چھٹا درس امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت اور اس کے اسباب   (کورس ون)

 مہدوی معارف پر ابتدائی کورس



مہدویت نامہ
 

چھٹا درس
امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت اور اس کے اسباب 

مقاصد:
۱۔ امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت سے آشنائی
۲۔ امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت کے اسباب اور فلسفہ سے آگاہی
۳۔ غیبت کے مختلف ادوار سے آشنائی

فوائد:
۱۔ امام زمانہ علیہ السلام کے ظاہری حضور سے محروم ہونے کے بعض دلائل سے آشنائی
۲۔ ظہور امام علیہ السلام کے اسباب فراہم کرنے کےلئے کوشش وجدوجہدکا انگیزہ پیدا ہونا
۳۔ حضرتعلیہ السلام کی غیبت کے ادوار سے آگاہی

تعلیمی مطالب:
۱۔ غیبت کے مفہوم سے آگاہی
۲۔ غیبت کا تاریخچہ
۳۔ امام زمانہ (عج) کی غیبت کے اسباب
٭ لوگوں کو تنبیہ
٭ امتحان اور آزمائش
٭ امام کی جان کی حفاظت
٭ الٰہی اسرار میں سے ایک راز
۴۔ غیبت صغریٰ اور کبریٰ کے ادوار

غیبت
قارئین کرام! اب جبکہ منجی بشریت اور حضرت آدم علیہ السلام تا خاتم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کے الٰہی مقاصد کو پایہ ¿ تکمیل تک پہنچانے والے آخری الٰہی ذخیرہ حضرت حجة بن الحسن علیہ السلام کی شخصیت سے آشنا ہوگئے، اس وقت وحید الزمان کی غیبت کے بارے میں کچھ گفتگو کریں گے جو آپ کی زندگی کا اہم حصہ ہے۔

غیبت کے معنی
سب سے پہلا نکتہ قابل ذکر یہ ہے کہ غیبت کے معنی ”آنکھوں سے مخفی ہونا“اورعدم پہچان ہے نہ کہ حاضر نہ ہونا، لہٰذا اس حصہ میں گفتگو اس زمانہ کی ہے جب امام مہدی علیہ السلام لوگوں کی نظروں سے مخفی ہیں، یعنی لوگ آپ کو نہیں پہچان پاتے جبکہ آپ لوگوں کے درمیان رہتے ہیں اور ان کے درمیان زندگی بسر کیا کرتے ہیں ۔ چنانچہ ائمہ معصومین علیہم السلام سے منقول روایات میں مختلف طریقوں سے بیان کیا گیا ہے۔حضرت امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں:”قسم ہے خداوند عالم کی، حجت خدا لوگوں کے درمیان ہوتی ہے، راستوں میں (کوچہ و بازار میں) موجود رہتی ہے، ان کے گھروں میں آتی جاتی رہتی ہے، زمین پر مشرق سے مغرب تک آمدورفت کرتی ہے، لوگوں کی باتوں کو سنتی ہے اور ان پر سلام بھیجتی ہے، وہ دیکھتی ہے لیکن آنکھیں اس کو نہیں دیکھ سکتیں جب تک خدا کی مرضی اور اس کا وعدہ پورا نہ ہو“۔ ( غیبت نعمانی، باب ۰۱، ح ۳، ص ۶۴۱)
اگرچہ امام مہدی 0علیہ السلام کے لئے غیبت کی ایک دوسری قسم بھی بیان ہوئی ہے:امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کے دوسرے نائب خاص بیان فرماتے ہیں:”امام مہدی علیہ السلام حج کے دنوں میں ہر سال حاضر ہوتے ہیں، لوگوں کو دیکھتے ہیں اور ان کو پہچانتے ہیں، لوگ ان کو دیکھتے ہیں لیکن پہچانتے نہیں“۔ ( بحارالانوار، ج ۲۵، باب ۳۲، ص ۲۵۱)
اس بنا پر امام مہدی علیہ السلام کی غیبت دو طرح کی ہے: آپ علیہ السلام بعض مقامات پر لوگوں کی نظروں سے مخفی ہیں اور بعض مقامات پر آپعلیہ السلام لوگوں کو دکھائی دیتے ہیں لیکن آپعلیہ السلام کی پہچان نہیں ہوتی، بہرحال امام مہدی علیہ السلام لوگوں کے درمیان حاضراور موجود رہتے ہیں۔

غیبت کی تاریخی حیثیت
غیبت اور مخفی طریقہ سے زندگی کرنا کوئی ایسا واقعہ نہیں ہے جو پہلی بار اور صرف امام مہدی علیہ السلام کے لئے ہو بلکہ متعدد روایات سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ بہت سے انبیاءعلیہم السلام کی زندگی کا ایک حصہ غیبت میں بسر ہوا ہے اور اُنہوں نے ایک مدت تک مخفی طریقہ سے زندگی کی ہے اور یہ چیز خداوند عالم کی مصلحت اور حکمت کی بنا پر تھی ، نہ کہ کسی ذاتی اور خاندانی مصلحت کی بنیاد پر۔غیبت ایک ”الٰہی سنت“ ( قرآن کریم کی متعدد آیات میں (جیسے سورہ ¿ فتح، آیت ۳۲، اور سورہ ¿ اسراءآیت ۷۷) ”الٰہی سنت“ کے بارے میں گفتگو ہوئی ہے جن کے پیش نظریہ نتیجہ نکلتا ہے کہ الٰہی سنت سے مراد خداوند عالم کے ثابت اور بنیادی قوانین ہیں جن میں ذرا بھی تبدیلی نہیں آسکتی یہ قوانین گذشتہ قوموں میں نافذ تھے اور آج نیزموجودہیں اور آئندہ بھی نافذ رہیں گے۔ (تفسیر نمونہ، ج ۷۱، ص ۵۳۴ کا خلاصہ) ہے جو متعدد انبیاءعلیہم السلام کی زندگی میں دیکھی گئی ہے جیسے حضرت ادریس (ع)، حضرت نوح(ع)، حصرت صالح (ع)، حضرت ابراہیم (ع)، حضرت یوسف (ع)، حضرت موسیٰ (ع)، حضرت شعیب (ع)، حضرت الیاس (ع)، حضرت سلیمان (ع)، حضرت دانیال (ع) اور حضرت عیسٰی(ع) (علیہم السلام)، اور حالات کے پیش نظر ان تمام انبیاءعلیہم السلام کی زندگی کئی سالوں تک غیبت (اور مخفی طریقہ) سے بسر ہوئی ہے۔
( کمال الدین، ج ۱، باب ۱ تا ۷، ص ۴۵۲ تا ۰۰۳)
اسی وجہ سے امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کی غیبت کی روایتوں میں ”غیبت“ کو انبیاءعلیہم السلام کی سنت کے عنوان سے یاد کیا گیا ہے اور امام مہدی علیہ السلام کی زندگی میں انبیاءعلیہم السلام کی سنت کے جاری ہونے کو غیبت کی دلیلوں میں شمار کیا گیا ہے۔
حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:
”بے شک ہمارے قائم (امام مہدی علیہ السلام) کے لئے غیبت ہو گی جس کی مدت طویل ہو گی۔ راوی کہتا ہے: اے فرزند رسول! اس غیبت کی وجہ کیا ہے؟
امام علیہ السلام نے فرمایا: خداوند عالم کا ارادہ یہ ہے کہ غیبت کے سلسلہ میں انبیاء(علیہم السلام) کی سنت آپ کے بارے میں (بھی) جاری رکھے“۔
(بحارالانوار، ج ۲۵، ح ۳، ص ۰۹)
قارئین کرام! مذکورہ گفتگو سے یہ نکتہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ امام مہدی علیہ السلام کی ولادت سے سالہا سال پہلے آپ کی غیبت کا مسئلہ بیان ہوتا رہا ہے اور پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) تا امام حسن عسکری علیہ السلام نے آپعلیہ السلام کی غیبت اور آپعلیہ السلام کے زمانہ میں پیش آنے والے بعض واقعات کی خصوصیات بھی بیان کی ہیں، نیز غیبت کے زمانہ میں مومنین کے فرائض بھی بیان کئے ہیں۔
(دیکھئے: منتخب الاثر، فصل۲، باب ۶۲ تا ۹۲، ص ۲۱۳ تا ۰۴۳)
پیغمبر اسلام (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا:”مہدی (علیہ السلام) میری (ہی) نسل سے ہو گا ........ اور وہ غیبت میں رہے گا، لوگوں کی حیرانی (و پریشانی) اس حد تک بڑھ جائے گی کہ لوگ دین سے گمراہ ہو جائیں گے اور پھر (جب حکم خدا ہو گا) چمکتے ہوئے ستارے کی طرح ظہور کرے گا اور زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا، جس طرح ظلم و جور سے زمین بھری ہو گی“۔ (کمال الدین، ج ۱، باب ۵۲، ح ۴، ص ۶۳۵)

غیبت کا فلسفہ
سوال یہ ہے کہ کیوں ہمارے بارہویں امام اور حجت خدا غیبت کی زندگی بسر کر رہے ہیں اور کیا وجہ ہے کہ ہم امام زمانہ عجل اﷲ فرجہ الشریف کے ظہور کی برکتوں سے محروم ہیں؟
قارئین کرام! اس سلسلہ میں گفتگو تفصیل سے احادیث میں ہوئی ہے اور اسی حوالے سے بہت سی روایات بھی موجود ہیں، لیکن ہم یہاں مذکورہ سوال کا جواب پیش کرنے سے پہلے ایک نکتہ کی طرف اشارہ کرتے ہیں:
ہم اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ خداوند عالم کا چھوٹے سے چھوٹا اور بڑے سے بڑا کام حکمت اور مصلحت سے خالی نہیں ہوتا، چاہے ہم ان مصلحتوں کو جانتے ہوں یا نہ جانتے ہوں، نیز کائنات کر ہر چھوٹااور بڑا واقعہ خداوند عالم کی تدبیر اور اسی کے ارادہ سے انجام پاتا ہے جن میں سے مہم ترین واقعہ امام مہدی علیہ السلام کی غیبت کا مسئلہ ہے، لہٰذا آپ کی غیبت کا مسئلہ بھی حکمت و مصلحت کے مطابق ہے اگرچہ ہم اس کے فلسفہ کو نہ جانتے ہوں۔

سرّ الٰہی
حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:”بے شک صاحب العصر (علیہ السلام) کے لئے ایسی غیبت ہو گی جس میں ہر اہل باطل شک و تردید کا شکار ہو جائے گا“۔
راوی نے آپ کی غیبت کی وجہ معلوم کی تو امام علیہ السلام نے فرمایا:
”غیبت کی وجہ ایک ایسی چیز ہے جس کو ہم تمہارے سامنے بیان نہیں کر سکتے........ غیبت اسرار الٰہی میں سے ایک راز ہے، لیکن چونکہ ہم جانتے ہیں کہ خداوند عالم صاحب حکمت ہے کہ جس کے تمام کام حکمت کی بنیاد پر ہوتے ہیں، اگرچہ ہمیں ان کی وجوہات کا علم نہ ہو“۔
(کمال الدین، ج ۱، باب ۴۴، ص ۴۰۲)
اگرچہ اکثر مقامات پر انسان خداوند عالم کے کاموں کو حکمت کے تحت مانتے ہوئے ان کے سامنے سرتسلیم خم کرتا ہے، لیکن پھر بھی بعض حقائق کے اسرار و رموز کو جاننے کی کوشش کرتا ہے تاکہ اس حقیقت کے فلسفہ کو جان لینے سے سے مزید مطمئن ہو جائے، چنانچہ اسی اطمینان کی خاطر ہم امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کی غیبت کی حکمت اور اس کے آثار پر تحقیق و تجزیہ شروع کرتے ہیں اور اس سلسلہ میں بیان ہونے والی روایات کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

عوام کی تادیب
جب اُمت اپنے نبی یا امام کی قدر نہ کرے اور اپنے فرائض کو انجام نہ دے بلکہ اس کی نافرمانی کرے تو پھر خداوند عالم کے لئے یہ بات روا ہے کہ ان کے رہبر اور ہادی کو ان سے الگ کر دے تاکہ وہ اس کی جدائی کی صورت میں اپنے گریبان میں جھانکیں، اور اس کے وجود کی قدر و قیمت اور برکت کو پہچان لیں، لہٰذا اس صورت میں امام کی غیبت اُمت کی مصلحت میں ہے اگرچہ ان کو معلوم نہ ہو اور وہ اس بات کو نہ سمجھ سکیں۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت ہے:”جب خداوند عالم کسی قوم میں ہمارے وجود اور ہماری ہم نشینی سے خوش نہ ہو تو پھر ہمیں ان سے جدا کر لیتا ہے“۔ (علل الشرائع، باب ۹۷۱، ص ۴۴۲)

دوسروں کے عہد و پیمان کے تحت نہ ہونا بلکہ مستقل ہونا
جو لوگ کسی جگہ کوئی انقلاب لانا چاہتے ہیں وہ اپنے انقلاب کی ابتداءمیں اپنے بعض مخالفوں سے عہد و پیمان باندھتے ہیں تاکہ اپنے مقاصد میں کامیاب ہو جائیں، لیکن امام مہدی علیہ السلام وہ عظیم الشان اصلاح کرنے والے ہیں جو اپنے انقلاب اور عالمی عادلانہ حکومت کے لئے کسی بھی ظالم و ستمگر سے کسی طرح کی کوئی موافقت نہیں کریں گے کیونکہ بہت سی روایات کے مطابق آپ کو سب ظالموں سے یقینی طور پر ظاہر بظاہر مقابلہ کرنے کا حکم ہے۔ اسی وجہ سے جب تک اس انقلاب کا راستہ ہموار نہیں ہو جاتا اس وقت تک آپ غیبت میں رہیں گے تاکہ آپ کو دشمنان خدا سے عہد و پیمان نہ کرنا پڑے۔
غیبت کی وجہ بارے حضرت امام رضا علیہ السلام سے اس طرح منقول ہے:
”اس وقت جبکہ (امام مہدی علیہ السلام) تلوارکے ذریعہ قیام فرمائیں گے تو آپ کا کسی کے ساتھ عہد و پیمان نہ ہو گا“۔(کمال الدین، ج ۲، باب ۴۴، ص ۲۳۲)

لوگوں کا امتحان
لوگوں کا امتحان کرنا خداوند عالم کی ایک سنت ہے، وہ اپنے بندوں کو مختلف طریقوں سے آزماتا ہے تاکہ راہ حق میں ان کے ثابت قدم کی وضاحت ہو جائے، اگرچہ اس امتحان کا نتیجہ خداوند عالم کو معلوم ہوتا ہے لیکن اس امتحان کی بھٹی میں بندوں کی حقیقت واضح ہو جاتی ہے اوروہ اپنے وجود کے جوہر کو پہچان لیتے ہیں۔حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام نے فرمایا:”جب میرا پانچواں فرزند غائب ہو گا، تو تم لوگ اپنے دین کی حفاظت کرتا تاکہ کوئی تمہیں دین سے خارج نہ کر پائے، کیونکہ صاحب امر (امام مہدی علیہ السلام) کے لئے غیبت ہو گی جس میں اس کے (بعض) ماننے والے اپنے عقیدہ سے پھر جائیں گے اور اس غیبت کے ذریعہ خداوند عالم اپنے بندوں کا امتحان کرے گا“۔ (غیبت شیخ طوسی علیہ الرحمہ، فصل۵، ح ۴۸۲، ص ۷۳۲)

امام کی حفاظت
انبیاءعلیہم السلام کے اپنی قوم سے جدا ہونے کی ایک وجہ اپنی جان کی حفاظت تھی، یہ حضرات اس وجہ سے خطرناک موقع پر مخفی ہو جاتے تھے تاکہ ایک مناسب موقع پر اپنی رسالت اور ذمہ داری کو پہنچا سکیں، جیسا کہ پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) مکہ معظمہ سے نکل کر ایک غار میں مخفی ہو گئے،یا کچھ دنوں کے لئے طائف چلے گئے، البتہ یہ سب خداوند عالم کے حکم اور اس کے ارادہ سے ہوتا تھا۔حضرت امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) اور آپعلیہ السلام کی غیبت کے بارے میں بھی متعدد روایات یہی وجہ بیان کرتی ہیں۔
حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:”امام منتظر اپنے قیام سے پہلے ایک مدت تک لوگوں کی نظروں سے غائب رہیں گے“۔جب امام علیہ السلام سے غیبت کی وجہ معلوم کی گئی تو آپعلیہ السلام نے فرمایا:”انہیں اپنی جان کا خطرہ ہو گا“۔ (کمال الدین، ج ۲، ح ۷، ص ۳۳۲)

شہادت کی تمنا
اگرچہ شہادت کی تمنا خدا کے سب نیک بندوں کے دلوں میں ہوتی ہے لیکن ایسی شہادت جو دین اور معاشرہ کی اصلاح اور اپنے فرائض کو نبھاتے ہوئے ہو لیکن اگر اسکا قتل ہونا ضیاع اور بڑے مقاصد کے خاتمہ کا سبب بنے تو ایسے موقع پر قتل سے بچنا ایک دانشمندانہ اور حکیمانہ کام ہے۔ آخری ذخیرہ الٰہی یعنی بارہویں امام کے قتل ہونے کے معنی یہ ہیں کہ خانہ کعبہ منہدم ہو جائے تمام انبیاءاور اولیاء(علیہم السلام) کی تمناﺅں پر پانی پھر جائے اور عالمی عادل حکومت کے بارے میں خداکا وعدہ پورا نہ ہو۔قابل ذکر ہے کہ متعدد روایات میں غیبت کی وجوہات کے سلسلہ میں دوسرے نکات بھی بیان ہوئے ہیں جن کو ہم اختصار کی وجہ سے بیان نہیں کر سکتے۔ لیکن اہم بات یہ ہے کہ غیبت اسرار الٰہی میں سے ایک راز ہے جس کی اصلی اور بنیادی وجہ امام علیہ السلام کے ظہور کے بعد ہی واضح ہو گی۔ ہم نے جو کچھ اس سلسلہ میں اسباب بیان کئے ہیں وہ بھی امام علیہ السلام کی غیبت میں اہم اثرات کے حامل ہیں۔

غیبت کی اقسام
قارئین کرام! مذکورہ مطالب کے پیش نظر امام مہدی علیہ السلام کی غیبت لازم اور ضروری ہے، لیکن چونکہ ہمارے ہادیوں کے تمام اقدامات لوگوں کے ایمان و اعتقاد کو مضبوط کرنے کے لئے ہوتے تھے، لہٰذا اس چیز کا خوف تھا کہ اس آخری حجت الٰہی کی غیبت کی وجہ سے مسلمانوں کی دینداری پر ناقابل تلافی نقصانات پہنچیں گے، لہٰذا غیبت کے زمانہ کا بہت ہی حساب و کتاب اور دقیق منصوبہ بندی کے تحت آغاز ہوا جو آج تک جاری ہے۔
امام مہدی علیہ السلام کی ولادت سے سالہا سال پہلے آپ کی غیبت اور اس کی ضرورت کے بارے میں گفتگو جاری و ساری تھی اور آئمہ معصومین علیہم السلام اور ان کے اصحاب کی محفلوں میں نقل ہوتی تھی، اسی طرح امام علی نقی علیہ السلام اور امام حسن عسکری علیہ السلام لوگوں سے ایک نئے انداز اور خاص حالات میں رابطہ ہوتا تھا، اور مکتب اہل بیت علیہم السلام کے ماننے والوں نے آہستہ آہستہ یہ سیکھ لیا تھا کہ بہت سی مادّی اور معنوی ضرورتوں میں امام معصوم علیہ السلام کی ملاقات پر مجبور نہیں ہیں، بلکہ ائمہ علیہم السلام کی طرف سے معین وکلاءاور قابل اعتماد حضرات کے ذریعہ اپنے فرائض پر عمل کیا جا سکتا ہے، حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت اور حصرت حجت بن الحسن علیہ السلام کی غیبت (صغریٰ) کے آغاز سے امام اور اُمت کے درمیان رابطہ بالکل ختم نہیں ہوا تھا، بلکہ مومنین اپنے مولا و آقا اور امامعلیہ السلام کے خاص نائب کے ذریعہ رابطہ برقرار کئے ہوئے تھے اور یہی زمانہ تھا کہ جس میں شیعوں کو دینی علماءسے وسیع پیمانہ پر رابطہ کی عادت ہوئی کہ امام علیہ السلام کی غیبت میں بھی اپنے دینی فرائض کی پہچان کا راستہ بند نہیں ہوا ہے۔ اس موقع پر مناسب تھا کہ حضرت بقیة اﷲ امام مہدی علیہ السلام کی غیبت کبریٰ کا آغاز ہو اور امام علیہ السلام اور شیعوں کے درمیان گذشتہ زمانہ میں رائج عام رابطہ کا سلسلہ بند ہو جائے۔اس سے پہلے ایک چھوٹی غیبت ہو۔
قارئین کرام! ہم یہاں غیبت صغریٰ اور غیبت کبریٰ کی خصوصیات کے سلسلہ میں کچھ چیزیں بیان کرتے ہیں:

غیبت صغریٰ
۰۶۲ھ میں حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت کے فوراً بعد ہمارے بارہویں امام کی امامت کا آغاز ہوا اور اسی وقت سے آپ کی ”غیبت صغریٰ“ کا بھی آغاز ہو گیا اور یہ سلسلہ ۹۲۳ھ (تقریباً ۰۷ سال) تک جاری رہا۔
غیبت صغریٰ کی سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ مومنین امام مہدی علیہ ا لسلام کے خاص نائبین کے ذریعہ رابطہ برقرار کئے ہوئے تھے اور ان کے ذریعہ امام مہدی علیہ السلام کے پیغامات حاصل کرتے تھے اور اپنے سوالات آپ کی خدمت میں بھیجتے تھے (خطوں کی تحریر (جو توقیعات کے نام سے مشہور ہیں) شیعہ علماءکی کتابوں میں موجود ہے (جیسے بحار الانوار، ج ۳۵، باب ۱۳، ص ۰۵۱ تا ۷۹۵) اور کبھی امام مہدی علیہ السلام کے نائبین کے ذریعہ آپ کی زیارت کا شرف بھی حاصل ہو جاتا تھا۔امام مہدی علیہ السلام کے نواب اربعہ جو عظیم الشان شیعہ عالم دین تھے اور خود امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کے ذریعہ منتخب ہوتے تھے ان کے اسمائے گرامی ان کی نیابت کی ترتیب سے اس طرح ہیں:
۱۔ عثمان بن سعید عَمری: آپ امام مہدی علیہ السلام کی غیبت کے آغاز سے امام کی نیابت کرتے تھے۔ موصوف نے ۵۶۲ھ میں وفات پائی یہ بات بھی قابل ذکرہے کہ موصوف امام علی نقی علیہ السلام اور امام حسن عسکری علیہ السلام کے بھی وکیل تھے۔
۲۔ محمد بن عثمان عمری: موصوف امام مہدی علیہ السلام کے نائب اوّل کے فرزند تھے اور اپنے والد گرامی کے انتقال پر امام کی نیابت پر فائزہوئے، موصوف نے ۵۰۳ھ میں وفات پائی۔
۳۔ حسین بن رُوح نوبختی: موصوف امام مہدی علیہ السلام کے ۱۲ سال نائب رہے جس کے بعد ۶۲۳ھ میں ان کی وفات ہو گئی۔
۴۔ علی بن محمد سم ری: موصوف کا انتقال ۹۲۳ھ میں ہوا اور انکی وفات کے بعد غیبت صغریٰ کا زمانہ ختم ہو گیا۔امام مہدی علیہ السلام کے خاص نائبین امام حسن عسکری علیہ السلام اور خود امام مہدی علیہ السلام کے ذریعہ انتخاب ہوئے تھے اور لوگوں میں ان کا تعارف کروایا جاتا تھا۔
شیخ طوسی علیہ الرحمہ اپنی کتاب ”الغیبة“ میں روایت کرتے ہیں کہ ایک روز عثمان بن سعید (نائب اوّل) کے ساتھ چالیس مومنین امام حسن عسکری علیہ السلام کی خدمت میں پہنچے، امام علیہ السلام نے ان کو اپنے فرزند کی زیارت کرائی اور فرمایا: ”میرے بعد یہی میرا جانشین اور تمہارا امام ہو گا، تم لوگ اس کی اطاعت کرنا، اور جان لو کہ آج کے بعد اس کو نہیں دیکھ پاﺅ گے، یہاں تک کہ اس کی عمر کامل ہو جائے، لہٰذا (اس کی غیبت کے زمانہ میں) جو کچھ عثمان (بن سعد) کہیں اسکو قبول کرنا، اور ان کی اطاعت کرنا کہ وہ تمہارے امام کے نائب ہیں اور تمام امور کی ذمہ داری انہیں پر ہے“۔ (غیبت طوسی علیہ الرحمہ، فصل ۶، ح ۹۱۳، ص ۷۵۳)
امام حسن عسکری علیہ السلام کی دوسری روایت میں محمد بن عثمان کو امام مہدی علیہ السلام کے (دوسرے) نائب کے عنوان سے یاد کیا گیا ہے۔
شیخ طوسی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:”عثمان بن سعید“ نے امام حسن عسکری علیہ السلام کے حکم سے یمن کے شیعوں کا لایا ہوا مال وصول کیا، اس وقت بعض مومنین نے جو اس واقعہ کے شاہد تھے، امام علیہ السلام سے عرض کی: خدا کی قسم! عثمان آپ کے بہترین شیعوں میں سے ہیں لیکن اس کام کا آپ کے نزدیک انکا مقام ہم پر واضح ہو گیا۔ امام حسن عسکری علیہ السلام نے فرمایا: جی ہاں! تم لوگ گواہ رہنا کہ عثمان بن سعید عمری میرے وکیل ہیں اور اس کا فرزند ”محمد“ میرے بیٹے ”مہدی“ کا وکیل ہو گا“۔ (غیبت طوسی علیہ الرحمہ، فصل ۶، ح ۷۱۳، ص ۵۵۳)
یہ تمام واقعات امام مہدی علیہ السلام کی غیبت سے پہلے کے ہیں، غیبت صغریٰ میں بھی آپ کا ہر نائب اپنی وفات سے پہلے امام مہدی علیہ السلام کی طرف سے منتخب ہونے والے نائب کا تعارف کرا دیتا تھا۔یہ حضرات چونکہ اعلیٰ اوصاف کے مالک تھے جس کی بنا پر ان میں امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کی نیابت کی لیاقت پیدا ہوئی، ان حضرات کی مخصوص صفات کچھ اس طرح تھیں: امانت داری، عفت، رفتار و گفتار میں عدالت، رازداری اور امام مہدی علیہ السلام کے زمانہ میں مخصوص حالات میں اسرار اہل بیت علیہم السلام کو مخفی رکھنا، یہ حضرات امام مہدی علیہ السلام کے قابل اعتماد افراد تھے اور خاندان عصمت و طہاعت کے مکتب کے پروردہ تھے، اُنہوں نے مستحکم ایمان کے زیرِ سایہ علم کی دولت حاصل کی تھی، ان کی نیک نامی مومنین کی ورد زبان تھی، سختیوں اور پریشانیوں میں صبر و بردباری کا یہ عالم تھا کہ سخت سے سخت حالات میں اپنے امام علیہ لسلام کی مکمل اطاعت کیا کرتے تھے۔ اور ان تمام نیک صفات کے ساتھ ان کے یہاں شیعوں کی رہبری کی لیاقت بھی پائی جاتی تھی، نیز مکمل فہم و شعور اور حالات کی شناخت کے ساتھ اپنے پاس موجود وسائل کے ذریعہ شیعہ معاشرہ کو صراط مستقیم کی طرف ہدایت فرماتے تھے اور مومنین کو پل غیبت صغریٰ سے صحیح و سالم گزار دیا۔غیبت صغریٰ اور امام اور اُمت کے درمیان رابطہ ایجاد کرنے میں نواب اربعہ کے کردار کا ایک عمیق مطالعہ امام مہدی علیہ السلام کی زندگی کے اس حصہ کی اہمیت کو واضح کر دیتا ہے، اس رابطہ کا وجود اور غیبت صغریٰ میں بعض شیعوں کا امام مہدی علیہ السلام کی خدمت میں مشرف ہونا بارہویں امام اور آخری حجت خدا کی ولادت کے اثبات میں بھی بہت موثر رہا ہے اور یہ اہم نتائج اس زمانہ میں حاصل ہوئے کہ جب دشمنوں کی یہ کوشش تھی کہ شیعوں کو امام حسن عسکری علیہ السلام کے فرزند کی پیدائش کے حوالہ سے شک و تردید میں ڈال دیں، اس کے علاوہ غیبت صغریٰ کا یہ زمانہ غیبت کبریٰ کی شروععات کےلئے ایک ہموار راستہ تھا جس میں مومنین اپنے امام سے رابطہ نہیں کر سکتے تھے لیکن اطمینان اور یقین کے ساتھ امام علیہ السلام کے وجود اور ان کے برکات سے فیضیاب ہوتے ہوئے غیبت کبریٰ کے زمانہ میں داخل ہو گئے
۔ة....ة....ة....ة....ة
غیبت کبریٰ
امام مہدی علیہ السلام کے چوتھے نائب کی زندگی کے آخری دنوں میں آپعلیہ السلام نے ان کے نام خط میں یوں تحریر فرمایا:

بِس مِ اللّٰہِ الرَّح مٰنِ الرَّحِی م
اے علی بن محمد سمری! خداوند عالم آپ کی وفات پر آپ کے دینی بھائیوں کو اجر جمیل عنایت فرمائے کیونکہ آپ چھ دن کے بعد عالم بقاءکی طرف کوچ کر جائیں گے، اسی وجہ سے اپنے کاموں کو خوب دیکھ بھال لو، اور اپنے بعد کسی کو اپنا وصی نہ بناﺅ! کیونکہ مکمل (اور طولانی) غیبت کا زمانہ پہنچ گیا ہے، اس کے بعد سے مجھے نہیں دیکھ پاﺅ گے، جب تک خدا کا حکم ہو گا، اور اس کے بعد ایک طویل مدت ہو گی جس میں دل سخت ہو جائیں گے اور زمین ظلم و ستم سے بھر جائے گی۔ (غیبت طوسی علیہ الرحمہ، فصل ۶، ح ۵۶۳، ص ۵۹۳)
اس بنا پر بارہویں امام علیہ السلام کے آخری نائب کی وفات کے بعد ۹۲۳ھ سے ”غیبت کبریٰ“ کا آغاز ہو گیا اور یہ سلسلہ اسی طرح جاری ہے جب تک کہ خدا کی مرضی سے غیبت کے بادل چھٹ جائیں اور یہ دُنیا ولایت و امامت کے چمکتے ہوئے سورج سے براہ راست فیضیاب ہو۔
جیسا کہ بیان ہو چکا ہے کہ غیبت صغریٰ میں شیعہ اورمومنین امام علیہ السلام کے مخصوص نائب کے ذریعہ اپنے امام سے رابطہ رکھتے تھے اور اپنے الٰہی فرائض سے آگاہ ہوتے تھے لیکن غیبت کبریٰ میں اس کا رابطہ کا سلسلہ ختم ہو گیا اور مومنین اپنے فرائض کی شناخت کے لئے امام علیہ السلام کے عام نائبین جو کہ دینی علماءو مراجع تقلید ہیں ان کی طرف رجوع کرنے لگیں اور یہ واضح راستہ ہے جو حضرت امام مہدی علیہ السلام نے اپنے ایک قابل اعتماد عظیم الشان عالم کے سامنے پیش کیا ہے۔ امام مہدی علیہ السلام کے دوسرے نائب خاص کے ذریعہ پہنچے ہوئے خط میں اس طرح تحریر ہے:
﴾وَ اَمَّا ال حَوَادِث ال وَاقِعَةُ فَار جَعُو ا اِلٰی رُواةِ حَدِی ثَنَا فَانَّہُم حُجَّتِی عَلَی کُم وَ اَنَا حُجَّةُ اللّٰہِ عَلَی ہِم ۔﴿ (کمال الدین، ج ۲، باب ۵۴، ص ۶۳۲)
”اور آئندہ پیش آئے والے حوادث اور واقعات (نیز مختلف مسائل میں اپنی شرعی ذمہ داریوں کی پہچان کےلئے) ہماری احادیث کے راویوں (فقہائ) کی طرف رجوع کریں، کیونکہ وہ تم پر میری حجت ہیں اورمیں ان پر خدا کی حجت ہیں........“۔
دینی سوالات کے جواب کے لئے اور ان سے اہم یہ کہ شیعوں کے شخصی اور معاشرتی فرائض کی پہچان کے لئے یہ نیا طریقہ کار اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ امامت و رہبری کا عظیم الشان نظام، شیعہ ثقافت میں ایک بہترین اور زندہ نظام ہے جس میں مختلف حالات میں مومنین کی ہدایت اور رہبری بہت ہی مستحکم طریقہ پر انجام پاتی ہے اور اس مکتب کے ماننے والوں کو کسی بھی زمانہ میں ہدایت کے سرچشمہ کے بغیر نہیں چھوڑا گیا ہے بلکہ ان کی شخصی اورمعاشرتی زندگی کے مختلف حصوں میں ان کے مسائل کو دینی علماءاور پرہیزگاراور عادل و آگاہ مجتہدین کے سپرد کر دیا گیا ہے جو مومنین کے دین اور دنیا کے امانت دار ہیں تاکہ اسلامی معاشرہ کی کشتی دنیائے طوفان اورکفر و نفاق کے متلاطم دریا سے بحفاظت کنارہ ہدایت پر لگائیںنیزاستعمار کی غلط سیاست کے دلدل میں پھنسنے سے محفوظ رکھیںاور شیعہ عقائد کی سرحدوں کی حفاظت ہوتی رہے۔
حضرت امام علی نقی علیہ السلام غیبت کے زمانہ میں دینی علماءکے کردار کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
”اگر ایسے علماءکرام نہ ہوتے جو امام مہدی علیہ السلام کی غیبت میں لوگوں کو آپ کی طرف دعوت دیتے اور ان کو اپنے امام کی طرف ہدایت کرتے، نیز حجتوں اور خداوند عالم کے دینی مستحکم دلائل (جو کہ خود دین خدا ہے) کی حمایت نہ کرتے اور اگر نہ ہوتے ایسے بابصیرت علماءجو خدا کے بندوں کو شیطان اور شیطان صفت لوگوں نیز دشمنان اہل بیت علیہم السلام (کی دشمنی) کے جال سے نجات نہ دیتے تو پھر دین خدا پر کوئی باقی نہ رہتا! (اور سب دین سے خارج ہو جاتے) لیکن اُنہوں نے شیعوں کے (عقائد اور) افکار کو مضبوطی سے اپنے ہاتھوں میں لے لیا جیسا کہ کشتی کا ناخدا کشتی میں سوار مسافروں کو اپنے ہاتھوں میں لے لیتا ہے۔ یہ علماءخداوند عالم کے نزدیک سب سے بہترین (بندے) ہیں“۔
(احتجاج، ج ۱، ح ۱۱، ص ۵۱)
قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ معاشرہ کی رہبری کے لئے مخصوص صفات و کمالات درکار ہیں، کیونکہ مومنین کے دین و دُنیا کے امور کو ایسے شخص کے ہاتھوں میں دےا جائے جو اس عظیم ذمہ داری کے اہل ہوں تو ان افراد کا مکمل طور پر صاحب بصیرت اور صحیح تشخیص کی صلاحیت کا حامل ہونا ضروری ہے۔ اسی وجہ سے ائمہ معصومین علیہم السلام نے دینی مراجع اور ان سے بڑھ کر ولی امر مسلمین ”ولی فقیہ“ کی مخصوص شرائط بیان کی ہیں۔
حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:
”فقہاء(کرام) اور دینی علماءمیں سے جو شخص (گناہ صغیرہ اور گناہ کبیرہ کے مقابلہ میں) اپنے کو محفوظ رکھے اور دین (اور مومنین کے عقائد کا) محافظ ہو، اور اپنے نفس اور خواہشات کی مخالفت کرتا ہو اور اپنے (زمانہ کے) مولا و آقا (اور امام) کی اطاعت کرتا ہو تو مومنین پر واجب ہے کہ اس کی پیروی کریںاور اس کی تقلید کریں اور صرف بعض شیعہ فقہاءایسے ہوں گے نہ کہ سب “۔ ( احتجاج، ج۲، ص ۱۵۵)
ة....ة....ة....ة....ة


درس کا خلاصہ

امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت سے مراد ان کا حاضر نہ ہونا نہیں ہے بلکہ اس کا معنی ان کا دوسروں کی نگاہ اور توجہ سے پوشیدہ ہونا ہے۔
غیبت اور مخفی زندگی صرف امام عجل اﷲ فرجہ الشریف کے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ گذشتہ پیغمبروں کی ایک تعداد بھی غیبت کے عمل سے گزری ہے۔
روایات میں امام زمانہ عج اللّٰہ فرجہ الشریف کی غیبت کے دلائل کے حوالے سے مندرجہ ذیل اسباب: حضرت کی جان کی حفاظت، لوگوں کی آزمائش، لوگوں کو تنبیہ، ان پرکسی اور کی بیعت کا نہ ہونا وغیرہ نقل ہوئے ہیں۔
امام عصر کی دو غیبتیں ہیں، الف: غیبت صغریٰ کہ جو ۰۶۲ھ ہجری سے ۹۲۳ہجری تک جاری رہی۔ ب: غیبت کبریٰ کہ ج ۹۲۳ ہجری سے شروع ہوئی اور ابھی تک جاری ہے۔
امام عصر علیہ السلام کے فرمان کے مطابق غیبت کبریٰ کے زمانہ میں جامع الشرائط فقہاءاسلامی معاشرہ کے دینی امور کے ذمہ دار ہیں۔


درس کے سوالات

۱۔غیبت کا مفہوم اور اس کی تشریح کریں؟
۲۔ روایات کی رو سے امام عصر علیہ السلام کی غیبت کے اسباب میں سے کوئی تین اسباب کی وضاحت کریں؟
۳۔ محمد بن عثمان کتنے ائمہ علیہم السلام کے نائب اور خاص وکیل تھے اور کتنا عرصہ اس مقام پر فائز رہے؟
۴۔ امام زمانہ علیہ السلام نے غیبت کبریٰ کے زمانہ میں دینی فقہاءکی مرجعیت کوکیسے بیان کیا ہے؟
۵۔ امام ھادی علیہ السلام نے غیبت کے زمانہ میں لوگوں کے ایمان کو محفوظ رکھنے کے لئے شیعہ علماءکے کردار اور عظمت کو کس چیز سے تشبیہ دی ہے؟
ة....ة....ة....ة........ة
 

### جوابات:

**۱۔ غیبت کا مفہوم اور اس کی تشریح:**
غیبت کا مفہوم ”آنکھوں سے مخفی ہونا“ ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ امام زمانہ علیہ السلام لوگوں کی نظروں سے مخفی ہیں اور ان کو پہچانا نہیں جا سکتا حالانکہ وہ لوگوں کے درمیان موجود ہوتے ہیں۔ امام کی یہ غیبت عوام سے ان کی حفاظت کے لیے اور ان کے زمانے کے خاص حالات کے پیش نظر ہوتی ہے۔

**۲۔ روایات کی رو سے امام عصر علیہ السلام کی غیبت کے اسباب می کوئی سے تین اسباب کی وضاحت کریں:**
- **امام کی جان کی حفاظت:** امام مہدی علیہ السلام کی غیبت کا ایک اہم سبب ان کی جان کی حفاظت ہے۔ ان کی زندگی کو درپیش خطرات کی وجہ سے غیبت ضروری ہو جاتی ہے تاکہ وہ اپنے فرائض کو بغیر کسی رکاوٹ کے انجام دے سکیں۔
- **لوگوں کی آزمائش:** غیبت کا ایک دوسرا سبب لوگوں کی آزمائش ہے۔ خداوند عالم لوگوں کو مختلف طریقوں سے آزماتا ہے تاکہ ان کے ایمان کی مضبوطی اور دینی استقامت کی جانچ ہو سکے۔
- **امام پر کسی اور کی بیعت کا نہ ہونا:** امام کی غیبت کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ وہ کسی ظالم حکمران یا ستمگر قوت کے ساتھ کوئی سیاسی یا اجتماعی معاہدہ نہیں کر سکتے۔ اس طرح ان کی غیبت لوگوں کو اس بات کی یاد دہانی کراتی ہے کہ وہ کسی بھی غیر عادلانہ طاقت کے ساتھ وابستہ نہیں ہیں۔

**۳۔ محمد بن عثمان کی نیابت کی مدت:**
محمد بن عثمان عمری امام حسن عسکری علیہ السلام اور امام مہدی علیہ السلام کے نائب تھے۔ وہ تقریباً پچیس سال تک امام مہدی علیہ السلام کے نائب خاص کے طور پر فعال رہے۔

**۴۔ امام زمانہ علیہ السلام نے غیبت کبریٰ کے زمانہ میں دینی فقہاء کی مرجعیت کو کیسے بیان کیا ہے؟**
امام مہدی علیہ السلام نے غیبت کبریٰ کے دوران فقہاء کو اپنا نائب قرار دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مومنین کو ان کے فرائض اور دینی معاملات کی رہنمائی کے لئے فقہاء کی طرف رجوع کرنا چاہیے، کیونکہ وہ امام کی غیر حاضری میں امام کی حجت کو برقرار رکھتے ہیں۔

**۵۔ امام ہادی علیہ السلام نے غیبت کے زمانہ میں لوگوں کے ایمان کو محفوظ رکھنے کے لئے شیعہ علماء کے کردار اور عظمت کو کس چیز سے تشبیہ دی ہے؟**
امام ہادی علیہ السلام نے علماء کرام کے کردار کو کشتی کے ناخدا سے تشبیہ دی ہے، جو کشتی میں سوار مسافروں کو محفوظ طریقے سے منزل تک پہنچاتا ہے۔ امام ہادی علیہ السلام کی یہ تشبیہ زور دیتی ہے کہ علماء کرام دینی رہنمائی اور تعلیم میں مومنین کے لئے ایک محافظ کا کردار ادا کرتے ہیں، جس طرح ایک ناخدا اپنے مسافروں کی حفاظت کرتا ہے۔ اس طرح وہ دینی و ایمانی چیلنجز کے دوران مومنین کی راہنمائی اور حفاظت کرتے ہیں، تاکہ وہ راستے

سوال 5 جواب 


امام ہادی علیہ السلام نے غیبت کے زمانہ میں لوگوں کے ایمان کو محفوظ رکھنے کے لئے شیعہ علماء کے کردار اور عظمت کو کشتی کے ناخدا سے تشبیہ دی ہے، جو اپنی کشتی کے مسافروں کو طوفانی سمندر میں محفوظ رکھتا ہے اور انہیں سلامتی کے ساتھ منزل تک پہنچاتا ہے۔ یہ تشبیہ ان علماء کی اہمیت اور ذمہ داری کو اجاگر کرتی ہے کہ وہ کس طرح دینی ہدایت اور تعلیمات کو برقرار رکھتے ہوئے، مومنین کو دین سے متعلق شکوک و شبہات اور بدعتوں سے محفوظ رکھتے ہیں اور انہیں صحیح اسلامی تعلیمات کی طرف رہنمائی کرتے ہیں۔


نوٹ یہ استاد محترم آغا علی اصغر سیفی 





غیبت  امام زمان  عج اور اس کے اسباب



 ہر زمانے میں امام معصوم کی امامت پر عقلی دلیل موجود ہے۔ اس دلیل کے مطابق حجت الہیٰ  کا لوگوں کے درمیان موجود ہونا ضروری ہے جس کا مصداق تام امام معصوم ہیں۔




مقدمہ: ہر زمانے میں امام معصوم کی امامت پر عقلی دلیل موجود ہے۔ اس دلیل کے مطابق حجت الہیٰ کا لوگوں کے درمیان موجود ہونا ضروری ہے جس کا مصداق تام امام معصوم ہیں۔ قاعدہ لطف{کلامی وعقلی قاعدہ} کا تقاضا بھی یہی ہے ۔ امام معصوم کی غیبت ایک امر عارضی ہے جو اصل اولی{ضرورت وجودامام معصوم} کے ساتھ منافات نہیں رکھتا۔ محقق طوسی اس بارے میں لکھتےہیں :{وجوده لطف،وتصرفه لطف آخروعدمه منا}1۔ امام کا وجودبھی لطف{اطاعت و مصالح سےنزدیک اور معاصی و مفاسد سے دور کرنےوالا }ہے اور امام کا تصرف ایک الگ لطف ہے اور ان کا ظاہرنہ ہونا ہماری وجہ سے ہے۔

حضرت علی علیہ السلام کے فرامین کے مطابق زمین کبھی بھی حجت خدا سے خالی نہیں ہو سکتی جیساکہ آپ ؑفرماتے ہیں :{اللهم بلی! لا تخلوا الارض من قائم الله بحجته ،اما ظاهرا مشهورا و اما خائفا مغمورا،لئلاتبطل حجج الله و بیناته}2۔ خدایا !بے شک زمین حجت الہیٰ اور قیام کرنے والے سے خالی نہیں ہو سکتی چاہے وہ ظاہر و آشکار ہو یا خائف و مخفی تاکہ خدا کی حجتیں اور براہین تمام نہ ہونے پائیں”۔

بعض احادیث جیسے حدیث ثقلین اور حدیث ائمہ اثنا عشر قیامت تک امام معصوم کی موجودگی پر دلالت کرتی ہیں ۔

تاریخی شواہد سے بھی یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ آپ{عج}کی ولادت معین زمانے میں مخصوص مقام پر ہوئی ہےکیونکہ افراد کی ولادت اور موت کے بارے میں جاننے کا متعارف طریقہ یہی تاریخی شواہد ہیں جن پر استناد کیا جاتا ہے۔

ان افراد کے نقل کے مطابق جنہوں نے اما م حسن عسکری علیہ السلام کی امامت کے زمانےمیں آپ ؑکے گھر میں امام زمان{عج}سے ملاقات کئے اور وہ افراد جنہوں نےغیبت صغری کے زمانے میں آپ{عج}سے ملاقات کا شرف حاصل کیا جن میں نواب اربعہ سر فہرست ہیں ۔نواب اربعہ شیعوں کے برجستہ ترین شخصیات میں سے تھے جواپنے زمانے میں پرہیزگاری کے لحاظ سے بے نظیر تھے۔

ان افراد کے نقل کے مطابق جنہوں نے غیبت کبری کےعرصے میں آپ{عج}سےملاقات کا شرف حاصل کیا ۔ یہ گزارشات اس قدر زیادہ ہیں کہ ان کے جعلی ہونے کا احتمال منتفی ہو جاتا ہے کیونکہ ان کی صحت کے بارے میں انسان کو یقین ہو جاتا ہے۔

انبیاء کی تاریخ میں مسئلہ غیبت ایک واضح مسئلہ تھا۔بعض اولیاء کا محدود مدت کے لئے لوگوں کے درمیان سے غائب ہونا گذشتہ امتوں میں بھی معمول رہا ہے چنانچہ حضرت یونس علیہ السلام ،حضرت موسی علیہ السلام اورپیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگانی میں اس کے نمونے دیکھ سکتے ہیں : حضرت یونس علیہ السلام ایک مدت تک اپنی امت سے غائب رہے ۔ 3۔ حضرت موسی علیہ السلام چالیس دن تک اپنی امت سےغائب رہےاور انہوں نے یہ ایام میقات میں بسر کئے ۔4۔ اسی طرح پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی مکہ سے مدینہ ہجرت کرتے وقت چند مدت تک اپنی امت کےپاس نہیں رہے ۔ 5۔ ان میں سے کسی بھی مورد میں ان افراد کی نبوت اور رسالت پر اعتراض نہیں کیا گیا ہے ۔واضح ہے کہ اگر غیبت مقام نبوت اورمقام امامت کے ساتھ منافات رکھتی تو زمان کےمختصر اور طولانی ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔بنابریں امام زمانہ{عج} کی غیبت کے طولانی ہونےکو آپ {عج} کی امامت کے ساتھ ناسازگا ر نہیں سمجھنا چاہیے ۔

امام زمانہ{عج} کی غیبت کے اسباب کے بارے میں ائمہ معصومین علیہم السلام کی احادیث میں کچھ مطالب بیان ہوئے ہیں ذیل میں ہم ان کی طرف اشارہ کرتے ہیں ۔

1۔راز الہی:

بعض روایات میں اس نکتے پر زور دیا گیا ہے کہ امام زمانہ{عج}کی غیبت کا فلسفہ آپ {عج} کے ظہور سے پہلے پوری طرح واضح نہیں ہوگا جبکہ ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ انسان آپ {عج} کے وجود کے بارے میں موجود دلائل سے آشنا ہونے کےبعد اسے تسلیم کرے اور آپ {عج} کی غیبت کے اسرار کومکمل طورپردرک نہ کرنے کی وجہ سے شک و تردید کا شکار نہ ہو ۔ شیخ صدوق رہ عبد اللہ بن فضل ہاشمی سے روایت نقل کرتے ہیں کہ اس نے کہا : میں نے امام جعفر صادق علیہ السلام سےسنا :صاحب الامرکے لئے یقینا ایک غیبت ہوگی جس کے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے کہ اس دوران ہر اہل باطل شک و شبہ میں مبتلا ہو جائے گا۔میں نے عرض کی :میری جان آپ پر قربان !ایسا کیوں ہے ؟فرمایا:وہی حکمت ہے جو ان سے پہلے خدا کی حجتوں کے غائب ہونے کی تھی ۔ یقینا غیبت کی حکمت اسی وقت ظاہر ہوگی جب ان کا ظہور ہو جائےگا بالکل اسی طرح جیسے حضرت خضرعلیہ السلام کے امور یعنی کشتی میں سوراخ کرنے ،لڑکے کو جان سے مار دینے اور دیوار بنانے کا راز حضرت موسیعلیہ السلام کو اس وقت معلوم ہو ا جب وہ ایک دوسرے سے جدا ہونے لگے ۔ اے فرزندِ فضل یہ غیبت خداکے امور میں سے ایک امر ہے ،اسرار الہیٰ میں سے ایک سر ہے اور ہمیں یہ معلوم ہے کہ خداوند عالم حکیم ہے اور ہم نے یہ گواہی دی ہے کہ اس کا ہرقول وفعل حکمت کے مطابق ہے چاہے اس کا راز ہم پرپوشیدہ ہی کیوں نہ ہو۔6۔

2۔قتل کا خوف:

بہت ساری احادیث کے مطابق امام زمانہ{عج}کی غیبت کا ایک سبب قتل ہونے کا خوف ہے ۔ 7۔ جیساکہ جناب زرارہ امام باقرعلیہ السلام سے نقل کرتےہیں کہ آپؑ نے فرمایا:قائم آل محمد کے لئے قیام کرنے سے پہلے ایک غیبت ہے ۔میں نے عرض کیا کس لئے؟ فرمایا:{یخاف القتل} 8۔اس لئےکہ ان کی جان کے لئےخطرہ ہے ۔ قتل سے ڈرنے کا دو ہی سبب ہو سکتاہے ۔ ایک یہ کہ انسان دنیوی لذتوں سے زیادہ استفادہ کرنا چاہتا ہے دوسرایہ کہ اس کےاوپر سنگین ذمہ داریاں عائد ہیں جن کو انجام دینے کے لئے اسے اپنی جان کی حفاظت کرنی چاہیے۔ان میں سے پہلی قسم مذموم جبکہ دوسری قسم ممدوح ہے بلکہ بعض اوقات واجب بھی ہے۔ پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی جان کی حفاظت کی خاطر غارحرا میں پناہ لیا ۔امام زمان عج کے بارے میں بھی قتل ہونے کا خوف اسی طرح ہے۔ عقلی و نقلی دلائل کےمطابق آپ {عج} زمین پر آخری حجت الہیٰ ہیں ۔ آپ{عج} پرچم توحید کو پوری دنیا میں لہرانے اور دین اسلام کو پوری دنیا پر حاکم کرنے پر مامور ہیں۔علاوہ ازیں ظالم و جابر حکمران اپنے ناجائز منافع کی حصول کے راستے میں آپ{عج}کے وجود کو مانع سمجھتے ہیں ۔طبیعی بات ہے کہ یہ افراد آپ {عج} کو قتل کرنےکے لئے ہر طرح کا منصوبہ اور حربہ استعمال کریں گے۔ اس صورتحال میں آپ{عج} کی حفاظت کا بہترین طریقہ آپ{عج}کی غیبت ہے ۔

یہاں ممکن ہےکوئی اس طرح اعتراض کرے کہ خداوند متعال معجزے کےذریعے آپ {عج} کی حفاظت کرسکتاہے مثلا اس طر ح کہ کسی اسلحہ یا زہر کا اثر آپ {عج} کے بدن پر نہ ہو۔جس کے نتیجے میں آپ {عج} ظاہر بھی ہوتے اور لوگ آپ {عج} کے وجود سےزیادہ استفادہ کرتے کیونکہ اس صورت میں آپ {عج}کے وجود کو کسی قسم کا بھی خطرہ نہیں تھا ۔

اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ کسی فرد کی جان کی حفاظت کےلئےمعجزے سے استفادہ کرنا ایک استثنائی بات ہے جس سے صرف خاص موارد میں استفادہ کیا جاتاہے جبکہ اولیاءاور حجت الہیٰ کےبارے میں مشیت الہیٰ یہ ہے کہ یہ افراد لوگوں کے درمیان طبیعی زندگی گزاریں اور طبیعت پرمبنی قوانین ان کے درمیان یکساں جاری ہو ، تاکہ قانون امتحان و آزمائش الہیٰ محقق ہو ۔واضح ہےکہ اگر امام خاص شرائط کے ساتھ زندگی گزاریں تو سب لوگ اجباری اور غیرعادی طریقے سےان پر ایمان لائیں گے ۔ علاوہ ازیں ممکن ہے انہیں مافوق بشر قرار دیتےہوئے ان کی پرستش شروع کردیں۔ یہ سب معجزہ کے ذریعے امام کی حفاظت کرنے اور آپ {عج}کے لوگوں کے درمیان رہنے کے نامطلوب نتائج میں سے ہیں ۔

شیخ طوسی رہ اس بارے میں تحریر فرماتے ہیں :اگر کوئی اعتراض کرے کہ خدا نے امام اور اس کے قاتل کے درمیان مانع ایجاد کر کے آپ {عج} کی حفاظت کیوں نہیں کی ؟تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ کام انسانوں کو مکلف کرنے کے فلسفے کے ساتھ ناسازگار ہے کیونکہ انسانوں کو مکلف کرنے کا مقصد ان کوجزا وسزا کامستحق بنانا ہے جبکہ ایسی صورت میں مانع ایجاد کرنا اس مقصد کے ساتھ منافات رکھتاہے ۔ 9۔

اعتراض و جواب:

امام زمانہ{عج}اور ان کے آباء و اجداد کے درمیان کیا فرق ہے کہ وہ غیبت میں نہیں رہیں بلکہ لوگوں کے پاس ظاہر تھے جبکہ آپ {عج} غائب ہیں اور آپ تک لوگوں کی رسائی بھی نہیں ؟

پہلاجواب:آپ {عج}کی خصوصیت یہ ہے کہ آپ{عج}اگر ظاہر ہوں تو ظالم و جابر افراد کے مقابلے میں تقیہ نہیں کریں گے جبکہ اس صورت میں آپ{عج}کے قتل کا خطرہ زیادہ ہے ۔

دوسراجواب:ہر امام کی شہادت کے بعددوسرے امام نے اس عظیم ذمہ داری کو قبول فرمائی اور انسانوں کی رہبری کی لیکن آپ {عج} آخری امام ہیں اور اگر شہید ہو گئے تو کوئی ایسا فرد نہیں ہےجو اس عظیم ذمہ داری کو پایہ تکمیل تک پہنچائے ۔ 10۔

3۔ مومنین کا امتحان:

خداوند متعال کی ایک سنت جو ہمیشہ سے مومنین کے بارے میں جاری رہی ہے وہ یہ ہے کہ انہیں مختلف طریقوں سے آزمایا جاتا ہے ۔ ارشاد رب العزت ہے :{ أَحَسِبَ النَّاسُ أَن يُترْكُواْ أَن يَقُولُواْ ءَامَنَّا وَ هُمْ لَا يُفْتَنُونَ.وَ لَقَدْ فَتَنَّا الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ فَلَيَعْلَمَنَّ اللَّهُ الَّذِينَ صَدَقُواْ وَ لَيَعْلَمَنَّ الْكَاذِبِين}11۔ کیالوگوں نےیہ خیال کر رکھا ہے کہ وہ صرف اتنا کہنےسےچھوڑدیے جائیں گے کہ ہم ایمان لائے اور یہ کہ وہ آزمائے نہیں جائیں گے؟ اور بتحقیق ہم نے ان سے پہلے والوں کوبھی آزما چکےہیں کیونکہ اللہ کوبہر حال یہ واضح کرناہے کہ کون سچے ہیں اور یہ بھی ضرورواضح کرنا ہے کہ کون جھوٹے ہیں۔

امام زمان {عج}کی غیبت کے اسباب میں سے ایک سبب مومنین کا امتحان اور ان کی آزمائش ہے جو متعدد احادیث میں بیان ہوئی ہے ۔ 12۔ کتاب منتخب الاثر میں اس بارے میں چوبیس احادیث نقل ہوئی ہیں۔ان میں سے ایک روایت یہ ہے کہ امام جعفر صادق علیہ السلام کے اصحاب امام زمانہ{عج} کے ظہور اور حکومت کے بارے میں گفتگو کر رہے تھے۔امام صادقعلیہ السلامنے ان سے مخاطب ہو کر فرمایا: یہ امر{ظہور}تمہارےسامنے نہیں آئے گا مگر ناامیدی کے بعد ۔ خدا کی قسم! یہ اس وقت تک ظاہر نہیں ہوگا جب تک تم{مومن اور منافق}ایک دوسرے سے جدا نہ ہو جائیں۔خدا کی قسم! یہ اس وقت تک ظاہر نہیں ہوگا جب تک اہل شقاوت و اہل سعادت ایک دوسرے سےجدا نہ ہو جائیں ۔ 13۔

شیخ طوسی رہ اس بارے میں لکھتے ہیں:جن روایات میں امام زمانہ{عج}کی غیبت کے اسباب میں سے ایک سبب شیعوں کا امتحان اور ان کی آزمائش قرار دی گئی ہے اس سے مراد یہ ہے کہ یہ مسئلہ امام کی غیبت پر مترتب ہونےوالےنتائج میں سے ایک ہے اور ایسا نہیں ہے کہ امتحان و آزمائش امام {عج} کی غیبت کا اصلی مقصد ہے بلکہ امام {عج}کی غیبت کا اصلی سبب آپ{عج} کے قتل ہونے کا خوف ہے جبکہ آزمائش و امتحان غیبت کے نتائج اوراہداف میں سے ہیں۔ 14۔

غیبت کی کیفیت:

امام زمانہ{عج}کی غیبت کی کیفیت کے بارے میں دو احتمال قابل بحث ہیں ۔پہلا احتمال یہ کہ حقیقت میں آپ {عج} کا وجود لوگوں سے پنہاں ہے۔دوسرا احتمال یہ ہے کہ آپ {عج} ایسے جگے پر زندگی کر رہے ہیں جہاں دوسراکوئی انسان موجود نہیں ہے یا یہ کہ آپ {عج} لوگوں کے درمیان زندگی بسر کر رہے ہیں لیکن معجزانہ طور پر لوگ آپ {عج} کو نہیں دیکھتے یا آپ کو نہیں پہچانتے ۔آپ {عج}کی غیبت کی کیفیت کے بارے میں نقل شدہ احادیث دونوں احتمال کے ساتھ سازگار ہیں ۔ جیساکہ شیخ صدوق رہ ریان بن صلت سےنقل کرتے ہیں کہ امام رضاعلیہ السلام نے امام زمانہ{عج} کے بارے میں فرمایا :{لایری جسمه ولا یسمی باسمه}15۔نہ ان کے جسم کو دیکھا جا سکتاہے اور نہ ان کا نام لیا جا سکتا ہے ۔ عبید بن زرارۃ سے ایک حدیث منقول ہے وہ کہتا ہے کہ میں نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے سنا کہ آپ ؑفرمارہے تھے:لوگ اپنے امام کو نہیں پائیں گے جبکہ وہ حج کے موسم میں حاضر ہوتے ہیں اور لوگوں کو دیکھتے ہیں لیکن لوگ انہیں نہیں دیکھتے ۔16۔

امام جعفر صادق علیہ السلام سےایک اور حدیث نقل ہوئی ہے جس میں آپ ؑفرماتے ہیں :ساتویں امام کے پانچویں فرزند کا وجود تم لوگوں سے پنہان ہو گا اور ان کانام لینا تمہارے لئے جائز نہیں ہے ۔17۔ اس احتمال پر عقیدہ رکھنےوالوں کا نظریہ یہ ہے کہ جہاں پر مصلحت موجود ہو وہاں امام {عج} کے وجود کو پہچانا جائے گا۔بنابریں جن افراد نے آپ {عج} کے حضور میں شرفیاب ہونے کا دعوی کیا ہے وہ بھی اس احتمال کے ساتھ سازگار ہےجبکہ دوسرے احتمال کےساتھ مربوط بعض روایات کچھ اس طرح ہیں :

1۔ شیخ طوسی رہ محمد بن عثمان عمری { امام زمان{عج}کےدوسرے نائب خاص }سے نقل کرتے ہیں :{و الله ان صاحب هذا الامر لیحضر الموسم کل سنة و یعرفهم و یرونه و لا یعرفونه} 18۔ خدا کی قسم! امام زمانہ{عج} ہر سال حج کے موسم میں حاضر ہو کر لوگوں کو دیکھتے ہیں اور پہچانتے ہیں اور دوسرے افراد بھی آپ {عج} کو دیکھتے ہیں لیکن پہچانتے نہیں ہیں ۔

2۔محمد بن عثمان عمری سے نقل ہے کہ آپ{عج} کا نام لینا اس لئے جائز نہیں کیونکہ اگر آپ{عج} کا نام لیا جائے تو دشمن آسانی سے آپ {عج} کو پہچان لیں گے ۔19۔ واضح ہے کہ اگر آپ {عج}لوگوں کی نظروں سے سے غائب ہوں توپھر آپ {عج}کا نام لینا کوئی مشکل نہیں ہے کیونکہ اس کے ذریعے دشمن آپ {عج} کو نہیں پہچان سکتے ۔

3۔ابوسہل نوبختی سے جب سوال کیاگیا کہ آپ امام زمانہ{عج}کےنائب کیوںمنتخب نہیں ہوئے جبکہ ابوالقاسم حسین بن روح نوبختی کو اس منصب کےلئے انتخاب کیاگیا ہے ؟ تو انہوں نےجواب دیا :امام اپنے کاموں کی حکمت سےزیادہ واقف ہیں ۔ میں ہمیشہ دشمنوں سےملاقات کرتاہوں اور ان کے ساتھ بحث و مناظرہ کرتا ہوں اوراگر بحث کے دوران کبھی مجھے مشکل کا سامناکرنا پڑے تو ممکن ہے کہ میں امام {عج} کے قیام کرنے کی جگہ دشمنوں کو دکھا دوں لیکن ابوالقاسم نوبختی ایمان اور استقامت کا پیکر ہے اگر امام زمانہ{عج} اس کے پاس موجود ہو اور اس کے بدن کے ٹکڑےٹکڑے کر دئیے جائیں تب بھی وہ امام {عج}کی مخفی گاہ کودشمنوں کو نہیں دکھائیں گے۔ 20۔ واضح ہے کہ امام کی مخفی گاہ دشمنوں کو دکھانا اس وقت خطرناک ہوگا جب لوگ آپ {عج}کے وجود مبارک کو دیکھ سکیں ۔

خلاصہ یہ کہ امام زمانہ{عج}کی غیبت کی کیفیت کے بارے میں دونوں احتمالات قابل قبول ہیں اور یہ احتمالات ایک دوسرے کے ساتھ منافات بھی نہیں رکھتے اوریہ مطلب کہ لوگ آپ {عج}کو دیکھیں گے لیکن نہیں پہچانیں گےیا یہ کہ اصلاًکوئی آپ {عج}کو نہیں دیکھ سکتا،یہ تمام مطالب شرائط ،مصالح اور افراد کے ساتھ وابستہ ہیں اور اس بارے میں ایک عام قانون بیان نہیں کر سکتےکیونکہ امام زمانہ{عج }مصلحت کے مطابق ہی عمل کریں گے۔


نوٹ یہ حوزه نیوز ایجنسی سے کاپی کیا ہے
 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

(Ist pdf) 👈 مہدویت پر بحث کی ضرورت (استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب)

دروس عقائد کا امتحان

کتاب غیبت نعمانی کے امتحان کے سوالات اور ان کے جوابات