Exam Book 9
---
### 1. **ملاقات کی مثبت اور منفی جہت**
**سوال نمبر 1**: امام زمانہؑ کی غیبت میں ملاقات کی مثبت اور منفی جہتیں کیا ہیں؟
امام زمانہؑ کی غیبت کا دور اس بات کا متقاضی ہے کہ ہم ان کی غیبت میں بھی ان سے براہ راست یا غیر براہ راست ملاقات کا تصور کریں۔ اس میں دو اہم جہتیں ہیں:
- **مثبت جہتیں**:
1. **دلوں کی تقویت**: امامؑ کی زیارت یا ملاقات کا اثر روحانی طور پر بہت گہرا ہوتا ہے۔ جب لوگ امامؑ سے ملاقات کے دعوے کرتے ہیں یا ان کے مشاہدے کی بات کرتے ہیں، تو ان کے دلوں میں یقین اور روحانیت کی تقویت آتی ہے۔
2. **خودسازی کا محرک**: امامؑ کی ملاقات انسان کو اپنی اصلاح اور تکمیل کی طرف راغب کرتی ہے۔ انسان کی روحانی ترقی کے لئے امامؑ کی رہنمائی اہمیت رکھتی ہے۔
- **منفی جہتیں**:
1. **جھوٹے دعوے**: بعض افراد امامؑ سے ملاقات کا جھوٹا دعویٰ کرتے ہیں، جس سے لوگوں کے ایمان میں تذبذب پیدا ہو سکتا ہے۔
2. **خرافات کا پھیلاؤ**: اس قسم کے جھوٹے دعوے اس بات کا باعث بن سکتے ہیں کہ غیر مستند معلومات اور خرافات لوگوں کے درمیان پھیل جائیں، جو دین کے صحیح مفاہیم کو نقصان پہنچاتی ہیں۔
---
### 2. **ملاقات کی اقسام**
**سوال نمبر 2**: امام زمانہؑ کی ملاقات کی اقسام کیا ہیں؟
امام زمانہؑ سے ملاقات کی مختلف اقسام ہیں جنہیں ہم تین بڑے زاویوں سے دیکھ سکتے ہیں:
1. **زمانے کے اعتبار سے ملاقات**:
- **امام حسن عسگریؑ کا دور**: امام زمانہؑ کی غیبت سے پہلے ان کا جسمانی طور پر لوگوں سے ملنا اور ان سے رہنمائی لینا۔
- **غیبت صغریٰ کا دور**: امامؑ کی غیبت کا یہ ابتدائی دور تھا جس میں چار نائبان خاص (سفیر) امامؑ کے پیغامات اور ہدایات لوگوں تک پہنچاتے تھے۔
- **غیبت کبریٰ کا دور**: اس دور میں امامؑ کی ملاقات اور براہ راست رابطہ مکمل طور پر منقطع ہو چکا ہے۔ اس دور میں فقط انسانوں کا ایمان، دعا اور عقیدہ امامؑ سے تعلق رکھتا ہے۔
2. **حالت کے اعتبار سے ملاقات**:
- **خواب میں ملاقات**: بعض افراد امامؑ کو خواب میں دیکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ خواب میں ملاقات کی حقیقت کو سمجھنا ضروری ہے کیونکہ یہ ایک روحانی اور نفسیاتی حالت ہوتی ہے جو مخصوص افراد کے ساتھ پیش آ سکتی ہے۔
- **مکاشفہ کی حالت**: یہ وہ حالت ہوتی ہے جب کسی شخص کو امامؑ کا دیدار ایک روحانی طور پر اور بصیرت کی حالت میں ہوتا ہے۔ یہ ایک گہری روحانی سطح پر ہوتا ہے، جہاں انسان امامؑ کی رہنمائی اور ہدایات حاصل کرتا ہے۔
3. **شناخت اور معرفت کے اعتبار سے ملاقات**:
- **ملاقات کے دوران شناخت نہ ہونا**: بعض اوقات امامؑ سے ملاقات ہوتی ہے لیکن شخص انہیں پہچان نہیں پاتا۔
- **ملاقات کے دوران تدریجاً امامؑ کی معرفت کا حاصل ہونا**: بعض افراد امامؑ سے ملاقات کے دوران یا بعد میں تدریجاً امامؑ کی ہستی اور ان کی رہنمائی کی حقیقت کو سمجھتے ہیں۔
- **ابتداء سے ہی امامؑ کی شناخت**: کچھ خاص افراد، جیسے معصومین یا منتخب افراد، امامؑ کو پہلی ہی ملاقات میں پہچان لیتے ہیں۔
---
### 3. **اجماع تشرفی**
**سوال نمبر 3**: اجماع تشرفی کیا ہے اور اس کی اہمیت کیا ہے؟
**اجماع تشرفی** ایک ایسی صورت ہے جس میں مختلف علماء یا فقیہان امامؑ سے ملاقات کے بعد ان سے فقہی مسائل پر سوالات کرتے ہیں اور جوابات حاصل کرتے ہیں۔ ان جوابات کو وہ اپنی علمی تحقیقات میں شامل کرتے ہیں، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ امامؑ کی جانب سے دی گئی ہر بات قطیعتاً دوسروں کے لیے حجت بن جائے۔
اجماع تشرفی کی اہمیت اس بات میں ہے کہ امامؑ کی رہنمائی میں علمی سطح پر سوالات کا جواب دیا جاتا ہے، لیکن اس کے باوجود امامؑ کی جانب سے آنے والے جوابات کو قرآن و سنت کی روشنی میں دیکھنا ضروری ہوتا ہے تاکہ وہ درست ہوں۔
---
### 4. **ملاقات کو قبول نہ کرنے کی دلیل اور اس کا جواب**
**سوال نمبر 4**: امام زمانہؑ کی ملاقات کو نہ ماننے والے افراد کی دلیل کیا ہے اور اس کا جواب کیا ہے؟
امام زمانہؑ کی غیبت میں ملاقات کو قبول نہ کرنے والے بعض افراد اس بات کا دعویٰ کرتے ہیں کہ امامؑ کی ظاہری ملاقات اس وقت تک ممکن نہیں جب تک آسمانی نداء یا سفیانی کا خروج نہ ہو جائے۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ امامؑ کی ظاہری ملاقات کا دعویٰ کرنا شرعاً غلط ہے کیونکہ امامؑ کا ظہور مخصوص علامات کے بعد ہو گا۔
- **جواب**:
امامؑ نے اس سلسلے میں فرمایا کہ "جو کوئی ندائے آسمانی سے پہلے اور سفیانی کے خروج سے قبل میرے مشاہدے کا دعویٰ کرے، وہ جھوٹا ہے"۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امامؑ کی ظاہری ملاقات کا دعویٰ کرنا کسی خاص سیاق و سباق کے بغیر بے بنیاد ہے۔ تاہم، امامؑ سے ملاقات کو دیگر طریقوں سے سمجھا جا سکتا ہے جیسے کہ خواب یا مکاشفہ میں۔
---
### 5. **مشاہدہ کا معنی**
**سوال نمبر 5**: "مشاہدہ" کا کیا معنی ہے اور امامؑ نے اس لفظ کا کس طرح استعمال کیا ہے؟
"مشاہدہ" کا لفظ عام طور پر کسی چیز کو دیکھنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، مگر امامؑ نے اس کا مطلب خاص طور پر کسی شخص کے دعوے سے لیا ہے۔ اگر کوئی شخص امامؑ سے ملاقات کا دعویٰ کرے اور اس ملاقات کو کسی غیر معقول طور پر اہمیت دے، تو امامؑ نے اس کو جھوٹا قرار دیا ہے۔
امامؑ کا مقصد یہ تھا کہ جو شخص امامؑ کے ظہور سے پہلے یا ان کی غیبت کے دوران ان سے ملاقات کا دعویٰ کرے، وہ نہ صرف غیبت کے اصولوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے بلکہ حقیقت کو بھی مسخ کر رہا ہے۔ اس لیے امامؑ کی "ملاقات" کی حقیقت کو سمجھنا ضروری ہے اور اس میں کسی بھی قسم کے دعوے سے بچنا چاہیے۔
---
**خلاصہ**:
ملاقات کی مختلف اقسام اور اس کے اصول سمجھنا ضروری ہے تاکہ ہم امام زمانہؑ کے ظہور اور غیبت کی حقیقت کو بہتر طریقے سے سمجھ سکیں۔ غیبت کے دوران امامؑ سے ملاقات کا امکان روحانی اور علمی سطح پر موجود ہے، لیکن اس سے متعلق جھوٹے دعووں سے بچنا ضروری ہے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں