کریں کہ حضرت (عج) ہمارے لئے دعا کریں اور ہماری کمک فرمائیں کہ ہم ایسے ہی بنیں۔
اور ان کی بنیاد تین چیزیں ہیں :
۱۔ بہت زیادہ تعلیم و تعلم ، اور ہم جانتے ہیں کہ اس مہینے ( ماہ شعبان ) کے بعد ماہ مبارک رمضان ، ماہ عبادت ہے اور سب سے زیادہ بڑی عبادت تعلیم و تعلم ہے۔
۲۔ انسان کو چاہئے کہ اس ” میں ہونے “ یعنی غرور و انانیت پر خط کھینچ دے اور اسے ترک کردے۔
۳۔ ہم کوشش کریں کہ حدیث کے ” راویۃ “ ہوں ، وہ راویہ جو کہ ” یشد بہ قلوب شیعتنا “ کا مصداق ہو ، یعنی جو راویت حدیث کے ذریعہ ہمارے شیعوں کے قلوب و عقائد کو محکم کرے ۔ ” الرّاویۃ “ کی تاء ، تاءِ مبالغہ ہے یعنی بہت زیادہ روایت کرنے والا۔
میں دعا کرتا ہوں کہ حضرت ولی عصر (عج) کی برکت سے خداوند تعالیٰ ہم سب پر لطف فرمائے اور ہم سب کو ان تین کاموں کے انجام دینے کی توفیق عطا فرمائے ۔ ( آمین )
و صلی اللہ علیٰ سیدنا محمد و آلہ الطاہرین
(۱) ۔ الاحتجاج : ج/۲ ، ص/ ۴۹۷ و ۴۹۸
(۲) ۔ محمد بن محمد بن نعمان ( ۳۳۶ ۔ ۴۱۳ ھ ق ) آپ شیخ مفید کے نام سے مشہور ہیں ، آپ عظیم شیعہ فقیہ ، متکلم اور محدث ہیں ، آپ کے اساتذہ ابن قولویہ ، شیخ صدوق ، اور ابوغالب رازی ہیں ، اور آپ نے بہت شاگردوں کی جیسے سید رضی ، سید مرتضیٰ ، شیخ طوسی ، اور سلار بن عبد العزیز دیلمی و غیرہ کی تربیت کی ہے ، شیخ مفید بہت زیادہ حاضر جواب تھے اور کا مناظرہ قاضی عبد الجبار معتزلی کے ساتھ مشہور ہے ،
ریحانۃ الادب : ج/۵ ، ص/۳۶۱ و ۳۶۵ ۔ الاعلام زرکلی : ج/۷ ، ص/۲۱
(۳) ۔ یہ حدیث تھوڑے سے اختلاف کے ساتھ بحار الانوار : ج/۲۴ ، ص/۱۸۸ ۔ اور ج/۲۵ ، ص/ ۲۴ میں مذکور ہے
(۴) ۔ بحار الانوار : ج/۵۳ ، ص/ ۱۷۴ ۔ باب ماخرج عن توقیعاتہ
(۵) ۔ عبد اللہ بن اسعد یافعی (۶۹۸ ، ۷۶۸ ھ ق ) مشائخ و صوفیہ میں سے اور شافعی مذہب تھا ۔ ریحانۃ الادب : ج/۶ ، ص/۳۸۶ و ۳۸۷
(۶) ۔ ظاہراً مقصود کتاب ” مرآۃ الجنان و عبرۃ الیقظان فی معرفۃ ما یعتبر من حوادث الزمان و تقلب احوال الانسان “ہے جو کہ تاریخ یافعی کے نام سے مشہور ہے
(۷) ۔ احمد بن حنبل اہل سنت کے چار فرقوں میں سے فرقہٴ حنبلی کا رئیس ہے
(۸) ۔ بحار الانوار : ج/۵۳ ، ص/۲۵۶ میں اس طرح آیا ہے : پچیسویں حکایت ، القاضی سید نور اللہ الشوشتری ( ۹۵۶ ۔ ۱۰۱۹ ق ) نے مجالس المومنین میں ذکر فرمایا ہے کہ یہ اشعار حضرت صاحب الامر (عج) کے ساتھ شیخ مفید کی قبر پر لکھے ہوئے پائے گئے :
لا صوت الناعی بفقدک انہ ۔ یوم علیٰ آل الرسول عظیم
سنانی سنانے والے نے تمہاری سنانی سنائی ۔ یقناً یہ دن آل رسول (ص) پر بہت بڑی مصیبت کا دن ہے
ان کنت قد غیبت فی جدث الثریٰ ۔ فالعدل و التوحید فیک مقیم
اگر تم قبر کی خاک نمناک کے اندر چھپ گئے ۔ تو عدل و توحید تیرے اندر قیام پذیر ہیں
و القائم المہدی یفرح کلما ۔ تلیت علیک من الدروس علوم
اور قائم مہدی کو خوشی ہوگی جب بھی ۔ تم پر دروس و علوم کی تلاوت کی جائے گی
(۹) ۔ نصر آیہ ۲
(۱۰) ۔ سید محمد مہدی بن مرتضیٰ بحر العلوم ( ۱۱۵۵ ۔ ۱۲۱۲ ق ) شیخ یوسف بحرانی ، سید حسین قزوینی اور آقا محمد باقر ہزارجریبی کے شاگردوں میں سے ہیں ، ستاون سال کی عمر میں دارِ دنیا کو وداع کہا اور آپ کو نجف اشرف میں شیخ مفید کے پاس سپرد خاک کیا گیا ( ریحانۃ الادب ج/۱ ، ص/۲۳۵ )
(۱۱) ۔ شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ، ج/۱ ، ص/۲۷۲
(۱۲) ۔ انبیاء آیہ ۷۳
(۱۳) ۔ اصول کافی ، ج/۱ ، ص/۳۳ ، باب صفۃ العلم و فضلہ و فضل العلماء
+ نوشته شده در پنجشنبه بیست و یکم مهر ۱۳۹۰ ساعت 10:24 توسط یدالله عزیزی گلتری | نظر بدهيد
امام زمانہ(ع) زمین والوں کے لئے امان ہیں
امام زمانہ(ع) زمین والوں کے لئے امان ہیں
یہ کلام حضرت امام مھدی عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے اس جواب کا ایک حصہ ھے جس کو امام علیہ السلام نے اسحاق بن یعقوب کے جواب میں لکھا ھے، اسحاق نے اس خط میں امام علیہ السلام سے غیبت کی وجہ کے بارے میں سوال کیا تھا۔ امام علیہ السلام نے غیبت کی علت بیان کرنے کے بعد اس نکتہ کی طرف اشارہ فرمایا کہ غیبت کے زمانہ میں امام کا وجود بے فائدہ نھیں ھے، وجود امام کے فوائد میں سے ایک ادنیٰ فائدہ یہ ھے کہ امام زمین والوں کے لئے باعث امن و امان ھیں، جیسا کہ ستارے آسمان والوں کے لئے امن و سلامتی کا ذریعہ ھوتے ھیں۔ دوسری صحیح روایات میں اسی مضمون کی طرف اشارہ ھوا ھے۔ جیسا کہ اُن روایات میں بیان ھوا ھے: اگر زمین پر حجت (خدا) نہ ھو تو زمین اور اس پر بسنے والے مضطرب اور تباہ و برباد ھوجائیں۔
امام زمانہ علیہ السلام کو اھل زمین کے لئے امن و امان سے اس طرح تشبیہ دینا جس طرح ستارے اھل آسمان کے لئے امن و امان ھوتے ھیں؛ اس سلسلہ میں شباہت کی چند چیزیں پائی جاتی ھیں جن میں سے دو چیزوں کی طرف اشارہ کیا جاتا ھے:
۱۔ جس طرح تخلیقی لحاظ سے ستاروں کا وجود اور ان کو ان کی جگھوں پر رکھنے کی حالت اور کیفیت، تمام کرّات، سیارات اور کھکشاوٴں کے لئے امن و امان اور آرام کا سبب ھے، زمین والوں کے لئے امام زمانہ علیہ السلام کا وجود بھی اسی طرح ھے۔
۲۔ جس طرح ستاروں کے ذریعہ شیاطین آسمانوں سے بھگائے گئے ھیں اور اھل آسمان منجملہ ملائکہ کے امان و آرام کا سامان فراھم ھوا ھے اسی طرح حضرت امام زمانہ علیہ السلام کا وجود، تخلیقی اور تشریعی لحاظ سے اھل زمین سے، مخصوصاً انسانوں سے شیطان کو دور بھگانے کا سبب ھے۔
امام زمانہ(ع) زمین والوں کے لئے امان ھیں
<اِنّی لَاٴَمٰانُ لِاٴَہْلِ الْاٴَرْضِ کَمٰا اَٴنَّ النُّجُومَ اٴَمٰانُ لِاٴَہْلِ السَّمٰاءِ>[1]
”بے شک میں اھل زمین کے لئے امن و سلامتی ھوں، جیسا کہ ستارے آسمان والوں کے لئے امان کا باعث ھیں“۔
شرح
یہ کلام حضرت امام مھدی عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے اس جواب کا ایک حصہ ھے جس کو امام علیہ السلام نے اسحاق بن یعقوب کے جواب میں لکھا ھے، اسحاق نے اس خط میں امام علیہ السلام سے غیبت کی وجہ کے بارے میں سوال کیا تھا۔ امام علیہ السلام نے غیبت کی علت بیان کرنے کے بعد اس نکتہ کی طرف اشارہ فرمایا کہ غیبت کے زمانہ میں امام کا وجود بے فائدہ نھیں ھے، وجود امام کے فوائد میں سے ایک ادنیٰ فائدہ یہ ھے کہ امام زمین والوں کے لئے باعث امن و امان ھیں، جیسا کہ ستارے آسمان والوں کے لئے امن و سلامتی کا ذریعہ ھوتے ھیں۔ دوسری صحیح روایات میں اسی مضمون کی طرف اشارہ ھوا ھے۔ جیسا کہ اُن روایات میں بیان ھوا ھے: اگر زمین پر حجت (خدا) نہ ھو تو زمین اور اس پر بسنے والے مضطرب اور تباہ و برباد ھوجائیں۔
امام زمانہ علیہ السلام کو اھل زمین کے لئے امن و امان سے اس طرح تشبیہ دینا جس طرح ستارے اھل آسمان کے لئے امن و امان ھوتے ھیں؛ اس سلسلہ میں شباہت کی چند چیزیں پائی جاتی ھیں جن میں سے دو چیزوں کی طرف اشارہ کیا جاتا ھے:
۱۔ جس طرح تخلیقی لحاظ سے ستاروں کا وجود اور ان کو ان کی جگھوں پر رکھنے کی حالت اور کیفیت، تمام کرّات، سیارات اور کھکشاوٴں کے لئے امن و امان اور آرام کا سبب ھے، زمین والوں کے لئے امام زمانہ علیہ السلام کا وجود بھی اسی طرح ھے۔
۲۔ جس طرح ستاروں کے ذریعہ شیاطین آسمانوں سے بھگائے گئے ھیں اور اھل آسمان منجملہ ملائکہ کے امان و آرام کا سامان فراھم ھوا ھے اسی طرح حضرت امام زمانہ علیہ السلام کا وجود، تخلیقی اور تشریعی لحاظ سے اھل زمین سے، مخصوصاً انسانوں سے شیطان کو دور بھگانے کا سبب ھے۔
فلسفہٴ امامت اور صفات امام
<اٴَحْییٰ بِہِمْ دینَہُ، َواَٴتَمَّ بِہِمْ نُورَہُ، وَجَعَلَ بَیْنَہُمْ وَبَیْنَ إِخْوٰانِہِمْ وَبَنِي عَمِّہِمْ َوالْاٴَدْنَیْنَ فَالْاٴَدْنَیْنَ مِنْ ذَوي اٴَرْحٰامِہِمْ فُرْقٰاناً بَیِّناً یُعْرَفُ بِہِ الْحُجَّةُ مَنِ الْمَحْجُوجِ، وَالاِْمٰامُ مِنَ الْمَاٴمُومِ، بِاٴَنْ عَصَمَہُمْ مِنَ الذُّنُوبِ، وَ بَرَّاٴَہُمْ مِنَ الْعُیُوبِ، وَ طَہَّرَہُمْ مِنَ الدَّنَسِ، َونَزَّہَہُمْ مِنَ اللَّبْسِ، وَجَعَلَہُمْ خُزّٰانَ عِلْمِہِ، وَ مُسْتَوْدَعَ حِکْمَتِہِ، وَمَوْضِعَ سِرِّہِ، وَ اٴَیَّدَہُمْ بِالدَّلاٰئِلِ، وَلَوْلاٰ ذٰلِکَ لَکٰانَ النّٰاسُ عَلیٰ سَوٰاءٍ، وَ لَاِدَّعیٰ اٴَمْرَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ کُلُّ اٴَحَدٍ، وَ لَمٰا عُرِفَ الْحَقُ مِنَ الْبٰاطِلِ، وَ لاٰ الْعٰالِمُ مِنَ الْجٰاہِلِ۔>[2]
”اوصیائے (الٰھی) وہ افراد ھیں جن کے ذریعہ خداوندعالم اپنے دین کو زندہ رکھتا ھے، ان کے ذریعہ اپنے نور کو مکمل طور پر نشر کرتا ھے، خداوندعالم نے ان کے اور ان کے (حقیقی) بھائیوں، چچا زاد (بھائیوں) اور دیگر رشتہ داروں کے درمیان واضح فرق رکھا ھے کہ جس کے ذریعہ حجت اور غیر حجت نیز امام اور ماموم کے درمیان پہچان ھوجائے۔ اور وہ واضح فرق یہ ھے کہ اوصیائے الٰھی کو خداوندعالم گناھوں سے محفوظ رکھتا ھے اور ان کو ھر عیب سے منزہ، برائیوں سے پاک اور خطاؤں سے دور رکھتا ھے، خداوندعالم نے ان کو علم و حکمت کا خزانہ دار اور اپنے اسرار کا رازدار قرار دیا ھے اور دلیلوں کے ذریعہ ان کی تائید کرتا ھے۔ اگر یہ نہ ھوتے تو پھر تمام لوگ ایک جیسے ھوجاتے، اور کوئی بھی امامت کا دعویٰ کر بیٹھتا، اس صورت میں حق و باطل اور عالم و جاھل میں تمیز نہ ھوپاتی“۔
شرح:
یہ کلمات امام مھدی علیہ السلام نے احمد بن اسحاق کے خط کے جواب میں تحریر کئے ھیں، امام علیہ السلام چند نکات کی طرف اشارہ کرنے کے بعد امام اور امامت کی حقیقت اور شان کو بیان کرتے ھوئے امام کی چند خصوصیات بیان فرماتے ھیں، تاکہ ان کے ذریعہ حقیقی امام اور امامت کا جھوٹا دعویٰ کرنے والوں کے درمیان تمیز ھوسکے:
۱۔ امام کے ذریعہ خدا کا دین زندہ ھوتا ھے؛ کیونکہ امام ھی اختلافات، فتنوں اور شبھات کے موقع پر حق کو باطل سے الگ کرتا ھے اور لوگوں کو حقیقی دین کی طرف ھدایت کرتا ھے۔
۲۔ نور خدا جو رسول خدا (ص)سے شروع ھوتا ھے، امام کے ذریعہ تمام اور کامل ھوتا ھے۔
۳۔ خداوندعالم نے پیغمبر اکرم (ص)کی ذرّیت میں امام کی پہچان کے لئے کچھ خاص صفات معین کئے ھیں، تاکہ لوگ امامت کے سلسلہ میں غلط فھمی کا شکار نہ ھوں، مخصوصاً اس موقع پر جب ذرّیت رسول کے بعض افراد امامت کا جھوٹا دعویٰ کریں۔ ان میں سے بعض خصوصیات کچھ اس طرح ھیں: گناھوں کے مقابلہ میں عصمت، عیوب سے پاکیزگی، برائیوں سے مبرّااور خطا و لغزش سے پاکیزگی وغیرہ، اگر یہ خصوصیات نہ ھوتے تو پھر ھرکس و ناکس امامت کا دعویٰ کردیتا، اور پھر حق و باطل میں کوئی فرق نہ ھوتا، جس کے نتیجہ میں دین الٰھی پوری دنیا پر حاکم نہ ھوتا۔
فلسفہٴ امامت
<اٴَوَ مٰا رَاٴَیْتُمْ کَیْفَ جَعَلَ اللهُ لَکُمْ مَعٰاقِلَ تَاٴوُونَ إِلَیْہٰا، وَ اٴَعْلاٰماً تَہْتَدُونَ بِہٰا مِنْ لَدُنْ آدَمَ (علیہ السلام)۔>[3]
”کیا تم نے نھیںدیکھا کہ خداوندعالم نے کس طرح تمھارے لئے پناہ گاھیں قرار دی ھیں تاکہ ان میں پناہ حاصل کرو، اور ایسی نشانیاں قرار دی ھیں جن کے ذریعہ ھدایت حاصل کرو، حضرت آدم علیہ السلام کے زمانہ سے آج تک“۔
شرح
یہ تحریر اس توقیع [4] کا ایک حصہ ھے جس کو ابن ابی غانم قزوینی اور بعض شیعوں کے درمیان ھونے والے اختلاف کی وجہ سے امام علیہ السلام نے تحریر فرمایا ھے، ابن ابی غانم کا عقیدہ یہ تھا کہ حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام نے کسی کو اپنا جانشین مقرر نھیں کیاھے، اور سلسلہٴ امامت آپ ھی پر ختم ھوگیا ھے۔ شیعوں کی ایک جماعت نے حضرت امام مھدی علیہ السلام کو خط لکھا جس میں واقعہ کی تفصیل لکھی، جس کے جواب میں حضرت امام زمانہ علیہ السلام کی طرف سے ایک خط آیا، مذکورہ حدیث اسی خط کا ایک حصہ ھے۔
امام زمانہ علیہ السلام امامت، وصایت اور جانشینی میں شک و تردید سے دوری کرنے کے سلسلہ میں بہت زیادہ سفارش کرنے کے بعد فرماتے ھیں: وصایت کا سلسلہ ھمیشہ تاریخ کے مسلم اصول میں رھا ھے، اور جب تک انسان موجود ھے زمین حجت الٰھی سے خالی نھیں ھوگی، امام علیہ السلام نے مزید فرمایا:
”تاریخ کو دیکھو! کیا تم نے کسی ایسے زمانہ کو دیکھا ھے جو حجت خدا سے خالی ھو، اور اب تم اس سلسلہ میں اختلاف کرتے ھو“؟!
امام علیہ السلام نے حدیث کے اس سلسلہ میں امامت کے دو فائدے شمار کئے ھیں:
۱۔ امام، مشکلات اور پریشانیوں کے عالم میں ملجا و ماویٰ اور پناہ گاہ ھوتا ھے۔
۲۔ امام،لوگوں کو دین خدا کی طرف ھدایت کرتا ھے۔
کیونکہ امام معصوم علیہ السلام نہ صرف یہ کہ لوگوں کو دین اور شریعت الٰھی کی طرف ھدایت کرتے ھیں بلکہ مادّی اور دنیوی مسائل میں ان کی مختلف پریشانیوں کو بھی دور کرتے ھیں۔
علم امام کی قسمیں
<عِلْمُنٰا عَلیٰ ثَلاٰثَہِ اٴَوْجُہٍ: مٰاضٍ وَغٰابِرٍ وَحٰادِثٍ، اٴَمَّا الْمٰاضِي فَتَفْسیرٌ، وَ اٴَمَّا الْغٰابِرُ فَموْ قُوفٌ، وَ اٴَمَّا الْحٰادِثُفَقَذْفٌ في الْقُلُوبِ، وَ نَقْرُ في الْاٴَسْمٰاعِ، وَہُوَ اٴَفْضَلُ عِلْمِنٰا، وَ لاٰ نَبيَّ بَعْدَ نَبِیِّنٰا>[5]
”ھم (اھل بیت) کے علم کی تین قسمیں ھوتی ھیں: گزشتہ کا علم، آئندہ کا علم اور حادث کا علم۔ گزشتہ کا علم تفسیر ھوتا ھے، آئندہ کا علم موقوف ھوتا ھے اور حادث کا علم دلوں میں بھرا جاتا اور کانوں میں زمزمہ ھوتا ھے۔ علم کا یہ حصہ ھمارا بہترین علم ھے اور ھمارے پیغمبر (ص)کے بعد کوئی دوسرا رسول نھیں آئے گا“۔
شرح
یہ الفاظ امام زمانہ علیہ السلام کے اس جواب کا ایک حصہ ھیں جس میں علی بن محمد سمری (علیہ الرحمہ) نے علم امام کے متعلق سوال کیا تھا۔
علامہ مجلسی علیہ الرحمہ کتاب ”مرآة العقول“ میں ان تینوں علم کے سلسلہ میں فرماتے ھیں:
”علم ماضی سے وہ علم مراد ھے جس کو پیغمبر اکرم (ص)نے اپنے اھل بیت علیھم السلام سے بیان کیا ھے؛ نیز یہ علم ان علوم پر مشتملھے جو گزشتہ انبیاء علیھم السلام اور گزشتہ امتوں کے واقعات کے بارے میں ھیں اور جو حوادثات ان کے لئے پیش آئے ھیں اور کائنات کی خلقت کی ابتداء اور گزشتہ چیزوں کی شروعات کے بارے میں ھیں۔
علم ”غابر“ سے مراد آئندہ پیش آنے والے واقعات ھیں؛ کیونکہ غابر کے معنی ”باقی“ کے ھیں، غابر سے مراد وہ یقینی خبریں ھیں جو کائنات کے مستقبل سے متعلق ھیں، اسی وجہ سے امام علیہ السلام نے اس کو ”موقوفہ“ کے عنوان سے یاد کیا ھے جو علوم کائنات کے مستقبل سے تعلق رکھتے ھیں وہ اھل بیت علیھم السلام سے مخصوص ھیں، موقوف یعنی ”مخصوص“۔
”علم حادث“ سے مراد وہ علم ھے جو موجودات اور حالات کے ساتھ ساتھ بدلتا رہتا ھے، یا مجمل چیزوں کی تفصیل مراد ھے۔۔۔ ”قَذْفُ في الْقُلُوبِ“، سے خداوندعالم کی طرف سے عطا ھونے والا وہ الھام مراد ھے جو کسی فرشتہ کے بغیر حاصل ھوا ھو۔
”نَقْرُ في الْاٴَسْمٰاعِ“، سے وہ الٰھی الھام مراد ھے جو کسی فرشتہ کے ذریعہ حاصل ھوا ھو۔
تیسری قسم کی افضلیت کی دلیل یہ ھے کہ الھام (چاھے بالواسطہ ھو یا بلا واسطہ) اھل بیت علیھم السلام سے مخصوص ھے۔
الٰھی الھام کی دعا کے بعد ممکن ھے کوئی انسان (ائمہ علیھم السلام کے بارے میں) نبی ھونے کا گمان کرے، اسی وجہ سے امام زمانہ علیہ السلام نے آخر میں اس نکتہ کی طرف اشارہ فرمایا ھے کہ پیغمبر اکرم(ص) کے بعد کوئی پیغمبر نھیں آئے گا“۔[6]
ماخذ
[1] کمال الدین، ج ۲، ص ۴۸۵، ح ۱۰؛ الغیبة، شیخ طوسی، ص۲۹۲، ح۲۴۷؛ احتجاج، ج۲، ص۲۸۴؛ اعلام الوری، ج۲، ص۲۷۲، کشف الغمة، ج ۳، ص ۳۴۰، الخرائج والجرائح، ج ۳، ص ۱۱۱۵، بحار الانوار، ج ۵۳، ص ۱۸۱، ح ۱۰۔
[2] الغیبة، طوسی، ص ۲۸۸، ح ۲۴۶، احتجاج، ج ۲، ص ۲۸۰، بحار الانوار، ج ۵۳، ص ۱۹۴۔۱۹۵، ح ۲۱۔
[3] الغیبة، شیخ طوسی، ص ۲۸۶، ح ۲۴۵، احتجاج، ج ۲، ص ۲۷۸، بحار الانوار، ج ۵۳، ص ۱۷۹، ح ۹۔
[4] توقیع ، امام زمانہ علیہ السلام کے اس خط کو کھا جاتا ھے جس کو آپ نے کسی کے جواب میں بقلم خود تحریر کیا ھو۔(مترجم)
[5] دلائل الامامة، ص ۵۲۴، ح ۴۹۵، مدینة المعاجز، ج ۸، ص ۱۰۵، ح ۲۷۲۰۔
[6] دیکھئے: مرآة العقول، ج۳، ص ۱۳۶ تا۱۳۷۔
+ نوشته شده در پنجشنبه بیست و یکم مهر ۱۳۹۰ ساعت 10:7 توسط یدالله عزیزی گلتری | نظر بدهيد
امام زمانہ (علیہ السلام) کے انتظار کی خصوصیات
امام زمانہ (علیہ السلام) کے انتظار کی خصوصیات
جیسا کہ ھم نے عرض کیا کہ ”انتظار“ انسانی فطرت میں شامل ھے اور ھر قوم و ملت اور ھر دین و مذھب میں انتظار کا تصور پایا جاتا ھے، لیکن انسان کی ذاتی اور اجتماعی زندگی میں پایا جانے والا عام انتظار اگرچہ عظیم اور با اھمیت ھو لیکن امام مھدی علیہ السلام کے انتظار کے مقابلہ میں چھوٹا اور نا چیز ھے کیونکہ آپ کے ظھور کا انتظار درج ذیل خاص امتیازات رکھتا ھے:
امام زمانہ علیہ السلام کے ظھور کا انتظار ایک ایسا انتظار ھے جو کائنات کی ابتداء سے موجود تھا یعنی بھت قدیم زمانہ میں انبیاء علیھم السلام اور اولیائے کرام آپ کے ظھور کی بشارت دیتے تھے اور ھمارے تمام ائمہ (علیھم السلام) قریبی زمانہ میں آپ کی حکومت کے زمانہ کی آرزو رکھتے تھے۔
حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ھیں:
”اگر میں ان (امام مھدی علیہ السلام) کے زمانہ میں ھوتا تو تمام عمر ان کی خدمت کرتا“۔([1])
امام مھدی علیہ السلام کا انتظار ایک عالمی اصلاح کرنے والے کا ا نتظار ھے، عالمی عادل حکومت کا انتظار ھے اور تمام ھی اچھائیوں کے ظاھر ھونے کا انتظار ھے، چنانچہ اسی انتظار میں عالم بشریت آنکھیں بچھائے ھوئے ھے اور پاک و پاکیزہ قدرتی فطرت کی بنیاد پر اس کی تمنا کرتا ھے اور کسی بھی زمانہ میں مکمل طور پر اس تک نھیں پہنچ سکا ھے، و حضرت امام مھدی علیہ السلام اسی شخصیت کا نام ھے جو عدالت اور معنویت، برادری اور برابری، زمین کی آبادی ، صلح و صفا ، عقل کی شکوفائی اور انسانی علوم کی ترقی کو تحفہ میں لائیں گے، اور استعمار و غلامی ، ظلم و ستم اور تمام برائیوں کا خاتمہ کرنا آپ کی حکومت کا ثمرہ ھوگا۔
امام مھدی (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف) کا انتظار ایسا انتظار ھے جس کے شکوفائی کا راستہ فراھم ھونے سے خود انتظار بھی شگوفہ ھوجائے گا، اور وہ ایسا زمانہ ھوگا کہ جب تمام انسان آخر الزمان میں اصلاح کرنے والے اور نجات بخشنے والے کی تلاش میں ھوں گے، وہ آئیں گے تاکہ اپنے ناصر و مددگاروں کے ساتھ برائیوں کے خلاف قیام کریں گے نہ یہ کہ صرف اپنے معجزہ سے پوری کائنات کے نظام کو بدل دیں گے۔
امام مھدی علیہ السلام کا انتظار ان کے منتظرین میں ان کی نصرت و مدد کا شوق پیدا کرتا ھے اور انسان کو حیثیت اور حیات عطا کرتا ھے، نیز اس کو بے مقصد سرگرمی اور گمراھی سے نجات دیتا ھے۔
قارئین کرام! یہ تھیں اس انتظار کی بعض خصوصیات جو تمام تاریخ کی وسعت کے برابر ھیں اور ھر انسان کی روح میں اس کی جڑیں موجود ھیں، اور کوئی دوسرا انتظار اس عظیم انتظار کی خاک پا بھی نھیں ھوسکتا، لہٰذا مناسب ھے کہ امام مھدی علیہ السلام کے انتظار کے مختلف پھلوؤں اور اس کے آثار و فوائد کو پہچانیں اور آپ کے ظھور کے منتظرین کی ذمہ داریاں اور اس کے بے نظیر ثواب کے بارے میں گفتگو کریں۔
انتظار کے پھلو
خود انسان میں مختلف پھلو پائے جاتے ھیں: ایک طرف تو نظری (تھیوری) اور عملی (پریکٹیکل) پھلو اس میں موجود ھے اور دوسری طرف اس میں ذاتی اور اجتماعی پھلو بھی پایا جاتا ھے، اور ایک دوسرے رخ سے جسمانی پھلو کے ساتھ روحی اور نفسیاتی پھلو بھی اس میں موجود ھے، جبکہ اس بات میں کوئی شک نھیں ھے کہ مذکورہ پھلوؤں کے لئے مخصوص قوانین کی ضرورت ھے، تاکہ ان کے تحت انسان کے لئے زندگی کا صحیح راستہ کھل جائے، اور منحرف اور گمراہ کن راستہ بند ھوجائے۔
امام مھدی (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف) کے ظھور کا انتظار، منتظر کے تمام پھلوؤں پر موثر ھے، انسان کے فکری اور نظری پھلو جو انسان کے اعمال و کردار کا بنیادی پھلو ھے ، انسانی زندگی کے بنیادی عقائد پر اپنے حصار کے ذریعہ حفاظت کرتا ھے۔ دوسرے الفاظ میں یوں عرض کیا جائے کہ صحیح انتظار اس بات کا تقاضا کرتا ھے کہ منتظر اپنی اعتقادی اور فکری بنیادوں کو مضبوط کرے تاکہ گمراہ کرنے والے مذاھب کے جال میں نہ پھنس جائے یا امام مھدی علیہ السلام کی طولانی غیبت کی وجہ سے یاس و ناامیدی کے دلدل میں نہ پھنس جائے۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ھیں:
”لوگوں پر ایک زمانہ وہ آئے گا کہ جب ان کا امام غائب ھوگا، خوش نصیب ھے وہ شخص جو اس زمانہ میں ھمارے امر (یعنی ولایت) پر ثابت قدم رھے“۔([2])
یعنی غیبت کے زمانہ میں دشمن نے مختلف شبھات کے ذریعہ یہ کوشش کی ھے کہ شیعوں کے صحیح عقائد کو ختم کردیا جائے، لیکن ھمیں انتظار کے زمانہ میں اپنے عقائد کی حفاظت کرنا چاہئے۔
انتظار ، عملی پھلو میں انسان کے اعمال اور کردار کو راستہ دیتا ھے، ایک حقیقی منتظر کو عملی میدان میں کوشش کرنا چاہئے کہ امام مھدی علیہ السلام کی حکومت حق کا راستہ فراھم ھوجائے، لہٰذا منتظر کو اس سلسلہ میں اپنی اور معاشرہ کی اصلاح کے لئے کمرِ ھمت باندھنا چاہئے، نیز اپنی ذاتی زندگی میں اپنی روحی اور نفسیاتی حیات اور اخلاقی فضائل کو کسب کرنے کی طرف مائل ھو اور اپنے جسم و بدن کو مضبوط کرے تاکہ ایک کار آمد طاقت کے لحاظ سے نورانی مورچہ کے لئے تیار رھے۔
حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ھیں:
”جو شخص امام قائم علیہ السلام کے ناصر و مددگار میں شامل ھونا چاھتا ھے اسے انتظار کرنا چاہئے اور انتظار کی حالت میں تقویٰ و پرھیزگاری کا راستہ اپنانا چاہئے اور نیک اخلاق سے مزین ھونا چاہئے“۔([3])
اس ”انتظار“ کی خصوصیت یہ ھے کہ یہ انسان کو اپنی ذات سے بلند کرتا ھے اور اس کو معاشرہ کے ھر شخص سے جوڑ دیتا ھے، یعنی انتظار نہ صرف انسان کی ذاتی زندگی میں موٴثر ھوتا ھے بلکھ معاشرہ میں انسان کے لئے مخصوص منصوبہ بھی پیش کرتا ھے اور معاشرہ میں مثبت قدم اٹھانے کی رغبت بھی دلاتا ھے، اور چونکہ حضرت امام مھدی علیہ السلام کی حکومت اجتماعی حیثیت رکھتی ھے، لہٰذا ھر انسان اپنے لحاظ سے معاشرہ کی اصلاح کے لئے کوشش کرے اور معاشرہ میں پھیلی برائیوں کے سامنے خاموش اور بے توجہ نہ رھے، کیونکہ عالمی اصلاح کرنے والے کے منتظر کو فکر و عمل کے لحاظ سے اصلاح اور خیر کے راستہ کو اپنانا چاہئے۔
مختصر یہ ھے کہ ”انتظار“ ایک ایسا مبارک چشمہ ھے جس کا آب حیات انسان اور معاشرہ کی رگوں میں جاری ھے، اور زندگی کے تمام پھلوؤں میں انسان کو الٰھی رنگ اور حیات عطا کرتا ھے، اور خدائی رنگ سے بھتر اور ھمیشگی رنگ اور کونسا ھوسکتا ھے؟!
قرآن کریم میں ارشاد ھوتا ھے:
<صِبْغَةَ اللهِ وَمَنْ اٴَحْسَنُ مِنْ اللهِ صِبْغَةً وَنَحْنُ لَہُ عَابِدُونَ >([4])
”رنگ تو صرف اللہ کا رنگ ھے اور اس سے بھتر کس کا رنگ ھوسکتا ھے اور ھم سب اسی کے عبادت گزار ھیں “۔
مذکورہ مطالب کے پیش نظر “مصلح کل” حضرت امام زمانہ علیہ السلام کے منتظرین کی ذمّہ داری ”الٰھی رنگ اپنانے“ کے علاوہ کچھ نھیں ھے جو انتظار کی برکت سے انسان کی ذاتی اور اجتماعی زندگی کے مختلف پھلوؤں میں جلوہ گر ھوتا ھے، جس کے پیش نظر ھماری وہ ذمّہ داریاں ھمارے لئے مشکل نھیں ھوں گی، بلکہ ایک خوشگوار واقعہ کے عنوان سے ھماری زندگی کے ھر پھلو میں ایک بھترین معنی و مفھوم عطا کرے گی۔ واقعاً اگر ملک کا مھربان حاکم اور محبوب امیر قافلہ ھمیں ایک شائستہ سپاھی کے لحاظ سے ایمان کے خیمہ میں بلائے اور حق و حقیقت کے مورچہ پر ھمارے آنے کا انتظار کرے تو پھر ھمیں کیسا لگے گا؟ کیا پھر ھمیں اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے میں کوئی پریشانی ھوگی کہ یہ کام کرو اور ایسا بنو، یا ھم خود چونکہ انتظار کے راستہ کو پہچان کر اپنے منتخب مقصد کی طرف قدم بڑھاتے ھوئے نظر آئیں گے؟!
منتظرین کی ذمّہ داریاں
دینی رھبروں کے ذریعہ احادیث اور روایات میں ظھور کا انتظار کرنے والوں کی بھت سی ذمّہ داریاں بیان ھوئی ھیں، ھم یھاں پر ان میں سے چند اھم ذمّہ داریاں کو بیان کرتے ھیں۔
امام کی پہچان
امام علیہ السلام کی شناخت اور پہچان کے بغیر راہ انتظار کو طے کرنا ممکن نھیں ھے، انتظار کی وادی میں صبر و استقامت کرنا امام علیہ السلام کی صحیح شناخت سے وابستہ ھے، لہٰذا امام مھدی علیہ السلام کے اسم گرامی اور نسب کی شناخت کے علاوہ ان کی عظمت اور ان کے رتبہ و مقام کی کافی مقدار میں شناخت بھی ضروری ھے۔
”ابو نصر“ امام حسن عسکری علیہ السلام کےخادم،امام مھدی علیہ السلام کی غیبت سے پھلے امام عسکری علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ھوئے، امام مھدی (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف) نے ان سے سوال کیا: کیا مجھے پہچانتے ھو؟ انھوں نے جواب دیا: جی ھاں، آپ میرے مولا و آقا اور میرے مولا و آقا کے فرزند ھیں! امام علیہ السلام نے فرمایا: میرا مقصد ایسی پہچان نھیں ھے!؟ ابو نصر نے عرض کی: آپ ھی فرمائیں کہ آپ کا مقصد کیا تھا۔
امام علیہ السلام نے فرمایا:
”میں پیغمبر اسلام (ص) کا آخری جانشین ھوں، اور خداوندعالم میری (برکت کی) وجہ سے ھمارے خاندان اور ھمارے شیعوں سے بلاؤں کو دور فرماتا ھے“۔([5])
اگر منتظر کو امام علیہ السلام کی معرفت حاصل ھوجائے تو پھر وہ اسی وقت سے اپنے کو امام علیہ السلام کے مورچہ پر دیکھے گا اور احساس کرے گا کہ امام علیہ السلام اور ان کے خیمہ کے نزدیک ھے، لہٰذا اپنے امام کے مورچہ کو مضبوط بنانے میں پَل بھر کے لئے کوتاھی نھیں کرے گا۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ھیں:
” مَنْ مَاتَ وَ ہُوَ عَارِفٌ لِاِمَامِہِ لَمْ َیضُرُّہُ، تَقَدَّمَ ہَذَا الاٴمْرِ اٴوْ تَاٴخَّرَ، وَ مَنْ مَاتَ وَ ہُوَ عَارِفٌ لِاِمَامِہِ کَانَ کَمَنْ ہُوَ مَعَ القَائِمِ فِی فُسْطَاطِہِ“([6])
”جو شخص اس حال میں مرے کہ اپنے امام زمانہ کو پہچانتا ھو تو ظھور کا جلد یا تاخیر سے ھونا کوئی نقصان نھیں پھونچاتا، اور جو شخص اس حال میں مرے کہ اپنے امام زمانہ کو پہچانتا ھو تو وہ اس شخص کی طرح ھے جو امام کے خیمہ اور اور امام کے ساتھ ھو“۔
قابل ذکر ھے کہ یہ معرفت اور شناخت اتنی اھم ھے کہ معصومین علیھم السلام کے کلام میں بیان ھوئی ھے اور جس کو حاصل کرنے کے لئے خداوندعالم سے مدد طلب کرنا چاہئے۔
حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:
”حضرت امام مھدی علیہ السلام کی طولانی غیبت کے زمانہ میں باطل خیال کے لوگ (اپنے دین اور عقائد میں) شک و شبہ میں مبتلا ھوجائیں گے، امام علیہ السلام کے خاص شاگرد جناب زرارہ نے کھا: آقا اگر میں وہ زمانہ پائوں تو کونسا عمل انجام دوں؟
امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: اس دعا کو پڑھو:
”اَللّٰہُمَّ عَرِّفْنِی نَفْسَکَ فَإنَّکَ إنْ لَمْ تُعَرِّفْنِی نَفْسَکَ لَمْ اٴعْرِفْ نَبِیَّکَ، اَللّٰہُمَّ عَرِّفْنِی رَسُولَکَ فَإنَّکَ إنْ لَمْ تُعَرِّفْنِی رَسُولَکَ لَمْ اٴعْرِفْ حُجَّتَکَ، اَللّٰہُمَّ عَرِّفْنِی حُجَّتَکَ فَإنَّکَ إنْ لَمْ تُعَرِّفْنِی حُجَّتَکَ ضَلَلْتُ عَنْ دِیْنِی“([7])
”پرودگارا! مجھے تو اپنی ذات کی معرفت کرادے اور اگر تو نے مجھے اپنی ذات کی معرفت نہ کرائی تو میں تیرے نبی کو نھیں پہچان سکتا، پرودگارا! تو مجھے اپنے رسول کی معرفت کرادے اور اگر تو نے اپنے رسول کی پہچان نہ کرائی تو میں تیری حجت کو نھیں پہچان سکوں گا، پروردگارا! تو مجھے اپنی حجت کی معرفت کرادے اور اگر تو نے مجھے اپنی حجت کی پہچان نہ کرائی تو میں اپنے دین سے گمراہ ھوجاؤں گا“۔
قارئین کرام! مذکورہ دعا میں نظام کائنات کے مجموعہ میں امام علیہ السلام کی عظمت کی معرفت بیان ھوئی ھے([8]) اور وہ خداوندعالم کی طرف سے حجت اور پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کا حقیقی جانشین اور تمام لوگوں کا ھادی و رھبر ھے جس کی اطاعت سب پر واجب ھے، کیونکہ اس کی اطاعت خداوندعالم کی اطاعت ھے۔
معرفت امام کا دوسرا پھلو امام علیہ السلام کے صفات اور ان کی سیرت کی پہچان ھے([9]) معرفت کا یہ پھلو انتظار کرنے والے کی رفتار و گفتار پر بھت زیادہ موثر ھوتا ھے، اور ظاھر سی بات ھے کہ انسان کو امام علیہ السلام کی جتنی معرفت ھوگی اس کی زندگی میں اتنے ھی آثار پیدا ھوں گے۔
نمونہ عمل
جس وقت امام علیہ السلام کی معرفت اور ان کے خوشنماجلوے ھماری نظروں کے سامنے ھوں گے تو اس مظھر کمالات کو نمونہ قرار دینے کی بات آئے گی۔
پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) فرماتے ھیں:
”خوش نصیب ھیں وہ لوگ جو میری نسل کے قائم کو اس حال میں دیکھیں کہ اس کے قیام سے پھلے خود اس کی اور اس سے پھلے ائمہ کی اقتداء کرتے ھوں اور ان کے دشمنوں سے بیزاری کا اعلان کرتے ھوں، ایسے افراد میرے دوست اور میرے ساتھی ھیں، اور یھی لوگ میرے نزدیک میری امت کے سب سے عظیم افراد ھیں“۔([10])
واقعاً جو شخص تقویٰ، عبادت، سادگی، سخاوت، صبر اور تمام اخلاقی فضائل میں اپنے امام کی پیروی کرے تو ایسے شخص کا رتبہ اس الٰھی رھبر کے نزدیک کس قدر زیادہ ھوگا اور ان کے حضور میں شرفیابی سے کس قدر سرفراز اور سربلند ھوگا؟!
کیا اس کے علاوہ ھے کہ جو شخص دنیا کے سب سے خوبصورت منظر کا منتظر ھے وہ اپنے کو خوبیوں سے آراستہ کرے اور خود کو برائیوں سے دور رکھے نیز انتظار کے لمحات میں اپنے افکار و اعمال کی حفاظت کرتا رھے؟! ورنہ آہستہ آہستہ برائیوں کے جال میں پھنس جائے گا اور پھر اس کے اور امام کے درمیان فاصلہ زیادہ ھوتا جائے گا، یہ ایک ایسی حقیقت ھے جو خود خطرات سے آگاہ کرنے والے امام علیہ السلام کے کلام میں بیان ھوئی ھے:
”فَمَا یَحْبِسُنَا عَنْہُمْ إلاَّ مَا یَتَّصِلُ بِنَا مِمَّا نُکْرِہُہُ وَ لاٰ نُوٴثِرُہُ مِنْہُم“([11])
”کوئی بھی چیز ھمیں اپنے شیعوں سے جدا نھیں کرتی، مگر خود ان کے وہ (برے) اعمال جو ھمارے پاس پہنچتے ھیں جن اعمال کو ھم پسند نھیں کرتے اور شیعوں سے ان کی امید بھی نھیں ھے!“۔
منتظرین کی آخری آرزو یہ ھے کہ امام مھدی علیہ السلام کی عالمی عدل کی حکومت میں کچھ حصہ ان کا بھی ھو، اور اس آخری حجت خدا کی نصرت و مدد کا افتخار ان کو بھی حاصل ھو، لیکن اس عظیم سعادت کو حاصل کرنا خود سازی اور اخلاقی صفات سے آراستہ ھوئے بغیر ممکن نھیں ھے۔
حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ھیں:
”مَنْ سَرَّہُ اٴنْ یَکُوْنَ مِنْ اٴصْحَابِ الْقَائِمِ فَلْیَنْتَظِرْ وَ لِیَعْمَلْ بِالْوَرَعِ وَ مَحَاسِنِ الاٴخْلاَقِ وَ ہُوَ مُنْتَظِر“([12])
”جو شخص یہ چاھتا ھو کہ حضرت قائم علیہ السلام کے ناصروں میں شامل ھو تو اسے اس حال میں منتظر رہنا چاہئے کہ تقویٰ اور پرھیزگاری اور اخلاق حسنہ سے آراستہ رھے“۔
یہ بات روشن ھے کہ ایسی آرزو تک پہنچنے کے لئے خود امام مھدی علیہ السلام سے بھتر کوئی نمونہ نھیں مل سکتا جو تمام ھی نیکی اور خوبیوں کا آئینہ ھے۔
+ نوشته شده در پنجشنبه بیست و یکم مهر ۱۳۹۰ ساعت 10:6 توسط یدالله عزیزی گلتری | نظر بدهيد
دنیاوی اقدار کےلیے عشق
دنیاوی اقدار کےلیے عشق مصنف:صابری،مترجم:سیفی
بعض لوگ آﺋمه اور امام زمان سے صرف دنیاوی مفادات اور دنیاوی جاه و منصب کی خاطر محبت کرتے هیں حتی که اگر امام زمان کے ظهور کےلیے دعا بھی کریں تو بھی اپنے دنیاوی طمع کی خاط رهے جیسا که امام صادق (ع)سے نقل هوا که همارے بارے لوگوں کی تین اقسام هیں:دو قسم وه لوگ هیں که جو جاه و مقام کی خاطر اور لوگوں کو ضرر پهنچانے کی خاطر هم اهل بیت سے محبت کا اظهار کرتے هیں اور تیسرا گروه (ایسا نهیں هے)هم اهل بیت میں سے هے اور هم ان سے هیں(تحف العقول ص۵۱۳)
تو یه جو دنیاوی طمع کی خاطر امام سے محبت کا دعوی رکھتے هیں اور انکے لیے ظهور کی دعا مانگتے هیں اگر کچھ مصالح کی بنا پر امام ان پر توجه نه کریں تو یهی لوگ اهلبیت کی دشمنی میں کھڑے هوجاتے هیں تاریخ میں طلحه و زبیر بهت تھے اور بهت هونگے ،البته یهاں جو هم پیش کرنا چاهتے هیں وه ایک عمومی انحراف ہے که اکثر لوگ ایسی نگاه آﺋمه کے حوالے رکھتے هیں-
امام سے توسل قرار دینا اور انکو الله کی درگاه میں واسطه قرار دینا اگرچه ایک صحیح امر هے اور روایات میں اسی پر تاکید هوئی هے لیکن یه سب کچھ صرف دنیاوی امور اور دنیاوی مشکلات دور کرنے کیلئے هو تو یه عدم معرفت کی علامت هے، معلوم یه هوتا هے که ایسے کرنے والے کو بھی نه امام کی معرفت و شناخت حاصل هے که امام کیسی با عظمت ذات هے اور اس کائنات میں اسکا کیا مقام و اهمیت هے اور نه اسے اپنے لیے امام کی ضرورت کا صحیح ادراک حاصل هے که مجھے میرے وجود کو امام کی کیا ضرورت هے؟
ایسی طرز فکر کے نتایج :
۱: امام سے دشمنی وبغض
۲: خواهشات اور احتیاج الهی اگر مصالح کی بنا پوری نه هو تو امام کے حوالے سے عقیده کم هونا یا عقیده ختم هوجانا
ایسی طرز فکر کے اسباب:
۱: امام اور امامت کے مقام کا درک نه کرنا
۲: خود خواهی اور اپنی ضرورت کو فقط دیکھنا
علاج:
۱: دین میں غور و فکر کرتے هوۓ معرفت پیدا کرنا
۲: امام کی طلب و حکم کو اپنی خواهشات پر مقدم رکھنے کی مشق کرنا اور اپنی تربیت کرنا-
حضرت سلمان فارسی( رض) کی ایک صفت که جن کی بنا پر وه ممتاز شخصیت کے حامل تھے یه تھی که امام کی طلب و حاجت کو اپنی خواهشات پر مقدم رکھتے تھے-
منصور بزرج روایت کرتے هیں که میں نے امام صادق(ع) کی خدمت میں عرض کیا
اے میرے مولا و آقا میں اکثر آپ سے سلمان فارسی کا ذکر سنتا هوں آپ نے فرمایا:یه نه کهو سلمان فارسی بلکه سلمان محمدی تم جانتے هو میں کیوں ان کا بهت زیاده ذکر کرتا هوں میں نے عرض کیا نهیں، آپ نے فرمایا: انکے تین اوصاف کی بنا پر انکا زیاده ذکر کرتا هوں ایک یه که وه امیر المومنین(ع) کی حاجت کو اپنی حاجت پر مقدم رکھتے تھے دوسرا یه که فقراء سے محبت کرتے تھے اور انهیں امراء پر مقدم رکھتے تھے ۔تیسرا یه که علم اور علماء سے محبت رکھتے تھے-(امالی طوسی مجلس ۵ ص۱۳۳)
+ نوشته شده در شنبه نهم مهر ۱۳۹۰ ساعت 14:8 توسط یدالله عزیزی گلتری | نظر بدهيد
المهدي مني يقضوا اثري ولا يخطئ
المهدي مني يقضوا اثري ولا يخطئ
بقلم: ف.ح.مهدوی
مآخذ: ابنا
المهدي مني يقضوا اثري ولا يخطئ
اشارہ: احادیث اہل سنت کے منابع حدیث سے نقل ہوئی ہیں اور احادیث کا ترجمہ بھی عربی عبارت کے عین مطابق ہے اور ان احادیث میں بیان ہونے والے عقائد لازماً مکتب اہل بیت (ع) کے عقائد سے مطابقت نہیں رکھتے اور بعض جگہوں پر ان مسائل میں ہمارا اختلاف ہے اور چونکہ کوشش کی گئی ہے کہ اہل سنت کے ہاں امام مہدی علیہ السلام کے ظہور، ان کے ظہور کی حقانیت، ان کی عصمت اور ان کی ذریت فاطمہ و علی سے ہونا مقصد تها لہذا احادیث کو عینا نقل کیا گیا ہے.
وَنُرِيدُ أَن نَّمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِي الْأَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِينَ
یہ نا قابل انکار حقیقت ہے کہ ہر شخص اپنی جدو جہد سے امام نہیں بن سکتا خدائے تعالیٰ جس کو چاہے اس منصب کے لئے منتخب فرمالیتا ہے. امام مہدی علیہ السلام بارہویں امام ہیں اور حضرت حسن بن علی بن محمد بن علی بن موسی بن جعفر بن محمد بن علی بن الحسین ابن علی علیہم السلام کے فرزند ہیں گویا ان کے جد امجد علی ابن ابیطالب علیہ السلام اور جدّّۀ ماجدہ حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا ہیں اور حضرت رسول اللہ نے فرمایا ہے:
ان الله جعل ذرية کل نبي من صلبه و جعل ذريتي من صلب علي بن ابي طالب (عليهما السلام)
بے شک خداوند متعال نے ہر نبی کی ذریت اس کے اپنے صلب سے قرار دی اور میری ذریت علی ابن ابیطالب علیہما السلام کے صلب سے قرار دی ہے.
یہاں اس نبی کے اقوال اہل سنت کے راویوں اور محدثین سے نقل کئے جارہے ہیں جو بولتے ہیں تو مصدر وحی سے متصل ہوکر بولتے ہیں اور انسانی معاشروں اور احکام دین یا بعد میں آنے والی نسلوں کے لئے ان کی کوئی بھی پیشین گوئی خدا کی طرف سے وحی پر مبنی ہوتی ہے اور ہم جانتے ہیں کہ نبی اکرم (ص) کا انکار اور آپ (ص) کے ارشادات کا انکار خدا اور اس کے فرامیں و ارشادات کا انکار ہے اور یہ انکار باعث کفر ہے. چنانچہ انکار مہدی علیہ السلام کا انکار کفر ہے کیونکہ
وما ينطق عن الهويٰ ان هو الا وحي يوحي (نجم)
(حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ) جو بولتے ہیں اپنی طرف سے نہیں بولتے آپ جو بولتے ہیں وحی کی بنیاد پر بولتے ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ وحی کی ایک قسم آیات پر مشتمل ہے اور وہ قرآن کی تشکیل کرتی ہے اوردوسری قسم اتصال کی صورت میں ہے اور جو فیوضات اتصال کی بنا پر رسول اللہ الاعظم (ص) پر وارد ہوتے ہیں وہ وحی کی دوسری قسم ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ جو بولتے یا کرتے ہیں وہ آپ (ص) کے قلب پر وارد ہوتا ہے. جو آیات ہیں ان سے قرآن کی تشکیل ہوتی ہے اور جو دیگر ارشادات ہیں وہ تفسیر آیات اور بیان احکام ہے یا پھر قیامت تک کے حوادث و وقائع کی پیشین گوئیاں ہیں.
ظاہر ہے کہ حضرت مہدی علیہ السلام کے ظہور کے بارے میں احادیث من جانب اللہ ہیں۔ اس لئے انکار مہدی علیہ السلام کو کفر قرار دیا گیا ہے کیونکہ آیات الہٰی اور احادیث رسول کا انکار لازم آتا ہے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مہدی موعود علیہ السلام کی ضرورت ظہور سے متعلق کئی طریقوں سے تفصیل کے ساتھ خبریں دی ہیں۔ چنانچہ دارقطنی ‘ طبرانی‘ ابو نعیم‘ حاکم وغیرہ نے ابن مسعود سے روایت کی ہے کہ:
قال رسول الله (ص) لا يذهب الدنيا حتيٰ يبعث الله تعاليٰ رجلاً من اهل بيتي يواطئ اسمه اسمي ...
دنیا ختم نہ ہوگی جب تک کہ اللہ تعالیٰ ایک ایسے شخص کو مبعوث نہ کرے جو میرے اہل بیت (ع) سے ہوگا اس کا نام میرے نام کے جیسا ہوگا۔
احمد بن حنبل نے مسند میں ابو سعید خدری سے روایت کی ہے کہ:
قال (ص) لا تقوم والساعة حتي يملک رجل من اهل بيتي ...
حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت اس وقت تک نہ ہوگی جب تک کہ میرے اہل بیت سے ایک شخص دنیا پر حکومت نہ کرے
اور ابو داﺅد نے بھی اس طرح کی ایک روایت نقل کی ہے:۔
عن زر بن عبدالله عن النبي (ص) قال لو لم يبق من الدنيا الا يوم واحد لطول الله ذالک اليوم حتيٰ يبعث رجلا من اهل بيتی يواطئ اسمه اسمي...
اگر بالفرض دنیا ختم ہونے کو ایک ہی دن باقی رہ جائے تو اللہ تعالیٰ اس ایک ہی دن کو اتنا طویل فرمادےگا کہ میرے اہل بیت میں سے ایک شخص مبعوث ہوجائے جس کا نام میرے نام کے مشابہ ہوگا۔
العرف الوری فی اخبار المہدی میں ابن ماجہ اور حاکم اور ابو نعیم کے نے ثوبان سے روایت کی ہے:
ثم يحي خليفة الله المهدي فاذاسمعتم به فاتوه فبايعوه ولو حبو اعلی الثلج فانه خليفة الله المهدي
پھر اللہ کا خلیفہ مہدی آئےگا پس جب تم اس کی خبر سنو تو ان کے پاس جاﺅ اور ان کی بیعت کرو اگرچہ کہ تمہیں برف پر سے رینگتے ہوئی جانا پڑے بی شک مہدی اللہ کا خلیفہ ہے۔
اس حدیث شریفہ سے ثابت ہے کہ مہدی علیہ السلام خلیفة اللہ ہیں۔ اور ان کی بیعت فرض ہے کیونکہ فبایعوہ“ کا مستفاد یہی ہے اور ” لوحبوا علی الثلج“ کے الفاظ تاکید اکید اور ” فانہ خلیفة اللہ“ کے الفاظ توجیہ فرضیت پر دلالت کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ایسی روایات بھی ملتی ہیں جن سے حضرت مہدی علیہ السلام کا معصوم عن الخطا ہونا ثابت ہوتا ہے چنانچہ اکابراہل سنت نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے کہ حضرت رسول اللہ (ص) نے فرمایا۔
المهدي مني يقضوا اثري ولا يخطئ
مہدی علیہ السلام میری اولاد سے ہوگا میرے نقش قدم پر چلےگا خطا نہ کرےگا۔
علامہ طحطاوی نے حاشیہ دارالمختار میں تحریر کیا ہے کہ:
المهدي ليس بمجتهد اذا المجتهد يحکم بالقياس وهو يحرم عليه القیاس لان المجتهد يخطئ وهو لا يخطئ قط فانه معصوم في احکامه بشهادة النبي و هو مبني علي عدم جواز الاجتهاد في حق الانبياء
مہدی مجتہد نہیں ہیں کیونکہ مجتہد کے احکام قیاسی ہوتے ہیں اور مہدی کے لئے قیاس حرام ہے اس لئے کہ مجتہد خطا کرتا ہے اور مہدی علیہ السلام سے ہرگز خطا نہیں ہوتی کیونکہ وہ اپنے احکام میں معصوم ہے جس کی شہادت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی دی ہے اور آنحضرت کی یہ شہادت اس امر پر مبنی ہے کہ انبیاء و خلفائے الہٰی کے لئے اجتہاد جائز نہیں۔
البتہ شیعہ مکتب میں قیاس حتی مجتہد کے لئے بهی حرام ہے اور یہ جناب ابوحنیفہ کے اختراعات میں سے ہے اور شیعہ مکتب میں امام معصوم کا کلام مجتہدین کے اجتہاد کی بنیاد ہوتا ہے کیونکہ وہ جو بولتے یا کرتے ہیں در حقیقت رسول اللہ کی حدیثیں ہیں. جیسا کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:
میری حدیث میرے والد کی حدیث اور میرے والد محمد بن علی علیہما السلام کی حدیث میرے دادا علی بن الحسین علیہما السلام کی حدیث ہے اور علی ابن الحسین علیہما السلام کی حدیث حسین بن علی علیہما السلام کی حدیث ہے اور امام حسین علیہ السلام کی حدیث امام حسن ابن علی علیہما السلام کی حدیث ہے اور امام حسن علیہ السلام کی حدیث حضرت امیر المؤمنین علی ابن ابی طالب علیہما السلام کی حدیث ہے اور امام علی علیہ السلام کی حدیث رسول اللہ الاعظم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی حدیث ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی حدیث وہی ہے جو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے جبرئیل کے توسط سے اللہ تعالی سے اخذ کیا ہے.
غرض حضرت مہدی علیہ السلام سے متعلق جتنی احادیث موجود ہیں اتنی کثرت کسی دوسرے مسئلے کے بارے میں کم ملےگی۔ برزنجی نے ” اشارہ فی اشراط الساعة “ میں لکھا ہے کہ:
واعلم ان الا حاديث الواردة فيه علي اختلاف رواياتها لا تکاد تنحصر ولو تعرضنا لتفصيلها لطال الکتاب و خرج عن موضوعه
واضح ہو کہ مہدی علیہ السلام سے متعلق احادیث اتنی کثیر وارد ہوئی ہیں کہ ان کا حصر نہیں کیا جاسکتا ۔ اگر ہم اسکی تفصیل بیان کرنا چاہیں تو کتاب طویل ہو جائےگی اور یہ اس کا موضوع بھی نہیں۔
جب علمائے حدیث و اصول نے احادیث کی اتنی کثرت دیکھی اور سب حدیثوں کو ظہور مہدی علیہ السلام کے بارے میں متفق علیہ پایا تو انہوں نے مسئلہ مہدویت کو تواترکے درجہ میں داخل کرلیا چنانچہ علامہ قاضی منتجب الدین جویزی نے لکھا:
واما ما اختاره‘ السلف واتفقوا في شانه فقد ذکر في القرطبي وقد تواتر الاخبار و استقاضت بکثرة رواتها عن النبي (ص) في المهدي (مخزن الدلايل)
بہر حال سلف نے جو اختیار کیا اور مہدی علیہ السلام کے بارے میں جو اتفاق کیا ہے وہ قرطبی میں مذکور ہے مہدی علیہ السلام سے متعلق جو حدیثیں ہیں اپنے روایوں کی کثرت کی وجہ تواتر کے درجے کو پہنچ گئی ہیں۔
شیخ ابن حجر ہیثمی نے ” القول المختصر“ میں تحریر کیا ہے کہ:
قال بعض ائمة الحفاظ ان کَونَ المهدي من ذرية رسول الله (ص) تواترت عنه (ص)
بعض حفاظ ائمہ حدیث نے فرمایا ہے کہ مہدی علیہ السلام کا آل رسول (ص) سے ہونا حضرت رسول (ص) سے متواتراً مروی ہے۔
شیخ عبدالحق محدث دہلوی نے ” لمعات شرح مشکوة کے باب الساعة میں لکھا ہے کہ:۔
قدوردت فيه الاحاديث کثيرة متواتر المعني
مہدی علیہ السلام کے بارے میں متواتر المعنی کثیر احادیث وارد ہیں۔
نیز لکھتے ہیں کہ:۔
قد تظاهرت الاحاديث البالغة حد التواتر معناً في کون المهدي من اهل بيت من ولد فاطمة (س)
مہدی علیہ السلام اہل بیت رسول (ص) اولاد فاطمہ (س) سے ہونے کی احادیث تواتر معنوی کی حد تک پہنچ گئی ہیں۔
بحرالعلوم عبدالعلی نے ” اشراط الساعة “ میں لکھا ہے کہ:۔
احاديثي که دال اند بر خروج امام مهدي کثير اند که مبلغ آں بتواتر رسيده
مہدی کی بعثت پر دلالت کرنے والی حدیثیں اتنی کثیر ہیں کہ تواتر کی حد کو پہنچ گئی ہیں۔
اکابر اہل سنت و علماءحدیث و اصول کے ایسے بہت سارے اقوال ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ مہدی علیہ السلام کی بعثت کی احادیث متواتر ہونے پر جمہور کا اتفاق ہے کیونکہ سب احادیث مہدی علیہ السلام کی آمد کے بارے میں یک زبان ہیں البتہ اختلاف ہے تو آثار و علامات میں ہے۔
نیز یہ امر بھی ذہن نشین ہونا چاہئے کہ جو امور تواتر کے درجے میں ہوں ان سے قطعی و یقینی علم حاصل ہوتا ہے۔ جن کا انکار نقل و عقل کے خلاف ہے۔ حافظ ابن حجرکی نے ”شرح نخبة الفکر“ میں تحریر کیا ہے کہ:
وهذا کون المتواتر مفيد اللعلم اليقين و هو المعتمد لان خبر المتواتر يفيد العلم الضروري وهو الذي يضطر الانسان اليه بحيث لا يمکنه رفعه
متواتر سے علم یقین کا فائدہ ہوتا ہے اور لائق اعتبار ہے۔ کیونکہ خبر متواتر علم ضروری کا ایسا فائدہ دیتی ہے کہ جس کو ماننے پر ہر آدمی مجبور ہوتا ہے حتی کہ اس کا رد کرنا ممکن نہیں۔
اور اہل سنت کے ہاں اصول فقہ کی معتبر کتاب ” اصول الشاشی“ میں لکھا ہے کہ:
ثم المتواتر يوجب العلم القطعي و يکون رده کفر
حدیث متواتر سے علم قطعی حاصل ہوتا ہے اور اس کو رد کرنا کفر ہے۔
پس عقیدہ ظہور مہدی علیہ السلام ایک آرزو نہیں ہے، یہ ایک افسانوی تصور بھی نہیں ہے بلکہ ضروریات دین میں سے ہے اور ہم نے یہاں اہل سنت کی معتبر کتابوں سے بعض حدیثیں نقل کی ہیں جن سے ثابت ہے کہ جس طرح قیامت پر اعتقاد لازم ہے ظہور مہدی علیہ السلام پر بھی اعتقاد لازم و واجب ہے اور سلف صالحین کی پیروی کے دعویدار بھی ایسی مستند و مستحکم پیشینگوئی سے ہرگز رو گردانی نہیں کرسکتے۔
البتہ اہل سنت کے اکابرین میں ابن خلدون کو اہل بیت سے عداوت کی بنا پر پہچانا جاتا ہے اور اس نے مہدی علیہ السلام کے بارے میں جو اختلاف کیا ہے وہ حتی علمائے اہل سنت کے ہاں بھی مسلماتِ اہل سنت کے صریح مغائر ہے اور اس نے جن روایات پر جرح کی ہے ان کی تعدیل بھی کی جاتی رہی ہے۔ مناظر احسن گیلانی صدر شعبہ دینیات جامعہ عثمانیہ نے ” مکاتیب امام غزالی“ کے مقدمے میں لکھا ہے کہ:
” اس قسم کا مغالطہ جس سے ابن خلدون نے مسلمانوں کے ” نظریہ مہدویت“ کو مضمحل کرنے میں کام لیا تھا ابن خلدون نے اپنی تاریخ کے مقدمہ میں اس کا تذکرہ کرکے کہ آئندہ مہدی علیہ السلام کی شکل میں مسلمانوں کو ایک نجات دہندہ ملےگا اس خیال کو اس نے غیر عقلی عقیدہ قرار دیا ہے وجہ یہ بیان کی ہے کہ قوموں کا حال بھی افراد کا ہے بچپن جوانی بڑھاپی کے دور سے جیسے افراد گذرتے ہیں قوموں کو بھی ان ہی ادوار سے گذرنا پڑتا ہے مسلمان جوانی کے بعد پیرانہ سالی کے حدود میں داخل ہوچکے ہیں اب دوبارہ ان کی نئی زندگی کی امید ایسی ہوئی جیسی کسی بوڑھے آدمی کے متعلق جوان ہونے کی خوش خیالی میں کوئی مبتلا ہو۔ لیکن ابن خلدون نے یہ نہیں سوچا کہ اسلام اور امت اسلامیہ کا تعلق کسی خاص نسل یا خون یا وطن کے باشندوں سے نہیں ہے۔ یہ ہوسکتا ہے کہ ایک قوم مثلاً عرب یا ترک اپنے ادوار ختم کرچکی ہوں لیکن کوئی دوسری تازہ دم قوم مسلمان ہوکر اسلام کو پھر ترو تازگی بخش سکتی ہے۔ تیرہ سو سال سے اس کا تجربہ ہورہا ہے اور ہوتا رہےگا اور اسی ابن خلدون کے خیال کی غلطی ظاہر ہوتی ہے۔ باقی مہدی علیہ السلام کے متعلق جو حدیث کی کتابوں میں روایتیں ہیں ان پر ابن خلدون نے جو اعتراضات کئے ہیں ان کی بھی محدثانہ حیثیت سے کوئی وقعت نہیں ہے اور مہدی علیہ السلام کا عقیدہ اہل سنت والجماعت کا ایک مسلمہ عقیدہ ہے (مکاتیب امام غزالی صفحہ (۳۲)مطبوعہ کراچی (پاکستان)
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ قرآن مجید میں فرمایا گیا ہے کہ اسلام پوری دنیا پر حکومت کرے گا اور کوئی بھی ایسا گھر نہ رہے گا جس سے لا الہ الا اللہ کی صدا بلند نہ ہورہی ہو مگر ابن خلدون جو کسی خاص فلسفے سے متاثر اور قرآن سے ناواقف نظر آتا ہے اس مسلمہ اسلامی عقیدے کی تردید کررہا ہے ، اس زمانے میں بھی دشمنان امام مہدی اور اہل بیت (ع) کی عالمی حکومت کو حاسدانہ انداز سے جھٹلانے والے کئی لوگ «قرب قیامت» کی پیشین گوئیاں کررہے ہیں اور وہ بھی در حقیقت قرآن کو جھٹلانے کا ارتکاب کررہے ہیں:
ارشاد ربانی ہے:
هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ (التوبه 33)
وہ خدا وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا تا کہ آپ (ص) اسے تمام ادیان پر غلبہ بخش دیں خواہ مشرکوں کو یہ بات بری ہی کیوں نہ لگے.
هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَكَفَى بِاللَّهِ شَهِيدًا (الفتح 28)
وہ خدا وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا تا کہ آپ (ص) اسے تمام ادیان پر غلبہ بخش دیں اور یہی کافی ہے کہ خدا خود ہی اس امر کا گواہ ہے.
هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ (الصف 9)
وہ خدا وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا تا کہ آپ (ص) اسے تمام ادیان پر فاتح کردیں خواہ مشرکوں کو یہ بات بری ہی کیوں نہ لگے.
ان تین آیات میں واضح کردیا گیا ہے کہ دین اسلام کو پوری دنیا پر حاوی ہونا ہے اور اس کو دنیا پر حکومت کرنے کا ہدف دیا گیا ہے۔
بظاہر دین کی خاطر پوری زندگی گذارنے والوں کی عداوت اہل بیت (ع) مجھے کبھی سمجھ میں نہیں آئی جبکہ قرآن مجید میں محبت اہل بیت (ع) کو اجر رسالت قرار دیا گیا ہے اور فرمایا گیا ہی کہ
قُل لَّا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى (الشوري 23)
کہہ دو: «میں اپنی رسالت کے عوض تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا سوائے میرے اقرباء اور اہل بیت کی مودت کے.
گو کہ ان لوگوں کے ہاں اولویت عداوت اہل بیت (ع) کو حاصل ہے اور اس سلسلے میں قرآن سے تمسک کے بلندبانگ دعؤوں کے برعکس قرآن کی صریح آیات کی تنقیض تک کا ارتکاب کردیتے ہیں.
فی الواقع ابن خلدون کی جرح خلاف اصول ہے کیونکہ تواتر کی صورت میں راویوں کے ضعف و قوت سے بحث نہیں کی جاتی ۔ ابن حجر نے میں تحریر کیا ہے کہ:
والمتواتر لا يبحث عن رجاله بل يجب العمل به من غير بحث لا يحابه اليقين وان وردعن الفساق بل عن الکفرة
(ماخوذاز ابراز الوهم المکنون)
خبر متواتر کی شان یہ ہے کہ اس کے راویوں سے بحث نہیں کی جاتی بلکہ اس پر بغیر بحث کے عمل کرنا واجب ہے کیونکہ خبر متواتر موجب یقین ہوتی ہے اگرچہ وہ روایت فاسقوں بلکہ کافروں سے ہوتی ہے۔
وضاحت:
اس کے علاوہ سلف اہل سنت و اکابر علماء حدیث و اصول کے مقابلے میں ایک مورخ کے ذاتی خیالات کو ترجیح نہیں دی جاسکتی۔
نیز یہ کہنا بھی صحیح نہیں ہے کہ ” خلفائے بنی عباس کے زمانے میں اس قسم کی احادیث پروپیگنڈے کے لئے وضع کرلی گئی ہیں “ یہ بات اصول منقول کے خلاف ہے اور غیر معقول ۔ کیونکہ ان روایات سے صاف ظاہر ہے کہ راویوں کے زمانے اور ظہور مہدی علیہ السلام کے زمانے میں صدیوں کا فاصلہ ہے۔ پس جن لوگوں نے اپنی ذاتی ضروریات و مصالح کے لئے بعثت مہدی علیہ السلام کی روایات وضع کرلی ہوں ‘ ان کو ایسی روایات وضع کرنے سے ان کی ضروریات و مصلحتوں میں کیا فائدہ پہنچ سکتا تھا جن کا وقوع صدیوں بعد ہونے کی خبر دےگئی ہے۔!
آخر میں ایک عرض کرنا ضروری ہے کہ یہ روایت سنی اور شیعہ کتب احادیث میں متفق علیہ ہے اور حتی کہ ایک راوی نے بھی اس سے اختلاف نہیں کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ہے کہ:
من مات و لم یعرف امام زمانه مات میتة الجاهلیة
جو اپنے زمانے کے امام کو پہچانے بغیر مرجائے وہ جاہلیت کی موت مرا ہے.
اس روایت میں تین اہم چیزوں کی طرف اشارہ ہوا ہے۔
1- ہر زمانے کا ایک امام ہوتا ہے.
2- مسلمان پر لازم ہے کہ اپنے زمانے کے امام کی معرفت رکھتا ہو.
3- اگر کوئی شخص اپنے زمانے کے امام کو پہچانے بغیر مرجائے وہ جاہلیت کی موت مرا ہے.
اب اگر مجھ سے کوئی پوچھے تو میں بتاؤں گا کہ میرے امام زمانہ حضرت م ح م د المہدی المنتظر حسن بن علی بن محمد بن علی بن موسی بن جعفر بن محمد بن علی بن الحسین ابن علی علیہم السلام کی فرزند ہیں گویا ان کی جد امجد علی ابن ابی طالب علیہ السلام اور جدّّۀ ماجدہ حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا ہیں اور حضرت رسول اللہ نے فرمایا ہے:
ان الله جعل ذرية کل نبي من صلبه و جعل ذريتي من صلب علي بن ابي طالب (عليهما السلام)
بے شک خداوند متعال نے ہر نبی کی ذریت اس کے اپنے صلب سے قرار دی اور میری ذریت علی ابن ابی طالب علیہما السلام کے صلب سے قرار دی۔
میں پوچھنا چاہتا ہوں - ان لوگوں سے جو اپنے سوا کسی کو بھی مسلمان کہنا گوارا نہیں کرتے اور اپنے عقائد کے مخالفیں کے گلے کاٹ کرجنت میں جانا چاہتے ہیں اور اپنے نوجوانوں کو شیعوں کے گلے کاٹنے پر جنت کے سرٹیفیکٹ ایشو کرتے ہیں - کہ ان کے زمانے کا امام کون ہے؟
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرماتے ہیں کہ ہر زمانے کا ایک امام ہوتا ہے تو ان لوگوں کا امام کون ہے؟ کیا وہ رسول اللہ کے اس ارشاد کے مطابق ہر زمانے کے لئے امام کے قائل بھی ہیں یا نہیں؟
جاہلیت کی موت سے مراد بھی واضح ہے یعنی یہ کہ وہ شخص جو اپنے امام کی معرفت حاصل کئے بغیر مرتا ہے اس کی مثال اس شخص کی سی ہے جو بعثت رسول (ص) سے قبل عالم جاہلیت میں شرک و کفر کی حالت میں مر جاتے تھے۔
+ نوشته شده در شنبه نهم مهر ۱۳۹۰ ساعت 14:7 توسط یدالله عزیزی گلتری | نظر بدهيد
+ نوشته شده در جمعه هشتم مهر ۱۳۹۰ ساعت 19:20 توسط یدالله عزیزی گلتری | نظر بدهيد
ظہور مہدی (ع) کا عقیدہ اسلامی عقیدہ ہے
ظہور مہدی (ع) کا عقیدہ اسلامی عقیدہ ہے
جو لوگ شیعوں کے بارہ میں غلط فہی میں مبتلا ہوکر شیعہ حقائق کا مطالعہ کرتے ہیں یا دشمنان اسلام کے سیاسی اغراض پر مبنی مسموم افکار کی ترویج کرتے ہیں وہ جادۂ تحقیق سے منحرف ہوکر اپنے مقالات یا بیانات میں یہ اظہار کرتے ہیں کہ ظہور مہدی (ع) کا عقیدہ ،شیعہ عقیدہ ہے اور اسے تمام اسلامی فرقوں کا عقیدہ تسلیم کرتے ہوئے انھیں زحمت ہوتی ہے۔
کچھ لوگ تعصب ونفاق کے علاوہ تاریخ وحدیث اورتفسیر ورجال سے ناواقفیت،اسلامی مسائل سے بے خبری اور عصر حاضر کے مادی علوم سے معمولی آگاہی کے باعث تمام دینی مسائل کو مادی اسباب وعلل کی نگاہ سے دیکھتے اور پرکھتے ہیں اور اگر کہیں کوئی راز یا فلسفہ سمجھ میں نہ آئے توفوراً تاویل وتوجیہ شروع کردیتے ہیں یا سرے سے انکار کربیٹھتے ہیں۔
اس طرح اپنے کمرہ کے ایک کونے میں بیٹھ کر قلم اٹھاتے ہیں اور اسلامی مسائل سے متعلق گستاخانہ انداز میں اظہار نظر کرتے رہتے ہیں جب کہ یہ مسائل ان کے دائرہ کا رومعلومات سے باہر ہیں، اس طرح یہ حضرات قرآن وحدیث سے ماخوذ مسلمانوں کے نزدیک متفق علیہ مسائل کا بہ آسانی انکار کردیتے ہیں۔ انھیں قرآن کے علمی معجزات، اسلامی قوانین اور اعلیٰ نظام سے زیادہ دلچسپی ہوتی ہے لیکن انبیاء کے معجزات اور خارق العادہ تصرفات کے بارے میں گفتگو سے گریز کرتے ہیں تاکہ کسی نووارد طالب علم کے منہ کا مزہ خراب نہ ہو جائے یا کوئی بے خبر اسے بعید از عقل نہ سمجھ بیٹھے۔
ان کے خیال میں کسی بات کے صحیح ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اسے ہر آدمی سمجھ سکے یا ہر ایک دانشوراس کی تائید کرسکے یا ٹیلی اسکوپ، مائیکرو اسکوپ یا لیبوریٹری میں فنی وسائل کے ذریعہ اس کا اثبات ہو سکے۔
ایسے حضرات کہتے ہیں کہ جہاں تک ممکن ہو انبیاء (ع) کو ایک عام آدمی کی حیثیت سے پیش کرنا چاہئے اور حتی الامکان ان کی جانب معجزات کی نسبت نہیں دینا چاہئے بلکہ بہتر تو یہ ہے کہ دنیا کے حوادث کی نسبت خداوند عالم کی جانب بھی نہ دی جائے یہ لوگ خدا کی قدرت، حکمت، علم، قضا وقدر کا صریحی تذکرہ بھی نہیں کرتے جو کچھ کہنا ہوتا ہے مادہ سے متعلق کہتے ہیں۔
خدا کی حمد وستائش کے بجائے مادہ اور طبیعت (Nature)کے گن گاتے ہیں تاکہ ان لوگوں کی لے میں لے ملا سکیں، جنہوں نے تھوڑے مادی علوم حاصل کئے ہیں یا فزکس، کمیسٹری، ریاضی سے متعلق چند اصطلاحات، فارمولے وغیرہ سیکھ لئے ہیں اوراگر انگریزی یا فرانسیسی زبان بھی آ گئی تو کیا کہنا۔
یہ صورت حال کم وبیش سبھی جگہ سرایت کر رہی ہے اور زندگی کے مختلف شعبوں میں اس کے آثار نمایاں نظر آتے ہیں، عموماً اس صورت حال کا شکار کچے ذہن کے وہ افراد ہوتے ہیں جو علوم قدیم وجدید کے محقق تو نہیں ہیں لیکن مغرب کے کسی بھی نظریہ یا کسی شخص کی رائے کو سو فیصدی درست مان لیتے ہیں چاہے اس کا مقصد سیاسی اور استعماری ہی رہا ہو، ہمارے بعض اخبارات، رسائل، مجلات و مطبوعات بھی دانستہ یا نادانستہ طور پر انہیں عوامل سے متاثر ہو کر سامراجی مقاصد کی خدمت میں مصروف ہیں ۔
انہیں یہ احساس نہیں ہے کہ یورپ اور امریکہ کے اکثر لوگ اور ان کے حکام کی علمی، عقلی، فلسفی اور دینی معلومات بالکل سطحی ہوتی ہیں، وہ اکثر بے خبر اور مغرض ہوتے ہیں (بلکہ ایک رپورٹ کے مطابق ٨١ فیصدافراد ضعف عقل و اعصاب ا ور دماغ میں مبتلا ہیں)اور اپنے پست اور انسانیت سے دور سیاسی مقاصد کے لئے دنیا کے مختلف مقامات پر اپنے سیاسی مفادات کے مطابق گفتگو کرتے ہیں، البتہ جو لوگ ذی علم و استعداد، محقق و دانشور ہیں ان کا معاملہ فحشاء و فساد میں ڈوبی اکثریت سے الگ ہے۔
ان کے معاشرہ میں ہزاروں برائیاں اور خرافات پائے جاتے ہیں پھر بھی وہ عقلی، سماجی، اخلاقی اور مذہبی بنیاد پر مبنی مشرقی عادات و رسوم کا مذاق اڑاتے ہیں۔
مشرق میں جو صورتحال پیدا ہو گئی ہے اسے ”مغرب زدہ ہونا” یا مغرب زدگی کہا جاتا ہے جس کی مختلف شکلیں ہیں اور آج اس سے ہمارا وجود خطرے میں ہے، انہوں نے بعض اسلامی ممالک کی سماجی زندگی سے حیاو عفت اور اخلاقی اقدار کو اس طرح ختم کر دیا ہے کہ اب ان کا حشر بھی وہی ہونے والا ہے جو اندلس (اسپین) کے اسلامی معاشرہ کا ہوا تھا۔
افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے زمانہ میں ایسے افراد جن کی معلومات اخبارات و رسائل سے زیادہ نہیں ہے اور انہوں نے مغربی ممالک کا صرف ایک دو مرتبہ ہی سفر کیا ہے،مغرب زدگی، مغرب کے عادات و اخلاق کے سامنے سپرانداختہ ہوکر موڈرن بننے کی جھوٹی اور مصنوعی خواہش، جو دراصل رجعت پسندی ہی ہے کو روشن فکری کی علامت قرار دیتے ہیں،اور اغیار بھی اپنے ذرائع کے ذریعہ مثلاً اپنے سیاسی مقاصد کے لئے انہیں مشتشرق، خاورشناس کا ٹائٹل دے کر ان جیسے افراد کی حوصلہ افزائی کرتے رہتے ہیں۔
ظہور حضرت مہدی (ع) کے بارے میں بھی ادھر ہمارے سنّی بھائیوں میں سے کچھ مغرب زدہ احمد امین، عبدالحسیب طٰہٰ حمیدہ جیسے افراد نے امام مہدی (ع) کے متعلق روایات نقل کرنے کے باوجود تشیع پر حملے کئے ہیں گویا ان کے خیال میں یہ صرف شیعوں کا عقیدہ ہے یا کتاب و سنت، اقوال صحابہ و تابعین وغیرہ میں اس کا کوئی مدرک و ماخذ نہیں ہے، بے سر پیر کے اعتراضات کر کے یہ حضرات اپنے کو روشن فکر، مفکر اور جدید نظریات کا حامل سمجھتے ہیں،غالباً سب سے پہلے جس مغرب زدہ شخص نے ظہور مہدی (ع) سے متعلق روایات کو ضعیف قرار دینے کی ناکام و نامراد کوشش کی وہ ابن خلدون ہے، جس نے اسلامی مسائل کے بارے میں ہمیشہ بغض اہلبیت (ع) اور اموی افکار کے زیر اثر بحث و گفتگو کی ہے۔
”عقاد ” کے بقول اندلس کی اموی حکومت نے مشرقی اسلام کی وہ تاریخ ایجاد کی ہے جو مشرقی مورخین نے ہرگز نہیں لکھی تھی اور اگر مشرقی مورخین لکھنا بھی چاہتے تو ایسی تاریخ بہر حال نہ لکھتے جیسی ابن خلدون نے لکھی ہے۔
اندلس کی فضا میں ایسے مورخین کی تربیت ہوتی تھی جو اموی افکار کی تنقید و تردید کی صلاحیت سے بے بہرہ تھے، ابن خلدون بھی انہیں افراد میں سے ہے جو مخصوص سیاسی فضا میں تربیت پانے کے باعث ایسے مسائل میں حقیقت بین نگاہ سے محروم ہو گئے تھے، فضائل اہلبیت (ع) سے انکار یا کسی نہ کسی انداز میں توہین یا تضعیف اور بنی امیہ کا دفاع اور ان کے مظالم کی تردیدسے ان کا قلبی میلان ظاہر ہے۔ ابن خلدون معاویہ کو بھی ”خلفائے راشدین” میں شمار کرتے ہیں۔
انہوں نے مہدی (ع) اہل بیت (ع) کے ظہور کے مسئلہ کو بھی اہل بیت (ع) سے بغض و عناد کی عینک سے دیکھا ہے کیونکہ مہدی (ع) بہرحال اولاد فاطمہ (ص) میں سے ہیں خانوادہ رسالت کا سب سے بڑا سرمایۂ افتخارہیں لہٰذا اموی نمک خوار کے حلق سے فرزند فاطمہ(ص) کی فضیلت کیسے اتر سکتی تھی چنانچہ روایات نقل کرنے کے باوجود ان کی تنقید و تضعیف کی سعی لاحاصل کی اور جب کامیابی نہ مل سکی تو اسے ”بعید” قرار دے دیا۔
اہل سنت کے بعض محققین اور دانشوروں نے ابن خلدون اور اس کے ہم مشرب افراد کا دندان شکن جواب دیا ہے اور ایسے نام نہاد روشن فکر افراد کی غلطیاں نمایاں کی ہیں۔
معروف معاصر عالم استاد احمد محمد شاکر مصری ”مقالید الکنوز” میں تحریر فرماتے ہیں ”ابن خلدون نے علم کے بجائے ظن و گمان کی پیروی کر کے خود کو ہلاکت میں ڈالا ہے۔ ابن خلدون پر سیاسی مشاغل، حکومتی امور اور بادشاہوں، امیروں کی خدمت و چاپلوسی کا غلبہ اس قدر ہو گیا تھا کہ انہوں نے ظہور مہدی (ع) سے متعلق عقیدہ کو ”شیعی عقیدہ” قرار دے دیا۔ انہوں نے اپنے مقدمہ میں طویل فصل لکھی ہے جس میں عجیب تضاد بیان پایا جاتا ہے ابن خلدون بہت ہی فاش غلطیوں کے مرتکب ہوئے ہیں، پھر استاد شاکر نے ابن خلدون کی بعض غلطیاں نقل کرنے کے بعد تحریر فرمایا: اس(ابن خلدون) نے مہدی (ع) سے متعلق روایات کو اس لئے ضعیف قرار دیا ہے کہ اس پر مخصوص سیاسی فکر غالب تھی، پھر استاد شاکر مزید تحریر کرتے ہیں کہ: ابن خلدون کی یہ فصل اسماء رجال، علل حدیث کی بے شمار غلطیوں سے بھری ہوئی ہے کبھی کوئی بھی اس فصل پر اعتماد نہیں کرسکتا۔”
استاد احمد بن محمد صدیق نے تو ابن خلدون کی رد میں ایک مکمل کتاب تحریر کی ہے جس کا نام ”ابراز الوہم المکنون عن کلام ابن خلدون” ہے۔ اس کتاب میں استاد صدیق نے مہدویت سے متعلق ابن خلدون کی غلطیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کا مکمل جواب دیا ہے اور ابن خلدون کو بدعتی قرار دیا ہے۔
ہر چند علمائے اہل سنت نے اس بے بنیاد بات کا مدلل جواب دیا ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ ظہور مہدی (ع) کا عقیدہ خالص اسلامی عقیدہ ہے اور امت مسلمہ کے نزدیک متفق علیہ اور اجتماعی ہے مگرہم چند باتیں بطور وضاحت پیش کر رہے ہیں :
١۔ شیعوں کا جو بھی عقیدہ یا نظریہ ہے وہ اسلامی عقیدہ و نظریہ ہے، شیعوں کے یہاں اسلامی عقائد و نظریات سے الگ کوئی عقیدہ نہیں پایا جاتا، شیعی عقائد کی بنیاد کتاب خدا اور سنت پیغمبر (ص) ہے اس لئے یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ کوئی عقیدہ شیعی عقیدہ ہو مگر اسلامی عقیدہ نہ ہو۔
٢۔ ظہور مہدی (ع) کا عقیدہ شیعوں سے مخصوص نہیں ہے بلکہ علمائے اہلسنت بھی اس پر متفق ہیں اور یہ خالص اسلامی عقیدہ ہے۔
٣۔ آپ کے نزدیک ”اسلامی عقیدہ” کا معیار کیا ہے؟ اگر قرآن مجید کی آیات کی تفسیر اسی سے ہوتی ہو تو کیا وہ عقیدہ اسلامی عقیدہ نہ ہوگا؟ اگر صحیح، معتبر بلکہ متواتر روایات (جو اہل سنت کی کتب میں بھی موجود ہیں) سے کوئی عقیدہ ثابت ہو جائے تب بھی کیا وہ عقیدہ اسلامی عقیدہ نہ ہوگا؟
اگر صحا بہ و تابعین اور تابعینِ تابعین کسی عقیدہ کے معتقد ہوں تو بھی وہ عقیدہ اسلامی نہیں ہے؟ اگر شواہد اور تاریخی واقعات سے کسی عقیدہ کی تائید ہو جائے اور یہ ثابت ہو جائے کہ یہ عقیدہ ہر دور میں پوری امت مسلمہ کے لئے مسلّم رہا ہے پھر بھی کیا آپ اسے اسلامی عقیدہ تسلیم نہ کریں گے؟
اگر کسی موضوع سے متعلق ابی دائود صاحب سنن جیسا محدث پوری ایک کتاب بنام ”المہدی”، شوکانی جیسا عالم ایک کتاب ”التوضیح” اسی طرح دیگر علماء کتابیں تحریر کریں، بلکہ پہلی صدی ہجری کی کتب میں بھی یہ عقیدہ پایا جاتا ہوتب بھی یہ عقیدہ اسلامی نہ ہوگا؟
پھر آپ ہی فرمائیں اسلامی عقیدہ کا معیار کیا ہے؟ تاکہ ہم آپ کے معیار و میزان کے مطابق جواب دے سکیں، لیکن آپ بخوبی جانتے ہیںکہ آپ ہی نہیںبلکہ تمام مسلمان جانتے ہیں کہ مذکورہ باتوں کے علاوہ اسلامی عقیدہ کا کوئی اور معیار نہیں ہو سکتا اور ان تمام باتوں سے ظہور مہدی (ع) کے عقیدہ کا اسلامی ہونا مسلّم الثبوت ہے چاہے آپ تسلیم کریں یا نہ کریں۔
+ نوشته شده در جمعه هشتم مهر ۱۳۹۰ ساعت 19:11 توسط یدالله عزیزی گلتری | نظر بدهيد
امام زمانہ(ع) زمین والوں کے لئے امان ہیں
امام زمانہ(ع) زمین والوں کے لئے امان ہیں
یہ کلام حضرت امام مھدی عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے اس جواب کا ایک حصہ ھے جس کو امام علیہ السلام نے اسحاق بن یعقوب کے جواب میں لکھا ھے، اسحاق نے اس خط میں امام علیہ السلام سے غیبت کی وجہ کے بارے میں سوال کیا تھا۔ امام علیہ السلام نے غیبت کی علت بیان کرنے کے بعد اس نکتہ کی طرف اشارہ فرمایا کہ غیبت کے زمانہ میں امام کا وجود بے فائدہ نھیں ھے، وجود امام کے فوائد میں سے ایک ادنیٰ فائدہ یہ ھے کہ امام زمین والوں کے لئے باعث امن و امان ھیں، جیسا کہ ستارے آسمان والوں کے لئے امن و سلامتی کا ذریعہ ھوتے ھیں۔ دوسری صحیح روایات میں اسی مضمون کی طرف اشارہ ھوا ھے۔ جیسا کہ اُن روایات میں بیان ھوا ھے: اگر زمین پر حجت (خدا) نہ ھو تو زمین اور اس پر بسنے والے مضطرب اور تباہ و برباد ھوجائیں۔
امام زمانہ علیہ السلام کو اھل زمین کے لئے امن و امان سے اس طرح تشبیہ دینا جس طرح ستارے اھل آسمان کے لئے امن و امان ھوتے ھیں؛ اس سلسلہ میں شباہت کی چند چیزیں پائی جاتی ھیں جن میں سے دو چیزوں کی طرف اشارہ کیا جاتا ھے:
۱۔ جس طرح تخلیقی لحاظ سے ستاروں کا وجود اور ان کو ان کی جگھوں پر رکھنے کی حالت اور کیفیت، تمام کرّات، سیارات اور کھکشاوٴں کے لئے امن و امان اور آرام کا سبب ھے، زمین والوں کے لئے امام زمانہ علیہ السلام کا وجود بھی اسی طرح ھے۔
۲۔ جس طرح ستاروں کے ذریعہ شیاطین آسمانوں سے بھگائے گئے ھیں اور اھل آسمان منجملہ ملائکہ کے امان و آرام کا سامان فراھم ھوا ھے اسی طرح حضرت امام زمانہ علیہ السلام کا وجود، تخلیقی اور تشریعی لحاظ سے اھل زمین سے، مخصوصاً انسانوں سے شیطان کو دور بھگانے کا سبب ھے۔
امام زمانہ(ع) زمین والوں کے لئے امان ھیں
<اِنّی لَاٴَمٰانُ لِاٴَہْلِ الْاٴَرْضِ کَمٰا اَٴنَّ النُّجُومَ اٴَمٰانُ لِاٴَہْلِ السَّمٰاءِ>[1]
”بے شک میں اھل زمین کے لئے امن و سلامتی ھوں، جیسا کہ ستارے آسمان والوں کے لئے امان کا باعث ھیں“۔
شرح
یہ کلام حضرت امام مھدی عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے اس جواب کا ایک حصہ ھے جس کو امام علیہ السلام نے اسحاق بن یعقوب کے جواب میں لکھا ھے، اسحاق نے اس خط میں امام علیہ السلام سے غیبت کی وجہ کے بارے میں سوال کیا تھا۔ امام علیہ السلام نے غیبت کی علت بیان کرنے کے بعد اس نکتہ کی طرف اشارہ فرمایا کہ غیبت کے زمانہ میں امام کا وجود بے فائدہ نھیں ھے، وجود امام کے فوائد میں سے ایک ادنیٰ فائدہ یہ ھے کہ امام زمین والوں کے لئے باعث امن و امان ھیں، جیسا کہ ستارے آسمان والوں کے لئے امن و سلامتی کا ذریعہ ھوتے ھیں۔ دوسری صحیح روایات میں اسی مضمون کی طرف اشارہ ھوا ھے۔ جیسا کہ اُن روایات میں بیان ھوا ھے: اگر زمین پر حجت (خدا) نہ ھو تو زمین اور اس پر بسنے والے مضطرب اور تباہ و برباد ھوجائیں۔
امام زمانہ علیہ السلام کو اھل زمین کے لئے امن و امان سے اس طرح تشبیہ دینا جس طرح ستارے اھل آسمان کے لئے امن و امان ھوتے ھیں؛ اس سلسلہ میں شباہت کی چند چیزیں پائی جاتی ھیں جن میں سے دو چیزوں کی طرف اشارہ کیا جاتا ھے:
۱۔ جس طرح تخلیقی لحاظ سے ستاروں کا وجود اور ان کو ان کی جگھوں پر رکھنے کی حالت اور کیفیت، تمام کرّات، سیارات اور کھکشاوٴں کے لئے امن و امان اور آرام کا سبب ھے، زمین والوں کے لئے امام زمانہ علیہ السلام کا وجود بھی اسی طرح ھے۔
۲۔ جس طرح ستاروں کے ذریعہ شیاطین آسمانوں سے بھگائے گئے ھیں اور اھل آسمان منجملہ ملائکہ کے امان و آرام کا سامان فراھم ھوا ھے اسی طرح حضرت امام زمانہ علیہ السلام کا وجود، تخلیقی اور تشریعی لحاظ سے اھل زمین سے، مخصوصاً انسانوں سے شیطان کو دور بھگانے کا سبب ھے۔
فلسفہٴ امامت اور صفات امام
<اٴَحْییٰ بِہِمْ دینَہُ، َواَٴتَمَّ بِہِمْ نُورَہُ، وَجَعَلَ بَیْنَہُمْ وَبَیْنَ إِخْوٰانِہِمْ وَبَنِي عَمِّہِمْ َوالْاٴَدْنَیْنَ فَالْاٴَدْنَیْنَ مِنْ ذَوي اٴَرْحٰامِہِمْ فُرْقٰاناً بَیِّناً یُعْرَفُ بِہِ الْحُجَّةُ مَنِ الْمَحْجُوجِ، وَالاِْمٰامُ مِنَ الْمَاٴمُومِ، بِاٴَنْ عَصَمَہُمْ مِنَ الذُّنُوبِ، وَ بَرَّاٴَہُمْ مِنَ الْعُیُوبِ، وَ طَہَّرَہُمْ مِنَ الدَّنَسِ، َونَزَّہَہُمْ مِنَ اللَّبْسِ، وَجَعَلَہُمْ خُزّٰانَ عِلْمِہِ، وَ مُسْتَوْدَعَ حِکْمَتِہِ، وَمَوْضِعَ سِرِّہِ، وَ اٴَیَّدَہُمْ بِالدَّلاٰئِلِ، وَلَوْلاٰ ذٰلِکَ لَکٰانَ النّٰاسُ عَلیٰ سَوٰاءٍ، وَ لَاِدَّعیٰ اٴَمْرَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ کُلُّ اٴَحَدٍ، وَ لَمٰا عُرِفَ الْحَقُ مِنَ الْبٰاطِلِ، وَ لاٰ الْعٰالِمُ مِنَ الْجٰاہِلِ۔>[2]
”اوصیائے (الٰھی) وہ افراد ھیں جن کے ذریعہ خداوندعالم اپنے دین کو زندہ رکھتا ھے، ان کے ذریعہ اپنے نور کو مکمل طور پر نشر کرتا ھے، خداوندعالم نے ان کے اور ان کے (حقیقی) بھائیوں، چچا زاد (بھائیوں) اور دیگر رشتہ داروں کے درمیان واضح فرق رکھا ھے کہ جس کے ذریعہ حجت اور غیر حجت نیز امام اور ماموم کے درمیان پہچان ھوجائے۔ اور وہ واضح فرق یہ ھے کہ اوصیائے الٰھی کو خداوندعالم گناھوں سے محفوظ رکھتا ھے اور ان کو ھر عیب سے منزہ، برائیوں سے پاک اور خطاؤں سے دور رکھتا ھے، خداوندعالم نے ان کو علم و حکمت کا خزانہ دار اور اپنے اسرار کا رازدار قرار دیا ھے اور دلیلوں کے ذریعہ ان کی تائید کرتا ھے۔ اگر یہ نہ ھوتے تو پھر تمام لوگ ایک جیسے ھوجاتے، اور کوئی بھی امامت کا دعویٰ کر بیٹھتا، اس صورت میں حق و باطل اور عالم و جاھل میں تمیز نہ ھوپاتی“۔
شرح:
یہ کلمات امام مھدی علیہ السلام نے احمد بن اسحاق کے خط کے جواب میں تحریر کئے ھیں، امام علیہ السلام چند نکات کی طرف اشارہ کرنے کے بعد امام اور امامت کی حقیقت اور شان کو بیان کرتے ھوئے امام کی چند خصوصیات بیان فرماتے ھیں، تاکہ ان کے ذریعہ حقیقی امام اور امامت کا جھوٹا دعویٰ کرنے والوں کے درمیان تمیز ھوسکے:
۱۔ امام کے ذریعہ خدا کا دین زندہ ھوتا ھے؛ کیونکہ امام ھی اختلافات، فتنوں اور شبھات کے موقع پر حق کو باطل سے الگ کرتا ھے اور لوگوں کو حقیقی دین کی طرف ھدایت کرتا ھے۔
۲۔ نور خدا جو رسول خدا (ص)سے شروع ھوتا ھے، امام کے ذریعہ تمام اور کامل ھوتا ھے۔
۳۔ خداوندعالم نے پیغمبر اکرم (ص)کی ذرّیت میں امام کی پہچان کے لئے کچھ خاص صفات معین کئے ھیں، تاکہ لوگ امامت کے سلسلہ میں غلط فھمی کا شکار نہ ھوں، مخصوصاً اس موقع پر جب ذرّیت رسول کے بعض افراد امامت کا جھوٹا دعویٰ کریں۔ ان میں سے بعض خصوصیات کچھ اس طرح ھیں: گناھوں کے مقابلہ میں عصمت، عیوب سے پاکیزگی، برائیوں سے مبرّااور خطا و لغزش سے پاکیزگی وغیرہ، اگر یہ خصوصیات نہ ھوتے تو پھر ھرکس و ناکس امامت کا دعویٰ کردیتا، اور پھر حق و باطل میں کوئی فرق نہ ھوتا، جس کے نتیجہ میں دین الٰھی پوری دنیا پر حاکم نہ ھوتا۔
فلسفہٴ امامت
<اٴَوَ مٰا رَاٴَیْتُمْ کَیْفَ جَعَلَ اللهُ لَکُمْ مَعٰاقِلَ تَاٴوُونَ إِلَیْہٰا، وَ اٴَعْلاٰماً تَہْتَدُونَ بِہٰا مِنْ لَدُنْ آدَمَ (علیہ السلام)۔>[3]
”کیا تم نے نھیںدیکھا کہ خداوندعالم نے کس طرح تمھارے لئے پناہ گاھیں قرار دی ھیں تاکہ ان میں پناہ حاصل کرو، اور ایسی نشانیاں قرار دی ھیں جن کے ذریعہ ھدایت حاصل کرو، حضرت آدم علیہ السلام کے زمانہ سے آج تک“۔
شرح
یہ تحریر اس توقیع [4] کا ایک حصہ ھے جس کو ابن ابی غانم قزوینی اور بعض شیعوں کے درمیان ھونے والے اختلاف کی وجہ سے امام علیہ السلام نے تحریر فرمایا ھے، ابن ابی غانم کا عقیدہ یہ تھا کہ حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام نے کسی کو اپنا جانشین مقرر نھیں کیاھے، اور سلسلہٴ امامت آپ ھی پر ختم ھوگیا ھے۔ شیعوں کی ایک جماعت نے حضرت امام مھدی علیہ السلام کو خط لکھا جس میں واقعہ کی تفصیل لکھی، جس کے جواب میں حضرت امام زمانہ علیہ السلام کی طرف سے ایک خط آیا، مذکورہ حدیث اسی خط کا ایک حصہ ھے۔
امام زمانہ علیہ السلام امامت، وصایت اور جانشینی میں شک و تردید سے دوری کرنے کے سلسلہ میں بہت زیادہ سفارش کرنے کے بعد فرماتے ھیں: وصایت کا سلسلہ ھمیشہ تاریخ کے مسلم اصول میں رھا ھے، اور جب تک انسان موجود ھے زمین حجت الٰھی سے خالی نھیں ھوگی، امام علیہ السلام نے مزید فرمایا:
”تاریخ کو دیکھو! کیا تم نے کسی ایسے زمانہ کو دیکھا ھے جو حجت خدا سے خالی ھو، اور اب تم اس سلسلہ میں اختلاف کرتے ھو“؟!
امام علیہ السلام نے حدیث کے اس سلسلہ میں امامت کے دو فائدے شمار کئے ھیں:
۱۔ امام، مشکلات اور پریشانیوں کے عالم میں ملجا و ماویٰ اور پناہ گاہ ھوتا ھے۔
۲۔ امام،لوگوں کو دین خدا کی طرف ھدایت کرتا ھے۔
کیونکہ امام معصوم علیہ السلام نہ صرف یہ کہ لوگوں کو دین اور شریعت الٰھی کی طرف ھدایت کرتے ھیں بلکہ مادّی اور دنیوی مسائل میں ان کی مختلف پریشانیوں کو بھی دور کرتے ھیں۔
علم امام کی قسمیں
<عِلْمُنٰا عَلیٰ ثَلاٰثَہِ اٴَوْجُہٍ: مٰاضٍ وَغٰابِرٍ وَحٰادِثٍ، اٴَمَّا الْمٰاضِي فَتَفْسیرٌ، وَ اٴَمَّا الْغٰابِرُ فَموْ قُوفٌ، وَ اٴَمَّا الْحٰادِثُفَقَذْفٌ في الْقُلُوبِ، وَ نَقْرُ في الْاٴَسْمٰاعِ، وَہُوَ اٴَفْضَلُ عِلْمِنٰا، وَ لاٰ نَبيَّ بَعْدَ نَبِیِّنٰا>[5]
”ھم (اھل بیت) کے علم کی تین قسمیں ھوتی ھیں: گزشتہ کا علم، آئندہ کا علم اور حادث کا علم۔ گزشتہ کا علم تفسیر ھوتا ھے، آئندہ کا علم موقوف ھوتا ھے اور حادث کا علم دلوں میں بھرا جاتا اور کانوں میں زمزمہ ھوتا ھے۔ علم کا یہ حصہ ھمارا بہترین علم ھے اور ھمارے پیغمبر (ص)کے بعد کوئی دوسرا رسول نھیں آئے گا“۔
شرح
یہ الفاظ امام زمانہ علیہ السلام کے اس جواب کا ایک حصہ ھیں جس میں علی بن محمد سمری (علیہ الرحمہ) نے علم امام کے متعلق سوال کیا تھا۔
علامہ مجلسی علیہ الرحمہ کتاب ”مرآة العقول“ میں ان تینوں علم کے سلسلہ میں فرماتے ھیں:
”علم ماضی سے وہ علم مراد ھے جس کو پیغمبر اکرم (ص)نے اپنے اھل بیت علیھم السلام سے بیان کیا ھے؛ نیز یہ علم ان علوم پر مشتملھے جو گزشتہ انبیاء علیھم السلام اور گزشتہ امتوں کے واقعات کے بارے میں ھیں اور جو حوادثات ان کے لئے پیش آئے ھیں اور کائنات کی خلقت کی ابتداء اور گزشتہ چیزوں کی شروعات کے بارے میں ھیں۔
علم ”غابر“ سے مراد آئندہ پیش آنے والے واقعات ھیں؛ کیونکہ غابر کے معنی ”باقی“ کے ھیں، غابر سے مراد وہ یقینی خبریں ھیں جو کائنات کے مستقبل سے متعلق ھیں، اسی وجہ سے امام علیہ السلام نے اس کو ”موقوفہ“ کے عنوان سے یاد کیا ھے جو علوم کائنات کے مستقبل سے تعلق رکھتے ھیں وہ اھل بیت علیھم السلام سے مخصوص ھیں، موقوف یعنی ”مخصوص“۔
”علم حادث“ سے مراد وہ علم ھے جو موجودات اور حالات کے ساتھ ساتھ بدلتا رہتا ھے، یا مجمل چیزوں کی تفصیل مراد ھے۔۔۔ ”قَذْفُ في الْقُلُوبِ“، سے خداوندعالم کی طرف سے عطا ھونے والا وہ الھام مراد ھے جو کسی فرشتہ کے بغیر حاصل ھوا ھو۔
”نَقْرُ في الْاٴَسْمٰاعِ“، سے وہ الٰھی الھام مراد ھے جو کسی فرشتہ کے ذریعہ حاصل ھوا ھو۔
تیسری قسم کی افضلیت کی دلیل یہ ھے کہ الھام (چاھے بالواسطہ ھو یا بلا واسطہ) اھل بیت علیھم السلام سے مخصوص ھے۔
الٰھی الھام کی دعا کے بعد ممکن ھے کوئی انسان (ائمہ علیھم السلام کے بارے میں) نبی ھونے کا گمان کرے، اسی وجہ سے امام زمانہ علیہ السلام نے آخر میں اس نکتہ کی طرف اشارہ فرمایا ھے کہ پیغمبر اکرم(ص) کے بعد کوئی پیغمبر نھیں آئے گا“۔[6]
ماخذ
[1] کمال الدین، ج ۲، ص ۴۸۵، ح ۱۰؛ الغیبة، شیخ طوسی، ص۲۹۲، ح۲۴۷؛ احتجاج، ج۲، ص۲۸۴؛ اعلام الوری، ج۲، ص۲۷۲، کشف الغمة، ج ۳، ص ۳۴۰، الخرائج والجرائح، ج ۳، ص ۱۱۱۵، بحار الانوار، ج ۵۳، ص ۱۸۱، ح ۱۰۔
[2] الغیبة، طوسی، ص ۲۸۸، ح ۲۴۶، احتجاج، ج ۲، ص ۲۸۰، بحار الانوار، ج ۵۳، ص ۱۹۴۔۱۹۵، ح ۲۱۔
[3] الغیبة، شیخ طوسی، ص ۲۸۶، ح ۲۴۵، احتجاج، ج ۲، ص ۲۷۸، بحار الانوار، ج ۵۳، ص ۱۷۹، ح ۹۔
[4] توقیع ، امام زمانہ علیہ السلام کے اس خط کو کھا جاتا ھے جس کو آپ نے کسی کے جواب میں بقلم خود تحریر کیا ھو۔(مترجم)
[5] دلائل الامامة، ص ۵۲۴، ح ۴۹۵، مدینة المعاجز، ج ۸، ص ۱۰۵، ح ۲۷۲۰۔
[6] دیکھئے: مرآة العقول، ج۳، ص ۱۳۶ تا۱۳۷۔
+ نوشته شده در جمعه هشتم مهر ۱۳۹۰ ساعت 19:10 توسط یدالله عزیزی گلتری | نظر بدهيد
امام زمانہ (علیہ السلام) کے انتظار کی خصوصیات
امام زمانہ (علیہ السلام) کے انتظار کی خصوصیات
جیسا کہ ھم نے عرض کیا کہ ”انتظار“ انسانی فطرت میں شامل ھے اور ھر قوم و ملت اور ھر دین و مذھب میں انتظار کا تصور پایا جاتا ھے، لیکن انسان کی ذاتی اور اجتماعی زندگی میں پایا جانے والا عام انتظار اگرچہ عظیم اور با اھمیت ھو لیکن امام مھدی علیہ السلام کے انتظار کے مقابلہ میں چھوٹا اور نا چیز ھے کیونکہ آپ کے ظھور کا انتظار درج ذیل خاص امتیازات رکھتا ھے:
امام زمانہ علیہ السلام کے ظھور کا انتظار ایک ایسا انتظار ھے جو کائنات کی ابتداء سے موجود تھا یعنی بھت قدیم زمانہ میں انبیاء علیھم السلام اور اولیائے کرام آپ کے ظھور کی بشارت دیتے تھے اور ھمارے تمام ائمہ (علیھم السلام) قریبی زمانہ میں آپ کی حکومت کے زمانہ کی آرزو رکھتے تھے۔
حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ھیں:
”اگر میں ان (امام مھدی علیہ السلام) کے زمانہ میں ھوتا تو تمام عمر ان کی خدمت کرتا“۔([1])
امام مھدی علیہ السلام کا انتظار ایک عالمی اصلاح کرنے والے کا ا نتظار ھے، عالمی عادل حکومت کا انتظار ھے اور تمام ھی اچھائیوں کے ظاھر ھونے کا انتظار ھے، چنانچہ اسی انتظار میں عالم بشریت آنکھیں بچھائے ھوئے ھے اور پاک و پاکیزہ قدرتی فطرت کی بنیاد پر اس کی تمنا کرتا ھے اور کسی بھی زمانہ میں مکمل طور پر اس تک نھیں پہنچ سکا ھے، و حضرت امام مھدی علیہ السلام اسی شخصیت کا نام ھے جو عدالت اور معنویت، برادری اور برابری، زمین کی آبادی ، صلح و صفا ، عقل کی شکوفائی اور انسانی علوم کی ترقی کو تحفہ میں لائیں گے، اور استعمار و غلامی ، ظلم و ستم اور تمام برائیوں کا خاتمہ کرنا آپ کی حکومت کا ثمرہ ھوگا۔
امام مھدی (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف) کا انتظار ایسا انتظار ھے جس کے شکوفائی کا راستہ فراھم ھونے سے خود انتظار بھی شگوفہ ھوجائے گا، اور وہ ایسا زمانہ ھوگا کہ جب تمام انسان آخر الزمان میں اصلاح کرنے والے اور نجات بخشنے والے کی تلاش میں ھوں گے، وہ آئیں گے تاکہ اپنے ناصر و مددگاروں کے ساتھ برائیوں کے خلاف قیام کریں گے نہ یہ کہ صرف اپنے معجزہ سے پوری کائنات کے نظام کو بدل دیں گے۔
امام مھدی علیہ السلام کا انتظار ان کے منتظرین میں ان کی نصرت و مدد کا شوق پیدا کرتا ھے اور انسان کو حیثیت اور حیات عطا کرتا ھے، نیز اس کو بے مقصد سرگرمی اور گمراھی سے نجات دیتا ھے۔
قارئین کرام! یہ تھیں اس انتظار کی بعض خصوصیات جو تمام تاریخ کی وسعت کے برابر ھیں اور ھر انسان کی روح میں اس کی جڑیں موجود ھیں، اور کوئی دوسرا انتظار اس عظیم انتظار کی خاک پا بھی نھیں ھوسکتا، لہٰذا مناسب ھے کہ امام مھدی علیہ السلام کے انتظار کے مختلف پھلوؤں اور اس کے آثار و فوائد کو پہچانیں اور آپ کے ظھور کے منتظرین کی ذمہ داریاں اور اس کے بے نظیر ثواب کے بارے میں گفتگو کریں۔
انتظار کے پھلو
خود انسان میں مختلف پھلو پائے جاتے ھیں: ایک طرف تو نظری (تھیوری) اور عملی (پریکٹیکل) پھلو اس میں موجود ھے اور دوسری طرف اس میں ذاتی اور اجتماعی پھلو بھی پایا جاتا ھے، اور ایک دوسرے رخ سے جسمانی پھلو کے ساتھ روحی اور نفسیاتی پھلو بھی اس میں موجود ھے، جبکہ اس بات میں کوئی شک نھیں ھے کہ مذکورہ پھلوؤں کے لئے مخصوص قوانین کی ضرورت ھے، تاکہ ان کے تحت انسان کے لئے زندگی کا صحیح راستہ کھل جائے، اور منحرف اور گمراہ کن راستہ بند ھوجائے۔
امام مھدی (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف) کے ظھور کا انتظار، منتظر کے تمام پھلوؤں پر موثر ھے، انسان کے فکری اور نظری پھلو جو انسان کے اعمال و کردار کا بنیادی پھلو ھے ، انسانی زندگی کے بنیادی عقائد پر اپنے حصار کے ذریعہ حفاظت کرتا ھے۔ دوسرے الفاظ میں یوں عرض کیا جائے کہ صحیح انتظار اس بات کا تقاضا کرتا ھے کہ منتظر اپنی اعتقادی اور فکری بنیادوں کو مضبوط کرے تاکہ گمراہ کرنے والے مذاھب کے جال میں نہ پھنس جائے یا امام مھدی علیہ السلام کی طولانی غیبت کی وجہ سے یاس و ناامیدی کے دلدل میں نہ پھنس جائے۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ھیں:
”لوگوں پر ایک زمانہ وہ آئے گا کہ جب ان کا امام غائب ھوگا، خوش نصیب ھے وہ شخص جو اس زمانہ میں ھمارے امر (یعنی ولایت) پر ثابت قدم رھے“۔([2])
یعنی غیبت کے زمانہ میں دشمن نے مختلف شبھات کے ذریعہ یہ کوشش کی ھے کہ شیعوں کے صحیح عقائد کو ختم کردیا جائے، لیکن ھمیں انتظار کے زمانہ میں اپنے عقائد کی حفاظت کرنا چاہئے۔
انتظار ، عملی پھلو میں انسان کے اعمال اور کردار کو راستہ دیتا ھے، ایک حقیقی منتظر کو عملی میدان میں کوشش کرنا چاہئے کہ امام مھدی علیہ السلام کی حکومت حق کا راستہ فراھم ھوجائے، لہٰذا منتظر کو اس سلسلہ میں اپنی اور معاشرہ کی اصلاح کے لئے کمرِ ھمت باندھنا چاہئے، نیز اپنی ذاتی زندگی میں اپنی روحی اور نفسیاتی حیات اور اخلاقی فضائل کو کسب کرنے کی طرف مائل ھو اور اپنے جسم و بدن کو مضبوط کرے تاکہ ایک کار آمد طاقت کے لحاظ سے نورانی مورچہ کے لئے تیار رھے۔
حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ھیں:
”جو شخص امام قائم علیہ السلام کے ناصر و مددگار میں شامل ھونا چاھتا ھے اسے انتظار کرنا چاہئے اور انتظار کی حالت میں تقویٰ و پرھیزگاری کا راستہ اپنانا چاہئے اور نیک اخلاق سے مزین ھونا چاہئے“۔([3])
اس ”انتظار“ کی خصوصیت یہ ھے کہ یہ انسان کو اپنی ذات سے بلند کرتا ھے اور اس کو معاشرہ کے ھر شخص سے جوڑ دیتا ھے، یعنی انتظار نہ صرف انسان کی ذاتی زندگی میں موٴثر ھوتا ھے بلکھ معاشرہ میں انسان کے لئے مخصوص منصوبہ بھی پیش کرتا ھے اور معاشرہ میں مثبت قدم اٹھانے کی رغبت بھی دلاتا ھے، اور چونکہ حضرت امام مھدی علیہ السلام کی حکومت اجتماعی حیثیت رکھتی ھے، لہٰذا ھر انسان اپنے لحاظ سے معاشرہ کی اصلاح کے لئے کوشش کرے اور معاشرہ میں پھیلی برائیوں کے سامنے خاموش اور بے توجہ نہ رھے، کیونکہ عالمی اصلاح کرنے والے کے منتظر کو فکر و عمل کے لحاظ سے اصلاح اور خیر کے راستہ کو اپنانا چاہئے۔
مختصر یہ ھے کہ ”انتظار“ ایک ایسا مبارک چشمہ ھے جس کا آب حیات انسان اور معاشرہ کی رگوں میں جاری ھے، اور زندگی کے تمام پھلوؤں میں انسان کو الٰھی رنگ اور حیات عطا کرتا ھے، اور خدائی رنگ سے بھتر اور ھمیشگی رنگ اور کونسا ھوسکتا ھے؟!
قرآن کریم میں ارشاد ھوتا ھے:
<صِبْغَةَ اللهِ وَمَنْ اٴَحْسَنُ مِنْ اللهِ صِبْغَةً وَنَحْنُ لَہُ عَابِدُونَ >([4])
”رنگ تو صرف اللہ کا رنگ ھے اور اس سے بھتر کس کا رنگ ھوسکتا ھے اور ھم سب اسی کے عبادت گزار ھیں “۔
مذکورہ مطالب کے پیش نظر “مصلح کل” حضرت امام زمانہ علیہ السلام کے منتظرین کی ذمّہ داری ”الٰھی رنگ اپنانے“ کے علاوہ کچھ نھیں ھے جو انتظار کی برکت سے انسان کی ذاتی اور اجتماعی زندگی کے مختلف پھلوؤں میں جلوہ گر ھوتا ھے، جس کے پیش نظر ھماری وہ ذمّہ داریاں ھمارے لئے مشکل نھیں ھوں گی، بلکہ ایک خوشگوار واقعہ کے عنوان سے ھماری زندگی کے ھر پھلو میں ایک بھترین معنی و مفھوم عطا کرے گی۔ واقعاً اگر ملک کا مھربان حاکم اور محبوب امیر قافلہ ھمیں ایک شائستہ سپاھی کے لحاظ سے ایمان کے خیمہ میں بلائے اور حق و حقیقت کے مورچہ پر ھمارے آنے کا انتظار کرے تو پھر ھمیں کیسا لگے گا؟ کیا پھر ھمیں اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے میں کوئی پریشانی ھوگی کہ یہ کام کرو اور ایسا بنو، یا ھم خود چونکہ انتظار کے راستہ کو پہچان کر اپنے منتخب مقصد کی طرف قدم بڑھاتے ھوئے نظر آئیں گے؟!
منتظرین کی ذمّہ داریاں
دینی رھبروں کے ذریعہ احادیث اور روایات میں ظھور کا انتظار کرنے والوں کی بھت سی ذمّہ داریاں بیان ھوئی ھیں، ھم یھاں پر ان میں سے چند اھم ذمّہ داریاں کو بیان کرتے ھیں۔
امام کی پہچان
امام علیہ السلام کی شناخت اور پہچان کے بغیر راہ انتظار کو طے کرنا ممکن نھیں ھے، انتظار کی وادی میں صبر و استقامت کرنا امام علیہ السلام کی صحیح شناخت سے وابستہ ھے، لہٰذا امام مھدی علیہ السلام کے اسم گرامی اور نسب کی شناخت کے علاوہ ان کی عظمت اور ان کے رتبہ و مقام کی کافی مقدار میں شناخت بھی ضروری ھے۔
”ابو نصر“ امام حسن عسکری علیہ السلام کےخادم،امام مھدی علیہ السلام کی غیبت سے پھلے امام عسکری علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ھوئے، امام مھدی (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف) نے ان سے سوال کیا: کیا مجھے پہچانتے ھو؟ انھوں نے جواب دیا: جی ھاں، آپ میرے مولا و آقا اور میرے مولا و آقا کے فرزند ھیں! امام علیہ السلام نے فرمایا: میرا مقصد ایسی پہچان نھیں ھے!؟ ابو نصر نے عرض کی: آپ ھی فرمائیں کہ آپ کا مقصد کیا تھا۔
امام علیہ السلام نے فرمایا:
”میں پیغمبر اسلام (ص) کا آخری جانشین ھوں، اور خداوندعالم میری (برکت کی) وجہ سے ھمارے خاندان اور ھمارے شیعوں سے بلاؤں کو دور فرماتا ھے“۔([5])
اگر منتظر کو امام علیہ السلام کی معرفت حاصل ھوجائے تو پھر وہ اسی وقت سے اپنے کو امام علیہ السلام کے مورچہ پر دیکھے گا اور احساس کرے گا کہ امام علیہ السلام اور ان کے خیمہ کے نزدیک ھے، لہٰذا اپنے امام کے مورچہ کو مضبوط بنانے میں پَل بھر کے لئے کوتاھی نھیں کرے گا۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ھیں:
” مَنْ مَاتَ وَ ہُوَ عَارِفٌ لِاِمَامِہِ لَمْ َیضُرُّہُ، تَقَدَّمَ ہَذَا الاٴمْرِ اٴوْ تَاٴخَّرَ، وَ مَنْ مَاتَ وَ ہُوَ عَارِفٌ لِاِمَامِہِ کَانَ کَمَنْ ہُوَ مَعَ القَائِمِ فِی فُسْطَاطِہِ“([6])
”جو شخص اس حال میں مرے کہ اپنے امام زمانہ کو پہچانتا ھو تو ظھور کا جلد یا تاخیر سے ھونا کوئی نقصان نھیں پھونچاتا، اور جو شخص اس حال میں مرے کہ اپنے امام زمانہ کو پہچانتا ھو تو وہ اس شخص کی طرح ھے جو امام کے خیمہ اور اور امام کے ساتھ ھو“۔
قابل ذکر ھے کہ یہ معرفت اور شناخت اتنی اھم ھے کہ معصومین علیھم السلام کے کلام میں بیان ھوئی ھے اور جس کو حاصل کرنے کے لئے خداوندعالم سے مدد طلب کرنا چاہئے۔
حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:
”حضرت امام مھدی علیہ السلام کی طولانی غیبت کے زمانہ میں باطل خیال کے لوگ (اپنے دین اور عقائد میں) شک و شبہ میں مبتلا ھوجائیں گے، امام علیہ السلام کے خاص شاگرد جناب زرارہ نے کھا: آقا اگر میں وہ زمانہ پائوں تو کونسا عمل انجام دوں؟
امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: اس دعا کو پڑھو:
”اَللّٰہُمَّ عَرِّفْنِی نَفْسَکَ فَإنَّکَ إنْ لَمْ تُعَرِّفْنِی نَفْسَکَ لَمْ اٴعْرِفْ نَبِیَّکَ، اَللّٰہُمَّ عَرِّفْنِی رَسُولَکَ فَإنَّکَ إنْ لَمْ تُعَرِّفْنِی رَسُولَکَ لَمْ اٴعْرِفْ حُجَّتَکَ، اَللّٰہُمَّ عَرِّفْنِی حُجَّتَکَ فَإنَّکَ إنْ لَمْ تُعَرِّفْنِی حُجَّتَکَ ضَلَلْتُ عَنْ دِیْنِی“([7])
”پرودگارا! مجھے تو اپنی ذات کی معرفت کرادے اور اگر تو نے مجھے اپنی ذات کی معرفت نہ کرائی تو میں تیرے نبی کو نھیں پہچان سکتا، پرودگارا! تو مجھے اپنے رسول کی معرفت کرادے اور اگر تو نے اپنے رسول کی پہچان نہ کرائی تو میں تیری حجت کو نھیں پہچان سکوں گا، پروردگارا! تو مجھے اپنی حجت کی معرفت کرادے اور اگر تو نے مجھے اپنی حجت کی پہچان نہ کرائی تو میں اپنے دین سے گمراہ ھوجاؤں گا“۔
قارئین کرام! مذکورہ دعا میں نظام کائنات کے مجموعہ میں امام علیہ السلام کی عظمت کی معرفت بیان ھوئی ھے([8]) اور وہ خداوندعالم کی طرف سے حجت اور پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کا حقیقی جانشین اور تمام لوگوں کا ھادی و رھبر ھے جس کی اطاعت سب پر واجب ھے، کیونکہ اس کی اطاعت خداوندعالم کی اطاعت ھے۔
معرفت امام کا دوسرا پھلو امام علیہ السلام کے صفات اور ان کی سیرت کی پہچان ھے([9]) معرفت کا یہ پھلو انتظار کرنے والے کی رفتار و گفتار پر بھت زیادہ موثر ھوتا ھے، اور ظاھر سی بات ھے کہ انسان کو امام علیہ السلام کی جتنی معرفت ھوگی اس کی زندگی میں اتنے ھی آثار پیدا ھوں گے۔
نمونہ عمل
جس وقت امام علیہ السلام کی معرفت اور ان کے خوشنماجلوے ھماری نظروں کے سامنے ھوں گے تو اس مظھر کمالات کو نمونہ قرار دینے کی بات آئے گی۔
پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) فرماتے ھیں:
”خوش نصیب ھیں وہ لوگ جو میری نسل کے قائم کو اس حال میں دیکھیں کہ اس کے قیام سے پھلے خود اس کی اور اس سے پھلے ائمہ کی اقتداء کرتے ھوں اور ان کے دشمنوں سے بیزاری کا اعلان کرتے ھوں، ایسے افراد میرے دوست اور میرے ساتھی ھیں، اور یھی لوگ میرے نزدیک میری امت کے سب سے عظیم افراد ھیں“۔([10])
واقعاً جو شخص تقویٰ، عبادت، سادگی، سخاوت، صبر اور تمام اخلاقی فضائل میں اپنے امام کی پیروی کرے تو ایسے شخص کا رتبہ اس الٰھی رھبر کے نزدیک کس قدر زیادہ ھوگا اور ان کے حضور میں شرفیابی سے کس قدر سرفراز اور سربلند ھوگا؟!
کیا اس کے علاوہ ھے کہ جو شخص دنیا کے سب سے خوبصورت منظر کا منتظر ھے وہ اپنے کو خوبیوں سے آراستہ کرے اور خود کو برائیوں سے دور رکھے نیز انتظار کے لمحات میں اپنے افکار و اعمال کی حفاظت کرتا رھے؟! ورنہ آہستہ آہستہ برائیوں کے جال میں پھنس جائے گا اور پھر اس کے اور امام کے درمیان فاصلہ زیادہ ھوتا جائے گا، یہ ایک ایسی حقیقت ھے جو خود خطرات سے آگاہ کرنے والے امام علیہ السلام کے کلام میں بیان ھوئی ھے:
”فَمَا یَحْبِسُنَا عَنْہُمْ إلاَّ مَا یَتَّصِلُ بِنَا مِمَّا نُکْرِہُہُ وَ لاٰ نُوٴثِرُہُ مِنْہُم“([11])
”کوئی بھی چیز ھمیں اپنے شیعوں سے جدا نھیں کرتی، مگر خود ان کے وہ (برے) اعمال جو ھمارے پاس پہنچتے ھیں جن اعمال کو ھم پسند نھیں کرتے اور شیعوں سے ان کی امید بھی نھیں ھے!“۔
منتظرین کی آخری آرزو یہ ھے کہ امام مھدی علیہ السلام کی عالمی عدل کی حکومت میں کچھ حصہ ان کا بھی ھو، اور اس آخری حجت خدا کی نصرت و مدد کا افتخار ان کو بھی حاصل ھو، لیکن اس عظیم سعادت کو حاصل کرنا خود سازی اور اخلاقی صفات سے آراستہ ھوئے بغیر ممکن نھیں ھے۔
حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ھیں:
”مَنْ سَرَّہُ اٴنْ یَکُوْنَ مِنْ اٴصْحَابِ الْقَائِمِ فَلْیَنْتَظِرْ وَ لِیَعْمَلْ بِالْوَرَعِ وَ مَحَاسِنِ الاٴخْلاَقِ وَ ہُوَ مُنْتَظِر“([12])
”جو شخص یہ چاھتا ھو کہ حضرت قائم علیہ السلام کے ناصروں میں شامل ھو تو اسے اس حال میں منتظر رہنا چاہئے کہ تقویٰ اور پرھیزگاری اور اخلاق حسنہ سے آراستہ رھے“۔
یہ بات روشن ھے کہ ایسی آرزو تک پہنچنے کے لئے خود امام مھدی علیہ السلام سے بھتر کوئی نمونہ نھیں مل سکتا جو تمام ھی نیکی اور خوبیوں کا آئینہ ھے۔
______________________________ __________
[1] غیبت نعمانی، باب ۱۳، ح۴۶، ص ۲۵۲۔
[2] کمال الدین، ج۱، ح ۱۵، ص ۶۰۲۔
[3] غیبت نعمانی، باب ۱، ح۱۶، ص ۲۰۰۔
[4] سورہ بقرہ، آیت ۱۳۸۔
[5] کمال الدین، ج۲، باب ۴۳، ح۱۲، ص ۱۷۱۔
[6] اصول کافی، ج۱، باب ۸۴، ح ۵، ص ۴۳۳۔
[7] غیبت نعمانی، باب ۱۰، فصل ۳، ح۶، ص ۱۷۰۔
[8] اس سلسلہ میں کتاب کی پھلی فصل میں بعض مطالب بیان ھوئے ھیں، دوبارہ مطالعہ فرمائیں۔
[9] ھم امام مھدی علیہ السلام کی سیرت اور صفات کے بارے میں آنے والی فصل میں گفتگو ھوگی۔
[10] کمال الدین، ج۱، باب ۲۵، ح۳، ص ۵۳۵۔
[11] بحار الانور، جلد ۵۳، ص ۱۷۷۔
[12] غیبت نعمانی، باب ۱۱، ح۱۶، ص ۲۰۷۔
+ نوشته شده در جمعه هشتم مهر ۱۳۹۰ ساعت 19:10 توسط یدالله عزیزی گلتری | نظر بدهيد
حضرت امام محمد مھدی علیہ السلام
حضرت امام محمد مھدی علیہ السلام
امام زمانہ حضرت امام مہدی علیہ السلام سلسلہ عصمت محمدیہ کی چودھوےںاورسلک امامت علویہ کی بارھوےں کڑی ہیں آپ کے والد ماجد حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام اور والدہ ماجدہ جناب نرجس( ۱) خاتون تھےں۔
آپ اپنے آباوٴاجدادکی طرح امام منصوص ،معصوم ،اعلم زمانہ اورافضل کا ئنات ہیں ۔آپ بچپن ہی میں علم وحکمت سے بھرپور تھے۔ (صواعق محرقہ ۲۴۱# ) آپ کو پانچ سال کی عمرمیں وےسی ہی حکمت دے دی گئی تھی ،جےسی حضرت ےحےی کو ملی تھی اورآپ بطن مادرمیں اسی طرح امام قراردئےے گئے تھے،جس طرح حضرت عیسی علیہ السلام نبی قرارپائے تھے۔(کشف الغمہ ص ۱۳۰ ) آپ انبیاء سے بہترہیں ۔(اسعاف الراغبےن ص ۱۲۸)
آپ کے متعلق حضرت رسول کرےم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بے شمار پےشےن گوئیاں فرمائی ہیں اوراس کی وضاحت کی ہے کہ آپ حضورکی عترت اورحضرت فاطمةالزہرا کی اولاد سے ہوں گے۔ ملاحظہ ہوجامع صغےرسیوطی ص ۱۶۰ طبع مصرومسند احمدبن حنبل جلد ۱ ص ۸۴ طبع مصروکنوزالحقائق ص ۱۲۲ ومستدرک جلد ۴ ص ۵۲۰ ومشکوة شرےف )
آپ نے یہ بھی فرمایاہے کہ امام مہدی کا ظہورآخرزمانہ میں ہوگا ۔اورحضرت عیسی ان کے پےچھے نماز پڑھےں گے ۔ملاحظہ ہو صحیح بخاری پ ۱۴ ص ۳۹۹ وصحیح مسلم جلد ۲ ص ۹۵ صحیح ترمذی ص ۲۷۰ وصحیح ابوداؤد جلد ۲ ص ۲۱۰ وصحیح ابن ماجہ ص ۳۴ وص ۳۰۹ وجامع صغےرص ۱۳۴ وکنوزالحقائق ص ۹۰)
آپ نے یہ بھی کہاہے کہ امام مہدی میرے خلےفہ کی حیثیت سے ظہورکریں گے اور ےختم الدےن بہ کما فتح بنا جس طرح میرے ذرےعہ سے دےن اسلام کا آغاز ہوا ۔ اسی طرح ان کے ذرےعہ سے مہراختتام لگادی جائےگی ۔ ملاحظہ ہوکنوزالحقائق ص ۲۰۹ آپ نے اس کی بھی وضاحت فرمائی ہے کہ امام مہدی کا اصل نام میرے نام کی طرح محمد اورکنےت مےری کنےت کی طرح ابوالقاسم ہوگی وہ جب ظہورکریں گے توساری دنیاکو عدل وانصاف سے اسی طرح پرکردیں گے جس طرح وہ اس وقت ظلم وجورسے بھری ہوگی ۔ ملاحظہ ہو جامع صغےرص ۱۰۴ ومستدرک امام حاکم ص ۴۲۲ و ۴۱۵ ظہورکے بعد ان کی فورابیعت کرنی چاہےے کےونکہ وہ خداکے خلےفہ ہوں گے ۔ (سنن ابن ماجہ اردوص ۲۶۱ طبع کراچی ۱۳۷۷ ھج) ۔
حضرت امام محمد مہدی علیہ السلام کی ولادت باسعادت
مورخین کا اتفاق ہے کہ آپ کی ولادت باسعادت ۱۵ شعبان ۲۵۵ ھج یوم جمعہ بوقت طلوع فجرواقع ہوئی ہے جیسا کہ (وفیات الاعیان ،روضة الاحباب ،تاریخ ابن الوردی ، ینابع المودة، تاریخ کامل طبری ، کشف الغمہ ، جلاٴالعیون ،اصول کافی ، نور الا بصار ، ارشاد ، جامع عباسی ، اعلام الوری ، اور انوار الحسینہ وغیرہ میں موجود ہے (بعض علماٴ کا کہنا ہے کہ ولادت کا سن ۲۵۶ ھ ج اور ما دہ ٴ تاریخ نور ہے ) یعنی آپ شب برات کے اختتام پر بوقت صبح صادق عالم ظھور وشہود میں تشریف لائے ہیں ۔
۱ نرجس ایک یمنی بوٹی کو کہتے ہیں جس کے پھول کی شعراٴ آنکھوں سے تشبیہ دیتے ہیں (المنجد ص۸۶۵ ) منتہی الادب جلد ۴ ص۲۲۲۷ میں ہے کہ یہ جملہ دخیل اور معرب یعنی کسی دوسری زبان سے لایا گیا ہے ۔ صراح ص۴۲۵ اور العماط صدیق حسن ص۴۷ میں ہے کہ یہ لفظ نرجس ، نرگس سے معرب ہے جو کہ فارسی ہے ۔ رسالہ آج کل لکھنؤ کے سالنامہ ۱۹۴۷ کے ص ۱۱۸ میں ہے کہ یہ لفظ یونانی نرکسوس سے معرب ہے ، جسے لاطینی میں نرکسس اورانگیریزی میں نرس سس کہتے ہیں ۔
حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی پھوپھی جناب حکیمہ خاتون کا بیان ہے کہ ایک روز میں حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کے پاس گئتو آپ نے فرمایا کہ اے پھوپھی آپ آج ہمارے ہی گھر میں رہئے کیونکہ خداوند عالم مجھے آج ایک وارث عطا فرمائے گا ۔ میں نے کہا کہ یہ فرزند کس کے بطن سے ہوگا ۔ آپ نے فرمایا کہ بطن نرجس سے متولد ہوگا ، جناب حکیمہ نے کہا : بیٹی! میں تو نرجس میں کچھ بھی حمل کے آثار نہیں پاتی، امام نے فرمایا کہ اسے پھوپھی نرجس کی مثال مادر موسی جیسی ہے جس طرح حضرت موسی کا حمل ولادت کے وقت سے پہلے ظاہر نہیں ہو ا۔ اسی طرح میرے فرزند کا حمل بھی بر وقت ظاہر ہوگا غرضکہ میں امام کے فرمانے سے اس شب و ہیں رہی جب آدھی رات گذر گئی تومیں اٹھی اور نماز تہجد میں مشغول ہو گئی اور نرجس بھی اٹھ کر نماز تہجد پڑھنے لگی ۔ اس کے بعد میرے دل میں یہ خیال گذرا کہ صبح قریب ہے اور امام حسن عسکری علیہ السلام نے جو کہا تھا وہ ابھی تک ظاہر نہیں ہوا ، اس خیال کے دل میں آتے ہی امام علیہ السلام نے اپنے حجرہ سے آوازدی : اے پھوپھی جلدی نہ کیجئے ،حجت خدا کے ظہور کا وقت بالکل قریب ہے یہ سن کر میں نرجس کے حجرہ کی طرف پلٹی ،نرجس مجھے راستے ہی میں ملیں ، مگر ان کی حالت اس وقت متغیر تھی ، وہ لرزہ بر اندام تھیں اور ان کا سارا جسم کانپ رہا تھا ،میں نے یہ دیکھ کر ان کو اپنے سینے سے لپٹالیا ، اور سورہ قل ھو اللہ ،اناانزلنا و ایة الکرسی پڑھ کران پردم کیا بطن مادر سے بچے کی آواز آنے لگی ، یعنی میں جو کچھ پڑھتی تھی ، وہ بچہ بھی بطن مادر میں وہی کچھ پڑھتا تھا اس کے بعد میں نے دیکھا کہ تمام حجرہ روشن و منور ہوگیا ۔ اب جو میں دیکھتی ہوں تو ایک مولود مسعود زمین پرسجدہ میں پڑا ہوا ہے میں نے بچہ کو اٹھا لیا حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام نے اپنے حجرہ سے آواز دی اے پھوپھی ! میرے فرزند کو میرے پاس لائیے میں لے گئیی آپ نے اسے اپنی گود میں بٹھالیا ،اور زبان در دھان دے کر اور اپنی زبان بچے کے منہ میں دے دی اور کہا کہ اے فرزند !خدا کے حکم سے کچھ بات کرو ، بچے نے اس آیت : بسم اللہ الرحمن الرحیم ونریدان نمن علی اللذین استضعفوا فی الارض و نجعلھم الوارثین کی تلاوت کی ، جس کا ترجمہ یہ ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ احسان کریں ان لوگوں پر جوز مین پرکمزور کردئیے گئے ہیں اور ان کو امام بنائیں اورانھیں کو روئے زمین کا وارث قرار دیں ۔
اس کے بعد کچھ سبزطائروں نے آکر ہمیں گھیرلیا ، امام حسن عسکری نے ان میں سے ایک طائرکو بلایا اور بچے کودیتے ہوئے کہا کہ خدہ فاحفظہ الخ اس کو لے جاکر اس کی حفاظت کرو یہاں تک کہ خدا اس کے بارے میں کوئی حکم دے کیونکہ خدا اپنے حکم کو پورا کرکے رہے گآ میں نے امام حسن عسکری سے پوچھا کہ یہ طائر کون تھا اور دوسرے طائر کون تھے ؟ آپ نے فرمایا کہ جبرئیل تھے ، اوردوسرے فرشتگان رحمت تھے اس کے بعد فرمایا کہ اے پھوپھی اس فرزند کو اس کی ماں کے پاس لے آو تا کہ اس کی آنکھیں خنک ہوں اورمحزون و مغوم نہ ہو اور یہ جان لے کہ خدا کا وعدہ حق ہے و اکثرھم لایعلمون لیکن اکثر لوگ اسے نہیں جانتے ۔ اس کے بعد اس مولود مسعود کو اس کی ماں کے پاس پہنچا دیا گیا (شواہدالنبوة ص ۲۱۲ طبع لکھنؤ ۱۹۰۵ء علامہ حائری لکھتے ہیں کہ ولادت کے بعد آپ کو جبرئیل پرورش کے لئے اٹھاکر لے گئے (غایۃالمقصود جلد۱ ص ۷۵) کتاب شواہدالنبوت اور وفیات الاعیان وروضة الاحباب میں ہے کہ جب آپ پیدا ہوے تو مختون اورناف بریدہ تھے اور آپ کے داہنے بازو پر یہ آیت منقوش تھی جاء الحق وزھق الباطل ان الباطل کان زھوقا یعنی حق آیا اورباطل مٹ گیا اور باطل مٹنے ہی کے قابل تھا ۔ یہ قدرتی طور پر بحر متقارب کے دو مصرعے بن گئے ہیں حضرت نسیم امرو ہوی نے اس پر کیا خوب تضمین کی ہے وہ لکھتے ہیں.
چشم وچراغ دےدہٴ نرجس
عین خداکی آنکھ کاتارا
بدرکمال نیمہٴ شعبان
چودھواں اختراوج بقاکا
حامی ملت ماحیٴ بدعت
کفرمٹانے خلق میں آیا
وقت ولادت ماشاء اللہ
قرآن صورت دیکھ کے بولا
جاء الحق وزھق الباطل
ان الباطل کان زھوقا
محدث دہلوی شیخ عبدالحق اپنی کتاب مناقب ائمہ اطہارمیں لکھتے ہیں کہ حکیمہ خاتون جب نرجس کے پاس آئیں تو دیکھا کہ ایک مولود پیدا ہوا ہے ، جو مختون اور مفروغ منہ ہے یعنی جس کا ختنہ کیا ہوا ہے اور نہلانے دھلانے کے کاموں سے جو مولود کے ساتھ ہوتے ہیں بالکل مستغنی ہے ۔ حکیمہ خاتون بچے کو امام حسن عسکری کے پاس لائیں ، امام نے بچے کولیا اوراس کی پشت اقدس اور چشم مبارک پر ہاتھ پھیرا اپنی زبان مطہران کے منہ میں ڈالی اور داہنے کان میں اذان اور بائیں میں اقامت کہی یہی مضمون فصل الخطاب اور بحارالانوار میں بھی ہے ، کتاب روضةالاحباب ینابع المودة میں ہے کہ آپ کی ولادت بمقام سرمن رائے سامرہ میں ہوئی ہے ۔
کتاب کشف الغمہ ص۱۳۰ میں ہے کہ آپ کی ولادت چھپائی گئی اور پوری سعی کی گئی کہ آپ کی پے دائیش کسی کو معلوم نہ ہوسکے ، کتاب دمعہ ساکبہ جلد ۳ص۱۹۴ میں ہے کہ آپ کی ولادت اس لئے چھپائی گئی کہ بادشاہ وقت پوری طاقت کے ساتھ آپ کی تلاش میں تھا اسی کتاب کے ص ۱۹۲ میں ہے کہ اس کا مقصد یہ تھا کہ حضرت حجت کو قتل کرکے نسل رسالت کا خاتمہ کر دے ۔ تاریخ ابوالفداٴ میں ہے کہ بادشاہ وقت معتزباللہ تھا ، تذکرہ خواص الامة میں ہے کہ اسی کے عہدمیں امام علی نقی کو زہر دیا گیا تھا ۔ معتز کے بارے میں مورخین کی رائے کچھ اچھی نہیں ہے ۔ ترجمہ تاریخ الخلفاٴ علامہ سیوطی کے ص۳۶۳ میں ہے کہ اس نے اپنے عہد خلافت میں اپنے بھائی کو ولی عہدی سے معزول کرنے کے بعد کوڑے لگوائے تھے اور تاحیات قید میں رکھاتھا ۔ ا کثر تواریخ میں ہے کہ بادشاہ وقت معتمد بن متوکل تھا جس نے امام حسن عسکری علیہ السلام کو زہرسے شہید کیا ۔ تاریخ اسلام جلد۱ ص ۶۷ میں ہے کہ خلےفہ معتمد بن متوکل کمزور متلون مزاج اورعیش پسند تھا ۔ یہ عیاشی اورشراب نوشی میں بسر کرتا تھا ، اسی کتاب کے صفحہ ۲۹ میں ہے کہ معتمد حضرت امام حسن عسکری کو زہر سے شہید کرنے کے بعدحضرت امام مہدی کوقتل کرنے کے درپے ہوگیاتھا ۔
(۳) ۔ یہ حدیث تھوڑے سے اختلاف کے ساتھ بحار الانوار : ج/۲۴ ، ص/۱۸۸ ۔ اور ج/۲۵ ، ص/ ۲۴ میں مذکور ہے
(۴) ۔ بحار الانوار : ج/۵۳ ، ص/ ۱۷۴ ۔ باب ماخرج عن توقیعاتہ
(۵) ۔ عبد اللہ بن اسعد یافعی (۶۹۸ ، ۷۶۸ ھ ق ) مشائخ و صوفیہ میں سے اور شافعی مذہب تھا ۔ ریحانۃ الادب : ج/۶ ، ص/۳۸۶ و ۳۸۷
(۶) ۔ ظاہراً مقصود کتاب ” مرآۃ الجنان و عبرۃ الیقظان فی معرفۃ ما یعتبر من حوادث الزمان و تقلب احوال الانسان “ہے جو کہ تاریخ یافعی کے نام سے مشہور ہے
(۷) ۔ احمد بن حنبل اہل سنت کے چار فرقوں میں سے فرقہٴ حنبلی کا رئیس ہے
(۸) ۔ بحار الانوار : ج/۵۳ ، ص/۲۵۶ میں اس طرح آیا ہے : پچیسویں حکایت ، القاضی سید نور اللہ الشوشتری ( ۹۵۶ ۔ ۱۰۱۹ ق ) نے مجالس المومنین میں ذکر فرمایا ہے کہ یہ اشعار حضرت صاحب الامر (عج) کے ساتھ شیخ مفید کی قبر پر لکھے ہوئے پائے گئے :
لا صوت الناعی بفقدک انہ ۔ یوم علیٰ آل الرسول عظیم
سنانی سنانے والے نے تمہاری سنانی سنائی ۔ یقناً یہ دن آل رسول (ص) پر بہت بڑی مصیبت کا دن ہے
ان کنت قد غیبت فی جدث الثریٰ ۔ فالعدل و التوحید فیک مقیم
اگر تم قبر کی خاک نمناک کے اندر چھپ گئے ۔ تو عدل و توحید تیرے اندر قیام پذیر ہیں
و القائم المہدی یفرح کلما ۔ تلیت علیک من الدروس علوم
اور قائم مہدی کو خوشی ہوگی جب بھی ۔ تم پر دروس و علوم کی تلاوت کی جائے گی
(۹) ۔ نصر آیہ ۲
(۱۰) ۔ سید محمد مہدی بن مرتضیٰ بحر العلوم ( ۱۱۵۵ ۔ ۱۲۱۲ ق ) شیخ یوسف بحرانی ، سید حسین قزوینی اور آقا محمد باقر ہزارجریبی کے شاگردوں میں سے ہیں ، ستاون سال کی عمر میں دارِ دنیا کو وداع کہا اور آپ کو نجف اشرف میں شیخ مفید کے پاس سپرد خاک کیا گیا ( ریحانۃ الادب ج/۱ ، ص/۲۳۵ )
(۱۱) ۔ شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ، ج/۱ ، ص/۲۷۲
(۱۲) ۔ انبیاء آیہ ۷۳
(۱۳) ۔ اصول کافی ، ج/۱ ، ص/۳۳ ، باب صفۃ العلم و فضلہ و فضل العلماء
+ نوشته شده در پنجشنبه بیست و یکم مهر ۱۳۹۰ ساعت 10:24 توسط یدالله عزیزی گلتری | نظر بدهيد
امام زمانہ(ع) زمین والوں کے لئے امان ہیں
امام زمانہ(ع) زمین والوں کے لئے امان ہیں
یہ کلام حضرت امام مھدی عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے اس جواب کا ایک حصہ ھے جس کو امام علیہ السلام نے اسحاق بن یعقوب کے جواب میں لکھا ھے، اسحاق نے اس خط میں امام علیہ السلام سے غیبت کی وجہ کے بارے میں سوال کیا تھا۔ امام علیہ السلام نے غیبت کی علت بیان کرنے کے بعد اس نکتہ کی طرف اشارہ فرمایا کہ غیبت کے زمانہ میں امام کا وجود بے فائدہ نھیں ھے، وجود امام کے فوائد میں سے ایک ادنیٰ فائدہ یہ ھے کہ امام زمین والوں کے لئے باعث امن و امان ھیں، جیسا کہ ستارے آسمان والوں کے لئے امن و سلامتی کا ذریعہ ھوتے ھیں۔ دوسری صحیح روایات میں اسی مضمون کی طرف اشارہ ھوا ھے۔ جیسا کہ اُن روایات میں بیان ھوا ھے: اگر زمین پر حجت (خدا) نہ ھو تو زمین اور اس پر بسنے والے مضطرب اور تباہ و برباد ھوجائیں۔
امام زمانہ علیہ السلام کو اھل زمین کے لئے امن و امان سے اس طرح تشبیہ دینا جس طرح ستارے اھل آسمان کے لئے امن و امان ھوتے ھیں؛ اس سلسلہ میں شباہت کی چند چیزیں پائی جاتی ھیں جن میں سے دو چیزوں کی طرف اشارہ کیا جاتا ھے:
۱۔ جس طرح تخلیقی لحاظ سے ستاروں کا وجود اور ان کو ان کی جگھوں پر رکھنے کی حالت اور کیفیت، تمام کرّات، سیارات اور کھکشاوٴں کے لئے امن و امان اور آرام کا سبب ھے، زمین والوں کے لئے امام زمانہ علیہ السلام کا وجود بھی اسی طرح ھے۔
۲۔ جس طرح ستاروں کے ذریعہ شیاطین آسمانوں سے بھگائے گئے ھیں اور اھل آسمان منجملہ ملائکہ کے امان و آرام کا سامان فراھم ھوا ھے اسی طرح حضرت امام زمانہ علیہ السلام کا وجود، تخلیقی اور تشریعی لحاظ سے اھل زمین سے، مخصوصاً انسانوں سے شیطان کو دور بھگانے کا سبب ھے۔
امام زمانہ(ع) زمین والوں کے لئے امان ھیں
<اِنّی لَاٴَمٰانُ لِاٴَہْلِ الْاٴَرْضِ کَمٰا اَٴنَّ النُّجُومَ اٴَمٰانُ لِاٴَہْلِ السَّمٰاءِ>[1]
”بے شک میں اھل زمین کے لئے امن و سلامتی ھوں، جیسا کہ ستارے آسمان والوں کے لئے امان کا باعث ھیں“۔
شرح
یہ کلام حضرت امام مھدی عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے اس جواب کا ایک حصہ ھے جس کو امام علیہ السلام نے اسحاق بن یعقوب کے جواب میں لکھا ھے، اسحاق نے اس خط میں امام علیہ السلام سے غیبت کی وجہ کے بارے میں سوال کیا تھا۔ امام علیہ السلام نے غیبت کی علت بیان کرنے کے بعد اس نکتہ کی طرف اشارہ فرمایا کہ غیبت کے زمانہ میں امام کا وجود بے فائدہ نھیں ھے، وجود امام کے فوائد میں سے ایک ادنیٰ فائدہ یہ ھے کہ امام زمین والوں کے لئے باعث امن و امان ھیں، جیسا کہ ستارے آسمان والوں کے لئے امن و سلامتی کا ذریعہ ھوتے ھیں۔ دوسری صحیح روایات میں اسی مضمون کی طرف اشارہ ھوا ھے۔ جیسا کہ اُن روایات میں بیان ھوا ھے: اگر زمین پر حجت (خدا) نہ ھو تو زمین اور اس پر بسنے والے مضطرب اور تباہ و برباد ھوجائیں۔
امام زمانہ علیہ السلام کو اھل زمین کے لئے امن و امان سے اس طرح تشبیہ دینا جس طرح ستارے اھل آسمان کے لئے امن و امان ھوتے ھیں؛ اس سلسلہ میں شباہت کی چند چیزیں پائی جاتی ھیں جن میں سے دو چیزوں کی طرف اشارہ کیا جاتا ھے:
۱۔ جس طرح تخلیقی لحاظ سے ستاروں کا وجود اور ان کو ان کی جگھوں پر رکھنے کی حالت اور کیفیت، تمام کرّات، سیارات اور کھکشاوٴں کے لئے امن و امان اور آرام کا سبب ھے، زمین والوں کے لئے امام زمانہ علیہ السلام کا وجود بھی اسی طرح ھے۔
۲۔ جس طرح ستاروں کے ذریعہ شیاطین آسمانوں سے بھگائے گئے ھیں اور اھل آسمان منجملہ ملائکہ کے امان و آرام کا سامان فراھم ھوا ھے اسی طرح حضرت امام زمانہ علیہ السلام کا وجود، تخلیقی اور تشریعی لحاظ سے اھل زمین سے، مخصوصاً انسانوں سے شیطان کو دور بھگانے کا سبب ھے۔
فلسفہٴ امامت اور صفات امام
<اٴَحْییٰ بِہِمْ دینَہُ، َواَٴتَمَّ بِہِمْ نُورَہُ، وَجَعَلَ بَیْنَہُمْ وَبَیْنَ إِخْوٰانِہِمْ وَبَنِي عَمِّہِمْ َوالْاٴَدْنَیْنَ فَالْاٴَدْنَیْنَ مِنْ ذَوي اٴَرْحٰامِہِمْ فُرْقٰاناً بَیِّناً یُعْرَفُ بِہِ الْحُجَّةُ مَنِ الْمَحْجُوجِ، وَالاِْمٰامُ مِنَ الْمَاٴمُومِ، بِاٴَنْ عَصَمَہُمْ مِنَ الذُّنُوبِ، وَ بَرَّاٴَہُمْ مِنَ الْعُیُوبِ، وَ طَہَّرَہُمْ مِنَ الدَّنَسِ، َونَزَّہَہُمْ مِنَ اللَّبْسِ، وَجَعَلَہُمْ خُزّٰانَ عِلْمِہِ، وَ مُسْتَوْدَعَ حِکْمَتِہِ، وَمَوْضِعَ سِرِّہِ، وَ اٴَیَّدَہُمْ بِالدَّلاٰئِلِ، وَلَوْلاٰ ذٰلِکَ لَکٰانَ النّٰاسُ عَلیٰ سَوٰاءٍ، وَ لَاِدَّعیٰ اٴَمْرَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ کُلُّ اٴَحَدٍ، وَ لَمٰا عُرِفَ الْحَقُ مِنَ الْبٰاطِلِ، وَ لاٰ الْعٰالِمُ مِنَ الْجٰاہِلِ۔>[2]
”اوصیائے (الٰھی) وہ افراد ھیں جن کے ذریعہ خداوندعالم اپنے دین کو زندہ رکھتا ھے، ان کے ذریعہ اپنے نور کو مکمل طور پر نشر کرتا ھے، خداوندعالم نے ان کے اور ان کے (حقیقی) بھائیوں، چچا زاد (بھائیوں) اور دیگر رشتہ داروں کے درمیان واضح فرق رکھا ھے کہ جس کے ذریعہ حجت اور غیر حجت نیز امام اور ماموم کے درمیان پہچان ھوجائے۔ اور وہ واضح فرق یہ ھے کہ اوصیائے الٰھی کو خداوندعالم گناھوں سے محفوظ رکھتا ھے اور ان کو ھر عیب سے منزہ، برائیوں سے پاک اور خطاؤں سے دور رکھتا ھے، خداوندعالم نے ان کو علم و حکمت کا خزانہ دار اور اپنے اسرار کا رازدار قرار دیا ھے اور دلیلوں کے ذریعہ ان کی تائید کرتا ھے۔ اگر یہ نہ ھوتے تو پھر تمام لوگ ایک جیسے ھوجاتے، اور کوئی بھی امامت کا دعویٰ کر بیٹھتا، اس صورت میں حق و باطل اور عالم و جاھل میں تمیز نہ ھوپاتی“۔
شرح:
یہ کلمات امام مھدی علیہ السلام نے احمد بن اسحاق کے خط کے جواب میں تحریر کئے ھیں، امام علیہ السلام چند نکات کی طرف اشارہ کرنے کے بعد امام اور امامت کی حقیقت اور شان کو بیان کرتے ھوئے امام کی چند خصوصیات بیان فرماتے ھیں، تاکہ ان کے ذریعہ حقیقی امام اور امامت کا جھوٹا دعویٰ کرنے والوں کے درمیان تمیز ھوسکے:
۱۔ امام کے ذریعہ خدا کا دین زندہ ھوتا ھے؛ کیونکہ امام ھی اختلافات، فتنوں اور شبھات کے موقع پر حق کو باطل سے الگ کرتا ھے اور لوگوں کو حقیقی دین کی طرف ھدایت کرتا ھے۔
۲۔ نور خدا جو رسول خدا (ص)سے شروع ھوتا ھے، امام کے ذریعہ تمام اور کامل ھوتا ھے۔
۳۔ خداوندعالم نے پیغمبر اکرم (ص)کی ذرّیت میں امام کی پہچان کے لئے کچھ خاص صفات معین کئے ھیں، تاکہ لوگ امامت کے سلسلہ میں غلط فھمی کا شکار نہ ھوں، مخصوصاً اس موقع پر جب ذرّیت رسول کے بعض افراد امامت کا جھوٹا دعویٰ کریں۔ ان میں سے بعض خصوصیات کچھ اس طرح ھیں: گناھوں کے مقابلہ میں عصمت، عیوب سے پاکیزگی، برائیوں سے مبرّااور خطا و لغزش سے پاکیزگی وغیرہ، اگر یہ خصوصیات نہ ھوتے تو پھر ھرکس و ناکس امامت کا دعویٰ کردیتا، اور پھر حق و باطل میں کوئی فرق نہ ھوتا، جس کے نتیجہ میں دین الٰھی پوری دنیا پر حاکم نہ ھوتا۔
فلسفہٴ امامت
<اٴَوَ مٰا رَاٴَیْتُمْ کَیْفَ جَعَلَ اللهُ لَکُمْ مَعٰاقِلَ تَاٴوُونَ إِلَیْہٰا، وَ اٴَعْلاٰماً تَہْتَدُونَ بِہٰا مِنْ لَدُنْ آدَمَ (علیہ السلام)۔>[3]
”کیا تم نے نھیںدیکھا کہ خداوندعالم نے کس طرح تمھارے لئے پناہ گاھیں قرار دی ھیں تاکہ ان میں پناہ حاصل کرو، اور ایسی نشانیاں قرار دی ھیں جن کے ذریعہ ھدایت حاصل کرو، حضرت آدم علیہ السلام کے زمانہ سے آج تک“۔
شرح
یہ تحریر اس توقیع [4] کا ایک حصہ ھے جس کو ابن ابی غانم قزوینی اور بعض شیعوں کے درمیان ھونے والے اختلاف کی وجہ سے امام علیہ السلام نے تحریر فرمایا ھے، ابن ابی غانم کا عقیدہ یہ تھا کہ حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام نے کسی کو اپنا جانشین مقرر نھیں کیاھے، اور سلسلہٴ امامت آپ ھی پر ختم ھوگیا ھے۔ شیعوں کی ایک جماعت نے حضرت امام مھدی علیہ السلام کو خط لکھا جس میں واقعہ کی تفصیل لکھی، جس کے جواب میں حضرت امام زمانہ علیہ السلام کی طرف سے ایک خط آیا، مذکورہ حدیث اسی خط کا ایک حصہ ھے۔
امام زمانہ علیہ السلام امامت، وصایت اور جانشینی میں شک و تردید سے دوری کرنے کے سلسلہ میں بہت زیادہ سفارش کرنے کے بعد فرماتے ھیں: وصایت کا سلسلہ ھمیشہ تاریخ کے مسلم اصول میں رھا ھے، اور جب تک انسان موجود ھے زمین حجت الٰھی سے خالی نھیں ھوگی، امام علیہ السلام نے مزید فرمایا:
”تاریخ کو دیکھو! کیا تم نے کسی ایسے زمانہ کو دیکھا ھے جو حجت خدا سے خالی ھو، اور اب تم اس سلسلہ میں اختلاف کرتے ھو“؟!
امام علیہ السلام نے حدیث کے اس سلسلہ میں امامت کے دو فائدے شمار کئے ھیں:
۱۔ امام، مشکلات اور پریشانیوں کے عالم میں ملجا و ماویٰ اور پناہ گاہ ھوتا ھے۔
۲۔ امام،لوگوں کو دین خدا کی طرف ھدایت کرتا ھے۔
کیونکہ امام معصوم علیہ السلام نہ صرف یہ کہ لوگوں کو دین اور شریعت الٰھی کی طرف ھدایت کرتے ھیں بلکہ مادّی اور دنیوی مسائل میں ان کی مختلف پریشانیوں کو بھی دور کرتے ھیں۔
علم امام کی قسمیں
<عِلْمُنٰا عَلیٰ ثَلاٰثَہِ اٴَوْجُہٍ: مٰاضٍ وَغٰابِرٍ وَحٰادِثٍ، اٴَمَّا الْمٰاضِي فَتَفْسیرٌ، وَ اٴَمَّا الْغٰابِرُ فَموْ قُوفٌ، وَ اٴَمَّا الْحٰادِثُفَقَذْفٌ في الْقُلُوبِ، وَ نَقْرُ في الْاٴَسْمٰاعِ، وَہُوَ اٴَفْضَلُ عِلْمِنٰا، وَ لاٰ نَبيَّ بَعْدَ نَبِیِّنٰا>[5]
”ھم (اھل بیت) کے علم کی تین قسمیں ھوتی ھیں: گزشتہ کا علم، آئندہ کا علم اور حادث کا علم۔ گزشتہ کا علم تفسیر ھوتا ھے، آئندہ کا علم موقوف ھوتا ھے اور حادث کا علم دلوں میں بھرا جاتا اور کانوں میں زمزمہ ھوتا ھے۔ علم کا یہ حصہ ھمارا بہترین علم ھے اور ھمارے پیغمبر (ص)کے بعد کوئی دوسرا رسول نھیں آئے گا“۔
شرح
یہ الفاظ امام زمانہ علیہ السلام کے اس جواب کا ایک حصہ ھیں جس میں علی بن محمد سمری (علیہ الرحمہ) نے علم امام کے متعلق سوال کیا تھا۔
علامہ مجلسی علیہ الرحمہ کتاب ”مرآة العقول“ میں ان تینوں علم کے سلسلہ میں فرماتے ھیں:
”علم ماضی سے وہ علم مراد ھے جس کو پیغمبر اکرم (ص)نے اپنے اھل بیت علیھم السلام سے بیان کیا ھے؛ نیز یہ علم ان علوم پر مشتملھے جو گزشتہ انبیاء علیھم السلام اور گزشتہ امتوں کے واقعات کے بارے میں ھیں اور جو حوادثات ان کے لئے پیش آئے ھیں اور کائنات کی خلقت کی ابتداء اور گزشتہ چیزوں کی شروعات کے بارے میں ھیں۔
علم ”غابر“ سے مراد آئندہ پیش آنے والے واقعات ھیں؛ کیونکہ غابر کے معنی ”باقی“ کے ھیں، غابر سے مراد وہ یقینی خبریں ھیں جو کائنات کے مستقبل سے متعلق ھیں، اسی وجہ سے امام علیہ السلام نے اس کو ”موقوفہ“ کے عنوان سے یاد کیا ھے جو علوم کائنات کے مستقبل سے تعلق رکھتے ھیں وہ اھل بیت علیھم السلام سے مخصوص ھیں، موقوف یعنی ”مخصوص“۔
”علم حادث“ سے مراد وہ علم ھے جو موجودات اور حالات کے ساتھ ساتھ بدلتا رہتا ھے، یا مجمل چیزوں کی تفصیل مراد ھے۔۔۔ ”قَذْفُ في الْقُلُوبِ“، سے خداوندعالم کی طرف سے عطا ھونے والا وہ الھام مراد ھے جو کسی فرشتہ کے بغیر حاصل ھوا ھو۔
”نَقْرُ في الْاٴَسْمٰاعِ“، سے وہ الٰھی الھام مراد ھے جو کسی فرشتہ کے ذریعہ حاصل ھوا ھو۔
تیسری قسم کی افضلیت کی دلیل یہ ھے کہ الھام (چاھے بالواسطہ ھو یا بلا واسطہ) اھل بیت علیھم السلام سے مخصوص ھے۔
الٰھی الھام کی دعا کے بعد ممکن ھے کوئی انسان (ائمہ علیھم السلام کے بارے میں) نبی ھونے کا گمان کرے، اسی وجہ سے امام زمانہ علیہ السلام نے آخر میں اس نکتہ کی طرف اشارہ فرمایا ھے کہ پیغمبر اکرم(ص) کے بعد کوئی پیغمبر نھیں آئے گا“۔[6]
ماخذ
[1] کمال الدین، ج ۲، ص ۴۸۵، ح ۱۰؛ الغیبة، شیخ طوسی، ص۲۹۲، ح۲۴۷؛ احتجاج، ج۲، ص۲۸۴؛ اعلام الوری، ج۲، ص۲۷۲، کشف الغمة، ج ۳، ص ۳۴۰، الخرائج والجرائح، ج ۳، ص ۱۱۱۵، بحار الانوار، ج ۵۳، ص ۱۸۱، ح ۱۰۔
[2] الغیبة، طوسی، ص ۲۸۸، ح ۲۴۶، احتجاج، ج ۲، ص ۲۸۰، بحار الانوار، ج ۵۳، ص ۱۹۴۔۱۹۵، ح ۲۱۔
[3] الغیبة، شیخ طوسی، ص ۲۸۶، ح ۲۴۵، احتجاج، ج ۲، ص ۲۷۸، بحار الانوار، ج ۵۳، ص ۱۷۹، ح ۹۔
[4] توقیع ، امام زمانہ علیہ السلام کے اس خط کو کھا جاتا ھے جس کو آپ نے کسی کے جواب میں بقلم خود تحریر کیا ھو۔(مترجم)
[5] دلائل الامامة، ص ۵۲۴، ح ۴۹۵، مدینة المعاجز، ج ۸، ص ۱۰۵، ح ۲۷۲۰۔
[6] دیکھئے: مرآة العقول، ج۳، ص ۱۳۶ تا۱۳۷۔
+ نوشته شده در پنجشنبه بیست و یکم مهر ۱۳۹۰ ساعت 10:7 توسط یدالله عزیزی گلتری | نظر بدهيد
امام زمانہ (علیہ السلام) کے انتظار کی خصوصیات
امام زمانہ (علیہ السلام) کے انتظار کی خصوصیات
جیسا کہ ھم نے عرض کیا کہ ”انتظار“ انسانی فطرت میں شامل ھے اور ھر قوم و ملت اور ھر دین و مذھب میں انتظار کا تصور پایا جاتا ھے، لیکن انسان کی ذاتی اور اجتماعی زندگی میں پایا جانے والا عام انتظار اگرچہ عظیم اور با اھمیت ھو لیکن امام مھدی علیہ السلام کے انتظار کے مقابلہ میں چھوٹا اور نا چیز ھے کیونکہ آپ کے ظھور کا انتظار درج ذیل خاص امتیازات رکھتا ھے:
امام زمانہ علیہ السلام کے ظھور کا انتظار ایک ایسا انتظار ھے جو کائنات کی ابتداء سے موجود تھا یعنی بھت قدیم زمانہ میں انبیاء علیھم السلام اور اولیائے کرام آپ کے ظھور کی بشارت دیتے تھے اور ھمارے تمام ائمہ (علیھم السلام) قریبی زمانہ میں آپ کی حکومت کے زمانہ کی آرزو رکھتے تھے۔
حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ھیں:
”اگر میں ان (امام مھدی علیہ السلام) کے زمانہ میں ھوتا تو تمام عمر ان کی خدمت کرتا“۔([1])
امام مھدی علیہ السلام کا انتظار ایک عالمی اصلاح کرنے والے کا ا نتظار ھے، عالمی عادل حکومت کا انتظار ھے اور تمام ھی اچھائیوں کے ظاھر ھونے کا انتظار ھے، چنانچہ اسی انتظار میں عالم بشریت آنکھیں بچھائے ھوئے ھے اور پاک و پاکیزہ قدرتی فطرت کی بنیاد پر اس کی تمنا کرتا ھے اور کسی بھی زمانہ میں مکمل طور پر اس تک نھیں پہنچ سکا ھے، و حضرت امام مھدی علیہ السلام اسی شخصیت کا نام ھے جو عدالت اور معنویت، برادری اور برابری، زمین کی آبادی ، صلح و صفا ، عقل کی شکوفائی اور انسانی علوم کی ترقی کو تحفہ میں لائیں گے، اور استعمار و غلامی ، ظلم و ستم اور تمام برائیوں کا خاتمہ کرنا آپ کی حکومت کا ثمرہ ھوگا۔
امام مھدی (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف) کا انتظار ایسا انتظار ھے جس کے شکوفائی کا راستہ فراھم ھونے سے خود انتظار بھی شگوفہ ھوجائے گا، اور وہ ایسا زمانہ ھوگا کہ جب تمام انسان آخر الزمان میں اصلاح کرنے والے اور نجات بخشنے والے کی تلاش میں ھوں گے، وہ آئیں گے تاکہ اپنے ناصر و مددگاروں کے ساتھ برائیوں کے خلاف قیام کریں گے نہ یہ کہ صرف اپنے معجزہ سے پوری کائنات کے نظام کو بدل دیں گے۔
امام مھدی علیہ السلام کا انتظار ان کے منتظرین میں ان کی نصرت و مدد کا شوق پیدا کرتا ھے اور انسان کو حیثیت اور حیات عطا کرتا ھے، نیز اس کو بے مقصد سرگرمی اور گمراھی سے نجات دیتا ھے۔
قارئین کرام! یہ تھیں اس انتظار کی بعض خصوصیات جو تمام تاریخ کی وسعت کے برابر ھیں اور ھر انسان کی روح میں اس کی جڑیں موجود ھیں، اور کوئی دوسرا انتظار اس عظیم انتظار کی خاک پا بھی نھیں ھوسکتا، لہٰذا مناسب ھے کہ امام مھدی علیہ السلام کے انتظار کے مختلف پھلوؤں اور اس کے آثار و فوائد کو پہچانیں اور آپ کے ظھور کے منتظرین کی ذمہ داریاں اور اس کے بے نظیر ثواب کے بارے میں گفتگو کریں۔
انتظار کے پھلو
خود انسان میں مختلف پھلو پائے جاتے ھیں: ایک طرف تو نظری (تھیوری) اور عملی (پریکٹیکل) پھلو اس میں موجود ھے اور دوسری طرف اس میں ذاتی اور اجتماعی پھلو بھی پایا جاتا ھے، اور ایک دوسرے رخ سے جسمانی پھلو کے ساتھ روحی اور نفسیاتی پھلو بھی اس میں موجود ھے، جبکہ اس بات میں کوئی شک نھیں ھے کہ مذکورہ پھلوؤں کے لئے مخصوص قوانین کی ضرورت ھے، تاکہ ان کے تحت انسان کے لئے زندگی کا صحیح راستہ کھل جائے، اور منحرف اور گمراہ کن راستہ بند ھوجائے۔
امام مھدی (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف) کے ظھور کا انتظار، منتظر کے تمام پھلوؤں پر موثر ھے، انسان کے فکری اور نظری پھلو جو انسان کے اعمال و کردار کا بنیادی پھلو ھے ، انسانی زندگی کے بنیادی عقائد پر اپنے حصار کے ذریعہ حفاظت کرتا ھے۔ دوسرے الفاظ میں یوں عرض کیا جائے کہ صحیح انتظار اس بات کا تقاضا کرتا ھے کہ منتظر اپنی اعتقادی اور فکری بنیادوں کو مضبوط کرے تاکہ گمراہ کرنے والے مذاھب کے جال میں نہ پھنس جائے یا امام مھدی علیہ السلام کی طولانی غیبت کی وجہ سے یاس و ناامیدی کے دلدل میں نہ پھنس جائے۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ھیں:
”لوگوں پر ایک زمانہ وہ آئے گا کہ جب ان کا امام غائب ھوگا، خوش نصیب ھے وہ شخص جو اس زمانہ میں ھمارے امر (یعنی ولایت) پر ثابت قدم رھے“۔([2])
یعنی غیبت کے زمانہ میں دشمن نے مختلف شبھات کے ذریعہ یہ کوشش کی ھے کہ شیعوں کے صحیح عقائد کو ختم کردیا جائے، لیکن ھمیں انتظار کے زمانہ میں اپنے عقائد کی حفاظت کرنا چاہئے۔
انتظار ، عملی پھلو میں انسان کے اعمال اور کردار کو راستہ دیتا ھے، ایک حقیقی منتظر کو عملی میدان میں کوشش کرنا چاہئے کہ امام مھدی علیہ السلام کی حکومت حق کا راستہ فراھم ھوجائے، لہٰذا منتظر کو اس سلسلہ میں اپنی اور معاشرہ کی اصلاح کے لئے کمرِ ھمت باندھنا چاہئے، نیز اپنی ذاتی زندگی میں اپنی روحی اور نفسیاتی حیات اور اخلاقی فضائل کو کسب کرنے کی طرف مائل ھو اور اپنے جسم و بدن کو مضبوط کرے تاکہ ایک کار آمد طاقت کے لحاظ سے نورانی مورچہ کے لئے تیار رھے۔
حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ھیں:
”جو شخص امام قائم علیہ السلام کے ناصر و مددگار میں شامل ھونا چاھتا ھے اسے انتظار کرنا چاہئے اور انتظار کی حالت میں تقویٰ و پرھیزگاری کا راستہ اپنانا چاہئے اور نیک اخلاق سے مزین ھونا چاہئے“۔([3])
اس ”انتظار“ کی خصوصیت یہ ھے کہ یہ انسان کو اپنی ذات سے بلند کرتا ھے اور اس کو معاشرہ کے ھر شخص سے جوڑ دیتا ھے، یعنی انتظار نہ صرف انسان کی ذاتی زندگی میں موٴثر ھوتا ھے بلکھ معاشرہ میں انسان کے لئے مخصوص منصوبہ بھی پیش کرتا ھے اور معاشرہ میں مثبت قدم اٹھانے کی رغبت بھی دلاتا ھے، اور چونکہ حضرت امام مھدی علیہ السلام کی حکومت اجتماعی حیثیت رکھتی ھے، لہٰذا ھر انسان اپنے لحاظ سے معاشرہ کی اصلاح کے لئے کوشش کرے اور معاشرہ میں پھیلی برائیوں کے سامنے خاموش اور بے توجہ نہ رھے، کیونکہ عالمی اصلاح کرنے والے کے منتظر کو فکر و عمل کے لحاظ سے اصلاح اور خیر کے راستہ کو اپنانا چاہئے۔
مختصر یہ ھے کہ ”انتظار“ ایک ایسا مبارک چشمہ ھے جس کا آب حیات انسان اور معاشرہ کی رگوں میں جاری ھے، اور زندگی کے تمام پھلوؤں میں انسان کو الٰھی رنگ اور حیات عطا کرتا ھے، اور خدائی رنگ سے بھتر اور ھمیشگی رنگ اور کونسا ھوسکتا ھے؟!
قرآن کریم میں ارشاد ھوتا ھے:
<صِبْغَةَ اللهِ وَمَنْ اٴَحْسَنُ مِنْ اللهِ صِبْغَةً وَنَحْنُ لَہُ عَابِدُونَ >([4])
”رنگ تو صرف اللہ کا رنگ ھے اور اس سے بھتر کس کا رنگ ھوسکتا ھے اور ھم سب اسی کے عبادت گزار ھیں “۔
مذکورہ مطالب کے پیش نظر “مصلح کل” حضرت امام زمانہ علیہ السلام کے منتظرین کی ذمّہ داری ”الٰھی رنگ اپنانے“ کے علاوہ کچھ نھیں ھے جو انتظار کی برکت سے انسان کی ذاتی اور اجتماعی زندگی کے مختلف پھلوؤں میں جلوہ گر ھوتا ھے، جس کے پیش نظر ھماری وہ ذمّہ داریاں ھمارے لئے مشکل نھیں ھوں گی، بلکہ ایک خوشگوار واقعہ کے عنوان سے ھماری زندگی کے ھر پھلو میں ایک بھترین معنی و مفھوم عطا کرے گی۔ واقعاً اگر ملک کا مھربان حاکم اور محبوب امیر قافلہ ھمیں ایک شائستہ سپاھی کے لحاظ سے ایمان کے خیمہ میں بلائے اور حق و حقیقت کے مورچہ پر ھمارے آنے کا انتظار کرے تو پھر ھمیں کیسا لگے گا؟ کیا پھر ھمیں اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے میں کوئی پریشانی ھوگی کہ یہ کام کرو اور ایسا بنو، یا ھم خود چونکہ انتظار کے راستہ کو پہچان کر اپنے منتخب مقصد کی طرف قدم بڑھاتے ھوئے نظر آئیں گے؟!
منتظرین کی ذمّہ داریاں
دینی رھبروں کے ذریعہ احادیث اور روایات میں ظھور کا انتظار کرنے والوں کی بھت سی ذمّہ داریاں بیان ھوئی ھیں، ھم یھاں پر ان میں سے چند اھم ذمّہ داریاں کو بیان کرتے ھیں۔
امام کی پہچان
امام علیہ السلام کی شناخت اور پہچان کے بغیر راہ انتظار کو طے کرنا ممکن نھیں ھے، انتظار کی وادی میں صبر و استقامت کرنا امام علیہ السلام کی صحیح شناخت سے وابستہ ھے، لہٰذا امام مھدی علیہ السلام کے اسم گرامی اور نسب کی شناخت کے علاوہ ان کی عظمت اور ان کے رتبہ و مقام کی کافی مقدار میں شناخت بھی ضروری ھے۔
”ابو نصر“ امام حسن عسکری علیہ السلام کےخادم،امام مھدی علیہ السلام کی غیبت سے پھلے امام عسکری علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ھوئے، امام مھدی (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف) نے ان سے سوال کیا: کیا مجھے پہچانتے ھو؟ انھوں نے جواب دیا: جی ھاں، آپ میرے مولا و آقا اور میرے مولا و آقا کے فرزند ھیں! امام علیہ السلام نے فرمایا: میرا مقصد ایسی پہچان نھیں ھے!؟ ابو نصر نے عرض کی: آپ ھی فرمائیں کہ آپ کا مقصد کیا تھا۔
امام علیہ السلام نے فرمایا:
”میں پیغمبر اسلام (ص) کا آخری جانشین ھوں، اور خداوندعالم میری (برکت کی) وجہ سے ھمارے خاندان اور ھمارے شیعوں سے بلاؤں کو دور فرماتا ھے“۔([5])
اگر منتظر کو امام علیہ السلام کی معرفت حاصل ھوجائے تو پھر وہ اسی وقت سے اپنے کو امام علیہ السلام کے مورچہ پر دیکھے گا اور احساس کرے گا کہ امام علیہ السلام اور ان کے خیمہ کے نزدیک ھے، لہٰذا اپنے امام کے مورچہ کو مضبوط بنانے میں پَل بھر کے لئے کوتاھی نھیں کرے گا۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ھیں:
” مَنْ مَاتَ وَ ہُوَ عَارِفٌ لِاِمَامِہِ لَمْ َیضُرُّہُ، تَقَدَّمَ ہَذَا الاٴمْرِ اٴوْ تَاٴخَّرَ، وَ مَنْ مَاتَ وَ ہُوَ عَارِفٌ لِاِمَامِہِ کَانَ کَمَنْ ہُوَ مَعَ القَائِمِ فِی فُسْطَاطِہِ“([6])
”جو شخص اس حال میں مرے کہ اپنے امام زمانہ کو پہچانتا ھو تو ظھور کا جلد یا تاخیر سے ھونا کوئی نقصان نھیں پھونچاتا، اور جو شخص اس حال میں مرے کہ اپنے امام زمانہ کو پہچانتا ھو تو وہ اس شخص کی طرح ھے جو امام کے خیمہ اور اور امام کے ساتھ ھو“۔
قابل ذکر ھے کہ یہ معرفت اور شناخت اتنی اھم ھے کہ معصومین علیھم السلام کے کلام میں بیان ھوئی ھے اور جس کو حاصل کرنے کے لئے خداوندعالم سے مدد طلب کرنا چاہئے۔
حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:
”حضرت امام مھدی علیہ السلام کی طولانی غیبت کے زمانہ میں باطل خیال کے لوگ (اپنے دین اور عقائد میں) شک و شبہ میں مبتلا ھوجائیں گے، امام علیہ السلام کے خاص شاگرد جناب زرارہ نے کھا: آقا اگر میں وہ زمانہ پائوں تو کونسا عمل انجام دوں؟
امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: اس دعا کو پڑھو:
”اَللّٰہُمَّ عَرِّفْنِی نَفْسَکَ فَإنَّکَ إنْ لَمْ تُعَرِّفْنِی نَفْسَکَ لَمْ اٴعْرِفْ نَبِیَّکَ، اَللّٰہُمَّ عَرِّفْنِی رَسُولَکَ فَإنَّکَ إنْ لَمْ تُعَرِّفْنِی رَسُولَکَ لَمْ اٴعْرِفْ حُجَّتَکَ، اَللّٰہُمَّ عَرِّفْنِی حُجَّتَکَ فَإنَّکَ إنْ لَمْ تُعَرِّفْنِی حُجَّتَکَ ضَلَلْتُ عَنْ دِیْنِی“([7])
”پرودگارا! مجھے تو اپنی ذات کی معرفت کرادے اور اگر تو نے مجھے اپنی ذات کی معرفت نہ کرائی تو میں تیرے نبی کو نھیں پہچان سکتا، پرودگارا! تو مجھے اپنے رسول کی معرفت کرادے اور اگر تو نے اپنے رسول کی پہچان نہ کرائی تو میں تیری حجت کو نھیں پہچان سکوں گا، پروردگارا! تو مجھے اپنی حجت کی معرفت کرادے اور اگر تو نے مجھے اپنی حجت کی پہچان نہ کرائی تو میں اپنے دین سے گمراہ ھوجاؤں گا“۔
قارئین کرام! مذکورہ دعا میں نظام کائنات کے مجموعہ میں امام علیہ السلام کی عظمت کی معرفت بیان ھوئی ھے([8]) اور وہ خداوندعالم کی طرف سے حجت اور پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کا حقیقی جانشین اور تمام لوگوں کا ھادی و رھبر ھے جس کی اطاعت سب پر واجب ھے، کیونکہ اس کی اطاعت خداوندعالم کی اطاعت ھے۔
معرفت امام کا دوسرا پھلو امام علیہ السلام کے صفات اور ان کی سیرت کی پہچان ھے([9]) معرفت کا یہ پھلو انتظار کرنے والے کی رفتار و گفتار پر بھت زیادہ موثر ھوتا ھے، اور ظاھر سی بات ھے کہ انسان کو امام علیہ السلام کی جتنی معرفت ھوگی اس کی زندگی میں اتنے ھی آثار پیدا ھوں گے۔
نمونہ عمل
جس وقت امام علیہ السلام کی معرفت اور ان کے خوشنماجلوے ھماری نظروں کے سامنے ھوں گے تو اس مظھر کمالات کو نمونہ قرار دینے کی بات آئے گی۔
پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) فرماتے ھیں:
”خوش نصیب ھیں وہ لوگ جو میری نسل کے قائم کو اس حال میں دیکھیں کہ اس کے قیام سے پھلے خود اس کی اور اس سے پھلے ائمہ کی اقتداء کرتے ھوں اور ان کے دشمنوں سے بیزاری کا اعلان کرتے ھوں، ایسے افراد میرے دوست اور میرے ساتھی ھیں، اور یھی لوگ میرے نزدیک میری امت کے سب سے عظیم افراد ھیں“۔([10])
واقعاً جو شخص تقویٰ، عبادت، سادگی، سخاوت، صبر اور تمام اخلاقی فضائل میں اپنے امام کی پیروی کرے تو ایسے شخص کا رتبہ اس الٰھی رھبر کے نزدیک کس قدر زیادہ ھوگا اور ان کے حضور میں شرفیابی سے کس قدر سرفراز اور سربلند ھوگا؟!
کیا اس کے علاوہ ھے کہ جو شخص دنیا کے سب سے خوبصورت منظر کا منتظر ھے وہ اپنے کو خوبیوں سے آراستہ کرے اور خود کو برائیوں سے دور رکھے نیز انتظار کے لمحات میں اپنے افکار و اعمال کی حفاظت کرتا رھے؟! ورنہ آہستہ آہستہ برائیوں کے جال میں پھنس جائے گا اور پھر اس کے اور امام کے درمیان فاصلہ زیادہ ھوتا جائے گا، یہ ایک ایسی حقیقت ھے جو خود خطرات سے آگاہ کرنے والے امام علیہ السلام کے کلام میں بیان ھوئی ھے:
”فَمَا یَحْبِسُنَا عَنْہُمْ إلاَّ مَا یَتَّصِلُ بِنَا مِمَّا نُکْرِہُہُ وَ لاٰ نُوٴثِرُہُ مِنْہُم“([11])
”کوئی بھی چیز ھمیں اپنے شیعوں سے جدا نھیں کرتی، مگر خود ان کے وہ (برے) اعمال جو ھمارے پاس پہنچتے ھیں جن اعمال کو ھم پسند نھیں کرتے اور شیعوں سے ان کی امید بھی نھیں ھے!“۔
منتظرین کی آخری آرزو یہ ھے کہ امام مھدی علیہ السلام کی عالمی عدل کی حکومت میں کچھ حصہ ان کا بھی ھو، اور اس آخری حجت خدا کی نصرت و مدد کا افتخار ان کو بھی حاصل ھو، لیکن اس عظیم سعادت کو حاصل کرنا خود سازی اور اخلاقی صفات سے آراستہ ھوئے بغیر ممکن نھیں ھے۔
حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ھیں:
”مَنْ سَرَّہُ اٴنْ یَکُوْنَ مِنْ اٴصْحَابِ الْقَائِمِ فَلْیَنْتَظِرْ وَ لِیَعْمَلْ بِالْوَرَعِ وَ مَحَاسِنِ الاٴخْلاَقِ وَ ہُوَ مُنْتَظِر“([12])
”جو شخص یہ چاھتا ھو کہ حضرت قائم علیہ السلام کے ناصروں میں شامل ھو تو اسے اس حال میں منتظر رہنا چاہئے کہ تقویٰ اور پرھیزگاری اور اخلاق حسنہ سے آراستہ رھے“۔
یہ بات روشن ھے کہ ایسی آرزو تک پہنچنے کے لئے خود امام مھدی علیہ السلام سے بھتر کوئی نمونہ نھیں مل سکتا جو تمام ھی نیکی اور خوبیوں کا آئینہ ھے۔
+ نوشته شده در پنجشنبه بیست و یکم مهر ۱۳۹۰ ساعت 10:6 توسط یدالله عزیزی گلتری | نظر بدهيد
دنیاوی اقدار کےلیے عشق
دنیاوی اقدار کےلیے عشق
بعض لوگ آﺋمه اور امام زمان سے صرف دنیاوی مفادات اور دنیاوی جاه و منصب کی خاطر محبت کرتے هیں حتی که اگر امام زمان کے ظهور کےلیے دعا بھی کریں تو بھی اپنے دنیاوی طمع کی خاط رهے جیسا که امام صادق (ع)سے نقل هوا که همارے بارے لوگوں کی تین اقسام هیں:دو قسم وه لوگ هیں که جو جاه و مقام کی خاطر اور لوگوں کو ضرر پهنچانے کی خاطر هم اهل بیت سے محبت کا اظهار کرتے هیں اور تیسرا گروه (ایسا نهیں هے)هم اهل بیت میں سے هے اور هم ان سے هیں(تحف العقول ص۵۱۳)
تو یه جو دنیاوی طمع کی خاطر امام سے محبت کا دعوی رکھتے هیں اور انکے لیے ظهور کی دعا مانگتے هیں اگر کچھ مصالح کی بنا پر امام ان پر توجه نه کریں تو یهی لوگ اهلبیت کی دشمنی میں کھڑے هوجاتے هیں تاریخ میں طلحه و زبیر بهت تھے اور بهت هونگے ،البته یهاں جو هم پیش کرنا چاهتے هیں وه ایک عمومی انحراف ہے که اکثر لوگ ایسی نگاه آﺋمه کے حوالے رکھتے هیں-
امام سے توسل قرار دینا اور انکو الله کی درگاه میں واسطه قرار دینا اگرچه ایک صحیح امر هے اور روایات میں اسی پر تاکید هوئی هے لیکن یه سب کچھ صرف دنیاوی امور اور دنیاوی مشکلات دور کرنے کیلئے هو تو یه عدم معرفت کی علامت هے، معلوم یه هوتا هے که ایسے کرنے والے کو بھی نه امام کی معرفت و شناخت حاصل هے که امام کیسی با عظمت ذات هے اور اس کائنات میں اسکا کیا مقام و اهمیت هے اور نه اسے اپنے لیے امام کی ضرورت کا صحیح ادراک حاصل هے که مجھے میرے وجود کو امام کی کیا ضرورت هے؟
ایسی طرز فکر کے نتایج :
۱: امام سے دشمنی وبغض
۲: خواهشات اور احتیاج الهی اگر مصالح کی بنا پوری نه هو تو امام کے حوالے سے عقیده کم هونا یا عقیده ختم هوجانا
ایسی طرز فکر کے اسباب:
۱: امام اور امامت کے مقام کا درک نه کرنا
۲: خود خواهی اور اپنی ضرورت کو فقط دیکھنا
علاج:
۱: دین میں غور و فکر کرتے هوۓ معرفت پیدا کرنا
۲: امام کی طلب و حکم کو اپنی خواهشات پر مقدم رکھنے کی مشق کرنا اور اپنی تربیت کرنا-
حضرت سلمان فارسی( رض) کی ایک صفت که جن کی بنا پر وه ممتاز شخصیت کے حامل تھے یه تھی که امام کی طلب و حاجت کو اپنی خواهشات پر مقدم رکھتے تھے-
منصور بزرج روایت کرتے هیں که میں نے امام صادق(ع) کی خدمت میں عرض کیا
اے میرے مولا و آقا میں اکثر آپ سے سلمان فارسی کا ذکر سنتا هوں آپ نے فرمایا:یه نه کهو سلمان فارسی بلکه سلمان محمدی تم جانتے هو میں کیوں ان کا بهت زیاده ذکر کرتا هوں میں نے عرض کیا نهیں، آپ نے فرمایا: انکے تین اوصاف کی بنا پر انکا زیاده ذکر کرتا هوں ایک یه که وه امیر المومنین(ع) کی حاجت کو اپنی حاجت پر مقدم رکھتے تھے دوسرا یه که فقراء سے محبت کرتے تھے اور انهیں امراء پر مقدم رکھتے تھے ۔تیسرا یه که علم اور علماء سے محبت رکھتے تھے-(امالی طوسی مجلس ۵ ص۱۳۳)
+ نوشته شده در شنبه نهم مهر ۱۳۹۰ ساعت 14:8 توسط یدالله عزیزی گلتری | نظر بدهيد
المهدي مني يقضوا اثري ولا يخطئ
المهدي مني يقضوا اثري ولا يخطئ
بقلم: ف.ح.مهدوی
مآخذ: ابنا
المهدي مني يقضوا اثري ولا يخطئ
اشارہ: احادیث اہل سنت کے منابع حدیث سے نقل ہوئی ہیں اور احادیث کا ترجمہ بھی عربی عبارت کے عین مطابق ہے اور ان احادیث میں بیان ہونے والے عقائد لازماً مکتب اہل بیت (ع) کے عقائد سے مطابقت نہیں رکھتے اور بعض جگہوں پر ان مسائل میں ہمارا اختلاف ہے اور چونکہ کوشش کی گئی ہے کہ اہل سنت کے ہاں امام مہدی علیہ السلام کے ظہور، ان کے ظہور کی حقانیت، ان کی عصمت اور ان کی ذریت فاطمہ و علی سے ہونا مقصد تها لہذا احادیث کو عینا نقل کیا گیا ہے.
وَنُرِيدُ أَن نَّمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِي الْأَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِينَ
یہ نا قابل انکار حقیقت ہے کہ ہر شخص اپنی جدو جہد سے امام نہیں بن سکتا خدائے تعالیٰ جس کو چاہے اس منصب کے لئے منتخب فرمالیتا ہے. امام مہدی علیہ السلام بارہویں امام ہیں اور حضرت حسن بن علی بن محمد بن علی بن موسی بن جعفر بن محمد بن علی بن الحسین ابن علی علیہم السلام کے فرزند ہیں گویا ان کے جد امجد علی ابن ابیطالب علیہ السلام اور جدّّۀ ماجدہ حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا ہیں اور حضرت رسول اللہ نے فرمایا ہے:
ان الله جعل ذرية کل نبي من صلبه و جعل ذريتي من صلب علي بن ابي طالب (عليهما السلام)
بے شک خداوند متعال نے ہر نبی کی ذریت اس کے اپنے صلب سے قرار دی اور میری ذریت علی ابن ابیطالب علیہما السلام کے صلب سے قرار دی ہے.
یہاں اس نبی کے اقوال اہل سنت کے راویوں اور محدثین سے نقل کئے جارہے ہیں جو بولتے ہیں تو مصدر وحی سے متصل ہوکر بولتے ہیں اور انسانی معاشروں اور احکام دین یا بعد میں آنے والی نسلوں کے لئے ان کی کوئی بھی پیشین گوئی خدا کی طرف سے وحی پر مبنی ہوتی ہے اور ہم جانتے ہیں کہ نبی اکرم (ص) کا انکار اور آپ (ص) کے ارشادات کا انکار خدا اور اس کے فرامیں و ارشادات کا انکار ہے اور یہ انکار باعث کفر ہے. چنانچہ انکار مہدی علیہ السلام کا انکار کفر ہے کیونکہ
وما ينطق عن الهويٰ ان هو الا وحي يوحي (نجم)
(حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ) جو بولتے ہیں اپنی طرف سے نہیں بولتے آپ جو بولتے ہیں وحی کی بنیاد پر بولتے ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ وحی کی ایک قسم آیات پر مشتمل ہے اور وہ قرآن کی تشکیل کرتی ہے اوردوسری قسم اتصال کی صورت میں ہے اور جو فیوضات اتصال کی بنا پر رسول اللہ الاعظم (ص) پر وارد ہوتے ہیں وہ وحی کی دوسری قسم ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ جو بولتے یا کرتے ہیں وہ آپ (ص) کے قلب پر وارد ہوتا ہے. جو آیات ہیں ان سے قرآن کی تشکیل ہوتی ہے اور جو دیگر ارشادات ہیں وہ تفسیر آیات اور بیان احکام ہے یا پھر قیامت تک کے حوادث و وقائع کی پیشین گوئیاں ہیں.
ظاہر ہے کہ حضرت مہدی علیہ السلام کے ظہور کے بارے میں احادیث من جانب اللہ ہیں۔ اس لئے انکار مہدی علیہ السلام کو کفر قرار دیا گیا ہے کیونکہ آیات الہٰی اور احادیث رسول کا انکار لازم آتا ہے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مہدی موعود علیہ السلام کی ضرورت ظہور سے متعلق کئی طریقوں سے تفصیل کے ساتھ خبریں دی ہیں۔ چنانچہ دارقطنی ‘ طبرانی‘ ابو نعیم‘ حاکم وغیرہ نے ابن مسعود سے روایت کی ہے کہ:
قال رسول الله (ص) لا يذهب الدنيا حتيٰ يبعث الله تعاليٰ رجلاً من اهل بيتي يواطئ اسمه اسمي ...
دنیا ختم نہ ہوگی جب تک کہ اللہ تعالیٰ ایک ایسے شخص کو مبعوث نہ کرے جو میرے اہل بیت (ع) سے ہوگا اس کا نام میرے نام کے جیسا ہوگا۔
احمد بن حنبل نے مسند میں ابو سعید خدری سے روایت کی ہے کہ:
قال (ص) لا تقوم والساعة حتي يملک رجل من اهل بيتي ...
حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت اس وقت تک نہ ہوگی جب تک کہ میرے اہل بیت سے ایک شخص دنیا پر حکومت نہ کرے
اور ابو داﺅد نے بھی اس طرح کی ایک روایت نقل کی ہے:۔
عن زر بن عبدالله عن النبي (ص) قال لو لم يبق من الدنيا الا يوم واحد لطول الله ذالک اليوم حتيٰ يبعث رجلا من اهل بيتی يواطئ اسمه اسمي...
اگر بالفرض دنیا ختم ہونے کو ایک ہی دن باقی رہ جائے تو اللہ تعالیٰ اس ایک ہی دن کو اتنا طویل فرمادےگا کہ میرے اہل بیت میں سے ایک شخص مبعوث ہوجائے جس کا نام میرے نام کے مشابہ ہوگا۔
العرف الوری فی اخبار المہدی میں ابن ماجہ اور حاکم اور ابو نعیم کے نے ثوبان سے روایت کی ہے:
ثم يحي خليفة الله المهدي فاذاسمعتم به فاتوه فبايعوه ولو حبو اعلی الثلج فانه خليفة الله المهدي
پھر اللہ کا خلیفہ مہدی آئےگا پس جب تم اس کی خبر سنو تو ان کے پاس جاﺅ اور ان کی بیعت کرو اگرچہ کہ تمہیں برف پر سے رینگتے ہوئی جانا پڑے بی شک مہدی اللہ کا خلیفہ ہے۔
اس حدیث شریفہ سے ثابت ہے کہ مہدی علیہ السلام خلیفة اللہ ہیں۔ اور ان کی بیعت فرض ہے کیونکہ فبایعوہ“ کا مستفاد یہی ہے اور ” لوحبوا علی الثلج“ کے الفاظ تاکید اکید اور ” فانہ خلیفة اللہ“ کے الفاظ توجیہ فرضیت پر دلالت کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ایسی روایات بھی ملتی ہیں جن سے حضرت مہدی علیہ السلام کا معصوم عن الخطا ہونا ثابت ہوتا ہے چنانچہ اکابراہل سنت نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے کہ حضرت رسول اللہ (ص) نے فرمایا۔
المهدي مني يقضوا اثري ولا يخطئ
مہدی علیہ السلام میری اولاد سے ہوگا میرے نقش قدم پر چلےگا خطا نہ کرےگا۔
علامہ طحطاوی نے حاشیہ دارالمختار میں تحریر کیا ہے کہ:
المهدي ليس بمجتهد اذا المجتهد يحکم بالقياس وهو يحرم عليه القیاس لان المجتهد يخطئ وهو لا يخطئ قط فانه معصوم في احکامه بشهادة النبي و هو مبني علي عدم جواز الاجتهاد في حق الانبياء
مہدی مجتہد نہیں ہیں کیونکہ مجتہد کے احکام قیاسی ہوتے ہیں اور مہدی کے لئے قیاس حرام ہے اس لئے کہ مجتہد خطا کرتا ہے اور مہدی علیہ السلام سے ہرگز خطا نہیں ہوتی کیونکہ وہ اپنے احکام میں معصوم ہے جس کی شہادت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی دی ہے اور آنحضرت کی یہ شہادت اس امر پر مبنی ہے کہ انبیاء و خلفائے الہٰی کے لئے اجتہاد جائز نہیں۔
البتہ شیعہ مکتب میں قیاس حتی مجتہد کے لئے بهی حرام ہے اور یہ جناب ابوحنیفہ کے اختراعات میں سے ہے اور شیعہ مکتب میں امام معصوم کا کلام مجتہدین کے اجتہاد کی بنیاد ہوتا ہے کیونکہ وہ جو بولتے یا کرتے ہیں در حقیقت رسول اللہ کی حدیثیں ہیں. جیسا کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:
میری حدیث میرے والد کی حدیث اور میرے والد محمد بن علی علیہما السلام کی حدیث میرے دادا علی بن الحسین علیہما السلام کی حدیث ہے اور علی ابن الحسین علیہما السلام کی حدیث حسین بن علی علیہما السلام کی حدیث ہے اور امام حسین علیہ السلام کی حدیث امام حسن ابن علی علیہما السلام کی حدیث ہے اور امام حسن علیہ السلام کی حدیث حضرت امیر المؤمنین علی ابن ابی طالب علیہما السلام کی حدیث ہے اور امام علی علیہ السلام کی حدیث رسول اللہ الاعظم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی حدیث ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی حدیث وہی ہے جو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے جبرئیل کے توسط سے اللہ تعالی سے اخذ کیا ہے.
غرض حضرت مہدی علیہ السلام سے متعلق جتنی احادیث موجود ہیں اتنی کثرت کسی دوسرے مسئلے کے بارے میں کم ملےگی۔ برزنجی نے ” اشارہ فی اشراط الساعة “ میں لکھا ہے کہ:
واعلم ان الا حاديث الواردة فيه علي اختلاف رواياتها لا تکاد تنحصر ولو تعرضنا لتفصيلها لطال الکتاب و خرج عن موضوعه
واضح ہو کہ مہدی علیہ السلام سے متعلق احادیث اتنی کثیر وارد ہوئی ہیں کہ ان کا حصر نہیں کیا جاسکتا ۔ اگر ہم اسکی تفصیل بیان کرنا چاہیں تو کتاب طویل ہو جائےگی اور یہ اس کا موضوع بھی نہیں۔
جب علمائے حدیث و اصول نے احادیث کی اتنی کثرت دیکھی اور سب حدیثوں کو ظہور مہدی علیہ السلام کے بارے میں متفق علیہ پایا تو انہوں نے مسئلہ مہدویت کو تواترکے درجہ میں داخل کرلیا چنانچہ علامہ قاضی منتجب الدین جویزی نے لکھا:
واما ما اختاره‘ السلف واتفقوا في شانه فقد ذکر في القرطبي وقد تواتر الاخبار و استقاضت بکثرة رواتها عن النبي (ص) في المهدي (مخزن الدلايل)
بہر حال سلف نے جو اختیار کیا اور مہدی علیہ السلام کے بارے میں جو اتفاق کیا ہے وہ قرطبی میں مذکور ہے مہدی علیہ السلام سے متعلق جو حدیثیں ہیں اپنے روایوں کی کثرت کی وجہ تواتر کے درجے کو پہنچ گئی ہیں۔
شیخ ابن حجر ہیثمی نے ” القول المختصر“ میں تحریر کیا ہے کہ:
قال بعض ائمة الحفاظ ان کَونَ المهدي من ذرية رسول الله (ص) تواترت عنه (ص)
بعض حفاظ ائمہ حدیث نے فرمایا ہے کہ مہدی علیہ السلام کا آل رسول (ص) سے ہونا حضرت رسول (ص) سے متواتراً مروی ہے۔
شیخ عبدالحق محدث دہلوی نے ” لمعات شرح مشکوة کے باب الساعة میں لکھا ہے کہ:۔
قدوردت فيه الاحاديث کثيرة متواتر المعني
مہدی علیہ السلام کے بارے میں متواتر المعنی کثیر احادیث وارد ہیں۔
نیز لکھتے ہیں کہ:۔
قد تظاهرت الاحاديث البالغة حد التواتر معناً في کون المهدي من اهل بيت من ولد فاطمة (س)
مہدی علیہ السلام اہل بیت رسول (ص) اولاد فاطمہ (س) سے ہونے کی احادیث تواتر معنوی کی حد تک پہنچ گئی ہیں۔
بحرالعلوم عبدالعلی نے ” اشراط الساعة “ میں لکھا ہے کہ:۔
احاديثي که دال اند بر خروج امام مهدي کثير اند که مبلغ آں بتواتر رسيده
مہدی کی بعثت پر دلالت کرنے والی حدیثیں اتنی کثیر ہیں کہ تواتر کی حد کو پہنچ گئی ہیں۔
اکابر اہل سنت و علماءحدیث و اصول کے ایسے بہت سارے اقوال ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ مہدی علیہ السلام کی بعثت کی احادیث متواتر ہونے پر جمہور کا اتفاق ہے کیونکہ سب احادیث مہدی علیہ السلام کی آمد کے بارے میں یک زبان ہیں البتہ اختلاف ہے تو آثار و علامات میں ہے۔
نیز یہ امر بھی ذہن نشین ہونا چاہئے کہ جو امور تواتر کے درجے میں ہوں ان سے قطعی و یقینی علم حاصل ہوتا ہے۔ جن کا انکار نقل و عقل کے خلاف ہے۔ حافظ ابن حجرکی نے ”شرح نخبة الفکر“ میں تحریر کیا ہے کہ:
وهذا کون المتواتر مفيد اللعلم اليقين و هو المعتمد لان خبر المتواتر يفيد العلم الضروري وهو الذي يضطر الانسان اليه بحيث لا يمکنه رفعه
متواتر سے علم یقین کا فائدہ ہوتا ہے اور لائق اعتبار ہے۔ کیونکہ خبر متواتر علم ضروری کا ایسا فائدہ دیتی ہے کہ جس کو ماننے پر ہر آدمی مجبور ہوتا ہے حتی کہ اس کا رد کرنا ممکن نہیں۔
اور اہل سنت کے ہاں اصول فقہ کی معتبر کتاب ” اصول الشاشی“ میں لکھا ہے کہ:
ثم المتواتر يوجب العلم القطعي و يکون رده کفر
حدیث متواتر سے علم قطعی حاصل ہوتا ہے اور اس کو رد کرنا کفر ہے۔
پس عقیدہ ظہور مہدی علیہ السلام ایک آرزو نہیں ہے، یہ ایک افسانوی تصور بھی نہیں ہے بلکہ ضروریات دین میں سے ہے اور ہم نے یہاں اہل سنت کی معتبر کتابوں سے بعض حدیثیں نقل کی ہیں جن سے ثابت ہے کہ جس طرح قیامت پر اعتقاد لازم ہے ظہور مہدی علیہ السلام پر بھی اعتقاد لازم و واجب ہے اور سلف صالحین کی پیروی کے دعویدار بھی ایسی مستند و مستحکم پیشینگوئی سے ہرگز رو گردانی نہیں کرسکتے۔
البتہ اہل سنت کے اکابرین میں ابن خلدون کو اہل بیت سے عداوت کی بنا پر پہچانا جاتا ہے اور اس نے مہدی علیہ السلام کے بارے میں جو اختلاف کیا ہے وہ حتی علمائے اہل سنت کے ہاں بھی مسلماتِ اہل سنت کے صریح مغائر ہے اور اس نے جن روایات پر جرح کی ہے ان کی تعدیل بھی کی جاتی رہی ہے۔ مناظر احسن گیلانی صدر شعبہ دینیات جامعہ عثمانیہ نے ” مکاتیب امام غزالی“ کے مقدمے میں لکھا ہے کہ:
” اس قسم کا مغالطہ جس سے ابن خلدون نے مسلمانوں کے ” نظریہ مہدویت“ کو مضمحل کرنے میں کام لیا تھا ابن خلدون نے اپنی تاریخ کے مقدمہ میں اس کا تذکرہ کرکے کہ آئندہ مہدی علیہ السلام کی شکل میں مسلمانوں کو ایک نجات دہندہ ملےگا اس خیال کو اس نے غیر عقلی عقیدہ قرار دیا ہے وجہ یہ بیان کی ہے کہ قوموں کا حال بھی افراد کا ہے بچپن جوانی بڑھاپی کے دور سے جیسے افراد گذرتے ہیں قوموں کو بھی ان ہی ادوار سے گذرنا پڑتا ہے مسلمان جوانی کے بعد پیرانہ سالی کے حدود میں داخل ہوچکے ہیں اب دوبارہ ان کی نئی زندگی کی امید ایسی ہوئی جیسی کسی بوڑھے آدمی کے متعلق جوان ہونے کی خوش خیالی میں کوئی مبتلا ہو۔ لیکن ابن خلدون نے یہ نہیں سوچا کہ اسلام اور امت اسلامیہ کا تعلق کسی خاص نسل یا خون یا وطن کے باشندوں سے نہیں ہے۔ یہ ہوسکتا ہے کہ ایک قوم مثلاً عرب یا ترک اپنے ادوار ختم کرچکی ہوں لیکن کوئی دوسری تازہ دم قوم مسلمان ہوکر اسلام کو پھر ترو تازگی بخش سکتی ہے۔ تیرہ سو سال سے اس کا تجربہ ہورہا ہے اور ہوتا رہےگا اور اسی ابن خلدون کے خیال کی غلطی ظاہر ہوتی ہے۔ باقی مہدی علیہ السلام کے متعلق جو حدیث کی کتابوں میں روایتیں ہیں ان پر ابن خلدون نے جو اعتراضات کئے ہیں ان کی بھی محدثانہ حیثیت سے کوئی وقعت نہیں ہے اور مہدی علیہ السلام کا عقیدہ اہل سنت والجماعت کا ایک مسلمہ عقیدہ ہے (مکاتیب امام غزالی صفحہ (۳۲)مطبوعہ کراچی (پاکستان)
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ قرآن مجید میں فرمایا گیا ہے کہ اسلام پوری دنیا پر حکومت کرے گا اور کوئی بھی ایسا گھر نہ رہے گا جس سے لا الہ الا اللہ کی صدا بلند نہ ہورہی ہو مگر ابن خلدون جو کسی خاص فلسفے سے متاثر اور قرآن سے ناواقف نظر آتا ہے اس مسلمہ اسلامی عقیدے کی تردید کررہا ہے ، اس زمانے میں بھی دشمنان امام مہدی اور اہل بیت (ع) کی عالمی حکومت کو حاسدانہ انداز سے جھٹلانے والے کئی لوگ «قرب قیامت» کی پیشین گوئیاں کررہے ہیں اور وہ بھی در حقیقت قرآن کو جھٹلانے کا ارتکاب کررہے ہیں:
ارشاد ربانی ہے:
هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ (التوبه 33)
وہ خدا وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا تا کہ آپ (ص) اسے تمام ادیان پر غلبہ بخش دیں خواہ مشرکوں کو یہ بات بری ہی کیوں نہ لگے.
هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَكَفَى بِاللَّهِ شَهِيدًا (الفتح 28)
وہ خدا وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا تا کہ آپ (ص) اسے تمام ادیان پر غلبہ بخش دیں اور یہی کافی ہے کہ خدا خود ہی اس امر کا گواہ ہے.
هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ (الصف 9)
وہ خدا وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا تا کہ آپ (ص) اسے تمام ادیان پر فاتح کردیں خواہ مشرکوں کو یہ بات بری ہی کیوں نہ لگے.
ان تین آیات میں واضح کردیا گیا ہے کہ دین اسلام کو پوری دنیا پر حاوی ہونا ہے اور اس کو دنیا پر حکومت کرنے کا ہدف دیا گیا ہے۔
بظاہر دین کی خاطر پوری زندگی گذارنے والوں کی عداوت اہل بیت (ع) مجھے کبھی سمجھ میں نہیں آئی جبکہ قرآن مجید میں محبت اہل بیت (ع) کو اجر رسالت قرار دیا گیا ہے اور فرمایا گیا ہی کہ
قُل لَّا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى (الشوري 23)
کہہ دو: «میں اپنی رسالت کے عوض تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا سوائے میرے اقرباء اور اہل بیت کی مودت کے.
گو کہ ان لوگوں کے ہاں اولویت عداوت اہل بیت (ع) کو حاصل ہے اور اس سلسلے میں قرآن سے تمسک کے بلندبانگ دعؤوں کے برعکس قرآن کی صریح آیات کی تنقیض تک کا ارتکاب کردیتے ہیں.
فی الواقع ابن خلدون کی جرح خلاف اصول ہے کیونکہ تواتر کی صورت میں راویوں کے ضعف و قوت سے بحث نہیں کی جاتی ۔ ابن حجر نے میں تحریر کیا ہے کہ:
والمتواتر لا يبحث عن رجاله بل يجب العمل به من غير بحث لا يحابه اليقين وان وردعن الفساق بل عن الکفرة
(ماخوذاز ابراز الوهم المکنون)
خبر متواتر کی شان یہ ہے کہ اس کے راویوں سے بحث نہیں کی جاتی بلکہ اس پر بغیر بحث کے عمل کرنا واجب ہے کیونکہ خبر متواتر موجب یقین ہوتی ہے اگرچہ وہ روایت فاسقوں بلکہ کافروں سے ہوتی ہے۔
وضاحت:
اس کے علاوہ سلف اہل سنت و اکابر علماء حدیث و اصول کے مقابلے میں ایک مورخ کے ذاتی خیالات کو ترجیح نہیں دی جاسکتی۔
نیز یہ کہنا بھی صحیح نہیں ہے کہ ” خلفائے بنی عباس کے زمانے میں اس قسم کی احادیث پروپیگنڈے کے لئے وضع کرلی گئی ہیں “ یہ بات اصول منقول کے خلاف ہے اور غیر معقول ۔ کیونکہ ان روایات سے صاف ظاہر ہے کہ راویوں کے زمانے اور ظہور مہدی علیہ السلام کے زمانے میں صدیوں کا فاصلہ ہے۔ پس جن لوگوں نے اپنی ذاتی ضروریات و مصالح کے لئے بعثت مہدی علیہ السلام کی روایات وضع کرلی ہوں ‘ ان کو ایسی روایات وضع کرنے سے ان کی ضروریات و مصلحتوں میں کیا فائدہ پہنچ سکتا تھا جن کا وقوع صدیوں بعد ہونے کی خبر دےگئی ہے۔!
آخر میں ایک عرض کرنا ضروری ہے کہ یہ روایت سنی اور شیعہ کتب احادیث میں متفق علیہ ہے اور حتی کہ ایک راوی نے بھی اس سے اختلاف نہیں کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ہے کہ:
من مات و لم یعرف امام زمانه مات میتة الجاهلیة
جو اپنے زمانے کے امام کو پہچانے بغیر مرجائے وہ جاہلیت کی موت مرا ہے.
اس روایت میں تین اہم چیزوں کی طرف اشارہ ہوا ہے۔
1- ہر زمانے کا ایک امام ہوتا ہے.
2- مسلمان پر لازم ہے کہ اپنے زمانے کے امام کی معرفت رکھتا ہو.
3- اگر کوئی شخص اپنے زمانے کے امام کو پہچانے بغیر مرجائے وہ جاہلیت کی موت مرا ہے.
اب اگر مجھ سے کوئی پوچھے تو میں بتاؤں گا کہ میرے امام زمانہ حضرت م ح م د المہدی المنتظر حسن بن علی بن محمد بن علی بن موسی بن جعفر بن محمد بن علی بن الحسین ابن علی علیہم السلام کی فرزند ہیں گویا ان کی جد امجد علی ابن ابی طالب علیہ السلام اور جدّّۀ ماجدہ حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا ہیں اور حضرت رسول اللہ نے فرمایا ہے:
ان الله جعل ذرية کل نبي من صلبه و جعل ذريتي من صلب علي بن ابي طالب (عليهما السلام)
بے شک خداوند متعال نے ہر نبی کی ذریت اس کے اپنے صلب سے قرار دی اور میری ذریت علی ابن ابی طالب علیہما السلام کے صلب سے قرار دی۔
میں پوچھنا چاہتا ہوں - ان لوگوں سے جو اپنے سوا کسی کو بھی مسلمان کہنا گوارا نہیں کرتے اور اپنے عقائد کے مخالفیں کے گلے کاٹ کرجنت میں جانا چاہتے ہیں اور اپنے نوجوانوں کو شیعوں کے گلے کاٹنے پر جنت کے سرٹیفیکٹ ایشو کرتے ہیں - کہ ان کے زمانے کا امام کون ہے؟
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرماتے ہیں کہ ہر زمانے کا ایک امام ہوتا ہے تو ان لوگوں کا امام کون ہے؟ کیا وہ رسول اللہ کے اس ارشاد کے مطابق ہر زمانے کے لئے امام کے قائل بھی ہیں یا نہیں؟
جاہلیت کی موت سے مراد بھی واضح ہے یعنی یہ کہ وہ شخص جو اپنے امام کی معرفت حاصل کئے بغیر مرتا ہے اس کی مثال اس شخص کی سی ہے جو بعثت رسول (ص) سے قبل عالم جاہلیت میں شرک و کفر کی حالت میں مر جاتے تھے۔
+ نوشته شده در شنبه نهم مهر ۱۳۹۰ ساعت 14:7 توسط یدالله عزیزی گلتری | نظر بدهيد
+ نوشته شده در جمعه هشتم مهر ۱۳۹۰ ساعت 19:20 توسط یدالله عزیزی گلتری | نظر بدهيد
ظہور مہدی (ع) کا عقیدہ اسلامی عقیدہ ہے
ظہور مہدی (ع) کا عقیدہ اسلامی عقیدہ ہے
جو لوگ شیعوں کے بارہ میں غلط فہی میں مبتلا ہوکر شیعہ حقائق کا مطالعہ کرتے ہیں یا دشمنان اسلام کے سیاسی اغراض پر مبنی مسموم افکار کی ترویج کرتے ہیں وہ جادۂ تحقیق سے منحرف ہوکر اپنے مقالات یا بیانات میں یہ اظہار کرتے ہیں کہ ظہور مہدی (ع) کا عقیدہ ،شیعہ عقیدہ ہے اور اسے تمام اسلامی فرقوں کا عقیدہ تسلیم کرتے ہوئے انھیں زحمت ہوتی ہے۔
کچھ لوگ تعصب ونفاق کے علاوہ تاریخ وحدیث اورتفسیر ورجال سے ناواقفیت،اسلامی مسائل سے بے خبری اور عصر حاضر کے مادی علوم سے معمولی آگاہی کے باعث تمام دینی مسائل کو مادی اسباب وعلل کی نگاہ سے دیکھتے اور پرکھتے ہیں اور اگر کہیں کوئی راز یا فلسفہ سمجھ میں نہ آئے توفوراً تاویل وتوجیہ شروع کردیتے ہیں یا سرے سے انکار کربیٹھتے ہیں۔
اس طرح اپنے کمرہ کے ایک کونے میں بیٹھ کر قلم اٹھاتے ہیں اور اسلامی مسائل سے متعلق گستاخانہ انداز میں اظہار نظر کرتے رہتے ہیں جب کہ یہ مسائل ان کے دائرہ کا رومعلومات سے باہر ہیں، اس طرح یہ حضرات قرآن وحدیث سے ماخوذ مسلمانوں کے نزدیک متفق علیہ مسائل کا بہ آسانی انکار کردیتے ہیں۔ انھیں قرآن کے علمی معجزات، اسلامی قوانین اور اعلیٰ نظام سے زیادہ دلچسپی ہوتی ہے لیکن انبیاء کے معجزات اور خارق العادہ تصرفات کے بارے میں گفتگو سے گریز کرتے ہیں تاکہ کسی نووارد طالب علم کے منہ کا مزہ خراب نہ ہو جائے یا کوئی بے خبر اسے بعید از عقل نہ سمجھ بیٹھے۔
ان کے خیال میں کسی بات کے صحیح ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اسے ہر آدمی سمجھ سکے یا ہر ایک دانشوراس کی تائید کرسکے یا ٹیلی اسکوپ، مائیکرو اسکوپ یا لیبوریٹری میں فنی وسائل کے ذریعہ اس کا اثبات ہو سکے۔
ایسے حضرات کہتے ہیں کہ جہاں تک ممکن ہو انبیاء (ع) کو ایک عام آدمی کی حیثیت سے پیش کرنا چاہئے اور حتی الامکان ان کی جانب معجزات کی نسبت نہیں دینا چاہئے بلکہ بہتر تو یہ ہے کہ دنیا کے حوادث کی نسبت خداوند عالم کی جانب بھی نہ دی جائے یہ لوگ خدا کی قدرت، حکمت، علم، قضا وقدر کا صریحی تذکرہ بھی نہیں کرتے جو کچھ کہنا ہوتا ہے مادہ سے متعلق کہتے ہیں۔
خدا کی حمد وستائش کے بجائے مادہ اور طبیعت (Nature)کے گن گاتے ہیں تاکہ ان لوگوں کی لے میں لے ملا سکیں، جنہوں نے تھوڑے مادی علوم حاصل کئے ہیں یا فزکس، کمیسٹری، ریاضی سے متعلق چند اصطلاحات، فارمولے وغیرہ سیکھ لئے ہیں اوراگر انگریزی یا فرانسیسی زبان بھی آ گئی تو کیا کہنا۔
یہ صورت حال کم وبیش سبھی جگہ سرایت کر رہی ہے اور زندگی کے مختلف شعبوں میں اس کے آثار نمایاں نظر آتے ہیں، عموماً اس صورت حال کا شکار کچے ذہن کے وہ افراد ہوتے ہیں جو علوم قدیم وجدید کے محقق تو نہیں ہیں لیکن مغرب کے کسی بھی نظریہ یا کسی شخص کی رائے کو سو فیصدی درست مان لیتے ہیں چاہے اس کا مقصد سیاسی اور استعماری ہی رہا ہو، ہمارے بعض اخبارات، رسائل، مجلات و مطبوعات بھی دانستہ یا نادانستہ طور پر انہیں عوامل سے متاثر ہو کر سامراجی مقاصد کی خدمت میں مصروف ہیں ۔
انہیں یہ احساس نہیں ہے کہ یورپ اور امریکہ کے اکثر لوگ اور ان کے حکام کی علمی، عقلی، فلسفی اور دینی معلومات بالکل سطحی ہوتی ہیں، وہ اکثر بے خبر اور مغرض ہوتے ہیں (بلکہ ایک رپورٹ کے مطابق ٨١ فیصدافراد ضعف عقل و اعصاب ا ور دماغ میں مبتلا ہیں)اور اپنے پست اور انسانیت سے دور سیاسی مقاصد کے لئے دنیا کے مختلف مقامات پر اپنے سیاسی مفادات کے مطابق گفتگو کرتے ہیں، البتہ جو لوگ ذی علم و استعداد، محقق و دانشور ہیں ان کا معاملہ فحشاء و فساد میں ڈوبی اکثریت سے الگ ہے۔
ان کے معاشرہ میں ہزاروں برائیاں اور خرافات پائے جاتے ہیں پھر بھی وہ عقلی، سماجی، اخلاقی اور مذہبی بنیاد پر مبنی مشرقی عادات و رسوم کا مذاق اڑاتے ہیں۔
مشرق میں جو صورتحال پیدا ہو گئی ہے اسے ”مغرب زدہ ہونا” یا مغرب زدگی کہا جاتا ہے جس کی مختلف شکلیں ہیں اور آج اس سے ہمارا وجود خطرے میں ہے، انہوں نے بعض اسلامی ممالک کی سماجی زندگی سے حیاو عفت اور اخلاقی اقدار کو اس طرح ختم کر دیا ہے کہ اب ان کا حشر بھی وہی ہونے والا ہے جو اندلس (اسپین) کے اسلامی معاشرہ کا ہوا تھا۔
افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے زمانہ میں ایسے افراد جن کی معلومات اخبارات و رسائل سے زیادہ نہیں ہے اور انہوں نے مغربی ممالک کا صرف ایک دو مرتبہ ہی سفر کیا ہے،مغرب زدگی، مغرب کے عادات و اخلاق کے سامنے سپرانداختہ ہوکر موڈرن بننے کی جھوٹی اور مصنوعی خواہش، جو دراصل رجعت پسندی ہی ہے کو روشن فکری کی علامت قرار دیتے ہیں،اور اغیار بھی اپنے ذرائع کے ذریعہ مثلاً اپنے سیاسی مقاصد کے لئے انہیں مشتشرق، خاورشناس کا ٹائٹل دے کر ان جیسے افراد کی حوصلہ افزائی کرتے رہتے ہیں۔
ظہور حضرت مہدی (ع) کے بارے میں بھی ادھر ہمارے سنّی بھائیوں میں سے کچھ مغرب زدہ احمد امین، عبدالحسیب طٰہٰ حمیدہ جیسے افراد نے امام مہدی (ع) کے متعلق روایات نقل کرنے کے باوجود تشیع پر حملے کئے ہیں گویا ان کے خیال میں یہ صرف شیعوں کا عقیدہ ہے یا کتاب و سنت، اقوال صحابہ و تابعین وغیرہ میں اس کا کوئی مدرک و ماخذ نہیں ہے، بے سر پیر کے اعتراضات کر کے یہ حضرات اپنے کو روشن فکر، مفکر اور جدید نظریات کا حامل سمجھتے ہیں،غالباً سب سے پہلے جس مغرب زدہ شخص نے ظہور مہدی (ع) سے متعلق روایات کو ضعیف قرار دینے کی ناکام و نامراد کوشش کی وہ ابن خلدون ہے، جس نے اسلامی مسائل کے بارے میں ہمیشہ بغض اہلبیت (ع) اور اموی افکار کے زیر اثر بحث و گفتگو کی ہے۔
”عقاد ” کے بقول اندلس کی اموی حکومت نے مشرقی اسلام کی وہ تاریخ ایجاد کی ہے جو مشرقی مورخین نے ہرگز نہیں لکھی تھی اور اگر مشرقی مورخین لکھنا بھی چاہتے تو ایسی تاریخ بہر حال نہ لکھتے جیسی ابن خلدون نے لکھی ہے۔
اندلس کی فضا میں ایسے مورخین کی تربیت ہوتی تھی جو اموی افکار کی تنقید و تردید کی صلاحیت سے بے بہرہ تھے، ابن خلدون بھی انہیں افراد میں سے ہے جو مخصوص سیاسی فضا میں تربیت پانے کے باعث ایسے مسائل میں حقیقت بین نگاہ سے محروم ہو گئے تھے، فضائل اہلبیت (ع) سے انکار یا کسی نہ کسی انداز میں توہین یا تضعیف اور بنی امیہ کا دفاع اور ان کے مظالم کی تردیدسے ان کا قلبی میلان ظاہر ہے۔ ابن خلدون معاویہ کو بھی ”خلفائے راشدین” میں شمار کرتے ہیں۔
انہوں نے مہدی (ع) اہل بیت (ع) کے ظہور کے مسئلہ کو بھی اہل بیت (ع) سے بغض و عناد کی عینک سے دیکھا ہے کیونکہ مہدی (ع) بہرحال اولاد فاطمہ (ص) میں سے ہیں خانوادہ رسالت کا سب سے بڑا سرمایۂ افتخارہیں لہٰذا اموی نمک خوار کے حلق سے فرزند فاطمہ(ص) کی فضیلت کیسے اتر سکتی تھی چنانچہ روایات نقل کرنے کے باوجود ان کی تنقید و تضعیف کی سعی لاحاصل کی اور جب کامیابی نہ مل سکی تو اسے ”بعید” قرار دے دیا۔
اہل سنت کے بعض محققین اور دانشوروں نے ابن خلدون اور اس کے ہم مشرب افراد کا دندان شکن جواب دیا ہے اور ایسے نام نہاد روشن فکر افراد کی غلطیاں نمایاں کی ہیں۔
معروف معاصر عالم استاد احمد محمد شاکر مصری ”مقالید الکنوز” میں تحریر فرماتے ہیں ”ابن خلدون نے علم کے بجائے ظن و گمان کی پیروی کر کے خود کو ہلاکت میں ڈالا ہے۔ ابن خلدون پر سیاسی مشاغل، حکومتی امور اور بادشاہوں، امیروں کی خدمت و چاپلوسی کا غلبہ اس قدر ہو گیا تھا کہ انہوں نے ظہور مہدی (ع) سے متعلق عقیدہ کو ”شیعی عقیدہ” قرار دے دیا۔ انہوں نے اپنے مقدمہ میں طویل فصل لکھی ہے جس میں عجیب تضاد بیان پایا جاتا ہے ابن خلدون بہت ہی فاش غلطیوں کے مرتکب ہوئے ہیں، پھر استاد شاکر نے ابن خلدون کی بعض غلطیاں نقل کرنے کے بعد تحریر فرمایا: اس(ابن خلدون) نے مہدی (ع) سے متعلق روایات کو اس لئے ضعیف قرار دیا ہے کہ اس پر مخصوص سیاسی فکر غالب تھی، پھر استاد شاکر مزید تحریر کرتے ہیں کہ: ابن خلدون کی یہ فصل اسماء رجال، علل حدیث کی بے شمار غلطیوں سے بھری ہوئی ہے کبھی کوئی بھی اس فصل پر اعتماد نہیں کرسکتا۔”
استاد احمد بن محمد صدیق نے تو ابن خلدون کی رد میں ایک مکمل کتاب تحریر کی ہے جس کا نام ”ابراز الوہم المکنون عن کلام ابن خلدون” ہے۔ اس کتاب میں استاد صدیق نے مہدویت سے متعلق ابن خلدون کی غلطیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کا مکمل جواب دیا ہے اور ابن خلدون کو بدعتی قرار دیا ہے۔
ہر چند علمائے اہل سنت نے اس بے بنیاد بات کا مدلل جواب دیا ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ ظہور مہدی (ع) کا عقیدہ خالص اسلامی عقیدہ ہے اور امت مسلمہ کے نزدیک متفق علیہ اور اجتماعی ہے مگرہم چند باتیں بطور وضاحت پیش کر رہے ہیں :
١۔ شیعوں کا جو بھی عقیدہ یا نظریہ ہے وہ اسلامی عقیدہ و نظریہ ہے، شیعوں کے یہاں اسلامی عقائد و نظریات سے الگ کوئی عقیدہ نہیں پایا جاتا، شیعی عقائد کی بنیاد کتاب خدا اور سنت پیغمبر (ص) ہے اس لئے یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ کوئی عقیدہ شیعی عقیدہ ہو مگر اسلامی عقیدہ نہ ہو۔
٢۔ ظہور مہدی (ع) کا عقیدہ شیعوں سے مخصوص نہیں ہے بلکہ علمائے اہلسنت بھی اس پر متفق ہیں اور یہ خالص اسلامی عقیدہ ہے۔
٣۔ آپ کے نزدیک ”اسلامی عقیدہ” کا معیار کیا ہے؟ اگر قرآن مجید کی آیات کی تفسیر اسی سے ہوتی ہو تو کیا وہ عقیدہ اسلامی عقیدہ نہ ہوگا؟ اگر صحیح، معتبر بلکہ متواتر روایات (جو اہل سنت کی کتب میں بھی موجود ہیں) سے کوئی عقیدہ ثابت ہو جائے تب بھی کیا وہ عقیدہ اسلامی عقیدہ نہ ہوگا؟
اگر صحا بہ و تابعین اور تابعینِ تابعین کسی عقیدہ کے معتقد ہوں تو بھی وہ عقیدہ اسلامی نہیں ہے؟ اگر شواہد اور تاریخی واقعات سے کسی عقیدہ کی تائید ہو جائے اور یہ ثابت ہو جائے کہ یہ عقیدہ ہر دور میں پوری امت مسلمہ کے لئے مسلّم رہا ہے پھر بھی کیا آپ اسے اسلامی عقیدہ تسلیم نہ کریں گے؟
اگر کسی موضوع سے متعلق ابی دائود صاحب سنن جیسا محدث پوری ایک کتاب بنام ”المہدی”، شوکانی جیسا عالم ایک کتاب ”التوضیح” اسی طرح دیگر علماء کتابیں تحریر کریں، بلکہ پہلی صدی ہجری کی کتب میں بھی یہ عقیدہ پایا جاتا ہوتب بھی یہ عقیدہ اسلامی نہ ہوگا؟
پھر آپ ہی فرمائیں اسلامی عقیدہ کا معیار کیا ہے؟ تاکہ ہم آپ کے معیار و میزان کے مطابق جواب دے سکیں، لیکن آپ بخوبی جانتے ہیںکہ آپ ہی نہیںبلکہ تمام مسلمان جانتے ہیں کہ مذکورہ باتوں کے علاوہ اسلامی عقیدہ کا کوئی اور معیار نہیں ہو سکتا اور ان تمام باتوں سے ظہور مہدی (ع) کے عقیدہ کا اسلامی ہونا مسلّم الثبوت ہے چاہے آپ تسلیم کریں یا نہ کریں۔
+ نوشته شده در جمعه هشتم مهر ۱۳۹۰ ساعت 19:11 توسط یدالله عزیزی گلتری | نظر بدهيد
امام زمانہ(ع) زمین والوں کے لئے امان ہیں
امام زمانہ(ع) زمین والوں کے لئے امان ہیں
یہ کلام حضرت امام مھدی عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے اس جواب کا ایک حصہ ھے جس کو امام علیہ السلام نے اسحاق بن یعقوب کے جواب میں لکھا ھے، اسحاق نے اس خط میں امام علیہ السلام سے غیبت کی وجہ کے بارے میں سوال کیا تھا۔ امام علیہ السلام نے غیبت کی علت بیان کرنے کے بعد اس نکتہ کی طرف اشارہ فرمایا کہ غیبت کے زمانہ میں امام کا وجود بے فائدہ نھیں ھے، وجود امام کے فوائد میں سے ایک ادنیٰ فائدہ یہ ھے کہ امام زمین والوں کے لئے باعث امن و امان ھیں، جیسا کہ ستارے آسمان والوں کے لئے امن و سلامتی کا ذریعہ ھوتے ھیں۔ دوسری صحیح روایات میں اسی مضمون کی طرف اشارہ ھوا ھے۔ جیسا کہ اُن روایات میں بیان ھوا ھے: اگر زمین پر حجت (خدا) نہ ھو تو زمین اور اس پر بسنے والے مضطرب اور تباہ و برباد ھوجائیں۔
امام زمانہ علیہ السلام کو اھل زمین کے لئے امن و امان سے اس طرح تشبیہ دینا جس طرح ستارے اھل آسمان کے لئے امن و امان ھوتے ھیں؛ اس سلسلہ میں شباہت کی چند چیزیں پائی جاتی ھیں جن میں سے دو چیزوں کی طرف اشارہ کیا جاتا ھے:
۱۔ جس طرح تخلیقی لحاظ سے ستاروں کا وجود اور ان کو ان کی جگھوں پر رکھنے کی حالت اور کیفیت، تمام کرّات، سیارات اور کھکشاوٴں کے لئے امن و امان اور آرام کا سبب ھے، زمین والوں کے لئے امام زمانہ علیہ السلام کا وجود بھی اسی طرح ھے۔
۲۔ جس طرح ستاروں کے ذریعہ شیاطین آسمانوں سے بھگائے گئے ھیں اور اھل آسمان منجملہ ملائکہ کے امان و آرام کا سامان فراھم ھوا ھے اسی طرح حضرت امام زمانہ علیہ السلام کا وجود، تخلیقی اور تشریعی لحاظ سے اھل زمین سے، مخصوصاً انسانوں سے شیطان کو دور بھگانے کا سبب ھے۔
امام زمانہ(ع) زمین والوں کے لئے امان ھیں
<اِنّی لَاٴَمٰانُ لِاٴَہْلِ الْاٴَرْضِ کَمٰا اَٴنَّ النُّجُومَ اٴَمٰانُ لِاٴَہْلِ السَّمٰاءِ>[1]
”بے شک میں اھل زمین کے لئے امن و سلامتی ھوں، جیسا کہ ستارے آسمان والوں کے لئے امان کا باعث ھیں“۔
شرح
یہ کلام حضرت امام مھدی عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے اس جواب کا ایک حصہ ھے جس کو امام علیہ السلام نے اسحاق بن یعقوب کے جواب میں لکھا ھے، اسحاق نے اس خط میں امام علیہ السلام سے غیبت کی وجہ کے بارے میں سوال کیا تھا۔ امام علیہ السلام نے غیبت کی علت بیان کرنے کے بعد اس نکتہ کی طرف اشارہ فرمایا کہ غیبت کے زمانہ میں امام کا وجود بے فائدہ نھیں ھے، وجود امام کے فوائد میں سے ایک ادنیٰ فائدہ یہ ھے کہ امام زمین والوں کے لئے باعث امن و امان ھیں، جیسا کہ ستارے آسمان والوں کے لئے امن و سلامتی کا ذریعہ ھوتے ھیں۔ دوسری صحیح روایات میں اسی مضمون کی طرف اشارہ ھوا ھے۔ جیسا کہ اُن روایات میں بیان ھوا ھے: اگر زمین پر حجت (خدا) نہ ھو تو زمین اور اس پر بسنے والے مضطرب اور تباہ و برباد ھوجائیں۔
امام زمانہ علیہ السلام کو اھل زمین کے لئے امن و امان سے اس طرح تشبیہ دینا جس طرح ستارے اھل آسمان کے لئے امن و امان ھوتے ھیں؛ اس سلسلہ میں شباہت کی چند چیزیں پائی جاتی ھیں جن میں سے دو چیزوں کی طرف اشارہ کیا جاتا ھے:
۱۔ جس طرح تخلیقی لحاظ سے ستاروں کا وجود اور ان کو ان کی جگھوں پر رکھنے کی حالت اور کیفیت، تمام کرّات، سیارات اور کھکشاوٴں کے لئے امن و امان اور آرام کا سبب ھے، زمین والوں کے لئے امام زمانہ علیہ السلام کا وجود بھی اسی طرح ھے۔
۲۔ جس طرح ستاروں کے ذریعہ شیاطین آسمانوں سے بھگائے گئے ھیں اور اھل آسمان منجملہ ملائکہ کے امان و آرام کا سامان فراھم ھوا ھے اسی طرح حضرت امام زمانہ علیہ السلام کا وجود، تخلیقی اور تشریعی لحاظ سے اھل زمین سے، مخصوصاً انسانوں سے شیطان کو دور بھگانے کا سبب ھے۔
فلسفہٴ امامت اور صفات امام
<اٴَحْییٰ بِہِمْ دینَہُ، َواَٴتَمَّ بِہِمْ نُورَہُ، وَجَعَلَ بَیْنَہُمْ وَبَیْنَ إِخْوٰانِہِمْ وَبَنِي عَمِّہِمْ َوالْاٴَدْنَیْنَ فَالْاٴَدْنَیْنَ مِنْ ذَوي اٴَرْحٰامِہِمْ فُرْقٰاناً بَیِّناً یُعْرَفُ بِہِ الْحُجَّةُ مَنِ الْمَحْجُوجِ، وَالاِْمٰامُ مِنَ الْمَاٴمُومِ، بِاٴَنْ عَصَمَہُمْ مِنَ الذُّنُوبِ، وَ بَرَّاٴَہُمْ مِنَ الْعُیُوبِ، وَ طَہَّرَہُمْ مِنَ الدَّنَسِ، َونَزَّہَہُمْ مِنَ اللَّبْسِ، وَجَعَلَہُمْ خُزّٰانَ عِلْمِہِ، وَ مُسْتَوْدَعَ حِکْمَتِہِ، وَمَوْضِعَ سِرِّہِ، وَ اٴَیَّدَہُمْ بِالدَّلاٰئِلِ، وَلَوْلاٰ ذٰلِکَ لَکٰانَ النّٰاسُ عَلیٰ سَوٰاءٍ، وَ لَاِدَّعیٰ اٴَمْرَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ کُلُّ اٴَحَدٍ، وَ لَمٰا عُرِفَ الْحَقُ مِنَ الْبٰاطِلِ، وَ لاٰ الْعٰالِمُ مِنَ الْجٰاہِلِ۔>[2]
”اوصیائے (الٰھی) وہ افراد ھیں جن کے ذریعہ خداوندعالم اپنے دین کو زندہ رکھتا ھے، ان کے ذریعہ اپنے نور کو مکمل طور پر نشر کرتا ھے، خداوندعالم نے ان کے اور ان کے (حقیقی) بھائیوں، چچا زاد (بھائیوں) اور دیگر رشتہ داروں کے درمیان واضح فرق رکھا ھے کہ جس کے ذریعہ حجت اور غیر حجت نیز امام اور ماموم کے درمیان پہچان ھوجائے۔ اور وہ واضح فرق یہ ھے کہ اوصیائے الٰھی کو خداوندعالم گناھوں سے محفوظ رکھتا ھے اور ان کو ھر عیب سے منزہ، برائیوں سے پاک اور خطاؤں سے دور رکھتا ھے، خداوندعالم نے ان کو علم و حکمت کا خزانہ دار اور اپنے اسرار کا رازدار قرار دیا ھے اور دلیلوں کے ذریعہ ان کی تائید کرتا ھے۔ اگر یہ نہ ھوتے تو پھر تمام لوگ ایک جیسے ھوجاتے، اور کوئی بھی امامت کا دعویٰ کر بیٹھتا، اس صورت میں حق و باطل اور عالم و جاھل میں تمیز نہ ھوپاتی“۔
شرح:
یہ کلمات امام مھدی علیہ السلام نے احمد بن اسحاق کے خط کے جواب میں تحریر کئے ھیں، امام علیہ السلام چند نکات کی طرف اشارہ کرنے کے بعد امام اور امامت کی حقیقت اور شان کو بیان کرتے ھوئے امام کی چند خصوصیات بیان فرماتے ھیں، تاکہ ان کے ذریعہ حقیقی امام اور امامت کا جھوٹا دعویٰ کرنے والوں کے درمیان تمیز ھوسکے:
۱۔ امام کے ذریعہ خدا کا دین زندہ ھوتا ھے؛ کیونکہ امام ھی اختلافات، فتنوں اور شبھات کے موقع پر حق کو باطل سے الگ کرتا ھے اور لوگوں کو حقیقی دین کی طرف ھدایت کرتا ھے۔
۲۔ نور خدا جو رسول خدا (ص)سے شروع ھوتا ھے، امام کے ذریعہ تمام اور کامل ھوتا ھے۔
۳۔ خداوندعالم نے پیغمبر اکرم (ص)کی ذرّیت میں امام کی پہچان کے لئے کچھ خاص صفات معین کئے ھیں، تاکہ لوگ امامت کے سلسلہ میں غلط فھمی کا شکار نہ ھوں، مخصوصاً اس موقع پر جب ذرّیت رسول کے بعض افراد امامت کا جھوٹا دعویٰ کریں۔ ان میں سے بعض خصوصیات کچھ اس طرح ھیں: گناھوں کے مقابلہ میں عصمت، عیوب سے پاکیزگی، برائیوں سے مبرّااور خطا و لغزش سے پاکیزگی وغیرہ، اگر یہ خصوصیات نہ ھوتے تو پھر ھرکس و ناکس امامت کا دعویٰ کردیتا، اور پھر حق و باطل میں کوئی فرق نہ ھوتا، جس کے نتیجہ میں دین الٰھی پوری دنیا پر حاکم نہ ھوتا۔
فلسفہٴ امامت
<اٴَوَ مٰا رَاٴَیْتُمْ کَیْفَ جَعَلَ اللهُ لَکُمْ مَعٰاقِلَ تَاٴوُونَ إِلَیْہٰا، وَ اٴَعْلاٰماً تَہْتَدُونَ بِہٰا مِنْ لَدُنْ آدَمَ (علیہ السلام)۔>[3]
”کیا تم نے نھیںدیکھا کہ خداوندعالم نے کس طرح تمھارے لئے پناہ گاھیں قرار دی ھیں تاکہ ان میں پناہ حاصل کرو، اور ایسی نشانیاں قرار دی ھیں جن کے ذریعہ ھدایت حاصل کرو، حضرت آدم علیہ السلام کے زمانہ سے آج تک“۔
شرح
یہ تحریر اس توقیع [4] کا ایک حصہ ھے جس کو ابن ابی غانم قزوینی اور بعض شیعوں کے درمیان ھونے والے اختلاف کی وجہ سے امام علیہ السلام نے تحریر فرمایا ھے، ابن ابی غانم کا عقیدہ یہ تھا کہ حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام نے کسی کو اپنا جانشین مقرر نھیں کیاھے، اور سلسلہٴ امامت آپ ھی پر ختم ھوگیا ھے۔ شیعوں کی ایک جماعت نے حضرت امام مھدی علیہ السلام کو خط لکھا جس میں واقعہ کی تفصیل لکھی، جس کے جواب میں حضرت امام زمانہ علیہ السلام کی طرف سے ایک خط آیا، مذکورہ حدیث اسی خط کا ایک حصہ ھے۔
امام زمانہ علیہ السلام امامت، وصایت اور جانشینی میں شک و تردید سے دوری کرنے کے سلسلہ میں بہت زیادہ سفارش کرنے کے بعد فرماتے ھیں: وصایت کا سلسلہ ھمیشہ تاریخ کے مسلم اصول میں رھا ھے، اور جب تک انسان موجود ھے زمین حجت الٰھی سے خالی نھیں ھوگی، امام علیہ السلام نے مزید فرمایا:
”تاریخ کو دیکھو! کیا تم نے کسی ایسے زمانہ کو دیکھا ھے جو حجت خدا سے خالی ھو، اور اب تم اس سلسلہ میں اختلاف کرتے ھو“؟!
امام علیہ السلام نے حدیث کے اس سلسلہ میں امامت کے دو فائدے شمار کئے ھیں:
۱۔ امام، مشکلات اور پریشانیوں کے عالم میں ملجا و ماویٰ اور پناہ گاہ ھوتا ھے۔
۲۔ امام،لوگوں کو دین خدا کی طرف ھدایت کرتا ھے۔
کیونکہ امام معصوم علیہ السلام نہ صرف یہ کہ لوگوں کو دین اور شریعت الٰھی کی طرف ھدایت کرتے ھیں بلکہ مادّی اور دنیوی مسائل میں ان کی مختلف پریشانیوں کو بھی دور کرتے ھیں۔
علم امام کی قسمیں
<عِلْمُنٰا عَلیٰ ثَلاٰثَہِ اٴَوْجُہٍ: مٰاضٍ وَغٰابِرٍ وَحٰادِثٍ، اٴَمَّا الْمٰاضِي فَتَفْسیرٌ، وَ اٴَمَّا الْغٰابِرُ فَموْ قُوفٌ، وَ اٴَمَّا الْحٰادِثُفَقَذْفٌ في الْقُلُوبِ، وَ نَقْرُ في الْاٴَسْمٰاعِ، وَہُوَ اٴَفْضَلُ عِلْمِنٰا، وَ لاٰ نَبيَّ بَعْدَ نَبِیِّنٰا>[5]
”ھم (اھل بیت) کے علم کی تین قسمیں ھوتی ھیں: گزشتہ کا علم، آئندہ کا علم اور حادث کا علم۔ گزشتہ کا علم تفسیر ھوتا ھے، آئندہ کا علم موقوف ھوتا ھے اور حادث کا علم دلوں میں بھرا جاتا اور کانوں میں زمزمہ ھوتا ھے۔ علم کا یہ حصہ ھمارا بہترین علم ھے اور ھمارے پیغمبر (ص)کے بعد کوئی دوسرا رسول نھیں آئے گا“۔
شرح
یہ الفاظ امام زمانہ علیہ السلام کے اس جواب کا ایک حصہ ھیں جس میں علی بن محمد سمری (علیہ الرحمہ) نے علم امام کے متعلق سوال کیا تھا۔
علامہ مجلسی علیہ الرحمہ کتاب ”مرآة العقول“ میں ان تینوں علم کے سلسلہ میں فرماتے ھیں:
”علم ماضی سے وہ علم مراد ھے جس کو پیغمبر اکرم (ص)نے اپنے اھل بیت علیھم السلام سے بیان کیا ھے؛ نیز یہ علم ان علوم پر مشتملھے جو گزشتہ انبیاء علیھم السلام اور گزشتہ امتوں کے واقعات کے بارے میں ھیں اور جو حوادثات ان کے لئے پیش آئے ھیں اور کائنات کی خلقت کی ابتداء اور گزشتہ چیزوں کی شروعات کے بارے میں ھیں۔
علم ”غابر“ سے مراد آئندہ پیش آنے والے واقعات ھیں؛ کیونکہ غابر کے معنی ”باقی“ کے ھیں، غابر سے مراد وہ یقینی خبریں ھیں جو کائنات کے مستقبل سے متعلق ھیں، اسی وجہ سے امام علیہ السلام نے اس کو ”موقوفہ“ کے عنوان سے یاد کیا ھے جو علوم کائنات کے مستقبل سے تعلق رکھتے ھیں وہ اھل بیت علیھم السلام سے مخصوص ھیں، موقوف یعنی ”مخصوص“۔
”علم حادث“ سے مراد وہ علم ھے جو موجودات اور حالات کے ساتھ ساتھ بدلتا رہتا ھے، یا مجمل چیزوں کی تفصیل مراد ھے۔۔۔ ”قَذْفُ في الْقُلُوبِ“، سے خداوندعالم کی طرف سے عطا ھونے والا وہ الھام مراد ھے جو کسی فرشتہ کے بغیر حاصل ھوا ھو۔
”نَقْرُ في الْاٴَسْمٰاعِ“، سے وہ الٰھی الھام مراد ھے جو کسی فرشتہ کے ذریعہ حاصل ھوا ھو۔
تیسری قسم کی افضلیت کی دلیل یہ ھے کہ الھام (چاھے بالواسطہ ھو یا بلا واسطہ) اھل بیت علیھم السلام سے مخصوص ھے۔
الٰھی الھام کی دعا کے بعد ممکن ھے کوئی انسان (ائمہ علیھم السلام کے بارے میں) نبی ھونے کا گمان کرے، اسی وجہ سے امام زمانہ علیہ السلام نے آخر میں اس نکتہ کی طرف اشارہ فرمایا ھے کہ پیغمبر اکرم(ص) کے بعد کوئی پیغمبر نھیں آئے گا“۔[6]
ماخذ
[1] کمال الدین، ج ۲، ص ۴۸۵، ح ۱۰؛ الغیبة، شیخ طوسی، ص۲۹۲، ح۲۴۷؛ احتجاج، ج۲، ص۲۸۴؛ اعلام الوری، ج۲، ص۲۷۲، کشف الغمة، ج ۳، ص ۳۴۰، الخرائج والجرائح، ج ۳، ص ۱۱۱۵، بحار الانوار، ج ۵۳، ص ۱۸۱، ح ۱۰۔
[2] الغیبة، طوسی، ص ۲۸۸، ح ۲۴۶، احتجاج، ج ۲، ص ۲۸۰، بحار الانوار، ج ۵۳، ص ۱۹۴۔۱۹۵، ح ۲۱۔
[3] الغیبة، شیخ طوسی، ص ۲۸۶، ح ۲۴۵، احتجاج، ج ۲، ص ۲۷۸، بحار الانوار، ج ۵۳، ص ۱۷۹، ح ۹۔
[4] توقیع ، امام زمانہ علیہ السلام کے اس خط کو کھا جاتا ھے جس کو آپ نے کسی کے جواب میں بقلم خود تحریر کیا ھو۔(مترجم)
[5] دلائل الامامة، ص ۵۲۴، ح ۴۹۵، مدینة المعاجز، ج ۸، ص ۱۰۵، ح ۲۷۲۰۔
[6] دیکھئے: مرآة العقول، ج۳، ص ۱۳۶ تا۱۳۷۔
+ نوشته شده در جمعه هشتم مهر ۱۳۹۰ ساعت 19:10 توسط یدالله عزیزی گلتری | نظر بدهيد
امام زمانہ (علیہ السلام) کے انتظار کی خصوصیات
امام زمانہ (علیہ السلام) کے انتظار کی خصوصیات
جیسا کہ ھم نے عرض کیا کہ ”انتظار“ انسانی فطرت میں شامل ھے اور ھر قوم و ملت اور ھر دین و مذھب میں انتظار کا تصور پایا جاتا ھے، لیکن انسان کی ذاتی اور اجتماعی زندگی میں پایا جانے والا عام انتظار اگرچہ عظیم اور با اھمیت ھو لیکن امام مھدی علیہ السلام کے انتظار کے مقابلہ میں چھوٹا اور نا چیز ھے کیونکہ آپ کے ظھور کا انتظار درج ذیل خاص امتیازات رکھتا ھے:
امام زمانہ علیہ السلام کے ظھور کا انتظار ایک ایسا انتظار ھے جو کائنات کی ابتداء سے موجود تھا یعنی بھت قدیم زمانہ میں انبیاء علیھم السلام اور اولیائے کرام آپ کے ظھور کی بشارت دیتے تھے اور ھمارے تمام ائمہ (علیھم السلام) قریبی زمانہ میں آپ کی حکومت کے زمانہ کی آرزو رکھتے تھے۔
حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ھیں:
”اگر میں ان (امام مھدی علیہ السلام) کے زمانہ میں ھوتا تو تمام عمر ان کی خدمت کرتا“۔([1])
امام مھدی علیہ السلام کا انتظار ایک عالمی اصلاح کرنے والے کا ا نتظار ھے، عالمی عادل حکومت کا انتظار ھے اور تمام ھی اچھائیوں کے ظاھر ھونے کا انتظار ھے، چنانچہ اسی انتظار میں عالم بشریت آنکھیں بچھائے ھوئے ھے اور پاک و پاکیزہ قدرتی فطرت کی بنیاد پر اس کی تمنا کرتا ھے اور کسی بھی زمانہ میں مکمل طور پر اس تک نھیں پہنچ سکا ھے، و حضرت امام مھدی علیہ السلام اسی شخصیت کا نام ھے جو عدالت اور معنویت، برادری اور برابری، زمین کی آبادی ، صلح و صفا ، عقل کی شکوفائی اور انسانی علوم کی ترقی کو تحفہ میں لائیں گے، اور استعمار و غلامی ، ظلم و ستم اور تمام برائیوں کا خاتمہ کرنا آپ کی حکومت کا ثمرہ ھوگا۔
امام مھدی (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف) کا انتظار ایسا انتظار ھے جس کے شکوفائی کا راستہ فراھم ھونے سے خود انتظار بھی شگوفہ ھوجائے گا، اور وہ ایسا زمانہ ھوگا کہ جب تمام انسان آخر الزمان میں اصلاح کرنے والے اور نجات بخشنے والے کی تلاش میں ھوں گے، وہ آئیں گے تاکہ اپنے ناصر و مددگاروں کے ساتھ برائیوں کے خلاف قیام کریں گے نہ یہ کہ صرف اپنے معجزہ سے پوری کائنات کے نظام کو بدل دیں گے۔
امام مھدی علیہ السلام کا انتظار ان کے منتظرین میں ان کی نصرت و مدد کا شوق پیدا کرتا ھے اور انسان کو حیثیت اور حیات عطا کرتا ھے، نیز اس کو بے مقصد سرگرمی اور گمراھی سے نجات دیتا ھے۔
قارئین کرام! یہ تھیں اس انتظار کی بعض خصوصیات جو تمام تاریخ کی وسعت کے برابر ھیں اور ھر انسان کی روح میں اس کی جڑیں موجود ھیں، اور کوئی دوسرا انتظار اس عظیم انتظار کی خاک پا بھی نھیں ھوسکتا، لہٰذا مناسب ھے کہ امام مھدی علیہ السلام کے انتظار کے مختلف پھلوؤں اور اس کے آثار و فوائد کو پہچانیں اور آپ کے ظھور کے منتظرین کی ذمہ داریاں اور اس کے بے نظیر ثواب کے بارے میں گفتگو کریں۔
انتظار کے پھلو
خود انسان میں مختلف پھلو پائے جاتے ھیں: ایک طرف تو نظری (تھیوری) اور عملی (پریکٹیکل) پھلو اس میں موجود ھے اور دوسری طرف اس میں ذاتی اور اجتماعی پھلو بھی پایا جاتا ھے، اور ایک دوسرے رخ سے جسمانی پھلو کے ساتھ روحی اور نفسیاتی پھلو بھی اس میں موجود ھے، جبکہ اس بات میں کوئی شک نھیں ھے کہ مذکورہ پھلوؤں کے لئے مخصوص قوانین کی ضرورت ھے، تاکہ ان کے تحت انسان کے لئے زندگی کا صحیح راستہ کھل جائے، اور منحرف اور گمراہ کن راستہ بند ھوجائے۔
امام مھدی (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف) کے ظھور کا انتظار، منتظر کے تمام پھلوؤں پر موثر ھے، انسان کے فکری اور نظری پھلو جو انسان کے اعمال و کردار کا بنیادی پھلو ھے ، انسانی زندگی کے بنیادی عقائد پر اپنے حصار کے ذریعہ حفاظت کرتا ھے۔ دوسرے الفاظ میں یوں عرض کیا جائے کہ صحیح انتظار اس بات کا تقاضا کرتا ھے کہ منتظر اپنی اعتقادی اور فکری بنیادوں کو مضبوط کرے تاکہ گمراہ کرنے والے مذاھب کے جال میں نہ پھنس جائے یا امام مھدی علیہ السلام کی طولانی غیبت کی وجہ سے یاس و ناامیدی کے دلدل میں نہ پھنس جائے۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ھیں:
”لوگوں پر ایک زمانہ وہ آئے گا کہ جب ان کا امام غائب ھوگا، خوش نصیب ھے وہ شخص جو اس زمانہ میں ھمارے امر (یعنی ولایت) پر ثابت قدم رھے“۔([2])
یعنی غیبت کے زمانہ میں دشمن نے مختلف شبھات کے ذریعہ یہ کوشش کی ھے کہ شیعوں کے صحیح عقائد کو ختم کردیا جائے، لیکن ھمیں انتظار کے زمانہ میں اپنے عقائد کی حفاظت کرنا چاہئے۔
انتظار ، عملی پھلو میں انسان کے اعمال اور کردار کو راستہ دیتا ھے، ایک حقیقی منتظر کو عملی میدان میں کوشش کرنا چاہئے کہ امام مھدی علیہ السلام کی حکومت حق کا راستہ فراھم ھوجائے، لہٰذا منتظر کو اس سلسلہ میں اپنی اور معاشرہ کی اصلاح کے لئے کمرِ ھمت باندھنا چاہئے، نیز اپنی ذاتی زندگی میں اپنی روحی اور نفسیاتی حیات اور اخلاقی فضائل کو کسب کرنے کی طرف مائل ھو اور اپنے جسم و بدن کو مضبوط کرے تاکہ ایک کار آمد طاقت کے لحاظ سے نورانی مورچہ کے لئے تیار رھے۔
حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ھیں:
”جو شخص امام قائم علیہ السلام کے ناصر و مددگار میں شامل ھونا چاھتا ھے اسے انتظار کرنا چاہئے اور انتظار کی حالت میں تقویٰ و پرھیزگاری کا راستہ اپنانا چاہئے اور نیک اخلاق سے مزین ھونا چاہئے“۔([3])
اس ”انتظار“ کی خصوصیت یہ ھے کہ یہ انسان کو اپنی ذات سے بلند کرتا ھے اور اس کو معاشرہ کے ھر شخص سے جوڑ دیتا ھے، یعنی انتظار نہ صرف انسان کی ذاتی زندگی میں موٴثر ھوتا ھے بلکھ معاشرہ میں انسان کے لئے مخصوص منصوبہ بھی پیش کرتا ھے اور معاشرہ میں مثبت قدم اٹھانے کی رغبت بھی دلاتا ھے، اور چونکہ حضرت امام مھدی علیہ السلام کی حکومت اجتماعی حیثیت رکھتی ھے، لہٰذا ھر انسان اپنے لحاظ سے معاشرہ کی اصلاح کے لئے کوشش کرے اور معاشرہ میں پھیلی برائیوں کے سامنے خاموش اور بے توجہ نہ رھے، کیونکہ عالمی اصلاح کرنے والے کے منتظر کو فکر و عمل کے لحاظ سے اصلاح اور خیر کے راستہ کو اپنانا چاہئے۔
مختصر یہ ھے کہ ”انتظار“ ایک ایسا مبارک چشمہ ھے جس کا آب حیات انسان اور معاشرہ کی رگوں میں جاری ھے، اور زندگی کے تمام پھلوؤں میں انسان کو الٰھی رنگ اور حیات عطا کرتا ھے، اور خدائی رنگ سے بھتر اور ھمیشگی رنگ اور کونسا ھوسکتا ھے؟!
قرآن کریم میں ارشاد ھوتا ھے:
<صِبْغَةَ اللهِ وَمَنْ اٴَحْسَنُ مِنْ اللهِ صِبْغَةً وَنَحْنُ لَہُ عَابِدُونَ >([4])
”رنگ تو صرف اللہ کا رنگ ھے اور اس سے بھتر کس کا رنگ ھوسکتا ھے اور ھم سب اسی کے عبادت گزار ھیں “۔
مذکورہ مطالب کے پیش نظر “مصلح کل” حضرت امام زمانہ علیہ السلام کے منتظرین کی ذمّہ داری ”الٰھی رنگ اپنانے“ کے علاوہ کچھ نھیں ھے جو انتظار کی برکت سے انسان کی ذاتی اور اجتماعی زندگی کے مختلف پھلوؤں میں جلوہ گر ھوتا ھے، جس کے پیش نظر ھماری وہ ذمّہ داریاں ھمارے لئے مشکل نھیں ھوں گی، بلکہ ایک خوشگوار واقعہ کے عنوان سے ھماری زندگی کے ھر پھلو میں ایک بھترین معنی و مفھوم عطا کرے گی۔ واقعاً اگر ملک کا مھربان حاکم اور محبوب امیر قافلہ ھمیں ایک شائستہ سپاھی کے لحاظ سے ایمان کے خیمہ میں بلائے اور حق و حقیقت کے مورچہ پر ھمارے آنے کا انتظار کرے تو پھر ھمیں کیسا لگے گا؟ کیا پھر ھمیں اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے میں کوئی پریشانی ھوگی کہ یہ کام کرو اور ایسا بنو، یا ھم خود چونکہ انتظار کے راستہ کو پہچان کر اپنے منتخب مقصد کی طرف قدم بڑھاتے ھوئے نظر آئیں گے؟!
منتظرین کی ذمّہ داریاں
دینی رھبروں کے ذریعہ احادیث اور روایات میں ظھور کا انتظار کرنے والوں کی بھت سی ذمّہ داریاں بیان ھوئی ھیں، ھم یھاں پر ان میں سے چند اھم ذمّہ داریاں کو بیان کرتے ھیں۔
امام کی پہچان
امام علیہ السلام کی شناخت اور پہچان کے بغیر راہ انتظار کو طے کرنا ممکن نھیں ھے، انتظار کی وادی میں صبر و استقامت کرنا امام علیہ السلام کی صحیح شناخت سے وابستہ ھے، لہٰذا امام مھدی علیہ السلام کے اسم گرامی اور نسب کی شناخت کے علاوہ ان کی عظمت اور ان کے رتبہ و مقام کی کافی مقدار میں شناخت بھی ضروری ھے۔
”ابو نصر“ امام حسن عسکری علیہ السلام کےخادم،امام مھدی علیہ السلام کی غیبت سے پھلے امام عسکری علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ھوئے، امام مھدی (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف) نے ان سے سوال کیا: کیا مجھے پہچانتے ھو؟ انھوں نے جواب دیا: جی ھاں، آپ میرے مولا و آقا اور میرے مولا و آقا کے فرزند ھیں! امام علیہ السلام نے فرمایا: میرا مقصد ایسی پہچان نھیں ھے!؟ ابو نصر نے عرض کی: آپ ھی فرمائیں کہ آپ کا مقصد کیا تھا۔
امام علیہ السلام نے فرمایا:
”میں پیغمبر اسلام (ص) کا آخری جانشین ھوں، اور خداوندعالم میری (برکت کی) وجہ سے ھمارے خاندان اور ھمارے شیعوں سے بلاؤں کو دور فرماتا ھے“۔([5])
اگر منتظر کو امام علیہ السلام کی معرفت حاصل ھوجائے تو پھر وہ اسی وقت سے اپنے کو امام علیہ السلام کے مورچہ پر دیکھے گا اور احساس کرے گا کہ امام علیہ السلام اور ان کے خیمہ کے نزدیک ھے، لہٰذا اپنے امام کے مورچہ کو مضبوط بنانے میں پَل بھر کے لئے کوتاھی نھیں کرے گا۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ھیں:
” مَنْ مَاتَ وَ ہُوَ عَارِفٌ لِاِمَامِہِ لَمْ َیضُرُّہُ، تَقَدَّمَ ہَذَا الاٴمْرِ اٴوْ تَاٴخَّرَ، وَ مَنْ مَاتَ وَ ہُوَ عَارِفٌ لِاِمَامِہِ کَانَ کَمَنْ ہُوَ مَعَ القَائِمِ فِی فُسْطَاطِہِ“([6])
”جو شخص اس حال میں مرے کہ اپنے امام زمانہ کو پہچانتا ھو تو ظھور کا جلد یا تاخیر سے ھونا کوئی نقصان نھیں پھونچاتا، اور جو شخص اس حال میں مرے کہ اپنے امام زمانہ کو پہچانتا ھو تو وہ اس شخص کی طرح ھے جو امام کے خیمہ اور اور امام کے ساتھ ھو“۔
قابل ذکر ھے کہ یہ معرفت اور شناخت اتنی اھم ھے کہ معصومین علیھم السلام کے کلام میں بیان ھوئی ھے اور جس کو حاصل کرنے کے لئے خداوندعالم سے مدد طلب کرنا چاہئے۔
حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:
”حضرت امام مھدی علیہ السلام کی طولانی غیبت کے زمانہ میں باطل خیال کے لوگ (اپنے دین اور عقائد میں) شک و شبہ میں مبتلا ھوجائیں گے، امام علیہ السلام کے خاص شاگرد جناب زرارہ نے کھا: آقا اگر میں وہ زمانہ پائوں تو کونسا عمل انجام دوں؟
امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: اس دعا کو پڑھو:
”اَللّٰہُمَّ عَرِّفْنِی نَفْسَکَ فَإنَّکَ إنْ لَمْ تُعَرِّفْنِی نَفْسَکَ لَمْ اٴعْرِفْ نَبِیَّکَ، اَللّٰہُمَّ عَرِّفْنِی رَسُولَکَ فَإنَّکَ إنْ لَمْ تُعَرِّفْنِی رَسُولَکَ لَمْ اٴعْرِفْ حُجَّتَکَ، اَللّٰہُمَّ عَرِّفْنِی حُجَّتَکَ فَإنَّکَ إنْ لَمْ تُعَرِّفْنِی حُجَّتَکَ ضَلَلْتُ عَنْ دِیْنِی“([7])
”پرودگارا! مجھے تو اپنی ذات کی معرفت کرادے اور اگر تو نے مجھے اپنی ذات کی معرفت نہ کرائی تو میں تیرے نبی کو نھیں پہچان سکتا، پرودگارا! تو مجھے اپنے رسول کی معرفت کرادے اور اگر تو نے اپنے رسول کی پہچان نہ کرائی تو میں تیری حجت کو نھیں پہچان سکوں گا، پروردگارا! تو مجھے اپنی حجت کی معرفت کرادے اور اگر تو نے مجھے اپنی حجت کی پہچان نہ کرائی تو میں اپنے دین سے گمراہ ھوجاؤں گا“۔
قارئین کرام! مذکورہ دعا میں نظام کائنات کے مجموعہ میں امام علیہ السلام کی عظمت کی معرفت بیان ھوئی ھے([8]) اور وہ خداوندعالم کی طرف سے حجت اور پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کا حقیقی جانشین اور تمام لوگوں کا ھادی و رھبر ھے جس کی اطاعت سب پر واجب ھے، کیونکہ اس کی اطاعت خداوندعالم کی اطاعت ھے۔
معرفت امام کا دوسرا پھلو امام علیہ السلام کے صفات اور ان کی سیرت کی پہچان ھے([9]) معرفت کا یہ پھلو انتظار کرنے والے کی رفتار و گفتار پر بھت زیادہ موثر ھوتا ھے، اور ظاھر سی بات ھے کہ انسان کو امام علیہ السلام کی جتنی معرفت ھوگی اس کی زندگی میں اتنے ھی آثار پیدا ھوں گے۔
نمونہ عمل
جس وقت امام علیہ السلام کی معرفت اور ان کے خوشنماجلوے ھماری نظروں کے سامنے ھوں گے تو اس مظھر کمالات کو نمونہ قرار دینے کی بات آئے گی۔
پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) فرماتے ھیں:
”خوش نصیب ھیں وہ لوگ جو میری نسل کے قائم کو اس حال میں دیکھیں کہ اس کے قیام سے پھلے خود اس کی اور اس سے پھلے ائمہ کی اقتداء کرتے ھوں اور ان کے دشمنوں سے بیزاری کا اعلان کرتے ھوں، ایسے افراد میرے دوست اور میرے ساتھی ھیں، اور یھی لوگ میرے نزدیک میری امت کے سب سے عظیم افراد ھیں“۔([10])
واقعاً جو شخص تقویٰ، عبادت، سادگی، سخاوت، صبر اور تمام اخلاقی فضائل میں اپنے امام کی پیروی کرے تو ایسے شخص کا رتبہ اس الٰھی رھبر کے نزدیک کس قدر زیادہ ھوگا اور ان کے حضور میں شرفیابی سے کس قدر سرفراز اور سربلند ھوگا؟!
کیا اس کے علاوہ ھے کہ جو شخص دنیا کے سب سے خوبصورت منظر کا منتظر ھے وہ اپنے کو خوبیوں سے آراستہ کرے اور خود کو برائیوں سے دور رکھے نیز انتظار کے لمحات میں اپنے افکار و اعمال کی حفاظت کرتا رھے؟! ورنہ آہستہ آہستہ برائیوں کے جال میں پھنس جائے گا اور پھر اس کے اور امام کے درمیان فاصلہ زیادہ ھوتا جائے گا، یہ ایک ایسی حقیقت ھے جو خود خطرات سے آگاہ کرنے والے امام علیہ السلام کے کلام میں بیان ھوئی ھے:
”فَمَا یَحْبِسُنَا عَنْہُمْ إلاَّ مَا یَتَّصِلُ بِنَا مِمَّا نُکْرِہُہُ وَ لاٰ نُوٴثِرُہُ مِنْہُم“([11])
”کوئی بھی چیز ھمیں اپنے شیعوں سے جدا نھیں کرتی، مگر خود ان کے وہ (برے) اعمال جو ھمارے پاس پہنچتے ھیں جن اعمال کو ھم پسند نھیں کرتے اور شیعوں سے ان کی امید بھی نھیں ھے!“۔
منتظرین کی آخری آرزو یہ ھے کہ امام مھدی علیہ السلام کی عالمی عدل کی حکومت میں کچھ حصہ ان کا بھی ھو، اور اس آخری حجت خدا کی نصرت و مدد کا افتخار ان کو بھی حاصل ھو، لیکن اس عظیم سعادت کو حاصل کرنا خود سازی اور اخلاقی صفات سے آراستہ ھوئے بغیر ممکن نھیں ھے۔
حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ھیں:
”مَنْ سَرَّہُ اٴنْ یَکُوْنَ مِنْ اٴصْحَابِ الْقَائِمِ فَلْیَنْتَظِرْ وَ لِیَعْمَلْ بِالْوَرَعِ وَ مَحَاسِنِ الاٴخْلاَقِ وَ ہُوَ مُنْتَظِر“([12])
”جو شخص یہ چاھتا ھو کہ حضرت قائم علیہ السلام کے ناصروں میں شامل ھو تو اسے اس حال میں منتظر رہنا چاہئے کہ تقویٰ اور پرھیزگاری اور اخلاق حسنہ سے آراستہ رھے“۔
یہ بات روشن ھے کہ ایسی آرزو تک پہنچنے کے لئے خود امام مھدی علیہ السلام سے بھتر کوئی نمونہ نھیں مل سکتا جو تمام ھی نیکی اور خوبیوں کا آئینہ ھے۔
______________________________
[1] غیبت نعمانی، باب ۱۳، ح۴۶، ص ۲۵۲۔
[2] کمال الدین، ج۱، ح ۱۵، ص ۶۰۲۔
[3] غیبت نعمانی، باب ۱، ح۱۶، ص ۲۰۰۔
[4] سورہ بقرہ، آیت ۱۳۸۔
[5] کمال الدین، ج۲، باب ۴۳، ح۱۲، ص ۱۷۱۔
[6] اصول کافی، ج۱، باب ۸۴، ح ۵، ص ۴۳۳۔
[7] غیبت نعمانی، باب ۱۰، فصل ۳، ح۶، ص ۱۷۰۔
[8] اس سلسلہ میں کتاب کی پھلی فصل میں بعض مطالب بیان ھوئے ھیں، دوبارہ مطالعہ فرمائیں۔
[9] ھم امام مھدی علیہ السلام کی سیرت اور صفات کے بارے میں آنے والی فصل میں گفتگو ھوگی۔
[10] کمال الدین، ج۱، باب ۲۵، ح۳، ص ۵۳۵۔
[11] بحار الانور، جلد ۵۳، ص ۱۷۷۔
[12] غیبت نعمانی، باب ۱۱، ح۱۶، ص ۲۰۷۔
+ نوشته شده در جمعه هشتم مهر ۱۳۹۰ ساعت 19:10 توسط یدالله عزیزی گلتری | نظر بدهيد
حضرت امام محمد مھدی علیہ السلام
حضرت امام محمد مھدی علیہ السلام
امام زمانہ حضرت امام مہدی علیہ السلام سلسلہ عصمت محمدیہ کی چودھوےںاورسلک امامت علویہ کی بارھوےں کڑی ہیں آپ کے والد ماجد حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام اور والدہ ماجدہ جناب نرجس( ۱) خاتون تھےں۔
آپ اپنے آباوٴاجدادکی طرح امام منصوص ،معصوم ،اعلم زمانہ اورافضل کا ئنات ہیں ۔آپ بچپن ہی میں علم وحکمت سے بھرپور تھے۔ (صواعق محرقہ ۲۴۱# ) آپ کو پانچ سال کی عمرمیں وےسی ہی حکمت دے دی گئی تھی ،جےسی حضرت ےحےی کو ملی تھی اورآپ بطن مادرمیں اسی طرح امام قراردئےے گئے تھے،جس طرح حضرت عیسی علیہ السلام نبی قرارپائے تھے۔(کشف الغمہ ص ۱۳۰ ) آپ انبیاء سے بہترہیں ۔(اسعاف الراغبےن ص ۱۲۸)
آپ کے متعلق حضرت رسول کرےم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بے شمار پےشےن گوئیاں فرمائی ہیں اوراس کی وضاحت کی ہے کہ آپ حضورکی عترت اورحضرت فاطمةالزہرا کی اولاد سے ہوں گے۔ ملاحظہ ہوجامع صغےرسیوطی ص ۱۶۰ طبع مصرومسند احمدبن حنبل جلد ۱ ص ۸۴ طبع مصروکنوزالحقائق ص ۱۲۲ ومستدرک جلد ۴ ص ۵۲۰ ومشکوة شرےف )
آپ نے یہ بھی فرمایاہے کہ امام مہدی کا ظہورآخرزمانہ میں ہوگا ۔اورحضرت عیسی ان کے پےچھے نماز پڑھےں گے ۔ملاحظہ ہو صحیح بخاری پ ۱۴ ص ۳۹۹ وصحیح مسلم جلد ۲ ص ۹۵ صحیح ترمذی ص ۲۷۰ وصحیح ابوداؤد جلد ۲ ص ۲۱۰ وصحیح ابن ماجہ ص ۳۴ وص ۳۰۹ وجامع صغےرص ۱۳۴ وکنوزالحقائق ص ۹۰)
آپ نے یہ بھی کہاہے کہ امام مہدی میرے خلےفہ کی حیثیت سے ظہورکریں گے اور ےختم الدےن بہ کما فتح بنا جس طرح میرے ذرےعہ سے دےن اسلام کا آغاز ہوا ۔ اسی طرح ان کے ذرےعہ سے مہراختتام لگادی جائےگی ۔ ملاحظہ ہوکنوزالحقائق ص ۲۰۹ آپ نے اس کی بھی وضاحت فرمائی ہے کہ امام مہدی کا اصل نام میرے نام کی طرح محمد اورکنےت مےری کنےت کی طرح ابوالقاسم ہوگی وہ جب ظہورکریں گے توساری دنیاکو عدل وانصاف سے اسی طرح پرکردیں گے جس طرح وہ اس وقت ظلم وجورسے بھری ہوگی ۔ ملاحظہ ہو جامع صغےرص ۱۰۴ ومستدرک امام حاکم ص ۴۲۲ و ۴۱۵ ظہورکے بعد ان کی فورابیعت کرنی چاہےے کےونکہ وہ خداکے خلےفہ ہوں گے ۔ (سنن ابن ماجہ اردوص ۲۶۱ طبع کراچی ۱۳۷۷ ھج) ۔
حضرت امام محمد مہدی علیہ السلام کی ولادت باسعادت
مورخین کا اتفاق ہے کہ آپ کی ولادت باسعادت ۱۵ شعبان ۲۵۵ ھج یوم جمعہ بوقت طلوع فجرواقع ہوئی ہے جیسا کہ (وفیات الاعیان ،روضة الاحباب ،تاریخ ابن الوردی ، ینابع المودة، تاریخ کامل طبری ، کشف الغمہ ، جلاٴالعیون ،اصول کافی ، نور الا بصار ، ارشاد ، جامع عباسی ، اعلام الوری ، اور انوار الحسینہ وغیرہ میں موجود ہے (بعض علماٴ کا کہنا ہے کہ ولادت کا سن ۲۵۶ ھ ج اور ما دہ ٴ تاریخ نور ہے ) یعنی آپ شب برات کے اختتام پر بوقت صبح صادق عالم ظھور وشہود میں تشریف لائے ہیں ۔
۱ نرجس ایک یمنی بوٹی کو کہتے ہیں جس کے پھول کی شعراٴ آنکھوں سے تشبیہ دیتے ہیں (المنجد ص۸۶۵ ) منتہی الادب جلد ۴ ص۲۲۲۷ میں ہے کہ یہ جملہ دخیل اور معرب یعنی کسی دوسری زبان سے لایا گیا ہے ۔ صراح ص۴۲۵ اور العماط صدیق حسن ص۴۷ میں ہے کہ یہ لفظ نرجس ، نرگس سے معرب ہے جو کہ فارسی ہے ۔ رسالہ آج کل لکھنؤ کے سالنامہ ۱۹۴۷ کے ص ۱۱۸ میں ہے کہ یہ لفظ یونانی نرکسوس سے معرب ہے ، جسے لاطینی میں نرکسس اورانگیریزی میں نرس سس کہتے ہیں ۔
حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی پھوپھی جناب حکیمہ خاتون کا بیان ہے کہ ایک روز میں حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کے پاس گئتو آپ نے فرمایا کہ اے پھوپھی آپ آج ہمارے ہی گھر میں رہئے کیونکہ خداوند عالم مجھے آج ایک وارث عطا فرمائے گا ۔ میں نے کہا کہ یہ فرزند کس کے بطن سے ہوگا ۔ آپ نے فرمایا کہ بطن نرجس سے متولد ہوگا ، جناب حکیمہ نے کہا : بیٹی! میں تو نرجس میں کچھ بھی حمل کے آثار نہیں پاتی، امام نے فرمایا کہ اسے پھوپھی نرجس کی مثال مادر موسی جیسی ہے جس طرح حضرت موسی کا حمل ولادت کے وقت سے پہلے ظاہر نہیں ہو ا۔ اسی طرح میرے فرزند کا حمل بھی بر وقت ظاہر ہوگا غرضکہ میں امام کے فرمانے سے اس شب و ہیں رہی جب آدھی رات گذر گئی تومیں اٹھی اور نماز تہجد میں مشغول ہو گئی اور نرجس بھی اٹھ کر نماز تہجد پڑھنے لگی ۔ اس کے بعد میرے دل میں یہ خیال گذرا کہ صبح قریب ہے اور امام حسن عسکری علیہ السلام نے جو کہا تھا وہ ابھی تک ظاہر نہیں ہوا ، اس خیال کے دل میں آتے ہی امام علیہ السلام نے اپنے حجرہ سے آوازدی : اے پھوپھی جلدی نہ کیجئے ،حجت خدا کے ظہور کا وقت بالکل قریب ہے یہ سن کر میں نرجس کے حجرہ کی طرف پلٹی ،نرجس مجھے راستے ہی میں ملیں ، مگر ان کی حالت اس وقت متغیر تھی ، وہ لرزہ بر اندام تھیں اور ان کا سارا جسم کانپ رہا تھا ،میں نے یہ دیکھ کر ان کو اپنے سینے سے لپٹالیا ، اور سورہ قل ھو اللہ ،اناانزلنا و ایة الکرسی پڑھ کران پردم کیا بطن مادر سے بچے کی آواز آنے لگی ، یعنی میں جو کچھ پڑھتی تھی ، وہ بچہ بھی بطن مادر میں وہی کچھ پڑھتا تھا اس کے بعد میں نے دیکھا کہ تمام حجرہ روشن و منور ہوگیا ۔ اب جو میں دیکھتی ہوں تو ایک مولود مسعود زمین پرسجدہ میں پڑا ہوا ہے میں نے بچہ کو اٹھا لیا حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام نے اپنے حجرہ سے آواز دی اے پھوپھی ! میرے فرزند کو میرے پاس لائیے میں لے گئیی آپ نے اسے اپنی گود میں بٹھالیا ،اور زبان در دھان دے کر اور اپنی زبان بچے کے منہ میں دے دی اور کہا کہ اے فرزند !خدا کے حکم سے کچھ بات کرو ، بچے نے اس آیت : بسم اللہ الرحمن الرحیم ونریدان نمن علی اللذین استضعفوا فی الارض و نجعلھم الوارثین کی تلاوت کی ، جس کا ترجمہ یہ ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ احسان کریں ان لوگوں پر جوز مین پرکمزور کردئیے گئے ہیں اور ان کو امام بنائیں اورانھیں کو روئے زمین کا وارث قرار دیں ۔
اس کے بعد کچھ سبزطائروں نے آکر ہمیں گھیرلیا ، امام حسن عسکری نے ان میں سے ایک طائرکو بلایا اور بچے کودیتے ہوئے کہا کہ خدہ فاحفظہ الخ اس کو لے جاکر اس کی حفاظت کرو یہاں تک کہ خدا اس کے بارے میں کوئی حکم دے کیونکہ خدا اپنے حکم کو پورا کرکے رہے گآ میں نے امام حسن عسکری سے پوچھا کہ یہ طائر کون تھا اور دوسرے طائر کون تھے ؟ آپ نے فرمایا کہ جبرئیل تھے ، اوردوسرے فرشتگان رحمت تھے اس کے بعد فرمایا کہ اے پھوپھی اس فرزند کو اس کی ماں کے پاس لے آو تا کہ اس کی آنکھیں خنک ہوں اورمحزون و مغوم نہ ہو اور یہ جان لے کہ خدا کا وعدہ حق ہے و اکثرھم لایعلمون لیکن اکثر لوگ اسے نہیں جانتے ۔ اس کے بعد اس مولود مسعود کو اس کی ماں کے پاس پہنچا دیا گیا (شواہدالنبوة ص ۲۱۲ طبع لکھنؤ ۱۹۰۵ء علامہ حائری لکھتے ہیں کہ ولادت کے بعد آپ کو جبرئیل پرورش کے لئے اٹھاکر لے گئے (غایۃالمقصود جلد۱ ص ۷۵) کتاب شواہدالنبوت اور وفیات الاعیان وروضة الاحباب میں ہے کہ جب آپ پیدا ہوے تو مختون اورناف بریدہ تھے اور آپ کے داہنے بازو پر یہ آیت منقوش تھی جاء الحق وزھق الباطل ان الباطل کان زھوقا یعنی حق آیا اورباطل مٹ گیا اور باطل مٹنے ہی کے قابل تھا ۔ یہ قدرتی طور پر بحر متقارب کے دو مصرعے بن گئے ہیں حضرت نسیم امرو ہوی نے اس پر کیا خوب تضمین کی ہے وہ لکھتے ہیں.
چشم وچراغ دےدہٴ نرجس
عین خداکی آنکھ کاتارا
بدرکمال نیمہٴ شعبان
چودھواں اختراوج بقاکا
حامی ملت ماحیٴ بدعت
کفرمٹانے خلق میں آیا
وقت ولادت ماشاء اللہ
قرآن صورت دیکھ کے بولا
جاء الحق وزھق الباطل
ان الباطل کان زھوقا
محدث دہلوی شیخ عبدالحق اپنی کتاب مناقب ائمہ اطہارمیں لکھتے ہیں کہ حکیمہ خاتون جب نرجس کے پاس آئیں تو دیکھا کہ ایک مولود پیدا ہوا ہے ، جو مختون اور مفروغ منہ ہے یعنی جس کا ختنہ کیا ہوا ہے اور نہلانے دھلانے کے کاموں سے جو مولود کے ساتھ ہوتے ہیں بالکل مستغنی ہے ۔ حکیمہ خاتون بچے کو امام حسن عسکری کے پاس لائیں ، امام نے بچے کولیا اوراس کی پشت اقدس اور چشم مبارک پر ہاتھ پھیرا اپنی زبان مطہران کے منہ میں ڈالی اور داہنے کان میں اذان اور بائیں میں اقامت کہی یہی مضمون فصل الخطاب اور بحارالانوار میں بھی ہے ، کتاب روضةالاحباب ینابع المودة میں ہے کہ آپ کی ولادت بمقام سرمن رائے سامرہ میں ہوئی ہے ۔
کتاب کشف الغمہ ص۱۳۰ میں ہے کہ آپ کی ولادت چھپائی گئی اور پوری سعی کی گئی کہ آپ کی پے دائیش کسی کو معلوم نہ ہوسکے ، کتاب دمعہ ساکبہ جلد ۳ص۱۹۴ میں ہے کہ آپ کی ولادت اس لئے چھپائی گئی کہ بادشاہ وقت پوری طاقت کے ساتھ آپ کی تلاش میں تھا اسی کتاب کے ص ۱۹۲ میں ہے کہ اس کا مقصد یہ تھا کہ حضرت حجت کو قتل کرکے نسل رسالت کا خاتمہ کر دے ۔ تاریخ ابوالفداٴ میں ہے کہ بادشاہ وقت معتزباللہ تھا ، تذکرہ خواص الامة میں ہے کہ اسی کے عہدمیں امام علی نقی کو زہر دیا گیا تھا ۔ معتز کے بارے میں مورخین کی رائے کچھ اچھی نہیں ہے ۔ ترجمہ تاریخ الخلفاٴ علامہ سیوطی کے ص۳۶۳ میں ہے کہ اس نے اپنے عہد خلافت میں اپنے بھائی کو ولی عہدی سے معزول کرنے کے بعد کوڑے لگوائے تھے اور تاحیات قید میں رکھاتھا ۔ ا کثر تواریخ میں ہے کہ بادشاہ وقت معتمد بن متوکل تھا جس نے امام حسن عسکری علیہ السلام کو زہرسے شہید کیا ۔ تاریخ اسلام جلد۱ ص ۶۷ میں ہے کہ خلےفہ معتمد بن متوکل کمزور متلون مزاج اورعیش پسند تھا ۔ یہ عیاشی اورشراب نوشی میں بسر کرتا تھا ، اسی کتاب کے صفحہ ۲۹ میں ہے کہ معتمد حضرت امام حسن عسکری کو زہر سے شہید کرنے کے بعدحضرت امام مہدی کوقتل کرنے کے درپے ہوگیاتھا ۔
5
ہر سچے مسلمان کے دل میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولؐ کے بعد ائمہ اہلبیت علیہم السلام کی محبت موجود ہے۔ یہ محبت ہر مؤمن کی فطرت میں شامل ہے۔ اہل بیت اطہار ؑ سے محبت کی اہمیت کا اندازہ اس بات ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قران کریم میں اسے اجر رسالت قرار دیا ہے۔
امام زمانہ (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ) سے رابطے کے آداب
(حصہ اول)
ہر سچے مسلمان کے دل میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولؐ کے بعد ائمہ اہلبیت علیہم السلام کی محبت موجود ہے۔ یہ محبت ہر مؤمن کی فطرت میں شامل ہے۔ اہل بیت اطہار ؑ سے محبت کی اہمیت کا اندازہ اس بات ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قران کریم میں اسے اجر رسالت قرار دیا ہے۔ چنانچہ ارشاد فرمایا: “قُل لَّا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْہِ أَجْراً إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبیٰ”(سورہ شوریٰ:۲۳) “کہدیجئے: میں اس (تبلیغ رسالت) پر تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا سوائے قریب ترین رشتہ داروں کی محبت کے”۔ اسی طرح ہر مؤمن کا اہلبیت اطہار ؑ کے ساتھ دل کا تعلق اور رابطہ بھی ہے۔ لیکن یہ رابطہ فقط ایک جذباتی اور عاطفی رشتے کی وجہ سے نہیں بلکہ یہ رابطہ عقیدتی اور عملی ہونا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ بھی ہم سے اہلبیت اطہارؑ کے ساتھ ایک جذباتی رابطہ رکھنے سے زیادہ ایک فکری، عقیدتی اور عملی رابطہ چاہتا ہے۔ ہمیں عملی طور پر اہلبیت اطہار ؑ کے پیروکار کہلوانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: “قُلۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تُحِبُّوۡنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوۡنِیۡ یُحۡبِبۡکُمُ اللّٰہُ وَ یَغۡفِرۡ لَکُمۡ ذُنُوۡبَکُمۡ” (سورہ آل عمران:۳۱) “کہدیجئے: اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری اتباع کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہاری خطاؤں سے درگزر فرمائے گا “۔
اسی طرح ہمارے اپنے وقت کے امام کے ساتھ بھی ہمارا رشتہ فقط عقیدے کی حد تک نہیں ہونا چاہیے بلکہ امام زمانہؑ اس وقت کے ایک انسان کامل اور ہادی برحق ہیں۔ وہ ہمارے درمیان موجود ہیں۔ ہمارے ہر دکھ درد میں ساتھ ہوتےہیں۔ وہ ہمیں دیکھتے اور پہچانتے بھی ہیں لیکن ہم انہیں دیکھتے تو ہیں لیکن پہچان نہیں سکتے۔ امام زمانہؑ صرف ہمارے ہی نہیں ، بلکہ تمام جن و انس کے امام ہیں۔ بلکہ اس پوری کائنات کے بھی امام ہیں۔ اگر امام برحق کا وجود مقدس نہ ہوتا تو یہ زمین اپنے بسنے والوں کے ساتھ تباہ ہوچکی ہوتی۔ لہٰذا ایک انسان کامل اور ہادی برحق کے ساتھ اپنی زندگی کے شب و روز اور اپنے زمانے کے مجموعی حالات کے مطابق ارتباط برقرار ہونا چاہیے۔امام زمانہ ؑ ہدایت کا چراغ ہیں اُن سے ہدایت لینی چاہیے اور ان کے ہدف کی تکمیل کے لئے ہرممکن جدو جہد کی کوشش کرنی چاہیے۔
خود امام زمانہؑ نے شیخ مفید ؒ کو مخاطب کر کے ایک خط لکھا اور تمام مؤمنین کے لیے پیغام دیتے ہوئے ارشاد فرمایا”انا غیر مھملین لمراعاتکم۔ ولا ناسین لذکرکم ولولا ذٰلک لنزل بکم اللاواء، واصطلمکم الاعداء ، فاتقوا اللہ جل جلالہ، وظاھرونا علیٰ انتشالکم من فتنۃ قد افاقت علیکم”ہم تمہارے حالات سے بے خبر نہیں، تمہیں اپنی دعاؤں میں بھی نہیں بھولتے۔ اگر ہم تمہاری طرف متوجہ نہ ہوتے تو تم پر شدید بلائیں نازل ہوتیں اور تمہارے دشمن تمہیں کاٹ کر کھا جاتے۔ پس اللہ سے ڈرتے رہو اور ہمارے ساتھ رہو تاکہ تمہیں فتنوں سے نجات دلائیں۔
بعض روایات میں یہ بھی نقل ہواہے کہ ہمارے سارے اعمال امام زمانہ ؑ کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں۔ ہمارے اچھے اعمال دیکھ کر امامؑ خوش ہوتے ہیں اور بُرے اعمال دیکھ کر دکھی ہوتے ہیں۔لہٰذا ہمیں چاہیے کہ اپنے نفوس کو پاک کریں اور کردار ٹھیک کریں۔ تاکہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے ساتھ امام زمانہؑ کا قلب مطہر بھی ہم سے راضی و خوشنود ہو۔ ہمیں اپنے آپ کو روحانی طور پر مضبوط کرنا ہوگا۔ ہر لحاظ سے امام زمانہؑ کی نصرت کے لئے خود کو آمادہ اور امامؑ کی اس عالمی تحریک کو دنیا بھر میں پھیلانے کے لئے ضروری قوت تیار کرنی ہوگی۔ پھر امام زمانہؑ کے ظہور کے لئے دعا کریں ۔
امام زمانہؑ سے ارتباط قائم رکھنے اور ان سے راز و نیاز کرنے کے کچھ آداب ہیں۔ ہمارے ائمہ معصومین علیہم السلام کی روایات میں بہت سے آداب کا ذکر ہوا ہے۔ ذیل میں ان میں سے کچھ اہم آداب کا ذکر کیا جاتا ہے:
۱۔ امامؑ کی بیعت میں رہنا:
ہمیں چاہیے کہ اپنے امامؑ کی بیعت میں رہیں۔ یعنی اپنے اوپر امامؑ کا ہر حکم لازم قرار دیں۔ ہر روز امامؑ کے ساتھ تجدید عہد کریں۔ چنانچہ دعائے عہد میں ملتا ہے :”اللھم انی اُجدِدُ لہ فی صبیحۃ یومی ھذا وما عشتُ من ایامی عھدا و عقدا وبیعتۃ لہ فی عنقی لا احول عنھا ولا ازول ابدا “( خداوندا! آج کے دن کی صبح کو اور میری حیات کے تمام ایام میں، میں ان کے لئے اپنے اس عہد اور بندھن اور پیوند اور بیعت کی تجدید کرتا ہوں جو میری گردن پر ہے، اور (عہد کرتا ہوں کہ) کبھی اس عہد و بیعت سے کبھی پلٹوں گا نہیں اور کبھی اس سے دستبردار نہیں ہوں گا)
۲۔ امامؑ کے دیدار کا شوق رکھنا:
امام جعفر صادق ع سے منقول ہے کہ آپؑ امام زمانہؑ کے دیدار کا شوق کرتے ہوئے فرماتے تھے: “لو ادرکتُہ لخدمتہ ایام حیاتی” (اگر میں ان کے زمانے کو درک کرلوں تو اپنی ساری زندگی ان کی خدمت کرتے ہوئے گزار دوں)۔ ہمارے ائمہ معصومینؑ نے ہمیں یہی سکھایا ہے کہ امام زمانہؑ کے دیدار کے لئے ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں۔ چنانچہ دعائے عہد میں ارشاد ہوا ہے: “اللھم ارنی الطلعۃ الرشیدۃ والغرۃ الحمیدۃ، واکحُل ناظری بنظرۃ منی الیہ…” (اے خدا! مجھے دکھا دے وہ سنجیدہ اور ہدایت دینے والا چہرہ، وہ پسندیدہ پیشانی، اور ان کے دیدار کو میری آنکھوں کا سرمہ قرار دے)۔ اسی طرح دعائے ندبہ میں بھی: ” وارہ سیدہ یا شدید القویٰ” اور ” ھل الیک یابن احمد سبیل فتُلقیٰ” جیسے جملے نقل ہوئے ہیں۔ ان کے علاوہ مختلف دعاؤں میں امام زمانہؑ کے دیدار کے لئے دعا کے جملے ملتے ہیں۔(دیکھئے: جنۃ الماویٰ،ص۵۱، تنقیح الاصول ج۳،ص۱۳۱)
۳۔ امام زمانہؑ کی ولایت پر ثابت قدم رہنا:
امام محمد باقر ؑ سے منقول ہےکہ آپؑ نے فرمایا: “یاتی علیٰ الناس زمان یغیب عنھم امامھم، طوبیٰ للثابتین علیٰ امرنا فی ذلک الزمان۔انّ ادنیٰ ما یکون لھم الثواب ان ینادی بھم الباری جل جلالہ فیقول: عبیدی وامائی آمنتم بسری وصدقتم بغیبی فاَبشروا بحسن الثواب منی، ای عبیدی و امائی حقا منکم اتقبل وعنکم اعفو ولکم اغفر، وبکم اسقی عبادی الغیث و ادفع عنھم البلاء، لولاکم لانزلت علیھم عذابی” (بحار الانوار،ج۵۲،ص۱۴۵) “لوگوں پر ایک وقت ایسا آئے گا جب ان کا امام غیبت میں ہوگا۔ اس زمانے میں ہماری ولایت پر ثابت قدم رہنے والوں کو مبارک ہو۔ ان کو کم سے کم جو ثواب دیا جائے گا وہ یہی کہ اللہ تعالیٰ ان سے کہے گا: میرے بندو، میری کنیزو! تم نے میرے اسرار پر ایمان لایا اور غیبت کی تصدیق کی۔ لہٰذا میری طرف سے تمہیں حسن ثواب کی بشارت ہو۔ اے میرے بندو، میری کنیزو! تمہارا حق ہے کہ میں تمہارے اعمال قبول کروں، تمہاری لغزشوں کو معاف کروں اور تمہاری مغفرت کروں۔ تمہاری ہی وجہ سے میں اپنے بندوں کو سیراب کرتا ہوں اور ان سے بلائیں دور کرتا ہوں۔ اگر تم نہ ہوتے تو ان پر عذاب نازل کرتا۔
۴۔ امام کی جدائی میں غمگین رہنا:
ایک مؤمن کو چاہیے کہ اپنے امام سے دوری پر مغموم رہے۔ امام ؑ کی فرقت میں گریہ و زاری کرے۔ چنانچہ اصول کافی میں امام صادقؑ سے منقول ہے: “ہماری مظلومیت پر مغموم ہونا اور دکھ کی سانس لینا تسبیح ہے”۔ ایک اور مقام پر آپؑ ہی سے منقول ہے: “اللہ تعالیٰ تمہارے زمانے کے امام کو سالوں تک غیبت میں رکھے گا۔ اس طرح تمہیں آزمائے گا۔ یہاں تک کہ لوگ کہیں گے کہ امامؑ وفات پاگئے ہیں۔ (اگر زندہ ہیں تو) کس جگہ پر ہیں، کہاں چلے گئے ہیں! مؤمنین کی آنکھوں میں امامؑ کے لئے آنسو ہوں گے”۔
۵۔ امامؑ کے لئے دعا کرنا۔
امام زمانہؑ کے ایک عاشق پر فرض ہےاور امام زمانہ ؑ کا اس پر یہ حق بھی ہے کہ امام ؑ کے لئے دعا کرے۔ بلکہ جب بھی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دست دعا بلند کرے تو سب سے پہلے امامؑ کے لئے دعا کرے۔ خصوصا دعائے فرج (اللھم کن لولیک…) کا ہمیشہ ورد کرے۔ امام حسن عسکریؑ سے ایک دعا وارد ہوئی ہے: ” اللھم اعذہ من شر کل طاغ و باغ، ومن شر جمیع خلقک واحفظہ من بینیدیہ ومن خلفہ وعن یمینہ وعن شمالہ اوحرسہ وامنعہ ان یصل الیہ بسوء واحفظ فیہ رسولک وآل رسولک واظھر بہ العدل وایدہ بالنصر” ( بحار الانوار ج۹۴، ص۷۸)” خداوندا ! اسے ہر سرکش ظالم و جابر کے شر سے محفوظ رکھ، اسے اپنی ساری مخلوق کے شر سے محفوظ رکھ۔ اس کی ہر طرف سے حفاظت فرما۔ اس سے ہر قسم کی بلاؤوں کو دور فرما۔ اس کے ذریعے آپ کے رسولؐ اور آل رسولؑ کی حفاظت فرما۔ اس کے ذریعے عدل و انصاف کا بول بالا فرما اور اپنی جانب سے اس کی نصرت و تائید فرما۔
اسی طرح امام زمانہؑ کے ظہور میں تعجیل کے لئے دعا کریں۔ معصومینؑ کی روایات میں اس کی بڑی تاکید ہوئی ہے۔ خود امام زمانہؑ اپنے ایک خط میں ارشاد فرماتے ہیں: “واکثروا الدعاء بتعجیل الفرج فاِن ذلک فرجکم” (الاحتجاج،ج۲،ص۳۸۴) میرے امور میں گشائش کے لئے زیادہ سے زیادہ دعا کرو کیونکہ اسی میں تمہارے امور کی گشائش ہے۔”
(حصہ اول)
ہر سچے مسلمان کے دل میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولؐ کے بعد ائمہ اہلبیت علیہم السلام کی محبت موجود ہے۔ یہ محبت ہر مؤمن کی فطرت میں شامل ہے۔ اہل بیت اطہار ؑ سے محبت کی اہمیت کا اندازہ اس بات ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قران کریم میں اسے اجر رسالت قرار دیا ہے۔ چنانچہ ارشاد فرمایا: “قُل لَّا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْہِ أَجْراً إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبیٰ”(سورہ شوریٰ:۲۳) “کہدیجئے: میں اس (تبلیغ رسالت) پر تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا سوائے قریب ترین رشتہ داروں کی محبت کے”۔ اسی طرح ہر مؤمن کا اہلبیت اطہار ؑ کے ساتھ دل کا تعلق اور رابطہ بھی ہے۔ لیکن یہ رابطہ فقط ایک جذباتی اور عاطفی رشتے کی وجہ سے نہیں بلکہ یہ رابطہ عقیدتی اور عملی ہونا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ بھی ہم سے اہلبیت اطہارؑ کے ساتھ ایک جذباتی رابطہ رکھنے سے زیادہ ایک فکری، عقیدتی اور عملی رابطہ چاہتا ہے۔ ہمیں عملی طور پر اہلبیت اطہار ؑ کے پیروکار کہلوانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: “قُلۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تُحِبُّوۡنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوۡنِیۡ یُحۡبِبۡکُمُ اللّٰہُ وَ یَغۡفِرۡ لَکُمۡ ذُنُوۡبَکُمۡ” (سورہ آل عمران:۳۱) “کہدیجئے: اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری اتباع کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہاری خطاؤں سے درگزر فرمائے گا “۔
اسی طرح ہمارے اپنے وقت کے امام کے ساتھ بھی ہمارا رشتہ فقط عقیدے کی حد تک نہیں ہونا چاہیے بلکہ امام زمانہؑ اس وقت کے ایک انسان کامل اور ہادی برحق ہیں۔ وہ ہمارے درمیان موجود ہیں۔ ہمارے ہر دکھ درد میں ساتھ ہوتےہیں۔ وہ ہمیں دیکھتے اور پہچانتے بھی ہیں لیکن ہم انہیں دیکھتے تو ہیں لیکن پہچان نہیں سکتے۔ امام زمانہؑ صرف ہمارے ہی نہیں ، بلکہ تمام جن و انس کے امام ہیں۔ بلکہ اس پوری کائنات کے بھی امام ہیں۔ اگر امام برحق کا وجود مقدس نہ ہوتا تو یہ زمین اپنے بسنے والوں کے ساتھ تباہ ہوچکی ہوتی۔ لہٰذا ایک انسان کامل اور ہادی برحق کے ساتھ اپنی زندگی کے شب و روز اور اپنے زمانے کے مجموعی حالات کے مطابق ارتباط برقرار ہونا چاہیے۔امام زمانہ ؑ ہدایت کا چراغ ہیں اُن سے ہدایت لینی چاہیے اور ان کے ہدف کی تکمیل کے لئے ہرممکن جدو جہد کی کوشش کرنی چاہیے۔
خود امام زمانہؑ نے شیخ مفید ؒ کو مخاطب کر کے ایک خط لکھا اور تمام مؤمنین کے لیے پیغام دیتے ہوئے ارشاد فرمایا”انا غیر مھملین لمراعاتکم۔ ولا ناسین لذکرکم ولولا ذٰلک لنزل بکم اللاواء، واصطلمکم الاعداء ، فاتقوا اللہ جل جلالہ، وظاھرونا علیٰ انتشالکم من فتنۃ قد افاقت علیکم”ہم تمہارے حالات سے بے خبر نہیں، تمہیں اپنی دعاؤں میں بھی نہیں بھولتے۔ اگر ہم تمہاری طرف متوجہ نہ ہوتے تو تم پر شدید بلائیں نازل ہوتیں اور تمہارے دشمن تمہیں کاٹ کر کھا جاتے۔ پس اللہ سے ڈرتے رہو اور ہمارے ساتھ رہو تاکہ تمہیں فتنوں سے نجات دلائیں۔
بعض روایات میں یہ بھی نقل ہواہے کہ ہمارے سارے اعمال امام زمانہ ؑ کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں۔ ہمارے اچھے اعمال دیکھ کر امامؑ خوش ہوتے ہیں اور بُرے اعمال دیکھ کر دکھی ہوتے ہیں۔لہٰذا ہمیں چاہیے کہ اپنے نفوس کو پاک کریں اور کردار ٹھیک کریں۔ تاکہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے ساتھ امام زمانہؑ کا قلب مطہر بھی ہم سے راضی و خوشنود ہو۔ ہمیں اپنے آپ کو روحانی طور پر مضبوط کرنا ہوگا۔ ہر لحاظ سے امام زمانہؑ کی نصرت کے لئے خود کو آمادہ اور امامؑ کی اس عالمی تحریک کو دنیا بھر میں پھیلانے کے لئے ضروری قوت تیار کرنی ہوگی۔ پھر امام زمانہؑ کے ظہور کے لئے دعا کریں ۔
امام زمانہؑ سے ارتباط قائم رکھنے اور ان سے راز و نیاز کرنے کے کچھ آداب ہیں۔ ہمارے ائمہ معصومین علیہم السلام کی روایات میں بہت سے آداب کا ذکر ہوا ہے۔ ذیل میں ان میں سے کچھ اہم آداب کا ذکر کیا جاتا ہے:
۱۔ امامؑ کی بیعت میں رہنا:
ہمیں چاہیے کہ اپنے امامؑ کی بیعت میں رہیں۔ یعنی اپنے اوپر امامؑ کا ہر حکم لازم قرار دیں۔ ہر روز امامؑ کے ساتھ تجدید عہد کریں۔ چنانچہ دعائے عہد میں ملتا ہے :”اللھم انی اُجدِدُ لہ فی صبیحۃ یومی ھذا وما عشتُ من ایامی عھدا و عقدا وبیعتۃ لہ فی عنقی لا احول عنھا ولا ازول ابدا “( خداوندا! آج کے دن کی صبح کو اور میری حیات کے تمام ایام میں، میں ان کے لئے اپنے اس عہد اور بندھن اور پیوند اور بیعت کی تجدید کرتا ہوں جو میری گردن پر ہے، اور (عہد کرتا ہوں کہ) کبھی اس عہد و بیعت سے کبھی پلٹوں گا نہیں اور کبھی اس سے دستبردار نہیں ہوں گا)
۲۔ امامؑ کے دیدار کا شوق رکھنا:
امام جعفر صادق ع سے منقول ہے کہ آپؑ امام زمانہؑ کے دیدار کا شوق کرتے ہوئے فرماتے تھے: “لو ادرکتُہ لخدمتہ ایام حیاتی” (اگر میں ان کے زمانے کو درک کرلوں تو اپنی ساری زندگی ان کی خدمت کرتے ہوئے گزار دوں)۔ ہمارے ائمہ معصومینؑ نے ہمیں یہی سکھایا ہے کہ امام زمانہؑ کے دیدار کے لئے ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں۔ چنانچہ دعائے عہد میں ارشاد ہوا ہے: “اللھم ارنی الطلعۃ الرشیدۃ والغرۃ الحمیدۃ، واکحُل ناظری بنظرۃ منی الیہ…” (اے خدا! مجھے دکھا دے وہ سنجیدہ اور ہدایت دینے والا چہرہ، وہ پسندیدہ پیشانی، اور ان کے دیدار کو میری آنکھوں کا سرمہ قرار دے)۔ اسی طرح دعائے ندبہ میں بھی: ” وارہ سیدہ یا شدید القویٰ” اور ” ھل الیک یابن احمد سبیل فتُلقیٰ” جیسے جملے نقل ہوئے ہیں۔ ان کے علاوہ مختلف دعاؤں میں امام زمانہؑ کے دیدار کے لئے دعا کے جملے ملتے ہیں۔(دیکھئے: جنۃ الماویٰ،ص۵۱، تنقیح الاصول ج۳،ص۱۳۱)
۳۔ امام زمانہؑ کی ولایت پر ثابت قدم رہنا:
امام محمد باقر ؑ سے منقول ہےکہ آپؑ نے فرمایا: “یاتی علیٰ الناس زمان یغیب عنھم امامھم، طوبیٰ للثابتین علیٰ امرنا فی ذلک الزمان۔انّ ادنیٰ ما یکون لھم الثواب ان ینادی بھم الباری جل جلالہ فیقول: عبیدی وامائی آمنتم بسری وصدقتم بغیبی فاَبشروا بحسن الثواب منی، ای عبیدی و امائی حقا منکم اتقبل وعنکم اعفو ولکم اغفر، وبکم اسقی عبادی الغیث و ادفع عنھم البلاء، لولاکم لانزلت علیھم عذابی” (بحار الانوار،ج۵۲،ص۱۴۵) “لوگوں پر ایک وقت ایسا آئے گا جب ان کا امام غیبت میں ہوگا۔ اس زمانے میں ہماری ولایت پر ثابت قدم رہنے والوں کو مبارک ہو۔ ان کو کم سے کم جو ثواب دیا جائے گا وہ یہی کہ اللہ تعالیٰ ان سے کہے گا: میرے بندو، میری کنیزو! تم نے میرے اسرار پر ایمان لایا اور غیبت کی تصدیق کی۔ لہٰذا میری طرف سے تمہیں حسن ثواب کی بشارت ہو۔ اے میرے بندو، میری کنیزو! تمہارا حق ہے کہ میں تمہارے اعمال قبول کروں، تمہاری لغزشوں کو معاف کروں اور تمہاری مغفرت کروں۔ تمہاری ہی وجہ سے میں اپنے بندوں کو سیراب کرتا ہوں اور ان سے بلائیں دور کرتا ہوں۔ اگر تم نہ ہوتے تو ان پر عذاب نازل کرتا۔
۴۔ امام کی جدائی میں غمگین رہنا:
ایک مؤمن کو چاہیے کہ اپنے امام سے دوری پر مغموم رہے۔ امام ؑ کی فرقت میں گریہ و زاری کرے۔ چنانچہ اصول کافی میں امام صادقؑ سے منقول ہے: “ہماری مظلومیت پر مغموم ہونا اور دکھ کی سانس لینا تسبیح ہے”۔ ایک اور مقام پر آپؑ ہی سے منقول ہے: “اللہ تعالیٰ تمہارے زمانے کے امام کو سالوں تک غیبت میں رکھے گا۔ اس طرح تمہیں آزمائے گا۔ یہاں تک کہ لوگ کہیں گے کہ امامؑ وفات پاگئے ہیں۔ (اگر زندہ ہیں تو) کس جگہ پر ہیں، کہاں چلے گئے ہیں! مؤمنین کی آنکھوں میں امامؑ کے لئے آنسو ہوں گے”۔
۵۔ امامؑ کے لئے دعا کرنا۔
امام زمانہؑ کے ایک عاشق پر فرض ہےاور امام زمانہ ؑ کا اس پر یہ حق بھی ہے کہ امام ؑ کے لئے دعا کرے۔ بلکہ جب بھی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دست دعا بلند کرے تو سب سے پہلے امامؑ کے لئے دعا کرے۔ خصوصا دعائے فرج (اللھم کن لولیک…) کا ہمیشہ ورد کرے۔ امام حسن عسکریؑ سے ایک دعا وارد ہوئی ہے: ” اللھم اعذہ من شر کل طاغ و باغ، ومن شر جمیع خلقک واحفظہ من بینیدیہ ومن خلفہ وعن یمینہ وعن شمالہ اوحرسہ وامنعہ ان یصل الیہ بسوء واحفظ فیہ رسولک وآل رسولک واظھر بہ العدل وایدہ بالنصر” ( بحار الانوار ج۹۴، ص۷۸)” خداوندا ! اسے ہر سرکش ظالم و جابر کے شر سے محفوظ رکھ، اسے اپنی ساری مخلوق کے شر سے محفوظ رکھ۔ اس کی ہر طرف سے حفاظت فرما۔ اس سے ہر قسم کی بلاؤوں کو دور فرما۔ اس کے ذریعے آپ کے رسولؐ اور آل رسولؑ کی حفاظت فرما۔ اس کے ذریعے عدل و انصاف کا بول بالا فرما اور اپنی جانب سے اس کی نصرت و تائید فرما۔
اسی طرح امام زمانہؑ کے ظہور میں تعجیل کے لئے دعا کریں۔ معصومینؑ کی روایات میں اس کی بڑی تاکید ہوئی ہے۔ خود امام زمانہؑ اپنے ایک خط میں ارشاد فرماتے ہیں: “واکثروا الدعاء بتعجیل الفرج فاِن ذلک فرجکم” (الاحتجاج،ج۲،ص۳۸۴) میرے امور میں گشائش کے لئے زیادہ سے زیادہ دعا کرو کیونکہ اسی میں تمہارے امور کی گشائش ہے۔”
6: خطوط و رسائل
علماءِ اعلام نے جہاں امام عصرں کی زیارت سے مشرف ہونے والے افراد کا تذکرہ کیا ہے وہاں ان خطوط اور رسائل کا بھی تذکرہ کیا ہے جو دور ِ غیبت میں امام عصرں کی طرف سے صادر ہوئے ہیں اور جنہیں توقیعات کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ ان رسائل میں بہت سے مسائل، احکام، دعاؤں اور زیارتوں کا بھی تذکرہ ہے اور بہت سے خصوصی خطوط بھی ہیں جو مختلف اسباب اور مصالح کے تحت ارسال کیے گئے ہیں۔
شخصی خطوط میں جناب شیخ مفید علیہ الرحمہ کے نام تین خطوط اور پیغامات ہیں۔ ایک میں انہیں ”برادر سدید اور ولی رشید“ کے لقب سے یاد کیا گیا ہے اور دوسرے میں انہیں ”ناصر حق“ اور ”داعی الی کلمة الصدق“ فرمایا گیا ہے۔ پہلا خط صفر ۴۱۰ئھ کا ہے اور دوسرا ۲۳ ذی الحجہ ۴۱۲ئھ کا ہے۔ اس کے بعد ان کے انتقال پر حضرت نے کچھ اشعار بھی فرمائے ہیں جو شیخ مفید کی قبر پر کندہ ہیں۔
تیسرے خط کا خلاصہ یہ ہے کہ شیخ مفید سے ایک حاملہ عورت کے بارے میں پوچھا گیا کہ اس کا انتقال ہوگیا ہے تو اب بچہ کے بارے میں کیا کیا جائے؟ فرمایا کہ مع بچہ کے دفن کر دیا جائے۔ لوگ دفن کی تیاری کر رہے تھے کہ ایک سوار نے آکر خبر دی کہ بچہ کو نکال لیا جائے اور عورت کو دفن کر دیا جائے۔ بچہ کو نکال لیا گیا اور بعد میں شیخ کو خبر ہوئی تو انہوں نے طے کر لیا کہ اب کسی مسئلہ میں فتویٰ نہیں دیں گے کہ آج اس سوار نے مسئلہ کی اصلاح نہ کر دی ہوتی تو ایک بچہ کا خون ناحق اپنی گردن پر آجاتا۔ یہ طے کرکے گھر میں بیٹھے ہی تھے کہ حضرت کی طرف سے پیغام آیا کہ تم نے بالکل غلط فیصلہ کیا ہے ﴿علیک الفتاء و علینا التسدید﴾ (فتویٰ دینا تمہارا کام ہے اور اصلاح کرنا ہمارا کام ہے)۔
اس واقعہ سے امام زمانہ عجل الله تعالیٰ فرجہ الشریف کی امداد غیبی کے علاوہ اس حقیقت کا بھی اندازہ ہوتا ہے کہ امام کو اپنے چاہنے والوں سے کس قدر محبت ہے اور وہ انہیں کسی قیمت پر لاوارث نہیں چھوڑنا چاہتے ہیں بلکہ حضرت کا منشا بھی یہ ہے کہ ہر دور میں ان کے مسائل کے حل کرنے والے علماء رہیں، اور مسائل کو حل کرتے رہیں۔ اس کے بعد اگر کوئی ایسی غلطی ہوگئی جس کا تعلق حق العباد اور خون ناحق سے ہوگا تو ہم اس کی اصلاح کر دیں گے ورنہ حق الله کے معاملہ کی خطاؤں کا معاف کرنے والا خود پروردگار موجود ہے اور وہ ارحم الراحمین ہے۔ اگر ایک عام گنہگار بندے کی خطا کو معاف کر سکتا ہے تو اپنی راہ میں قربانی دینے والے اور زحمتیں برداشت کرنے والے اہل علم کی خطا کو کیوں معاف نہیں کرے گا۔
مسائل کے سلسلہ میں علامہ طبرسی نے اس خط کا ذکر کیا ہے جو جناب اسحاق بن یعقوب کے نام لکھا گیا تھا اور جس میں مختلف سوالات کے جوابات درج تھے۔ جن کا خلاصہ یہ تھا کہ اگر منکر کے بارے میں سوال کیا گیا ہے تو ہمارا منکر ہم میں سے نہیں ہے اور اگر جعفر جیسے لوگوں کے بارے میں پوچھا گیا ہے تو ان کی مثال پسر نوح اور برادرانِ یوسف جیسی ہے۔
(واضح رہے کہ بعض حضرات نے اس جملہ سے یہ استفادہ کیا ہے کہ پسر نوح اپنے باپ کے احکام کے اعتبار سے نالائق تھا اور ان کے راستہ پر نہیں چلا تھا لیکن برادرانِ یوسف نے جب بھائی سے خیانت کی تو انہوں نے آخر میں انہیں معاف کر دیا اور اس طرح ظالم افراد توّاب قرار پا گئے)۔
فقاع یعنی جَو کی شراب بہرحال شراب ہے اور حرام ہے۔۔۔۔۔ خمس کا فریضہ اس لیے رکھا گیا ہے کہ تمہارا مال حلال ہو جائے اور تمہیں نجات حاصل ہو جائے ورنہ قاعدہ کے اعتبار سے ساری کائنات امام کے لیے ہے اور ان کی مرضی کے بغیر کسی ذرہٴ کائنات میں بھی تصرف جائز نہیں ہے۔
ظہور کا وقت پروردگار کے علم میں ہے اور ہم اس کے حکم کے منتظر ہیں۔ اپنی طرف سے وقت معیّن کرنے والے جھوٹے ہیں اور ان کی تعیّن کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔
مستقبل میں پیش آنے والے واقعات میں ہماری احادیث کے بافہم راوی جو روایات کو واقعات پر منطبق کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ان کی طرف رجوع کرنا کہ وہ ہماری طرف سے تم پر حجت ہیں اور ہم الله کی طرف سے ان پر حجت ہیں اور ان کا رد کرنے والا درحقیقت ہمارے احکام کی تردید کرنے والا ہے۔
محمد بن عثمان میرے معتمد ہیں اور ان کا قول میرا قول، اور ان سے ملنے والا پیغام میرا پیغام ہے۔
محمد بن علی ہنر یار اہوازی کا دل انشاء الله صاف ہو جائے اور انہیں کوئی شبہ نہیں رہ جائے گا۔
گانے والی عورت کی اجرت حرام ہے (حرام عمل کی اجرت بہرحال حرام ہوتی ہے۔ بدبخت وہ لوگ ہیں جن کی جیب سے اس راہ میں پیسہ نکل جاتا ہے۔ گانے والی تو پیسہ لے کر ہی مجرم بنتی ہے، دینے والا تو دنیا اور آخرت دونوں کے اعتبار سے خسارہ میں ہے)۔
محمد بن شاذان ہمارے شیعوں میں ہیں۔
ابو الخطاب محمد بن اجدب ملعون ہے اور اس کے ماننے والے بھی ملعون ہیں۔ ہم اور ہمارے آباء و اجداد سب اس سے بری اور بیزار ہیں۔
ہمارا مال کھانے والے اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ بھر رہے ہیں۔ خمس نہ دینے والوں کی طرف سے جو مال ہمارے شیعوں کو ملے اس میں کا حق خمس ہم نے اپنے شیعوں کے لیے حلال کر دیا ہے۔
زمانہٴ غیبت میں میری مثال زیر ابر آفتاب کی ہے۔ میرا وجود اہل زمین کے لیے ویسے ہی وجہ امان ہے جس طرح آسمان والوں کے لیے ستاروں کا وجود ہوتا ہے۔
غیبت اور ظہور کے بارے میں سوالات بند کر دو اور رب العالمیند سے میرے ظہور کی دعا کرو۔ والسلام علی من اتبع الھدٰی۔
(اعلام الوریٰ، کشف الغمہ)
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں