دسواں درس شرائط و علائم ظہور
نوٹ: کتابچہ 10 شرائط و علامات ظہور ( کورس ٹو) اور دسواں درس شرائط و علائم ظہور (کورس)
مہدوی معارف پر ابتدائی کورس
مہدویت نامہ
دسواں درس
شرائط و علائم ظہور
مقاصد:
۱۔ظہور کے اسباب کی معرفت
۲۔ حضرت (عج) کے ظہور کی نشانیوں سے آگاہی
فوائد:
۱۔ ظہور کی راہ ہموار کرنے کے لئے انسان کے رویہ اورکردار پر توجہ
۲۔ امام زمانہ علیہ السلام کے ظہور کی علامات کے بارے آگاہی
۳۔ مہدی ہونے کے جھوٹے دعویداروں کی تکذیب کرن
تعلیمی مطالب:
۱۔ مقدمہ
ظہور سے پہلے کی دُنیا کے حالات پر ایک نگاہ
۲۔ شرائط اور علامات سے مراد اور ان دونوں میں فرق
۳۔ ظہور کی شرائط اور اسباب (وہ چیزیں جو ظہور کے متحقق ہونے میں دخالت رکھتی ہیں)
۴۔ ظہور کی علامات اور نشانیاں (یقینی اور غیر یقینی نشانیاں)
دُنیا کے حالات حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ظہور سے پہلے
قارئین کرام! ہم نے گذشتہ ابحاث میں امام زمانہ عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف کی غیبت اور اس کے فلسفہ کے بارے بیان کیا ہے، کہ خدا کی آخری حجت غائب ہے یہاں تک کہ جب ان کے ظہور کا راستہ ہموار ہو جائے گا تو وہ ظہور فرمائیں گے اور دُنیا کو براہ راست ہدایت سے فیضیاب فرمائیں گے اگرچہ غیبت کے زمانہ میں بشریت اس طرح عمل کر سکتی ہے جس سے امام علیہ السلام کے ظہور کا راستہ جلد از جلد ہموار ہو جائے لیکن شیطان اور ہوائے نفس کی پیروی اور قرآن کی صحیح تربیت سے دور رہنے نیز معصومین علیہم السلام کی ولایت اور رہبری کو قبول نہ کرنے کی وجہ سے غلط راستہ پر چل پڑی ہے اور ہر روز دُنیا میں ظلم و ستم کی نئی بنیاد رکھی جاتی ہے اور دُنیا بھر میں ظلم و ستم بڑھتا جا رہا ہے، بشریت اس راستہ کے انتخاب سے ایک بہت بُرے انجام کی طرف بڑھتی جا رہی ہے، ظلم و جور سے بھری دُنیا، جس میں فساد اور تباہی، اخلاقی و نفسیاتی امن و امان سے خالی زمانہ، معنویت اور پاکیزگی سے خالی زندگی، ظلم و ستم سے لبریز معاشرہ کہ جس میں ماتحت لوگوں کے حقوق کی پامالی وغیرہ نہ ہو۔ یہ چیزیں غیبت کے زمانہ میں انسان کا نامہ اعمال ہے اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کے بارے میں صدیوں پہلے معصومین علیہم السلام نے پشین گوئی فرمائی تھی اور اس زمانہ کی سیاہ تصویر پیش کی تھی۔
حضرت امام صادق علیہ السلام اپنے ایک صحابی سے فرماتے ہیں:”جب تم دیکھو کہ ظلم و ستم عام ہو رہا ہے، قرآن کو بالائے طاق رکھ دیا گیا ہے، ہوا و ہوس کی بنا پر تفسیر کی جا رہی ہے، اہل باطل، حق پرستوں پر سبقت لے رہے ہیں، ایماندار افراد خاموش بیٹھے ہوئے ہیں، رشتہ داری کے تعلقات ختم ہو رہے ہیں، چاپلوسی (خوشامدی) بڑھ رہی ہے، نیکیوں کا راستہ خالی ہو رہا ہے اور برائیوں کے راستہ پر بھیڑ دکھائی دے رہی ہے، حلال، حرام ہو رہا ہے اور حرام، حلال شمار کیا جا رہا ہے، بہت سا مال و دولت خدا کے غیظ و غضب (گناہوں اور برائیوں) میں خرچ کیا جا رہا ہے، حکومتی کارندوں میں رشوت کا بازار گرم ہے، نا درست کھیل اس قدر رائج ہو چکے ہوں کہ کوئی بھی انکی روک تھام کی جرا ت نہیں کرتا، لوگ قرآنی حقائق سننے کے لئے تیار نہیں، لیکن باطل اور فضول چیزیں سننا ان کے لئے آسان ہے، ریاکاری کےلئے خانہ خدا کا حج کیا جا رہا ہے، لوگ سنگدل ہو رہے ہیں، (محبت کا جنازہ نکل رہا ہے) اگر کوئی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتا ہے تو اس کو نصیحت کی جاتی ہے کہ یہ تمہاری ذمہ داری نہیں ہے، ہر سال ایک نیا فتنہ اور نئی بدعت پیدا ہو رہی ہے، (جب تم یہ دیکھ لو کہ حالات اس طرح کے ہو رہے ہیں تو) اپنے کو محفوظ رکھنا اور اس خطرناک ماحول سے نجات کے لئے خدا کی پناہ طلب کرنا کہ ظہور کا زمانہ نزدیک ہے۔ (کافی، ج ۷، ص ۸۲)
البتہ ظہور سے پہلے کی یہ سیاہ تصویر اکثر لوگوں کی ہو گی، کیونکہ اس زمانہ میں بھی بعض مومنین ایسے ہوں گے جو خدا سے کئے ہوئے اپنے عہد و پیمان پر باقی ہوں گے اور اپنے دینی عقائد کی سرحدوں کی حفاظت کرتے ہوں گے وہ زمانہ کے رنگ میں نہیں رنگے جائیں گے اور اپنی زندگی کا انجام برا نہیں کریں گے، یہ افراد خداوند عالم کے بہترین بندے اور آئمہ علیہم السلام کے سچے شیعہ ہوں گے جن کے بارے میں روایات میں مدح و تعریف ہوئی ہے، یہ لوگ خود بھی نیک ہوں گے اور دوسروں کو بھی نیکی کی دعوت دیتے ہوں گے، کیونکہ وہ اس بات میں بہتری سمجھتے ہیں کہ نیکیوں اور خوبیوں کو رائج کرنے اور ایمان کے عطر سے ماحول کو خوشگوار بنانے سے نیکیوں کے امام کا ظہور جلد ہو سکتا ہے اور ان کے قیام اور حکومت کا راستہ ہموار کیا جا سکتا ہے، کیونکہ برائیوں کا مقابلہ اسی وقت کیا جا سکتا ہے کہ جب مصلح اور موعود کے ناصر و مددگار ہوں۔
اور ہمارا پیش کردہ یہ نظریہ اس نظریہ کے بالکل برعکس ہے جس میں برائیوں کے پھیلانا ظہور میں جلدی کا سبب قرار دیا گیا ہے۔ کیا واقعاً یہ بات قابل قبول ہے کہ مومنین برائیوں کے مقابلہ میں خاموشی اختیار کریں تاکہ معاشرہ میں برائیاں پھیلتی رہیں اور اس طرح امام زمانہ علیہ السلام کے ظہور کا راستہ فراہم ہو؟ کیا نیکیوں اور فضائل کا رائج کرنا امام علیہ السلام کے ظہور میں تعجیل کا سبب نہیں قرار پائے گا؟امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ایک ایسا فرض ہے جو ہر مسلمان پر یقینی طور پر واجب ہے جس کو کسی بھی زمانہ میں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، لہٰذا امام زمانہ علیہ السلام کے ظہور میں تعجیل کے لئے برائیوں اور ظلم و ستم کو پھیلانا کس طرح سبب بن سکتا ہے؟جیسا کہ پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا:”اس (مسلمان) اُمت کے آخر میں ایک ایسی قوم آئے گی جن کا اجر و ثواب صدر اسلام کے مسلمانوں کے برابر ہو گا، وہ لوگ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر انجام دیتے ہوں گے اور فتنہ و فساد اور برائیوں کا مقابلہ کرتے ہوں گے“۔ (معجم احادیث الامام المہدی علیہ السلام، ج۱، ص ۹۴)
جیسا کہ متعدد روایات میں بیان ہوا ہے کہ دُنیا ظلم و ستم سے بھر جائےگی۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تمام انسان ظالم بن جائیں گے بلکہ خدائی راستہ پر چلنے والے موجود ہوں گے اور مختلف معاشروں میں اخلاقی فضائل کی خوشبو دلوں کو معطر کرتی ہوئی نظر آئے گی۔ لہٰذا ظہور سے قبل کا زمانہ اگرچہ ایک تلخ زمانہ ہوگا لیکن ظہور کے شیرین زمانہ پر ختم ہو گا، اگرچہ وہ ظلم و ستم اور برائیوں کا زمانہ ہو گا لیکن اس زمانہ میں پاک رہنا اور دوسروں کو نیکیوں کی دعوت دینا منتظرین کا لازمی فریضہ ہو گا، اور قائم آل محمد علیہم السلام کے ظہور میں براہ راست مو ثر ہو گا۔ اس حصہ کو حضرت امام مہدی (عج اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کے کلام پر ختم کرتے ہیں، چنانچہ آپ نے فرمایا:”ہمیں اپنے شیعوں سے کوئی چیز دور نہیں رکھتی مگر ان کے (برے) اعمال جو ہم تک پہنچتے ہیں اور ہم ان اعمال کو پسند نہیں کرتے اور ان کے لئے ایسا مناسب بھی نہیں سمجھتے ہیں“۔ (احتجاج، ج ۲، ش ۰۶۳، ص ۲۰۶)
ظہور کا راستہ ہموار کرنے کے اسباب اور ظہور کی نشانیاں
حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کی کچھ نشانیاں اور شرائط ہین جن کو ظہور کے اسباب اور ظہور کی نشانیوں کے عنوان سے یاد کیا جاتا ہے۔ ان دونوں میں فرق یہ ہے کہ اسباب کا مہیا ہونا ظہور میں واقعی طور پر اثر رکھتا ہے اس طرح کہ ان اسباب کے ہموار کرنے سے امام علیہ السلام کا ظہور ہو جائے گا اور ان کے بغیر ظہور نہیں ہو سکتا لیکن علامات اور نشانیاں ظہور میں کوئی اثر نہیں رکھتی بلکہ صرف ظہور کی نشانی ہیں جن کے ذریعہ ظہور کے زمانہ یا ظہور کے قریب ہونے کو پہچانا جا سکتا ہے۔
مذکورہ فرق کے پیش نظر بخوبی اندازہ لگایا جاتا ہے کہ ظہور کی شرائط اور اسباب کا مہیا ہونا نشانیوں سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے، لہٰذا نشانیوں کو تلاش کرنے سے پہلے ان شرائط پر توجہ کریں اور اپنی طاقت کے لحاظ سے ان شرائط کے پیدا کرنے کے لئے کو شش کریں، اسی وجہ سے ہم پہلے ظہور کے اسباب مہیا ہونے اور ظہور کی شرائط کے بارے میں وضاحت کرتے ہیں اور آخر میں ظہور کی نشانیوں کو مختصر طور پر بیان کریں گے۔
ظہور کی شرائط اور اسباب
کائنات کی ہر چیز اپنی شرائط اور اپنے اسباب مہیا ہونے سے وجود میں آ جاتی ہے۔ اور ان کے بغیر کوئی بھی چیز وجود میں نہیں آتی، ہر زمین دانہ کی پروش کی لیاقت نہیں رکھتی اور ہر طرح کی آب و ہوا ہر گل و سبزہ کی رشد و نمو کے لئے مناسب نہیں ہے، ایک کاشتکار زمین سے اسی وقت اچھی فصل کاٹنے کا منتظر ہو سکتا ہے جب اس نے فصل کاٹنے کی لازمی شرائط کو پورا کیا ہو۔
اسی بنیاد پر ہر انقلاب اور اجتماعی واقعہ بھی شرائط اور اسباب کے مہیا ہونے پر موقوف ہوتا ہے، جس طرح سے ایران کا اسلامی انقلاب بھی شرائط اور اسباب کے ہموار ہونے کے بعد کامیابی سے ہمکنار ہوا۔ حضرت امام مہدی علیہ السلام کا عالمی انقلاب کہ جو دُنیا کا سب سے بڑا انقلاب ہو گا، بھی اسی قانون کے تحت ہے اور جب تک اس کے اسباب اور شرائط پورے نہ ہو جائیں اس وقت تک واقع نہیں ہو سکتا۔
اس گفتگو کا مقصد یہ ہے کہ ہمارے ذہنوں میں یہ تصور نہ آئے کہ قیام اور امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کا مسئلہ نظام خلقت سے الگ ہے اور آپ کی اصلاحی تحریک ہی معجزہ کی بنا پر اور اسباب و علل کے بغیر واقع ہو گی، بلکہ قرآن اور اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات اور سنت الٰہی یہ ہے کہ کائنات کے تمام امور عموماً اسباب و عمل کی بنیاد پر انجام پاتے ہیں۔
حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:”خداوند عالم تمام چیزوں کو فقط اسباب و علل کے تحت انجام دیتا ہے“۔ (میزان الحکمة، ج۵، ح ۶۶۱۸)
ایک روایت میں حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے منقول ہے کہ کسی شخص نے آپ کی خدمت میں عرض کیا:
”کہتے ہیں کہ جب امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کا ظہور ہو گا تو تمام امور ان کی مرضی کے مطابق ہوں گے“۔
امام علیہ السلام نے فرمایا: ہرگز ایسا نہیں ہے، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، اگر طے یہ ہو کہ ہر کسی کا کام خود بخود ہو جایا کرتا تو پھر ایسا رسول اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کے لئے ہونا چاہیے تھا“۔ (غےبت نعمانی، باب ۵۱، ح ۲)
البتہ مذکورہ گفگتو کے یہ معنی نہیں ہیں کہ امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے وقت غیبی اور آسمانی امداد نہیں ہو گی بلکہ مقصد یہ ہے کہ غیبی امداد کے ساتھ ساتھ عام شرائط اور حالات کا ہموار ہونا بھی ضروری ہے۔
اس تمہید کے پیش نظر ضروری ہے کہ پہلے ظہور کی شرائط کو پہچانا جائے اور پھر ان کو ہموار کرنے کے لئے کوشش کریں۔
حضرت امام مہدی علیہ السلام کے قیام اور عالمی انقلاب کی اہم ترین شرائط اور اسباب میں سے درج ذیل چار چیزیں ہیں جن کے بارے میں الگ الگ بحث کی جاتی ہے۔
الف: منصوبہ بندی
یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ ہر اصلاحی تحریک میں دو چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے:
۱۔ معاشرہ میں موجود برائیوں سے مقابلہ کرنے کے لئے ایک مکمل منصوبہ بندی۔
۲۔ معاشرہ کی ضرورتوں کے لحاظ سے مکمل اور مناسب قوانین جو حکومت کے عادلانہ نظام میں تمام انفرادی اور اجتماعی حقوق کا ضامن ہو اور اس کی بنا پر معاشرہ ترقی کرکے اپنی منزل مقصود تک پہنچ سکے۔ قرآن کریم کی تعلیمات اور سنت معصومین علیہم السلام کہ جو حقیقی اسلامی ہے، بہترین قانون کے عنوان سے حضرت امام مہدی علیہ السلام کے پاس ہو گی اور آپ اس الٰہی جاویدانہ دستور العمل کی بنیاد پر عمل کریں گے ( حضرت امام محمد باقر علیہ السلام، امام مہدی علیہ السلام کی توصیف کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ﴾یعمل بکتاب اللّٰہ، لا یری نکرا الا انکرہ﴿ ”وہ کتاب خدا (یعنی قرآن) کے مطابق عمل کریں گے اور کسی برائی کو نہیں دیکھیں گے مگر اس کا انکار کریں (یعنی ہر برائی کا مقابلہ کریں گے)“۔ بحارالانوار، ج ۱۵، ۱۴۱) قرآن ایسی کتاب ہے جس کی آیات کا مجموعہ اس خداوند عالم کی طرف سے نازل ہوا جو انسان کے تمام پہلوﺅں اور اس کی مادی و معنوی ضرورتوں سے واقف ہے، لہٰذا امام زمانہ علیہ السلام کا عالمی انقلاب منصوبہ بندی اور حکومتی قوانین کے لحاظ سے بے نظیر بنیاد پر استوار ہو گا، اور کسی بھی دوسری اصلاحی تحریک سے قابل موازنہ نہیں ہے۔ اس دعویٰ پر گواہ یہ ہے کہ آج کی دنیا نے تجربہ کرتے ہوئے ان بشری قوانین کے ضعیف اور کمزور ہونے کا اعتراف کیا ہے اور آہستہ آہستہ آسمانی قوانین کو قبول کرنے کے لئے تیار ہوتی جا رہی ہے۔
”آلوین ٹافلر“ امریکی سیاسی مشاور، عالمی معاشرہ کو بحرانی حالت سے نکالنے اور اس کی اصلاح کے لئے ”تیسری موج“ (اس کا کہنا ہے کہ اب تک زمانہ میں دو بڑے انقلاب رونما ہوئے ہیں ایک زراعتی انقلاب، اور دوسرا صنعتی انقلاب، جس نے دُنیا میں ایک عظیم انقلاب ایجاد کیا ہے۔ تیسرا انقلاب آنے ولا ہے جو الیکٹرونک اور صنعتی انقلاب سے بلند تر ہے۔) کا نظریہ پیش کرتا ہے لیکن اس سلسلہ میں حیرت انگیز باتوں کا اقرار کرتا ہے۔ہمارے (مغربی) معاشرہ میں مشکلات اور پریشانیوں کی فہرست اتنی طولانی ہے جس کی کوئی انتہاءنہیں ہے۔ مسلسل صنعتی کلچر (اور کاروباری نظام) کے متزلزل ہونے اور فساد بے کفایتی کی کشمکش کی وجہ سے اخلاقی تنزل اور برائیوں کی بومشام انسانیت کو آزار دے رہی ہے جس کے نتیجہ میں غم و غصہ کا اظہار اور تبدیلی کے لئے دباﺅ بڑھتا جا رہا ہے، چنانچہ ان دباﺅ کے جواب میں ہزاروں ایسے منصوبہ پیش کئے جا چکے ہیں کہ جن کے بارے میں یہ دعویٰ کیاجاتا ہے کہ یہ بنیادی یا انقلابی ہیں، لیکن متعدد بار نئے قوانین اور مقرارات، منصوبے اور دستور العمل جن کو مشکلات کے حل کے لئے پیش کیا گیا ہے، ہماری مشکلات میں روز بروز اضافہ کرتے جا رہے ہیں اور مایوسی اور نااُمیدی کا احساس پیدا ہوتا جا رہا ہے کہ کوئی فائدہ نہیں ہے، کسی کا کوئی اثر نہیں ہے اور یہ احساس ڈیموکریسی نظام کے لئے خطرناک ہے۔ جس کے پیش نظر مثالوں میں بیان ہونے والے ”سفید گھوڑے پر سوار مرد“ کی ضرورت کا انتظار شدت سے کیا جا رہا ہے ۔
( فصلنامہ انتظار، سال دو، ش ۳، ص ۸۹ (نقل از بہ سوی تمدن جدید، ٹالفر، محمد رضا جعفری)
ب: رہبری
ہر انقلاب اور قیام میں رہبر اور قائد کی ضرورت سب سے پہلی ضرورت شمار کی جاتی ہے اور انقلاب جس قدر وسیع اور بلند مقصد کا حامل ہوتا ہے اس انقلاب کا رہبر بھی ان اغراض و مقاصد کے لحاظ سے عظیم و بلند ہونا چاہیے۔
عالمی پیمانہ پر ظلم و ستم سے مقابلہ، عدل و انصاف پر مبنی حکومت اور کرہ زمین پر مساوات برقرار کرنے کے لئے توانا، صاحب علم اور دلسوز رہبر اس انقلاب کا اصلی رکن ہے کہ جو واقعی طور پر اس انقلاب کی صحیح رہبری کر سکے۔ حضرت امام مہدی علیہ السلام جو انبیاءاور اولیاء(علیہم السلام) کے ماحصل ہیں وہ اس عظیم الشان انقلاب کے رہبر کے عنوان سے زندہ اورموجود ہیں۔ صرف وہی ایک ایسے رہبر ہیں جو عالم غیب سے رابطہ کی وجہ سے کائنات کی ہر شئے اور اس کے تمام روابط سے مکمل طور پر آگاہی رکھتے ہیں اور اپنے زمانہ کے سب سے عظیم عالم ہیں۔
پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا:”آگاہ ہو جاﺅ کہ مہدی علیہ السلام تمام علوم کا وارث ہو گا، اور تمام علوم پر احاطہ کئے ہو گا“۔ (نجم الثاقب، ص ۳۹۱)
وہ ایسے واحد رہبر ہیں جو ہر طرح کی قید و بند سے آزاد ہوں گے اور صرف ان کا دل پروردگار عالم کی مرضی کے تحت ہو گا۔ لہٰذا آپعلیہ السلام عالمی انقلاب اور حکومت کے رہبر اور قائد کے لحاظ سے بھی بہترین شرائط کے حامل ہوں گے۔
ج: ناصرین
امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے لئے ضروری شرائط میں سے آپ کے شائستہ، کارآمد اور لائق انصار یا مددگاروں کا وجود ہے جو اس انقلاب کی پشت پناہی اور حکومتی عہدوں پر رہ کر امام علیہ السلام کی نصرت کریں گے۔ ظاہر سی بات ہے کہ جب ایسا عالمی انقلاب کہ جو آسمانی رہبر کے ذریعہ برپا ہو گا تو پھر اسی لحاظ سے ان کے ناصر و مددگار بھی ہونے چاہئیں، ایسا نہیں ہے کہ جس نے بھی نصرت کا دعویٰ کر لیا وہ ان کی نصرت کے لئے حاضر ہو جائے گا۔ اس سلسلہ میں درج ذیل واقعہ پر توجہ فرمائیں:
حضرت امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں ”سہل بن حسن خراسانی“ نامی شیعہ عرض کرتا ہے:
”کیا چیز مانع ہے کہ آپ اپنے مسلم حق (حکومت) کے لئے قیام نہیں کرتے، جبکہ آپ کے ایک لاکھ شیعہ، تلوار چلانے والے اور آپ کی خدمت کے لئے تیار وموجود ہیں؟ امام علیہ السلام نے حکم دیاکہ تنور روشن کیا جائے اور جب اس سے آگ کے شعلے باہر نکلنے لگے تو آپ نے سہل سے فرمایا: اے خراسانی! اُٹھو اور تنور میں کود جاﺅ۔ سہل کا گمان تھا کہ امام علیہ السلام اس کی باتوں سے ناراض ہو گئے ہیں چنانچہ اُنہوں نے معافی طلب کرتے ہوئے عرض کیا: آقا مجھے معاف فرما دیں مجھے آگ میںڈال کر سزا نہ دیں! امام علیہ السلام نے فرمایا: تم سے درگزر کرتا ہوں۔ اسی موقع پر ہارون مکی آ پہنچے جو امام علیہ السلام کے حقیقی شیعہ تھے، امام علیہ السلام کو سلام کیا، امام نے سلام کا جواب دیا اور بغیر کسی مقدمہ کے فرمایا: اس تنور میں کود جاﺅ! ہارون مکی فوراً چوں و چرا کے اس تنور میں کود پڑے اور امام علیہ السلام اس خراسانی سے گفتگو کرنے میں مشغول ہو گئے اور خراسان کے واقعات بیان کرنے لگے جیسا کہ خود امام علیہ السلام وہاں موجود ہوں کچھ دیر بعد امام علیہ السلام نے فرمایا: اے خراسانی اُٹھو اور تنور کے اندر جھانک کر دیکھو! سہل اُٹھے اور تنور کے اندر ہارون کو دیکھا کہ جو آگ کے شعلوں کے درمیان چار زانو بیٹھے ہوئے ہیں۔
اس موقع پر امام علیہ السلام نے ان سے سوال کیا: خراسان میں ہارون کی طرح کتنے لوگوں کو پہچانتے ہو؟ خراسانی نے جواب دیا: خدا کی قسم! میں تو ایسے کسی شخص کو نہیں جانتا۔ امام علیہ السلام نے فرمایا: یاد رکھو! جب تک ہمیں پانچ ناصر و مددگار نہ مل جائیں اس وقت تک قیام نہیں کرتے ہم بہتر جانتے ہیں کہ کب قیام (اور انقلاب) کا وقت ہے!“۔
( سفینة البحار، ج ۸، ص ۱۸۶)
لہٰذا مناسب ہے کہ امام مہدی علیہ السلام کے انصار کی صفات اور خصوصیات کو روایات کی روشنی میں پہچانیں تاکہ اس ذریعے سے ہم صحیح طور پر اپنے آپ کو پہچان لیں اور اپنی اصلاح کی کوشش کریں۔
۱۔ معرفت اور اطاعت
امام مہدی علیہ السلام کے ناصر و مددگار خداوند عالم اور اپنے امام کی عمیق شناخت رکھتے ہیں اور مکمل آگاہی کے ساتھ میدان حق میں حاضر ہوتے ہیں۔
حضرت علی علیہ السلام ان کے بارے میں فرماتے ہیں: ”وہ ایسے اشخاص ہیں جو خدا کو اس طرح پہچانتے ہیں جو پہچاننے کا حق ہے“۔ (منتخب الاثر، فصل ۸، باب۱، ح ۲، ص ۱۱۶)
امام کی شناخت اور امام کے بارے عقیدہ بھی ان کے وجود کی گہرائیوں میں جڑیں مضبوط کر چکا ہے اور ان کے پورے وجود پر احاطہ کئے ہوئے ہے اور یہ شناخت امام علیہ السلام کے نام و نشان اور نسب جاننے سے بالاتر ہے۔ معرفت یہ ہے کہ امام کے حق ولائت اور کائنات میں ان کے بلند مرتبہ کو پہچانیں اور یہ وہی معرفت ہے جس سے انکے دل میں محبت کا پیمانہ لبریز ہو جاتا ہے اور ان کی اطاعت کےلئے ہمہ تن تیار رہتے ہیں کیونکہ وہ یہ جانتے ہیں کہ امام علیہ السلام کا حکم، خدا کا حکم ہے اور ان کی اطاعت خدا کی اطاعت ہے۔ پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) نے ان کی توصیف میں فرمایا: ”وہ لوگ اپنے امام کی اطاعت میں کوشش کرتے ہیں“۔
۲۔ عبادت اور استحکام
امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کے یار و مددگار عبادت میں اپنے امام کو نمونہ عمل قرار دیتے ہیں اور شب و روز اپنے خدا کے کی رضایت میں گزارتے ہیں۔ حضرت امام صادق علیہ السلام نے ان کے بارے میں فرمایا:
”رات بھر عبادت کرتے ہیں اور دن میں روزہ رکھتے ہیں “۔ (یوم الخلاص ص ۴۲۲)
اور ایک دوسرے کلام میں فرماتے ہیں: ”گھوڑوں (یا سوار ہونے والی چیز) پر سواری کی حالت میں بھی خدا کی تسبیح کرتے ہیں“۔ ( بحارالانوار، ج ۲۵، ص ۸۰۳) یہی ذکر خدا ہے جس سے فولادی مرد بنتے ہیں، جس کے استحکام اور مضبوطی کو کوئی بھی چیز ختم نہیں کر سکتی۔ حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: ”وہ ایسے مرد ہوں گے کہ گویا ان کے دل لوہے کے ٹکڑے ہیں“۔(بحارالانوار، ج ۲۵، ص ۸۰۳)
۳۔ جانثاری اور شہادت کی تمنا
امام مہدی علیہ السلام کے انصار کی معرفت ان دلوں کو اپنے امام کے عشق سے لبریز کرتی ہے لہٰذا جنگ کے میدان میں نگینہ کی طرح آپ کو درمئیان میں لے کر اپنی جان ڈھال قرار دیتے ہیں۔ حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: ”امام مہدی کے ناصر و مددگار جنگ کے میدان میں آپ کے چاروں طرف حلقہ بنائے ہوئے ہوں گے اور اپنی جان کو سپر بنا کر اپنے امام کی حفاظت کریں گے“۔ (بحارالانوار، ج ۲۵، ص ۸۰۳)
اور آپعلیہ السلام نے ہی فرمایا: ”وہ راہِ خدا میں شہادت پانے کی تمنا کریں گے“۔
(بحارالانوار، ج ۲۵، ص ۸۰۳)
۴۔ شجاعت اور دلیری
امام مہدی علیہ السلام کے ناصر و مددگار اپنے مولا کی طرح شجاع، بہادر اور فولادی مرد ہوں گے۔ حضرت علی السلام ان کی توصیف میں فرماتے ہیں: وہ ایسے شیر ہیں جو اپنے بن سے باہر نکل آئے ہیں اور اگر چاہیں تو پہاڑوں کو بھی ہلا سکتے ہیں“۔( یوم الخلاص، ص ۴۲۲)
۵۔ صبر و بردباری
واضح ہے کہ عالمی ظلم و ستم سے مقابلہ کرنے اور عالمی پیمانہ پر عدل و انصاف کی حکومت قائم کرنے میں بہت سی مشکلات اور پریشانیوں کا سامنا ہو گا۔ اور امام علیہ السلام کے ناصر و مددگار اپنے امام کے عالمی مقاصد کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے مشکلات اور پریشانیوں کو برداشت کریں گے لیکن اخلاص اور تواضع کی بنا پر اپنے کام کو معمولی اور ناچیز شمار کریں گے۔ حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا: ”وہ ایسا گروہ ہے جو راہ خدا میں صبر اور بردباری کی وجہ سے خدا پر احسان نہیں جتائیں گے اور چونکہ اپنی جان کو حضرت حق کے حضور میں پیش کر دیں گے اپنے اوپر فخر نہیں کریں گے اور اس چیز کو اہمیت نہیں دیں گے“۔ (یوم الخلاص، ص ۴۲۲)
۶۔ اتحاد اور ہمدلی
حضرت علی علیہ السلام، امام مہدی علیہ السلام کے ناصر و مددگاروں کے اتحاد اور ہمدلی کے بارے میں فرماتے ہیں: ”وہ لوگ ایک دل اور ہم آہنگ (یعنی متحد) ہوں گے“۔
(یوم الخلاص، ص ۳۲۲)
اس ہمدلی اور اتحاد کا سبب یہ ہے کہ خود خواہی اور ذاتی مفاد ان کے وجود میں نہیں سمائے گا۔ وہ صحیح عقیدہ کے ساتھ ایک پرچم کے نیچے اور ایک مقصد کے تحت قیام کریں گے اور یہ خود دشمن کے مقابلہ میں ان کی کامیابی کا ایک راز ہے۔
۷۔ زہد و تقویٰ
حضرت علی علیہ السلام، امام مہدی علیہ السلام کے یاد و مددگاروں کے بارے میں فرماتے ہیں: ”وہ اپنے یار و مددگاروں سے بیعت لیں گے کہ سونا اور چاندی جمع نہ کریںگے اور گیہوں اور جو کا ذخیرہ نہ کریںگے“۔ ( منتخب الاثر، فصل ۶، باب ۱۱، ح ۴، ص ۱۸۵)
وہ بلند مقاصد رکھتے ہیں اور ایک عظیم مقصد کے لئے قیام کریں گے لہٰذا دُنیا کی مادیات ان کو اس عظیم مقصد سے دُور نہیں کر سکتی، لہٰذا جن لوگوں کی آنکھیں دُنیا کی زرق و برق دیکھ کر خیرہ ہو جاتی ہیں اور ان کا دل پانی پانی ہو جاتا ہے، تو ایسے لوگوں کے لئے امام مہدی علیہ السلام کے خاص ناصر و مددگاروں میں کوئی جگہ نہ ہو گی۔
قارئین کرام! یہاں تک امام مہدی علیہ السلام کے ناصر و مددگاروں کی کچھ خصوصیات بیان ہوتی ہیں اور انہیں صفات اور خصوصیات کی وجہ سے روایات میں ان کو احترام سے یاد کیا گیا ہے اور معصومین علیہم السلام نے اپنی لسان مبارک پر مدح و ستائش کے جملہ جاری کئے ہیں۔
پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) نے ان کی توصیف میں فرمایا:
﴾اُو لَئِکَ ہُم خِیَارُ ال اُمَّةِ﴿ (یوم الخلاص، ص ۴۲۲)
”وہ لوگ (میری) اُمت کے بہترین افراد ہیں“۔
حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
﴾فَبِاَبِی وَ اُمّی مِن عِدّةِ قَلِی لَةٍ اَس مَائُہُم فِی ال اَر ضِ مَج ہُو لَة۔﴿ (معجم الاحادیث، الامام المہدی علیہ السلام، ج ۳، ص ۱۰۱)
”میرے ماں باپ اس چھوٹے گروہ کے قربان جو زمین پر ناشناختہ ہیں“۔
البتہ امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کے ناصر و مددگار اپنی لیاقت اور صلاحیت کے لحاظ سے مختلف درجات میں تقسیم ہوں گے۔ اور روایات میں بیان ہوا ہے کہ امام مہدی علیہ السلام کا ان خاص ۳۱۳ ناصرین (کہ جو اس انقلاب کی ریڑھ کی ہڈی کہلائیں گے، ان کے علاوہ دس ہزار کا لشکر بھی ہو گا اور ان کے علاوہ انتظار کرنے والے مومنین کی ایک عظیم تعداد آپ کی مدد کے لئے دوڑ پڑے گی۔
و۔ عام طور پر تیاری،عام لام بندی
آئمہ معصومین علیہم السلام کی تاریخ میں مختلف مواقع پر اس حقیقت کا مشاہدہ کیا گیا ہے کہ لوگ امام کے حضور سے بہتر فائدہ اُٹھانے کے لئے لازمی تیاری نہیں رکھتے تھے، کسی بھی زمانہ میں امام معصوم علیہ السلام کے پرنور حضور کے فیض کی قدر نہیں کی گئی اور ان کے چشمہ ہدایت سے مناسب فیض حاصل نہیں کیا لہٰذا خداوند عالم نے اپنی آخری حجت کو پردہ غیب میں بھیج دیا تاکہ جب ان کو قبول کرنے کے لئے سب تیار ہو جائیں گے تو امام علیہ السلام کا ظہور ہو گا اوراس وقت الٰہی تعلیمات کے سرچشمہ سے سب سیراب ہوں گے۔ اس بنا پر امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے لئے آمادہ اور تیار رہنا اہم شرائط میںسے ہے کیونکہ اسی تیاری کی وجہ سے امام علیہ السلام کی اصلاحی تحریک مطلوبہ مقصد تک پہنچ سکتی ہے۔
قرآن کریم میں بنی اسرائیل کے ایک گروہ کے بارے میں جو اپنے زمانہ کے ظالم و جابر حاکم ”جالوت“ کے ظلم و ستم سے بہت زیادہ پریشان ہو چکا تھا، اس نے اپنے زمانہ کے بنی سے درخواست کی کہ ان کے لئے ایک طاقتور سردار لشکر کا انتخاب کریں تاکہ اس کے فرمان کے تحت جالوت سے جنگ کر سکیں۔
جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:
﴾اَلَم تَرَ اِلَی ال مَلَائِ مِن بَنِی اِس رَئِیلَ مِن بَع دِ مُو سٰی اِذ قَالُو الِنَبِی لَہُم ابعَث لَنَا مَلِکاً نُقَاتِل فِی سَبِی لِ اللّٰہِ قَالَ ہَل عَسَب تُم اِن کُتِبَ عَلَی کُم الَقِتَالُ اَلاِّ تُقَاتِلُو ا وَ مَا لَنَا اَلاَّ تُقَاتِلَ فِی سَبِی لِ اللّٰہِ وَ قَد اُخ رِج نَا مِن دِیَارِنَا وَ اَب نَائِنَا فَلَمَّا کُتِبَ عَلَی ہِم ال قِتَالُ تَوَلَّو اِلاَّ قَلِیلاً مِن ہُم وَ اللّٰہُ عَلِی م بِالظَّالِمِی نَ۔﴿ (سورہ بقرہ، آیت ۶۴۲)
”کیا تم نے موسیٰ کے بعد بنی اسرائیل کی اس جماعت کو نہیں دیکھا جس نے اپنے نبی سے کہا کہ ہمارے واسطہ ایک بادشاہ مقرر کیجئے تاکہ ہم راہِ خدا میں جہاد کریں نبی نے فرمایا کہ اندیشہ یہ ہے کہ تم پر جہاد واجب ہو جائے اور تم جہاد نہ کرو ان لوگوں نے کہا کہ ہم کیونکر جہاد نہ کریں گے جبکہ ہمیں ہمارے گھروں اور بال بچوں سے ہمیںالگ نکال باہر کر دیا گیا اس کے بعد جب جہاد واجب کر دیا گیا تو تھوڑے سے افراد کے علاوہ سب منحرف ہو گئے اور اﷲ ظالمین کو خوب جانتا ہے“۔
جنگ کے لئے سردار منتخب کرنے کی درخواست ایک طرح سے اس بات کی عکاسی کرتی تھی کہ وہ آمادہ اور تیار ہیں اگرچہ راستہ میں ایک کثیر تعداد سست پڑ گئی اور بہت کم لوگ میدان جنگ میں حاضر ہوئے۔ لہٰذا امام مہدی علیہ السلام کا ظہور بھی اسی وقت ہو گا جب سب لوگوں میں اجتماعی عدالت،۱خلاقی اور نفسیاتی امنیت اور معنویت کے رشد و نمو کے طلبگار پیدا ہو جائیں گے، جب لوگ ناانصافی اور قبیلہ پرستی سے تھک جائیں گے، جب ضعیف اور کمزور لوگوں کے حقوق صاحب قدرت اور صاحب مال و دولت کے ذریعہ پامال ہوتا دیکھیں گے اور مال و دولت صرف کچھ خاص لوگوں کے قبضہ میں دیکھیں گے، جبکہ اسی موقع پر کچھ لوگوں کے پاس رات میں کھانے کے لئے روٹی بھی نہ ہو گی، ایک دوسرا گروہ اپنے لئے محل بناتا ہوا نظر آتا ہو گا اور اپنی محافل میں بہت زیادہ خرچ اور ایسے ایسے کھانے اور آرام و سکون کے ایسے ایسے سامان مہیا کئے جائیں گے کہ جن کو دیکھ کر آنکھیں چکاچوند ہوتی ہوںگی، تو ایسے موقع پر عدالت طلبی کی پیاس اپنے عروج پر ہو گی۔
جب مختلف برائیاں معاشرہ میں رائج ہوتی جا رہی ہوں اور برائی انجام دینے میں ہر کوئی ایک دوسرے سے آگے بڑھ رہا ہو بلکہ اپنے بُرے کاموں پر فخر کیا جا رہا ہو، یا انسانی اور الٰہی اصول سے اس طرح دُوری اختیار کی جار رہی ہو کہ غفلت اور پاکدامنی کے بعض مخالف کاموں کو قانونی شکل دی جا رہی ہو جس کے نتیجہ میں گھریلو نظام درہم برہم ہو جاتا ہو، اور بے سرپرست بچے معاشرہ کے حوالہ کئے جاتے ہو تو اس موقع پر ایسے رہبر کے ظہور کا اشتیاق بہت زیادہ ہو جائے گا جس کی حکومت اخلاقی اور نفسیاتی امنیت اور سلامتی کا پیغام لے کر آئے اور جس وقت انسان تمام مادی لذتوں سے ہمکنار ہو لیکن اپنی زندگی سے راضی نہ ہو اور ایسی دُنیا کی تلاش میں ہو جو معنویت سے لبریز ہو، تو ایسے موقع پر انسان لطف امام کے آبشار کا پیاسا ہو گا۔
ظاہر سی بات ہے کہ امام علیہ السلام کے حصور کو سمجھنے کا شوق اس وقت عروج پر ہو گا کہ جب بشریت اپنے ذاتی تجربہ سے مختلف انسانی حکومتوں کے کارناموں کو دیکھ کر ہی سمجھ جائے گی کہ دُنیا کو ظلم و ستم، تباہی اور برائیوں سے نجات دینے والا زمین پر الٰہی خلیفہ اور جانشین حضرت امام مہدی علیہ السلام ہی ہیں اور انسانیت کے لئے پاک و پاکیزہ اور بہترین زندگی عطا کرنے والا منصوبہ صرف اور صرف الٰہی قوانین میں ہے لہٰذا اس موقع پر انسانیت اپنے پورے وجود سے امام علیہ السلام کی ضرورت احساس کرے گی اور اس احساس کی وجہ سے اس کے ظہور کے لئے راستہ فراہم کرنے کی کوشش کرے گی نیز اس راہ میں موجود رکاوٹوں کو دُور کرے گی اور یہ اسی وقت ہو گا جب فرج اور ظہور کا موقع پہنچ جائے گا۔
پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) آخر الزمان اور ظہور سے قبل کے زمانہ کی توصیف کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”ایک زمانہ وہ آئے گا کہ مومن کو جائے پناہ نہیں ملے گی تاکہ ظلم و ستم اور تباہی سے نجات مل جائے، پس اس وقت خداوند عالم میری نسل سے ایک شخص کو بھیجے گا“۔
(عقد الدرر، ص ۳۷)
علاماتِ ظہور
حضرت امام مہدی علیہ السلام کے عالمی انقلاب اور قیام کے لئے کچھ نشانیاں بتائی گئی ہیں اور ان نشانیوں کی پہچان بہت سے مثبت آثار رکھتی ہیں، چونکہ یہ ”مہدی آل محمد“ علیہ السلام کے ظہور کی نشانی ہے جن میں سے ہر ایک کے ظاہر ہونے سے منتظرین کے دلوں میں اُمید کے نور میں اضافہ ہو گا اور دشمنوں اور گمراہیوں کے لئے یاد دہانی اور خطرہ کی گھنٹی ہو گی تاکہ اخدا کی نافرمانیوںاور برائیوں سے باز آجائیں۔ جس طرح انتظار کرنے والوں میں امام علیہ السلام کی ہمراہی اور نصرت کی لیاقت حاصل کرنے کے لئے ترغیب اور شوق کا سبب ہو گا ویسے بھی مستقبل میں پیش آنے ولے واقعات سے باخبر ہونا انسان کے لئے مناسب منصوبہ بندی میں مددگار ہوتا ہے اور یہ نشانیاں مہدویت کے سچے اور جھوٹے دعویداروں کے لئے بہترین معیارِ فرق میںہے، لہٰذا اگر کوئی مہدویت کا دعویٰ کرے، لیکن اس کے قیام میں یہ مخصوص نشانیاں نہ پائی جاتی ہوں تو اسکے جھوٹا ہونے کا آسانی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ آئمہ معصومین علیہم السلام کی روایت میں امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کی بہت سی نشانیان ذکر ہوئی ہیں جن میں بعض طبیعی اور عام واقعات ہیں جبکہ بعض غیر طبیعی اور معجز نما ہیں۔ ہم ان نشانیوں میں سے پہلے ان برجستہ اور ممتاز نشانیوں کو بیان کرتے ہیں جو معتبر کتابوں اور معتبر روایات میں بیان ہوئی ہیں اور آخر میں کچھ دیگر نشانیاں اختصار کے طور پر بیان کریں گے۔حضرت امام صادق علیہ السلام نے ایک روایت کے ضمن میں فرمایا: ”قائم علیہ السلام کے ظہور کی پانچ نشانیاں ہیں: سفیانی کا خروج، یمنی کا قیام، آسمانی آواز، نفس زکیہ کا قتل اور خسف بیداء(غیبت نعمانی، باب ۴۵۱، ح ۹، ص ،۱۶۲)“ ( خسف بیداءکی وضاحت چند سطروں بعد ملاحظہ فرمائیں)قارئین کرام! اب ہم مذکورہ پانچوں نشانیوں کے بارے میں وضاحت کرتے ہیں جو دوسری متعدد روایات میں بھی تکرار ہوئی ہی، اگرچہ ان واقعات سے متعلق تمام تفصیل ہمارے لئے یقینی طور پر ثابت نہیں ہے۔
الف: سفیانی کا خروج
سفیانی کا خروج متعد روایات میں بیان ہونے والی نشانیوں میں سے ہے، سفیانی، ابوسفیان کی نسل سے ہو گا جو ظہور سے کچھ مدت پہلے سرزمین شام سے خروج کرے گا، وہ ظالم و جابر ہو گا اور قتل و غارت میں کسی کی کوئی پرواہ نہیں کرے گا، اور اپنے مخالفین سے بہت ہی بُرا سلوک کرے گا۔حضرت امام صادق علیہ السلام اس کے بارے میں بیان فرماتے ہیں:
”اگر تم سفیانی کو دیکھو گے تو تم نے (گویا) سب سے پلید اور بُرے انسان کو دیکھ لیا “۔
(کمال الدین، ج ۳، باب ۷۵، ح ۰۱، ص ۷۵۵)
اس کا خروج ماہ رجب سے شروع ہو گا، وہ شام اور اس کے قرب و جوار کے علاقوں پر قبضہ کرنے کے بعد عراق پر حملہ کرے گا اور وہاں وسیع پیمانہ پر قتل و غارت کرے گا۔
بعض روایات کی بنا پر اس کے خروج اور اس کے قتل ہونے تک کی مدت پندرہ مہینہ ہو گی۔
(غیبت نعمانی، باب ۸۱، ح ۱، ص ۰۱۳)
ب: خسف بیدائ
خسف کے معنی پھٹنے اور گرنے کے ہیں اور ”بیدائ“ مکہ و مدینہ کے درمیان ایک علاقہ کا نام ہے۔
خسف بیداءسے مراد یہ ہے کہ جب سفیانی، امام مہدی علیہ السلام سے مقابلہ کرنے کے لئے ایک لشکر مکہ کی طرف بھیجے گا اور جب یہ بیداءنامی علاقے میں پہنچے گا تو معجزہ نما صورت میں زمین پھٹ جائے گی اور وہ لشکر زمین میں دھنس جائے گا۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے اس سلسلہ میں فرمایا:”لشکر سفیانی کے سردار کو خبر ملے گی کہ (امام) مہدی (علیہ السلام) مکہ کی طرف روانہ ہیں، چنانچہ وہ ان کے پیچھے ایک لشکر روانہ کرے گا لیکن ان کو نہیں پائے گا، ........ اور جب سفیانی کا لشکر سرزمین بیداءپر پہنچے گا تو ایک آسمانی آواز آئے گی ”اے سرزمین بیداءان کو نابود کر دے“ جس کے بعد وہ سرزمین سفیانی کے لشکر کو اپنے اندر کھینچ لے گی“۔ (غیبت نعمانی، باب ۴۱، ح ۷۲، ص ۹۸۲)
ج: یمنی کا قیام
سرزمین یمن میں ایک سردار کا قیام امام علیہ السلام کے ظہور کی ایک نشانی ہے جو آپ کے ظہور سے کچھ ہی دنوں پہلے ظاہر ہو گی، وہ ایک ایسا صالح اور مومن شخص ہو گا، جو انحرافات اور برائیوں کے خلاف قیام کرے گا اور اپنی تمام تر طاقت سے برائیوں اور فساد کا مقابلہ کرے گا البتہ اس کے قیام اور تحریک کی تفصیل ہمارے لئے واضح نہیں ہے۔امام محمد باقر علیہ السلام اس بارے میں فرماتے ہیں:”امام مہدی علیہ السلام کے قیام سے پہلے بلند ہونے والے پرچموں کے درمیان یمنی کا پرچم تمام ہدایت کرنے والے پرچموں میں سب سے بہتر ہو گا کیونکہ وہ تمہارے آقا (امام مہدی علیہ السلام) کی طرف دعوت دے گا“۔ (غیبت نعمانی، باب ۴۱، ح ۳۱، ص ۴۶۲)
د: آسمانی آواز
امام علیہ السلام کے ظہور سے پہلے کی ایک نشانی یہ ہو گی کہ آسمان سے آواز آئے گی، یہ آسمانی آواز بعض روایات کی بنا پر جناب جبرئیل کی آواز ہو گی جو ماہ رمضان میں سنائی دے گی“۔ (غیبت نعمانی، باب ۴۱، ص ۲۶۲)
اور چونکہ مصلح کل کا انقلاب ایک عالمی انقلاب ہو گا، اور سب کو اس کا انتظار ہو گا، لہٰذا دُنیا بھر کے لوگوں کو اسی آسمانی آواز کے ذریعہ ظہور کی خبر دی جائے گی۔حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا:”قائم آل محمد علیہ السلام کا ظہور اس وقت تک نہیں ہو گا جب تک آسمان سے آواز نہ دی جائے جس کو تمام اہل مشرق ومغرب سن لیں گے“۔ (غیبت نعمانی، باب ۴۱، ح ۴۱، ص ۵۶۲)
اور یہ آواز جس طرح سے مومنین کےلئے باعث خوشی ہو گی اسی طرح بدکاروں کےلئے خطرہ کی گھنٹی ہو گی تاکہ ابھی بھی اپنے بُرے کاموں سے باز آجائیں اور امام علیہ السلام کے انصار میں شامل ہو جائیں۔اس آواز کی تفصیل کے بارے میں مختلف روایات بیان ہوئی ہیں مثلاً
حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:”آسمان سے آواز دینے والا حضرت امام مہدی علیہ السلام کو آپ کے نام اور آپ کی ولدیت کے ساتھ پکارے گا“۔ (غیبت نعمانی، باب ۰۱، ح ۹۲، ص ۷۸۱)
ج: نفس زکیہ کا قتل
نفس زکیہ کے معنی ایسے شخص کے ہیں جو رُشد و کمال کے بلند درجہ پر پہنچا ہوا ہو یا ایسا پاک و پاکیزہ اور بے گناہ انسان ہو جس نے کسی کو قتل نہ کیا ہو اور نفس زکیہ کے قتل سے مراد یہ ہے کہ امام مہدی علیہ السلام کے ظہور سے کچھ پہلے ایک برجستہ اور ممتاز شخصیت یا ایک بے گناہ شخصیت امام علیہ السلام کے مخالفوں کے ذریعہ قتل کی جائے گی۔بعض روایات کی بنا پر یہ واقعہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ظہور سے 15 دن پہلے رونما ہو گا۔اس سلسلہ میں حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:”قائم آل محمد( ص) کے ظہور اور نفس زکیہ کے قتل میں صرف ۵۱ دن کا فاصلہ ہو گا“۔ (کمال الدین، ج ۲، باب ۷۵، ح ۲، ص ۴۵۵)
قارئین کرام! مذکورہ نشانیوں کے علاوہ دوسری نشانیاں بھی ذکر ہوئی ہیں جن میں بعض کچھ اس طرح ہی: دجّال کا خروج، (دجال ایک ایسا مکّار اور حیلہ باز آدمی ہو گا جس نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا ہو گا)، ماہ مبارک رمضان میں سورج گرہن لگنا، چاند گرہن لگنا، فتنوں کا ظاہر ہونا اور خراسانی کا قیام۔قابل ذکر ہے کہ ان نشانیوں کی توضیح اور تفصیل مفصل کتابوں میں بیان ہوئی ہیں۔ (بحار الانوار، ج ۲۵، ص ۱۸۱ تا ۸۷۲)
ة....ة....ة....ة....ة
درس کا خلاصہ:
ظہور سے پہلے اگرچہ دُنیا میں بیشتر ظلم و ستم اور تباہی ہو گی لیکن اس سے مراد سب لوگوں کا ظالم ہونا نہیں ہے۔
زمانہ غیبت اور ظہور کے نزدیکی دور میں لوگوں کا فریضہ امربالمعروف اور نہی عن المنکر ہے تاکہ ظہور کی شرائط پوری ہوں۔
حضرت کے قیام کے اہم اسباب و شرائط مندرجہ ذیل ہیں: منصوبہ بندی، رہبری، یار و مددگار کا ہونا اور عام طور پر تیاری۔
حضرت کے یار و انصار کی اہم ترین خصوصیات مندرجہ ذیل ہیں: معرفت و اطاعت، عبادت و استحکام، شہادت کی طلب، شجاعت، صبر و بردباری، اتحاد و زہد۔ روایات کی رو سے حضرت کے ظہور کی حتمی علامات مندرجہ ذی ہیں: سفیانی کا خروج، یمنی کا قیام، خسف بیدائ، آسمانی آواز اور نفس زکیہ کا قتل۔
درس کے سوالات:
۱۔ یہ کہ منتظرین کا ہم وظیفہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر شمار کیا گیا ہے اس کی دلیل کی وضاحت کریں؟
۲۔ روایت کی رو سے ظہور کی شرائط اور علامات میں فرق بیان کریں؟
۳۔ عالمی عادلانہ حکومت کی تشکیل کے لیے اہم شرائط میں سے رہبری کی اہمیت کو بیان کریں؟
۴۔ ظہور کے تحقق کے لئے عمومی تیاری اور آمادگی کی اہمیت پر روشنی ڈالیں؟
۵۔ روایات میں بیان کی گئی یقینی اور حتمی علامات میں سے کوئی چار علامات کو روایات کے ساتھ بیان کریں؟
ة....ة....ة....ة....ة
ChatGPT
### 1. منتظرین کا ہم وظیفہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر
اسلام میں امر بالمعروف و نہی عن المنکر کو بہت اہمیت دی گئی ہے، کیونکہ یہ دین کے ارکان میں سے ہے۔ منتظرین، جو امام مہدی (عج) کے ظہور کا انتظار کر رہے ہیں، کے لئے یہ وظیفہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ معاشرے میں اخلاقی اور دینی اصولوں کو فروغ دیں۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ جب تک امام مہدی (عج) ظاہر نہیں ہوتے، تب تک معاشرے کو اخلاقی طور پر بہتر بنایا جائے۔
### 2. ظہور کی شرائط اور علامات میں فرق
روایات کے مطابق، ظہور کی شرائط وہ حالات یا واقعات ہیں جو ظہور سے قبل پوری ہونی چاہئیں، جیسے عالمی افراتفری اور دین سے دوری کا بڑھنا۔ دوسری طرف، علامات ظہور سے متعلق خاص پیشینگوئیاں ہیں جو ظہور کے وقت خاص طور پر ظاہر ہوتی ہیں، جیسے سورج کا مغرب سے طلوع ہونا۔
### 3. عالمی عادلانہ حکومت کی تشکیل کے لیے رہبری کی اہمیت
عالمی عادلانہ حکومت کی تشکیل کے لئے رہبری کی اہمیت نہایت ضروری ہے کیونکہ ایک مؤثر اور عادل رہبر معاشرے کو انصاف اور برابری کی بنیاد پر چلا سکتا ہے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق، امام مہدی (عج) وہ حقیقی رہبر ہیں جو انصاف پر مبنی عالمی حکومت قائم کریں گے۔
### 4. ظہور کے تحقق کے لئے عمومی تیاری اور آمادگی
ظہور کے تحقق کے لئے عمومی تیاری اور آمادگی میں شامل ہیں: دینی علوم کا سیکھنا، اخلاقی اقدار کو اپنانا، اور معاشرتی برائیوں کے خلاف جدوجہد کرنا۔ یہ تمام اقدامات معاشرے کو ظہور کے لئے زمینہ سازی میں مدد دیتے ہیں۔
### 5. روایات میں بیان کی گئی یقینی اور حتمی علامات
روایات میں بیان کردہ کچھ یقینی اور حتمی علامات میں شامل ہیں:
- دجال کا ظہور
- سفیانی کا ظہور
- یمانی کا ظہور
- آسمانی صداؤں کا سنائی دینا
یہ تمام علامات اس بات کی نشانی ہیں کہ ظہور قریب ہے اور ان علامات کا ظہور روایات میں وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔
نوٹ مندرجہ ذیل سوالات کے جوابات ( نیٹ سے لئے)
سوال نمبر 1: یہ کہ منتظرین کا اہم وظیفہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر شمار کیا گیا ہے اس کی دلیل کی وضاحت کریں؟
جواب
حضرت امام صادق علیہ السلام اپنے ایک صحابی سے فرماتے ہیں:”جب تم دیکھو کہ ظلم و ستم عام ہو رہا ہے، قرآن کو بالائے طاق رکھ دیا گیا ہے، ہوا و ہوس کی بنا پر تفسیر کی جا رہی ہے، اہل باطل، حق پرستوں پر سبقت لے رہے ہیں، ایماندار افراد خاموش بیٹھے ہوئے ہیں، رشتہ داری کے تعلقات ختم ہو رہے ہیں، چاپلوسی (خوشامدی) بڑھ رہی ہے، نیکیوں کا راستہ خالی ہو رہا ہے اور برائیوں کے راستہ پر بھیڑ دکھائی دے رہی ہے، حلال، حرام ہو رہا ہے اور حرام، حلال شمار کیا جا رہا ہے، بہت سا مال و دولت خدا کے غیظ و غضب (گناہوں اور برائیوں) میں خرچ کیا جا رہا ہے، حکومتی کارندوں میں رشوت کا بازار گرم ہے، نا درست کھیل اس قدر رائج ہو چکے ہوں کہ کوئی بھی انکی روک تھام کی جرا ت نہیں کرتا، لوگ قرآنی حقائق سننے کے لئے تیار نہیں، لیکن باطل اور فضول چیزیں سننا ان کے لئے آسان ہے، ریاکاری کےلئے خانہ خدا کا حج کیا جا رہا ہے، لوگ سنگدل ہو رہے ہیں، (محبت کا جنازہ نکل رہا ہے) اگر کوئی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتا ہے تو اس کو نصیحت کی جاتی ہے کہ یہ تمہاری ذمہ داری نہیں ہے، ہر سال ایک نیا فتنہ اور نئی بدعت پیدا ہو رہی ہے، (جب تم یہ دیکھ لو کہ حالات اس طرح کے ہو رہے ہیں تو) اپنے کو محفوظ رکھنا اور اس خطرناک ماحول سے نجات کے لئے خدا کی پناہ طلب کرنا کہ ظہور کا زمانہ نزدیک ہے۔ (کافی، ج ۷، ص ۸۲)
البتہ ظہور سے پہلے کی یہ سیاہ تصویر اکثر لوگوں کی ہو گی، کیونکہ اس زمانہ میں بھی بعض مومنین ایسے ہوں گے جو خدا سے کئے ہوئے اپنے عہد و پیمان پر باقی ہوں گے اور اپنے دینی عقائد کی سرحدوں کی حفاظت کرتے ہوں گے وہ زمانہ کے رنگ میں نہیں رنگے جائیں گے اور اپنی زندگی کا انجام برا نہیں کریں گے، یہ افراد خداوند عالم کے بہترین بندے اور آئمہ علیہم السلام کے سچے شیعہ ہوں گے جن کے بارے میں روایات میں مدح و تعریف ہوئی ہے، یہ لوگ خود بھی نیک ہوں گے اور دوسروں کو بھی نیکی کی دعوت دیتے ہوں گے، کیونکہ وہ اس بات میں بہتری سمجھتے ہیں کہ نیکیوں اور خوبیوں کو رائج کرنے اور ایمان کے عطر سے ماحول کو خوشگوار بنانے سے نیکیوں کے امام کا ظہور جلد ہو سکتا ہے اور ان کے قیام اور حکومت کا راستہ ہموار کیا جا سکتا ہے، کیونکہ برائیوں کا مقابلہ اسی وقت کیا جا سکتا ہے کہ جب مصلح اور موعود کے ناصر و مددگار ہوں۔
اور ہمارا پیش کردہ یہ نظریہ اس نظریہ کے بالکل برعکس ہے جس میں برائیوں کے پھیلانا ظہور میں جلدی کا سبب قرار دیا گیا ہے۔ کیا واقعاً یہ بات قابل قبول ہے کہ مومنین برائیوں کے مقابلہ میں خاموشی اختیار کریں تاکہ معاشرہ میں برائیاں پھیلتی رہیں اور اس طرح امام زمانہ علیہ السلام کے ظہور کا راستہ فراہم ہو؟ کیا نیکیوں اور فضائل کا رائج کرنا امام علیہ السلام کے ظہور میں تعجیل کا سبب نہیں قرار پائے گا؟امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ایک ایسا فرض ہے جو ہر مسلمان پر یقینی طور پر واجب ہے جس کو کسی بھی زمانہ میں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، لہٰذا امام زمانہ علیہ السلام کے ظہور میں تعجیل کے لئے برائیوں اور ظلم و ستم کو پھیلانا کس طرح سبب بن سکتا ہے؟جیسا کہ پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا:”اس (مسلمان) اُمت کے آخر میں ایک ایسی قوم آئے گی جن کا اجر و ثواب صدر اسلام کے مسلمانوں کے برابر ہو گا، وہ لوگ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر انجام دیتے ہوں گے اور فتنہ و فساد اور برائیوں کا مقابلہ کرتے ہوں گے“۔ (معجم احادیث الامام المہدی علیہ السلام، ج۱، ص ۹۴)
جیسا کہ متعدد روایات میں بیان ہوا ہے کہ دُنیا ظلم و ستم سے بھر جائےگی۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تمام انسان ظالم بن جائیں گے بلکہ خدائی راستہ پر چلنے والے موجود ہوں گے اور مختلف معاشروں میں اخلاقی فضائل کی خوشبو دلوں کو معطر کرتی ہوئی نظر آئے گی۔ لہٰذا ظہور سے قبل کا زمانہ اگرچہ ایک تلخ زمانہ ہوگا لیکن ظہور کے شیرین زمانہ پر ختم ہو گا، اگرچہ وہ ظلم و ستم اور برائیوں کا زمانہ ہو گا لیکن اس زمانہ میں پاک رہنا اور دوسروں کو نیکیوں کی دعوت دینا منتظرین کا لازمی فریضہ ہو گا، اور قائم آل محمد علیہم السلام کے ظہور میں براہ راست مو ثر ہو گا۔ اس حصہ کو حضرت امام مہدی (عج اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کے کلام پر ختم کرتے ہیں، چنانچہ آپ نے فرمایا:”ہمیں اپنے شیعوں سے کوئی چیز دور نہیں رکھتی مگر ان کے (برے) اعمال جو ہم تک پہنچتے ہیں اور ہم ان اعمال کو پسند نہیں کرتے اور ان کے لئے ایسا مناسب بھی نہیں سمجھتے ہیں“۔ (احتجاج، ج ۲، ش ۰۶۳، ص ۲۰۶)
سوال نمبر 2: روایت کی رو سے ظہور کی شرائط اور علامات میں فرق بیان کریں؟
جواب:
شرائط اور علامات میں فرق کیا ہے شرائط تو وہ ہیں کہ جس پر ظہور موقوف ہو یعنی جب تک یہ شرط یہ سبب نہیں وجود میں آئے پہلا ظہور بھی نہیں ہوگا بس شرائط یعنی جس پر ظہور موقوف ہے پہلے شرط پھر مشروط پہلے سبب پھر مسبب اور علامات ظہور سے مراد ایسے واقعات ہیں کہ جن کے ذریعے ہمیں پتہ چلے گا کہ یہ جس ہستی نے ظہور کیا ہے یہ مہدی حق ہے یعنی علامہ جو ہیں یہ صحیح ظہور صحیح مہدی اور جھوٹے مہدی کے درمیان تشخیص کا ذریعہ ہے پوری تاریخ میں کتنے ہی لوگ تھے جنہوں نے جھوٹے دعوے کیے اس وقت علماء نے جو ہیں وہ علامات جو ہیں پوچھیں اور علامات نہ ہونے کی وجہ سے انہیں رد کیے تو اج بھی جو ہے اگر کوئی مہدی ہونے کا دعوی کرے تو ہم دیکھیں گے علامات تو نہیں ائی بس یہ جھوٹا ہے تو مولا کے ظہور سے پہلے یہ علامہ ظاہر ہوں گے ہوں گے تو یہ ڈیڑھ سال کے ہی دورانیہ میں لیکن اس سے پتہ چلے گا کہ اب جس نے انا ہے وہ حقیقی مہدی پس اگر ہم بطور کلی اپنی گفتگو کو سمیٹیں تو یوں کہیں گے کہ علامات ظہور کی کاشف ہے لیکن شرائط جو ہیں یہ ظہور کو وجود میں لانے والی ہیں پھر علامت لازم نہیں ہے ایک ہی زمانے میں ہو کوئی اول میں ہوگی وہ درمیان میں ہوگی کوئی اخر میں ہوگی لیکن شرائط ساری اکٹھی ہوں گی تو ضرور ہوگا سب اسباب اکٹھے ہوں گے تو مسبب ہوگا تیسری چیز جو ہے ممکن ہے علامتوں کا اپس میں تعلق نہ ہو ایک صوفیانی کا خروج ہے ایک یمنی کا پی ہم ان کا پس میں تعلق نہیں ایک اسمانی اواز ہے ایک حسب ڈاٹا لیکن شرائط اپس میں جڑی ہوئی ہیں وہ اکٹھی ہیں یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی ایک علامت ظاہر نہ ہو مثلا پانچ علامتیں ہیں ممکن ہے چار ظاہر اور پانچویں ظاہر نہ ہو ایک علامت ختم ہو جائے لیکن شرائط ساری ہوں گی تو ظہور ہوگا اور یہ بھی ہے کہ علامتیں جو ہیں یہ ساری کابل شناخت ہیں ہم ان کو سمجھیں گے ان کا پتہ چلے گا لیکن شرائط ممکن ہے ابھی ہوں لیکن ہمیں پتہ نہ ہو مثلا جیسے ممکن ہے مولا کے 313 ناصر ہوں ہمیں پتہ نہ ہو تو یہ چند ایک بنیادی فرق ہے ان کو اگر ہم اپنے ذہن نشین کریں تو ہمارے بہت سارے مسائل حل ہم بس ہر چیز علامت نہیں ہے علامتیں وہی ہیں جو روایات میں ہیں اور ان کی یہ صورتحال ہے کہ یہ لازمی نہیں ہے اکٹھی ائی پی در پہ ائیں گے ہو سکتا ہے باز ائیں باز نہ ائیں لیکن اصل وہ چیز جو ہے جس پہ ظہور موقوف ہے وہ علامتیں نہیں ہیں علامتیں اسی وقت ظاہر ہوں گی جب ظہور ہونے والا ہوگا ظہور ہماری تیاری پہ یا شرائط پہ اس میں ایک ناصروں کا وجود ہے مسئلہ 313 جو ناصر ہیں خاص ان کا وجود ہے ان چیزوں پہ موقوف ہے انشاءاللہ اسی بحث کو اگے بڑھائیں گے اللہ تعالی ہم کا وجود ہے ان چیزوں پہ موقوف ہے انشاءاللہ اسی بحث کو اگے بڑھائیں گے اللہ تعالی کا وجود ہے ان چیزوں پہ موقوف ہے انشاءاللہ اسی بحث کو اگے بڑھائیں گے اللہ تعالی ہم کا وجود ہے ان چیزوں پہ موقوف ہے انشاءاللہ اسی بحث کو اگے بڑھائیں گے اللہ تعالی ہم سب کو کا وجود ہے ان چیزوں پہ موقوف ہے انشاءاللہ اسی بحث کو اگے بڑھائیں گے اللہ تعالی ہم سب کو کا وجود ہے ان چیزوں پہ موقوف ہے انشاءاللہ اسی بحث کو اگے بڑھائیں گے اللہ تعالی ہم سب کو اگے بڑھائیں گے اللہ تعالی ہم سب کو کا وجود ہے ان چیزوں پہ موقوف ہے انشاءاللہ اسی بحث کو اگے بڑھائیں گے اللہ تعالی ہم سب کو توفیق کا وجود ہے ان چیزوں پہ موقوف ہے
سوال نمبر 3: ظہور کے تحقق کے لئے عمومی تیاری اور آمادگی کی اہمیت پر روشنی ڈالیں؟
جواب:
رہبری
ہر انقلاب اور قیام میں رہبر اور قائد کی ضرورت سب سے پہلی ضرورت شمار کی جاتی ہے اور انقلاب جس قدر وسیع اور بلند مقصد کا حامل ہوتا ہے اس انقلاب کا رہبر بھی ان اغراض و مقاصد کے لحاظ سے عظیم و بلند ہونا چاہیے۔
عالمی پیمانہ پر ظلم و ستم سے مقابلہ، عدل و انصاف پر مبنی حکومت اور کرہ زمین پر مساوات برقرار کرنے کے لئے توانا، صاحب علم اور دلسوز رہبر اس انقلاب کا اصلی رکن ہے کہ جو واقعی طور پر اس انقلاب کی صحیح رہبری کر سکے۔ حضرت امام مہدی علیہ السلام جو انبیاءاور اولیاء(علیہم السلام) کے ماحصل ہیں وہ اس عظیم الشان انقلاب کے رہبر کے عنوان سے زندہ اورموجود ہیں۔ صرف وہی ایک ایسے رہبر ہیں جو عالم غیب سے رابطہ کی وجہ سے کائنات کی ہر شئے اور اس کے تمام روابط سے مکمل طور پر آگاہی رکھتے ہیں اور اپنے زمانہ کے سب سے عظیم عالم ہیں۔
پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا:”آگاہ ہو جاﺅ کہ مہدی علیہ السلام تمام علوم کا وارث ہو گا، اور تمام علوم پر احاطہ کئے ہو گا“۔ (نجم الثاقب، ص ۳۹۱)
وہ ایسے واحد رہبر ہیں جو ہر طرح کی قید و بند سے آزاد ہوں گے اور صرف ان کا دل پروردگار عالم کی مرضی کے تحت ہو گا۔ لہٰذا آپعلیہ السلام عالمی انقلاب اور حکومت کے رہبر اور قائد کے لحاظ سے بھی بہترین شرائط کے حامل ہوں گے۔
سوال نمبر 4: ظہور کے تحقق کے لئے عمومی تیاری اور آمادگی کی اہمیت پر روشنی ڈالیں؟
جواب
عام طور پر تیاری،عام لام بندی
آئمہ معصومین علیہم السلام کی تاریخ میں مختلف مواقع پر اس حقیقت کا مشاہدہ کیا گیا ہے کہ لوگ امام کے حضور سے بہتر فائدہ اُٹھانے کے لئے لازمی تیاری نہیں رکھتے تھے، کسی بھی زمانہ میں امام معصوم علیہ السلام کے پرنور حضور کے فیض کی قدر نہیں کی گئی اور ان کے چشمہ ہدایت سے مناسب فیض حاصل نہیں کیا لہٰذا خداوند عالم نے اپنی آخری حجت کو پردہ غیب میں بھیج دیا تاکہ جب ان کو قبول کرنے کے لئے سب تیار ہو جائیں گے تو امام علیہ السلام کا ظہور ہو گا اوراس وقت الٰہی تعلیمات کے سرچشمہ سے سب سیراب ہوں گے۔ اس بنا پر امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے لئے آمادہ اور تیار رہنا اہم شرائط میںسے ہے کیونکہ اسی تیاری کی وجہ سے امام علیہ السلام کی اصلاحی تحریک مطلوبہ مقصد تک پہنچ سکتی ہے۔
قرآن کریم میں بنی اسرائیل کے ایک گروہ کے بارے میں جو اپنے زمانہ کے ظالم و جابر حاکم ”جالوت“ کے ظلم و ستم سے بہت زیادہ پریشان ہو چکا تھا، اس نے اپنے زمانہ کے بنی سے درخواست کی کہ ان کے لئے ایک طاقتور سردار لشکر کا انتخاب کریں تاکہ اس کے فرمان کے تحت جالوت سے جنگ کر سکیں۔
جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:
﴾اَلَم تَرَ اِلَی ال مَلَائِ مِن بَنِی اِس رَئِیلَ مِن بَع دِ مُو سٰی اِذ قَالُو الِنَبِی لَہُم ابعَث لَنَا مَلِکاً نُقَاتِل فِی سَبِی لِ اللّٰہِ قَالَ ہَل عَسَب تُم اِن کُتِبَ عَلَی کُم الَقِتَالُ اَلاِّ تُقَاتِلُو ا وَ مَا لَنَا اَلاَّ تُقَاتِلَ فِی سَبِی لِ اللّٰہِ وَ قَد اُخ رِج نَا مِن دِیَارِنَا وَ اَب نَائِنَا فَلَمَّا کُتِبَ عَلَی ہِم ال قِتَالُ تَوَلَّو اِلاَّ قَلِیلاً مِن ہُم وَ اللّٰہُ عَلِی م بِالظَّالِمِی نَ۔﴿ (سورہ بقرہ، آیت ۶۴۲)
”کیا تم نے موسیٰ کے بعد بنی اسرائیل کی اس جماعت کو نہیں دیکھا جس نے اپنے نبی سے کہا کہ ہمارے واسطہ ایک بادشاہ مقرر کیجئے تاکہ ہم راہِ خدا میں جہاد کریں نبی نے فرمایا کہ اندیشہ یہ ہے کہ تم پر جہاد واجب ہو جائے اور تم جہاد نہ کرو ان لوگوں نے کہا کہ ہم کیونکر جہاد نہ کریں گے جبکہ ہمیں ہمارے گھروں اور بال بچوں سے ہمیںالگ نکال باہر کر دیا گیا اس کے بعد جب جہاد واجب کر دیا گیا تو تھوڑے سے افراد کے علاوہ سب منحرف ہو گئے اور اﷲ ظالمین کو خوب جانتا ہے“۔
جنگ کے لئے سردار منتخب کرنے کی درخواست ایک طرح سے اس بات کی عکاسی کرتی تھی کہ وہ آمادہ اور تیار ہیں اگرچہ راستہ میں ایک کثیر تعداد سست پڑ گئی اور بہت کم لوگ میدان جنگ میں حاضر ہوئے۔ لہٰذا امام مہدی علیہ السلام کا ظہور بھی اسی وقت ہو گا جب سب لوگوں میں اجتماعی عدالت،۱خلاقی اور نفسیاتی امنیت اور معنویت کے رشد و نمو کے طلبگار پیدا ہو جائیں گے، جب لوگ ناانصافی اور قبیلہ پرستی سے تھک جائیں گے، جب ضعیف اور کمزور لوگوں کے حقوق صاحب قدرت اور صاحب مال و دولت کے ذریعہ پامال ہوتا دیکھیں گے اور مال و دولت صرف کچھ خاص لوگوں کے قبضہ میں دیکھیں گے، جبکہ اسی موقع پر کچھ لوگوں کے پاس رات میں کھانے کے لئے روٹی بھی نہ ہو گی، ایک دوسرا گروہ اپنے لئے محل بناتا ہوا نظر آتا ہو گا اور اپنی محافل میں بہت زیادہ خرچ اور ایسے ایسے کھانے اور آرام و سکون کے ایسے ایسے سامان مہیا کئے جائیں گے کہ جن کو دیکھ کر آنکھیں چکاچوند ہوتی ہوںگی، تو ایسے موقع پر عدالت طلبی کی پیاس اپنے عروج پر ہو گی۔
جب مختلف برائیاں معاشرہ میں رائج ہوتی جا رہی ہوں اور برائی انجام دینے میں ہر کوئی ایک دوسرے سے آگے بڑھ رہا ہو بلکہ اپنے بُرے کاموں پر فخر کیا جا رہا ہو، یا انسانی اور الٰہی اصول سے اس طرح دُوری اختیار کی جار رہی ہو کہ غفلت اور پاکدامنی کے بعض مخالف کاموں کو قانونی شکل دی جا رہی ہو جس کے نتیجہ میں گھریلو نظام درہم برہم ہو جاتا ہو، اور بے سرپرست بچے معاشرہ کے حوالہ کئے جاتے ہو تو اس موقع پر ایسے رہبر کے ظہور کا اشتیاق بہت زیادہ ہو جائے گا جس کی حکومت اخلاقی اور نفسیاتی امنیت اور سلامتی کا پیغام لے کر آئے اور جس وقت انسان تمام مادی لذتوں سے ہمکنار ہو لیکن اپنی زندگی سے راضی نہ ہو اور ایسی دُنیا کی تلاش میں ہو جو معنویت سے لبریز ہو، تو ایسے موقع پر انسان لطف امام کے آبشار کا پیاسا ہو گا۔
ظاہر سی بات ہے کہ امام علیہ السلام کے حصور کو سمجھنے کا شوق اس وقت عروج پر ہو گا کہ جب بشریت اپنے ذاتی تجربہ سے مختلف انسانی حکومتوں کے کارناموں کو دیکھ کر ہی سمجھ جائے گی کہ دُنیا کو ظلم و ستم، تباہی اور برائیوں سے نجات دینے والا زمین پر الٰہی خلیفہ اور جانشین حضرت امام مہدی علیہ السلام ہی ہیں اور انسانیت کے لئے پاک و پاکیزہ اور بہترین زندگی عطا کرنے والا منصوبہ صرف اور صرف الٰہی قوانین میں ہے لہٰذا اس موقع پر انسانیت اپنے پورے وجود سے امام علیہ السلام کی ضرورت احساس کرے گی اور اس احساس کی وجہ سے اس کے ظہور کے لئے راستہ فراہم کرنے کی کوشش کرے گی نیز اس راہ میں موجود رکاوٹوں کو دُور کرے گی اور یہ اسی وقت ہو گا جب فرج اور ظہور کا موقع پہنچ جائے گا۔
پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) آخر الزمان اور ظہور سے قبل کے زمانہ کی توصیف کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”ایک زمانہ وہ آئے گا کہ مومن کو جائے پناہ نہیں ملے گی تاکہ ظلم و ستم اور تباہی سے نجات مل جائے، پس اس وقت خداوند عالم میری نسل سے ایک شخص کو بھیجے گا“۔
(عقد الدرر، ص ۳۷)
سوال نمبر 5: روایات میں بیان کی گئی یقینی اور حتمی علامات میں سے کوئی چار علامات کو روایات کے ساتھ بیان کریں؟
جواب
ظهور امام مهدی ؑکی حتمی علامات
منجیٔ عالم مهدئ آخر زمان(عج)
ظهور امام مهدی ؑکی حتمی علامات
جب حضرت بقیة الله الاعظم امام زمان ؑغیب کے پرده سے تشریف لائیں گے تو اس وقت کے علائم اور نشانیاں جو ائمۀ معصومین علیهم السلام کی طرف سے بیان هوئی هیں وه درج ذیل هیں ۔ ان علامات کے ساتھ جو هم ترتیب وار بیان کریں گے، قدرت ومنشاء الٰهی بھی شامل هے اور مرضیئ الٰهی یه هے که جب اس کی مرضی هوگی انکا ظهور هوگا۔
بعض علامات اپنے طبیعی مسیر کے مطابق خود بخود واقع هوئی هیں جن میں خدا وند متعال کا کوئی دخل نهیں هے مثلاً انحرافات فکری، انحرافات ثقافتی اور انحرافات عملی وغیره ، یه طبق مرور زمان خود بخود واقع هوتی هیں ۔
جو امام زمان ؑکے ظهور کی علامات سمجھی جاتی هیں ۔ ان میں چاند کا مهینے کی آخری تواریخ میں گرهن لگنا اور سورج کا وسط ماه میں گرهن لگنا وغیره شامل هیں ۔مگر وه علائم جو ظهور پر نور کے نزدیک واقع هوں گی ان کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا هے۔
مثال کے طور پر ظهور کے بالکل نزدیک اور ظهور سے متصل قتل نفس ذکیه کا واقع هونا۔
دوسری علامات حضرت امام مهدی ؑکے ظهور سے کافی عرصه پهلے بنی عباس کے درمیان اختلاف وجود میں آنا وغیره۔
تیسری تقسیم بندی کچھ اس طرح هے:۔
وه علائم جن کا واقع هو نا حتمی هے یا جن کے واقع هونے میں کوئی خدشه وارد نهیں هو سکتا هے یه وه حوادث هیں جو احادیث کے ذریعه هم تک پهنچے هیں ممکن هے که بداء حاصل هو جائے یا بداء حاصل نه هو ۔(1)
هماری بحث ان علائم میں هو رهی هے جو حتمی هیں جو روایات کی روشنی میں پانچ یا چھے علائم میں منحصر هیں ۔
حضرت امیر المؤمنین ؑنے فرمایا:۔
(قال مولانا امير المؤمنين عليه السلام: من المحتوم الذی لا بُدّ منه ان يکون قبل القائم: خروج السفيانی، وخسف با لبيداء وقتل الذ کيه والمنادی من السماء و خُرُجُ اليمانی)
مولا امیرالمؤمنین ؑنے فرمایا: وه نشانیاں جو قائم سے پهلے ظاهر هوں گی اور جن کے واقع هونے میں کوئی شک و شبه نهیں ( یه وه بات هے جو قطع و یقین پر مبنی هے) وه یه هیں : خروج سفیانی، زمین کا دھنس جانا ، قتل نفس ذکیه ، نداء آسمانی اور یمانی کا خروج ۔
..............
(1) یہ سورہ رعد کی آیۃ 49کی طرف اشارہ ہے
١۔ خروج سفیانی
سفیانی ان لوگوں میں سے هے جو حضرت امام زمان ؑکے ظهور کے موقع پر باطل کے طور پر سامنے آئے گا جو خون آشام اور قتل و غارت میں مشهور هو گا۔ وه حق و حقیقت کی مکمل طور پر مخالفت کرے گا اس سے خداوند عالم نے قرآن مجید میں لوگوں کو خبردار کیا هے۔ یه بات محققین اور محدّثین کے درمیان یقینی هے که اس شخص کا نام اس لئے سفیانی رکھا گیا هے که یه شقاوت و بدبختی اور پلیدی کے لحاظ سے ابو سفیان جیسا هو گا۔ سفیانی کی نسبت ابو سفیان ملعون و پلید اور اس کی بیوی ھنده جگر خوارۀ حضرت حمزه سید الشهداء سے هے اسی لئے اس ملعون اور بدبخت انسان کا نام سفیانی رکھا گیا هے۔حضرت امیر المؤمنین علی ؑفرماتے هیں : یه شخص حد سے زیاده انسانوں کے جگر کھائے گا اوراس کے بعدصحرا کی طرف نکل جائے گا۔
(1)اس کا اصلی نام عثمان اور باپ کا نام عتبه هو گا اور وه ابوسفیان کی اولاد میں سے هے۔ جب بھی کسی ایسی سرزمین پر پهنچے گاجو هموار اور اس کا پانی صاف و شفاف هوگا وهاں پر ٹھهرے گا ۔
یه ملعون ابتداء میں شهر دمشق ، حمص ، فلسطین ، اردن اور قنسرین کو اپنے قبضه میں لے لے گا، لوگوں کا قتل عام کرنے کے بعد کوفه، بغداد، نجف اور مدینه پر حمله کرے گا اور یه ملعون شیعوں کا اس قدر سخت ترین دشمن هے که جو کوئی بھی کسی شیعه کا سر تن سے جدا کر کے لائے گا اسے بڑے بڑے انعامات سے نوازے گا۔ آخر کار سرزمین بیداء جو (مکه و مدینه کے درمیان هے) میں سفیانی کے لشکر زمین میں دھنس جائے گا۔ اور خود سفیانی حضرت امام زمان ؑکے لشکر کے هاتھوں بیت المقدس میں قتل هو جائے گا۔
..............
(1) کمال الدین ؛ج2، ص 651 ، اعلام الوری ، ص 421
٢۔ لشکر سفیانی کا سرزمین بیداء میں دھنس جان
٣۔ صیحۀ آسمانی
صیحه اس وقت واقع هو گی جب پوری دنیا اختلاف اور جھگڑوں میں گھر جائے گی، تفرقه و جدائی نے سایه کیا هو گا اسوقت ایک آسمانی آواز سب کے کانوں سے ٹکرائے گی اس کے بعد ایک پنجه ظاهر هوگا۔اس طرح پورے طور پر صیحۀ آسمانی پھیل جائے گي۔
حضرت امیر المؤمنین علی ؑفرماتے هیں :۔
( ثُمَّ لا يستقم امر الناس علی شیء ولا يکون لهم جماعة، حتیٰ ينادیَ منادٍ من السماء عليکم بغلان وتطلع کفّ تشير)(1)
..............
(1)اللام ولافتن ؛ص 48، روزگار ھائی؛ ج2، ص 867
اس وقت لوگوں کی اصلاح هر گز نهیں هو گی اور مسلمان هر گز ایک مرکز پر جمع نهیں هو سکیں گے۔ اس وقت منادی آسمان سے آواز دے گی۔ اس کی طرف دوڑئے اس سے د ور نه هو جائیں اس وقت ایک پنجه آسمان سے ظاهر هو جائے گا اور امام زمان ؑکی طرف کرے گا اس طرح صیحه کے وقوع کو سب مان لیں گے۔
اس صیحه کا مطلب کیا هے؟ کیا بے مقصد آواز هو گی؟
یه ایک ایسا پیغام هے جس میں حکم الٰهی پوشیده هے!
حضرت رسول اکرم صلی الله علیه وآله وسلم فرماتے هیں :۔
(اذا کان عنده خروجِ القائمِ ينادی من السماء!)
(ايهاالنّاس، قطع ، عنکم مدّه الجبارين و ولی الامر خير امّة محمدٍ ، فالحقوا مکّة ) (1)
جب قائم کا ظهور هوگا اس وقت آسمان سے نداء دی جائے گی : اے لوگو! خداوند عالم نے ستمگروں کی مهلت کو آخر تک پهنچا دیا هے اور امت محمدؐ کو بهترین امام عنایت کیا هے اپنے آپ کو جلد از جلد مکۀ مکرمه میں اس کے پاس پهنچا دو!
یه واقعه شب جمعه، نماز صبح کے بعد ماه مبارک رمضان کی 23تاریخ کو رونما هو گا۔
..............
(1) بحار الانوار جلد 52 ،ص404
٤۔ نفس ذکیه
١۔ نفس ذکیه کا قتل اور حضرت امام مھدی عجل الله فرجه الشریف کے ظهور میں صرف 15دن کا فاصله هو گا۔
٢۔ نفس ذکیه وهی هے جو رکن و مقام کے درمیان قتل هو گا۔
٣۔ نفس ذکیه بعنوان سفیر امام زمان ؑمکه میں جائیں گے۔ تاکه حضرت امام زمان ؑکے پیغام کو مکه والوں تک پهنچائیں مگر انهیں اسی وقت رکن و مقام کے درمیان کو شهید کیا جائے گا۔
٤۔ نفس ذکیه رکن و مقام کے درمیان حضرت امام زمان ؑکے ظهور سے پندره (15)دن پهلے شهید هو جائیں گے آپ کا نام محمدؑ اور والد گرامی کا اسم گرامی حسنؑ هو گا آپؑ حضرت امام حسین ؑکی نسل سے هونگے۔
5. خروج یمانی
حضرت امام صادق ؑخروج یمانی کے بارے میں یوں فرماتے هیں :۔
(خروجُ رجل من ولد عمّی زيد با ليمن) (1)
یه وه شخص هو گا جو همارے چچا زاد بھائی زید شهید کی اولاد میں سے هو گا جو یمن میں خروج کریں گے۔
حضرت رسول اکرم صلی الله علیه وآله وسلم فرماتے هیں :۔
(خروج الثلاثه:السفيانیّ ُ والخراسانیُّ واليمانیُّ فی سنة واحدة ، فی شهر واحدٍ ، فی يوم واحد ، وليس فيها من راية اھدایٰ من راية اليمانی ، لانّه يدعو الیٰ الحق) (2)
تین جھنڈے ایک هی سال ایک هی مهینه، ایک هی دن میں خروج کریں گے۔ سفیانی ، خراسانی ، یمانی. ان کے درمیان میں سے صالح اور صحیح تر یمانی کے علاوه کوئی نهیں هو گا وه لوگوں کو حق کی طرف بلائے گا۔
روایات کهتی هیں :۔ـیمانی، سفیانی سے لڑتے هوئے عراق میں داخل هو گا یمانی، خراسانی کی فوج کی مدد سے سفیانی کی فوج سے لڑے گا۔
روایات اس بات پر دلالت کرتی هیں که یمانی کا لشکر خراسانی کے لشکر کو اپنی کمانڈ میں رکھے گا ۔
حضرت رسول اکرم صلی الله علیه وآله وسلم سپاه خراسان کی تعریف میں فرماتے هیں :
(فتخرج راية هدي من الکوفة، فتلحق ذٰلک الجيش فيقتلونهم لا يفلِتَ منهم مُخبِرُ ويستنقذون مافی ايديهم من اسّبی ولغنائم) (3)
هدایت کا پرچم کوفه سے خارج هو گا اور اس سپاه (سفیانی )کا پیچھا کر کے سبھی افراد کو قتل کرے گا۔ یها ن تک که ان کا ایک فرد بھی نهیں بچے گااورجوکچھ بھی ان کے پاس هوگا غنیمت کے طور پر اپنے قبضه میں لے لے گا اور لوگوں کو اسیر بنا لے گا۔
..............
(1) نور الابصار؛ ص 179 ، بشارالاسلام ؛ص 175
(2) بحارالانوار؛ ج52، ص210
(3) مجمع البیان ؛ ج 8،ص498
خروج سید حسنی
روایات میں هے که سید حسنی وه شخص هے که جو شهر ری سے خراج کرے گا اس کا اصل نام شعیب بن صالح هے اصالتاً قبیله بنی تتمیم سے تعلق رکھتا هو گا۔
یه شخص گندمی رنگ اور تنومند هوگا، بنام شعیب بن صالح ،وه چا رهزار افراد کے ساتھ اس حالت میں نکلیں گے که انکے لباس سفید اور جھنڈا سیاه رنگ کا هوگا۔ درحقیقت ان کا خروج ظهورِ امام مهدی ؑکے لئے مقدمه الجیش کی حیثیت رکھتا هوگا ،جوبھی ان کے سامنے آئے گا ماراجائے گا ۔
شعیب بن صالح کی تعریف میں حضرت پیغمبر اکرم صلی الله علیه وآله وسلم فرماتے هیں :
(يخرج علی لواء المهدی غلام حديث السنَّ خفيف الحيه، اصفر ، لو قاتل الجبال لهزَّ ها حتیّٰ ينزل ايليا)(1)
یه ایک نوجوان هوگا هلکی داڑھی ، گندمی رنگ کا حامل هو گا۔ اگر پهاڑ بھی اس کے مقابل آجائیں تو پاش پاش هو جائے گا یه سید حسن آگے بڑھتے هوئے بیت المقدس تک پهنچ جائیں گے۔
یه شخص حضرت امام مهدی عجل الله تعالیٰ فرجه الشریف کا علمبردار هو گا۔
حضرت رسول اکرم صلی الله علیه وآله وسلم ان کے بارے فرماتے هیں :۔
(ورود الرايات السود مِن خراسان ، حتّيٰ تنزل ساحلَ دجله)
اس کا لشکر کا اصل مقصد اور هدف ارض مقدس کو دشمنوں سے پاک اور صاف کرنا هے۔
خراسانی لشکر اپنے اصل هدف سے کبھی غافل نهیں هوگا۔ یهاں تک که وه بیت المال مقدس کو دشمنوں سے پاک کرنے کے بعد دجله اور فرات تک پهنچ جائے گا۔
حضرت پیغمبر اکرم صلی الله علیه وآله وسلم فرماتے هیں :۔
سیاه پرچم خراسان سے برآمد هو کر دجله اور فرات میں داخل هو گا۔
حضرت امام محمد باقر ؑفرماتے هیں :۔
اس مقدس لشکر کے ساتھ ایرانی شیعه اور مستضعف افراد خروج کریں گے اور هدایت کے پرچم کو لے کر نخیله کی طرف جائیں گے، اس دن لوگ حق پر جمع هو ں گے اور تیس لاکھ افراد مارے جائیں گے۔
حضرت امیر المؤمنین ؑاس وقت کے حالات سے لوگوں کو باخبر کرتے هوئے فرماتے هیں :
(اذا رأيتم الريات السود فالز مواالارض لا تحرکوا ايديکم ولا ارجلکم ثم يظهر قوم صغارٌ لا يوبه لهم)
جب تم سیاه پرچم دیکھو تو اس وقت زمین پر لیٹ جاؤ اور اپنے هاتھ پاؤں بالکل نه هلاؤ پھر ایک چھوٹا سا گروه ظاهر هوگا جو بالکل مورد اعتماد اور توجه کے قابل نهیں هوگا۔
..............
(1) والملاح و الفتن؛ ص 53
جواب سوال نمبر 5
علامات ظہور
وہ نشانیاں یا امور جو دنیا میں امام زمان علیہ السلام کے ظہور کو بیان کریں انہیں علائمِ ظہور یا علامات ظہور سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
فہرست مندرجات
۱ - ظہور کی علامات اور ظہور کی شرائط میں فرق
۲ - علاماتِ ظہور کی اقسام
۲.۱ - حتمی نشانیاں
۲.۱.۱ - آسمانی گونج دار پکار
۲.۱.۲ - سفیانی کا خروج
۲.۱.۳ - زمین کا دھنس جانا
۲.۱.۴ - نفس زکیہ کا قتل ہونا
۲.۱.۵ - یمانی کا آنا
۲.۲ - دجال
۲.۳ - غیر حتمی نشانیاں
۳ - علامات ظہور کے ظاہر ہونے کے فوائد
۴ - حوالہ جات
۵ - مأخذ
ظہور کی علامات اور ظہور کی شرائط میں فرق
[ترمیم]
ظہورِ امام زمان ؑ کی علامات اور ظہور کی شرائط میں فرق ہے۔ ذیل میں چند اہم فرق پیش خدمت ہیں:
۱۔ ظہور کا شرائط سے ایک حقیقی و منطقی اور واقعی ربط و تعلق ہے؛ یعنی ظہور اس وقت ہو گا جب ظہور کی شرائط اور اسباب فراہم ہو جائیں۔ جبکہ علاماتِ ظہور اس طرح سے نہیں ہیں۔ ایسا ممکن ہے کہ ظہور کی علامات آشکار نہ ہوں لیکن ظہور ہو جائے جبکہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ ظہور کی شرائط مہیا نہ ہو اور ظہور ہو جائے۔ بعض علاماتِ ظہور جیسے نفس زکیہ کا قتل ظہور سے پہلے واقع ہو گا اور یہ شرائطِ ظہور کے مہیا ہونے میں مؤثر ہے؛ لیکن اس معنی میں نہیں کہ یہ امام زمان ؑ کے ظہور کی شرط ہے۔
۲۔ جب ظہور کی تمام شرائط فراہم ہو جائیں اور شرائط مکمل ہو جائیں تو امام زمان کا ظہور ہو گا۔ لہذا ظہور کے وقت تمام شرائط موجود ہوں گی۔ جبکہ علاماتِ ظہور میں ایسا ہونا ضروری نہیں ہے؛ کیونکہ بعض علامات امام زمان ؑ کے ظہور سے پہلے آشکار ہوں گی اور بعض علامات ان کے ظہور کے بعد نمودار ہوں گی۔ [۱]
علاماتِ ظہور کی اقسام
[ترمیم]
آئمہ اہل بیت علیہم السلام سے وارد ہونے والی روایات علاماتِ ظہور دو حصوں میں تقسیم ہوتی ہیں:
۱۔ حتمی علامات و نشانیاں
۲۔ غیر حتمی نشانیاں
← حتمی نشانیاں
حتمی نشانیوں سے مراد وہ علامات و نشانیاں ہیں جو ظہور سے پہلے نمودار ہوں گی اور یہ کسی قید و شرط کی پابند نہیں ہیں؛ جبکہ غیر حتمی نشانیاں بعض شرائط کے ساتھ وابستہ ہیں جو موجودہ ہوں تو یہ غیر حتمی نشانیاں ہوں گی۔ ظہور امام زمانؑ کی حتمی علامات کا بیان متعدد روایات میں آیا ہے جن میں سے بعض میں پانچ حتمی علامات کا تذکرہ ہے اور بعض میں تقریبا دس (۱۰) سے کچھ زائد حتمی علامات بیان کی گئی ہیں۔
امام جعفر صادق ؑ سے صحیح السند روایت میں پانچ (۵) حتمی علامات کا تذکرہ وارد ہوا ہے جس میں آپؑ فرماتے ہیں: خَمْسُ عَلَامَاتٍ قَبْلَ قِيَامِ الْقَائِمِ: الصَّيْحَةُ وَالسُّفْيَانِيُّ وَالْخَسْفُ وَقَتْلُ النَّفْسِ الزَّكِيَّةِ وَالْيَمَانِي؛ قائم کے قیام سے پہلے پانچ (۵) علامات ظاہر ہوں گی: اونچی پکار، سفیانی کا خروج، زمین کا (بیداء کے مقام پر ) دھنس جانا، نفسِ زکیہ کا قتل کر دیا جانا اور یمانی کا آنا۔ [۲] یہ روایت چونکہ صحیح السند ہے اور اس مضمون پر مشتمل متعدد احادیث ہیں اس لیے ان پانچ نشانیوں کے حتمی ہونے پر علماء کا اتفاق ہے۔ علامہ مجلسی نے بحار الانوار کی ۵۲ نمبر جلد میں ان تمام روایات کو جمع کیا ہے جو ظہور کی علامات سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان روایات کا نچوڑ یہ نکلتا ہے کہ حتمی علامات تقریبا ۱۰ ہیں جن میں سے پانچ (۵) علامات پر علماء کا اتفاق ہے کیونکہ وہ صحیح السند روایات میں وارد ہوئی ہیں۔[۳][۴] بعض روایات کے مطابق یہ پانچ علامات امام مہدی ؑ کے قیام سے پہلے ظاہر ہوں گی۔ [۵] ذیل میں ہم ان پانچ حتمی علامات کا مختصر جائزہ لیتے ہیں جن کا تذکرہ امام جعفر صادق کی روایت میں وارد ہوا ہے:
←← آسمانی گونج دار پکار
بعض روایات کے مطابق صَیۡحہ ایک آسمانی گونج دار نداء ہو گی جس میں امام مہدیؑ کا نام لیا جائے گا اور مشرق سے لے کر مغرب تک پوری دنیا کے لوگ اس آواز کو سنیں گے۔ یہ آسمانی نداء ماہِ مبارک رمضان میں دی جائے گی اور اس مخلوق کی طرف یہ جناب جبرئیل ؑ کی گونج دار آواز ہو گی۔ [۶][۷]
←← سفیانی کا خروج
ان نشانیوں میں سے اہم ترین علامت سفیانی کا خروج ہے۔ روایات کے مطابق سفیانی ابو سفیان کی نسل سے ایک شخص ہے جو شام سے خروج کرے گا اور بڑی تعداد میں مسلمانوں کو قتل کر ڈالے گا۔ [۸] اسی طرح وہ کوفہ و نجف میں شیعوں کو قتل کرے گا اور شیعوں کی مخبری کرنے والے اور ان کو قتل کرنے والے کو انعامات سے نوازے گا۔ روایات کے مطابق سفیانی آٹھ ()۸ مہینے حکومت کرے گا جبکہ بعض میں نو (۹) مہینے کا تذکرہ بھی وارد ہوا ہے۔ علامہ مجلسی نے احتمال دیا ہے کہ اس اختلاف کی بنیادی وجہ تقیہ یا بداء ہے۔[۹] بعض علماء کا کہنا ہے کہ سفیانی کسی ایک فرد کا نام نہیں ہے؛ بلکہ ہر وہ شخص جو اعلانیہ طور پر امام مہدی ؑ کے خلاف خروج کرے وہ سفیانی ہے اور جو اخلاف و اعمال میں ابو سفیان سے مشابہ ہو۔ [۱۰] بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ سفیانی ایک فرد نہیں دو افراد ہیں: ۱۔ ایک زوراء کے علاقے میں قیام کرے گا جوکہ بعض احادیث کے مطابق بغداد کا علاقہ بنتا ہے اور اسی جگہ قتل کر دیا جائے گا، ۲۔ دوسرا شام میں خروج کرے گا۔[۱۱]
←← زمین کا دھنس جانا
روایات کے مطابق مکہ میں بیداء کے مقام میں سفیانی کا لشکر زمین میں دھنس جائے گا جوکہ حتمی علامات میں سے ہے۔ [۱۲]
←← نفس زکیہ کا قتل ہونا
معتبر روايات میں نفسِ زکیہ کے قتل ہونے کو حتمی علامات میں سے قرار دیا گیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نفس زکیہ کون ہے؟ وارد ہوا ہے کہ نفسِ زکیہ ایک پاک و پاکیزہ سید ہے جس کو مکہ مکرمہ میں رکن و مقام کے درمیان شہید کر دیا جائے گا۔ نفس زکیہ کا قتل ہونا حتمی علامات میں سے ہے۔[۱۳][۱۴] ایک روایت کے مطابق نفسِ زکیہ کی شہادت کے پندرہ دن بعد امام زمان ؑ ظہور فرمائیں گے۔ [۱۵] بعض جگہ وارد ہوا ہے کہ نفسِ زکیہ امام زمان ؑ کے سفیر ہوں گے اور ان کی طرف سے مکہ کے لوگوں کی طرف سفیر بنا کر بھیجے جائیں گے۔[۱۶] کچھ روایات میں وارد ہوا ہے کہ وہ امام حسن مجتبی ؑ کی نسل سے ہوں گے اور کچھ روایات میں مطابق وہ امام حسین ؑ کی نسل سے ہوں گے۔ جب سفیانی مدینہ کی طرف خروج کرے گا اور لوگوں میں اتحاد و یگانگت پیدا کرے گا تاکہ لشکرِ سفیانی مدینہ پہنچ سکے تو نفس زکیہ مکہ جائیں گے اور لوگوں کو دعوتِ ہدایت دیں گے جس کے نتیجے میں ذی الحج کے مہینے میں مراسمِ حج کے بعد بیت اللہ اور حرمِ امن میں لوگوں کی نگاہوں کے سامنے انہیں قتل کر دیا جائے گا۔[۱۷]
←← یمانی کا آنا
یمانی کا آنا حتمی علامات میں سے ہے۔ یمانی ایک مومن شخص ہے جس کا تعلق یمن سے ہے اور یہی سے وہ خروج کریں گے۔ روایات کے مطابق جس سال اور مہینے میں سفیانی خروج کرے گا اسی سال، مہینے اور اسی دن یمانی کا بھی خروج ہو گا۔ [۱۸] یمانی حق کا پرچم بلند کرے گا اور لوگوں کو صراطِ مستقیم کی طرف بلائے گا اور روایات میں یمانی کی حمایت کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ [۱۹]
← دجال
بعض روایات کے مطابق دجال کا خروج بھی ظہور کی علامات میں سے ہے جبکہ بعض کے مطابق اسے قیامت کی نشانیوں میں سے قرار دیا گیا ہے۔ جس طرح امام مہدی ؑ کا ظہور قیامت کی نشانیوں میں سے ہے اسی طرح قیامت کی دیگر علامات میں سے ایک دجال کا خروج ہے۔[۲۰][۲۱] البتہ دجال کے موضوع پر وارد ہونے والی اکثر روایات ضعیف ہیں یا اہل سنت طریق سے وارد ہوئی ہیں۔ اس لیے بعض محققین نے دجال کے وجود پر شک کا اظہار کیا ہے۔ اہل سنت طریق سے کثیر روایات دجال کے بارے میں وارد ہوئی ہیں جوکہ رسول اللہ ؐ سے منقول ہیں۔ ان میں سے بعض روایات بالاتفاق جعلی اور گھڑی ہوئی ہیں جن پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ [۲۲]
لغت میں دجال کا مطلب فریب کار، دھوکہ باز انسان کے ہیں جو حق کو اختیار نہیں کرتا اور معاشرے میں باطل کی ترویج کرتا ہے۔ [۲۳] ظاہرِ روایات کے مطابق دجال ایک ظالم جابر سنگ دل انسان ہے جو لوگوں کو دھوکہ و فریب دیتا ہے اور معاشرے میں برائیاں پھیلاتا ہے۔ ظہور کے وقت دجال بہت سے لوگوں کو فریب دے کر حق سے دور کر دے گا۔ بعض محققین قائل ہیں کہ دجال ایک شخص نہیں ہے بلکہ روایات میں جس کا تذکرہ آیا ہے اس کے مطابق ہزاروں دجال ہیں جن میں دجالی صفات پائی جاتی ہیں۔ جب امامؑ کا ظہور ہو گا تو تقریبا ستر (۷۰) دجال خروج کریں گے۔ البتہ اکثر و بیشتر روایات جن میں دجال کا ذکر آیا ہے ضعیف اور غیر معتبر روایات ہیں۔ [۲۴][۲۵] بعض معاصر علماء معتقد ہیں کہ دجال دنیا بھر میں کفر اور مادی ثقافت کے تسلط سے کنایہ ہے جس کا مطلب ہے کہ دنیا بھر میں فکری، سیاسی اور اقتصادی انحراف پھیل جائے اور دنیا شیطانی تسلط کے مکمل کنٹرول میں آ جائے۔[۲۶]
← غیر حتمی نشانیاں
بعض علامات غیر حتمی ہیں جن کا واقع ہونا ممکن بھی ہے اور ہو سکتا ہے وہ برپا نہ ہوں۔ روایات میں غیر حتمی علامات کی طویل فہرست وارد ہوئی ہے جن میں سے بعض درج ذیل ہیں: یاجوج و ماجوج کا آنا، ماہِ رمضان میں سورج گرہن اور چاند گرہن کا لگنا،[۲۷] آسمان میں آگ کا ظاہر ہونا، [۲۸] شام میں بڑے زلزلے کا آنا،[۲۹] دنیا بھر کا جنگ کی لپیٹ میں آنا اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد کا قتل ہونا [۳۰] قم میں وسیع پیمانے میں علم و دانش پھیل جائے گا یہاں تک وہ علم کا خزانہ اور معدن بن جائے گا،[۳۱] ظلم و فساد کا پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لینا۔ [۳۲]
علامات ظہور کے ظاہر ہونے کے فوائد
[ترمیم]
ظہورِ امام مہدیؑ کی شرائط اور علامات میں فرق ہے۔ اگر شرائط مہیا نہ ہوں تو ظہور نہیں ہو گا جبکہ علامات کے بغیر ظہور ہو سکتا ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ علاماتِ ظہور کا اصلًا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ اگر اس کا کوئی فائدہ نہ ہوتا تو روایات میں اس کا اس قدر طویل تذکرہ وارد نہ ہوتا۔ اگر سرسری طور پر دیکھا جائے تو درج ذیل فوائد ہمارے سامنے اجاگر ہوتے ہیں:
۱۔ یہ علامات اور نشانیاں امام زمانؑ کی عظمت و جلالت اور بلند و بزرگ اہداف کو بیان کرنے کے لیے اللہ تعالی نے قرار دیئے ہیں۔ ایک ذات کے آنے سے پہلے پوری کائنات میں اس کے لیے آمادگی اور تیاری اس ذات کی عظمت کو بیان کرتی ہے۔
۲. ان علامات کے ذریعے دشمنانِ اسلام کے دلوں پر رعب و دبدبہ اور وحشت طاری ہو جائے گی۔
۳. امام زمانؑ کے ماننے والوں کے لیے یہ علامات بشارت کا بیغام بن جائیں گے اور ان کے دلوں کی قوت کا باعث بنے گی جس کی وجہ سے وہ بآسانی اپنے آپ کو امام زمانؑ تک پہنچانے کی کوشش کریں گے۔
نوٹ یہ نیٹ سے لیا ہے
علامات ظہور امام مہدی علیہ السلام
ظہور کی کچھ علامات مخصوص انداز میں اور مخصوص لوگوں میں خاص اشارے کے ساتھ کرسٹلائز ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر بہت سی احادیث میں مذکور ہے کہ امام زمان علیہ السلام کا ظہور طاق سال اور طاق دن میں ہوگا۔ دجال اور سفیانی نامی لوگوں کا خروج اور یمانی اور سید خراسانی جیسے نیک لوگوں کے قیام کو خاص نشانیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
روایات میں امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کی مختلف نشانیاں بیان کی گئی ہیں جو ظہور کی علامات کے نام سے مشہور ہیں۔ اس مقالے میں ان علامات کو تفصیل کے ساتھ بیان کریں گے۔
امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کی عام علامات:
وہ علامات جن میں عمومی خصوصیات ہوتی ہیں، یعنی وہ کسی خاص مظہر کی شکل میں، ایک خاص وقت اور مخصوص لوگوں میں نہیں ہوتیں، انہیں "عمومی علامات" کہتے ہیں۔ جیسے کہ وہ احادیث اور روایات جو آخر زمانہ کے لوگوں کے حالات کے بارے میں بتاتی ہیں اور اس دور میں رونما ہونے والے انحرافات کے بارے میں بتاتی ہیں جو دراصل امام کے ظہور کی علامات ہیں۔
ابن عباس کہتے ہیں کہ معراج کی رات نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ سلم پر یہ باتیں نازل ہوئیں کہ آپ حضرت علی علیہ السلام کو حکم دیں اور اپنے بعد کے ائمہ کے بارے میں انہیں آگاہ کریں۔ جو اس کے بچوں میں سے ہیں؛ ان میں سے آخری نشانیاں ہیں۔ یہ بھی کہ عیسیٰ بن مریم ان کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔ وہ زمین کو عدل سے بھردے گا جس طرح وہ ظلم سے بھری ہوئی ہوگی... میں نے کہا: اے اللہ! یہ کب ہو گا خدا نے مجھ پر وحی کی: جب علم دور ہو جائے اور جہالت ظاہر ہو جائے۔ قرآن کی تلاوت زیادہ ہوگی لیکن عمل کم ہوگا۔ قتل و غارت بڑھے گی، حقیقی فقہا اور رہنما کم ہوں گے۔ آپ کی امت کو چاہیے کہ وہ نیکی کا حکم دے اور برائی سے روکے۔ ( اثباة الهداة، ج ۷، ص ۳۹۰)
امام علی علیہ السلام نے دجال اور اس کے نکلنے اور امام زمانہ علیہ السلام کے ظہور کی نشانیوں کے بارے میں "صعصعہ بن صوحان" کے سوال کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ : دجال کے نکلنے اور خروج کی نشانی یہ ہے کہ لوگ نماز پڑھنا چھوڑ دیں گے۔ امانتوں میں خیانت کریں گے؛ جھوٹ کو حلال سمجھیں گے۔ سود کھانا رشوت لینا عام ہوگا؛ مضبوط عمارتیں بنائیں گے اور دنیا کیلئے دین کو بیچیں گے؛ ایک دوسرے کے ساتھ قطع تعلقی کریں گے؛ قتل اور خون کو عام سمجھا جائے گا۔ (بحارالانوار، ج ۵۲، ص ۱۹۳)
امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے خاص علامات:
ظہور کی کچھ علامات مخصوص انداز میں اور مخصوص لوگوں میں خاص اشارے کے ساتھ کرسٹلائز ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر بہت سی احادیث میں مذکور ہے کہ امام زمان علیہ السلام کا ظہور طاق سال اور طاق دن میں ہوگا۔ دجال اور سفیانی نامی لوگوں کا خروج اور یمانی اور سید خراسانی جیسے نیک لوگوں کے قیام کو خاص نشانیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ احادیث میں ان کے ناموں اور رسم و رواج کے ساتھ اور ان کی خاص خصوصیات بھی ذکر کی گئی ہیں۔
امام باقر علیہ السلام نے فرمایا : خراسان سے سیاہ جھنڈے نکلیں گے اور کوفہ کی طرف بڑھیں گے۔ چنانچہ جب مہدی کا ظہور ہوتا ہے تو وہ اسے بیعت کی دعوت دیں گے۔( بحارالانوار، ج ۵۲، ص ۲۱۷)
نیز امام باقر علیہ السلام نے فرمایا: ہمارے مہدی کے لیے دو نشانیاں ہیں جو اللہ تعالیٰ کے آسمان و زمین کی تخلیق کے بعد سے نظر نہیں آئیں: ایک رمضان المبارک کی پہلی رات کا چاند گرہن اور دوسرا اسی مہینے کے درمیان میں سورج گرہن کا ہونا۔ جب سے خدا نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اس طرح کا کوئی واقعہ رونما نہیں ہوا ہے۔ (منتخب الاثر، ص ۴۴۴)
امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کےحتمی علامات:
وہ علامات جو یقیناً امام مہدی علیہ السلام کے ظہور سے پہلے واقع ہوں گی۔ جن کے رونما ہونے میں کوئی شرط شامل نہیں کی گئی ہے۔ ان نشانیوں کے ظاہر ہونے سے پہلے جو بھی ظہور کا دعوی کرے گا وہ جھوٹا ہوگا۔
امام سجاد علیہ السلام نے فرمایا: قائم کا ظہور خدا کی طرف سے یقینی ہے اور سفیانی کا خروج بھی خدا کی طرف سے یقینی ہے اور سفیانی کے بغیرکوئی قائم نہیں ہے۔ اسی طرح امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: یمانی کا قیام ظہور کے حتمی علامات میں سے ہے۔ (بحارالانوار، ج ۵۲، ص ۸۲)
فضل بن شازان ابو حمزہ ثمالی سے روایت کرتے ہیں: میں نے امام باقر علیہ السلام سے پوچھا: کیا سفیانی کا خروج یقینی ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، آسمانی ندا بھی حتمی نشانیوں میں سے ہے اور سورج کا مغرب سے طلوع ہونا بھی یقینی ہے۔ حکومت کے حوالے سے بنی عباس کا اختلاف یقینی ہے۔ نفس ذکیہ کا قتل بھی یقینی ہے۔ قائم آل محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا قیام بھی یقینی ہے۔( الارشاد، شیخ مفید، ج ۳، ص ۳۴۷)
مندرجہ بالا روایات کے مطابق سفیانی کا خروج، یمانی کا قیام، ندائے آسمانی، سورج کا مغرب سے طلوع ہونا اور نفس ذکیہ کا قتل ظہور امام مہدی علیہ السلام کے حتمی علامات میں سے ہیں۔
امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے قریب رونما ہونے والے علامات:
بعض احادیث میں آیا ہے کہ امام زمان علیہ السلام کے ظہور کے سال بعض علامات ظاہر ہوں گی۔ یعنی ظہور سے پہلے اور حضرت مہدی علیہ السلام کے ظہور کے موقع پر یہ نشانیاں یکے بعد دیگرے ظاہر ہوں گی، اس دوران امام زمانہ علیہ السلام کا ظہور ہوگا۔
امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: تین لوگوں کا خروج: قیام خراسانی، سفیانی اور یمانی ، ایک سال، ایک مہینے اور ایک دن میں ہوگا، اور اس دوران کوئی بھی حق و ہدایت کی طرف اتنا نہیں بلائے گا جتنا کہ یمانی۔ (کتاب غیبت نعمانی، ص ۲۵۲)
امام باقر علیہ السلام نے فرمایا: مہدی علیہ السلام کے ظہور اور نفس ذکیہ کے قتل کے درمیان پندرہ راتوں سے زیادہ کا فاصلہ نہیں ہے۔( ارشاد مفید، ج ۲، ص ۳۷۴؛ اعلام الوری، ص ۴۲۷)
ان روایات کے مطابق امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے قریب رونما ہونے والی علامات میں سے خراسانی، سفیانی اور یمانی کا قیام اور نفس ذکیہ کا قتل ہے۔
امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے قدرتی اور زمینی علامات:
ظہور امام مہدی علیہ السلام کی علامات میں سے زیادہ تر قدرتی اور زمینی علامات ہیں اور ان میں سے ہر ایک حضرت مہدی علیہ السلام کے ظہور اور قیامت کے صحیح ہونے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
امام علی علیہ السلام نے فرمایا: میرے خاندان کا ایک آدمی ارض مقدس میں قیام کرے گا جس کی خبر سفیانی تک پہنچ جائے گی۔ وہ اپنے سپاہیوں کا ایک لشکر اس سے لڑنے کے لیے بھیجے گا اور ان کو شکست دے گا، پھر خود سفیانی اور اس کے ساتھی اس سے لڑنے کے لیے جائیں گے اور جب وہ بیداء کی سرزمین سے گزر رہے ہوں گے تو زمین انھیں نگل جائے گی، سوائے ایک شخص کے کوئی زندہ نہیں بچے گا اور وہ ایک شخص اس واقعہ کی خبر دوسروں تک پہنچائے گا۔
سفیانی کا بیداء میں زمین کے اندر چلے جانا (خسف بیداء)، یمانی ، خراسانی، سفیانی اور دجال کا خروج کرنا، نفس ذکیہ کا قتل، خونی جنگیں وغیرہ جیسی علامات زمینی اور قدرتی علامات میں سے ہیں۔
امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے آسمانی علامات:
امام زمانہ علیہ السلام کے ظہور کی اہمیت کے پیش نظر زمینی اور قدرتی علامات کے علاوہ کچھ آسمانی نشانیاں بھی امام علیہ السلام کے ظہور کے وقت ظاہر ہوں گی تاکہ لوگ اپنے آسمانی رہنما اور نجات دہندہ کو بہتر طریقے سے پہچان سکیں۔ اور ان کے مشن اور اہداف اور مقاصد کو عملی جامہ پہنانے میں ان کا ساتھ دیں۔
آسمانی پکار:
امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جب بھی کوئی منادی آسمان سے پکارے گا کہ حق آل محمد صلی اللہ علیہ و آلہ سلم کے ساتھ ہے تو سب امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کا ذکر کریں گے اور ہر کوئی ان کی دوستی اور محبت میں گرفتار ہوگا ان کے علاوہ کسی کو یاد نہیں کیا جائے گا۔
سورج گرہن:
امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: مہدی علیہ السلام کے ظہور کی علامات میں سے ایک رمضان کے مقدس مہینے کی 13 یا 14 تاریخ کو سورج گرہن ہے۔( غیبت نعمانی، ص ۲۷۰)
ان احادیث کے مطابق امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کی آسمانی علامات میں ندائے آسمانی یعنی آسمانی پکار اور رمضان المبارک میں سورج گرہن کا واقع ہونا ہے۔
حرف آخر:
اکثر محققین اور مجتہدین کے مطابق ہم جس زمانے میں زندگی گزار رہے ہیں یہ ظہور امام مہدی علیہ السلام کا زمانہ ہے۔ اب تک ظہور کے عام علامات تقریبا مکمل طور پر رونما ہوچکی ہیں جبکہ بعض محققین کا کہنا ہے کہ اس وقت ظہور امام مہدی علیہ السلام کے خاص علامات بھی رونما ہورہی ہیں یا عنقریب رونما ہونے والی ہیں۔ تمام محبین اہل بیت علیہ السلام اور منتظرین امام مہدی علیہ السلام کو چاہئے کہ وہ اپنے اعمال اور کردار کے ذریعے معاشرے میں حقیقی منتظر امام مہدی علیہ السلام ہونے کا ثبوت دیں۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں امام مہدی علیہ السلام کے حقیقی اعوان و انصار میں سے قرار دے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں