دوسری چار پی ڈی ایفز امتحان کے سوالات اور ان کے جوابات
🌷 *🌹بسم اللہ الرحمٰن الرحیم🌹
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ🚩
یا علی علیہ السلام مدد🙏🏻🙏🏻🙏🏻*
*کورس* ون
*امتحان دوسری چار پی ڈی ایفز*
🤲🏻اللّٰھم عجل الولیک لفرج،
پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین،
📢 *سوالات امتحان*
👈 *کوئی سے پانچ سوال حل کریں*
سوال نمبر1: *غیبت کا مفہوم اور غیبت کے کوئی دو سبب بیان کریں*
جواب غیبت کا مفہوم
غیبت کا مفہوم ”آنکھوں سے مخفی ہونا“ ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ امام زمانہ علیہ السلام لوگوں کی نظروں سے مخفی ہیں اور ان کو پہچانا نہیں جا سکتا حالانکہ وہ لوگوں کے درمیان موجود ہوتے ہیں۔ امام کی یہ غیبت عوام سے ان کی حفاظت کے لیے اور ان کے زمانے کے خاص حالات کے پیش نظر ہوتی ہے۔
غیبت کے اسباب
- **امام کی جان کی حفاظت:**
امام مہدی علیہ السلام کی غیبت کا ایک اہم سبب ان کی جان کی حفاظت ہے۔ ان کی زندگی کو درپیش خطرات کی وجہ سے غیبت ضروری ہو جاتی ہے تاکہ وہ اپنے فرائض کو بغیر کسی رکاوٹ کے انجام دے سکیں۔
- **لوگوں کی آزمائش:**
غیبت کا ایک دوسرا سبب لوگوں کی آزمائش ہے۔ خداوند عالم لوگوں کو مختلف طریقوں سے آزماتا ہے تاکہ ان کے ایمان کی مضبوطی اور دینی استقامت کی جانچ ہو سکے۔
- **امام پر کسی اور کی بیعت کا نہ ہونا:**
امام کی غیبت کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ وہ کسی ظالم حکمران یا ستمگر قوت کے ساتھ کوئی سیاسی یا اجتماعی معاہدہ نہیں کر سکتے۔ اس طرح ان کی غیبت لوگوں کو اس بات کی یاد دہانی کراتی ہے کہ وہ کسی بھی غیر عادلانہ طاقت کے ساتھ وابستہ نہیں ہیں۔
سوال نمبر2: *زمانہ غیبت میں امام عصر عج کی سورج کے ساتھ تشبیہ کی وجوھات بیان کریں*
جواب: *زمانہ غیبت میں امام عصر عج کی سورج کے ساتھ تشبیہ کی وجوھات*
علامہ مجلسی(رہ) اپنی معروف کتاب "بحار الانوار الجامعة لدُرر اخبار الائمة الاطهار" میں جناب جابر کے ذریعہ، رسول اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے ایک روایت نقل کرتے ہیں :
عَنْ جَابِرٍ الْأَنْصَارِيِ أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ (ص) هَلْ يَنْتَفِعُ الشِّيعَةُ بِالْقَائِمِ (ع) فِي غَيْبَتِهِ فَقَالَ (ص) إِي وَ الَّذِي بَعَثَنِي بِالنُّبُوَّةِ إِنَّهُمْ لَيَنْتَفِعُونَ بِهِ وَ يَسْتَضِيئُونَ بِنُورِ وَلَايَتِهِ فِي غَيْبَتِهِ كَانْتِفَاعِ النَّاسِ بِالشَّمْسِ وَ إِنْ جَلَّلَهَا السَّحَابُ.
جابر الانصاری سے نقل ہوا ہے کہ انہوں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے سوال کیا : کیا شیعہ (امام) قائم (عج) سے انکی غیبت کے دوران فائدہ حاصل کرسکیں گے؟ آنحضرت(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا: اْس ذات کی قسم کی جسنے مجھے مبعوث کیا ،ہاں شیعہ ان(قائم) سے فائدہ حاصل کریں گے اور انکی غیبت میں انکی ولایت کے نور سے منّور ہوں گے،جس طرح سے لوگ بادل کے پیچھے چھپے ہوئے سورج سے فائدہ حاصل کرتے ہیں۔(۱)
اسی طرح کی کئی اور روایات ہیں کہ جس میں ائمہ (علیہ السلام) سے یہی سوال ہوا اور انہوں نے اسی تشبیہ کے ساتھ جواب دیا (۲)حتی کہ جب خود امام زمانہ (عج) سے سوال ہوا تو آپ نے خود کو اس سورج سے تشبیہ دی جو بادلوں کے پیچھے چھپا ہوتا ہے۔
علامہ مجلسی(رہ) فرماتے ہیں کہ امام زمانہ (عج)سے اس طرح کی تشبیہ دینے کی چند وجہیں ہیں(۳)،ان وجوہات کو مختصرطور پر قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے:
پہلی وجہ: یہ کہ وجود کا نور،علم و ھدایت سب حجت خدا کے ذریعہ مخلوقات خدا تک پہنچتے ہیں،کیونکہ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان ذوات مقدسہ (علیہم السلام) کی برکت سے اس عالم کو وجود عطا ہوا ہے اور اگر یہ انوار مقدسہ (علیہم السلام) نہ ہوتے تو لوگوں تک علوم اور معارف نہ پہنچتے۔ اگر یہ (ع) نہ ہوتے تو لوگ اپنے گناہوں کے باعث طرح طرح کی پریشانیوں اور عذاب میں مبتلا رہتے۔ جیسا کہ خداوند عالم نے اپنے حبیب سے فرمایا [وَ ما كانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَ أَنْتَ فِيهِمْ] ’’اللہ ان پر عذاب نازل نہیں کرے گا جب تک آپ انکے درمیان ہیں‘‘ (۴)
دوسری وجہ: جس طرح سے بادلوں کے پیچھے چھپے ہوئے سورج سے لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں اور ہر آن منتظر رہتے ہیں کہ کب بادل ہٹیں اور سورج نظر آئے تاکہ زیادہ سے زیاد ہ فائدہ اٹھایا جا سکے، اسی طرح سے شیعہ دورانِ غیبت ہر وقت منتظر رہتے ہیں کہ کب غیبت ختم ہو اور امام (عج) کا ظہور ہو اور وہ کبھی مایوس نہیں ہوتے۔
تیسری وجہ: اتنے زیادہ آثار اور علامات کے باوجود،وہ لوگ جو آنحضرت کے وجودِ با برکت کا انکار کرتے ہیں ، وہ انکی مانند ہیں کہ جو سورج کے چھپ جانے پر اسکا انکار کرتے ہیں۔
چوتھی وجہ:بعض اوقات سورج کا بادلوں کے پیچھے چلا جانا، لوگوں کے لئیے فائدہ مند ہوتا ہے اور اس میں کوئی نہ کوئی مصلحت ہوتی ہے اسی طرح امام زمانہ (عج) کی غیبت کے دوران حضرت (عج) کا ہماری نظروں سے غائب رہنا ،اس میں بھی لوگوں کے لئیے کچھ فائدے اور مصلحت ہے۔
پانچویں وجہ:لوگ اس بات کی طاقت نہیں رکھتے کہ سورج کو براہ راست دیکھ سکیں اور اگر کوشش کریں تو ہوسکتا ہے انکی آنکھیں چوندھیا جائیں یا اندھے ہو جائیں لیکن یہ ممکن ہے کہ بادلوں کے پیچھے سے سورج کو دیکھا جائے اور نقصان نہ ہو۔اسی طرح اگر بٖغیر تیاری کے،وجودِ مقدس امامِ زمانہ(عج) کا دیدار ہو جائے تو ممکن ہے لوگ گمراہ ہوجائیں اور امام (عج) کو نہ پہچان سکیں ،اور نقصان دہ ثابت ہو۔
چھٹی وجہ: جس طرح بادلوں کے پیچھے سے یکا یک سورج نمودار ہو جاتا ہے اور کچھ اس بات سے با خبر ہوتے ہیں اور کچھ غافل رہتے ہیں ،اسی طرح غیبت کے ایام میں امام عالی مقام (عج) بھی کچھ کو اپنے دیدار کرواتے ہیں اور کچھ انکو دیکھ کر بھی متوجہ نہیں ہوتے۔
ساتویں وجہ:اصولا اہلبیت (علیہم السلام) بھی فائدہ پہونچانے کے لحاظ سے سورج کی مانند ہیں ، بس جو دل کے اندھے ہیں انہیں اس بات کا ادراک نہیں ہوتا۔خدا بھی اسی بات کی طرف اشارہ فرما رہا ہے[مَنْ كانَ فِي هذِهِ أَعْمى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْمى وَ أَضَلُّ سَبِيلًا]’’ اور جو اسی دنیا میں اندھا ہے وہ قیامت میں بھی اندھا اور بھٹکا ہوا رہے گا ‘‘(۵)
سورج کا نور تو سب کے لئیے برابر ہے اگر کوئی خود کو سورج کے نور سے چھپالے تو یہ اسکی بد قسمتی اسی طرح اہلبیت (علیہم السلام) کی تعلیمات عام ہیں جو چاہے حاصل کرے۔
آٹھویں وجہ:جس طرح سے کھڑکیوں اور روشندانوں سے سورج کی شعائیں گھروںمیں داخل ہوتی ہیں اور گھر میں جتنے کم موانع اور رکاوٹیں ہوں گی اتنی ہی زیادہ سورج کی روشنی آئے گی، اسی طرح جو لوگ دنیا سے وابستگی،نفسانی خواہشات کے ذریعہ موانع ایجاد کرلیتے ہیں ان کےاو پر اہلبیت (علیہم السلام) کی ہدایات کا اثر نہیں ہوتا اور جتنا جتنا موانع کم کرتے ہیں اتنا اہلبیت (علیہم السلام) کی تعلیمات سے بہرہ مند ہوتے ہیں۔
سوال نمبر3: *زمانہ غیبت میں شیعہ مکتب کی حفاظت میں حضرت کا کردار بیان کریں*
جواب: زمانہ غیبت میں شیعہ مکتب کی حفاظت میں حضرت کا کردار*
ہر معاشرہ کو اپنے نظام کی حفاظت اور ایک معین مقصد تک پہنچنے کے لئے ایک مدبر رہبر کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ اس کی ہدایت کے مطابق معاشرہ صحیح راستہ پر قدم بڑھائے۔ معاشرہ کے لئے رہبر اور ہادی کا وجود بہت ہی اہم ہے تاکہ معاشرہ ایک بہترین نظام کے تحت اپنی حیثیت کو باقی رکھ سکے اور آئندہ کے پروگرام میں استحکام پیدا ہو سکے اور کمر ہمت باندھ لے۔ زندہ اور بہترین رہبر اگرچہ لوگوں کے درمیان نہ رہے لیکن پھر بھی اعلیٰ مقاصد تک پہنچنے کے لئے پروگرام اور اصول پیش کرنے میں کوتاہی نہیںکرتا اور مختلف طریقوں سے منحرف راہوں سے خبردار کرتا رہتا ہے۔
امام عصر علیہ السلام اگرچہ پردہ غیبت میں ہیں لیکن آپ کا وجود مذہب شیعہ کے تحفظ کے لئے بہترین سبب ہے۔ آپ علیہ السلام مکمل آگاہی کے ساتھ دشمنوں کی سازشوں سے شیعہ عقائد کی مختلف طریقوں سے حفاظت کرتے ہیں اور جب مکار دشمن مختلف چالوں کے ذریعہ مکتب شیعہ کے اصول اور عقائد کو نشانہ بناتا ہے اس وقت امام علیہ السلام منتخب اشخاص اور علماءکی ہدایت و ارشاد کے ذریعہ دشمن کے مقصد کو ناکام بنا دیتے ہیں۔
نمونہ کے طور پر بحرین کے شیعوں کی نسبت حضرت امام مہدی علیہ السلام کی عنایت اور لطف کو علامہ مجلسی علیہ الرحمہ کی زبانی سنتے ہیں:
”گذشتہ زمانوں کی بات ہے کہ میں بحرین میں ایک ناصبی حاکم حکومت کرتا تھا جس کا وزیر وہاں کے شیعوں سے بہت زیادہ شمنی رکھتا تھا۔ ایک روز وزیر بادشاہ کے پاس حاضر ہوا، جس کے ہاتھ میں ایک انار تھا جس پر طبیعی طور یہ جملہ نقش تھا: ﴾لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ، و ابوبکر و عمر و عثمان و علی خلفاءرسول اللّٰہ۔﴿ بادشاہ اس انار کو دیکھ کر تعجب میں پڑ گیا اور اس نے اپنے وزیر سے کہا: یہ تو شیعہ مذہب کے باطل ہونے کی واضح اور آشکار دلیل ہے۔ بحرین کے شیعوں کے بارے میں تمہارا کیا نظریہ ہے؟ وزیر نے جواب دیا: میرے رائے کے مطابق ان کو حاضر کیا جائے اور یہ نشانی ان کو دکھائی جائے، اگر ان لوگوں نے مان لیا تو انہیں اپنا مذہب چھوڑنا ہو گا ورنہ تو تین چیزوں میں سے ایک ضرور ماننا ہو گا، یا تو اطمینان بخش جواب لے کر آئین یا جز یہ (جزیہ، اسلامی حکومت میں غیر مسلم پر اس سالانہ ٹیکس کو کہا جاتا ہے جس کے مقابلے میں وہ اسلامی حکومت کی سہولیات سے بہرہ مند ہوتے ہیں) دیا کریں، یا ان کے مردوں کو قتل کر دیں، ان کے اہل و عیال کو اسیر کر لین اور ان کے مال و دولت کو غنیمت میں لے لیں۔
بادشاہ نے اس کے نظریہ کو قبول کیا اور شیعہ علماءکو اپنے پاس بلا بھیجا اور ان کے سامنے وہ انار پیش کرتے ہوئے کہا: اگر اس سلسلہ میں واضح اور روشن دلیل پیش نہ کر سکے تو تمہیں قتل کر دُوں گا اور تمہارے اہل و عیال کو اسیر کر لوں گا یا تم لوگوں کو جزیہ دینا ہو گا۔ شیعہ علماءنے ا س سے تین دن کی مہلت مانگی، چنانچہ ان حضرات نے بحث و گفتگو کے بعد یہ طے کیا کہ اپنے درمیان سے بحرین کے دس صالح اور پرہیز گار علماءکا انتخاب کیا جائے اور وہ دس افراد اپنے درمیان تین لوگوں کا انتخاب کریں، چنانچہ ان تینوں میں سے ایک عالم سے کہا: آپ آج جنگل و بیابان میں نکل جائیں اور امام زمانہ علیہ السلام سے استغاثہ کریں اور ان سے اس مصیبت سے نجات کا راستہ معلوم کریں کیونکہ وہی ہمارے امام اور ہمارے مالک ہیں۔
چنانچہ اس عالم نے ایسا ہی کیا لیکن امام زمانہ سے ملاقات نہ ہو سکی۔ دوسری رات دوسرے عالم کو بھیجا لیکن ان کو بھی کوئی جواب نہ مل سکا۔ آخری رات تیسرے عالم بزرگوار محمد بن عیسیٰ کو بھیجا چنانچہ وہ بھی جنگل و بیابان کی طرف نکل گئے اور روتے پکارتے ہوئے امام علیہ السلام سے مدد طلب کی، جب رات اپنی آخری منزل پر پہنچی تو اُنہوں نے سنا کہ کوئی شخص ان سے مخاطب ہو کر کہہ رہا ہے: اے محمد بن عیسیٰ! میں تم کو اس حالت میں کیوں دیکھ رہا ہوں، اور تم جنگل و بیابان میں پریشان کیوں پھر رہے ہو؟ محمد بن عیسیٰ نے ان سے کہا کہ ان کو اپنے حال پر چھوڑ دیں۔ اُنہوں نے فرمایا: اے محمد بن عیسیٰ! میں تمہارا صاحب الزمان ہوں، تم اپنی حاجت بیان کرو! محمد بن عیسیٰ نے کہا: اگر آپ ہی صاحب الزماں ہیں تو پھر میری حاجت بھی آپ جانتے ہیں مجھے بتانے کی کیا ضرورت ہے۔ فرمایا: تم صحیح کہتے ہو تم اپنی مصیبت کی وجہ سے یہاں آئے ہو، اُنہوں نے عرض کی: جی ہاں، آپ جانتے ہیں کہ ہم پر کیا مصیبت پڑی ہے، آپ ہی ہمارے امام اور ہماری پناہ گاہ ہیں۔ اس کے بعد امام علیہ السلام نے فرمایا: اے محمد بن عیسیٰ! اس وزیر (لعنة اﷲ علیہ) کے یہاں ایک انار کا درخت ہے جس وقت اس درخت پر انار لگنا شروع ہوئے تو اس نے انار کے مطابق مٹی کا ایک سانچا بنوایاہوا ہے اور اس پر یہ جملے لکھے ہیںاور پھر ایک چھوٹے انار پر اس سانچے کو باندھ دیاجاناہے اور جب وہ انادر بڑا ہو گیا تو وہ جملے اس پر کندہ ہو گئے۔ تم اس بادشاہ کے پاس جانا اور اس سے کہنا کہ میں تمہارا جواب وزیر کے گھر جا کر دُوں گا اور جب تم وزیر کے گھر پہنچ جاﺅ تو وزیر سے پہلے فلاں کمرے میں جانا اور وہاں ایک سفید تھیلا ملے گا جس میں وہ مٹی کا سانچا ہے، اس کو نکال کر بادشاہ کو دکھانا۔ اور دوسری نشانی یہ ہے کہ بادشاہ سے کہنا ہمارا دوسرا معجزہ یہ ہے کہ جب انار کے دو حصے کریں گے تو اس میں مٹی اور دھوئیں کے علاوہ کوئی چیز نہیں ہو گی۔
محمد بن عیسیٰ امام علیہ السلام علیہ کے اس جواب سے بہت خوش ہوئے اور شیعہ علماءکے پاس لوٹ آئے۔ دوسرے روز وہ سب بادشاہ کے پاس پہنچ گئے اور جو کچھ امام علیہ السلام نے فرمایا تھا اس کا بادشاہ کے سامنے پیش کر دیا۔
بحرین کے بادشاہ نے اس معجزہ کو دیکھا تو مذہب شیعہ اختیار کر لیا اور حکم دیا کہ اس مکار وزیر کو قتل کر دیا جائے“۔ ( بحارالانوار ، ج ۲۵، ص ۸۷۱)
اس واقعہ میں مسلمانوں کے درمیان کشت و خون بپا ہونے کا اندیشہ تھا تو اس جگہ امام علیہ السلام نے مظلوموں کی دادرسی کی ہے.
سوال نمبر4: *غیبت کبری میں امام عج سے ملاقات کب ہوتی ہے؟ اور اہم شرط کیا ہے؟*
جواب: *غیبت کبری میں امام عج سے ملاقات کب ہوتی ہے؟ اور اہم شرط*
**عام حالات میں ملاقات:**
اس صورت میں، کچھ خاص افراد جو اپنے مخصوص روحانی مقام کی وجہ سے ممتاز ہوتے ہیں، امام زمانہ علیہ السلام سے ملاقات کر سکتے ہیں۔ ان ملاقاتوں کا اغلب طور پر ظاہری واقعات یا خاص حالات سے تعلق ہوتا ہے جیسے علماء کی ملاقاتیں جو مشہور و معروف ہیں۔
**زمانہ غیبت میں امام زمانہ علیہ السلام سے ملاقات کی اہم شرط کیا ہے؟**
- زمانہ غیبت میں امام زمانہ علیہ السلام سے ملاقات کی اہم شرط امام علیہ السلام کی مصلحت اور اجازت ہے۔ یعنی امام کی رضامندی اور خصوصی مصلحت کے بغیر ملاقات ممکن نہیں ہے۔
نوٹ: سوال نمبر 4 کا یہ جواب بھی ہو سکتا ہے۔
جواب: *غیبت کبری میں امام عج سے ملاقات کب ہوتی ہے؟ اور اہم شرط*
غیبت کبری میں امام عصر (علیہ السلام) سے ملاقات کے سلسلے میں بعض علماء معتقد ہیں کہ نا ممکن ہے اور ان کا یہ اعتقاد ان روایات کی بنیاد پر ہے کہ جن میں ملاقات کی نفی کی گئی ہے ۔
اور ان کا کہنا ہے جب امام زمانہ (علیہ السلام)کے آخری نائب اس دنیا سے رحلت کرتے ہیں تو کہتے ہیں امام (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اے علی بن محمد سمری! اب نواب خاص کا زمانہ ختم ہو گیا ہے اور اب غیبت کبری شروع ہونے جا رہی ہے اور اس غبیت میں اگر کوئی یہ کہے کہ میں نے اپنے امام کو دیکھا ہے، تو سمجھ لینا کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے۔
لہذا اس حدیث کو بہت ہی توجہ سے دیکھنا پڑے گا، امام (علیہ السلام) نے اس میں دو نکتوں کی طرف اشارہ کیا ہے :
ایک یہ کہ ممکن ہے کسی زمانہ میں کوئی یہ دعوی کرے کہ میں نے امام (علیہ السلام) کو دیکھا۔
دوسرا یہ کہ دیدار کا دعوی کرنے والا جھوٹا ہے ۔
اس میں دو کیفیتیں بیان ہو رہی ہیں :ایک ’’دعوی‘‘ دوسرا ’’مشاہدہ‘‘ یعنی کوئی دیدار کا دعوی کرے جھوٹا ہے ۔
مشاہدہ کا معنی امام (علیہ السلام) کو دیکھنا ۔
دعوی کا معنی اس دیدار کا اعلان کرنا ۔
اس بات سے یہ سمجھ میں آرہا ہے کہ ممکن ہے کوئی امام (علیہ السلام) سے ملاقات کرے اور اسے کسی کے سامنے ذکر نہ کرے بلکہ اپنے سینہ میں چھپائے رکھے اور لوگ اس کی رحلت کے بعد سمجھیں کہ یہ شخص امام (علیہ السلام) سے ارتباط میں تھا ۔
ہاں اس قسم کے لوگ حدیث کا مصداق نہیں بن سکتے یعنی نہیں کہا جا سکتا کہ وہ جھوٹے تھے کیونکہ جب انہوں نے اظہار ہی نہیں کیا تو جھوٹ کیسا؟ ۔
اہم نکتے
1۔ امام (علیہ السلام) کا دیدار بغیر معرفت کے
امام (علیہ السلام) لوگوں کے درمیان موجود ہیں اور بالخصوص حج کےموقع پر مکہ اور عرفات میں موجود ہوتے ہیں اور لوگ ان کو دیکھتے بھی ہیں لیکن پہچان نہیں سکتے ہیں کہ یہی ہمارے مولا ہیں، روایت کی کتابیں اس بات کی شھادت دیتی ہیں کہ کتنے ایسے اولیای خدا گزرے ہیں کہ جنہوں نے اپنے امام سے ملاقات کی اور پہچان نہ سکے بلکہ بعد میں متوجہ ہوئے کہ ارے یہ تو میرے امام (علیہ السلام) تھے کیونکہ یہ کام جو انہوں نے کیا ہے یہ تو کوئی عام انسان نہیں کر سکتا ۔
2۔ امام (علیہ السلام)کا دیدار معرفت کے ساتھ
اس طرح کا دیدار بہت سخت ہے اور بہت کم پیش آیا ہے اگر اس قسم کا دیدار ہوا بھی ہے تو خاص اولیای خدا کے لیے ۔
3۔امام (علیہ السلام) کا دیدار بغیر کسی دعوا کے
امام (علیہ السلام) کا دیدار تو ہوا ہے لیکن اس کا اعلان نہیں کیا یعنی یہ نہیں کہا کہ میں وہ ہوں جسے امام (علیہ السلام)نے دیدار کرایا اور یہ یہ کہا ہے،کیونکہ اگر ایسا کہے گا تو یقینا ً جھوٹا ہے ۔
4۔ معنوی ارتباط
امام (علیہ السلام) سے معنوی ارتباط بر قرار رکھنا، البتہ یہ بھی بغیر تقوی، دعا اور ائمہ علیھم السلام سے خصوصی توسل کے حاصل نہیں ہو سکتا اگر یہ صفات کسی انسان کے اندر آجائیں تو وہ اپنے امام علیہ السلام سے معنوی ارتباط برقرار رکھ سکتا ہے ۔
شاید یہی وجہ ہے کہ کہا گیا ہے، زمانہ غیبت میں اپنے امام علیہ السلام کی سلامتی کی دعا کرتے رہیں ۔
ارتباط معنوی اگر امام علیہ السلام سے برقرار ہو جائے اور انسان اپنے ہر عمل پر یہ فکر کرے کہ یہ میرے مولا دیکھ رہیں ہیں اور اپنی ہر مشکل کے لیے امام (علیہ السلام)سے توسل کرے جیسے وہ مشھور حدیث کہ جس میں امام (علیہ السلام) شیخ مفید سے کہتے ہیں کہ ہم تمہاری ہر بات سے آگاہ ہیں، تمہاری کوئی چیز ایسی نہیں کہ جو ہم سے پوشیدہ ہو ۔
ہم نے تمہاری سرپرستی میں کوئی کوتاہی نہیں کی ورنہ ان تک دشمنوں نے تمہیں جڑ سے اُکھاڑ دیتے ۔
انسان کا معنوی ارتباط (امام علیہ السلام سے) سبب بنتا ہے کہ امام (علیہ السلام) لوگوں کے درمیان آئیں اگرچہ لوگ انہیں نہ بھی پہچانیں۔
امیرالمؤمنین علی(علیہ السلام)فرماتے ہیں: خدا کی قسم حجت خدا ان کے درمیان ہیں اور گلی کوچوں سے گزرتے ہیں، ان کے گھروں میں آتے جاتے ہیں، لوگوں کی گفتار کو سنتے ہیں لوگوں کی اجتماع میں جاتے ہیں اور انہیں سلام کرتے ہیں۔
نتیجہ
اس جواب سے یہ بات سمجھ میں آرہی ہے کہ امام علیہ السلام نے جو ملاقات کی نفی کی ہے وہ اس لیے کہ ایسا نہ ہو کہ کسی زمانے میں کوئی بھی بے عمل اٹھ کر یہ دعوا کر دے کہ میں نے یہ جو بات کی ہے یہ مجھے میرے مولا نے کہی ہے یا مجھے امام (علیہ السلام)نے یہ کام کرنے کو کہا ہے تو ایسے لوگوں کی وجہ سے یقیناً امام (علیہ السلام) نے یہ فرمایا ہے اور ہاں اگر کوئی امام (علیہ السلام) سے معنوی ارتباط قائم کرے تو اس کی مشکلات کو یقیناً امام (علیہ السلام) بر طرف کریں گے ۔
نوٹ: سوال نمبر 4 کا یہ جواب بھی ہو سکتا ہے۔
جواب: *غیبت کبری میں امام عج سے ملاقات کب ہوتی ہے؟ اور اہم شرط*
: امام زمانہ سے ملاقات کا دعوی کرنے والوں میں سے بعض افراد لوگوں کے عقائد کا غلط استعمال کرتے ہوئے دین اور اسلامی معاشرے کا نقصان کرتے ہیں اور اس وقت یہ دعوی پیش کرتے ہیں جبکہ وہ اکثر ان پڑھ ہوتے ہیں اور ان کے دعوے کی بھی کوئی مضبوط وجہ نہیں ہوتی۔
"ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ آیا شخصی اور فیزیکلی طور پر نہ کہ خواب و خیال میں غیبت کبریٰ کے دوران امام عصر (ع) سے ملنا ممکن ہے یا نہیں؟ ۔" اس سوال کے جواب کے لئے، آیات اور احادیث کی جانچ پڑتال ضروری ہے۔
مہدویت کی بحثوں کے محقق، امام الزمان علیہ السلام کی عدم موجودگی کے بارے میں کچھ آیات اور روایتوں کا حوالہ دیتے ہوئے جاری رکھتے ہیں: آیات و روایات کے مطابق ، غیبت کے دوران امام عصر (ع) سے ملنا ممکن نہیں ہے ، اور اس سلسلے میں تمام راستے لوگوں کے لئے بند ہیں۔
حضرت بقیات اللہ الاعظم ، امام زمان علیہ السلام سے ملاقات اس وقت ہوتی ہے جب امام خود کسی شخص یا افراد سے ملنا ضروری سمجھیں ، اور بصورت دیگر لوگوں کا امام الزمان علیہ السلام سے ملاقات کرنا کسی بھی وقت اور وہ جگہ جہاں وہ چاہتے ہیں ممکن نہیں ہے اور جو بھی ملنے کا دعوی کرتا ہے وہ جھوٹا ہے۔
اس قسم کی ملاقات خود امام نے بھی کی تھی اور ایسا اس وقت ہوا جب فقیہ کو فقہی یا علمی مسئلے میں کوئی ایسا مسئلہ در پیش ہوا جسکی لوگوں کو ضرورت تھی جسکا کا کوئی حل نہیں تھا۔یہاں، امام زمان فقیہ سے ملتے ہیں اور معاشرے میں کسی مسئلے کو حل کرنے کے لئے اس مسئلے کا حل بتاتے ہیں۔
آیات، احادیث اور نیک لوگوں کی سیرت کے مطابق، امام عصر (ع) سے ملنا ممکن نہیں ہے اس سلسلے میں ملاقات کا دعویٰ غلط ہے اور امام کے ساتھ ملاقات کے دعویداروں کا انہی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے ، ان کا مقابلہ کرنا چاہیئے اور ان سے اس بات کی قطعی وجہ پوچھنا چاہئے کہ وہ یہ دعوی کس دستاویز کے ساتھ کرتے ہیں۔
امام الزمان علیہ السلام کی غیبت کے دوران ان سے ارتباط اور ملاقات ایک بہت پیچیدہ مسئلہ اور ملاقات کے دعووں کو آسانی سے قبول نہیں کیا جاسکتا۔
"شیعہ عقائد کے مطابق ، امام الزمان علیہ السلام کی جسمانی موجودگی اور معاشرے پر ان کے نظم و نسق کا ایک قطعی اعتقاد ہے ، اس لحاظ سے کہ امام العصر (ع) گمنام اور غیر متعارف طور پر معاشرے میں موجود ہیں ، اور لوگ انہیں نہیں پہچانتے ہیں نہ ہی انہیں درک کرتے ہیں۔
روایتوں کے مفہوم کے مطابق غیبت کا مطلب یہ ہے کہ امام معاشرے میں موجود ہیں لیکن نظروں سے غائب ہیں، بیان کیا کہ: امام الزمان علیہ السلام اس طرح مکمل فطری اور معمول کی زندگی گزار رہے ہیں کہ کچھ لوگ انہیں دیکھتے ہیں لیکن وہ نہیں پہچانتےاور وہ توجہ نہیں دیتے ہیں۔
:
اس مسئلے کے مطابق ، امام کے ساتھ تعلقات کو دو طریقوں سے بیان کیا جاسکتا ہے۔ پہلا یہ کہ روحانی اور معنوی تعلق ہو، اس طرح کا ارتباط کسی کے ساتھ بھی برقرار ہوسکتا ہے اور یہ کچھ لوگوں کے لئے مخصوص نہیں ہے ، اور دوسرا آمنے سامنے اور حضوری ارتباط ہے اس معنی میں کہ کوئی شخص امام (ع) کو جسمانی طور پر درک کرے اور ان کے ساتھ بات چیت کرے۔
غیبت کبری کے دوران اصول یہ ہے کہ امام زمان (ع) کے ساتھ کوئی ارتباط اور ملاقات نہیں ہوتی ہے۔اور نظروں سے امام کی غیبت اس وجہ سے ہے کہ وہ معاشرے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کو ایک خاص وقت پر مکمل طور پر پورا کرسکیں۔
آیات شریفہ کے مطابق اللہ کا قطعی وعدہ یہ ہے کہ «وَنُریدُ أَن نَمُنَّ عَلَی الَّذینَ استُضعِفوا فِی الأَرضِ وَنَجعَلَهُم أَئِمَّةً وَنَجعَلَهُمُ الوارِثینَ؛ہم زمین کے مظلومین کو برکت دینا چاہتے ہیں اور انہیں زمین پر قائد اور وارث بنانا چاہتے ہیں!" اور « وَعَدَ اللَّهُ الَّذِینَ آمَنُوا مِنْکُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِی الْأَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِینَ مِنْ قَبْلِهِمْ...؛ خدا نے آپ میں سے ان لوگوں سے جو (خدا اور امام زمان پر)ایمان رکھتے ہیں اور اعمال صالحہ انجام دیتے ہیں وعدہ کیا ہے کہ ، خدا انہیں زمین پر ایسے ہی خلافت دیگا جس طرح گزشتہ پیغمبروں کی صالح امت انکی جانشین ہوئی۔۔۔»دین پیغمبر تمام عالم پر بہ طور کامل محقق ہو کر رہے گا۔
"دنیا کا آئندہ مذہب شیعی اسلام ہے ، اور پوری دنیا میں شیعہ وقار فروغ پائے گا۔ "
امام عصر (ع) کے ذریعہ نبی اکرم (ص) کے مشن کی مکمل تکمیل دنیا میں اس وقت ہوگی جب معاشرتی بنیاد تیار ہوجائے گی اور اگر یہ تیاری حاصل ہوجائے تو۔ امام زمان (ع) کی انسانی حکومت لفظ کے صحیح معنی میں، قائم ہو جائے گی۔
سوال نمبر5: *انتظار کا معنی اور اسکے پہلو بیان کریں*
جواب
انتظارکا معنی و مفہوم
لغت میں انتظار کے معنی امور میں عجلت,کسی کا راستہ دیکھنا, مستقبل سے امید وابستہ رکھنا وغیرہ
لہٰذا ”انتظار“ کے معنی یہ نہیں ہے کہ انسان ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھا رہا، انتظار اسے نہیں کہتے کہ انسان دروازہ پر آنکھیں جمائے رکھے اور حسرت لئے بیٹھا رہے بلکہ درحقیقت ”انتظار‘‘ میں نشاط اور شوق و جذبہ پوشیدہ ہوتا ہے۔
**انتظار کے پہلو:**
انتظار کے کئی پہلوﺅں ہیں ان میں چند ایک مندرجہ ذیل ہیں
1. **نظری اور عملی پہلو:**
- امام مہدی (علیہ السلام) کے ظہور کا انتظار نظری اور عملی دونوں پہلوؤں پر اثرات ڈالتا ہے۔
- انتظار ایک عملی مسئلہ ہے جو انسان کے اعمال اور کردار کو راستہ اور ہدف دیتا ہے۔
2. **ذاتی اور اجتماعی پہلو:**
- انتظار کی حالت میں انسان اپنی ذاتی بنیادوں کو مضبوط کرتا ہے اور اجتماعی اصلاح کا کام کرتا ہے۔
- اس کے ذریعہ معاشرہ میں مثبت قدم اُٹھانے کی رغبت دلاتا ہے۔
3. **جسمانی، روحانی، اور نفسیاتی پہلو:**
- انتظار انسان کے جسمانی، روحانی، اور نفسیاتی جانبوں پر بھی اثرات ڈالتا ہے۔
- اس کے ذریعہ انسان اپنی زندگی میں معنی و مفہوم پائے اور اپنے ذاتی ترقی اور خوشحالی کی راہ تیار کرے۔
4. **معاشرتی اثرات:**
- انتظار کی حالت میں انسان معاشرتی بدلاؤں کا عہد کرتا ہے اور معاشرتی اصلاح کا کام کرتا ہے۔
- اس کے ذریعہ امام مہدی (عجل الله تعالی فرجہ الشریف) کی حکومت کے آغاز میں حصہ لینے کی خواہش رکھتا ہے۔
6 *منتظرین ظہور کے اہم ترین فرائض میں سے تین کی تشریح کریں*
جواب
منتظرین کے فرائض
1. آخری وقت کی تیاری: منتظرین کا اہم فرض ہوتا ہے کہ وہ آخری وقت کی تیاری میں مصروف رہیں۔ انہیں اپنی روحانی، جسمانی اور فکری تیاری میں مصروف رہنا چاہئے تاکہ وہ جلدی سے مہدی یا امام مہدی (عج) کی ظہور کی صورت میں تیار ہوسکیں۔
2. علم کی جستجو اور تعلیم: منتظرین کو علم کی جستجو اور اسے دوسروں کو سکھانے کا فرض ہوتا ہے۔ وہ خود کو تربیت دیتے ہیں اور دوسروں کو بھی علم کا فروغ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
3. اخلاقی اصلاح: منتظرین کو اخلاقی اصلاح پر بھی توجہ دینی چاہئے۔ انہیں بے خودگی، امانتداری، درستگی، اور دوسروں کی مدد کرنے کی حکمت عملی کو اپنانا چاہئے۔
4. امید اور صبر کی فراست: منتظرین کو امید اور صبر کی فراست رکھنی چاہئے۔ وہ امید پر قائم رہتے ہیں اور بے تحاشہ مشقت اور مصائب کا سامنا کرتے ہیں۔
5. جامعہ جماعت کی حفاظت: منتظرین کا اہم فرض ہوتا ہے کہ وہ اپنی جماعت یا مجموعہ کی حفاظت کریں اور اس کی سلامتی کا خیال رکھیں۔
6. اجتماعی زمانہ کے مطابقت: منتظرین کو اجتماعی زمانے کے مطابقت کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ اپنی فکری، روحانی، اور اجتماعی حالات کو موازنہ کرتے ہیں اور انہیں مواقع کے مطابق اپناتے ہیں۔
یہ فرائض منتظرین کی زندگی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور ان کی تیاری اور تربیت میں اہمیت رکھتے ہیں۔ ان فرائض کو انجام دینے سے منتظرین اپنے مقصد تک پہنچنے میں مدد ملتی ہے اور ایک اچھے اور موثر اجتماعی فراوانی کی بنیاد رکھتے ہیں
🚩 والسلام علیکم ورحمۃ اللہ.
التماس دعا ظہور و شہادت 🤲🏻🙏😭 💔
اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم
🚩زیر سرپرستی امام زمانہ عج 🙏🏻🏕️
شہر بانو ✍
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں