Course 2 Book 6 Me
*کتابچہ 6*
*امام زمان عج کی غیبت کے اسباب*
*پہلا درس : غیبت کا معنی*
*استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب*
*عالمی مرکز مہدویت قم*💚
***بسم اللہ الرحمٰن الرحیم**
اسلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ 🍃🍃
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
اتوار 7 جمادی الاول 1446( 10 نومبر ، 2024)**
خلاصہ نمبر: 1
*امام زمانہ کی غیبت کے اسباب*
*غیبت کے معنٰی کیا ہے*
غیبت عربی زبان کا لفظ ہے عرب کے اہل لغت مقاٸس لغت ہیں اس میں غیبت کا جو معنی آیا ہے وہ یہ کہ غیب وہ لفظ ہے کہ جو کسی چیز کے آنکھوں سے پوشیدہ اور مخفی ہونے پر دلالت کرے،
پھر یہ لفظ اور موارد میں بھی استعمال ہوتا ہے مثلا غیب وہ چیز ہے جو مخفی ہے اور اللہ کے علاوہ اسے کوئی نہیں جانتا،
یعنی دو چیزیں ہیں، غیب پوشیدہ چیز کو کہتے ہیں کہ جو ہماری آنکھوں سے اوجھل ہو اور پھر اسے اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا،
ہم اسی معنی کو مدنظر رکھیں تو مولا کی دو طرح کے غیبت تصور ہو سکتی ہے ،
تو ہم یہ غیب تصور کر سکتے ہیں کہ امام جسم کے اعتبار سے بھی غائب ہیں اسی ہم کہیں گے شخص کی غیبت یعنی پورا شخص غاٸب ہے،
ایک دفعہ ہم کہتے ہیں کہ مولا جسم کے اعتبار سے غاٸب ہیں اگر ہمیں نظر نہیں آتے ہم پہچان نہیں پاتے ہوسکتا ہمیں نظر آئے لیکن شخصیت اور پہچان کے اعتبار سے غائب ہے کہ اگر ہمیں نظر بھی آتے ہیں تو ہم پہچان نہیں پاتے اسے کہتے ہیں شخصیت کے غیبت اگر شخصیت کی غیبت ہو جسم غائب ہو یہ معجزاتی بات ہے یعنی مولا عج ہمارے پاس بیٹھے ہم دیکھ نہیں سکتے ہیں کہ انسان جو ہے وہ بشر ہے اس کا وجود جسم ہے پھر یے معجزہ کے ذریعہ ہے،
ایک معنی یہ ہے کہ آپ کی شخصیت میں پوشیدہ ہے آپ کا جسم لوگوں کے درمیان آتے بھی ہیں لوگ دیکھتے بھی ہیں کہ ایک شخص ہے لیکن وہ جانتے نہیں کون ہے،
اب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ احادیث کے اندر کس قسم کی غیبت بیان ہوئی ہے،
احادیث میں دونوں طرح کے غیبت بیان ہوٸی،
*امام رضا علیہ السلام کا فرمان ہے،* قائم صلوات اللہ علیہ کا نا جسم دیکها جائے گا نا انکا نام لیا جاٸے گا،
اور اسی طرح کی ایک اور روایت ہے،
*امام علی نقی علیہ السلام فرماتے ہیں ،*
کہ بے شک آپ ان کے وجود کو نہیں دیکھو گے یہ بھی تمہارے لئے حلال نہیں ہے کہ تم انکو عج انکے عج نام سے یاد کرو،
*امام صادق علیہ السلام،*
ایک جگہ پر فرما رہے ہیں کہ ہمارے قاٸم عج میں حضرت یوسف علیہ السلام کی ایک شباھت ہے اب یہاں سے بولا نے گفتگو شروع کی تو جناب سدیر کہتے ہیں کہ میں نے مولا ع سے پوچھا آپ کی مراد ہے ،؟
حضرت یوسف سے تشبیح دی تو آپ کی مراد یہ حیرت ہے یا غیبت ہے کیا مراد ہے ؟؟
آپ کس چیز کا ذکر کر رہے ہیں ،
اب امام ناراض تھے کچھ لوگوں سے جو قائم کی غیبت کا انکار کر رہے تھے امام ع نے ان لوگوں کے طرف اشارہ کیا کہ
*فرماتے ہیں ،*
اس امت میں یہ جو گروہ ہے جو خنزیر کے مانند ہوچکا ہے جو حقائق کا انکار کرتے کہتے ہیں غیبت ناممکن ہے ،
یوسف علیہ السلام کے بھائی پیغمبروں کی اولاد ہے اور ان کی نسل ہے انہوں نے حضرت یوسف کو بیچ دیا کیا اور بعد میں آئے جب یوسف مقام ریاست میں تھے بھائی آٸے اور انہوں نے یوسف سے تجارت کی معملات کیے ان سے گندم لی پیسے لیے ،
حالانکہ وہ بھائی تھے اور حضرت یوسف بھی ان کا بھائی لیکن انہوں نے نہیں پہچانا اپنے بھاٸی کو حتیٰ کہ حضرت یوسف نے خود کہا کہ میں یوسف ہوں پھر وہ پہچانے ،
امام تشبیح دے رہے ہیں حضرت یوسف اور بھائی کے معاملہ سے پھر مولا ع فرماتے ہیں کہ ،
یہ کیسے انکار کرتے ہیں غیبت کا جب اللہ یہ ارادہ کر لے کے کسی زمانے میں اپنے حجت کو مخفی کروں تو پھر یہ کیسے انکار کر سکتے ہیں،
کہ اللہ ج اپنے حجت کے ساتهہ وہ کرے جو حضرت یوسف ع کے ساتهہ کیا ،
*پھر مولا ع فرماتے ہیں کہ ،*
یے جو حجت خدا ہے عج بازار میں بھی آمدورفت کرتے ہیں لیکن یہ لوگ اسکو نہیں پہچانتے ہیں یہاں تک اللہ ج اجازت فرما دیں تو وہ خود عج اپنے پہچان کرواٸیں
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹
شہر بانو✍️
بسم اللہ الرحمن الرحیم
*کتابچہ # 6*
*امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت کے اسباب*
*درس # 1*
*موضوع:غیبت کے معنی*
غیبت عربی زبان کا لفظ ہے۔۔
وہاں غیبت کا جو معنی ایا ہے وہ یہ ہے کہ *غیب وہ لفظ جو کسی چیز کے انکھوں سے پوشیدہ اور مخفی ہونے پر دلالت کرے*۔
یہ لفظ اور موارد میں بھی استعمال ہوتا ہے مثلا *غیب وہ چیز ہے جو مخفی ہے اور اللہ کے علاوہ اس سے کوئی نہیں جانتا*
*یعنی اس کے دو معنی ہو گئے*
⬅️1- غیب پوشیدہ چیز کو کہتے ہیں جو ہماری انکھوں سے اوجھل ہو۔۔
یعنی ہم کبھی نہ کبھی اس چیز کو دیکھ سکتے ہیں۔
⬅️2- غیب وہ چیز ہے کہ جو پوشیدہ ہے اور اللہ کے علاوہ اسے کوئی نہیں جانتا۔
💫اسی حوالے سے دیکھا جائے تو امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت دو طرح سے تصور کی جا سکتی ہے۔۔
💫 ایک دفعہ ہم کہتے ہیں کہ مولا غائب ہیں یعنی ہمیں نظر نہیں اتے۔۔ اس سے مراد یہ ہے کہ ہماری چشم بصیرت اتنی پاک نہیں ہے کہ ہم امام قائم عج کے وجود مقدس کو دیکھ سکیں۔
دوسرا نظریہ یہ ہے کہ ہو سکتا ہے امام ہمارے آس پاس ہوتے ہوں ہم انہیں دیکھیں لیکن ہم ان کو شخصیت کے اعتبار سے نہیں پہچان سکتے ہم نہیں جانتے کہ وہ مولا امام مہدی علیہ السلام ہیں اور اسی لیے کہا گیا ہے کہ جب بعد ظہور کچھ لوگ مولا کو دیکھیں گے تو کہیں گے کہ ہم نے ان کو فلاں جگہ دیکھا ہے۔
*احادیث کے اندر کس قسم کی غیبت بیان ہوئی ہے*۔۔
*فرمان امام رضا علیہ السلام ہے*۔۔
قائم علیہ السلام کا نہ جسم دیکھا جائے گا نہ ان کا نام لیا جائے گا۔۔
*فرمان امام علی نقی علیہ السلام*
بے شک اپ ان کے وجود کو نہیں دیکھو گے اور یہ بھی تمہارے لیے حلال نہیں ہے کہ ان عج کو ان عج کے نام سے یاد کرو۔
ایک جگہ پر *امام جعفر صادق علیہ السلام* سے روایت ہے کہ اپ نے فرمایا ہمارے قائم میں حضرت *یوسف علیہ السلام* کی ایک شباہت ہے۔۔۔ تو جناب سدیر نے پوچھا کہ مولا حضرت یوسف سے تشبیہ دینے سے اپ کی کیا مراد ہے؟؟ امام نے کچھ لوگوں کی طرف اشارہ کیا جو قائم کی غیبت کا انکار کر رہے تھے۔۔
امام ع نے ان کی طرف اشارہ کر کے فرمایا اس امت میں یہ جو گروہ ہے خنزیر کی مانند ہو چکا ہے جو حقائق کا انکار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ غیبت ناممکن ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی پیغمبروں کی اولادیں اور انہی کی نسل سے ہیں لیکن انہوں نے حضرت یوسف کو بیچ دیا اور بعد میں جب یوسف علیہ السلام مقام پہ پہنچ گئے تو جب ان کے بھائی ائے اور انہوں نے حضرت یوسف سے تجارت کی لیکن وہ نہیں پہچانے کہ یہ ہمارا بھائی یوسف ہے۔ جب حضرت یوسف نے خود اپنا تعارف کرایا تب وہ پہچانے۔
امام تشبیہ دے رہے ہیں کہ یہ معاملہ حضرت یوسف کی غیبت جیسا ہے یہ کیسے انکار کرتے ہیں ۔ جب کہ اللہ ارادہ کر لے کسی زمانے میں اپنے حجت کو مخفی کروں گا تو یہ کیسے انکار کر سکتے ہیں۔
پھر امام فرماتے ہیں *حجت خدا بازار میں بھی آمد و رفت کرتے ہیں لیکن لوگ ان کو نہیں پہچانتے یہاں تک کہ اللہ اجازت فرما دے تو وہ خود اپنی پہچان کروائیں* ۔
🤲دعا ہے کہ پروردگار عالم ہماری چشم بصیرت کو اتنا پاک اور نورانی کردے کہ ہم اپنے قائم علیہ السلام کے نورانی وجود اقدس کی زیارت کر سکیں۔ ہمارے مولا ہم سے راضی ہوں۔ آمین ثم آمین 🤲
*الھم عجل لولیک الفرج*۔
شہر بانو✍️
*کتابچہ # 6*
*امام زمانہ کی غیبت کے اسباب*
*درس #2 غیبت امام مہدی علیہ السلام کی حقیقت*
*خلاصہ*
💫 *غیبت کے معنی پنہاں ہونا یا پوشیدہ ہوئے کے ہیں اب سمجھنا یہ ہے کہ غیبت شخص کی ہے یا شخصیت کی* ؟؟
احادیث اور روایات میں دونوں چیزیں بیان ہوئی ہیں
⬅️پہلی یہ ھے کہ آپ ع کا جسم مبارک بھی دیکھا نہ جائے
⬅️ دوسری میں ھے کہ اللہ تعالٰی آپ اور لوگوں کے درمیان ایک ایسا حجاب قرار دے گا کہ لوگ آپ کو دیکھیں گے مگر پہچان نہ پائیں گے ۔
علماء اور محققین نے دونوں پہ بحث کی ہے۔۔
⬅️ مرحوم *علامہ مجلسی نے اپنی کتاب مراعات العقول میں* اور
⬅️ *ملاصالح ما زردانی نے اپنی کتاب شرح اصول کافی* میں ان دونوں روایات کو جمع کرنے کی کوشش کی ہے اور معنی غیبت کو دوسرے میں لیا ہے ۔۔
*اگر جسم نہ دیکھا جائے تو یہ ایک معجزانہ کام ہے اور ہر وقت معجزانہ کیفیت قانون قدرت کے خلاف ہے* اللہ تعالٰی اپنے انبیاء اور آیمہ کو معجزے عطا کرتا ھے مگر ہمہ وقت نہیں رہتے۔۔ قرآن مجید میں یفقدالناس کا لفظ حضرت یوسف علیہ السلام کے باب میں جس آیت میں استعمال ہوا ہے اس کے معنی کلی طور پر غائب ہونے کہ ہیں اس آیت کی دلالت میں آیمہ کی بھی کچھ احادیث ملتی ہیں
*امام صادق علیہ السلام* فرماتے ہیں امام وقت کلی طور پر پوشیدہ یا مخفی ہوں گے
*امام کاظم علیہ السلام* فرماتے ہیں
جب میری نسل میں سے پانچواں کلی طور پر غائب ہو
اب ان دونوں احادیث آیمہ کی روشنی میں علماء نے یہ نتیجہ نکالا کہ دونوں صحیح ہیں ۔۔ امام بسا اوقات جسم سے غائب ہوتے ہیں اور بسا اوقات جسم کے ساتھ ہوتے ہیں مگر لوگ نہیں پہچانتے۔
لوگوں کی بھی دو قسمیں ہیں ۔
*1* کچھ لوگ اپنے *روحانی اعتبار* سے اس مقام پر ہیں کہ وہ امام کو دیکھ پاتے ہیں مگر پہچانتے نہیں ہیں ۔۔
*2* اور کچھ ایسے ہیں کہ وہ یہ قابلیت نہیں رکھتے کہ مولا ان کے سامنے آئیں اور وہ ان کا جسم دیکھیں۔
*غیبت صغریٰ* علماء کہتے ہیں کہ *جسم کے غائب ہونا سے مراد غیبت صغریٰ ہے* کیونکہ امام عسکری ع کے اصحاب خاص نے امام کو دیکھا بھی تھا اور پھر آپ عج
70 سال کا عرصہ غائب رہے۔ اس وقت جن لوگوں نے امام کو دیکھا ہوا تھا وہ نسل ختم ہو چکی اور بعد والے لوگ پہچانے گے نہیں
لہٰذا جسمانی غیبت ۔۔۔
غیبت صغریٰ میں تھی
اور
*شخصیت کی غیبت اب تک یعنی *غیبت کبری* تک چلی آ رہی ہے۔
💫احادیث میں یہ بھی بیان ہوا ہے کہ جب امام ظہور فرمائیں گے تو اکثر لوگ کہیں گے کہ ہم نے تو پہلے بھی انہیں دیکھا ہوا ھے۔💖
🤲🤲🤲اللہ تعالٰی ہمارے قلوب و ارواح کو اتنا پاک اور نورانی کردے کہ ہم سب کو امام کی زیارت کا شرف عطا ہو اور ہم بھی یہ کہہ سکیں کہ ہم نے تو انہیں پہلے دیکھا ہوا ہے۔🤲 آمین ثم آمین۔
*الھم عجل لولیک الفرج*
شہر بانو✍️
*کتابچہ 6*
*امام زمان عج کی غیبت کےاسباب*
*دوسرا درس : غیبت امام زمانہ عج کی حقیقت*
*استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب*
*عالمی مرکز مہدویت قم*💚
***بسم اللہ الرحمٰن الرحیم**
🍃🍃
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
امام زمانہ کی غیبت کے اسباب
دوسرا درس # غیبت امام علیہ السلام کی حقیقت 🌼
غیبت کے معنی پنہاں ہونا پوشیدہ ہوئے کے ہیں اب سمجھنا یہ ہے کہ غیبت شخص کی ہے یا شخصیت کی احادیث اور روایات میں دونوں چیزیں بیان ہوئی ہیں
پہلی یہ ھے کہ آپ ع کا جسم مبارک بھی دیکھا نہ جائے
💛 دوسری میں ھے کہ اللہ تعالٰی آپ اور لوگوں کے درمیان ایک ایسا حجاب قرار دے گا کہ لوگ آپ کو دیکھیں گے مگر پہچان نہ پائیں گے اب ان دونوں میں کونسی درست ہے علماء اور محققین نے بحث کی
🤎 مرحوم علامہ مجلسی نے اپنی کتاب مراعات العقول میں اور
🤎 ملاصالح ما زردانی نے اپنی کتاب شرح اصول کافی میں ان دونوں روایات کو جمع کرنے کی کوشش کی ہے اور معنی غیبت کو دوسرے میں لیا ہے
اگر جسم نہ دیکھا جائے تویہ ایک معجزانہ کام ہے اورہر وقت معجزانہ کیفیت قانون قدرت کے خلاف ہے اللہ تعالٰی اپنے انبیاء اور آیمہ کو معجزے عطا کرتا ھے مگر ہمہ وقت نہیں قرآن مجید میں یفقدالناس کا لفظ حضرت یوسف علیہ السلام کے باب میں جس آیت میں استعمال ہوا ہے اس کے معنی کلی طور پر غائب ہونے کہ ہیں اس آیت کی دلالت میں آیمہ کی بھی کچھ احادیث ملتی ہیں
امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں امام وقت کلی طور پر پوشیدہ یا مخفی ہوں گے
امام کاظم علیہ السلام فرماتے ہیں
جب میری نسل میں سے پانچواں کلی طور پر غائب ہو
اب ان دونوں احادیث آیمہ کی روشنی میں علماء نے یہ نتیجہ نکالا کہ دونوں صحیح ہیں امام بسا اوقات جسم سے غائب ہوتے ہیں اور بسا اوقات جسم کے ساتھ ہوتے ہیں مگر لوگ نہیں پہچانتے
لوگوں کی دو قسمیں ہیں کچھ لوگ اپنی روحانی اعتبار سے اس مقام پر ہیں کہ وہ امام کو دیکھ پاتے ہیں مگر پہچانتے نہیں ہیں اور کچھ ایسے ہیں کہ وہ یہ قابلیت نہیں رکھتے کہ مولا ان کے سامنے آئیں اور وہ ان کا جسم دیکھیں
پھر غیبت صغری میں علماء کہتے ہیں کہ جسم کے غائب ہونا سے مراد ہے کیونکہ امام عسکری ع کے اصحاب خاص نے امام کو دیکھا بھی تھا اور پھر آپ علیہ السلام
70 سال کا عرصہ غائب رہے اس وقت جن لوگوں نے امام کو دیکھا ہوا تھا وہ نسل ختم ہو چکی اور بعد والے لوگ پہچانے گے نہیں
لہٰذا جسمانی غیبت صغری میں تھی اور شخصیت کی غیبت اب تک چلی آ رہی ہے
احادیث میں یہ بھی بیان ہوا ہے کہ جب امام ظہور فرمائیں گے تو اکثر لوگ کہیں گے کہ ہم نے تو پہلے بھی انہیں دیکھا ھے
اللہ تعالٰی ہم سب کو امام کی زیارت کا شرف عطا فرمائے آمین ثم آمین
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹
شہر ب
*کتابچہ 6*
*امام زمان عج کی غیبت کےاسباب*
*تیسرا درس : غیبت امام زمانہ عج کی تاریخ، شیخ صدوق رح کا واقعہ*
*استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب*
*عالمی مرکز مہدویت قم*💚
***بسم اللہ الرحمٰن الرحیم**
اسلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ 🍃🍃
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
اتوار 14 جمادی الاول 1446( 17 نومبر ، 2024)**
۔
خلاصہ نمبر 3 ۔۔۔
غیبت امام زمانہ عج کی تاریخ ،شیخ صدوق رح کا واقعہ ✍️
بارہ سو سال ہو چکے ہیں امام مہدی ع کی غیبت کو 260 ھ سے غیبت شروع ہوئی تھی اور اب تک جاری ہے اور اس طویل عرصہ کی وجہ سے لوگوں میں شک و تردید کی کیفیت پیدا ہو گئی ہے لوگ کہتے ہیں یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک ہادی اتنا عرصہ غائب رہ کر ھدایت دیں ۔اس حوالے سے بہت بہترین کتاب جنابِ شیخ صدوق رح جو شیعہ مکتب کے اہم اور کتب اربعہ کی کتاب کے مصنف بھی ہیں۔۔
یہ غیبت صغریٰ میں امام زمانہ عج کی دعا سے پیدا ہوئے انکے والد نے خط لکھا تھا امام کے دوسرے نائب کو اور اپنے لیے ایک فرزند کی خائش کا اظہار کیا تھا ۔
اور مولا ع کی طرف سے جو جواب آیا اس میں انکو مولا ع نے دو بیٹوں کی بشارت دی اور دونوں الحمدللہ ہمارے تشیعوں کی اہم ستون بزرگان میں سے تھے ۔۔
جناب شیخ صدوق رح کا نام اس لیے زیادہ نمایاں کہ انہوں نے ( من لا یحضرہ) کے نام کی اک مشہور کتاب تصنیف کی ۔۔
انہوں نے مہدویت پر بھی کام کیا کیوں کہ یہ نزدیک ترین زمانہ مولا ع کے غائب ہونے کا ہے ۔یہ اس زمانے میں پیدا ہوئے اور غیبت کبریٰ کے شروع میں انکی وفات ہوئی ۔۔
مہدویت پر ایک عظیم شاہکار کتاب کمال الدین ہے ۔۔
یہ دو جلدوں میں ہے اور اسکا اردو ترجمہ بھی موجود ہے ۔
اور یہ کتاب مہدویت کے موضوع پر ایک اہم ترین ممبا شمار ہوتی ہے ۔اسکی ایک خوبی یہ ہے کہ اس کے اندر شیخ صدوق رح نے انبیاء کرام ع کی غیبت کو بیان کیا اور اس پر روایت جو ہے وہ محمد و آل محمد کی نکل
شہر بانو✍️
*کتابچہ 6*
*امام زمان عج کی غیبت کےاسباب*
*تیسرا درس : غیبت امام زمانہ عج کی تاریخ، شیخ صدوق رح کا واقعہ*
*استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب*
*عالمی مرکز مہدویت قم*💚
***بسم اللہ الرحمٰن الرحیم**
اسلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ 🍃🍃
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
اتوار 14 جمادی الاول 1446( 17 نومبر ، 2024)**
*خلاصہ درس # 3*
*موضوع : غیبت کی تاریخ*
*خلاصہ*
اس کتابچے میں امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت کے حوالے سے مختلف موضوعات پر بحث کی گئی ہے۔
اس درس میں بھی امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت کے حوالے سے یہ بیان کیا گیا ہے کہ امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت 260 ہجری میں شروع ہوئی تھی اور اب 1446 ہجری ہے تقریبا 1186 سال ہو چکے ہیں۔
امام مہدی علیہ السلام اتنے طویل عرصے سے غیبت میں ہیں تو لوگوں کے دلوں میں بہت سے شکوک و شبہات پیدا ہو گئے کہ امام ہیں بھی یا نہیں؟؟
اور لوگ یہ کہنے لگے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی ہادی لوگوں کی نگاہوں سے دور رہ کر ہدایت کا فریضہ انجام دے۔
علمائے کرام نے اس سلسلے میں بڑا کام کیا۔
*شیخ صدوق رح*
عالم تشیع کا ایک بڑا نام شیخ صدوق رحمت اللہ علیہ ہیں اپ نے بہت سی کتب لکھیں ۔
روایات بتاتی ہیں کہ اپ کے والد نے غیبت صغری کے زمانے میں امام زمانہ علیہ السلام کے دوسرے یا تیسرے نائب کو خط لکھ کر عرضی ڈالی تھی اور اولاد کی درخواست کی تھی۔
اور جواب میں اپ کو دو بیٹے عطا ہوئے تھے اور دونوں ہی عالم دین بنے تھے۔
شیخ صدوق کا نام اس لیے زیادہ جانا پہچانا ہوا کہ اپ کی کتاب *من لا یحضرہ الفقیہ* بہت مشہور ہوئی۔
💫 *شیخ صدوق کی زندگی کا ایک اہم واقعہ۔۔ قم کی ایک علمی شخصیت سے ملاقات*
ایک بار شیخ صدوق امام رضا علیہ السلام کی زیارت کو گئے وہاں پہ اپ کی ملاقات قم کی ایک علمی شخصیت سے ہوئی جو کہ امام کی غیبت میں شک و تردید میں پڑ گئے تھے۔۔ شیخ صدوق علیہ الرحمہ نے ان کو مختلف احادیث اور روایات بیان کر کے مطمئن کیا۔۔۔ جب وہ خود مطمئن ہو گئے تو انہوں نے شیخ صدوق سے کہا کہ اپ کچھ کتابیں لکھیں کہ جس سے ہمارے اور علماء بھی مستفیض ہوں۔
💫 *شیخ صدوق کو امام زمانہ علیہ السلام کی زیارت اور ہدایت*
ایک بار شیخ صدوق امام رضا علیہ السلام کی زیارت کو گئے۔۔ وہاں وہ اہل بیت علیہ السلام سے توسل اور اور اپنی *معنوی نعمتوں* کا شکر ادا کرتے رہے۔
وہیں انہوں نے خواب میں امام زمانہ علیہ السلام کی زیارت کی اور امام زمانہ علیہ السلام نے ان کو ایک کتاب لکھنے کی ہدایت کی تو شیخ صدوق نے عرض کیا کہ مولا میں نے کتابیں لکھی تو ہیں تو مولا نے ان کو فرمایا کہ نہیں تم ایسی کتاب لکھو جس میں انبیاء کی غیبت کو بیان کرو اور انبیاء کی غیبت کی مثال دے کر ہماری غیبت کے پارے میں بیان کرو۔
پھر شیخ صدوق نے کتاب *کمال الدین* لکھی جس میں حضرت ادم علیہ السلام سے لے کر ختم المرسلین تک جتنے بھی پیغمبر ائے ان میں سے جو جو بھی پیغمبر غیبت میں رہے چاہے وہ غیبت کچھ دنوں کی تھی یا کچھ عرصے کی, جیسے کہ۔۔
(حضرت موسی علیہ السلام کچھ دنوں کے لیے اپنی قوم سے دور پہاڑ پر گئے تھے۔۔
جیسے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اج بھی زندہ ہیں اور چوتھے اسمان پہ ہیں۔۔
جیسے کہ حضرت خضر علیہ السلام ہیں۔۔
مثلا حضرت یونس۔۔ )
الغرض تمام پیغمبروں کے بارے میں معلومات فراہم کیں۔ اس کتاب کی دو جلدیں ہیں اور اس کا اردو میں ترجمہ کیا جا چکا ہے۔
مہدویت پر بہت کام کیا ہے۔
وہ ایران کے ایک شہر *رے* کے رہنے والے تھے اور وہیں مدفون ہیں. پروردگار عالم ان کے درجات بلند فرمائے۔ امین۔
🤲اور ہم سب کو مہدویت کے مختلف پہلوؤں کو سمجھنے کی توفیق اور امام زمانہ علیہ السلام کے خدمت گزار اعوان و انصار میں شامل ہونے کا شرف عطا فرمائے آمین ثم آمین ۔🤲
*الھم عجل لولیک الفرج*
شہر بانو✍️
*کتابچہ 6*
*امام زمان عج کی غیبت کےاسباب*
*چوتھادرس : غیبت انبیاء ، حضرت صالح ع کی غیبت،حضرت موسیٰ ع کی غیبت*
*استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب*
*عالمی مرکز مہدویت قم*💚
***بسم اللہ الرحمٰن الرحیم**
اسلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ 🍃🍃
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
منگل 16 جمادی الاول 1446( 19 نومبر ، 2024)**
*خلاصہ نمبر: 4*
*
➖➖➖➖🚩
*غیبت انہونہ واقعہ نہیں ہے*
1) امام صادق علیہ السلام کی ایک روایت ہے کہ جب حضرت صالح علیہ السلام اپنی قوم کی نافرمانی و سرکشی کے سبب غائب ہوئے تو آپ جوان و خوش اندام شخصیت رکھتے تھے۔ لیکن جب غیبت کا زمانہ گذار کر واپس آئے تو بوڑھے ہو چکے تھے۔ آپ ع کی غیر موجودگی میں قوم تین حصوں میں تقسیم ہو چکی تھی۔ ایک منکرین کا تھا، ایک حصہ شک میں مبتلا تھا، جبکہ ایک گروہ اطمینان و یقین کی منزل پر تھا کہ آپ پیغمبر خدا حضرت صالح ع ہیں۔
فرمایا جب ہمارے قائم ظاہر ہوں گے تو لوگ ایسے ہی تین حصوں میں تقسیم ہو جائیں گے۔
2) *غیبت حضرت موسیٰ* جناب رسول خدا ص سے امیر المومنین ع کی روایت:
کہ جب حضرت یوسف علیہ السلام کی وفات کا وقت آیا تو ان لمحات میں آئندہ پیش آنے والے سخت زمانے کے متعلق بیان فرمایا کہ جس میں مردوں کو قتل کیا جائے گا، خواتین کے پیٹ چاک ہوں گے، بچے قتل کئے جائیں گے۔ تو اس وقت ایک قائم کے منتظر رہنا جو آپ کے بھائی لاوی بن یعقوب علیہ السلام کی نسل سے ہوں گے۔
یہ مصیبت و ابتلا کا دور بنی اسرائیل پر آیا جو میں لڑکوں کو قتل کیا جاتا رہا اور لڑکیوں کو کنیزی کے لئے زندہ رہنے دیا جاتا۔ اس دور میں ایک عالم نبی خدا حضرت موسیٰ علیہ السلام کی خوشخبری سناتے تھے۔ 400 سال اس سخت دور میں گذر چکے تھے، لوگ تنگ آ کر اس عالم سے پوچھتے اور بد تمیزی سے پیش آنے لگے کہ وہ شخصیت کب ہمارے لئے ظاہر ہوں گی۔
ایک چاندنی شب میں یہی عالم لوگوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے حضرت موسیٰ ع کی آمد کی خوشخبری سنا رہے تھے، (جبکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام پیدا ہو چکے تھے، اور فرعون کے محل میں پرورش پا کر جواں ہو چکے تھے) حضرت موسیٰ علیہ السلام کا وہاں سے گذر ہوا جبکہ آپ کی گندمی رنگت چاند کی روشنی میں چمک رہی تھی، بلند قامت اور چلنے کا انداز نمایاں تھا ، یہ عالم حضرت موسیٰ کا پہچان گئے اور حضرت موسیٰ کی خدمت میں آئے۔ باقی لوگ بھی سمجھ گئے کہ یہ وہی شخصیت ہیں جن کی بشارت ہمیں سنائی جاتی رہی یے۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام اس وقت عہدہ رسالت پر فائز نہیں ہوئے تھے۔ آپ نے لوگوں کے حق میں ان کی مشکلات ختم ہونے کی دعا کی اور چلے گئے۔
اور پھر وہ واقعہ پیش آیا جس کا ذکر قرآن میں ہے کہ جیسے ایک لڑائی کے نتیجے میں حضرت موسیٰ کے مکے سے ایک قبطی قتل ہو گیا۔ حکومت کے خوف سے مدائن چلے گئے جہاں حضرت شعیب علیہ السلام کی خدمت میں کچھ عرصہ رہے۔
یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی غیبت کا زمانہ تھا۔ آپ کی غیر موجودگی میں لوگوں کی مشکلات میں بہت اضافہ ہو گیا۔ اور خدا کی بارگاہ میں دعا کرتے ۔ بالآخر حضرت موسیٰ علیہ السلام نبوت کے ساتھ پلٹے اور بنی اسرائیل کو فرعون کے مظالم سے نجات دلائی۔
جناب ابو بصیر رہ امام باقر علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دو غیبتیں تھیں۔
🚩 *اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم۔*
شہر بانو✍️
*کتابچہ 6*
*امام زمان عج کی غیبت کےاسباب*
*چوتھادرس : غیبت انبیاء ، حضرت صالح ع کی غیبت،حضرت موسیٰ ع کی غیبت*
*استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب*
*عالمی مرکز مہدویت قم*💚
***بسم اللہ الرحمٰن الرحیم**
اسلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ 🍃🍃
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
منگل 16 جمادی الاول 1446( 19 نومبر ، 2024)**
خلاصہ 🌹
ایک بہترین *کتاب کمال Nameالدین* جو کہ شیخ صدوقؒ تحریر فرمائیں اس کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس کے اندر انبیاء علیہ السلام کی غیبت کے خبر دی جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی بھی حجت خدا کے غیبت کوٸی نیا واقعہ نہیں ہے پہلے بھی غاٸب ہوتی ہے،
ہم بھی وہاں سے کچھ انبیاء کے غیبت کے نمونے اور مثالیں بیان کریں گے۔۔۔۔
١- *حضرت صالح علیہ السلام کے غیبت:*
سب سے پہلے حضرت صالح علیہ السلام کی غیبت کو بیان کرتے ہیں اس حوالے سے جناب شہام نے امام صادق علیہ السلام سے روایت نقل کی ہے جس میں امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ:
حضرت صالح علیہ السلام جب غاٸب ہوئے تھے اور قوم کی نافرمانی اور سرکشی اور دیکھ رہے تھے میری تبلیغ کا کوئی اثر نہیں ہو رہا جب وہ غاٸب ہوئے تھے تو اس وقت ایک خوش
اندام شخصیت رکھتے تھے جوان تھے چہرے پہ داڑھی تھی لیکن جب غیبت سے واپس آئے،
تو ان کی قوم تین حصوں میں تقسیم ہو چکی تھی۔۔۔
١- ایک گروہ منکرین کا تھا
٢- دوسرا گروہ شک میں
٣- ایک گروہ آپ کی معرفت رکھتا تھا یقین کے منزل پر فاٸز تھا۔۔۔۔
فرماتے ہیں کہ جب قائم بھی غیبت کے بعد ظہور فرمائیں گے تو اس وقت ان کے ماننے والے بھی اسی طرح کی حصوں میں تقسیم ہوجاٸیں گے
اسی طرح اس کتاب میں حضرت موسی کی بھی غیبت بیان ہوئی ہے
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹
شہر بانو✍️
*کتابچہ 6*
*امام زمان عج کی غیبت کےاسباب*
*پانچواں درس : غیبت کے مراحل اور اسکا فلسفہ ، معصومین علیہم السلام کی طرف سے امام زمانہ عج کی غیبت بیان ہونا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور امیر المومنین علی علیہ السلام کا فرمان*
*استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب*🌹
*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*🌹
السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ 🌹
اللهم صل على محمد وآل محمد 🌹 🍃🍃
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
اتوار 21 جمادی الاول 1446( 24 نومبر ، 2024)**
📖گفتگو کا موضوع غبیت امام زمانہ عج اس سے پہلے ہم نے انبیا۶ کے غیبت بیان کے کہ اللہ تعالی کی طرف بہت سارے انبیاء جو ہیں وہ مختلف مصلحتوں کی بنا پر غائب ہوتے رہے ہے ،
آج جو ہے وہ امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کی غیبت کو کو کس طرح بیان کیا گیا اور یہ کتنے مراحل رکھتی ہے آپ جانتے ہیں کہ امام زمان عجل اللہ فرجہ الشریف کی غیبت دو مرحلوں میں سامنے آئی جو کہ ،
1️⃣غیبت صغریٰ جو تقریبا ستر سال جاری رہی ،
2️⃣ غیبت کبریٰ ہے،
غیبت کبریٰ میں مولا عج کی طرف سے چار نائب سامنے آٸے جنہیں نواب اربعہ کے خاص ناٸب کہا جاتا ہے،
♦️اور ایک مرحلہ ہے غیبت کبریٰ کہ جو ابھی تک جاری ہے اور اس کے اندر امام زمانہ کی طرف سے اگر کوئی خاص نیابت کا دعوی کرے گا وہ کذاب ہے۔
پروردگار اپنے لامحدود علم کی وجہ سے جانتا تھا کہ لوگ جو ہیں وہ آٸمہ علیہ السلام کے ساتھ غیر مناسب رویہ رکھتے تھے اور بترتیب امام آتے رہے اور ظالموں کے ظلم اور اپنوں کی بے حسی کی وجہ سے شہید ہوتے رہے ،
تو پروردگار نے آخری امام آخری حجت کو کو خود یہ مصلحت جانا کہ وہ ایک مدت تک غائب رہی تاکہ لوگ امام کی عظمت ان کے وجود اور حضور کی اہمیت کو جانے درک کریں اور ان کی نصرت کے لئے تیار ہوں اور انکی ہمراہی میں پوری دنیا میں نظام امامت کو نافذ کرے ،
غیبت کا جو مسئلہ ہے امام قائم کے حوالے سے وہ شروع سے معلوم تھا رسول خدا صہ سے لیکر امام حسن عسکری ع تک سب کی طرف سے روایات احادیث موجود ہیں لیکن عام لوگوں کو شاید اس بات کا علم نہیں تھا ہوسکتا ہے آٸمہ ع کے اصحاب بھی اس موضوع کو اچهی طرح نا جانتے ہوں،
لیکن یہ تھا ضرور اور ہماری احادیث اور روایات میں بیان ہوا تھا ،
♦️امام بھی یہ سمجھتے تھے کہ یہ شیعوں کے لئے ایک بہت ہی ہیں تلخ حقیقت ہوگی جب انکا قاٸم غائب ہوں گے اور وہ بڑی مشکل سے تعامل کریں گے اس لئے تو غیبت کو دو مرحلوں میں رکھا گیا تاکہ غیبت صغریٰ میں تیار ہوں اصل مرحلہ غیبت کبریٰ تھے،
شروع میں ایک مرحلہ رکھا گیا تھا کہ لوگ جو ہیں وہ ایک دم گمراہ نا ہوں
اور ذہنی فکری روحی طور پر تیار ہوں غیبت کبرا کے لئے اور غیبت صغریٰ میں امام سے بلاآخر خط کتابت کا رابطہ تھا ملاقات ممکن تھی لوگوں کی طرف سے تقاضا ہو تو ممکن تھے لیکن غیبت کبریٰ مکمل انقطا۶ والے صورت ہے ،
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹
شہر بانو✍️
کتابچہ 6*
*امام زمان عج کی غیبت کےاسباب*
*پانچواں درس : غیبت کے مراحل اور اسکا فلسفہ ، معصومین علیہم السلام کی طرف سے امام زمانہ عج کی غیبت بیان ہونا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور امیر المومنین علی علیہ السلام کا فرمان*
*استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب*🌹
*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*🌹
السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ 🌹
اللهم صل على محمد وآل محمد 🌹 🍃🍃
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
اتوار 21 جمادی الاول 1446( 24 نومبر ، 2024)**
*خلاصہ 5*
امام زمان عجل اللہ کی غیبت دو مرحلوں میں ہے ،
1. غیبت صغریٰ جو تقریبا ستر سال جاری رہی ،
2. غیبت کبریٰ ہے،غیبت کبریٰ میں مولا عج کی طرف سے چار نائب سامنے آٸے جنہیں نواب اربعہ کے خاص ناٸب کہا جاتا ہے،
غیبت کبریٰ کہ جو ابھی تک جاری ہے اور اس کے اندر امام زمانہ کی طرف سے اگر کوئی خاص نیابت کا دعوی کرے گا وہ کذاب ہے۔
غیبت کا جو مسئلہ ہے امام قائم کے حوالے سے وہ شروع سے معلوم تھا رسول خدا صہ سے لیکر امام حسن عسکری ع تک سب کی طرف سے روایات احادیث موجود ہیں لیکن عام لوگوں کو شاید اس بات کا علم نہیں تھا ہوسکتا ہے آٸمہ ع کے اصحاب بھی اس موضوع کو اچهی طرح نا جانتے ہوں،
لیکن یہ تھا ضرور اور ہماری احادیث اور روایات میں بیان ہوا تھا ،
امام بھی یہ سمجھتے تھے کہ یہ شیعوں کے لئے ایک بہت ہی ہیں تلخ حقیقت ہوگی جب انکا قاٸم غائب ہوں گے اور وہ بڑی مشکل سے تعامل کریں گے اس لئے تو غیبت کو دو مرحلوں میں رکھا گیا تاکہ غیبت صغریٰ میں تیار ہوں اصل مرحلہ غیبت کبریٰ تھے،
شروع میں ایک مرحلہ رکھا گیا تھا کہ لوگ جو ہیں وہ ایک دم گمراہ نا ہوں
اور ذہنی فکری روحی طور پر تیار ہوں غیبت کبرا کے لئے اور غیبت صغریٰ میں امام سے بلاآخر خط کتابت کا رابطہ تھا ملاقات ممکن تھی لوگوں کی طرف سے تقاضا ہو تو ممکن تھے لیکن غیبت کبریٰ مکمل انقطا۶ والے صورت ہے ،
*نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان:*
اس شخص کے لئے خوشخبری ہے جو میرے اہلبیت ع کے قائم کو اس حال میں پائے کہ ظہور سے پہلے قائم کی امامت پر ایمان رکھتا ہو ، ان کے چاہنے والوں سے محبت، ان کے دشمنوں سے دشمنی رکھتا ہو۔ وہ قیامت کے دن میرا دوست میرا چاہنے والا اور میری امت میں سب سے زیادہ با عزت فرد ہے۔
*فرمان امیر المومنین علیہ السلام:*
ہمارے قائم کے لئے طولانی مدت کی غیبت ہے اور یہ جان لو کہ جو بھی اس زمانے میں اپنے دین پر محکم اور استوار ہو گا اور اس کا دل امام کی طولانی غیبت کی وجہ سے سخت نہیں ہو گا۔ یہ شخص روز قیامت میرا ہم مرتبہ ہو گا۔
دل سخت نہ ہونے سے مراد یہ کہ امام ع کی غیبت میں آپ کی محبت سے دل کو نرم رکھے، آپ کے ظہور کا بیتابی سے انتظار کرے، دعا کرے اور ظہور کی راہ میں اپنی ذمہ داریاں ادا کرے
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹
شہر بانو✍️
کتابچہ 6*
*امام زمان عج کی غیبت کےاسباب*
*پانچواں درس : غیبت کے مراحل اور اسکا فلسفہ ، معصومین علیہم السلام کی طرف سے امام زمانہ عج کی غیبت بیان ہونا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور امیر المومنین علی علیہ السلام کا فرمان*
*استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب*🌹
*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*🌹
السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ 🌹
اللهم صل على محمد وآل محمد 🌹 🍃🍃
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
اتوار 21 جمادی الاول 1446( 24 نومبر ، 2024)**
*غیبت کا بیان اور مراحل*
آپ ع کی غیبت دو مرحلوں میں ہے:
*غیبت صغری*ٰ۔۔ نائبین خاص کا دور
*غیبت کبری*ٰ تاحال جاری ہے۔ جس میں فقہا آپ ع کے نائبین ہیں
▪️پروردگار اپنے لا محدود علم سے آئمہ بر حق کے مقابلے میں انسانوں کی سرکشی سے آگاہ تھا۔ ہر امام ع کے مقابلے میں اس دور کے انسانوں نے بے وفائی کی، ان کا ساتھ نہ دینے کی وجہ سے امام شہید ہوتے رہے۔
پس خدا نے اپنی آخری حجت کو ۔صلحت کے تحت انسانوں کی نظروں سے اوجھل کر دیا۔ تاکہ وہ امام برحق کی اہمیت، عظمت، ضرورت کا احساس کر سکیں تاکہ آپ ع کی شوق و رغبت سے نصرت کریں اور پوری دنیا میں الہی نظام کے قیام کے لئے آپ ع کا ساتھ دیں۔
▪️جناب رسول کریم ص سے کے کر امام حسن عسکری ع تک ہر ہادی کے کلام میں آخری امام کی غیبت کا ذکر ملتا ہے۔
▪️ *آئمہ معصومین علیھم السلام کے اقدامات تاکہ شیعہ اس غیبت کو درک اور تحمل کر سکیں*
احادیث و روایات کے بیان سے جس میں غیبت، اس کے اسباب، غیبت کے دورانئے اور اس دوران پیش آنے والے حالات بیان کئے تاکہ لوگ اس حقیقت کی طرف متوجہ ہو سکیں۔
▪️ *نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان:* اس شخص کے لئے خوشخبری ہے جو میرے اہلبیت ع کے قائم کو اس حال میں پائے کہ ظہور سے پہلے قائم کی امامت پر ایمان رکھتا ہو ، ان کے چاہنے والوں سے محبت، ان کے دشمنوں سے دشمنی رکھتا ہو۔ وہ قیامت کے دن میرا دوست میرا چاہنے والا اور میری امت میں سب سے زیادہ با عزت فرد ہے۔
▪️ *فرمان امیر المومنین علیہ السلام:*
ہمارے قائم کے لئے طولانی مدت کی غیبت ہے اور یہ جان لو کہ جو بھی اس زمانے میں اپنے دین پر محکم اور استوار ہو گا اور اس کا دل امام کی طولانی غیبت کی وجہ سے سخت نہیں ہو گا۔ یہ شخص روز قیامت میرا ہم مرتبہ ہو گا۔
▪️دل سخت نہ ہونے سے مراد یہ کہ امام ع کی غیبت میں آپ کی محبت سے دل کو نرم رکھے، آپ کے ظہور کا بیتابی سے انتظار کرے، دعا کرے اور ظہور کی راہ میں اپنی ذمہ داریاں ادا کرے ۔
🚩 *اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم۔
شہر بانو✍️
*کتابچہ 6*
*امام زمان عج کی غیبت کےاسباب*
*درس 6 : معصومین علیہم السلام سے غیبت بیان ہونا، امام حسن مجتبی ، امام حسین اور امام سجاد علیہم السلام سے غیبت امام زمان عج بیان ہونا، کچھ نکات کی تشریح*
استادِ محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب🎤🌹
*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*🌹
السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ 🌹
اللهم صل على محمد وآل محمد 🌹 🍃🍃
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
منگل 23 جمادی الاول 1446( 26 نومبر ، 2024)**
خلاصہ نمبر 6
موضوع : امام مہدی کی غیبت اور اسباب
معصومین ع سے غیبت بیان ہونا ۔امام حسن مجتبیٰ ع امام حسین علیہ السلام اور امام زین العابدین علیہ السلام سے غیبت امام زمانہ عج بیان ہونا ✍️🙌
امام حسن علیہ السلام 🙌🏻
ابو سعید عقیصا کہتے ہیں کہ جب امام حسن علیہ السلام نے معاویہ کے ساتھ مجبوراً صلح کی تو لوگ ان کے پاس آۓ ان میں سے بعض ان کے معاہدے کی وجہ سے ان سے ناراض ہوئے تو امام نے فرمایا: وای ہو تم پر تم کیا جانتے ہو کہ میں نے کیا کہا،پروردیگار کی قسم یہ میرے شیعوں کے لیے ہر اس چیز سے بہتر ہے کہ جس پر سورج چمکتا ہے اور غروب ہوتا ہے ۔۔
آیا تم جانتے ہو کہ ہم میں سے کوئی امام ایسا نہیں ہے کہ جس پر اس زمانہ کے طاغوت کی بیعت نہ ہو مگر سوائے اس قائم کے کہ روح اللّٰہ ان کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔ اللّٰہ تعالیٰ ان کی ولادت مخفی رکھے گا اور ان کے وجود کو غائب رکھے گا یہاں تک کہ وہ خروج کریں گے اور ان کی گردن پر کسی کی بیعت نہ ہوگی ۔
فرمانِ امام حسین علیہ السلام
مولا ع فرماتے ہیں کہ ہمارے خاندان سے بارہ مہدی ع ہونگے ان میں سے سب سے پہلے امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام اور ان میں سے سب سے آخری میری نسل میں سے نویں امام ع ہونگے وہ حق پر قائم امام ع ہیں ۔۔۔
ان کے لیے غیبت ہوگی کہ اس میں کچھ قومیں مرتد ہو جائیں گے اور دوسرے دین پر قائم رہیں گے اور انہیں تکلیفیں پہنچیں گی انہیں کہا جاۓگا
اگر تم صحیح کہتے ہو تو یہ وعدہ کب پورا ہوگا ؟
جان لیں جو ان کی غیبت کے زمانہ اس اذیت و جھٹلاۓ جانے پر صابر رہے ان مجاہدین کی مانند ہے کہ جو شمشیر کے ساتھ پیغمبر ص کی ہمراہی میں جنگ کرتے رہے ہیں ۔
امام زین العابدین علیہ السلام
ابو خالد کہتے ہیں کہ میں اپنے مولا امام زین العابدین علیہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی اے فرزند رسول اللّٰہ !وہ ہستیاں کہ جن کی اطاعت و مؤدت کو واجب کیا اور ان کی اقتداء کو اللّٰہ تعالیٰ نے پیغمبر ص کے بعد واجب قرار دیا وہ کون ہے ؟؟
فرمایا 💫
اے کند اولی الامر کہ جنہیں اللّٰہ تعالیٰ نے لوگوں کا امام بنایا اور ان کی اطاعت کو واجب قرار دیا وہ یہ ہیں ۔۔امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے دو فرزند حسن و حسین ع اور پھر یہ ذمہ داری ہمیں عطا ہوئی اس کے بعد کچھ نہ فرمایا ۔
میں نے عرض کی اے میرے سرور ،
امیر المومنین سے ہماری طرف روایت نقل ہوئی ہے 📚
زمین حجت خدا ع سے خالی نہیں ہوتی ،آپ کے بعد حجت اور امام کون ہیں ؟؟
فرمایا 💫
میرا فرزند محمد اور ان کا نام تو رات میں باقر ہے ،علم کا شگوفا کریں گے ۔۔۔پھر ولی خدا کی غیبت طولانی ہوگی اور وہ ولی خدا پیغمبر اکرم ص اور ان کے بعد کے آئمہ کا بارواں وصی ہے امام ہے ۔
اے ابا خالد! ان کی غیبت کے زمانے کے لوگ کہ جو ان کی امامت کا عقیدہ رکھتے ہیں وہ ان کے ظہور کے منتظر ہیں تمام زمانوں کے لوگوں سے برتر ہوں گے کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ نے انہیں وہ عقل ،فہم اور معرفت عطا کرے گا کہ غیبت ان کے نزدیک مشاہدہ کی مانند ہوگی اور انہیں اس زمانے میں ان مجاہدین کا مرتبہ ملے گا کہ جو رسولِ اکرم ص کی ہمراہی میں سب سے آگے بڑھ کر شمشیر سے جہاد کرتے تھے اور وہ ہمارے حقیقی مخلص اور سچے شیعہ ہیں اور اللّٰہ تعالیٰ کے دین کے خفاء اور طاہر ہیں دعوت دینے والے ہوں گے..
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹
شہر بانو✍️
*کتابچہ 6*
*امام زمان عج کی غیبت کےاسباب*
*درس 6 : معصومین علیہم السلام سے غیبت بیان ہونا، امام حسن مجتبی ، امام حسین اور امام سجاد علیہم السلام سے غیبت امام زمان عج بیان ہونا، کچھ نکات کی تشریح*
استادِ محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب🎤🌹
*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*🌹
السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ 🌹
اللهم صل على محمد وآل محمد 🌹 🍃🍃
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
منگل 23 جمادی الاول 1446( 26 نومبر ، 2024)**
خلاصہ نمبر 6
موضوع : امام مہدی کی غیبت اور اسباب
معصومین علیہم السلام سے غیبت کا بیان
# امام حسن علیہ السلام، امام حسین علیہ السلام اور امام زین العابدین علیہم السلام سے غیبت امام زمانہ ع بیان ہونا
ہمیں معلوم ہوا کہ چہادہ معصومین علیہ السلام سے امام زمانہ کی غیبت کے بارے میں احادیث اور روایات بیان ہوئ ہیں
*امام حسن علیہ السلام فرماتے ہیں
ابو سعید بیان کرتے ہیں جب امام نے مجبورن معاویہ سے صلح کی تو کچھ نادان شیعہ ناراض ہوئے تو امام نے فرمایا # وائے ہو تم پر میرا یہ کام ہر اس چیز سے بہتر ہے جس پر سورج چمکتا ہے اور غروب ہوتا ہو آیا تم جانتے ہو کہ ہم میں سے کوئی امام ایسا نہیں ہے کہ جس پر اس زمانہ کے طاغوت کی بیعت نہ ہو ۔ مگر سوائے اس قائم کہ
کہ روح اللہ عیسی ابن مریم ان کے پیچھے نماز پڑھیں گے اللہ تعالٰی انکی ولادت کو مخفی رکھے گااور انکے وجود کو غائب رکھے گا یہاں تک کہ وہ خروج کریں گے اور انکی گردن پر کسی کی بیعت نہیں ہو گی
امام حسن علیہ السلام کی اس حدیث میں کئی نکات بیان ہوئے ہیں
# امام حسین علیہ السلام فرماتے ہیں
ہمارے خاندان میں بارہ مہدی ہوں گے ان میں سے پہلے امیرالمومنین علی ابن ابی طالب ہیں اور آخری میری نسل میں سے نویں امام ہیں اور وہ حق پر قائم امام ہیں ان کے لیے غیبت ہو گی کہ کچھ قومیں مرتد ہو جائیں گی اور کچھ دین حق پر قائم رہیں گے
جو دین حق پر قائم رہیں گے انہیں تکلیفیں پہنچیں گی انہیں کہا جائے گا اگر تم صحیح کہتے ہو تو اپنے امام کو ظاہر کرو یہ وعدہ کب پورا ہو گا ۔ جان لو کہ جو اس زمانہ میں اس سچ کے جھٹلانے پر صبر کرے گا وہ ان مجاہدین کی مانند ہے جو نبی اکرم کے ساتھ شمشیر کے ہمراہ جنگ کر نے والے ہیں،،
اس فرمان سے ہمیں یہ بھی پتہ لگتا ہے ہر امام مہدی اور ہادی ہے لفظ مہدی عمومی لفظ ہے مگر اس زمانہ میں امام زمانہ سے منسوب ہو گیا ہے جبکہ امام قائم، منتظر، بقیہ اللہ ہیں
امام سجاد علیہ السلام
جناب ابو خالد کہتے ہیں کہ میں اپنے مولا امام زین العابدین کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کیا # مولا میں نے امیرالمومنین سے سنا ہوا ھے کہ زمین 🌏 کبھی حجت خدا سے خالی نہیں ہو گی اور وہ کونسی ہستیاں ہیں جن کی اطاعت و مودت کو اللہ نے پیغمبر اسلام کے بعد واجب کیا ہے
امام نے فرمایا وہ یہ اولی الامر ہستیاں ہیں
امیرالمومنین، انکے دونوں فرزند اور پھر یہ زمہ داری مجھے عطا ہوئ پھر خاموش ہو گئے
ابو خالد نے پوچھا آپ کے بعد کون ہے ؟ فرمایا میرا بیٹا محمد ھے اسکا نام تورات میں باقر ہے وہ علم کو شگاف کرے گا
پھر امام نے تمام آیمہ کے نام بتائےاور آخر میں امام زمانہ کا نام مبارک بیان کیا اور فرمایا انکی غیبت طولانی ہو گی
انکی غیبت کے زمانہ کے لوگ تمام زمانہ کے لوگوں سے برتر ہونگے کیونکہ اللہ انھیں وہ معرفت اور عقل وفہم عطا کرے گا کہ غیبت ان کے نزدیک مشافہ کی مانند ہو گی
وہ ہمارے سچے اور مخلص شیعہ ہوں گے،،
پروردگار ہم سب کو اپنے آیمہ معصومین کا مخلص اور با معرفت شیعہ بننے کی توفیق عطا فرمائے
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹
شہر بانو✍️
کتابچہ 6*
*امام زمان عج کی غیبت کےاسباب*
*درس 6 : معصومین علیہم السلام سے غیبت بیان ہونا، امام حسن مجتبی ، امام حسین اور امام سجاد علیہم السلام سے غیبت امام زمان عج بیان ہونا، کچھ نکات کی تشریح*
استادِ محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب🎤🌹
*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*🌹
السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ 🌹
اللهم صل على محمد وآل محمد 🌹 🍃🍃
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
منگل 23 جمادی الاول 1446( 26 نومبر ، 2024)**
خلاصہ نمبر 6
موضوع : امام مہدی کی غیبت اور اسباب
↙️ *امام حسن مجتبی علیہ السلام*
ابو سعید کہتے ہیں کہ جب امام حسن علیہ السلام نے معاویہ کے ساتھ مجبورا صلح کی تو کچھ لوگ ان کے پاس ائے اور ان سے اس بارے میں معاہدے کی وجہ پوچھی اور اپ سے خفگی کا اظہار کیا تو امام حسن علیہ السلام نے فرمایا
وائے ہو تم پر۔۔ تم کیا جانتے نہیں ہو کہ میں نے کیا کیا؟ پروردگار کی قسم یہ کام میرے شیعوں کے لیے ہر اس چیز سے بہتر ہے جس پر سورج چمکتا ہے اور غروب ہوتا ہے۔۔ آیا تم جانتے ہو کہ ہم میں سے کوئی امام ایسا نہیں کہ جس پر اس کے زمانے کے طاغوت کی بیعت نہ ہو مگر سوائے اس قائم کے کہ روح اللہ یعنی حضرت عیسی جن کے پیچھے نماز پڑھیں گے اور اللہ تعالی ان کی ولادت مخفی رکھے گا اور ان کے وجود کو غائب رکھے گا یہاں تک کہ وہ خروج کریں گے اور ان کی گردن پر کبھی کسی کی بیعت نہیں ہوگی ۔
💫 اب یہاں پہ استاد صاحب نے وضاحت فرمائی کہ امام حسن علیہ السلام نے مجبورا صلح کی تھی انہوں نے بیعت نہیں کی تھی کہ جس طرح ایک بیعت کا مکمل طریقہ ہے اور یہاں بیعت سے مراد اطاعت نہیں ہے ۔۔ بلکہ انہوں نے معاویہ کی حکمرانی کو قبول کیا تھا اور اپنے شیعوں کی حفاظت کے لیے ایک معاہدہ کیا تھا جس میں اپنی بھی کچھ شرائط منوائی تھیں۔ لہذا یہ بات واضح رہے کہ بیعت الگ چیز ہے اور حکمرانی الگ چیز ہے ۔
↙️ *امام حسین علیہ السلام*
امام حسین علیہ السلام نے فرمایا ۔۔ ہمارے خاندان کے 12 مہدی ہوں گے اور ان میں سب سے پہلے امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام اور ان میں آخری میری نسل میں سے نویں فرزند امام مہدی ع ہوں گے جو حق پر قائم امام ہوں گے۔۔ ان کے لیے غیبت ہوگی اور اس غیبت میں کچھ قومیں مرتد ہو جائیں گی اور دوسرے دین پر قائم رہیں گے اور انہیں تکلیفیں پہنچیں گی اور انہیں کہا جائے گا کہ تم حق نہیں ہو۔۔ جان لیں کہ جو اس غیبت کے زمانے میں اذیت اور تکلیف اٹھائیں گے اور صابر رہیں گے۔۔۔ وہ ان مجاہدین کی مانند ہوں گے کہ جنہوں نے شمشیر کے ساتھ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہمراہی میں جہاد کیا ہوگا۔
↙️ *امام سجاد علیہ السلام*
امام سجاد علیہ السلام نے اپنے صحابی ابو خالد کے سوال کے جواب میں فرمایا اللہ تعالی نے جنہیں امام بنایا اور ان کی اطاعت کو واجب قرار دیا وہ یہ ہیں امیر المومنین علی ابن ابی طالب ، ان کے فرزند حسن اور حسین ، پھر یہ ذمہ داری ہمیں عطا ہوئی اور ہماری نسل سے جن کی غیبت طولانی ہوگی غیبت کے زمانے میں جو ان کی امامت پر عقیدہ رکھتے ہوں گے وہ سب لوگوں سے برتر ہوں گے اور وہی ہمارے حقیقی شیعہ ہیں اور اللہ تعالی کے دین کی دعوت حق دینے والے ہوں گے۔
🤲دعا ہے کہ پروردگار عالم ہمیں امام زمانہ علیہ السلام کی زیادہ سے زیادہ معرفت عطا فرمائے اور ان کے اطاعت گزار منتظرین میں ہمارا شمار ہو الہی امین ثم امین ۔
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹
شہر بانو✍️
*کتابچہ 6*
*امام زمان عج کی غیبت کےاسباب*
*🌷درس 7*
#معصومین ع سے غیبت کا بیان (پارٹ ٹو)
*🎤استاد مہدویت جناب علی اصغر سیفی صاحب*
*🌐عالمی مرکز مہدویت قم*
*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*🌹
السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ 🌹
اللهم صل على محمد وآل محمد 🌹
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
*"اَللَّهُمَّ لَيِّنْ قَلْبِىْ لِوِلِيِ اَمرِكَ"*
*خـدایـا۔۔۔! مـیرے دل کـو امـام زمـانہ عـج کے لـئے نـرم کـردے🤲😭*
اتوار 28 جمادی الاول 1446( 1 دسمبر ، 2024)**
*بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
*خلاصہ # 7*
*معصومین ع سے غیبت کا بیان*-
↙️ *امام محمد باقر علیہ السلام*
امام محمد باقر علیہ السلام۔۔۔۔
فرماتے ہیں ۔۔
ایک زمانہ لوگوں پر آۓ گا کہ ان کا امام غائب ہوگا ۔۔خوشخبری ہے ان لوگوں کے لیے کہ جو اس زمانے میں یعنی زمانہ غیبت میں ہمارے امر پر ثابت قدم رہیں ۔سب سے کم ترین ثواب کہ جو انہیں ملے گا وہ یہ ہوگا کہ اللّٰہ تعالیٰ انہیں آواز دے گا اور فرمائے گا :۔۔ اے میرے بندوں جو میرے غیب پر ایمان لاۓ ہو اور اس کی تم نے تصدیق کی پس میں تمہیں نیک ثواب کی بشارت دیتا ہوں اور تم میرے حقیقی بندے ہو۔۔ تم کو مغفرت عطا کرتا ہوں اور تمہارے لیے بخشش کروں گا اور تمہارے سبب اپنے بندوں پر رحمت نازل کروں گا اور ان سے مصیبتوں کو دور کروں گا ۔اگر تم نہ ہوتے تو ان پر عذاب نازل کرتا ۔
↙️ *امام جعفر صادق علیہ*
💫 مولا صادق ع فرماتے ہیں کہ طوبی کی بشارت ہو اس کے لیے جو ہمارے قائم ع کی غیبت کے دوران اس کے امر سے تمسک رکھے اور ہدایت کے بعد اس کا دل نہ پلٹے ،ان کی خدمت میں عرض کی گئی۔۔۔۔
مولا ہم آپ پر قربان ۔۔ یہ طوبی کیا ہے ؟؟؟
امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا ! جنت میں ایک درخت ہے کہ جس کی جڑیں علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے گھر میں ہیں ۔کوئی مومن ایسا نہ ہوگا کہ اس کی ایک شاخ اس کے گھر میں نہ ہو ۔۔
سُورۃ الرعد
آیت نمبر 29
اَلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ طُوۡبٰى لَهُمۡ وَحُسۡنُ مَاٰبٍ ۞
ترجمہ:
جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کئے ان کے لئے خوش حالی اور عمدہ ٹھکانا ہے۔
↙️ *امام موسیٰ کاظم علیہ السلام*
💫مولا ع فرماتے ہیں
وہ قائم ع کہ جو زمین کو اللّٰہ کے دشمنوں سے پاک کرے گا اور اسے عدل و انصاف سے بھر دے گا جس طرح کہ وہ ظلم و جور سے بھری ہوئی تھی ۔میری نسل سے پانچواں فرزند ہے ان کی غیبت طولانی ہوگی کیونکہ انہیں اپنی جان کا خطرہ ہوگا اس دوران کچھ قومیں مرتد ہو جائیں گی اور کچھ اقوام ثابت قدم رہیں گی ۔
💫 پھر فرمایا !!
خوشخبری ہو ہمارے شیعوں کو کہ جو ہمارے قائم ع کی غیبت کے دوران ہمارے دامن سے تمسک رکھتے ہیں اور ہماری ولایت اور ہمارے دشمنوں سے بیزاری پر ثابت قدم ہیں وہ ہم سے ہیں اور ہم ان سے ہیں ۔جنہوں نے ہمیں امام کے طور پر قبول کیا ہم نے انہیں اپنے شیعوں کے طور پر قبول کر لیا ہے ان کے لیے بشارت ہو،۔۔روز قیامت خدا کی قسم یہ ہمارے مرتبہ میں ہوں گے ۔۔۔۔
🤲🤲🤲🤲 *اللہ تعالیٰ ہمیں زمانے کے امام ع کی معرفت حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور دامن مولا امام زمانہ علیہ السلام سے متمسک رہنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین* 🤲 🤲 🤲
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹
شہر بانو✍️
*کتابچہ 6*
*امام زمان عج کی غیبت کےاسباب*
*🌷درس 7*
#معصومین ع سے غیبت کا بیان (پارٹ ٹو)
*🎤استاد مہدویت جناب علی اصغر سیفی صاحب*
*🌐عالمی مرکز مہدویت قم*
*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*🌹
السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ 🌹
اللهم صل على محمد وآل محمد 🌹
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
*"اَللَّهُمَّ لَيِّنْ قَلْبِىْ لِوِلِيِ اَمرِكَ"*
*خـدایـا۔۔۔! مـیرے دل کـو امـام زمـانہ عـج کے لـئے نـرم کـردے🤲😭*
اتوار 28 جمادی الاول 1446( 1 دسمبر ، 2024)**
خلاصہ نمبر 7
۔۔۔معصومین ع سے غیبت کا بیان ہونا۔۔امام باقر علیہ السلام امام جعفر صادق علیہ السلام امام کاظم علیہ السلام سے۔۔🙌🏻🙌🏻🙌🏻💫
ان روایات کو پیش کرنے کا مقصد یہ ہے تاکہ یہ واضح ہو کہ امام زمان عجل کی غیبت اک دم سے واقعیہ نہیں ہوئی ۔
اس سے پہلے اس کی خبر دی جا چکی تھی اس کے اسباب بیان ہو چکے تھے ۔اور غیبت میں ہمارے جو وظائف ہے وہ بھی بیان ہو چکے تھے ۔اور یہ کیسے غیبت ختم ہو گی یہ بھی بیان ہو چکا تھا ۔۔
روایات 📚
امام محمد باقر علیہ السلام۔۔۔۔
فرماتے ہیں 💫
ایک زمانہ لوگوں پر آۓ گا کہ ان کا امام غائب ہوگا ۔۔خوشخبری ہے ان لوگوں کے لیے کہ جو اس زمانے میں یعنی زمانہ غیبت میں ہمارے امر پر ثابت قدم رہیں ۔سب سے کم ترین ثواب کہ جو انہیں ملے گا وہ یہ ہوگا کہ اللّٰہ تعالیٰ انہیں آواز دے گا اور فرمائے گا :۔۔ اے میرے بندے میرے غیب پر ایمان لاۓ ہو اور اس کی تم نے تصدیق کی پس میں تمہیں نیک ثواب کی بشارت دیتا ہوں اور تم میرے حقیقی بندے ہو تم سے قبول کرتا ہوں اور تم کو مغفرت عطا کرتا ہوں اور تمہارے لیے بخشش کروں گا اور تمہارے سبب اپنے بندوں پر رحمت نازل کروں گا اور ان سے مصیبتوں کو دور کروں گا ۔اگر تم نہ ہوتے تو ان پر عذاب نازل کرتا ۔۔
امام جعفر صادق علیہ 🙌🏻🌸
مولا ع فرماتے ہیں کہ ۔طوبی ہو اس کے لیے جو ہمارے قائم ع کی غیبت کے دوران اس کے امر سے تمسک رکھے اور ہدایت کے بعد اس کا دل نہ پلٹے ،ان کی خدمت میں عرض کی گئی: آپ پر قربان طوبی کیا ہے ؟؟؟
امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:جنت میں ایک درخت ہے کہ جس کی جڑیں علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے گھر میں ہیں ۔کوئی مومن ایسا نہ ہوگا کہ اس کی ایک شاخ کے اس کے گھر نہ ہو ۔۔یہ اللّٰہ تعالیٰ کا کام ہے کہ ان کے لیے طوبی اور نیک انجام ہے ( سورہ رعد:29)
امام موسیٰ کاظم علیہ السلام
مولا ع فرماتے ہیں 💫
وہ قائم ع کہ جو زمین کو اللّٰہ کے دشمنوں سے پاک کرے گا اور اسے عدل و انصاف سے بھر دے گا جس طرح کہ وہ ظلم و جور سے بھری ہوئی تھی ۔میری نسل سے پانچواں فرزند ہے ان کی غیبت طولانی ہوگی کیونکہ انہیں اپنی جان کا خوف ہوگا اس دوران کچھ قومیں مرتد ہو جائیں گی اور کچھ دیگر اقوام ثابت قدم رہیں گی
پھر فرمایا 💫
خوشخبری ہو ہمارے شیعوں کو کہ جو ہمارے قائم ع کی غیبت کے دوران ہمارے دامن سے تمسک رکھتے ہیں اور ہماری ولایت اور ہمارے دشمنوں سے بیزاری پر ثابت قدم ہیں وہ ہم سے ہیں اور ہم ان سے ہیں ۔جنہوں نے ہمیں امام کے طور پر ہم نے انہیں اپنے شیعوں کے طور پر قبول کر لیا ہے ان کے لیے بشارت ہو،روز قیامت خدا کی قسم یہ ہمارے مرتبہ میں ہوں گے ۔۔۔۔
اللہ تعالیٰ ہمیں زمانے کے امام ع کی معرفت حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے مولا ع سے متمسک ہونے کی توفیق عطا فرمائے اور یہ سب اجر و ثواب ہمیں ملے کہ جو آئمہ معصومین ع نے بیان کیا ہے اپنے شیعوں کے لیے ۔۔
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹
شہر بانو✍️
*کتابچہ 6*
*امام زمان عج کی غیبت کےاسباب*
*🌷درس 8*
#معصومین ع سے غیبت کا بیان (پارٹ ٹو)
*🎤استاد مہدویت جناب علی اصغر سیفی صاحب*
*🌐عالمی مرکز مہدویت قم*
*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*🌹
السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ 🌹
اللهم صل على محمد وآل محمد 🌹
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
*"اَللَّهُمَّ لَيِّنْ قَلْبِىْ لِوِلِيِ اَمرِكَ"*
*خـدایـا۔۔۔! مـیرے دل کـو امـام زمـانہ عـج کے لـئے نـرم کـردے🤲😭*
منگل 30 جمادی الاول 1446(3 دسمبر ، 2024)**
*بسم اللہ الرحمٰن الرحیم*
*خلاصہ نمبر # 8*
*فرمان امام رضا علیہ السلام*
💫امام رضا علیہ السلام سلسلہ غیبت میں فرماتے ہیں
میری نسل میں سے چوتھے امام کنیزوں کی سردار کے فرزند ہیں اللہ انکے ذریعے زمین کو ہر ظلم سے پاک کرے گا اور ہر قسم کے ستم سے اسے منزہ اور تطہیر کرے گا۔۔۔ وہ
وہ ہستی ہیں کہ لوگ انکی ولادت پر شک کریں گے اور وہ ۔۔ وہ ہستی ہیں کہ جو قیام اور خروج سے پہلے غیبت اختیار کریں گے اور جب قیام کریں گے تو زمین انکے نور سے چمک جائے گی۔
بی بی نرجس خاتون والدہ امام زمانہ علیہ السلام کے بارے میں اکثر لوگ کہتے ہیں کہ امام کی والدہ کنیز کیسے ہو سکتی ہیں ؟؟
💫↙️بی بی نرجس خاتون روم کی شہزادی تھیں اور ایک جنگ میں وہ قیدی بنائی گئیں تھیں۔۔ امام علی نقی علیہ السّلام نے ایک خاص آدمی بھیج کر انہیں خریدا اور اپنی بہن جناب حکیمہ خاتون کے سپرد کر دیا تھا۔۔ اور بی بی حکیمہ خاتون نے ان کی اسلامی آداب پہ تربیت کی تھی ۔ پھر ان کا نکاح امام حسن عسکری علیہ السلام سے کیا گیا تھا ۔۔اور امام کے گھر میں آ کر انھیں اس گھرانہ کی کنیز کہلانے میں فخر محسوس ہوتا تھا ۔۔ اس بنا پر یہ فرمایا گیا کہ وہ تمام کنیزوں کی شاہزادی کا فرزند ہوگا ۔
↙️ *امام محمد تقی علیہ السلام فرماتے ہیں*!!
ہمارے قائم کہ
جس کے ذریعے اللہ نے زمین کو منکرین اور کفار سے پاک کرنا ہے اور عدل و انصاف سے بھرنا ہے۔۔۔ انکی ولادت مخفی ہو گی اور انکا وجود بھی غائب ہو گا ، ان کے اصحاب 313 ہوں گے جو زمین کے دور دراز جگہوں سے انکے گرد جمع ہونگے.
💫قرآن کریم میں بھی ارشاد ہے کہ
تم جہاں بھی ہو خدا وند تم سب کو جمع کرے گا اللہ ہر چیز پر قادر ہے .
↙️💫 *امام علی نقی علیہ السّلام*
آپ نے فرمایا کہ میرے بعد میرا بیٹا میرا جانشین ہو گا اور اس کے بعد اس کا بیٹا ہمارا جانشین ہو گا اور تم اس کے ساتھ کیا کرو گے۔۔ پوچھنے والے نے پوچھا کہ مولا ہم آپ پہ قربان آپ بتائیے کہ ان کے ساتھ کیا ہو گا؟؟ امام علی نقی علیہ السّلام نے فرمایا کہ تم اسے نہیں دیکھ سکو گے ۔۔ تو پوچھا گیا کہ پھر ہم انہیں کیسے یاد کریں گے تو جوابا" فرمایا کہ تم انہیں حجت اللہ کہو گے۔
↙️💫 *امام حسن عسکری علیہ السلام*
میرے بعد میرا بیٹا محمد امام قائم اور حجت ہو گا اور وہ ۔۔۔۔۔ وہ امام ہو گا کہ اگر کوئ اس کی معرفت حاصل کئے بغیر مر گیا تو گویا وہ جاہلیت کی موت مرا۔۔اور اس کی غیبت کے زمانے میں جاہل لوگ اور اہل باطل سرگرداں رہیں گے۔۔۔ اور جو اس کی غیبت کے زمانے میں اسے دیکھنے یا اس کے ظہور کا وقت مقرر کرے تو وہ کذاب ہے۔۔
گویا امام خبردار کر رہے ہیں کہ غیبت کے زمانے میں امام سے رابطے کا اختیار صرف امام کی اپنی مرضی سے ہو گا اور یہ کہ ظہور کا وقت صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے لہذا ظہور کا وقت مقرر نہ کرنا چاہیئے ۔
💖🤲اللہ تعالیٰ ہم سب کو امام زمانہ علیہ السلام کا حقیقی منتظر بننے کی توفیق عطا فرمائے اور آپ کے خدمت گزار انصار میں ہمارا شمار ہو الہی آمین ثم آمین 🤲🤲🤲🤲🤲
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹
شہر بانو✍️
*کتابچہ 6*
*امام زمان عج کی غیبت کےاسباب*
*🌷درس 8*
#معصومین ع سے غیبت کا بیان (پارٹ 3)
*🎤استاد مہدویت جناب علی اصغر سیفی صاحب*
*🌐عالمی مرکز مہدویت قم*
*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*🌹
السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ 🌹
اللهم صل على محمد وآل محمد 🌹
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
*"اَللَّهُمَّ لَيِّنْ قَلْبِىْ لِوِلِيِ اَمرِكَ"*
*خـدایـا۔۔۔! مـیرے دل کـو امـام زمـانہ عـج کے لـئے نـرم کـردے🤲😭*
منگل 30 جمادی الاول 1446( 3 دسمبر ، 2024)**
خلاصہ نمبر 8
۔موضوع۔۔۔۔معصومین ع سے غیبت بیان ہونا 📚
امام رضا علیہ السلام ،امام محمد تقی علیہ السلام ،امام علی نقی علیہ السّلام ،امام حسن عسکری علیہ السّلام ،
سے غیبت امام زمانہ عج بیان ہونا۔۔۔🙌🏻🌸
امام رضا علیہ السلام 🙌🏻
امام رضا علیہ مولا مہدی عج کی غیبت کے بارے میں فرماتے ہیں 💫
مولا ع کی خدمت میں عرض کی گئی:اے فرزند رسول خدا, آپ اھلبیت ع کا قائم ع کون ہے ؟
مولا ع فرماتے ہیں 💫
میری نسل سے چوتھا فرزند ،کنیزوں کی سردار کا فرزند، اللّٰہ تعالیٰ اس کے ذریعے زمین کو ہر طرح کے ستم سے پاک کر دے گا ،ہر طرح کے ظلم سے منزہ کرے گا ،وہ وہی ہے کہ لوگ اس کی ولادت میں شک کریں گے اور وہی ہے کہ اپنے خروج سے پہلے غیبت اختیار کریں گے اور جب خروج کریں گے تو زمین ان کے نور سے روشن ہو جائے گی ۔۔
اس فرمان میں دو،تین نقطے ہے ۔
فرماتے ہیں 💫
میری نسل سے چوتھے اور کنیزوں کی سردار کے فرزند ۔
سوال ؟
لوگ کہتے ہیں امام مہدی ع کی والدہ کنیز تھی یہ کیسے ممکن ہے ؟؟؟
جواب 📚
پہلی تو بات یہ کہ جو بھی خاتون خاندان اہل بیت ع میں داخل ہوئی باہر سے دیگر قوائل سے دیگر ملتوں سے وہ اپنے آپ کو کنیز اہل بیت ہی کہتی تھی
یعنی اس میں وہ فخر سمجھتے تھے حالانکہ وہ کنیز نہیں ہوتی تھی بڑے بڑے خاندانوں کی بڑی بلند پایہ خاتون ہوتی تھی لیکن خاندان اہل بیت ع میں اپنے آپ کو کنیز کہتی تھی ۔۔
بی بی نرجس خاتون س وہ روم کی شہزادی تھی ۔
امام محمد تقی علیہ السلام ۔۔۔۔
مولا ع کا فرمان 💫
وہ قائم کہ جس کے ذریعہ اللّٰہ تعالیٰ نے زمین کو کفار اور منکرین سے پاک کرے گا اور اسے عدل و انصاف سے بھر دے گا وہ وہی ہے کہ جس کی ولادت لوگوں پر پوشیدہ ہے اور اس کا وجود ان سے غائب ہے ۔۔اس کے اصحاب بدر کی مانند تین سو تیرہ اصحاب زمین کے دور دراز جگہوں سے اس کے ارد گرد جمع ہوں گے اور یہ وہی فرمانِ پروردگار ہے جو قرآن مجید میں موجود ہے ۔۔
تم جہاں کہی بھی ہو خدا وند تمہیں جمع کرے گا اللّٰہ ہر چیز پر قادر ہے ۔۔
یہاں بھی امام جواد علیہ السلام نے مولا ع کی مخفی ولادت کی طرف اشارہ کیا انکی غیبت کی طرف اشارہ کیا اور اس طرح کی غیبت کہ وہ ہمیں نظر نہیں آئیں گے اور ساتھ 313 ان کے ناصروں کی طرف اشارہ کیا اور اللّٰہ کی قدرت کی کس طرح چند لہزوں میں پروردگار ان ناصروں کو زمین پر جہاں بھی ہوں گے وہ انکو امام مہدی ع کے گرد جمع کر دے گے۔۔
امام علی نقی علیہ السّلام ۔۔۔۔
مولا ع فرماتے ہیں 💫
میرے بعد میرا جانشین میرا بیٹا حسن ہے اور تم لوگ میرے جانشین کے بعد والے جانشین کے ساتھ کیا کروں گے ؟داود بن قاسم کہتے ہیں آپ پر قربان ہو جاؤں ،کیا ہوگا؟کیونکہ تم انہیں نہیں دیکھوں گے۔۔۔عرض کی تو کیسے انہیں یاد کریں گے ؟
فرمایا 💫
ایسے کہو:حجتہ آل محمد صلوات اللہ علیہم ۔
یہاں امام ہادی علیہ السلام نے اپنے جانشین اور اپنے جانشین کے بعد کے جانشین کی خبر دی اور ساتھ فرما دیا کہ تم انہیں نہیں دیکھ پاؤ گے ۔۔امام ع نے امام مہدی ع کی غیبت کی خبر دی اور اس وقت مولا ع کو کس طرح یاد کرنا ہے ۔وہ بھی بتایا (حجتہ آل محمد)کے لقب سے ۔۔
امام حسن عسکری علیہ السّلام
مولا ع فرماتے ہیں 💫
میرا بیٹا محمد وہ میرے بعد امام اور حجت ہیں ،اگر کوئی مرجائے اور ان کی معرفت پیدا نہ کرے وہ جاہلیت کی موت مرگیا ۔جان لو کہ ان کے لیے غیبت ہے کہ جس میں جاہل لوگ سرگرداں ہوں گے اور اہلِ باطل اس میں ہلاک ہوں گے اور جو ان کے لیے وقت معین کریں گے جھوٹ بولتے ہوں گے ۔
اس حدیث میں امام عسکری علیہ السّلام نے اپنے بعد اپنے بیٹے انکا نام لیا کہ میرا بیٹا محمد جو ہے وہی امام ہیں اور حجت ہیں اور یہ وہ ہستی ہیں کہ اگر کوئی انکی معرفت نا رکھیے گا وہ جاہلیت کی موت مرے گا ۔
ان سب سے پتہ چلتا ہے کہ مولا ع کے ظہور کا وقت معین نہیں کرنا چاہیے ۔۔۔
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹
شہر بانو✍️
*💫کتابچہ6*
*🌷درس؛9*
*#معصومین علیہم السلام سے غیبت کا بیان(4)*
*🎤استاد مہدویت آغا علی اصغر سیفی صاحب*
*🌐عالمی مرکز مہدویت قم*
*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*🌹
السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ 🌹
اللهم صل على محمد وآل محمد 🌹 🍃🍃
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
*"اَللَّهُمَّ لَيِّنْ قَلْبِىْ لِوِلِيِ اَمرِكَ"*
*خـدایـا۔۔۔! مـیرے دل کـو امـام زمـانہ عـج کے لـئے نـرم کـردے🤲😭*
اتوار 5 جمادی الثانی 1446( 8 دسمبر ، 2024)**
*خلاصہ نمبر # 9*
*موضوع : امت کو غیبت کے لیے امادہ کرنے کے اقدامات و حالات*
اس درس میں بتایا گیا کہ امام علی رضا علیہ السلام کے بعد کے تمام ائمہ کا عام عوام سے رابطہ کم ہی رہا ۔۔ اسکی وجہ حکومت وقت کی سختیاں اور پابندیاں تھیں ۔۔ لیکن ائمہ نے فاصلے پر رہتے ہوئے بھی بہترین انداز میں اپنی بصیرت اور حکمت عملی سے امت کی رہنمائی کی اور ان کو انے والی غیبت کے لیے تیار کیا۔
امام علی نقی علیہ السلام کے دور سے محدود روابط کا اغاز ہو گیا تھا۔امام نے حالات کے باعث اپنے شیعوں سے فاصلے پر رہنے کو ترجیح دی اور اپنے خاص اصحاب کے ذریعے امت تک اپنے پیغامات کو پہنچایا اور ان کے مسائل کو بھی حل کیا۔
اسی طرح امام حسن عسکری علیہ السلام نے بھی حکومت کے دباؤ کے باوجود اپنی حکمت عملی سے اپنے قابل اعتماد اصحاب اور وکلاء کے ذریعے امت سے رابطہ قائم رکھا اور ساتھ ساتھ ایک منظم حکمت عملی کے تحت اپنے شیعوں کو غیبت کی دور کے لیے تیار کیا
💫* *انجمن وکالت کی تشکیل*
پانچویں امام امام محمد باقر علیہ السلام اور پھر امام صادق علیہ السلام کے دور سے انجمن وکالت کی بنیاد رکھتی گئی تھی تاکہ دور دراز کے علاقوں میں موجود شیعہ اپنے مسائلِ کے حل کے لیے اور دینی رہنمائی کے لیے ان وکلاء سے رجوع کر سکیں۔ یہ نظام امام علی نقی علیہ السلام اور امام حسن عسکری علیہ السلام کے زمانے میں مزید فعال اور مستحکم ہو گیا تھا۔
*لوگوں کو امام کے بجائے وکلاء سے رابطہ کرنے کی عادت اس لیے ڈالی گئی تاکہ شیعت نظام غیبت کے دوران بھی مستحکم رہے*
*
💫 *امام علی نقی اور امام حسن عسکری علیہ السلام نے اپنے با اعتماد صحابی *عثمان بن سعید عمری* کو اپنے *وکیل کے طور پر مقرر کیا تھا* ۔۔۔ یہ اعتماد اور رہنمائی کا نظام اس لیے بھی قائم کیا گیا تھا تاکہ غیبت کے دور میں لوگ اپنے مسائل کے حل کے لیے فقہاء سے رابطہ کرنے کا طریقہ اپنائیں۔
💫 *غیبت کیلیے آمادگی*
ائمہ علیہ السلام نے وکلا سے رابطے کا یہ نظام قائم کر کے ثابت کیا کہ قیادت کا ظاہری طور پر موجود ہونا ضروری نہیں بلکہ حقیقی حیات اور رہنمائی کے لیے ایک منظم نظام کا ہونا ضروری ہے۔ یہ نظام اج کے دور میں بھی فقہاء اور اور دینی رہنماؤں کے ذریعے جاری ہے۔
↙️دسویں اور گیارہویں امام علیہ السلام کے یہ اقدامات ہمیں یہ درس دیتے ہیں کہ ہر دور کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے ایک قابل اعتماد تنظیم ، با اعتماد افراد اور رہنمائی کا ایک نظام ہونا ضروری ہے ۔ امام علیہ السلام۔ کی بصیرت اور حکمت عملی نے غیبت کے دور میں شیعوں کے استحکام کی بنیاد رکھی تھی۔ ۔
🤲 دعا ہے کہ پروردگار عالم ہمیں اپنی آخری حجت اور امام قائم ع کے حقیقی منتظرین اور انصار میں شامل ہونے کی توفیق عطا فرمائے الہی امین ثم امین ،
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹
شہر بانو✍️
*💫کتابچہ6*
*🌷درس؛9*
*#معصومین علیہم السلام سے غیبت کا بیان(4)*
*🎤استاد مہدویت آغا علی اصغر سیفی صاحب*
*🌐عالمی مرکز مہدویت قم*
*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*🌹
السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ 🌹
اللهم صل على محمد وآل محمد 🌹 🍃🍃
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
*"اَللَّهُمَّ لَيِّنْ قَلْبِىْ لِوِلِيِ اَمرِكَ"*
*خـدایـا۔۔۔! مـیرے دل کـو امـام زمـانہ عـج کے لـئے نـرم کـردے🤲😭*
اتوار 5 جمادی الثانی 1446( 8 دسمبر ، 2024)**
خلاصہ نمبر 9
موضوع ✍️:امام نقی علیہ السّلام اور امام حسن عسکری علیہ السّلام کے شیعوں کو غیبت کے لیے تیار کرنے کے اقدامات ۔۔۔۔۔💫
✍️: مسعودی ''اثبات الوصیتہ " میں تحریر کرتے ہیں:امام علی نقی علیہ السّلام سوائے چند خواص کے اکثر اپنے محبین سے دوری اختیار کرتے تھے اور جب امامت کی ذمہ داری امام حسن عسکری علیہ السّلام کے پاس آئی تو آپ پشت پردہ خواص وغیرہ سے کلام فرماتے تھے مگر یہ کہ جب سلطان کے محل کی طرف جانے کیلئے سواری پر سوار ہوتے تھے ( تو منظر عام پر آتے تھے)۔۔۔۔💫
حکومت کی سختیاں اپنی جگہ تھی لیکن ان سختیوں سے امام نے فائدہ اٹھایا کہ اپنے شیعوں کی زمانہ غیبت کی تربیت شروع کی ۔
وکالت کی تنظیم ۔۔
انجمن وکالت:یہ بھی ان روشوں میں سے تھی کہ جس پر آئمہ علیھم السّلام نے توجہ فرمائی:امام محمد باقر علیہ السلام اور امام جعفر صادق علیہ السلام کے زمانہ سے کہ جب مملکت اسلامی دور داری تک پھیل چکی تھی تو اس وقت انجمن وکالت ایک ناگریز ضرورت تھی ،کیونکہ ایک طرف تو لوگ مسائل دین اور مالی امور میں امام کی رہنمائی کے محتاج تھے اور دوسری طرف سب لوگوں کے لیے مدینہ میں حاضر ہونا اور براہ راست امام علیہ السّلام کی خدمت سے شرفیات ہونا ناممکن تھا۔
انجمن وکالت کی تشکیل سے امام کے وکلاء مملکت اسلامی کے محتلف علاقوں میں قرار پاگۓ اور لوگوں کا اپنے آئمہ معصومین ع سے رابطہ ممکن ہوگیا (البتہ حکومت کی سختیوں کی بناءپر یہ انجمن مخفی طور پر کام کرنے لگی امام نقی علیہ السّلام اور امام عسکری علیہ السّلام کے زمانے میں لوگ وکلاء کی طرف زیادہ رجوع کرنے لگے حتی کہ جب
لوگ امام کی خدمت میں شرفیات ہوتے تو آپ انہیں اپنے وکیل کی طرف راہنمائی فرماتے ،آئمہ علیہ السلام نے اپنے اس طرز عمل سے لوگوں کو سکھایا کہ وہ اپنے مسلوں کے حل کے لیے وکلاء پر اعتماد کرسکتے ہیں اور ان کی طرف رجوع کر سکتے ہیں ۔
آج کے دور میں بھی فقہاء بھی وہی عنوان رکھتے ہیں جو امام باقر علیہ السلام اور امام جعفر صادق علیہ کے دور میں وکلاء کی تھی ۔۔۔
✍️💫 احمد بن اسحاق بن سعد قمی کہتے ہیں:ایک دن امام نقی ع کی خدمت میں پہنچا اور عرض کی:: میں کبھی یہاں ہوں اور کبھی دور دراز ہوں پھر آپ سے شرعی مسائل نہیں پوچھ سکتا اور جب یہاں بھی ہوں تو بھی ہمیشہ آپ ع کی خدمت میں حاضر نہیں ہوسکتا تو اس وقت کس کی بات کو قبول کروں اور کس سے حکم لوں؟؟
امام علیہ السلام نے فرمایا کہ:یہ ابوعمرو (عثمان بن سعید عمری)..مؤاثق اور امین شخص ہیں وہ میرے مورد اعتماد اور اطمینان ہیں ،جو کچھ بھی تم سے کہیں میری طرف سے کہتے ہیں اور جو کچھ پہنچاتے ہیں میری طرف سے پہنچاتے ہیں اور جب امام نقی علیہ السّلام شہید ہوگئے تو ایک دن میں ان کے فرزند امام حسن عسکری علیہ السّلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور وہی سوال جو امام نقی علیہ السّلام سے کیا تھا وہی ان کی خدمت میں عرض کیا اور امام ع کے وصی نے امام نقی علیہ السّلام کی مانند جواب تکرار کیا اور فرمایا 💫
یہ ابو عمرو (عثمان بن سعید عمری) گزشتہ امام کے مورد اعتماد اور اطمینان تھے نیز یہ میری زندگی میں اور میری موت کے بعد بھی میرے مورد اعتماد اور ہیں جو کچھ بھی کہیں گے میری جانب سے کہیں گے اور جو کچھ ان سے تم تک پہنچے گا وہ میری جانب سے پہنچے گا ۔۔
وکیل کا مطلب: مورد اعتماد ۔
ابو عمرو عثمان بن سعید عمری ان سب کے وکیل تھے اور امام عسکری تک یہی وکیل تھے اور امام مہدی ع کے وکیل انہی کے بیٹے ۔
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹
شہر بانو✍️
*💫کتابچہ6*
*🌷درس؛9*
*#معصومین علیہم السلام سے غیبت کا بیان(4)*
*🎤استاد مہدویت آغا علی اصغر سیفی صاحب*
*🌐عالمی مرکز مہدویت قم*
*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*🌹
السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ 🌹
اللهم صل على محمد وآل محمد 🌹 🍃🍃
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
*"اَللَّهُمَّ لَيِّنْ قَلْبِىْ لِوِلِيِ اَمرِكَ"*
*خـدایـا۔۔۔! مـیرے دل کـو امـام زمـانہ عـج کے لـئے نـرم کـردے🤲😭*
اتوار 5 جمادی الثانی 1446( 8 دسمبر ، 2024)**
خلاصہ نمبر۹
یہ مضمون امام علی نقی علیہ السلام اور امام حسن عسکری علیہ السلام کے دور میں شیعوں کو غیبت کے لیے تیار کرنے کی حکمت عملیوں اور اقدامات کو خوبصورتی سے بیان کرتا ہے۔ یہ اسباق ہمیں آئمہ علیہم السلام کی بصیرت اور دور اندیشی کا ادراک کراتے ہیں، خاص طور پر اس حوالے سے کہ کس طرح انہوں نے اپنی امت کو غیبت کے دور کے چیلنجز کے لیے تیار کیا۔
اہم نکات:
1. شیعوں سے محدود روابط:
امام علی نقی علیہ السلام نے اکثر اپنے شیعوں سے فاصلے پر رہنے کو ترجیح دی، سوائے خواص کے۔ امام حسن عسکری علیہ السلام نے بھی حکومت کے دباؤ کے باوجود، ایک منظم حکمت عملی اپنائی اور شیعوں کو غیبت کے دور کے لیے ذہنی طور پر تیار کیا۔
2. انجمن وکالت کی تشکیل:
امام محمد باقر علیہ السلام اور امام جعفر صادق علیہ السلام کے دور سے انجمن وکالت کی بنیاد رکھی گئی، تاکہ مملکت کے دور دراز علاقوں میں موجود شیعہ اپنے مسائل اور دینی رہنمائی کے لیے وکلاء سے رجوع کرسکیں۔ یہ نظام امام علی نقی علیہ السلام اور امام حسن عسکری علیہ السلام کے زمانے میں مزید فعال ہوگیا۔
• وکلاء کا کردار: لوگوں کو امام کے بجائے وکلاء سے رابطہ کرنے کی عادت ڈالنا تاکہ شیعہ نظام غیبت کے دوران بھی مستحکم رہے۔
3. اعتماد کے نمونے:
امام علی نقی علیہ السلام اور امام حسن عسکری علیہ السلام نے عثمان بن سعید عمری کو اپنے مورد اعتماد وکیل کے طور پر مقرر کیا۔ یہ اعتماد اور رہنمائی کا نظام نہ صرف غیبت کے ابتدائی دور بلکہ آج کے فقہاء کے نظام میں بھی جاری ہے۔
4. غیبت کے لیے تیاری:
آئمہ علیہم السلام نے یہ ثابت کیا کہ قیادت کا صرف ظاہری موجود ہونا ضروری نہیں، بلکہ حقیقی قیادت اور رہنمائی کے لیے ایک منظم نظام کا ہونا ضروری ہے۔ یہ نظام آج کے دور میں بھی فقہاء اور دینی رہنماؤں کے ذریعے جاری ہے۔
نتیجہ:
امام علی نقی علیہ السلام اور امام حسن عسکری علیہ السلام کے یہ اقدامات ہمیں یہ درس دیتے ہیں کہ تنظیم، اعتماد، اور رہنمائی کا ایک مضبوط نظام ہر دور کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے ضروری ہے۔ ان کی بصیرت نے غیبت کے دور میں شیعوں کے استحکام کی بنیاد رکھی۔
اللہ ہمیں آئمہ علیہم السلام کی تعلیمات پر عمل کرنے اور غیبت کے دور کے حقیقی منتظرین میں شامل ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹
شہر بانو✍️
*💫کتابچہ6*
*🌷درس؛10*
*#غیبت صغری اور کبری میں فرق*
*🎤استاد مہدویت آغا علی اصغر سیفی صاحب*🌹
*🌐عالمی مرکز مہدویت قم*🌹
*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*🌹
السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ 🌹
اللهم صل على محمد وآل محمد 🌹 🍃🍃
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
*"اَللَّهُمَّ لَيِّنْ قَلْبِىْ لِوِلِيِ اَمرِكَ"*
*خـدایـا۔۔۔! مـیرے دل کـو امـام زمـانہ عـج کے لـئے نـرم کـردے🤲😭*
منگل 7 جمادی الثانی 1446( 10 دسمبر ، 2024)**
*خلاصہ # 10*
*موضوع : غیبت کبریٰ اور غیبت صغریٰ میں فرق*
*خلاصہ*
↙️گزشتہ درس میں بتایا گیا کہ ائمہ اطہار نے غیبت کے زمانے کے لیے اپنے شیعوں اور مومنین کو تیار کرنا شروع کر دیا تھا اور اس سلسلے میں ایک انجمن وکلا کی تشکیل بھی ہوئی تھی کہ جس کے ذریعے سے ائمہ کے مقرر کردہ وکیل لوگوں کے دینی اور شرعی مسائل کا حل پیش کرتے تھے ۔۔ یا پھر امام سے پوچھ کر لوگوں کو بتاتے تھے ۔
↙️امام حسن عسکری علیہ السلام کے دور سے ہی نیابت کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ آپ نے اپنی زندگی میں ہی ان نائبین کو نامزد کر دیا تھا ۔
*جناب عثمان بن سعید عمری اور ان کے بیٹے محمد بن عثمان* یہ دونوں نائب امام حسن عسکری علیہ السلام ہی بنا کر گئے تھے۔
امام مہدی علیہ السلام نے کیونکہ غیبت ت میں چلے جانا تھا تو ان کے دونوں نائبین خاص کی یہ ذمہ داری تھی کہ امام حسن عسکری اور امام مہدی علیہ السلام کے درمیان لوگوں کے لیے رابطے کا کام کریں اور یہ امام کے ہر حکم کو زمانہ غیبت میں لوگوں تک پہنچاتے تھے۔
↙️ کیونکہ غیبت صغریٰ کا زمانہ تھا تو لوگ ان نائبین سے سوال کرتے تھے اور یہ نائبین جواب امام زمانہ علیہ السلام سے لیتے تھے جس کو *توقیع* کہا جاتا ہے
*توقیع* واحد ہے *توقیعات* جمع ہے۔
اور پھر جو لوگ خمس کا مال وغیرہ دیتے تھے تو حکم امام سے اس کو مناسب اور مقررہ جگہ پہ خرچ کیا یا پہنچایا جاتا تھا۔۔ اور اگر کوئی ملاقات کا خواہش مند ہوتا تھا تو یہ نائبین امام کی اجازت سے ملاقات کا اہتمام کرتے تھے اور کچھ لوگ جو خط و کتابت کرتے تھے تو یہ اس خط و کتابت کے درمیان رابطے کا ذریعہ ہوتے تھے۔
💫 *یہ سب کام غیبت صغریٰ میں کیے جاتے تھے غیبت صغریٰ اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس دور میں امام سے رابطہ مکمل طور پر منقطع نہیں ہوا تھا کیونکہ امام کی طرف سے نائبین خاص مقرر تھے جو امام سے رابطہ برقرار رکھتے تھے۔
لیکن *غیبت کبریٰ* میں کوئی نائبین خاص نہیں ہیں بلکہ امام نے یہ بیان کر دیا تھا کہ ۔۔۔
1- جو بھی فقیہ عادل ہو ۔۔ 2- دین کی محافظت کرنے والا ہو ۔۔
3- اپنے نفس کا مخالف ہو
4- اور مطیع امام ہو ۔
تو غیبت کبری میں اس کی اطاعت کی جاے اور مسائل شریعہ کے حل کیلیے اس سے رابطہ کیا جائے ۔
غیبت کبریٰ میں خط و کتابت کا سلسلہ بند ہو گیا اور ان کی جگہ *عریضہ* نے لے لی۔۔
عریضہ اس عرضی کو کہتے ہیں جو کہ ہم 15 شعبان کو اپنے امام کو لکھتے ہیں ↙️ *لیکن یہ عرضی / عریضہ ہم ہر روز بھی لکھ سکتے ہیں اور لکھنا ضروری نہیں بلکہ کوئی مومن کسی وقت بھی اپنے دل کی بات اپنے امام سے کر سکتا ہے اور جب وہ اپنا مسلہ اپنے امام کو بتائے تو پھر امام بھی فوراً اس کا حل نکالتے ہیں ۔۔ صدق دل سے نکلی ہوئی آواز امام کی بارگاہ میں فورا پہنچتی ہے۔۔
غیبت صغری میں امام سے ملاقات ہو جاتی تھی لیکن غیبت کبریٰ میں امام سے ملاقات کا دعوی کرنے والا کذاب اور جھوٹا قرار دیا جاتا ہے۔
کیونکہ امام نے اپنی اخری نائب کو غیبت کبریٰ کے آغاز سے پہلے جو خط لکھا تھا اس میں امام نے غیبت کبریٰ کے آغاز کو بیان فرما دیا تھا اور ساتھ ہی یہ بھی بتایا تھا کہ اب اس دور میں اگر کوئی مجھ سے ملاقات کا دعویٰ کرے اور میرا سفیر ہونے کا دعویٰ کرے تو وہ جھوٹا ہے۔
↙️ *تاریخی اعتبار سے* غیبت اس لیے بھی ضروری تھی کہ اخری امام سے پہلے ہر امام کو دھوکے بازی سے یا زہر دے کر شہید کر دیا گیا۔۔ تو اخری حجت کے حفاظت کے لیے اور لوگوں کو امام کا ساتھ دینے کے لیے فکری اور عملی طور پہ تیار کرنے کے لیے امام کا لوگوں سے پوشیدہ رہنا مصلحت الہی ہے۔
🤲 دعا ہے کہ رب کریم ہمیں امام زمانہ علیہ السلام کے اطاعت گزار انصار اور آپ کے ظہور کیلیے زمینہ سازی کرنے والوں میں شامل فرمائے آمین ثم آمین
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹
شہر بانو✍️
*💫کتابچہ6*
*🌷درس؛10*
*#غیبت صغری اور کبری میں فرق*
*🎤استاد مہدویت آغا علی اصغر سیفی صاحب*🌹
*🌐عالمی مرکز مہدویت قم*🌹
*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*🌹
السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ 🌹
اللهم صل على محمد وآل محمد 🌹 🍃🍃
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
*"اَللَّهُمَّ لَيِّنْ قَلْبِىْ لِوِلِيِ اَمرِكَ"*
*خـدایـا۔۔۔! مـیرے دل کـو امـام زمـانہ عـج کے لـئے نـرم کـردے🤲😭*
منگل 7 جمادی الثانی 1446( 10 دسمبر ، 2024)**
*امام زمان عج کی غیبت کےاسباب*
▪️ *نائب خاص کا فلسفہ*
امام حسن عسکری علیہ السلام نے اپنی زندگی میں ہی اپنے فرزند آخری امام ع کے لئے پہلے دو نائب خاص مقرر فرمائے حضرت عثمان بن سعید اور ان کے بیٹے حضرت محمد بن عثمان
غیبت صغریٰ میں ان کی ذمہ داری یہ تھی کہ امام عسکری ع کی شہادت کے بعد لوگوں اور امام زمانہ عجل اللہ کے درمیان واسطہ بنیں۔ لوگوں کے سوال/اموال امام ع کی خدمت میں۔ پہنچائیں اور ان کے جوابات (توقیعات) لوگوں تک پہنچائیں۔
کسی کی خواہش امام ع سے ملاقات کی ہوتی تو وہ بھی کروا دیتے۔
یہ سب کام غیبت صغریٰ میں انجام پاتے تھے۔
یعنی امام ع کا رابطہ 100٪ لوگوں سے منقطع نہیں ہوا تھا۔ تاکہ غیبت کبریٰ کے لئے لوگ تیار ہو جائیں۔
*غیبت کبریٰ* میں نائبین خاص نہیں تھے۔ یعنی کسی کو نام لے کر معین نہیں فرمایا تھا۔ ایک ضابطہ /کلیہ بیان فرما دیا کہ جو بھی عادل فقیہہ ہو ، دین کی محافظ، اپنے نفس کی مخالفت کرتا ہو ، اپنے امام کا مطیع ہو، ان کی طرف آپ اپنی رہنمائی کے لئے رجوع کر سکتے ہیں۔ یہ لوگوں پر ہماری طرف سے حجت ہیں۔ یہ نائبین عام ہیں۔
غیبت کبریٰ میں خط و کتابت کا سلسلہ بند ہو گیا، عریضہ نویسی شروع ہو گئی۔
عریضہ صرف نیمہ شعبان سے اور تحریر ضروری نہیں بلکہ بول بھی سکتے۔ یہ ہوا آپ ع کی مطیع ہے۔ سب آوازیں امام زمان علیہ السلام کی خدمت میں پہنچاتی ہے۔
غیبت صغریٰ میں نائب خاص کے ذریعے ملاقات ہو جاتی تھی۔ اب غیبت کبریٰ میں ایسی ملاقات کا اہتمام کرنے والے نائبین خاص موجود نہیں اور ایسا دعویٰ کرنے والا کذاب ہے۔
اب امام ع جب خود چاہتے ہیں تو شرف ملاقات بخش دیتے ہیں۔
غیبت صغریٰ میں آخری دو نائبین خاص امام ع نے خود مقرر فرمائے: حسین بن روح نوبختی رہ اور علی بن محمد سمری رہ
آخری نائب کو امام ع کا خط ملا جس میں امام ع نے غیبت کبریٰ کا اعلان فرمایا اور علامات ظہور کا منتظر رہنے کا فرمایا۔ اس دوران جو بھی نائب خاص ہونے کا دعویٰ کرے وہ کذاب ہے۔
▪️ *غیبت صغریٰ اور کبریٰ میں بنیادی فرق*
▪️ *تاریخی اعتبار سے غیبت کی وجوہات*
صدر اسلام سے لے کر آج تک حق و باطل کی جنگ جاری ہے۔ رسول کریم ص کی زندگی کی جدو جہد سامنے ہیں کہ آپ ع نے کتنی مشکلات کے بعد الہی حکومت قائم فرمائی۔
آپ ص کے وصال حق کے بعد منافقین کی مسلسل ریشہ دوانیوں کے باعث نائبین برحق اس الہی حکومت کو جاری نہ رکھ سکے۔ اور دوسرے حکومت کرتے رہے۔
یہ سب ظالم حکومتیں آئمہ معصومین علیھم السلام کو اپنے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتے اور ہر ممکن طریقے سے انہیں معاشرے میں (نعوذ باللہ) بے وقعت کرنے، دور کرنے اور راستے سے ہٹانے کی سازشیں کرتے رہے۔
ظالم حکومتوں کے عباسی دور میں امام رضا علیہ السلام کے بعد یہ اضطراب اتنا بڑھ گیا تھا کہ آئمہ علیہم السلام کو آزادانہ طور پر لوگوں کی تعلیم، تدریس رہنمائی کرنے کی اجازت بھی نہیں دیتے بلکہ آئمہ علیھم السلام کو نظر بند رکھتے رہے۔
امام نقی علیہ السلام کے زمانے میں یہ سختی اتنی بڑھ گئی کہ آپ کے فرزند امام عسکری علیہ السلام کو شادی کرنے سے منع کر دیا گیا۔ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اسی سلسلے سے منجی آخر نے آنا ہے ، تو اس کو روکنے کے لئے ظالم حکومتیں ہر ممکن کوششیں کرتی رہیں۔
پے در پے ہمارے آئمہ علیہم السلام کو چھوٹی عمر میں ہی شہید کرتے رہے۔
انصار کی تعداد مہیا نہیں تھی اور نہ ان کے درمیان ایسی تنظیم تھی کہ قوت پیدا کر سکیں ، مسائل کو سیاسی و اجتماعی نگاہ سے ایسے دیکھیں کہ امام ع کی حکومت قائم ہو سکے۔ مومنین خود بھی اس درجے تک نہیں پہنچ پا رہے تھے یا ظالمین کے ظلم کی وجہ سے یہ مقام حاصل نہیں ہو سکا تھا تو تاریخی اعتبار سے ضروری تھا کہ امام ع لوگوں کی نظروں سے غائب ہو جائیں جیسے پہلے بھی کچھ انبیاء کرام ایسے ہی لوگوں کی مناسب فکری و اجتماعی تیاری کے لئے نظروں سے اوجھل ہوتے رہے۔ اور جب خدا نے چاہا ظاہر ہو جاتے۔
ورنہ اگر امام ع ظاہر بہ ظاہر لوگوں کے درمیان موجود رہتے تو آپ ع کو سابقہ آئمہ ع کی طرح شہید کر دیا جاتا۔
پس پروردگار نے مصلحتاً آپ ع کو لوگوں کی نظروں سے غائب کر دیا تاکہ وہ امت تیار ہو جو آخری عالمگیر الہی حکومت کے قیام کے لئے آپ ع کی نصرت کر سکے۔
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹
شہر بانو✍️
*💫کتابچہ6*
*🌷درس؛10*
*#غیبت صغری اور کبری میں فرق*
*🎤استاد مہدویت آغا علی اصغر سیفی صاحب*🌹
*🌐عالمی مرکز مہدویت قم*🌹
*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*🌹
السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ 🌹
اللهم صل على محمد وآل محمد 🌹 🍃🍃
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
*"اَللَّهُمَّ لَيِّنْ قَلْبِىْ لِوِلِيِ اَمرِكَ"*
*خـدایـا۔۔۔! مـیرے دل کـو امـام زمـانہ عـج کے لـئے نـرم کـردے🤲😭*
منگل 7 جمادی الثانی 1446( 10 دسمبر ، 2024)**
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹
شہر بانو✍️
*کتابچہ 6*
*امام زمان عج کی غیبت کےاسباب*
*درس 11: احادیث و روایات کی رو سے غیبت کے اسباب ، پہلا سبب غیبت سر و راز الہی ہے*
*استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب*
🪷موضوع سخن امام زماں عجل اللہ شریف کی غیبت کے اسباب،
ایک تو تاریخی وجہ ہے امام کی غیبت کے ان کے زمانے کے ظالم ستم گر حاکم وہ مولا کو شہید کرنا چاہتے تھے اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ امام عسکری علیہ السلام کو شادی سے منع کیا گیا اور اپ کی شادی بھی مخفی ہوئی پھر امام کی ولادت مخفی ہوئی صرف خاص شیعہ اصحاب علماء فقہ سے ملاقات ہوتی تھی عوام سے ملاقات نہیں ہوتی پھر جیسے امام عسکری علیہ السلام کی شہادت ہوئی اپ پردہ غیبت میں چلے گئے چونکہ زمانے کے ظالم جانتے تھے کہ اسی خاندان میں وہ ہستی پیدا ہوگی جو ❤️مہدی عج ہے جو زمین کو عدل و انصاف سے بھر دینگی اور ان کی ظالمانہ حکومتوں کو ختم کرنے یہ تاریخی وجہ تھی کہ ظالم اپ کے قتل کے درپے تھے اور مولا کے ناصر ابھی تیار نہیں تھے،
♦️احادیث میں ہم دیکھ رہے ہیں کہ مولا کی غیبت کو الہی اسرار الہی رازوں میں سے ایک راز قرار دیا'
📚 کمال الدین جو کہ معروف کتاب ہے شیخ صدوق علیہ رحمہ کی مہدویت کی اس میں جناب ابن عباس نے رسول خدا صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے ایک حدیث نقل کی اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں،
کہ میرے بعد علی ابن ابی طالب صلواۃ اللہ علیہ میری امت کے امام ہیں انا علی امام امتی علی جو ہے وہ میری امت کے امام ہیں اور خلیفہ ہیں ان پر میرے بعداس کے بعد فرماتے ہیں کہ ان کی اولاد میں سے انکی نسل میں سے ایک قائم ہے جن کا انتظار ہوگا اور وہ قیام کریں گے اللہ تعالیٰ اس قائم کے ذریعے زمین کو عدل و انصاف سے بھرے گا جس طرح کے ظلم و جور سے بھری ہوئی ہوگے اس کے بعد پیغمبر جو ہے وہ قسم کھاتے ہیں فرماتے ہیں کہ قسم ہے اس خدا کی جس نے مجھے بشارت دینے والا بنا کر بھیجا فرماتے ہیں کہ وہ لوگ جو ان کی غیبت کے زمانے میں اپنے اعتقاد دین حق پر ثابت قدم ہوں گے فرماتے ہیں کہ وہ جو ہے کبرین احمر سے بھی زیادہ قیمتی ہیں اور اللہ کی بارگاہ میں عزت پائیں گے قبریت احمر سے مراد ایک ایسا جوہر ہے کہ جو بہت ہی نایاب ہے اور قیمتی ہے تو عربوں میں اس جوہر کو کبریت احمر کہا جاتا تھا یہ جوہر اگر کسی کے پاس ہو تو گویا اس نے دنیا کا سب سے قیمتی خزانہ پا لیا تو رسول خدا نے وہ لوگ جو زمانہ غیبت میں دین حق پر ثابت قدم ہے انہیں کبریت احمر سے بھی زیادہ مقام ان کے لیے فرمایا اور اس کے بعد فرماتے ہیں اس روایت کے اندر کہ جب یہاں تک نبی خدا پہنچے تو جناب جابر ابن عبداللہ جو ہے وہ کھڑے ہو گئے انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ کہ اپ کی نسل میں سے یہ جو قائم ہے ایا یہ غائب بھی ہوں گے تو قال فرماتے ہیں ہاں خدا کی قسم ایسا ہی ہوگا اور اس کے بعد نبی خدا مزید فرماتے ہیں یا جابر مومن انکے غیبت میں پہچاننے جائیں گے اور کافر جو ہے وہ ختم اور نابود ہو جائیں گے یعنی یہ غیبت ایک قسم کا امتحان ہے،
*اور اس کے بعد فرماتے ہیں کہ غیبت یہ الہی رازوں میں سے ایک امر ہے اور خدائی رازوں میں سے ایک راز ہے کہ جسے اللہ نے اپنے بندوں سے چھپایا ہوا ہے اور اس کے بعد فرماتے ہیں کہ جابر اس غیبت میں اس راز میں شک نہیں کرنا فرماتے ہیں کہ اللہ کے امر میں جو ہے وہ شک کفر کی مانند ہوتا ہے ،
شہر بانو✍️،
*بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔*
*کورس 02...کتابچہ06*
*درس 11*
➖➖➖➖🚩
*احادیث و روایات کی روشنی میں امام زمان ع کی غیبت کے اسباب*
*پہلی وجہ۔۔۔ الہی راز*
▫️ کمال الدین معروف کتاب شیخ صدوق رہ میں حدیث رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم:
"میرے بعد علی ابن ابی طالب میری امت کے امام ہیں۔ اس کے بعد ، آپ کی اولاد میں سے ایک قائم ہین، جن کا انتظار ہو گا۔ ان قائم کے ذریعے خدا زمین کو عدل و انصاف سے بھرے گا جیسے وہ ظلم و جور سے بھری ہوئی ہو گی۔
قسم ہے اس ذات کی جس نے مجھے بشیر و نذیر بنا کر بھیجا، وہ لوگ جو ان کی غیبت کے زمانے میں دین حق پر ثابت قدم رہیں گے ، وہ کبریت احمر (نایاب جوہر) سے زیادہ قدر و قیمت پائیں گے۔
یہاں تک نبی کریم ص پہنچے تو حضرت جابر رض نے کھڑے ہو کر پوچھا یا رسول اللہ ! آپ کی نسل میں سے یہ قائم کیا غائب بھی ہوں گے؟ فرمایا : ہاں ایسا ہی ہو گا۔ اس غیبت میں مومنین پہچانے جائیں گے اور کافر نابود ہو جائیں گے۔
یہ غیبت الہی امروں میں سے ایک امر اور خدائی رازوں میں سے ایک راز ہے۔ جسے اللہ نے اپنے بندوں سے چھپایا ہوا ہے۔
اے جابر ! اس راز میں میں شک نہیں کرنا۔ کیونکہ اللہ کے امر میں شک کفر کی مانند ہے۔
▪️ *امام صادق علیہ السلام کی حدیث*
منقول از عبداللہ بن فضل ہاشمی
"اس امر کے صاحب پر عقیدہ حق والے شک نہیں کریں گے لیکن عقیدہ باطل والے شک کریں گے۔ راوی نے کہا : مولا ! آپ پر میں فدا یہ غیبت کیوں ہے ؟
فرمایا : اس کی ایک وجہ بتانے کی ہمیں اجازت نہیں ہے۔
اس سے پہلے جو انبیاء/حجج الہی غائب ہوئے اسی حکمت پر یہ غیبت ہے۔
غیبت کی حکمت، اس سر الہی کا کشف ظہور کے بعد ہو گا ۔
جس طرح جناب خضر نے جو کام انجام دئیے ، پہلے ان کی وجہ اور حکمت بیان نہیں کی۔( مثلاً کشتی میں سوراخ/بچے کا قتل/ گرتی دیوار کی تعمیر) انہوں نے ان تمام کاموں کی حکمت حضرت موسیٰ ع سے اس وقت بیان کی جب ان سے جدائی کا وقت آیا ۔
یا ابن الفضل ! یہ اللہ کے رازوں میں سے ایک راز ہے ، یہ خدا کے غیوب میں سے ایک غیب ہے ۔
جب ہم جانتے ہیں کہ خدا صاحب حکمت ہے ، اور اس کا کوئی کام ہماری بھلائی سے خالی نہیں ہے۔ پس اگر چہ ہمیں کسی کام کی حکمت معلوم نہ بھی ہو تو پھر بھی ہمارا خدا پر یقین و اعتماد ہے۔
🚩 *اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم۔*
شہر بانو✍️
*بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔*
*کورس 02...کتابچہ06*
*درس 12*
*[از طرف شازیہ رباب]*
➖➖➖➖🚩
▫️ *غیبت امام علیہ السلام کا دوسرا سبب۔۔۔ جان کی حفاظت*
جان کی حفاظت سے غیبت ہم نے سابق انبیاھ میں بھی دیکھی ہے۔ جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی جان کو خطرہ ہوا تو آپ مدائن تشریف لے گئے۔
حضرت یوسف علیہ السلام کی جان کو اپنے ہی بھائیوں سے خطرہ ہوا تو سرزمین کنعان سے مصر کی طرف لے جائے گئے۔
ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جان کو خطرہ ہوا تو آپ ع نے مکہ سے حجرت فرمائی اور تین دن تک آپ کو پوشیدہ رکھا۔
پس ایسی حجت خدا جن کی زندگی خدا کو چاہئے ، خدا ان کی جان محفوظ رکھنے کے لئے خاص اہتمام فرماتا ہے۔
▫️ صاحب الزمان علیہ السلام، کہ آپ آخری حجت خدا ہیں اور زمین میں آخر کار عدل و انصاف آپ کے ہاتھوں برپا ہونا ہے تو آپ ع کی حفاظت کا اہتمام پیدائش سے پہلے سے شروع ہو گیا تھا۔
امام حسن عسکری علیہ السلام کی خفیہ انداز سے شادی، آپ ع کی ولادت کو پوشیدہ رکھنا اور اس کے بعد بھی صرف خاص لوگوں کی آپ تک رسائی ممکن تھی۔ یہ سب خدائی اہتمام تھے۔
خدا قادر مطلق ہے وہ مسلسل معجزات کے ذریعے بھی آپ ع کی حفاظت کا انتظام فرما سکتا ہے۔
لیکن مسلسل معجزات، اس جہان مسبب الاسباب کی نیچر کے خلاف ہے۔
اس طرح معجزات کے تسلسل سے لوگ بھی آپ کے ساتھ کے لئے آمادہ نہ ہوں تاکہ سب کام معجزے سے ہی انجام پا جائیں۔
لوگ نہ اپنی اصلاح کی طرف متوجہ ہوتے اور اپنی مقصد خلقت سے غافل ہی رہتے۔
▫️ *امام صادق علیہ السلام کی روایت*
چند اصحاب امام صادق علیہ السلام آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ دیکھا آپ خاک پر تشریف فرما ہیں۔ اور آپ ع اس ماں کی مانند گریہ کر رہے ہیں کہ جس بچے کی وہ عاشق تھی وہ وفات پا جائے۔ کثرت گریہ سے امام ع کا رنگ متغیر تھا اور آنسووں سے چہرہ ء اقدس تر تھا۔ اور فرما رہے تھے :
اے میرے آقا ! آپ کی غیبت نے میری آنکھوں سے نیند کو اڑا دیا ہے اور میرا یہ بستر مجھے بستر راحت نہیں لگتا ، دل مضطرب ہے۔
امام کے یہ چاروں اصحاب حیرانگی سے پوچھنے لگے کہ اے بہترین مخلوق خدا کے فرزند ! خدا نہ کرے آپ اس طرح سے گریہ کریں۔ آخر کس واقعے نے آپ کو اتنا غمگین کیا ہے ؟
امام صادق ع نے گہری اور ٹھندی سانس لے کر فرمایا ہمارے قائم کی ولادت ، ان کی غیبت اور ظہور میں تاخیر، ان کی طولانی عمر اور مومنین کا اس غیبت میں مختلف امتحانوں میں گرفتار ہونا اور لوگوں کے دوں میں شک پیدا ہونا ، اور منین کا اپنے دین سے مرتد ہونا۔
خدا نے ہمارے قائم میں تین صفتیں جاری کی ہیں:
1) اللہ نے آپ کی ولادت حضرت موسیٰ ع کی ولادت جیسا قرار دیا۔
2) آپ کی غیبت کو حضرت عیسیٰ ع کی غیبت جیسا قرار دیا۔
3) ظہور میں تاخیر کو حضرت نوح ع کی تاخیر جیسا قرار دیا۔ جیسے حضرت نوح ع کی کئی سو سال کی محنتوں کے بعد آخر کار خدا نے ظالمین کو طوفان سے نابود کیا۔
اور آپ ع کی عمر مبارک حضرت خضر علیہ السلام کی طرح طولانی قرار دی۔
🚩 *اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم۔*
شہر بانو✍️
🌷 *بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ،*
"کورس 2"
"کتابچہ6"
"درس12"
🪷ہماری گفتگو کا موضوع مولا امام زماں عجل اللہ فرجہ شریف کی غیبت ہے غیبت کا فلسفہ کیا ہے اور کیوں امام زمانہ غائب ہوئے اس حوالے سے سب سے پہلی وجہ جو ہے وہ یہ ایک الہی راز ہے اس کو ہم نے بیان کیا اج احادیث اور روایات کی رو سے مولا امام زماں عجل اللہ فرجہ شریف کی غیبت کی دوسری اہم وجہ جو ہے وہ بیان ہو بہت ساری روایات میں ❤️نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے نقل ہونے والی احادیث میں یہ ذکر ہوا ہے کہ ,
❤️امام مہدی علیہ السلام کی جو غیبت ہے اس کی وجہ امام کی جان کی حفاظت ہم نے اس سے پہلے بھی مختلف انبیاء کی زندگی میں یہ غیبت دیکھی جیسے حضرت موسی علیہ السلام کی جب جان کو خطرہ ہوا تو اللہ تعالی کے حکم سے وہ مداین کی طرف چلے گئے یہ واقعہ قران مجید میں موجود ہے جب ایک کپتی مستری جو ہے حضرت موسی علیہ السلام کے ہاتھوں مارا گیا جو کہ ظلم کر رہا تھا تو فرعون کی گورنمنٹ جو ہے وہ حضرت موسی کے در پہ ہو گئی تو اپ جو ہے وہ وہاں چلے گٸے،
یا مثلا جب حضرت یوسف علیہ السلام کی جان کو اپنے ہی بھائیوں سے خطرہ لاحق ہوا جو حسد کی وجہ سے اپ کو مارنا چاہتے تھے کنویں میں بھی انہوں نے ڈال دیا اور قتل کرنے کی بھی کوشش کی تو خدا کی مشیت اور مصلحت یہی ہوئی کہ حضرت یوسف علیہ السلام سرزمین کنعان سے چلے جائیں اور کچھ عرصہ مصر کی طرف تاکہ نبی خدا کی جان بچ جائے خود ہمارے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی جب جان مبارک کو خطرہ ہوا اللہ نے تین دن تک نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو غائب رکھا ایسی ہے حجت خدا کہ جس کی زندگی ابھی خدا کو چاہیے ،
شہر بانو✍️،
*کتابچہ 6*
*امام زمان عج کی غیبت کےاسباب*
*درس 12: احادیث و روایات کی رو سے غیبت کے اسباب ، دوسرا سبب جان کی حفاظت ، امام صادق ع کی روایت*
*استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب*
_🌼خلاصہ:_
ہماری گفتگو کا موضوع امام عج کی غیبت ہے غیبت کا فلسفہ کیا ہے اور کیوں امام مہدی عج غائب ہوئے اس حوالے سے سب سے پہلی وجہ جو ہے وہ یہ ایک الہی راز ہے اس کو ہم نے بیان کیا آج احادیث اور روایات کی رو سے امام زمانہ عج کی غیبت کی دوسری اہم وجہ جو ہے وہ درج زیل ہے:
*🌸جان کی حفاظت:*
←رسول خداﷺ سے نقل ہوا ہے کہ:
"میرے خاندان سے ایک شخص مہدی قیام کرئے گا اور ظلم و ستم کی بنیادوں کو تباہ کر دے گا."
امام مہدی عج کی جو غیبت ہے اس کی وجہ امام کی جان کی حفاظت ہم نے اس سے پہلے بھی مختلف انبیاء کی زندگی میں یہ غیبت دیکھی جیسے ←حضرت موسی کی جب جان کو خطرہ ہوا تو اللہ تعالی کے حکم سے وہ مدائن کی طرف چلے گئے یہ واقعہ قران مجید میں موجود ہے جب ایک مستری جو ہے حضرت موسی کے ہاتھوں مارا گیا جو کہ ظلم کر رہا تھا تو فرعون کی حکومت جو ہے وہ حضرت موسی کی جان کے درپہ ہو گئی تو آپوہاں سے وہاں چلے گٸے
←جب حضرت یوسف کی جان کو اپنے ہی بھائیوں سے خطرہ لاحق ہوا جو حسد کی وجہ سے آپ کو مارنا چاہتے تھے کنویں میں بھی انہوں نے ڈال دیا اور قتل کرنے کی بھی کوشش کی تو خدا کی مشیت اور مصلحت یہی ہوئی کہ حضرت یوسف سرزمین کنعان سے چلے گے اور کچھ عرصہ مصر کی طرف تاکہ نبی خدا کی جان بچ جائے۔
← خود ہمارے پیغمبرﷺ کی جب جان کو خطرہ ہوا تو اللہ نے تین دن تک رسول خداﷺ کو غائب رکھا ایسی ہے حجت خدا کہ جس کی زندگی ابھی خدا کو چاہیے
امام مہدی عج کہ آپ آخری حجت خدا ہیں اور زمین میں آخر کار عدل و انصاف آپ کے ہاتھوں برپا ہونا ہے تو آپ عج کی حفاظت کا اہتمام پیدائش سے پہلے سے شروع ہو گیا تھا
امام حسن عسکری کی خفیہ انداز سے شادی آپ کی آپ عج کی ولادت کو پوشیدہ رکھنا اور اس کے بعد بھی صرف خاص لوگوں کی آپ تک رسائی ممکن تھی یہ سب خدائی اہتمام تھا
خدا قادر مطلق ہے وہ مسلسل معجزات کے ذریعے بھی آپ عج کی حفاظت کا انتظام فرما سکتا ہےلیکن مسلسل معجزات اس جہان مسبب الاسباب کی نیچر کے خلاف ہےاس طرح معجزات کے تسلسل سے لوگ بھی آپ کے ساتھ کے لئے آمادہ نہ ہوں تاکہ سب کام معجزے سے ہی انجام پا جائیں لوگ نہ اپنی اصلاح کی طرف متوجہ ہوتے اور اپنے مقصد خلقت سے غافل ہی رہتے
💫 *امام صادق علیہ السلام کی روایت:*
چند اصحاب امام صادق آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے دیکھا کہ آپ خاک پر تشریف فرما ہیں اور آپ اس ماں کی مانند گریہ کر رہے ہیں کہ جس بچے کی وہ عاشق تھی وہ وفات پا جائےکثرت گریہ سے امام کا رنگ متغیر تھا اور آنسووں سے چہرہ تر تھا اور فرما رہے تھے :
*اے میرے آقا!! آپ کی غیبت نے میری آنکھوں سے نیند کو اڑا دیا ہے اور میرا یہ بستر مجھے بستر راحت نہیں لگتا دل مضطرب ہے*
امام کے یہ چاروں اصحاب حیرانگی سے پوچھنے لگے کہ اے بہترین مخلوق خدا کے فرزند !!خدا نہ کرے آپ اس طرح سے گریہ کریں آخر کس واقعے نے آپ کو اتنا غمگین کیا ہے؟؟
امام صادق نے گہری اور ٹھندی سانس لے کر فرمایا: _ہمارے قائم کی ولادت ان کی غیبت اور ظہور میں تاخیر ان کی طولانی عمر اور مومنین کا اس غیبت میں مختلف امتحانوں میں گرفتار ہونا اور لوگوں کے دوں میں شک پیدا ہونا اور مومنین کا اپنے دین سے مرتد ہونا_
🫧خدا نے ہمارے قائم میں تین صفتیں جاری کی ہیں:
١- اللہ نے آپ کی ولادت حضرت موسیٰکی ولادت جیسا قرار دیا
٢_ آپ عج کی غیبت کو حضرت عیسیٰ کی غیبت جیسا قرار دیا
٣- ظہور میں تاخیر کو حضرت نوح کی تاخیر جیسا قرار دیا جیسے حضرت نوح کی کئی سو سال کی محنتوں کے بعد آخر کار خدا نے ظالمین کو طوفان سے نابود کیا
اور آپ عج کی عمر مبارک حضرت خضر کی طرح طولانی قرار دی
والسلام
التماس دعا
شہر بانو✍️
اسلام علیکم
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
درس12
ہمارا موضوع ے سخن امام زماں عجل اللہ فرجہ کی غیبت ہے غیبت کا فلسفہ کیا ہے اور کیوں امام زمانہ غائب ہوئے اس حوالے سے سب سے پہلی وجہ جو ہے وہ یہ ایک الہی راز ہے اس کو ہم نے بیان درس 11 میں
@ احادیث اور روایات کی رو سے مولا امام زماں عجل اللہ فرجہ کی غیبت کی دوسری اہم وجہ جان کی حفاظت ہے
@ نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے نقل ہونے والی احادیث میں یہ ذکر ہوا ہے کہ
@ امام مہدی علیہ السلام کی جو غیبت ہے اس کی وجہ امام کی جان کی حفاظت ہم نے اس سے پہلے بھی مختلف انبیاء کی زندگی میں یہ غیبت دیکھی جیسے حضرت موسی علیہ السلام کی جب جان کو خطرہ ہوا تو اللہ تعالی کے حکم سے وہ مداین کی طرف چلے گئے یہ قران مجید میں تحریرہے جب ایک مستری جو ہحضرت موسی علیہ السلام کے ہاتھوں مارا گیا جو کہ ظلم کر رہا تھا تو فرعون کے سپاہی حضرت موسی کو مارنے در پہ ہو گئے تو اپ وہاں چلے گٸے،
اورجب حضرت یوسف علیہ السلام کی جان کو اپنے ہی بھائیوں سے خطرہ لاحق ہوا جو حسد کی وجہ سے اپ کو مارنا چاہتے تھے کنویں میں بھی انہوں نے ڈال دیا اور قتل کرنے کی بھی کوشش کی تو خدا کی مشیت اور مصلحت یہی ہوئی کہ حضرت یوسف علیہ السلام سرزمین کنعان سے چلے جائیں اور کچھ عرصہ مصر کی طرفلے گی تاکہ نبی خدا کی جان بچ جائے خود ہمارے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی جب جان کو خطرہ ہوا تو اللہ نے تین دن تک نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو غائب رکھا ایسی ہے حجت خدا کہ جس کی زندگی ابھی خدا کو چاہیے ،
اور جب خدا چاہے تو اللہ کے حکم سے امام آجاتے گے
شہر بانو✍️
کتابچہ 6
*امام زمان عج کی غیبت کےاسباب*
درس 12: غیبت کے اسباب دوسرا سبب جان کی حفاظت امام صادق ع کی روایت
خلاصہ:
گفتگو کا موضوع امام عج کی غیبت ہے غیبت کا فلسفہ کیا ہے اور ایسا کیوں ہے کہ امام مہدی عج غیبت میں ہیں اس کی سب سےاہم و پہلی وجہ جو ہے وہ یہ ایک الہی راز ہے اس کو ہم نے بیان کیا آج احادیث اور روایات کی رو سے امام زمانہ عج کی غیبت کی دوسری اہم وجہ جو ہے وہ درج زیل ہے:
←رسول خداﷺ سے نقل ہوا ہے کہ:
میرے خاندان سے ایک شخص مہدی قیام کرئے گا اور ظلم و ستم کی بنیادوں کو تباہ کر دے گا.
امام مہدی عج کی جو غیبت ہے اس کی وجہ امام کی جان کی حفاظت ہم نے اس سے پہلے بھی مختلف انبیاء کی زندگی میں یہ غیبت دیکھی جیسے حضرت موسی کی جب جان کو خطرہ ہوا تو اللہ تعالی کے حکم سے وہ مدائن کی طرف چلے گئے
جب حضرت یوسف کی جان کو اپنے ہی بھائیوں سے خطرہ لاحق ہوا جو حسد کی وجہ سے آپ کو مارنا چاہتے تو خدا کی مشیت اور مصلحت یہی ہوئی کہ حضرت یوسف سرزمین کنعان سے مصر چلے گۓ
ہمارے نبیﷺ کی جب جان کو خطرہ ہوا تو اللہ نے تین دن تک رسول خداﷺ کو غائب رکھا
امام مہدی عج آخری حجت خدا ہیں تو آپ عج کی حفاظت کا اہتمام پیدائش سے پہلے سے شروع ہو گیا تھا
آپ عج کی ولادت کو پوشیدہ رکھنا اور اس کے بعد بھی صرف خاص لوگوں کی آپ تک رسائی ممکن تھی یہ سب خدائی اہتمام تھا
امام صادق علیہ السلام کی روایت ہے کہ
چند اصحاب امام صادق{ع) آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے دیکھا کہ آپ خاک پر تشریف فرما ہیں اور آپ(ع) اس ماں کی مانند گریہ کر رہے ہیں کہ جس بچے کی وہ عاشق تھی وہ وفات پا جائےکثرت گریہ سے امام کا رنگ متغیر تھا اور آنسووں سے چہرہ تر تھا اور فرما رہے تھے :
اے میرے آقا!! آپ کی غیبت نے میری آنکھوں سے نیند کو اڑا دیا ہے اور میرا یہ بستر مجھے بستر راحت نہیں لگتا دل مضطرب ہے
امام کے یہ چاروں اصحاب حیرانگی سے پوچھنے لگے کہ اے بہترین مخلوق خدا کے فرزند !!خدا نہ کرے آپ اس طرح سے گریہ کریں آخر کس واقعے نے آپ کو اتنا غمگین کیا ہے؟
امام صادق (ع)نے گہری سانس لے کر فرمایا: _ہمارے قائم کی ولادت ان کی غیبت اور ظہور میں تاخیر ان کی طولانی عمر اور مومنین کا اس غیبت میں مختلف امتحانوں میں گرفتار ہونا اور لوگوں کے دوں میں شک پیدا ہونا اور مومنین کا اپنے دین سے مرتد ہونا_
🫧خدا نے ہمارے قائم میں تین صفتیں جاری کی ہیں:
١- اللہ نے آپ کی ولادت حضرت موسیٰ کی ولادت جیسا قرار دیا
٢_ آپ عج کی غیبت کو حضرت عیسیٰ (ع)کی غیبت جیسا قرار دیا
٣- ظہور میں تاخیر کو حضرت نوح کی تاخیر جیسا قرار دیا جیسے حضرت نوح کی کئی سو سال کی محنتوں کے بعد آخر کار خدا نے ظالمین کو طوفان سے نابود کیا
شہر بانو✍️
*بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔*
*کورس 02...کتابچہ06*
*درس 13*
*[از طرف شازیہ رباب]*
➖➖➖➖🚩
*دوسرا سبب غیبت صاحب الزمان علیہ السلام و عجل فرجھم۔۔۔ جان کی حفاظت 2*
▫️ *امام صادق علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حدیث نقل کرتے ہیں : ( کتاب بحار الانوار)*
وہ جوان حتما غائب ہوں گے۔ اور سبب غیبت کے بارے میں فرمایا (قتل کے خوف سے)
▫️ *جناب زرارہ امام باقر علیہ السلام سے نقل کرتے ہیں:*
وہ جوان ظہور سے پہلے غیبت اختیار کرے گا۔ اور سبب غیبت بیان فرمایا کہ وہ خوف رکھیں گے۔ اور اس کے بعد اپنے جسم مبارک کی طرف اشارہ فرمایا۔ زرارہ نے اس اشارے کی تشریح کی کہ انہیں قتل کو خوف ہو گا۔
▫️ قتل/جان کے خوف کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ آپ اللہ کی راہ میں جان دینے سے خوف کرتے تھے۔ یہ احتیاط ویسی ہی ہے جیسے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہجرت کی اور کفار آپ کے تعاقب میں تھے تو آپ ص نے جان بچانے کی غرض سے تین دن تک غار ثور میں پناہ لی۔
ان کا خوف اس سبب ہوتا ہے کہ جب تک خدا کی مصلحت ہے کہ جان باقی رہے ، اور الہی ذمہ داریوں کو پورا کرنا ہو تو وہ اپنی زندگی کو مقدم رکھتے اور جان محفوظ رکھتے ہیں۔
▫️ شیخ طوسی رہ جو شیخ مفید رہ کے شاگردوں میں سے ہیں جنہوں نے حوزہ علمیہ نجف تاسیس فرمایا، وہ اپنی *کتاب غیبت طوسی* میں مولا امام زمان علیہ السلام کی غیبت کا فلسفہ بیان کرتے ہیں:
چونکہ آخری حجت کے قتل ہونے کا خوف تھا تو اس لئے حکم خدا سے ہی اپنی زندگی کو محفوظ رکھا۔
▫️ *بعنوان حکمت*
گذشتہ انبیاء ع کی سنت کا آپ کے ذریعے جاری ہونا۔ جیسے حضرت عیسیٰ ع کی جان کو خطرہ ہوا تو خدا نے آپ کو اٹھا لیا۔
ابن سدیر امام صادق علیہ السلام سے نقل کرتے ہیں:
ہمارے قائم کے لئے طولانی غیبت ہے۔ اور اس کی وجہ بیان فرمائی کہ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ امام قائم علیہ السلام کی سنتیں آپ ع کے وجود مقدس سے ظاہر ہوں۔ اور غیبت بھی گذشتہ انبیاء ع میں سے ایک سنت ہے۔
🚩 *اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم۔*
شہر بانو✍️
درس :13
کتابچہ _دوم_
🍁دوسرا سبب غیبت صاحب الزمان عج اور انکی جان کی حفاظت
°امام صادق علیہ السلام رسول اللہ ص سے حدیث نقل کرتے ہیں کہ
وہ جوان حتما غائب ہوں گے۔ قتل کے خوف سے
°جناب زرارہ امام باقر علیہ السلام سے نقل کرتے ہیں کہ
وہ جوان ظہور سے پہلے غیبت اختیار کرے گا۔ اور سبب غیبت بیان فرمایا کہ وہ خوف رکھیں گے۔ اور اس کے بعد اپنے جسم مبارک کی طرف اشارہ فرمایا۔ زرارہ نے اس اشارے کی تشریح کی کہ انہیں قتل کو خوف ہو گا۔
قتل/کے خوف کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ آپ اللہ کی راہ میں جان دینے سے خوف کرتے تھے۔ اس کی مثال ایسی ہے کی جیسے جب رسول اللہ ص کے کفار تعاقب میں تھے تو آپ ص نے جان بچانے کی غرض سے تین دن تک غار ثور میں پناہ لی اور وہی مقیم رہے
شیخ طوسی جنہوں نے حوزہ علمیہ نجف تاسیس فرمایا، وہ اپنی کتاب غیبت طوسی میں امام زمن عج کی غیبت کا فلسفہ بیان کرتے ہیں
چونکہ آخری حجت کے قتل ہونے کا خوف تھا تو اس لئے حکم خدا سے ہی اپنی زندگی کو محفوظ رکھا
یہ تمان نکات اس طرف اشارہ کرتے ہیں کہ امام کو اپنی جان کا خوف نہیں تھا احتیاط کی بنا پہ عمل ضروری تھا
شہر بانو✍️
*کتابچہ 6*
*امام زمان عج کی غیبت کےاسباب*
*درس 13: احادیث و روایات کی رو سے غیبت کے اسباب ، دوسرا سبب جان کی حفاظت پر مزید احادیث ، تیسرا سبب گذشتہ انبیاء کی سنت کا امام قائم عج میں جاری ہونا*
*استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب*
*🌷خلاصہ:*
🌸 *امام صادق رسول ﷺ سے حدیث نقل کرتے ہیں کتاب بحار الانوار:*
وہ جوان حتما غائب ہوں گے. اور سبب غیبت کے بارے میں فرمایا: "قتل کے خوف سے"
*🦋جناب زرارہ امام باقر نقل کرتے ہیں:*
" _وہ جوان ظہور سے پہلے غیبت اختیار کرے گا اور سبب غیبت بیان فرمایا کہ وہ خوف رکھیں گے اور اس کے بعد اپنے جسم مبارک کی طرف اشارہ فرمایا زرارہ نے اس اشارے کی تشریح کی کہ انہیں قتل کو خوف ہو گا۔۔۔_"
قتل اور جان کے خوف کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ آپ اللہ کی راہ میں جان دینے سے خوف کرتے تھے بلکہ یہ احتیاط ویسی ہی ہے جیسے جب رسول ﷺ نے ہجرت کی اور کفار آپ کے تعاقب میں تھے تو آپ ﷺنے جان بچانے کی غرض سے تین دن تک غار ثور میں پناہ لی۔
← ان کا خوف اس سبب ہوتا ہے کہ جب تک خدا کی مصلحت ہے کہ جان باقی رہے ، اور الہی ذمہ داریوں کو پورا کرنا ہو تو وہ اپنی زندگی کو مقدم رکھتے اور جان محفوظ رکھتے ہیں
*شیخ طوسیؒ* جو *شیخ مفیدؒ * کے شاگردوں میں سے ہیں جنہوں نے حوزہ علمیہ نجف تاسیس فرمایا وہ اپنی *کتاب غیبت طوسی* میں مولا امام زمان عج کی غیبت کا فلسفہ بیان کرتے ہیںکہ:
"چونکہ آخری حجت کے قتل ہونے کا خوف تھا تو اس لئے حکم خدا سے ہی اپنی زندگی کو محفوظ رکھا"
🌼 *بعنوان حکمت:*
گذشتہ انبیاء کی سنت کا آپ کے ذریعے جاری ہونا جیسے حضرت عیسیٰ کی جان کو خطرہ ہوا تو خدا نے آپ کو اٹھا لیا۔۔۔۔
*✨ابن سدیر امام صادق سے نقل کرتے ہیں کہ:*
ہمارے قائم کے لئے طولانی غیبت ہے اور اس کی وجہ بیان فرمائی کہ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ امام زمانہ عج کی سنتیں آپ عج کے وجود مقدس سے ظاہر ہوں اور غیبت بھی گذشتہ انبیاء میں سے ایک سنت ہے
والسلام
التماس دعا
شہر بانو✍️
*کتابچہ 6*
*امام زمان عج کی غیبت کےاسباب*
*درس 14: احادیث و روایات کی رو سے اسباب غیبت، امام زمان عج ، ظالم حاکم کی بیعت نہیں چاھتے، اللہ کی طرف سے لوگوں کو تنبیہ اور لوگوں کا امتحان*
*استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب*
*✨خلاصہ:*
*←امام عج ظالم لوگوں کی بیعت نہیں چاہتے:*
پہلی گفتگو میں تین سبب بیان ہوچکے ہیں آج اسکو مزید آگے بڑھایا جائے گا گیارہ اماموں کے زمانے کے حاکم ظالم اور ستمگر تھے جب بھی انکو موقع ملتا وہ آئمہ معصومین پر ظلم کرتے بلکہ موقع ملتے قتل بھی کر دیتے تھے سب اماموں میں سے صرف امام حسین نے قیام کیا اور اس وقت کے حاکم نے دین کی کھلم کھلا مخالفت کی اور اسلام کو مسخ کیا۔۔۔۔۔۔
آئمہ کے مد مقابل ایک بڑی رکاوٹ غاضب اور ظالم حکومتیں ہیں جو کہ دین کے حقیقی رہبروں کو اپنے مقام و منصب اور حکومت کے لیے خطرہ محسوس کرتی ہیں اور انکی پوری کوشش ہوتی ہے کہ الہی رہبروں کو ختم کریں۔۔۔
← آئمہ معصومین نے بعض مقامات پر اللہ کے حکم اور لوگوں کو اصل دین کے طرف راغب کرنے کے کی خاطر, دین کی حفاظت اور بقاء کی خاطر خاموش اور ظالم حکومتوں کی بیعت کرنے پر مجبور تھے بیعت کا مطلب یہ کہ وہ حاکم اور حکومت کے خلاف قیام نہیں کر سکتے۔۔۔
*🌼ابو بصیر نے امام صادق سے نقل کیا ہے کہ:*
" _صاحب الامر کی ولادت خلق خدا پر پنہاں ہوگی کہ جب ظہور کریں گے تو انکی گردن پر کوئی بیعت نہ ہوگی..._"
*🌸اللہ کی طرف سے لوگوں کو تنبیہ:*
←امام محمد باقر سے نقل ہوا ہے کہ:
_"جب خدا کسی قوم میں ہماری ہمراہی اور ہم نشینی سے خوش نہ ہو تو وہ ہم کو ان میں سے اٹھا لیتا ہے "_
*🌼لوگوں کا امتحان:*
_←امام محمد باقر سے روایت ہےکہ:_
←امام صادق سے غیبت کے بارے میں روایت نقل کی ہے:
" _اللہ پر لازم ہے کہ وہ اپنے بندوں کا اسی طرح امتحان لے اور اس مےں اہل باطل تردید رکھیں گے۔_"
_✨امام موسیٰ کاظم سے روایت نقل ہوئی ہے کہ:_
"ساتویں نسل سے پانچویں امام غایب ہوجائیں گے تو دین کے بارے میں اللہ کی پناہ میں چلے جاؤ کہیں کوئی تمہیں اپنے صحیح عقیدے سے نہ پھیر دے, اے فرزند!! صاحب الامر کے لیے غیبت ہے وہ لوگ کہ جو ان پر ایمان رکھتے ہوں گے وہ انکی غیبت طولانی ہونے کی وجہ سے گمراہ ہونگے اور عقیدے سے پھر جائیں گے انکی غیبت امتحان ہے کہ جو اللہ کی طرف سے ہے جو اپنے بندوں کو اسکے ذریعے سے امتحان کرنا چاہتا ہے"
والسلام
التماس دعا
شہر بانو✍️
*بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔*
*کورس 02...کتابچہ06*
*درس 14*
➖➖➖➖🚩
*اسباب غیبت صاحب الزمان علیہ السلام و عجل فرجھم۔*
▫️▪️ ظالم کی بیعت یا اس کے ساتھ کوئی عہد و پیمان امام ع کے کندھوں پر ہو۔ سابقہ 11 آئمہ معصومین علیھم السلام کے زمانے میں ہمیشہ ایسے لوگ حاکم رہے جو ظالم و ستمگر تھے۔ جو آئمہ علیہم کو اپنی حکومت کے لئے خطرہ محسوس کرتے اور شہید کرنے کے درپئے رہتے۔
اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کے لئے مصلحت خداوندی جب تک رہتی ، امام ع اپنی زندگی محفوظ رکھتے ، شرائط آمادہ نہ ہونے کی وجہ سے قیام بھی ممکن نہیں تھا۔ بظاہر مصلحت کے ساتھ ان ظالم و جابر حاکموں کے ساتھ عہد و پیمان رکھنا پڑتا۔
چونکہ ہمارے امام قائم علیہ السلام نے ان ظالمین کا خاتمہ کرنا ہے، اس لئے ان کے ساتھ عہد و پیمان کسی بھی صورت میں ممکن نہیں۔
ابو بصیر رہ، امام صادق علیہ السلام سے نقل فرماتے ہیں:
امام زمان ع کی ولادت لوگوں پر مخفی ہو گی تاکہ جب ظہور کریں تو کسی کی بیعت آپ کی گردن پر نہ ہو۔
امام رضا ع فرماتے ہیں کہ چونکہ انہوں نے تلوار کے ساتھ قیام کرنا ہے اس لئے نہیں چاہتے کہ ان کے ذمہ کسی کی بیعت ہو۔
▫️▪️ *لوگوں کی تنبیہہ*
لوگوں نے سابقہ آئمہ علیہم السلام کی ناقدری کی۔ ان کے مقام و منزلت کو نہ پہچانا تو خدا نے بظاہر یہ نعمت ان سے مخفی کر دی۔
جب خدا لوگوں کے درمیان ہماری ہم نشینی سے خوش نہ ہو تو ہمارا ظہور ( ظاہری وجود مبارک) ان سے لے لیتا ہے۔
▫️▪️ *لوگوں کا امتحان*
سابقہ آئمہ معصومین علیھم السلام کے دور میں لوگ پہلے تو ساتھ دیتے لیکن مشکلات سے گھبرا کر اپنی حب دنیا کی وجہ سے ساتھ چھوڑ دیتے۔
ہمارے امام قائم علیہ السلام کا قیام اور آپ ع کے ہاتھوں نصرت یقینی ہے۔ اس لئے لوگوں کا امتحان ہے کہ خود کو دنیاوی آلائشوں سے پاک کریں، اخلاص کے ساتھ امام ع کا ساتھ دینے کے لئے خود کو آمادہ کریں۔
*نبی کریم ص کی حدیث*
میرے بعد ایک ملت آئے گی جن کے ایک فرد کا ثواب میرے اصحاب کے 50 کے برابر ہو گا۔
لوگوں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم سب جنگوں میں آپ کے ہمرکاب تھے، قرآن ہمارے درمیان نازل ہوا۔
فرمایا جو کچھ وہ تحمل کریں گے اگر تم دیکھو تو کبھی نہ کر سکو۔
*امام صادق علیہ السلام سے روایت*
خدا کے لئے لازم ہے کہ اپنے بندوں کا امتحان لیں تاکہ خالص ، شک و تردید رکھنے والوں سے الگ ہو جائیں۔
*امام موسیٰ کاظم علیہ السلام*
جب میری اولاد سے پانچواں امام غائب ہو جائے تو اپنے دین کے لئے اللہ کی پناہ لینا۔ کہ کوئی تمہیں تمہارے دین سے نہ نکال دے۔ یہ غیبت حتما ہو گی تاکہ غیبت طولانی ہونے سے حقیقی مومن واضح ہو جائیں۔
🚩 *اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم۔*
شہر بانو✍️
💥کتابچہ 6
امام زمان عج کی غیبت کےاسباب
درس 14: احادیث و روایات کی رو سے اسباب غیبت، امام زمان عج ، ظالم حاکم کی بیعت نہیں چاھتے
✨خلاصہ
گیارہ اماموں کے زمانے کے حاکم ظالم اور ستمگر تھے جب بھی انکو موقع ملتا وہ آئمہ معصومین پر ظلم کرتے بلکہ موقع ملتے قتل بھی کر دیتے امام حسین ع کا قیام یہ ثابت کرتا ہے کہ آپ نے ظالم کی بیت نہ کی۔
دین کے حقیقی رہبروں کو اپنے مقام و منصب اور حکومت کے لیے خطرہ محسوس کرتی ہیں اور انکی پوری کوشش ہوتی ہے کہ الہی رہبروں کو ختم کردی
ابو بصیر نے امام صادق ع سے نقل کیا ہے کہ
" _صاحب الامر کی ولادت خلق خدا پر پنہاں ہوگی کہ جب ظہور کریں گے تو انکی گردن پر کوئی بیعت نہ ہوگی..._"
امام محمد باقرع سے نقل ہوا ہے کہ:
_"جب خدا کسی قوم میں ہماری ہمراہی اور ہم نشینی سے خوش نہ ہو تو وہ ہم کو ان میں سے اٹھا لیتا ہے
امام صادقع سے غیبت کے بارے میں روایت ملتی ہےکہ
خدا پر لازم ہے کہ وہ اپنے بندوں کا اسی طرح امتحان لے اور اس میں اہل باطل تردید رکھیں گے۔
شہر بانو✍️
*بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔*
*کورس 02...کتابچہ06*
*درس 15*
➖➖➖➖🚩
*اہم سوالات کے جوابات*
1) *امام ظہور فرماتے تو کیا لوگوں کی زیادہ بہتر رہنمائی نہ ہوتی ؟*
خدا قادر مطلق ہے اگر چاہتا تو کسی بھی غیر معمولی طریقے سے امام ع کی جان کی حفاظت فرما سکتا ہے تو غیبت کیوں ؟
بالکل واضح بات ہے کہ امام ع لوگوں کے درمیان ظاہر ہوتے تو لوگوں کو جذب کرنے کے امکانات زیادہ ہوتے لیکن کیا امام ع کے دشمن ایسا ہونے دیتے ؟
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور دیگر آئمہ سے مسلسل مروی ہے کہ آخری حجت نے
معاشرے کو عدل و انصاف سے معمور کر دینا ہے۔ اس صورتحال میں آپ ع دو قسم کی لوگوں کی توجہ کا مرکز ہوتے۔ ایک تو مظلومین مولا کو امید کی نگاہوں سے دیکھتے اور دوسرا گروہ ظالمین۔ جو امام ع کو اپنا سب سے بڑا دن سمجھتے اور آپ ع کی جان کے دشمن ہوتے۔ سابقہ انبیاء و آئمہ کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے۔
بیشک خدا قادر مطلق ہے لیکن خدا کا نظام ایسا ہے یہاں جبر کے ساتھ کام کروانا مقصود نہیں ہے۔
انسانوں کے لئے یہ نظام ہے کہ اپنے اختیار سے بہشت یا جہنم کی راہ کو اختیار کرے۔
اب امام ع ظہور فرمائیں تو لازما ظالمین کے ساتھ جنگ کرتے۔ اس مبارزت کے لئے مولا کو ناصرین کی ضرورت ہے۔
اس لئے بہترین راہ یہی تھی کہ لوگ مولا کے وجود کی ضرورت
حساس کریں اور آپ ع کی نصرت کے لئے آمادہ ہوں۔
2) *زمانے کے امام ع کی معرفت کے بغیر جہالت کی موت ہے۔ غائب امام کی معرفت کیسے ممکن ہے؟*
مولا کی غیبت آپ کی معرفت کے لئے عذر نہیں ہے۔ معرفت کے لئے ضروری نہیں کہ حضوری لازمی ہو۔ بلکہ اس سے مراد آپ کے خدا کے حضور مقامات، صفات و فضائل ہیں۔
ان سب کا سورس کتابیں ہیں۔
جیسے حضرت اویس قرنی رض ، نبی کریم ص کی زیارت کی خواہش رکھنے کے باوجود حالات نے ان کو اجازت نہ دی۔ لیکن اس کے باوجود آپ ص کی معرفت بے پناہ رکھتے تھے۔ اور نبی کریم ص بھی آپ سے الفت کا اظہار فرماتے۔
🚩 *اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم۔*
شہر بانو✍️
*کتابچہ 6*
*امام زمان عج کی غیبت کےاسباب*
*درس 15: غیبت کے موضوع پر اہم سوالات کا جواب، کیا امام ظاھر ہوتے تو بہتر ھدایت نہ کرتے اور خدا انہیں کیوں نہیں کفار کے شر سے بچا سکتا تھا حالانکہ وہ قادر مطلق ہے؟، غائب امام کی معرفت کیسے حاصل کریں؟*
*استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب*
🌸 *خلاصہ:*
*✨ _اہم سوالات کے جوابات_*
سب سے اہم سوال جو ہے وہ یہ کہ کیوں امام عج جو ہیں وہ لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہیں اگر لوگوں کے درمیان ہوتے اور براہ راست لوگوں کی رہنمائی اور ہدایت کرتے آیا یہ بہتر نہیں تھا ساتھ ضمناً یہ بھی کہتے ہیں کہ اللہ جو کہ ہر چیز پر قادر ہے وہ امام عج کی جان کو کفار سے دشمنوں سے بچا سکتا تھا تو پس غائب ہونے کی کیا ضرورت ہے؟
اگر امام لوگوں کے درمیان واضح ظاہر ہوتے اور لوگوں کی رہنمائی کرتی انہیں ہدایت دیتے یقینا بہت ہی بہتر تھا۔۔۔۔سوال یہ کہ آیا دشمن ایسا کرنے دیتے؟
١- *امام ظہور فرماتے تو کیا لوگوں کی زیادہ بہتر رہنمائی نہ ہوتی ؟*
_←جواب:_
خدا قادر مطلق ہے اگر چاہتا تو کسی بھی غیر معمولی طریقے سے امام عج کی جان کی حفاظت فرما سکتا ہے تو غیبت کیوں ؟
بالکل واضح بات ہے کہ امام عج لوگوں کے درمیان ظاہر ہوتے تو لوگوں کو جذب کرنے کے امکانات زیادہ ہوتے لیکن کیا امام عج کے دشمن ایسا ہونے دیتے ؟
نبی کریمﷺ اور دیگر آئمہ سے مسلسل مروی ہے کہ آخری حجت نے معاشرے کو عدل و انصاف سے منور کر دینا ہے۔ اس صورتحال میں آپ عج دو قسم کی لوگوں کی توجہ کا مرکز ہوتے
١- ایک گروہ مظلومین: مولا کو امید کی نگاہوں سے دیکھتے۔۔
٢- دوسرا گروہ ظالمین: جو امام عج کو اپنا سب سے بڑا دن سمجھتے اور آپ عج کی جان کے دشمن ہوتے۔ سابقہ انبیاء و آئمہ علیہ السلام کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے۔
بیشک خدا قادر مطلق ہے لیکن خدا کا نظام ایسا ہے یہاں جبر کے ساتھ کام کروانا مقصود نہیں ہے۔
انسانوں کے لئے یہ نظام ہے کہ اپنے اختیار سے بہشت یا جہنم کی راہ کو اختیار کرے۔
اب امام عج ظہور فرمائیں تو لازما ظالمین کے ساتھ جنگ کرتے۔ اس مبازرت کے لئے مولا کو ناصرین کی ضرورت ہے۔
اس لئے بہترین راہ یہی تھی کہ لوگ مولا کے وجود کی ضرورت
حساس کریں اور آپ عج کی نصرت کے لئے آمادہ ہوں
*٢-زمانے کے امام عج کی معرفت کے بغیر جہالت کی موت ہے۔ غائب امام کی معرفت کیسے ممکن ہے؟*
_←جواب:_
مولا کی غیبت آپ کی معرفت کے لئے عذر نہیں ہے۔ معرفت کے لئے ضروری نہیں کہ حضوری لازمی ہو۔ بلکہ اس سے مراد آپ کے خدا کے حضور مقامات، صفات و فضائل ہیں۔
←ان سب کا سورس کتابیں ہیں, علمائے دین ہیں
جیسے حضرت اویس قرنی جو یمن کے رہنے والے تھے رسول خداﷺ کے زمانے میں زندگی گزارتے تھے ، نبی کریمﷺ کی زیارت کی خواہش رکھنے کے باوجود حالات نے ان کو اجازت نہ دی لیکن اس کے باوجود آپﷺکی معرفت بے پناہ رکھتے تھے۔ اور نبی کریمﷺ بھی آپ سے الفت کا اظہار فرماتے۔۔
والسلام
التماس دعا
شہر بانو✍️
*کتابچہ 6*
*امام زمان عج کی غیبت کےاسباب*
*درس 16: غیبت کے موضوع پر اہم سوالات کا جواب، کیا امام شہادت سے دوری اختیار کررہے ہیں؟ نیابت کا کیا فلسفہ ہے؟*
*استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب*
*💦خلاصہ:*
موضوع سخن امام زماں عج کی غیبت کے حوالے سے کچھ سوالوں کا جواب۔
*🌸ایک سوال یہ سامنے آتا ہے کہ وہ یہ کہ پرودگار کی راہ میں شہادت جو ہے وہ بہت بڑی فضیلت ہے امام اگر ظاہر ہوتے اور غائب نہ ہوتے تو وہ اپنے آباؤ اجداد کی طرح اللہ کی راہ میں شہید ہوجاتے تو کیوں امام غائب رہ کر شہادت سے دوری اختیار کر رہے ہیں؟؟*
*←جواب:*
اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ کے جتنے بھی نیک بندے ہیں بالخصوص انبیاء و آئمہ ع سب کی آرزو شہادت ہے اس سے دین خدا حاصل ہوتا ہے احادیث میں متا ہے کہ اگر خدا کسی کی زندگی کو چاہتا ہوں اور نہیں چاہتا ہے کہ وہ میری راہ میں موت کو گلے لگا لے اور شہید ہو اور اسکے زندگی اتنی قیمتی ہو کہ وہ اگر شہادت میں بدل جائے تو وہ جو ہدف ہے جو اللہ امام کی زندگی سے لینا چاہتا ہے کہ تو ہدف اور مقاصد کو ختم کر دیتا ہے مثلاً اگر امام مہدی عج شہید ہو جائیں تو الہیٰ حکومت کو قائم کرنے سے پہلے سب انبیاء کی آرزوئیں ختم ہوجائیں گی۔
🌸 *٢- ایک سوال یہ کہ غیبت کے نائبین کا جو فلسفہ جو ہے وہ کیا ہے؟؟*
*←جواب:*
نائبین کا جو سلسلہ ہے یہ ہمارے دسویں اور گیارویں امام کے زمانے سے شروع ہو چکی تھی امام نقی علیہ السلام اور امام حسن عسکری علیہ السلام کیونکہ وہ ہمیشہ نظر بند رہے ہیں اور ظالم عباسی جو حکومت ہے اس زمانے کا بہت زیادہ آئمہ پر سختی کنٹرول اور امام کا شیعوں سے ملنے جلنے پر پابندی, خلاصہ یہ کہ انکا گھر جو ہے وہ قید خانہ تھا اسکے علاوہ قید خانوں مےں رہتے تھے تو ہمارے آئمہ کا شیعوں سے رابطہ مکمل طور پر خاتمہ ہوگیا کٹ چکا تھا فر شیعوں کے اندر وہ ہستیاں جو اہل علم تھیں اور پاکیزہ ہستیوں کو آئمہ نے نائب چنا اور اپنے اور شیعوں کے درمیان رابطہ قرار دیا تاکہ لوگ نائبین کو اپنی مشکلات بیان کریں اور ان سے حل لیں اور نائبین بھی آئمہ سے رابطہ رکھتے تھے اکثر چیزوں کا وہ جواب دے دیتے تھے اور اکثر کا وہ امام سے رہنمائی لے کر جواب دیتے تھے یہی چیز امام زمان عج کی غیبت میں منتقل ہوئی امام زمانہ عج کی زندگی کے تین حصے ہیں:
١- بچپن کا زمانہ یعنی زمانہ طفولیت (پانچ سال کی عمر میں آپ امامت کے درجے پر فائز ہوگئے)
٢- زمانہ غیبت صغریٰ (مختصر مدت كى غيبت)
٣- زمانہ غیبت كبرىٰ (طویل مدت کی غیبت)
غیبت صغریٰ میں امام نے عارضی طور پر اپنے نائب قائم کیے چار نائب ہیں جن کو نائب خاص کہتے ہیں:
١- عثمان بن سعید عمری
٢- محمد بن عثمان سعید عمری
٣- حسین بن روح نو بختی
٤: علی بن محمد سمری
ان نائبین کے ذریعے آپ عج کا لوگوں کے ساتھ رابطہ قائم رہا۔
اس کے بعد غیبت کبریٰ میں لوگ کیا کریں امام کا لوگوں کے ساتھ رابطہ ختم ہوگیا اور اس دورمےں شیعوں کی مشکلات اور مسائل کے لیے فقہاء اور علماء کو عمومی نائب قرار دیا
والسلام
التماس دعا
شہر بانو✍️
*کتابچہ 6*
*امام زمان عج کی غیبت کےاسباب*
*درس 17: غیبت کے موضوع پر اہم سوالات کا جواب، کیا غیبت صغریٰ جاری رہتی اور نیابت خاصہ جاری رہتی بہتر نہ ہوتا اور پھر ہم کیوں مراجع و فقہاء کی تقلید کریں وہ تو معصوم نہیں ہیں؟*
*استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب*
*🌸خلاصہ:*
*✨سوال:*
_کیوں غیبتِ صغریٰ ہی اسی انداز سے آگے نہیں بڑھی جب تک مولا عج کا ظہور نہ ہوتا اتنی دیر تک غیبتِ صغریٰ ہی رہتی یعنی ہمارے لیے نائبِ خاص ہی رہتے, غیبتِ کبریٰ میں داخل ہونے کی ضرورت کیا تھی؟؟_
*🤍جواب:*
اگر ہم غیبت کے حوالے سے احادیث اور روایات کا مطالعہ کریں اور غیبت کے اسباب اور فلسفہ کو سمجھیں تو پتہ یہی چلتا ہے کہ اصل ہدف جو تھا غیبت کا وہ غیبتِ کبریٰ ہی تھا غیبتِ صغریٰ ایک عارضی مرحلہ تھا جسکے اپنے کچھ ثمرات تھے نہیں تو اصل جو ہدف تھا وہ غیبتِ کبریٰ تھی جسطری ہم گزشتہ انبیاء کے اندر بھی غیبت دیکھ رہے ہیں تو وہ غیبتِ کبریٰ تھی غيبتِ صغرىٰ کا جو ٧٠ سالہ دور ہے اسے کیوں درمیان میں رکھا گیا ہے؟؟ اسکی کچھ وجوہات ہیں:
✨←سب سے پہلی وجہ یہ ہے کہ. چونکہ امام حسن عسکری علیہ السلام نے امام زمانہ عج کی ولادت کو مخفی رکھا تھا زمانے کی ظالم حکومت کے خوف سے کیونکہ وہ شہید کرنا چاہتے تھے وہی حالات تھے جو حضرت موسیٰ ع اور فرعون کے دور کے تھے تو ٥ سال کی عمر مبارک تھی امام زمانہ عج کی امام عسکری علیہ السلام شہید ہوگئے بہت سارے شیعہ حتی کہ خواص بھی نہیں جانتے تھے کہ ہمارے کوئی بارہویں امام ہیں تو غیبت صغری اس لیے ضروری تھی کہ نائبینِ خاص کے ذریعے
پتہ چلے کہ امام ہیںہیں عج امام عسکری علیہ السلام وہ بے وارث یا لا ولد شہید نہیں ہوئے انکا وارث ہمارے امام زماں عج جو ہیں وہ موجود ہیں اس لیے دیکھا جائے تو نائبینِ خاص جو ہیں وہ لوگوں کو امام زماں عج کی معرفت سے آگاہ کرتے تھے لوگوں کے خطوط کا جواب جو مولا امامِ زماں عج دیتے تھے وہ لوگوں تک پہنچاتے تھے لوگوں کی ملاقات بھی کرواتے تھے تاکہ لوگ جو ہیں وہ یہ یقین پیدا کریں کہ حجتِ خدا ہیں ورنہ ظاہر ہے بے دین ہو جاتے اس طرح انحرافیت, شیطانی جو گروہ ہیں وہ اشکار ہوجاتے ایک تو یہ ثمر ہے۔
✨←دوسرا جو فائدہ تھا وہ یہ تھا کہ چونکہ غیبتِ کبریٰ کے اندر فقہاء اور علماء کی مرجعیت اور ان اتحاد پھر لوگوں کی تقلید کا زمانہ شروع ہو رہا تھا تو امامِ معصوم عج جو ہیں وہ جانتے تھے کہ علماء اور فقہاء کہ حجت ہونے اور مرجع ہونے کو لوگوں کے لیے واضح کرئے جیسے کہ اصل میں تقلید کا حکم غیبتِ صغریٰ سے ہی شروع ہوا اور جب لوگوں نے مسائل شرعی کے حوالے سے پوچھا خط لکھا گیا کہ ہم کس کی طرف رجوع کریں؟؟ تو آپ نے فرمایا انہی فقہاء اور ہمارے دین کے راوی ہیں انکی طرف رجوع کریں مسائل انکی خدمت میں پیش کریں اور ان سے جواب لیں ہماری طرف سے وہ ہم پر حجت ہیں لوگوں کو عادت امام حاضر عج سے مسائل پوچھنے کی تو غیبتِ صغریٰ میں امام نے ایک قسم کی لوگوں کی تربیت کی ہے کہ طروری نہیں ہے کہ ہر ہر مسئلے میں آپ امام زماں عج کی طرف آئیں بلکہ جو انکے شاگرد ہیں یا یہی علماء, فقہاء جنکی زندگی کا ہدف یہی ہے امام کی احادیث , روایات کو پڑھیں اور آپ تک پہنچائیں یہ ماہرین دین ہی ہیں جو لوگوں تک مسائل کا حل پہنچائیں گے, ہاں اگر انکی کوئی غلطی ہے تو وہ امام سے ہدایت لیں گے۔ یہ سارا نظام غیبتِ صغریٰ میں ہی شروع ہوا تھا اور امام نے تاکید کی اور فرمایا:"جو اسکو رد کرئے گا اس نے میں مہدی عج کو رد کیا"
ظہور تک نظام مرجعیت نظام شہادت و تقلید کو لوگوں کے اندر مستحکم کرنے کے لیے یہ ٧٠ سالہ دور چلا۔
✨← تیسرا ثمر جو ہے وہ یہ کہ لوگ جو ہیں وہ مولا سے آخری رہنمائی لے لیں کیونکہ امام ٥ سال عمر مبارک تھی تو وہ امامت کے مقام پر فائز ہوئے امام حسن عسکری علیہ السلام جو ہیں وہ دنیا سے چلے گئے اب ظاہر ہے کوئی دور مولا کے لیے رہے جس میں امام عج لوگوں کو فرامین سے آگاہ کر سکیں, غیبتِ صغریٰ میں لوگوں کے سوال یا مولا کی طرف سے جواب جنہیں ہم توقیعات کہتے ہیں وہ موجود ہیں جیسے غیبت طوسی, بحارالانوار
🌼 *°امام کے سو سے زیادہ توقیعات جو ہیں وہ ہمارے پاس موجود ہیں°*
اب انکے اندر آخری رہنمائی لوگوں کو حاصل ہو رہی ہے جس میں پتہ چلا کہ ایمان کے کیا اہداف ہیں؟ اور ظہور کب کریں گے؟ اور ہمیں وقت کے امام کے دور میں کیسے زندگی گزارنی ہے؟ تو یہ بھی ضروری تھا کہ نائبین خاص کا بتایا گیا تو پس انہی ثمرات کو مدنظر رکھتے ہوئے غیبتِ صغریٰ کے ثمرات حاص ہوگئے تو غیبتِ کبریٰ کے دور میں داخل ہوئے۔
والسلام
التماس دعا
شہر بانو✍️
*بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔*
*کورس 02...کتابچہ06*
*درس 18*
*[از طرف شازیہ رباب]*
➖➖➖➖🚩
▫️▪️ *زمانہ غیبت میں نائبین امام ع*
*نائب خاص*
وہ شخص کو امام ع کی طرف سے اپنے نام کے ساتھ معین ہو۔
یہ صرف چار نفر غیبت صغریٰ میں تھے۔ غیبت صغریٰ کے مکمل ہونے کے ساتھ نائبین خاص کا دور بھی ختم ہو گیا۔
*نائب عام*
غیبت کبریٰ میں وہ نائبین امام ع ہیں جن کا نام نہیں لیا گیا بلکہ ان کی صفات بیان کی گئیں۔ جیسے فقہا بطور کلی نائب امام قرار دئیے گئے۔ اس کے ساتھ عادل، مولا کا مطیع، دین کا محافظ، خواہشات نفسانی کی مخالفت کرتا ہو۔
دین کے ہر مسئلے میں ہم ان کی طرف رجوع کریں گے۔
اس لئے صاحب الشرائط فقہا نائب عام، امام ع ہیں۔
*فرمان/توقیع امام ع :*
"جو بھی مسائل دینی پیش آئیں ، ان میں آپ ہماری احادیث کے راویوں کی طرف رجوع کریں، وہ میری طرف سے تم پر حجت ہیں اور میں خدا کی طرف سے تم پر حجت ہوں۔"
*امام صادق علیہ السلام کی حدیث:*
"لوگ اپنے درمیان دیکھیں کہ کون ہماری احادیث جو نقل کرتا ہے، ہمارے حلال و حرام میں تفکر کرتا ہے اور ہمارے احکام کو پہچانتا ہے۔ اگر وہ حکم کرے تو لوگ اس کے حکم پر راضی ہوں۔ میں اپنی جانب سے اسے تم پر حاکم قرار دیتا ہوں۔ اگر کوئی ان کے حکم کو نہ مانے گویا اس نے حکم خدا کو نہ مانا اور ہمیں رد کیا۔"
*فرمان رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم:*
پروردگار ان پر رحم فرما جو میرے بعد آئیں گے اور میری حدیث بیان کریں گے۔ اس کا کامل مصداق آل رسول کریم ص ہیں۔ اور آپ ع کے بعد فقہا۔
🚩 *اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم۔*
شہر بانو✍️
*امام زمان عج کی غیبت کےاسباب*
*درس 18: غیبت کے موضوع پر اہم سوالات کا جواب، نیابت کیا ہے اور کون نائب ہیں؟*
*استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب*
پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے کے یوسف زھرا س کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا ناصر و خدمتگار بنا الہیٰ *آمین*
_💦خلاصہ:_
گفتگو کا موضوع غیبت امام عج ہے اس حوالے سے اخلاقی غیبت کا جو فلسفہ ہے اور اسباب ہے تمام نکات بیان ہو چکے ہیں اور کچھ سوالات کا جواب بھی دیا جا چکا ہے۔۔
*💥سوال:*
_ایک سوال جو عام طور پر کیا جاتا ہے غیبت کے زمانہ میں مولا کے جو نائب ہے یہ کون ہے؟_
*💫جواب:*
امام زمانہ عج کے زمانہ غیبت میں دو قسم کے نائب ہیں
←١- نائبِ خاص
←٢- نائبِ عام
*🌼نائبِ خاص:*
وہ شخص کو امام عج کی طرف سے اپنے نام کے ساتھ معین ہو
یہ صرف چار نفر غیبت صغریٰ میں تھے
🌺نائب خاص وہ شخص ہے کے جو امام کی طرف سے اپنے نام کے ساتھ معین ہو مثلاً مولا کہے کے فلاح ابن فلاح وہ میرے نائب ہیں اور تمام امور میں میرا حکم جو ہے وہ اجرا کرے گے یاں لوگوں تک پہنچائے گےان کی طرف رجوع کرنا ایسے ہے جیسے میری طرف رجوع کرنا ہے تو یہ جو نائب خاص ہے تو یہ جو نائب خاص ہیں یہ صرف غیبت صغریٰ میں تھے اور یہ چار نائب تھے
🪷غیبت صغریٰ جو ٢٠٦٠ ہجری میں شروع ہوئی تھی اور ٣٠٢٩ ہجری میں ختم ہوئی تقریباً ٧٠سال دور بنتا ہے
چار شخصیتیں بعنوان نائب خاص آئی ہیں
١- جناب عثمان ابن سعید عمری ہیں
٢- محمد بن عثمان بن سعید عمری
٣- جناب حسین بن روح بختی
٤- ناب علی بن محمد سمری
جیسے ہی غیبت صغریٰ ختم ہوئی نائب خاص کا سلسلہ ختم ہو گیااب اگر کوئی شخص نائب خاص ہونے کا دعویٰ کرے تو وہ کذاب ہے اس کو جھٹلانا واجب ہے وہ لعنت کا مستحق ہو گا
کیوں کے مولا نے خود واضع طور پر فرما دیا تھا کے ظہور سے پہلے علامت قیام جب شروع ہو اس سے پہلے اگر کوئی دعویٰ کرے وہ کذاب ہے
🌸اب غیبتِ کبریٰ کے اندر کوئی شخص نائبِ خاص نہیں ہے اب اگر کوئی نائب ہے تو وہ نائب عام ہے غیبت صغریٰ کے مکمل ہونے کے ساتھ نائبین خاص کا دور بھی ختم ہو گیا
*🌸نائبِ عام:*
غیبت کبریٰ میں وہ نائبین امام عج ہیں جن کا نام نہیں لیا گیا بلکہ ان کی صفات بیان کی گئیں جیسے فقہاء بطور کلی نائب امام قرار دئیے گئے اس کے ساتھ عادل، مولا کا مطیع، دین کا محافظ، خواہشات نفسانی کی مخالفت کرتا ہو
دین کے ہر مسئلے میں ہم ان کی طرف رجوع کریں گے۔
اس لئے صاحب الشرائط فقہا نائب عام، امام عج ہیں۔
*⭐فرمان/توقیع امام عج :*
_"جو بھی مسائل دینی پیش آئیں ان میں آپ ہماری احادیث کے راویوں کی طرف رجوع کریں، وہ میری طرف سے تم پر حجت ہیں اور میں خدا کی طرف سے تم پر حجت ہوں۔"_
_⭕امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ:_
*"لوگ اپنے درمیان دیکھیں کہ کون ہماری احادیث جو نقل کرتا ہے ہمارے حلال و حرام میں تفکّر کرتا ہے اور ہمارے احکام کو پہچانتا ہے اگر وہ حکم کرئے تو لوگ اس کے حکم پر راضی ہوں تو میں اپنی جانب سے اسے تم پر حاکم قرار دیتا ہوں اگر کوئی ان کے حکم کو نہ مانے گویا اس نے حکم خدا کو نہ مانا اور ہمیں رد کیا"*
*🌺رسول خداﷺ فرماتے ہیں کہ::*
_پروردگار ان پر رحم فرما جو میرے بعد آئیں گے اور میری حدیث بیان کریں گے اس کا کامل مصداق آل رسولﷺ ہیں اور آپ عج کے بعد فقہاء ہیں_
والسلام
التماس دعا
شہر بانو✍️
*کتابچہ 6*
*امام زمان عج کی غیبت کےاسباب*
*چوتھادرس : غیبت انبیاء ، حضرت صالح ع کی غیبت،حضرت موسیٰ ع کی غیبت*
*استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب*
*عالمی مرکز مہدویت قم*💚
***بسم اللہ الرحمٰن الرحیم**
اسلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ 🍃🍃
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
بدھ 17 جمادی الاول 1446( 20 نومبر ، 2024)**
خلاصہ 🌹
امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت کے اسباب 🍃 🍃
کتاب انسان کی بہترین دوست ہے اور آج کہ دور کی اشد ضرورت امام زمانہ کی معرفت اور آگہی ہے شیخ صدوق رحمت اللہ علیہ کی کتاب # 📙 کمال الدین ،، امام زمانہ کی غیبت کے اسباب اور تاریخ کی معلومات کے لیے بہترین کتاب ہے
اس کتاب میں انبیاء علیہ السلام کی غیبت جو کم عرصہ کی ہو یا طولانی عرصہ کی ہو بیان کی گئ ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ حجت الہی کے نمائندے پہلے بھی غیبت میں رہ چکے ہیں
انبیاء میں حضرت صالح علیہ السلام، حضرت یوسف علیہ السلام اور حضرت موسی علیہ السلام
جب حضرت صالح اپنی قوم کی بے ہدایت پنے کی وجہ سے غیبت میں گئے تو ایک جوان کی شخصیت میں تھے انکے پیچھے انکی قوم تین حصوں میں تقسیم ہو گئی
کچھ لوگ منکرین ہو گئے
کچھ لوگ شک میں مبتلا ہو گئے
کچھ لوگ یقین و اطمینان کی منزل میں رہے
انشاءاللہ جب امام ظہور فرمائیں گے تو لوگ اسی طرح تین حصوں میں تقسیم ہونگے
اللہ ہم سب کو یقین و اطمینان کی منزل میں رکھے آمین
حضرت یوسف بھی کافی عرصہ مخفی رہے پھر حضرت موسی علیہ السلام بھی لوگوں کے درمیان میں رہ کر بھی مخفی اور غیبت میں رہے یہاں تک کہ لوگ مایوس 😥 ہونے لگے اور حالات سے دل برداشتہ ہو کر شک کرنے لگے
اللہ تعالٰی ہمیں بھی یوسف زہرا کہ انتظار میں ثابت قدم رکھے اور مولا کی معرفت حاصل کرنے میں ہم ہمہ وقت کوشاں رہیں آمین یارب العالمین 🤲🏼
*اللهم عجل لوليك الفرج*
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*
شہر بانو✍️
*کتابچہ 6*
*امام زمان عج کی غیبت کےاسباب*
*چوتھادرس : غیبت انبیاء ، حضرت صالح ع کی غیبت،حضرت موسیٰ ع کی غیبت*
*استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب*
*عالمی مرکز مہدویت قم*💚
***بسم اللہ الرحمٰن الرحیم**
اسلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ 🍃🍃
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
بدھ 17 جمادی الاول 1446( 20 نومبر ، 2024)**
خلاصہ نمبر 4 📚
موضوع ✍️ غیبت انبیاء ،حضرت صالح ع کی غیبت ،حضرت موسیٰ ع کی غیبت 🕯️📚
1( حضرت صالح ع کی غیبت)
جنابِ شہام نے امام صادق علیہ السلام سے روایت نقل کی ہے کہ جس میں امام صادق علیہ السلام فرماتے ھیں کہ 💫
حضرت صالح ع جب غائب ہوۓ تھے اور قوم کی نافرمانی اور سرکشی اور دیکھ رہے تھے میری تبلیغ کا کوئی اثر نہیں ہورہا
جب وہ غائب ہوۓ تھے تو اس وقت ایک خوش اندام شخصیت رکھتے تھے جوان تھے چہرے پہ داڑھی تھی لیکن جب غیبت سے واپس آئے تو انکی قوم تین حصوں میں تقسیم ہو چکی تھی ۔
ایک گروہ منکرین کا تھا
ایک گروہ شک میں
ایک گروہ آپکی معرفت رکھتا تھا یقین کی منزل پر فائز تھا ۔
فرماتے ہیں کہ
جب قائم ع بھی غیبت کے بعد ظہور فرمائیں گے تو اس وقت انکے ماننے والے بھی تین حصوں میں تقسیم ہو گے ۔۔
اس کتاب کے اندر حضرت موسیٰ ع کی غیبت کا بھی ذکر ہوا ۔
یہ روایت حضرت محمد ص سے امام علی علیہ السلام نے نقل کی تھی
کہ جب حضرت یوسف علیہ السلام کا آخری وقت آیا تو پورے خاندان کو عزیز و اقارب کو جمع کیا انکو وصیت کی تو ساتھ میں آنے والے زمانے میں بنی اسرائیل کو جو مشکل پیش آنی ہے اسکا بھی بتایا کہ ایک سخت زمانہ آنے والا ہے کہ جس میں مردوں کو قتل کیا جاۓ گا خواتین کے پیٹ چاک ہو گے بچوں کو مارا جائے گا اور پھر اس زمانے میں ایک قائم ع کے منتظر رہنا جو کہ لاوی حضرت یعقوب ع کے بڑے بیٹے انکی نصل سے ظاہر ہوگے انکے منتظر رہیں ۔
حضرت یوسف علیہ السلام کی وفات کے بعد بلآخر وہ دور آیا کہ جب بنی اسرائیل کو مصر نے غلام بنایا گیا ان پر ظلم ڈاھے گئے اور پھر وہی زمانہ آیا کہ جب مردوں کو قتل کیا جانے لگا خواتینوں کو کنیز بنایا گیا
اس سخت دور میں چار سو سال گزر چکے تھے ۔۔۔یہ وہ زمانہ تھا کہ حضرت موسیٰ ع پیدا ہوچکے تھے اور فرعون کے محل جناب عاسیہ کی آغوش میں پرورش پائی۔۔
بہت سی دعائیں کی لوگوں نے جب حضرت موسیٰ ع غیبت میں تھے اور پھر وہ غیبت ختم ہوئی اور آکر انہوں نے انکو آزاد کروایا ظالموں سے معجزات کے ساتھ .
جنابِ ابو بصیر نقل کرتے ہیں امام محمد باقر علیہ السلام سے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دو غیبتیں ہے یہ جو دوسری غیبت تھی بہت سخت تھی ۔
دعا 🤲
اللّٰہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ہم بھی امام قائم ع کی غیبت میں ایمان پر قائم رہے اور اس سخت دور کو صبر و توقل سے گزارے اور امام ع کے ظہور کی دعا کرے اور تیاری کرتے رہے ۔۔۔
*اللهم عجل لوليك الفرج*
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*
شہر بانو✍️
*کتابچہ 6*
*امام زمان عج کی غیبت کےاسباب*
*چوتھادرس : غیبت انبیاء ، حضرت صالح ع کی غیبت،حضرت موسیٰ ع کی غیبت*
*استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب*
*عالمی مرکز مہدویت قم*💚
***بسم اللہ الرحمٰن الرحیم**
اسلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ 🍃🍃
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
بدھ 17 جمادی الاول 1446( 20 نومبر ، 2024)**
خلاصہ 🌹
موضوع غیبت اور اس کی تاریخ
شیخ صدوق رح کی کتاب کمال الدین غیبت انبیاء کے بارے میں ایک منفرد کتب ہے۔
٭اس کٹاب سے حضرت صالح علیہالسلام کا واقعہ بیان کیا ہے :
امام صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ جب حضرت صالح علیہ السلام اپنی قوم کی ہدایت کے شروع کے زمانے میں ایک جوان شخص تھے مگر جب آپ اپنی قوم سے مایوس ہو کر چلے گئے اور کافی عرصہ بعد واپس آئے تو آپ سن رسیدہ ہو چکے تھے۔آپ کی قوم کے لوگ تین گروہ میں تقسیم ہو گئی
۱۔منکرین کا گروہ
۲۔تردد کا شکار لوگ
۳۔ہدایت یافتہ لوگ جن کو یقین تھا کے یہی حضرت صالح نبی ہیں
امام زمانہ بھی جب تشریف لائیں گے تو لوگ ایسے ہی گروہ مائن بٹ جائیں گے
٭حضرت یوسف علیہالسلام کی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بشارت دینا
٭حضرت موسٰی علیہ السلام کا واقعہ :
ایک عالم کا ۴۰۰ سال حضرت موسیٰ کی آمد کے بارے میں خبر دینا۔ پھر ان کو آخر کر پا لینا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ایک مصری کو قتل کرنا اور حضرت شعیب علیہ السلام کے پاس جانا ایک طویل عرصہ اپنی قوم سے غائب رہنا ۔ بہت دعا کے بعد آپ اپنی قوم کی طرف پلٹے اور بنی اسرائیل کو نجات دلائی.
*اللهم عجل لوليك الفرج*
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*
شہر بانو✍️
*کتابچہ 6*
*امام زمان عج کی غیبت کےاسباب*
*چوتھادرس : غیبت انبیاء ، حضرت صالح ع کی غیبت،حضرت موسیٰ ع کی غیبت*
*استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب*
*عالمی مرکز مہدویت قم*💚
***بسم اللہ الرحمٰن الرحیم**
اسلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ 🍃🍃
میں آس خدائے بزرگ ؤ برتر کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اؤر محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی طلب گار ہوں اور پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین، 🤲❤️
بدھ 17 جمادی الاول 1446( 20 نومبر ، 2024)**
خلاصہ 🌹
*اللهم عجل لوليك الفرج*
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*
شہر بانو✍️
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں