پہلی پانچ پی ڈی ایفز امتحان کے سوالات اور ان کے جوابات
نوت کورس ٹو: پہلی کتاب :مہدویت پر بحث کی ضرورت
اور
کورس ون: پہلا درس مہدویت پر بحث کی ضرورت
پہلی پی ڈی ایف: 👈 مہدویت پر بحث کی ضرورت
*معرفت امام زمانہ عج کورس کا پہلا درس*
*امام مہدی عج کہاں ہیں*
*دعائے عہد کی تلاوت*
_استادِ مہدویت آغا علی اصغر سیفی صاحب_
عالمی مرکز مہدویت قم 🚩
🌹بسم اللہ الرحمٰن الرحیم🌹
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ🚩
یا علی علیہ السلام مدد🙏🏻🙏🏻🙏🏻
*معرفت امام زمان عج کا دوسرا درس*
*حدیث من مات*
*دعائے عہد کی تشریح*
*اور عقیدہ امامت کی تکمیل*
*_استاد مہدویت آغا علی اصغر سیفی صاحب💐_*
عالمی مرکز مہدویت قم 🚩
*تیسرا درس : معرفت امام مہدی عج کے مراحل*
*دعائے معرفت کی اہمیت اور تشریح*
_استاد مہدویت آغا علی اصغر سیفی صاحب_
عالمی مرکز مہدویت قم 🚩
چوتھا درس
معرفت امام زمانہ عج کی ضرورت
معاشرتی رو سے
سیاسی رو سے
استادِ مہدویت آغا علی اصغر سیفی صاحب
عالمی مرکز مہدویت قم 🚩
پانچواں درس
معرفت امام زمانہ عج کی ضرورت
تاریخی اور ثقافتی رو سے
استادِ مہدویت آغا علی اصغر سیفی صاحب
عالمی مرکز مہدویت قم 🚩
چھٹا درس
ثقافتی رو سے ضرورت معرفت امام زمان عج
مہدویت میں کونسی چیز کا جاننا ضروری اور کس کا جاننا ضروری نہیں ہے
آیا ظہور کے وقت قتل عام ہوگا؟
ملاقات امام زمان عج اور امام کی شادی اور دیگر موضوعات پر جائزہ
استاد مہدویت آغا علی اصغر سیفی صاحب
عالمی مرکز مہدویت قم 🚩
ساتواں درس :
امام مہدی عج کے دشمنوں سے اگاہی
مغرب کی امام مہدی عج سے دشمنی کی مثالیں
اسلام اور بالخصوص تشیع میں امام زمانہ عج سے دشمنی کی مثالیں
استاد مہدویت آغا علی اصغر سیفی صاحب
عالمی مرکز مہدویت قم 💚
آٹھواں درس: عقیدہ امامت
امام کا معنی اور ضرورت
استاد مہدویت آغا علی اصغر سیفی صاحب
*عالمی مرکز مہدویت قم 💚*
نواں درس: امام کی صفات
علم امام
عصمت امام
حدیث ثقلین کی تشریح
استادِ محترم علامہ آغا علی اصغر سیفی صاحب
عالمی مرکز مہدویت قم 💚
*دسواں درس :*
*امام کی صفات*
*✔️اخلاق حسنہ میں کامل*
*✔️اللہ کی طرف سے منصوب*
✔️ *امام رضا علیہ السلام کا خوبصورت فرمان*
*استادِ محترم علامہ آغا علی اصغر سیفی صاحب*🎤
*عالمی مرکز مہدویت قم 💚*
دوسری ڈی ایف: 👈 امام مہدی عجل اللہ فرجہ الشریف ایک نظر میں میں
دوسری پی ڈی ایف کے مطابق درس
امام مہدی عج پر ایک نگاہ
استاد مہدویت آغا علی اصغر سیفی صاحب
عالمی مرکز مہدویت قم
دوسری پی ڈی ایف کے مطابق درس
امام مہدی عج پر ایک نگاہ
استاد مہدویت آغا علی اصغر سیفی صاحب
عالمی مرکز مہدویت قم
تیسری پی ڈی ایف: 👈 ولادت سے امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت تک
تیسری پی ڈی ایف کے مطابق پہلا درس
استاد مہدویت آغا علی اصغر سیفی صاحب
عالمی مرکز مہدویت قم
تیسر پی ڈی ایف کا دوسرا درس
استاد مہدویت آغا علی اصغر سیفی صاحب
عالمی مرکز مہدویت قم
نوٹ کورس ٹو: چوتھا کتابچہ: " امام مہدی عج شیعہ و سنی احادیث کی رو سے"
نوٹ: کورس ٹو
تیسرا کتابچہ: " امام مہدی عج قرآن کی رو سے
چوتھی پی پی ڈی ایف: 👈 امام مہدی عجل اللہ فرجہ الشریف قرآن و حدیث کی روشنی میں
*چوتھی پی ڈی ایف*
استاد مہدویت آغا علی اصغر سیفی صاحب
عالمی مرکز مہدویت قم
پانچویں پی ڈی اف: امام مہدی علیہ اسلام اہل سنت اور دیگر مزاہب کی نظر میں
*پانچویں پی ڈی اف*
استاد مہدویت آغا علی اصغر سیفی صاحب
عالمی مرکز مہدویت قم
*سوالات امتحان (پہلے پانچ کتابچے)*
👈 *کوئی سے پانچ سوال حل کریں:*
*1:مہدویت کی مباحث کو بیان کرنے کی ضرورت کے مختلف پہلوؤں کو واضح کریں؟*
جواب :
معرفت امام
مہدویت پر بحث کرنے کی ضرورت
“موعود ” یا “مصلح کل” کا موضوع ایک ایسا نظریہ اور خیا ل نہیں ہے کہ جووقت گزرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کے ذہن میں پیدا ہوا ہو اور یہ ایسا موضوع ہو کہ جو انسانیت کے دردوں کی تسکین اور مظلوموں کی دلداری کا ذریعہ ہوبلکہ یہ موضوع شیعیت کی شناخت ہے۔کہ جس کی ضرورت اور اہمیت کو آیات و روایات کی روشنی میں درک کیا جا سکتا ہے۔
زیر نظر تحریر میں، بطور اختصارمہدویت کے موضوع کے مختلف پہلوؤں پر بحث کرنے کی ضرورت کو اجاگر کرنا چاہتے ہیں:
۱۔ اعتقادی پہلو
عقیدہ زندگی کی اصل اساس ہے یعنی انسان میدان عمل میں جو کچھ بھی انجام دیتا ہے اس کی بنیاد اس کے عقائد ہوتے ہیں۔
بنابراین اگر انسان کا عقیدہ صحیح اور مستحکم ہو تو انسان عملی میدان میں لغزش اور شک و شبہ کا شکار نہیں ہوگا۔ وہ اہم ترین چیز ہے کہ جو ایک صحیح عقیدے کو تشکیل دیتی ہے وہ معرفت ہے۔
معرفت حاصل کر کے ہی ہم یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ امام زمانہ علیہ السلام ہی آئمہ ھدیٰ کی امامت کو دوام دینے والی شخصیت ہیں۔ آپ فیض الہٰی کے (بندوں تک پہنچنے کے لئے) واسطہ، خاتم اوصیاءاور مظہر صفات رسول خدا صلی اللہ علیہ و الہ ہیں۔
امام زمانہ علیہ السلام خالق کائنات کی معرفت کا وسیلہ و ذریعہ ہیں جیسا کہ احادیث میں خداوند متعال اور اس کے اوصاف کی معرفت کا ذریعہ اور وسیلہ، اولیائے خدا اور آئمہ ھدٰی علیہم السلام کی شناخت کوقراردیا گیا ہے۔ یہ ہستیاں مظہر اسمائے الہٰی ہیں اور ان ذوات مقدسہ کی صحیح معرفت ہی خدا کی معرفت کا وسیلہ و ذریعہ قرار پاتی ہے۔
شیعہ اور سنی راویوں نے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ سے نقل کیا ہے : ” مَن مَاتَ و َ لَم یَعرِفۡ اِماَمَ زَماَنَہِ ماَتَ مِیتةً جاَھَلیة ” [1]
(جو شخص اس حال میں مرا کہ اپنے زمانے کے امام کی معرفت ( شناخت) نہ رکھتاہو۔ وہ جہالت کی موت مرا)
بعض دعاﺅں میں ہمیں یہ حکم دیا گیا ہے کہ معرفت امام کی توفیق طلب کریں:
“اَلَّھُمَّ عَرِّفۡنِی حُجَّتَکَ فَا نَّکَ اِن لَّم تُعَرِّ فۡنیِ حُجَّتَک ضَلَلۡتُ عَنۡ دِیِنی ” [2]
“خداوندا! اپنی حجت کی معرفت عطا فرماکہ اگر تو نے مجھے اپنی حجت کی معرفت عطا نہ فرمائی تو میں اپنے دین سے گمراہ ہو جاﺅں گا۔”
کیا اتنی(روایات )کی مو جودگی کے باوجود، امام زمانہ علیہ السلامکی شناخت کااہتمام نہیں کرنا چاہیے؟ اور کیا حضرت ولی العصر علیہ السلام کے مقدس وجود کے مختلف پہلو ﺅں کو بہتر طریقے سے نہیں پہچاننا چاہیے؟
امام زمانہ علیہ السلام کی صحیح اور درست شناخت سے کیسے غافل رہ سکتے ہیں جبکہ امام زمانہ علیہ السلام اپنے غیبت کے زمانہ میں بھی سب مخلوقات کو اپنے الہی فیض سے محروم نہیں رکھتے اور ہم سب امام زمانہ علیہ السلام کی امامت کے فیوضات سے بہرہ مند ہوتے ہیں۔
۲۔ معاشرتی پہلو
جب سے انسان نے زمین پر قدم رکھا ہے اس وقت سے ایک سعادت مندمعاشرتی زندگی کی آرزو کر رہا ہے۔ اگر اس خواہش کے برآوردہ ہونے کا امکا ن نہ ہوتاتو ہرگز ایسی خواہش ، آرزو اور امید انسان کی فطرت میں قرار نہ دی جاتی جیسے کہ اگر پانی اور غذا نہ ہوتی تو پیاس اور بھوک بھی نہ ہوتی۔
“مہدویت” ایک ایسی فکر ہے کہ جوبہت سے معاشرتی اثرات رکھتی ہے۔ ان میں سے سب سے اہم اثر، معاشرے کے پیکر سے مایوسی اور نا امیدی کا خاتمہ ہے مہدویت یعنی روشن مستقبل کی امید اور مظلوم اور بے سہارابشریت کے لئے آزادی کا پیغام اور یہ کہ ایک دن ایک مردخدا آئے گا اورلوگ جس چیز کی امید رکھتے ہیں وہ انجام پذیر ہو کر رہے گی۔
ہر مسلمان کا اس چیز پرپختہ یقین ہے کہ جو معاشرتی نظام،اس کی جائز خواہشات و آرزوﺅں کی تکمیل کر سکتا ہے اور جو اس معاشرتی نظام کو حق وعدالت کی بنیا د پر استوار کرسکتا ہے وہ اسلام کاوہ خوبصورت”حکومتی نظام” ہے۔جس کی کامل و مکمل شکل اما م زمانہ علیہ السلام کے ظہور کے وقت تشکیل پائے گی۔اوراس بات پر یقین امید، نشاط اورزندگی کے مساوی ہے۔
یہ فکر اتنی واضح و روشن ہے کہ حتٰی کہ بعض مستشرقین (جیسے جرمن فلسفی ماربین) نے بھی اس کو وضاحت سے بیان کیا ہے کہ”انتہائی اہم معاشرتی مسائل میں سے ایک مسئلہ جو امید (نجات) کا موجب ہو سکتا ہے وہ حضرت حجت ولی العصر علیہ السلام کے وجود پر اعتقاد رکھنا اور ان کے ظہور کا انتظار ہے”۔
بناءبر ایں،مہدی موعود علیہ السلام کے مقدس وجود پرعقیدہ رکھنا، (انسانوں کے) دلوں کے اندر امید کو زندہ کر دیتا ہے ، جو انسان اس “اصل”پرعقیدہ رکھتاہے وہ نا امید (اور مایوس) نہیں ہوتا۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ایک روشن اختتام حتمی ہے۔لہٰذاکوشش کرتاہے کہ خود کو اس (روشن اختتام )تک پہنچائے [3]اور یہی نظریہ اس کی مسلسل حرکت کا سبب بنتا ہے، بلکہ اس سے بڑھ کرروشن اختتام کو حقیقی شکل دینے کی را ہ میں جدوجہد کرتے ہوئے سختیوں و ناخوشگوار حوادث و واقعات کے سامنے شکست تسلیم نہیں کرتا ۔اس کا یہی عمل ” مہدویت” پر اعتقاد کے زیر اثر، بشریت کے لئے حاصل ہونے والا سب سے بڑا معاشرتی تخفہ ہے۔
سیاسی پہلو
عالمی سطح پر تاریخ ہمیشہ مختلف حکومتوں اور نظاموں کی شکست کی شاہد رہی ہے۔ عرصہ دراز تک دو غالب نظریات (کیپٹلزم،مغرب کی لبرل ڈیموکریسی کے نمائندہ کے طور پراور کیمونزم،سوشلزم کے نمائندہ کے طورپر ) نے ایٹمی اور غیر ایٹمی اسلحے کے ذریعے دنیاکےلئے خطرہ بنے رہے اور یہی ان کے نظریات اور نظاموں کی شکست کی واضح ترین دلیل ہے۔
ان نظریات نے عرصہ دراز تک معاصر عالمی سیاسی تفکر کو متاثر کئے رکھا لیکن گذشتہ کچھ عرصے سے ایک شکست سے دوچار ہوا اور دوسرا (نظام یعنی سوشیالزم) شکست کے دہانے پہ ہے،مغربی لبرل ڈیموکریسی کودرپیش چیلنج کا آسانی سے مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ اس ( لبرل ڈیموکریسی) میں اخلاقی ، نفسیاتی، ٹیکنالوجی اور علمی (معرفتی ) بحرانوں کی بہتات اس بات کی علامت ہے کہ یہ شہنشاہیت اور نظام ایک سنگین شکست سے دوچار ہو نے والا ہے۔
ایسے حالا ت میں ناکامیوں،کھوکھلے نعروں اور امن و سلامتی کے سراب دیکھ کر تھکے ماندہ انسانوں کی کیا ذمہ داری بنتی ہے؟
آج کی بشریت عالمی سیاست میں نظر ثانی اور جدت کی پیاسی ہے۔ در حقیقت آج کا انسان شدید تشنگی محسوس کر رہا ہے او راس کو صرف “مدینہ فاضلہ” مہدوی کا نظام و منصوبہ ہی سیراب کر سکتا ہے۔
نظریہ مہدویت ایک عالمی نظریہ ہے اور یہ نظریہ دنیا کو چلانے کا ایک پروگرام اور منصوبہ رکھتا ہے۔بناءبر ایں جو نظام اور پروگرام معاصر بشریت کی ضرورتوں کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے وہ “مہدویت” یہی فکرہے۔ اور مہدویت کے حکومت کے بارے میں بلند ترین اور قیمتی اہداف و مقاصد ہیں، حتٰی کہ یہ فکر مہدویت، دینی حکومت (کے قیام) کے لئے ایک مفید اور قابل عمل منصوبہ بندی قرار پا سکتی ہے۔
اگر (نظریہ) مہدویت صحیح اندازمیں بیان ہوجائے تو دنیا بھر میں اصلاحی تحریکوں میں جان پڑ جائے گی۔ جس طرح کہ انقلاب اسلامی ایران ، حضرت امام مہدی علیہ السلام کے عالمی انقلاب کے لئے مناسب پیش خیمہ اور نقطہ آغاز بن چکا ہے۔
تاریخی پہلو
مہدویت کاسلسلہ امامت اور نبوت کے تسلسل کا نام ہے۔ اس وجہ سے تاریخ کے ایک حساس دور میں اس کا آغاز ہوا ہے۔ اور آج تک جاری و ساری ہے اور مہدویت کا یہ سلسلہ بشریت کی دنیوی زندگی کے اختتام تک باقی رہے گا۔ بناءبر ایں، امام علی علیہ السلامسے لے کر امام ولی عصر علیہ السلام تک (ان آئمہ کی) امامت کی کیفیت کے بارے میں بالعموم اور مہدویت کے بارے میں بالخصوص مسلمانوں کا رد عمل اور نیز اس سے پیش آنے والے تاریخی حوادث، تاریخ اسلام کے اہم اور حساس موضوعات قرار دئیے جا سکتے ہیں۔
مہدویت کے موضوع پر ہمیشہ بحث ہوتی رہی ہے اور شیعہ، سنی رورایات میں ، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و الہ سے حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے بارے میں کثرت سے بشارتیں ذکر ہوئی ہیں۔تاریخ اسلام میں ہمیشہ امام مہدی موعود علیہ السلام کے عقیدے پر جہت سے آثارمرتب ہوئے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ماضی اور حال میں بہت سی اصلاحی تحریکیں، نظریہ مہدویت سے متاثر تھیں( جیسے مصر میں فاطمیوں کی تحریک اور سوڈان میں مہدی سوڈانی کی تحریک ) ، (مہدی) موعود علیہ السلام پر عقیدہ کی بنیاد پر وجود میں آنے والی اصلاحی تحریکوں نے اسلامی معاشرے پر جو عجیب اثرات چھوڑے انہیں دیکھ کر کچھ حیلہ بازوں نے بھی لفظ مہدی کو استعمال کرتے ہوئے اپنے غلط اہداف تکہ پہنچنے کے لئے مہدویت کا دعویٰ کیا اورمسلم معاشروں کے کچھ لوگوں کو اپنے ساتھ ملا لیا ۔
ثقافتی پہلو
ہم مسلمانوں کی (جملہ) ذمہ داریوں میں ایک ذمہ داری یہ بھی ہے کہ مہدویت کے کلچر کو پھیلانے کے لئے زمین ہموار کر کے آنحضرت علیہ السلام کے ظہور میں (مزید) تاخیر کو روکیں۔ مہدویت کے ثقافتی پہلو کے اعتبار سے چند نکا ت پر کام کرنے کی ضرورت ہے:
۱۔ انتظار کی پالیسی کو واضح کرنا
انتظار کی پالیسی کا مطلب ہے وسعت نظر اورامام زمانہ علیہ السلام کے ظہور کے لئے تمام وسائل اور توانائیوں کو کام میں لانا۔ امام کا ظہور فقط اسی وقت ہوگا جب ہم جمود کی حالت سے نکل کر اپنے آپ کو ایک فعال اور متحرک پروگرام کے تحت منظم کرلیں اور اپنے مشن تک پہنچنے کے لئے توانائیاں بروئے کار لائیں اور نظر ہماری مستقبل پر ہونا چاہئے۔
کیونکہ جب تک مستقبل روشن اور واضح نہ ہو اس وقت تک صحیح منصوبہ بندی نہیں کی جا سکتی۔
۲۔ غلط افکار کی پہچان
ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ اپنی کمزوریوں کو پہچانیں اوران کا ازالہ کریں ۔ مثال کے طور پر امام زمانہ علیہ السلام کی بحث میں افراطی رنگ نہ دیں۔ اسی طرح فقط امام کا قہر وغضب کا چہرہ لوگوں کے سامنے نہ رکھیں بلکہ امام کے اسوہ رحمت اور بے پناہ بخشش کو بھی پیش کریں۔ اسی طرح ہمیں ہوشیار رہنا چاہیے کہ انتظار کا مفہوم تحریف کا شکار نہ ہو جائے۔ اور معاشرے میں ظلم وستم کے بڑھنے پر بھی سکوت اختیار نہ کریں کہ غلط افکار معاشرے پر حکم فرما ہوں۔
۳ ۔ دشمن شناسی
اسلام دشمن معاشرے میں مہدویت کی تعلیم کے رشد کو روکنے یا تحریف کرنے کی ہرممکن کوشش کرتے ہیں اوردشمن کوتو ایسا ہی کرنا چاہیے۔ اگر دشمن ایسا نہ کرے تو تعجب کرنا چاہیے۔ چونکہ دشمن کی ماہیت ہی یہی ہے۔پس اہل حق کو کوشش کر نی چاہیے کہ مہدویت کی ابحاث کو صحیح انداز میں پیش کریں تاکہ ہر قسم کی تخریب و تحریف کو روکا جا سکے۔
*2:امام کی ولادت کے مخفی ہونے کی وجہ کو تفصیل سے بیان کریں*
جواب : ولادت کی کیفیت
متعدد روایات میں پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) سے نقل ہوا ہے کہ ”میری نسل سے ”مہدی“ نام کا شخص قیام کرے گا، جو ظلم و ستم کی بنیادوں کو کھوکھلا کر دے گا“۔
بنی عباس کے ظالم و ستمگر بادشاہوں نے ان روایات کو سن کر یہ طے کر لیا تھا کہ امام مہدی علیہ السلام کو ولادت کے موقع پر ہی قتل کر دیا جائے، جس کی بنا پر امام محمد تقی علیہ السلام کے زمانہ سے ائمہ معصومین علیہم السلام پر بہت زیاد سختیاں کی گئیں ور امام حسن عسکری علیہ السلام کے زمانہ میں یہ سختیاں اپنے عروج پر پہنچ گئیں اور اگر امام عسکری علیہ السلام کے بیت الشرف پر کوئی بھی جاتا تھا تو حکومت وقت پر اس کی رفت و آمد مخفی نہیںتھی، ظاہر ہے کہ ایسے ماحول میں آخری حجت خدا کی پیدائش مخفی طریقہ پر ہونا چاہئے تھی، اسی دلیل کی بنا پر یہاں تک کہ امام حسن عسکری علیہ السلام کے نزدیکی افراد بھی امام مہدی علیہ السلام کی ولادت سے بے خبر تھے اور ولادت کے چند گھنٹے پہلے تک بھی آپ کی مادر گرامی جناب نرجس خاتون سلام اﷲ علیہا سے ایسے آثار نہ تھے کہ معلوم ہو سکے کہ آپ حمل سے ہیں۔
امام محمد تقی علیہ السلام کی بیٹی جناب حکیمہ خاتون امام مہدی علیہ السلام کی ولادت کے سلسلہ میںیوں فرماتی ہیں:
”امام حسن عسکری علیہ السلام نے مجھے بلا بھیجا اور فرمایا: اے پھوپھی جان! آج ہمارے یہاں افطار فرمائیے گا! کیونکہ ۵۱ ویں ٍشعبان کی شب ہے اور خداوند عالم اس رات میں اپنی (آخری) حجت زمین پر ظاہر کرنے والا ہے، میں نے سوال کیا: ان کی والدہ کون ہے؟ تو امام علیہ السلام نے فرمایا: نرجس خاتون! میں نے کہا: میں آپ پر قربان! ان میں تو حمل کے کچھ بھی آثار دکھائی نہیں دے رہے ہیں! امام علیہ السلام نے فرمایا: بات وہی ہے جو میں نے کی! اس کے بعد میں نرجس علیہ السلام خاتون کے پاس گئی اور سلام کرکے ان کے پاس بیٹھ گئی، وہ میرے پاس آئی تاکہ میرے جوتوں کو اُتاریں اور مجھ سے کہا: اے میری ملکہ! آپ کا مزاج کیسا ہے؟ میں نے کہا: نہیں آپ میری اور میرے خاندان کی ملکہ ہیں! اُنہوں نے میری بات کو تسلیم نہیں کیا اور کہا: پھوپھی جان! آپ کیا فرماتی ہیں! میں نے کہا: آج کی رات خداوند عالم تم کو ایک بیٹا عنایت فرمائے گا جو دُنیا و آخرت کا سردار ہو گا، چنانچہ وہ یہ سُن کر شرما گئیں۔
حکیمہ خاتون کہتی ہیں: میں نے عشاءکی نماز کے بعد افطار کیا اور اس کے بعد اپنے بستر پر آرام کے لئے لیٹ گئی، آدھی رات کے وقت جب نماز (شب) کےلئے اٹھی اور نماز سے فارغ ہوئی، اس وقت تک نرجس علیہ السلام خاتون آرام سے سوئی ہوئی تھیں، جیسے اُنہیں کوئی مشکل درپیش نہ ہو، میں نماز کی تعقیبات کے بعد پھر لیٹ گئی، اچانک پریشان ہو کر اُٹھی تو نرجس علیہ السلام خاتون اسی طرح سوئی ہوئی تھیں، لیکن وہ کچھ دیر بعد نیند سے بیدار ہوئی اور نماز (شب) پڑھ کر دوبارہ سو گئیں۔
حکیمہ خاتون مزید فرماتی ہیں: میں صحن میں آئی تاکہ دیکھو کہ صبح صادق ہوئی یا نہیں ، میں نے دیکھا کہ فجر اوّل (صبح کاذب) نمودار ہے، اس وقت تک بھی نرجس خاتون سوئی ہوئی تھیں، مجھے شک ہونے لگا! اچانک امام حسن عسکری علیہ السلام نے اپنے بستر سے آواز دی: اے پھوپھی جان! جلدی نہ کریں! ولادت کا مسئلہ نزدیک ہے، میں نے سورہ ”سجدہ“ اور سورہ ”یٰسین“ کی تلاوت کرنا شروع کر دی، اس موقع پر جناب نرجس پریشانی کے عالم میں نیند سے بیدار ہوئیں، میں جلدی سے ان کے پاس گئی اور کہا : ”اسم اللّٰہ علیک“ (آپ سے بلا دور ہو) کا آپ کو کسی چیز کا احساس ہو رہا ہے؟ اُنہوں نے کہا: ہاں پھوپھی جان! میں نے کہا: اپنے اوپر ضبط (اور کنٹرول) رکھیں اور اپنے دل کو مضبوط کر لیں، یہ وہی ہے جس کے بارے میں پہلی کہہ چکی ہوں، اس موقع پر مجھ پر اور نرجس علیہ السلام خاتون پر ضعف طاری ہوا، اس کے بعد میرا سید و سردار (نومولود طفل مبارک) کی آواز بلند ہوئی، میں متوجہ ہوئی اور ان کے اوپر سے چادر ہٹائی چنانچہ انہیں سجدہ کی حالت میں دیکھا، میں نے بڑھ کر انہیں آغوش میں لیا اور انہیں مکمل طور پر پاک و پاکیزہ پایا۔ اس موقع پر حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام نے مجھ سے فرمایا: اے پھوپھی جان! میرے فرزند کو میرے پاس لے آئیے! چنانچہ میں ان کو آپ علیہ السلام کے پاس لے گئی ....اُنہوں نے اپنی آغوش میں لے کر فرمایا: اے میرے فرزند کچھ کہیئے! چنانچہ وہ نوزائیدہ طفیل مبارک یوں محوِ گفتگو ہوا: ”اشہد ان لا الہ الا اللّٰہ وحدہ لا شریک لہ و اشہد ان محمداً رسول اللّٰہ“ اس کے بعد امیر المومنین اور دیگر ائمہ علیہم السلام پر دَرُود و سلام بھیجا، یہاں تک کہ اپنے پدر بزرگوار کا نام لیتے ہیں رک گئے، امام عسکری علیہ السلام نے فرمایا: پھوپھی جان! ان کو ان کی ماں کے پاس لے جائیے، تاکہ ان کو سلام کریں............
حکیمہ خاتون کہتے ہیں: دوسرے روز جب میں امام حسن عسکری علیہ السلام کے یہاں گئی تو میں نے امام علیہ السلام کو سلام کیا، میں نے پردہ اُٹھایا تاکہ اپنے مولا و آقا (امام مہدی علیہ السلام) کو دیکھوں لیکن وہ دکھائی نہ دئے، لہٰذا میں نے ان کے پدر بزرگوار سے سوال کیا: میں آپ پر قربان! کیا میرے مولا و آقا کے لئے کوئی اتفاق پیش آگیا ہے؟ امام علیہ السلام نے فرمایا: اے پھوپھی جان! میں نے ان کو(خدا) کے سپُرد کر دیا ہے جیسے جناب موسیٰ علیہ السلام کی ماں نے جناب موسیٰ علیہ السلام کو سپرد کر دیا تھا۔
حکیمہ خاتون کہتی ہیں: جب ساتواں دن آیا تو میں پھر امام علیہ السلام کے یہاں گئی اور سلام کرکے بیٹھ گئی، امام علیہ السلام نے فرمایا: میرے فرزند کو میرے پاس لائیے، میں اپنے مولا و آقا کو ان کے پاس لے گئی، امام علیہ السلام نے فرمایا: اے میرے لخت جگر! کچھ کلام کیجئے! طفل مبارک نے لب مبارک کھولے اور خداوند عالم کی وحدانیت کی گواہی اور پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) اور اپنے آباءو اجداد پر دَرُود و سلام بھیجنے کے بعد ان آیات کی تلاوت فرمائی:
( بِسمِ اللّٰهِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیمِ وَ نُرِیدُ اَن نَمُنَّ عَلَی الَّذِینَ استضعِفُوا فِی الاَرضِ وَنَجعََلَهُم آئِمَّةً وَنَجعَلَهُمُ الوَارِثِینَ وَ نمَکَّنَ لَهُم فِی الاَرضِ وَ نُرِی فِرعَونَ وَ هَامَانَ وَ جُنودَهُمَا مِنهُم مَا کَانُوا یَحذَرُو نَ ) ( سورہ قصص آیات ۵،۶)
”شروع کرتا ہوں اﷲ کے نام سے جو بڑا رحمان و رحیم ہے، اور ہم یہ چاہتے ہیں کہ جن لوگوں کو زمین میں کمزور کر دیا گیا ہے ان پر احسان کریں اور انہیں لوگوں کا پیشوا بنائیں اور زمین کے وارث قرار دیدیں، اور انہی کو روئے زمین کا اقتدار دیں اور فرعون، ہامان اور ان کے لشکروں کو انہی کمزوروں کے ہاتھوں وہ منظر دکھلائیں جس سے یہ ڈر رہے ہیں“۔
*3:سعد بن عبداللہ کے جواب میں امام عج نے امام کے غیر انتخابی ہونے کی کیا دلیل دی؟*
جواب: سوالوں کے جوابات
آسمان امامت کے آخری روشن ستارے امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ وجہ الشریف) اپنی حیات طیبہ کے آغاز سے مختلف مقامات میں شیعوں کے مختلف سوالات کا مستحکم اور قانع کنندہ جواب دیتے تھے، جن سے شیعوں کے دلوں میں سکون و اطمینان پیدا ہوتا تھا، چنانچہ ہم یہاں پر ایک روایت نمونہ کے طور پر نقل کرتے ہیں:
سعد بن عبد اﷲ قمی (جو شیعوں میں ایک عظیم شخصیت تھے) احمد بن اسحاق قمی (امام حسن عسکری علیہ السلام کے وکیل) کے ہمراہ کچھ سوالات لے کر حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی خدمت میں مشرف ہوئے، موصوف اس ملاقات کو یوں نقل کرتے ہیں: جب میں نے سوال کرنا چاہا تو امام عسکری علیہ ا لسلام نے اپنے فرزند کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: میرے نور چشم سے سوال کرو! اس موقع پر طفل مبارک نے میری طرف رُخ کرکے فرمایا: جو کچھ بھی سوال کرنا چاہو کر لو! .... میں نے سوال کیا: (قرآن کے حروف مقطعات میں سے) ”کھیعص“ کا مقصد کیا ہے؟ فرمایا: یہ حروف غیب کے مسائل میں سے ہیں۔ خداوند عالم نے اپنے بندہ (اور پیغمبر) زکریعلیہ السلام کو ان سے مطلع کیا، اور پھر پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کے لئے دوبارہ سنایا۔ واقعہ یوں ہے کہ حضرت زکریا علیہ السلام نے خداوند عالم سے درخواست کی کہ مجھے پنجتن (آل عبا) کے اسمائے گرامی تعلیم کر دے، تو خداوند عالم نے جناب جبرئیل کو نازل کیا اور ان کو پنجتن کے نام تعلیم دیئے، تو جیسے ہی جناب زکریا نے (ان مقدس اسمائ) محمد (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم)، علی علیہ السلام، فاطمہ سلام اﷲ علیہا، اور حسن علیہ السلام کا نام زبان پر جاری کیا تو ان کی مشکلات دور ہوگئیں اور جب امام حسین علیہ السلام کا نام زبان پر جاری کیا تو ان کاسینہ بھر آیا اور وہ مبہوت ہو کر رہ گئے، ایک روز اُنہوں نے بارگاہ خداوندی میں عرض کی: بارِ الٰہا! جس وقت میں ان چار حضرات کا نام لیتا ہوں تو میری پریشانیاں اور مشکلات دُور ہو جاتی ہیں دل کو سکون ملتا ہے لیکن جب میں حسین علیہ السلام کا نام لیتا ہوں تو میرے آنسو جاری ہو جاتے ہین اور میرے رونے کی آواز بلند ہو جاتی ہے، پالنے والے اس کی وجہ کیا ہے؟ تو خداوند عالم نے ان کو حضرت امام حسین علیہ السلام کا واقعہ سنایا اور فرمایا: ”کھیعص“ (اسی واقعہ کی طرف اشارہ ہے) میں ”کاف“ سے مراد واقعہ کربلا، اور ”ہا“ سے ان کے خاندان کی (شہادت و) موت مراد ہے، اور ”یا“ سے ”یزید“ کے نام کی طرف اشارہ ہے جو امام حسین علیہ السلام پر ظلم و ستم کرنے والا ہے اور ”ع“ سے امام حسین علیہ السلام کی عطش اور پیاس مراد ہے ”اور ”صاد“ سے حضرت امام حسین علیہ السلام کا صبر و استقامت مراد ہے........
میں نے سوال کیا: اے میرا مولا و آقا! لوگوں کو اپنے لئے امام معین کرنے سے کیوں روکا گیا ہے؟امام علیہ السلام نے فرمایا: امام معین کرنے سے تمہاری مراد ”امام مصلح“ ہے یا امام مفسدہے؟ میں نے کہا: امام مصلح (جو معاشرہ کی اصلاح کرنے والا ہوتا ہے)، امام علیہ السلام نے فرمایا: کیونکہ کوئی بھی کسی دوسرے کے باطن سے مطلع نہیں ہے کہ وہ خیر و صلاح کے بارے میں سوچتا ہے یا فساد و برائی کے بارے میں، اس صورت میں کیا یہ احتمال نہیں پایا جاتا کہ لوگوں کا انتخاب کیا ہو امام، مفسد (فتنہ و فساد پھیلانے والا) ہونکلے؟ میں نے کہا: اس بات کا احتمال تو پایا جاتا ہے، تو امام علیہ السلام نے فرمایا: بس یہی وجہ ہے کہ امام مصلح کا انتخاب اللہ کی طرف سے ہے۔ (کمال الدین، ج۲، باب ۳۴، ص ۰۹۱)( اس کلام کی وضاحت کتاب کی پہلی فصل میں ”امام کے خدا کی طرف سے منسوب ہونے“ کے عنوان کے تحت بیان ہو چکی ہے)
قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس روایت کے آخر میں امام زمانہ (عجل اﷲ فرجہ الشریف) نے دوسری وجوہات بھی بیان کی ہیں اور دوسرے سوالات کے جواب بھی عنایت فرمائے ہیں، ہم نے اختصار کی وجہ سے مکمل روایت بیان نہیں کی ہے۔
سعد بن عبد اﷲ قمی (جو شیعوں میں ایک عظیم شخصیت تھے) احمد بن اسحاق قمی (امام حسن عسکری علیہ السلام کے وکیل) کے ہمراہ کچھ سوالات لے کر حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی خدمت میں مشرف ہوئے، موصوف اس ملاقات کو یوں نقل کرتے ہیں: جب میں نے سوال کرنا چاہا تو امام عسکری علیہ ا لسلام نے اپنے فرزند کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: میرے نور چشم سے سوال کرو! اس موقع پر طفل مبارک نے میری طرف رُخ کرکے فرمایا: جو کچھ بھی سوال کرنا چاہو کر لو! .... میں نے سوال کیا: (قرآن کے حروف مقطعات میں سے) ”کھیعص“ کا مقصد کیا ہے؟ فرمایا: یہ حروف غیب کے مسائل میں سے ہیں۔ خداوند عالم نے اپنے بندہ (اور پیغمبر) زکریعلیہ السلام کو ان سے مطلع کیا، اور پھر پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کے لئے دوبارہ سنایا۔ واقعہ یوں ہے کہ حضرت زکریا علیہ السلام نے خداوند عالم سے درخواست کی کہ مجھے پنجتن (آل عبا) کے اسمائے گرامی تعلیم کر دے، تو خداوند عالم نے جناب جبرئیل کو نازل کیا اور ان کو پنجتن کے نام تعلیم دیئے، تو جیسے ہی جناب زکریا نے (ان مقدس اسمائ) محمد (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم)، علی علیہ السلام، فاطمہ سلام اﷲ علیہا، اور حسن علیہ السلام کا نام زبان پر جاری کیا تو ان کی مشکلات دور ہوگئیں اور جب امام حسین علیہ السلام کا نام زبان پر جاری کیا تو ان کاسینہ بھر آیا اور وہ مبہوت ہو کر رہ گئے، ایک روز اُنہوں نے بارگاہ خداوندی میں عرض کی: بارِ الٰہا! جس وقت میں ان چار حضرات کا نام لیتا ہوں تو میری پریشانیاں اور مشکلات دُور ہو جاتی ہیں دل کو سکون ملتا ہے لیکن جب میں حسین علیہ السلام کا نام لیتا ہوں تو میرے آنسو جاری ہو جاتے ہین اور میرے رونے کی آواز بلند ہو جاتی ہے، پالنے والے اس کی وجہ کیا ہے؟ تو خداوند عالم نے ان کو حضرت امام حسین علیہ السلام کا واقعہ سنایا اور فرمایا: ”کھیعص“ (اسی واقعہ کی طرف اشارہ ہے) میں ”کاف“ سے مراد واقعہ کربلا، اور ”ہا“ سے ان کے خاندان کی (شہادت و) موت مراد ہے، اور ”یا“ سے ”یزید“ کے نام کی طرف اشارہ ہے جو امام حسین علیہ السلام پر ظلم و ستم کرنے والا ہے اور ”ع“ سے امام حسین علیہ السلام کی عطش اور پیاس مراد ہے ”اور ”صاد“ سے حضرت امام حسین علیہ السلام کا صبر و استقامت مراد ہے........
میں نے سوال کیا: اے میرا مولا و آقا! لوگوں کو اپنے لئے امام معین کرنے سے کیوں روکا گیا ہے؟امام علیہ السلام نے فرمایا: امام معین کرنے سے تمہاری مراد ”امام مصلح“ ہے یا امام مفسدہے؟ میں نے کہا: امام مصلح (جو معاشرہ کی اصلاح کرنے والا ہوتا ہے)، امام علیہ السلام نے فرمایا: کیونکہ کوئی بھی کسی دوسرے کے باطن سے مطلع نہیں ہے کہ وہ خیر و صلاح کے بارے میں سوچتا ہے یا فساد و برائی کے بارے میں، اس صورت میں کیا یہ احتمال نہیں پایا جاتا کہ لوگوں کا انتخاب کیا ہو امام، مفسد (فتنہ و فساد پھیلانے والا) ہونکلے؟ میں نے کہا: اس بات کا احتمال تو پایا جاتا ہے، تو امام علیہ السلام نے فرمایا: بس یہی وجہ ہے کہ امام مصلح کا انتخاب اللہ کی طرف سے ہے۔ (کمال الدین، ج۲، باب ۳۴، ص ۰۹۱)( اس کلام کی وضاحت کتاب کی پہلی فصل میں ”امام کے خدا کی طرف سے منسوب ہونے“ کے عنوان کے تحت بیان ہو چکی ہے)
قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس روایت کے آخر میں امام زمانہ (عجل اﷲ فرجہ الشریف) نے دوسری وجوہات بھی بیان کی ہیں اور دوسرے سوالات کے جواب بھی عنایت فرمائے ہیں، ہم نے اختصار کی وجہ سے مکمل روایت بیان نہیں کی ہے۔
*4:امام عسکری ع نے ابو الادیان کو اپنے بعد امام کی پہچان کی تین نشانیاں بیان کی انکی وضاحت کریں؟*
جواب
پدر بزرگوار کی نماز جنازہ
امام مہدی علیہ السلام کی غیبت سے پہلے اور مخفی رہنے کے زمانہ کا آخری حصہ اپنے پدربزرگوار کی نماز جنازہ پڑھانا ہے۔
اس سلسلہ میں ابو الاَدیان (امام حسن عسکری علیہ السلام کے خادم) کا کہنا ہے:
”حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام نے اپنی عمر بابرکت کے آخری دنوں میں مجھے کچھ خطوط دیئے اور فرمایا: ان کو مدائن شہر میں پہنچا دو، تم ۵۱/دن کے بعد سامرہ واپس پلٹو گے، اور میرے گھر سے نالہ و شیون کی آواز سنو گے اور (میرے بدن کو) غسل کے تخت پر دیکھو گے، میں نے عرض کی: اے میرے مولا و آقا! جب یہ اتفاق پیش آئے گا تو آپ کے بعد آپ کا جانشین اور امام کون ہو گا؟ امام علیہ السلام نے فرمایا: جو بھی تم سے خطوط کے جواب طلب کرے وہی میرے بعد امام ہو گا۔ میں نے عرض کی: اس کی کوئی دوسری نشانی بیان فرمائیں!۔ امام علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص بھی میری نماز جنازہ پڑھائے وہی میرے بعد امام ہو گا۔ میں نے عرض کی: کچھ اور نشانی بیان فرمائیں۔ امام علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص یہ بتا دے کہ اس تھیلی میں کیا ہے؟ (لیکن) امام علیہ السلام کی ہیبت ایسی طاری تھی کہ میں یہ سوال نہ کر سکا کہ اس تھیلی میں کیا ہے۔
میں ان خطوط کو لے کر مدائن گیا اور ان کا جواب لے کر واپس آیا اور جیسا کہ امام علیہ السلام نے فرمایا تھا ۵۱ دن بعدمیں سامرہ پہنچا، دیکھا کہ امام عسکری علیہ السلام کے بیت الشرف سے نالہ و شیون اور گریہ و زاری کی آوازیں بلند ہیں، اور امام عسکری علیہ السلام (کے بدن مبارک) کو غسل کی جگہ پر پایا اور دیکھا کہ امام حسن عسکری علیہ السلام کے بھائی جعفر دروازہ پر کھڑے ہیں اور بعض شیعہ اس کو بھائی کے انتقال پر تسلیت اور اس کی امامت پر مبارک کہہ رہے ہیں۔ میں نے اپنے دل میں کہا: اگر یہ (جعفر) امام ہو گئے تو امامت کا سلسلہ تباہ و برباد ہو جائے گا، کیونکہ میں اس کو پہچانتا تھا وہ شرابی اور جواری انسان تھا، (لیکن چونکہ میں نشانیوں کی تلاش میں تھا) میں بھی آگے بڑھا اور دوسروں کی طرح تسلیت اور مبارک عرض کی، لیکن اس نے مجھ سے کسی بھی چیز (منجملہ خطوں کے جوابات) کے بارے میںسوال نہ کیا، اس موقع پر ”عقید“ (امام کے گھر کا خادم) باہر آیا اور اس نے (جعفر کو خطاب) کرتے ہوئے کہا: اے میرے مولا و آقا! آپ کے برادر گرامی (امام عسکری علیہ السلام) کو کفن دیا جا چکا ہے، چلئے نماز جنازہ پڑھا دیجئے۔ میں بھی جعفر اور دوسرے شیعوں کے ساتھ میں امام کے بیت الشرف میں وارد ہوا، میں نے دیکھا کہ امام حسن عسکری علیہ السلام کو کفن دے کر تابوت میں رکھا جا چکا ہے، جعفر آگے بڑھے تاکہ اپنے بھائی کے جنازہ پر نماز پڑھائیں، لیکن جیسے ہی تکبیر کہنا چاہتے تھے ایک گندم گوں رنگ، گھنگریالے بال اور چمکدار اور باہم پیوستہ دانت والا ایک طفل مبارک آگے بڑھا اور جعفر کا دامن پکڑ کر فرمایا: اے چچا! آپ پیچھے ہٹیں، میں اپنے باپ کے جنازہ پر نماز پڑھنے کا زیادہ حق رکھتا ہوں۔ چنانچہ جعفر جن کے چہرہ کا رنگ بدل گیا اور وہ شرمندہ ہو کر پیچھے ہٹ گئے اور وہ طفل مبارک آگے بڑھے اور اُنہوں نے امام علیہ السلام کے جنازہ پر نماز پڑھی۔ اس کے بعد مجھ سے فرمایا: تمہارے پاس جو خطوط کے جوابات ہیں وہ ہمیں دے دو! میں نے وہ خطوط ان کو دیئے اور اپنے دل میں کہا: یہ (اس طفل مبارک کی امامت پر) دو نشانیاں مل گئی ہیں او ر صرف تھیلی والا واقعہ باقی رہ گیا ہے، میں جعفر کے پاس گیا اور دیکھا کہ وہ آہیں بھر رہے ہیں۔ کسی ایک شیعہ نے ان سے سوال کیا: یہ طفل مبارک کون ہے؟ جعفر نے کہا: خدا کی قسم میں نے اس کو ابھی تک نہیں دیکھا تھا اور نہ ہی اس کوپہچانتا ہوں۔ ابوالادیان مزید کہتے ہیں: ہم بیٹھے ہوئے تھے کہ کچھ اہل قم آئے اور امام حسن عسکری علیہ السلام کے بارے میں سوال کرنے لگے اور جب ان کو معلوم ہوا کہ امام عسکری علیہ السلام کی شہادت ہو چکی ہے تو کہنے لگے کہ ہم کس کو تسلیت دیں؟ تو لوگوں نے جعفر کی طرف اشارہ کیا۔ اُنہوں نے جعفر کو سلام کیا اور تسلیت و مبارک پیش کی، اور پھر اُنہوں نے جعفر کو خطاب کرکے کہا: ہمارے پاس کچھ خطوط اور کچھ رقم ہے، آپ صرف یہ بتا دیجئے کہ خطوط کس کے ہیں اور رقم کتنی ہے؟ جعفر ناراض ہو کر اپنی جگہ سے اُٹھے اور کہا: کیا ہم علم غیب جانتے ہیں؟ اس موقع پر امام مہدی علیہ السلام کا خادم باہر نکلا اور اس نے کہا: یہ خطوط فلاں فلاں شخص کے ہیں (اور ان کے نام و پتے بیان کئے) اور تمہارے پاس ایک تھیلی ہے جس میں ہزار دینار ہیں جس میں سے دس دینار کی تصویر مٹ چکی ہے۔ چنانچہ ان لوگوں نے وہ خطوط اور وہ رقم اس کو دی اور کہا: جس نے تمہیں یہ چیزیں لینے کے لیے بھیجا ہے وہی امام ہے....“ ( کمال الدین، ج ۲، ح ۵۲، ص ۳۲۲)
ة....ة....ة....ة....ة
*5:سورہ ھود کی آیت : بقیۃ الله خیر لکم۔۔۔کےذیل میں روایات کی روشنی میں اسکا معنی بیان کریں؟*
جواب
سورہ ھود آیت ۶۸ میں ارشاد ہوا ہے:
﴾بَقِیَّةُ اللّٰہِ خَیرلَکُم اِن کُن تُم مُو مِنِی نَ....﴿
”اﷲ کا ذخیرہ تمہارے حق میں بہت بہتر ہے اگر تم صاحب ایمان ہو....“۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا:”جس وقت امام مہدی (عج اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) ظہور فرمائیں گے، خانہ کعبہ کی دیوار کا سہارا لیں گے اور سب سے پہلے اسی آیت کی تلاوت فرمائیں گے اور اس کے بعد فرمائیں گے: ﴾اَنَا بَقِیَّةُ اللّٰہِ فِی اَر ضِہ وَ خَلِیَفَتُہُ وَ حُجَّتُہُ عَلَی کُم۔﴿ ”میں زمین پر ”بقیة اﷲ، اس کا جانشین اور تم پر اس کی حجت ہوں، پس جو شخص بھی آپ کو سلام کرے گا تو اس طرح کہے گا: ﴾اَلسَّلَامُ عَلَی کَ یَا بَقِیَّةَ اللّٰہِ فِی اَر ضِہِ﴿ ( کمال الدین ، ج ۱، باب ۲۳، ح ۶۱، ص ۳۰۲) اور سورہ حدید آیت ۷۱ میں ارشاد ہوتا ہے:﴾اعلَمُو ا اَنَّ اللّٰہَ یُحِی ال اَر ضَ بَع دَ مَو تِہَا قَد بَیَّنَّا لَکُم الآیَاتِ لَعَلَّکُم تَع قِلُو نَ۔﴿
”یاد رکھو کہ خدا مردہ زمینوں کو زندہ کرنے والا ہے اور ہم نے تمام نشانیوں کو واضح کرکے بیان کر دیا ہے تاکہ تم عقل سے کام لے سکو“۔
حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:
”مراد یہ ہے کہ خداوند عالم زمین کو حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے وقت ان کی عدالت کے ذریعہ زندہ فرمائے گا جو گمراہ حکام کے ظلم و ستم کی وجہ سے مردہ ہو چکی ہو گی“۔
(غیبت نعمانی، ص ۲۳)
﴾بَقِیَّةُ اللّٰہِ خَیرلَکُم اِن کُن تُم مُو مِنِی نَ....﴿
”اﷲ کا ذخیرہ تمہارے حق میں بہت بہتر ہے اگر تم صاحب ایمان ہو....“۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا:”جس وقت امام مہدی (عج اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) ظہور فرمائیں گے، خانہ کعبہ کی دیوار کا سہارا لیں گے اور سب سے پہلے اسی آیت کی تلاوت فرمائیں گے اور اس کے بعد فرمائیں گے: ﴾اَنَا بَقِیَّةُ اللّٰہِ فِی اَر ضِہ وَ خَلِیَفَتُہُ وَ حُجَّتُہُ عَلَی کُم۔﴿ ”میں زمین پر ”بقیة اﷲ، اس کا جانشین اور تم پر اس کی حجت ہوں، پس جو شخص بھی آپ کو سلام کرے گا تو اس طرح کہے گا: ﴾اَلسَّلَامُ عَلَی کَ یَا بَقِیَّةَ اللّٰہِ فِی اَر ضِہِ﴿ ( کمال الدین ، ج ۱، باب ۲۳، ح ۶۱، ص ۳۰۲) اور سورہ حدید آیت ۷۱ میں ارشاد ہوتا ہے:﴾اعلَمُو ا اَنَّ اللّٰہَ یُحِی ال اَر ضَ بَع دَ مَو تِہَا قَد بَیَّنَّا لَکُم الآیَاتِ لَعَلَّکُم تَع قِلُو نَ۔﴿
”یاد رکھو کہ خدا مردہ زمینوں کو زندہ کرنے والا ہے اور ہم نے تمام نشانیوں کو واضح کرکے بیان کر دیا ہے تاکہ تم عقل سے کام لے سکو“۔
حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:
”مراد یہ ہے کہ خداوند عالم زمین کو حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے وقت ان کی عدالت کے ذریعہ زندہ فرمائے گا جو گمراہ حکام کے ظلم و ستم کی وجہ سے مردہ ہو چکی ہو گی“۔
(غیبت نعمانی، ص ۲۳)
*6:مہدویت پر کتابیں لکھنے والے دو علماء اہل سنت کا نام لکھیں*
امام مہدی علیہ السلام کے بارے میں اہل سنت کے نظریات سے آگاہی۔
خوشتر آن باشد کہ سرّ دلبران گفتہ آید در حدیث دیگران
”صداقت وہ ہے جس کا اقرار دشمن کرے“۔
امام مہدی علیہ السلام کے عظیم الشان قیام اور عالمی انقلاب کا موضوع نہ صرف شیعہ کتب میں بیان ہوا ہے بلکہ دوسرے اسلامی فرقوں کی اعتقادی کتابوں میں بھی بیان ہوا ہے اور آپ (علیہ السلام) کے سلسلہ میں تفصیلی طور پر گفتگو ہوئی ہے وہ لوگ بھی آل پیغمبر (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) اور حضرت فاطمہ زہرا سلام اﷲ علیہا ( المستدرک علی الصحیحین، ج ۴، ص۷۵) کی نسل سے مہدی کے ظہور کے قائل ہیں۔ امام مہدی علیہ السلام کے حوالے سے اہل سنت کے عقیدہ کی شناخت کے لئے بزرگ علمائے اہل سنت کی کتابون کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ متعدد سنی مفسرین نے اپنی تفاسیر میں اس بات کی وضاحت کی ہے کہ قرآن مجید کی متعدد آیات آخری زمانہ میں حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کی طرف اشارہ کرتی ہیں، جیسے فخر الدین رازی ( التفسیر الکبیر، ج ۶۱، ص ۰۴) اور علامہ قرطبی۔
(التفسیر القرطبی، ج ۸، ص ۱۲۱)
اسی طرح اکثر اہل سنت کے محدثین نے امام مہدی (عج) کے سلسلہ میںبیان ہونے والی احادیث کو اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے جن میں اہل سنت کی معتبر کتابیں بھی شامل ہیںجیسے ”صحاح ستہ“ ( اہل سنت کی چھ صحیح کتابوں کو ”صحاح ستہ“ کہا جاتا ہے جو تمام احادیث کی کتابیں ہیں اور اہل سنت کے نزدیک معتبر اور موثق ترین کتابوں میں شمار ہوتی ہیں، جن کے نام اس طرح ہیں ”صحیح بخاری، صحیح مسلم، سنن ابوداﺅد، سنن نسائی اور جامع ترمذی“ اور ان کتابوں میں نقل ہونے والی احادیث کو ”صحیح“ اور پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کا کلام مانا جاتاہے اور اہل سنت کے نزدیک قرآن کریم کے بعد سب سے معتبر انہیں کتابوں کو مانا جاتا ہے۔) اور مسند احمد بن حنبل (حنبلی فرقہ کے بانی)(گذشتہ اور عصر حاضر کے) بعض دیگر علمائے اہل سنت نے امام مہدی علیہ السلام کے بارے میں مستقل کتابیں بھی لکھیں ہیں جیسے ابو نعیم اصفہانی نے ”مجموعہ الاربعین (چالیس حدیث)، اور سیوطی نے کتاب ”العرف الوردی فی اخبار المہدی علیہ السلام“۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ بعض علمائے اہل سنت نے عقیدہ مہدویت کے دفاع اور اس عقیدہ کے منکرین کی رَد میں بھی کتابیں اور مقالات تحریر کئیے ہیں اور علمی بیانات اور احادیث کی روشنی میں امام مہدی علیہ السلام کے واقعہ کو یقینی اور غیر قابل انکار مسائل میں شمار کیا ہے جیسے ”محمد صدیق مغربی“ کہ جنہوں نے ”ابن خلدون“ کی رد میں ایک کتاب لکھی اور اس کی باتوں کا دندان شکن جواب دیا ہے (”ابن خلدون“ جنہیں اہل سنت میں معاشرتی علوم کا عظیم دانشور کہا جاتا ہے اُنہوں نے حضرت امام مہدی علیہ السلام کے بارے میں بعض روایات پر اعتراض کیاہے اور ان کو ضعیف قرار دیا ہے جبکہ حضرت امام مہدی علیہ السلام سے متعلق بعض روایات کو صحیح بھی مانا ہے لیکن پھر بھی اُنہوں نے مہدویت کے مسئلہ میں شک و تردید کا اظہار کیا ہے ”محمد صدیق مغربی“ نے اپنی کتاب ”اِبرازُ الوہم المَکُنُو ±ن میں کلام ابن خلدون“ میں ان کی باتوں کو رَد کیا ہے۔) یہ اہل سنت کی امام مہدی علیہ السلام کے حوالے سے عقیدہ کی مثالیں تھیں۔
قارئین کرام! ہم یہاں حضرت امام مہدی علیہ السلام کے سلسلہ میں اہل سنت سے نقل ہونے والی سینکڑوں احادیث میں سے دو نقل کرتے ہیں کہ جو ان کی مشہور اور قابل اعتماد کتابوں میں سے لی گئی ہیں:۔
پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا:”اگر دُنیا (کی عمر) کا صرف ایک دن بھی باقی رہ گیا ہو تو بے شک خداوند عالم اس دن کو اتنا طویل فرما دے گا کہ میری نسل سے میرا ہم نام ایک شخص قیام کرے گا“۔ ( سنن ابوداﺅد، ج ۲، ح ۲۸۲۴، ص ۶۰۱)
نیز آنحضرت (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا:”میری نسل سے ایک شخص قیام کرے گا جس کا نام اور سیرت مجھ سے مشابہ ہو گی، وہ (دُنیا کو) عدل و انصاف سے بھر دے گا جیسا کہ وہ ظلم و ستم سے بھری ہو گی“۔ ( معجم الکبیر، ج ۰۱، ح ۹۲۲، ص ۳۸)
قابل ذکر ہے کہ آخر الزمان میں منجی بشریت اور دُنیا میں عدل و انصاف قائم کرنے والے کے ظہور کا عقیدہ ایک عالمی اور سب کے نزدیک مقبول عقیدہ ہے اور سچے آسمانی ادیان کے سب ماننے والے اپنی اپنی کتابوں کی تعلیمات کی بنیاد پر اس قائم کے منتظر ہیں، کتاب مقدس زبور، توریت اور انجیل نیز ہندو ¿ں، آتش پرستوں اور براہمن کی کتابوں میں بھی منجی بشریت کے ظہور کی طرف اشارہ ہے البتہ ہر قوم و ملت نے اس کو الگ الگ لقب سے یاد کیاہے، آتش پرستوں نے اس کو ”سوشیانس“ (یعنی دُنیا کو نجات دینے والے)، عیسائیوں نے اس ”مسیح موعود“ اور یہودیوں نے اس کو ”سرور میکائلی“ کے نام سے یاد کیا ہے۔
آتش پرستوں کی مقدس کتاب ”جاما سب نامہ“ کی تحریر کچھ اس طرح ہے:
”عرب کا پیغمبر آخری پیغمبر ہوگا جو مکہ کے پہاڑوں کے درمیان پیدا ہو گا ........ اپنے غلاموں کے ساتھ متواضع اور غلاموں کی طرح نشست و برخاست کرے گا........ اس کا دین سب ادیان سے بہتر ہو گا ، اس کی کتاب تمام کتابوں کو باطل کرنے والی ہو گی .... اس پیغمبر کی بیٹی (جس کا نام خورشید جہاں اور شاہ زمان نام ہوگا) کی نسل سے خدا کے حکم سے اس دُنیا میں ایک ایسا بادشاہ ہو گا جو اس پیغمبر کا آخری جانشین ہو گا، جس کی حکومت قیامت سے متصل ہو گی“۔ ( ادیان و مہدویت، ص ۱۲)
ة....ة....ة....ة....ة
🚩 والسلام علیکم ورحمۃ اللہ.
التماس دعا ظہور وفلسطین 🤲🏻🙏😭 💔
اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم
🚩زیر سرپرستی امام زمانہ عج 🙏🏻🏕️
شہر بانو ✍
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں