حدیث شریف معراج (دروس)

 




☀️حدیث شریف معراج☀️*
*پہلا حصہ* 

قال الفَیْضُ رَحْمَةُ اللهِ عَلَیه: «...وَ مِنْ مَواعِظِ اللهِ سُبْحانَهُ ما رَواهُ أَبُو مُحَمَّد الْحُسَیْنُ بْنُ أَبِى الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّد الدَّیْلَمِىُّ(ره) فى آخِرِ کِتابِهِ المُسَمّى بِـ «إِرْشادِ القُلُوبِ إِلَى الصَّوابِ» مُرْسَلاً عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ (ع)، وَ رَواهُ غَیْرُهُ مُسْنَداً عَنْهُ(ع) عَنْ أَبیهِ عَنْ جَدِّهِ أَمیرِ المُؤْمِنینَ(ع) أَنَّهُ قالَ: إِنَّ النَّبِىَّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَ آلِهِ وَ سَلَّمَ سَأَلَ رَبَّهُ سُبْحانَهُ لَیْلَةَ المِعْراجِ، فَقالَ: یا رَبِّ! أَىُّ الأَعمالِ أَفْضَلُ؟ فَقالَ اللهُ عَزَّوَجَلَّ: لَیْسَ شَىْءٌ أَفْضَلَ عِنْدی مِنَ التَّوَکُّلِ عَلَىَّ، وَالرِّضـا بِما قَسَمْتُ.

علامہ فیض کاشانی رح نے کہا: "رب کی نصیحتوں میں سے ایک حدیث ہے کہ جس کو جناب علامہ دیلمی رح نے، اپنی کتاب ارشاد القلوب کے آخر میں، امام صادق علیہ السلام سے بطور مرسل یعنی سند کے بغیر نقل کیا،  جبکہ دیگر علماء نے اسے امام صادق علیہ السلام اسی طرح امام باقر علیہ السلام تا امیر المومنین علیہ السلام تک سلسلہ سند کے ساتھ ذکر کرتے ہیں ، امیر المومنین امام علی علیہ السلام نے اسے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے نقل کیا: مولا علی ع فرماتے ہیں: 
معراج کی رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے پوچھا: پروردگارا سب سے افضل چیز کیا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا ؛میرے نزدیک مجھ پر بھروسہ اور اعتماد اور میری تقسیم  پر اطمینان و رضایت سے کوئی چیز افضل نہیں ہے.

*اللہ پر توکل اور اسکی تقدیر و تقسیم پر راضی ہونا سب سے افضل ہے*

*دوسرا حصہ*
 یا أَحْمَدُ! وَجَبَتْ مَحَبَّتى لِلْمُتَحآبّینَ فِىَّ، وَ وَجَبَتْ مَحَبَّتی لِلْمُتعاطِفینَ[لِلْمُتَقاطِعینَ] فِىَّ، وَ وَجَبَتْ مَحَبَّتى لِلمُتَواصِلینَ فِىَّ،وَ وَجَبَتْ مَحَبَّتى لِلمُتَوَکِّلِینَ عَلَىَّ. وَ لَیْسَ لِمَحَبَّتى عِلَّةٌ، وَ لا غایَةٌ وَ لا نِهایَةٌ. کُلَّما رَفَعْتُ لَهُمْ عِلْماً، وَضَعْتُ لَهُمْ عِلْماً، اُولَئِکَ الَّذینَ نَظَرُوا إِلَى الْمَخْلُوقینَ بِنَظَرى إِلَیْهِمْ،  وَ لَمْ یَرْفَعُوا الحَوائِجَ إِلَى الخَلْقِ،  بُطُونُهُمْ خَفیفَةٌ مِنْ أَکْلِ الْحَلالِ،  نَعیمُهُمْ فِى الدُّنْیا ذِکْری وَ مَحَبَّتی وَ رِضائی عَنْهُمْ.

اے احمد، میں نے اپنی محبت واجب قرار دی ہے ان لوگوں کے لیے جو میری خاطر ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں۔
میں نے اپنی محبت واجب قرار دی ہے ان لوگوں کے لیے جو ایک دوسرے سے میری خاطر مہربان ہیں۔
میں نے اپنی محبت واجب قرار دی ہے ان لوگوں کے لیے جو ایک دوسرے کے پاس اتے جاتے ہیں میل ملاپ کرتے ہیں میری خاطر۔
میں نے اپنی محبت واجب قرار دی ہے ان لوگوں کے لیے جو مجھ پر توکل کرتے ہیں میری محبت کا کوئی (خارجی) سبب نہیں ہے نہ کوئی غرض ہے نہ کوئی انتہا ہے. (کیونکہ میری محبت کی وجہ میں خود ہوں۔)
 میں ان کے لیے مسلسل علم بھیجتا ہوں اور علم کو بڑھاتا ہوں۔
*وہ میری نگاہ سے مخلوقات کو دیکھتے ہیں اور کبھی بھی مخلوقات سے کوئی چیز نہیں مانگتے۔*
ان کے باطن (شکم) لقمہ حلال سے بھی خالی ہیں( یعنی حلال غذا سے بھی اپنا شکم نہیں بھرتے).
 *ان کے لیے دنیا کی نعمتیں میرا ذکر ہے ،میری محبت ہے اورمیری رضا ہے۔*

👈جاری ہے
_ترجمہ: استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب_
*☀️عالمی مرکز مہدویت قم☀️*



*☀️ حدیث شریف معراج ☀️*
*دوسرا حصہ*
*یا أَحْمَدُ! إِنْ أَحْبَبْتَ أَنْ تَکُونَ أَوْرَعَ النّاسِ، فَازْهَدْ فِى الدُّنْیا،  وَ ارْغَبْ فِى الْآخِرَةِ.  فَقالَ: إِلهِى! وَ کَیْفَ أَزْهَدُ فِى الدُّنْیا؟ فَقالَ: خُذْ مِنَ الدُّنْیا کَفافاً [خَفّاً] مِنَ الطَّعامِ وَ الشَّرابِ وَ اللِّباسِ، وَ لا تَدَّخِرْ شَیْئاً لِغَدٍ، وَ دُمْ عَلَى ذِکْری. فَقالَ: یا رَبِّ! فَکَیْفَ أَدُومُ عَلَى ذِکْرِکَ؟ فَقالَ: بِالْخَلْوَةِ عَنِ النّاسِ،  وَ بُغْضِکَ الحُلْوَ وَ الحامِضَ، وَ فَراغِ بَطْنِکَ وَ بَیْتِکَ مِنَ الدُّنْیا.*
اے احمد اگر اپ چاہتے ہیں سب لوگوں سے زیادہ پرہیزگار ہوں تو دنیا میں زاہد ہوں (یعنی دنیا کی چیزوں سے دلبستگی نہ ہو) اور اخرت کی طرف رغبت پیدا کریں۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: پروردگارا! میں کیسے دنیا میں زہد اختیار کروں؟
رب نے فرمایا دنیا میں کھانے، پینے اور لباس پہننے کے معاملے میں صرف ضرورت کی حد تک اور یہ کہ دنیا میں زندگی گزر جائے ،صرف اس حد تک استفادہ کریں اور کل کے لیے ان چیزوں کو  ذخیرہ نہ کریں اور ہمیشہ میری یاد میں رہیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: پروردگارا! میں کیسے ہمیشہ تیری یاد میں رہوں؟
تو پروردگار نے فرمایا: لوگوں سے خلوت اختیار کر (یعنی لوگوں کی محفلوں میں زیادہ نہ بیٹھ), دنیا کی کھٹی میٹھی چیزوں کو پسند نہ کر ،اپنے پیٹ  اور اپنے گھر کو دنیاوی چیزوں سے خالی رکھ۔

 *یا أَحْمَدُ! وَ احْذَرْ أَنْ تَکُونَ مِثْلَ الصَّبِىِّ إِذا نَظَرَ إِلَى الأَخْضَرِ وَ الأصْفَرِ أَحَبَّهُ، وَ إِذا اُعْطِىَ شَیْئاً مِنَ الحُلْوِ وَ الحامِضِ، إِغْتَرَّ بِهِ. فَقالَ: یا رَبِّ! دُلَّنی عَلَى عَمَلٍ أَتَقَرَّبُ بِهِ إِلَیْکَ.  فَقالَ: إِجْعَلْ لَیْلَکَ نَهاراً، وَ اجْعَلْ نَهارَکَ لَیْلاً. فَقالَ: یا رَبِّ! کَیْفَ یَکُونُ ذَلِکَ؟ قالَ: إِجْعَلْ نَوْمَکَ صَلاةً، وَ طَعامَکَ الجُوعَ.*
اے احمد؛ کہیں بچوں کی مانند نہ ہو جانا جو دنیا کے سبز و پیلے رنگ کو جب دیکھتے ہیں تو پسند کرتے ہیں اور دنیا کی کھٹی میٹھی چیزوں کے عاشق ہوتے ہیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا :پروردگارا! مجھے وہ کام بتا کہ جس کی وجہ سے مجھے تیرا قرب حاصل ہو.
پروردگار نے فرمایا: اپنی رات کو دن بنا اور دن کو رات بنا.
 تو نبی کریم نے عرض کی: میں کیسے ایسا کروں؟
 فرمایا: اپنی نیند کو نماز قرار دے اور خوراک کو بھوک قرار دے؛
(یعنی رات کو کثرت سے عبادت کر اور دن کو بہت کم کھائیں پئیں ، پیٹ بھوکا رہے جیسے رات کو انسان نیند کی وجہ سے کئی گھنٹے نہیں کھاتا پیتا).

👈 جاری ہے
*ترجمہ : استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب*

☀️عالمی مرکز مہدویت قم☀️


*☀️حدیث معراج شریف☀️*
*تیسرا حصہ*
*یا أَحْمَدُ! وَ عِزَّتی وَ جَلالی، ما مِنْ عَبْدٍ ضَمِنَ لى بِأَرْبَعِ خِصالٍ إِلَّا أَدْخَلْتُهُ الجَنَّةَ: یَطْوی لِسانَهُ فَلا یَفْتَحُهُ إِلَّا بِما یُعینُهُ [ظ: یَعْنیهِ]،  وَ یَحْفَظُ قَلْبَهُ مِنَ الوَسْواسِ،  وَ یَحْفَظُ عِلْمی وَ نَظَری إِلَیْهِ، وَ یَکُونُ قُرَّةُ عَیْنِهِ الجُوع.*

*اے احمد مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم؛ کوئی ایسا عبد نہیں جس نے میرے لیے چار خصلتوں کی ضمانت کی ہو اور میں اس سے جنت میں داخل نہ کروں* (یعنی اگر کوئی شخص ان چار صفتوں کو اپنے اندر پیدا کرے اللہ اسے ہر صورت میں جنت میں داخل کرے گا) 
*1: اپنی زبان کو فضول نہ چلائے صرف مفید بات کرے۔*
*2: اپنے دل کو (شیطانی اور نفسانی)وسوسوں سے پاک رکھے۔*
*3: اس بات پر ہمیشہ توجہ رکھے کہ میں اسے جانتا ہوں اور اسے دیکھ رہا ہوں*
*4: اس کی انکھوں کا نور بھوک ہو*
_مطلب یہ ہے کہ پیٹ بھر بھر کرنہ کھائے چونکہ اس سے عبادات میں سستی پیدا ہوتی ہے اور یہ انسان کے قلب کی سیاہی اور سختی کا باعث ہے_

*یا أَحْمَدُ! لَوْ ذُقْتَ حَلاوَةَ الجُوعِ وَ الصَّمْتِ وَ الخَلْوَةِ وَ ما وَرِثُوا مِنْها! قالَ: یا رَبِّ! ما میراثُ الجُوعِ؟ قالَ: أَلْحِکْمَةُ،  وَ حِفْظُ القَلْبِ،  وَ التَّقَرُّبُ إِلَىَّ،  وَ الحُزْنُ الدّائِمُ، وَ خِفَّةُ المَؤُونَةِ بَیْنَ النّاسِ،  وَ قوْلُ الحَقِّ، وَ لا یُبالی عاشَ بِیُسْر أمْ بِعُسْر.*

*اے احمد کاش تم بھوک ، خاموشی ، تنہائی اور اس کے ثمرات کا مزہ لیتے*
یعنی کم غذا اور قلیل لیکن مفید بولنا اور لوگوں کی فضول محفلوں سے اللہ کے لیے دوری اختیار کرنا نہایت بابرکت اور الہی قرب کا باعث ہے
*نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: اے میرے پروردگار بھوک کا ثمرہ اور نتیجہ کیا ہے*؟
*پروردگار نے فرمایا : حکمت و دانائی،*
*دل کا محفوظ رہنا*,
 *میری قربت ,*
 (میرے فراق میں) *ہمیشہ غمگین رہنا ،*
 *لوگوں میں ہلکا پھلکا رہنا*(یعنی لوگ اسے عزت کی نگاہ سے دیکھیں کوئی اس سے ناراض نہیں), 
*حق گو ہونا*
 *اور  زندگی کی آسانیوں اور سختیوں کی پرواہ نہ کرنا۔*

👈جاری ہے
*ترجمہ : استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب*
عالمی مرکز مہدویت قم


 *☀️حدیث شریف معراج☀️*
*چوتھا حصہ*
*یا أَحْمَدُ! هَلْ تَدْرى بِأَىِّ وَقْتٍ یَتَقَرَّبُ العَبْدُ إِلَىَّ؟ قالَ: لا، یا رَبِّ! قالَ: إِذا کانَ جائِعاً أَوْ ساجِداً.*
*اے احمد ؛ کیا تم جانتے ہو کہ بندہ کس وقت میرے قریب ہوتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا نہیں اے میرے پروردگار تو رب جلیل نے فرمایا جب وہ بھوکا ہوتا ہے یا سجدے کی حالت میں ہوتا ہے*

*یا أَحْمَدُ! عَجِبْتُ مِنْ ثَلاثَةِ عَبید*
*اے احمد مجھے تین قسم کے بندوں پر تعجب ہے*

*عَبْدٌ دَخَلَ فِى الصَّلاةِ وَ هُوَ یَعْلَمُ إِلَى مَنْ یَرْفَعُ یَدَیْهِ وَ قُدّامَ مَنْ هُوَ، وَ هُوَ یَنْعَسُ*
*اس بندے پر کہ جو نماز کے لیے کھڑا ہے اور وہ جانتا ہے کہ اس نے اپنے ہاتھ کس کی بارگاہ میں اٹھائے ہیں اور کس کے مد مقابل کھڑا ہے اور پھر بھی وہ اونگھ رہا ہے!*
مطلب یہ کہ بعض لوگ نماز کے لیے کھڑے تو ہوتے ہیں لیکن از روی عادت ، نہ کہ وہ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں جانتے ہیں اسی لیے نماز میں بے حالی ، سستی اور عدم توجہ کی سی کیفیت ہوتی ہے جیسے کوئی اونگھ رہا ہو اور بعض کو تو واقعا نماز میں اونگھ اور نیند کی سی حالت طاری ہوتی ہے یہ سب نماز کو اہمیت نہ دینے کے اثرات ہیں۔
*وَ عَجِبْتُ مِنْ عَبْدٍ لَهُ قُوتُ یَوْم مِنَ الحَشیشِ أَوْ غَیْرِهِ، وَ هُوَ یَهْتَمُّ لِغَدٍ*
*اور مجھے تعجب ہے اس بندے پر جس کی ہر روز کی خوراک و طعام ، نباتات وغیرہ ہیں (زمین سے نکلنے والی چیزیں مثلآ  سبزیاں اور پھل وغیرہ)اور وہ پھر بھی کل کی روزی و  رزق کے بارے میں فکر مند اور غمگین ہے!*
*وَ عَجِبْتُ مِنْ عَبْدٍ لا یَدْری أَنّی راضٍ عَنْهُ أَوْ ساخِطٌ عَلَیْهِ، وَ هُوَ یَضْحَکُ.*
*اور مجھے تعجب ہے اس بندے پر جو نہیں جانتا کہ میں اس سے راضی ہوں یا اس پر ناراض ہوں اور وہ پھر بھی ہنس رہا ہے*
یہ بہت بڑی غفلت کا عالم ہے بسا اوقات انسان دنیا میں یوں زندگی گذار رہا ہے جیسے کوئی خدا نہیں ہے جو اسکا دل کرتا ہے وہ کررہا ہے اسے پرواہ نہیں کہ خدا اسے دیکھ رہا ہے اس پر راضی ہے یا ناراض ، ساتھ وہ ہر روز اتنے لوگوں کو مرتے اور اللہ کی بارگاہ میں جاتے دیکھ رہا ہے لیکن اپنے روزمرہ کی زندگی میں گم و غرق اور ھنستا قہقہے لگا رہا ہے واقعا تعجب کا مقام ہے!!

👈جاری ہے
ترجمہ : استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب
# سلسلہ درس حدیث معراج
#درس مکتوب
#درس معرفت و سیر و سلوک
*عالمی مرکز مہدویت قم*

 *☀️حدیث شریف معراج☀️*
*پانچواں حصہ*
*یا أَحْمَدُ! إنَّ فِى الجَنَّةِ قَصْراً مِنْ لُؤْلُؤَةٍ فَوْقَ لُوْلُؤَةٍ، وَ دُرَّةٍ فَوْقَ دُرَّةٍ، لَیْسَ فیها نَظْمٌ وَ لا وَصْلٌ، فیهَا الخَواصُّ، أَنْظُرُ إِلَیْهِمْ فى کُلِّ یَوْمٍ سَبْعینَ مَرَّةً، وَ اُکَلِّمُهُمْ کُلَّما نَظَرْتُ إِلَیْهِمْ، وَ أَزیدُ فى مُلْکِهِمْ سَبْعینَ ضِعْفاً. وَ إِذا تَلَذَّذَ أَهْلُ الجَنَّةِ بِالطَّعامِ وَ الشَّرابِ، تَلَذَّذَ اُولَئِکَ بِذِکْری وَ کَلامی وَ حَدیثی. قالَ: یا رَبِّ! ما عَلامَةُ اُولَئِکَ؟ قالَ: مَسْجُونُونَ، قَدْ سَجَنُوا أَلْسِنَتَهُمْ مِنْ فُضُولِ الکَلامِ، وَ بُطُونَهُمْ مِنْ فُضُولِ الطَّعامِ.*
*اے احمد: جنت کے اندر سفید  چمکتے نگینوں اور مروارید سے بنا ہوا ایک محل ہے کہ جس پر یہ سفید چمکتے ہوئے نگینے اور مروارید بکھرے ہوئے ہیں اور اپس میں جڑے ہوئے نہیں ہیں اور یہ اللہ کے خاص بندوں کے لیے ہے*
 *میں انہیں ہر روز 70 بار دیکھتا ہوں اور جب بھی دیکھتا ہوں تو ان سے ہمکلام ہوتا ہوں اور ہر بار ان کی شان و شوکت میں اضافہ کرتا ہوں باقی جنت والوں کی لذتیں کھانے پینے سے ہیں لیکن یہ میرے خاص بندے ان کی لذت میری یاد، مجھ سے گفتگو اور میری کلام سے ہے۔*
 *نبی کریم نے فرمایا: پروردگارا ان کی نشانی کیا ہے تو پروردگار نے فرمایا: اپنی زبان کو فضول کلام سے کنٹرول میں رکھتے ہیں اور اپنے شکم کو زیادہ کھانے سے کنٹرول میں رکھتے ہیں*

*یا أَحْمَدُ! إِنَّ المَحَبَّةَ لِلّهِ، هِىَ المَحَبَّةُ لِلْفُقَرآءِ وَ التَّقَرُّبُ إِلَیْهِمْ.  قالَ: یا رَبِّ! وَ مَنِ الْفُقَرآءُ؟ قالَ: أَلَّذینَ رَضُوا بِالْقَلیلِ،  وَ صَبَرُوا عَلَى الجُوعِ،  وَ شَکَرُوا عَلَى الرَّخآءِ،  وَ لَمْ یَشْکُوا جُوعَهُمْ وَ لا ظَمَأَهُمْ،  وَ لَمْ یَکْذِبُوا بِأَلْسِنَتِهِمْ،  وَ لَمْ یَغْضَبُوا عَلَى رَبِّهِمْ، وَ لَمْ یَغْتَمُّوا عَلَى ما فاتَهُمْ، وَ لَمْ یَفْرَحُوا بِما آتاهُمْ*
*اے احمد مجھ اللہ سے محبت درحقیقت فقراء سے محبت ہے اور ان کے قریب ہونا ہے، نبی کریم نے فرمایا : پروردگارا فقراء کون ہیں؟*
 *رب کریم نے فرمایا : وہ جو زندگی کی تھوڑی سی چیزوں پہ راضی ہیں اور اپنی بھوک پر صابر ہیں ،آسائش اور نعمت پر شکر گزار ہیں، بھوکے پیاسے ہونے پر شکایت نہیں کرتے،ان کی زبان پر جھوٹ جاری نہیں ہوتا،اپنے رب پہ ناراض نہیں ہوتے، جو کچھ (دنیا کا) ان کے ہاتھوں سے نکل جاتا ہے اس پہ غمگین نہیں ہوتے اور جس (دنیاوی سہولت) چیز کو پا لیتے ہیں اس پہ خوشحال نہیں ہوتے*

👈جاری ہے 
ترجمہ: استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب
#سلسلہ درس حدیث معراج
#درس مکتوب
# درس معرفت و سیر و سلوک
*عالمی مرکز مہدویت قم*



*🔆 حدیث شریف معراج 🔆*
*چھٹا حصہ*
 *یا أَحْمَدُ! مَحَبَّتی مَحَبَّةُ الفُقَرآءِ، فَادْنُ الفُقَرآءَ وَ قَرِّبْ مَجْلِسَهُمْ مِنْکَ، أَدْنُکَ، وَ بَعِّدِ الأَغنِیاءَ وَ بَعِّدْ مَجْلِسَهْم مِنْکَ، فَإِنَّ الفُقَرآءَ أَحِبّآئی*

*اے احمد میری محبت دراصل فقراء کی محبت ہے پس فقراء کے نزدیک ہو جاؤ اور ان کے مقام کو اپنے قریب کرو*( یعنی ان کے ساتھ نشست و برخاست کرو ) *اور دنیا دار امیروں سے دور ہو جاؤ اور ان سے نشست و برخاست نہ کرو جان لو کہ فقراء میرے محبوب ہیں*

*یا أَحْمَدُ! لا تَتَزَیَّنْ بِلینِ الثِّیابِ،  وَ طیبِ الطَّعامِ وَ لینِ الوِطاءِ، فَإِنَّ النَّفْسَ مَأْوَى کُلِّ شَرٍّ، وَ هِىَ رَفیقُ کُلِّ سُوء، تَجُرُّها إِلَى طاعَةِ اللهِ وَ تَجُرُّکَ إِلَى مَعْصِیَتِهِ، وَ تُخالِفُکَ فى طاعَتِهِ وَ تُطیعُکَ فیما یَکْرَهُ، وَ تَطغَى إِذا شَبِعَتْ، وَ تَشْکُو إِذا جاعَتْ، وَ تَغضَبُ إِذَا افْتَقَرَتْ، وَ تَتَکَبَّرُ إِذَا اسْتَغْنَتْ، وَ تَنْسَى إِذا کَبُرتْ، وَ تَغْفَلُ إِذا أَمِنَتْ، وَ هِىَ قَرینَةُ الشَّیْطانِ، وَ مَثَلُ النَّفْسِ کَمَثَلِ النُّعامَةِ، تَأْکُلُ الکَثیرَ وَ إِذا حُمِلَ عَلَیْها لا تَطیرُ، وَ مَثَلُ الدِّفْلَى لَوْنُهُ حَسَنٌ وَطَعْمُهُ مُرٌّ.*

*اے احمد نرم لباسوں سے اپنے اپ کو زینت نہ دو اور خوشگوار کھانے اور نرم بستروں پر راحت  کے ساتھ سونے سے پرہیز کرو, نفس تمام برائیوں کا مرکز اور ہر بری چیز کا ساتھی ہے,تم اسے اللہ کی اطاعت کی طرف کھینچو گے وہ تجھے خدا کی نافرمانی کی طرف کھینچے گا، وہ اللہ کی اطاعت میں تمھاری مخالفت کرے گا اور اللہ کی نافرمانی میں تمھاری اطاعت کرے گا، جب وہ سیر ہو جائے گا تو پھر سرکشی کرے گا* (اور زیادہ مانگے گا) *اور جب بھوکا ہوگا تو شکایت کرے گا ، جب تمھارے پاس کچھ نہیں ہوگا* (غریب ہو گئے) *تو غضب ناک ہوگا اور جب تمھارے پاس سب کچھ ہوگا* (امیر ہو گئے) *تو سرکش ہو جائے گا کسی بڑے منصب و مقام  پہ پہنچو گے تو* (اللہ کی یاد اور اپنے فرائض سے) *فراموشی میں مبتلا ہوگا اگر آسائش پاؤ گے تو* (اللہ سے) *غفلت میں پڑ جائے گا , یہ ہمیشہ شیطان کا ہمدم اور یار ہے،  اس کی مثال شتر مرغ جیسی ہے کہ جو بہت زیادہ کھاتا ہے لیکن جب اس پر کوئی بوجھ ڈالو تو وہ پرواز نہیں کرتا یا "دفلی" پودے کی مانند ہے جو دیکھنے میں خوبصورت ہے لیکن  بہت تلخ ہے*

👈جاری ہے
ترجمہ: استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب
#سلسلہ درس حدیث معراج
#درس مکتوب
# درس معرفت و سیر و سلوک
*عالمی مرکز مہدویت قم*


 *☀️حدیث شریف معراج☀️*
*ساتواں حصہ*
*یا أَحْمَدُ! أَبْغِضِ الدُّنْیا وَ أَهْلَها، وَ أَحِبَّ الآخِرَةَ وَ أَهْلَها.  قالَ: یا رَبِّ! وَ مَنْ أَهْلُ الدُّنْیا؟ وَ مَن أَهْلُ الآخِرَةِ؟ قالَ: أَهْلُ الدُّنْیا: مَنْ کَثُرَ أَکْلُهُ وَ ضِحْکُهُ وَ نَوْمُهُ وَ غَضَبُهُ،  قَلیلُ الرِّضـا، لا یَعْتَذِرُ إِلَى مَنْ أَساءَ إِلَیْهِ، وَ لا یَقْبَلُ عُذْرَ مَنِ اعْتَذَرَ اِلَیْهِ،  کَسْلانٌ عِنْدَ الطّاعَةِ،  شُجاعٌ عِنْدَ المَعْصِیَةِ،  أَمَلُهُ بَعیدٌ، وَأَجَلُهُ قَریبٌ؛ لا یُحاسِبُ نَفْسَهُ،  قَلیلُ التَّفَقُّهِ،  کَثیرُ الکَلامِ،  قَلیلُ الخَوْفِ،  کَثیرُ الفَرَحِ عِنْدَ الطَّعامِ.  وَ إِنَّ أَهْلَ الدُّنْیا لا یَشْکُرُونَ عِنْدَ الرَّخآءِ، وَ لا یَصْبِرُونَ عِنْدَ البَلاءِ،  کَثیرُ النّاسِ عِنْدَهُم قَلیلٌ،  یَحْمَدُونَ أَنْفُسَهُمْ بِما لا یَفْعَلُونَ، وَ یَدَّعُونَ بِما لَیْسَ لَهُمْ،  وَ یَذْکُرُونَ مَساوِىَ النّاسِ.*

*اے احمد: دنیا اور دنیا والوں سے نفرت کر آخرت اور آخرت والوں سے محبت کر !*
*نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: پروردگار دنیا والے اور آخرت والے کون ہیں؟* *پروردگار نے فرمایا: جن کی خوراک , ہنسیاں (قہقہے)، نیند اور غصے زیادہ ہیں اور رضایت کم ہے (یعنی بہت کم راضی ہوتے ہیں)*
 *کسی سے برائی کریں تو معذرت نہیں کرتے اور اگر کوئی ان سے معذرت کرے تو اسے قبول نہیں کرتے، اللہ کی اطاعت کے وقت سست اور گناہ کے وقت تیز اور گستاخ ہوتے ہیں*
 *لمبی اور نہ ملنے والی آرزوئیں اور خواہشیں رکھتے ہیں* 
*حالانکہ ان کی موت بہت نزدیک ہے*
 *اپنے نفس کا محاسبہ نہیں کرتے اور دین میں سمجھ بوجھ کم رکھتے ہیں بہت زیادہ بولتے ہیں, اللہ اور آخرت سے بہت کم خوف رکھتے ہیں, کھانے کے وقت بہت زیادہ خوش ہوتے ہیں*
 *دنیا والے نعمت اور آسائش میں شکر گزار نہیں ہوتے مصیبت اور آزمائش میں بےصبرے ہوتے ہیں(صبر نہیں کرتے)*
*لوگوں کے زیادہ اچھے کام ان کے لیے بہت کم اور غیر اہم ہوتے ہیں جبکہ اپنے نہ کئے کاموں پر تعریف کرتے ہیں اس چیز کا دعوی کرتے ہیں جو ان کا حق نہیں اور ہمیشہ لوگوں کے عیب شمار کرنے میں مشغول رہتے ہیں*

*یا أَحْمَدُ! إِنَّ عَیْبَ أَهْلِ الدُّنْیا کَثیرٌ،  فیهِمُ الجَهْلُ وَ الحُمْقُ،  لا یَتَواضَعُونَ لِمَنْ یَتَعَلَّمُونَ مِنْهُ. وَ هُمْ عِنْدَ أَنْفُسِهِمْ عُقَلاءُ، وِ عِنْدَ العارِفینَ حَمْقَى.*
*اے احمد : دنیا والوں کے عیب بہت زیادہ ہیں ،جہالت اور حماقت میں گھرے ہوئے ہیں*
 *جن سے علم و حکمت سیکھتے ہیں ان کا احترام نہیں کرتے, اپنے اپ کو عقل مند سمجھتے ہیں حالانکہ اہل معرفت کے نزدیک یہ سب احمق ہیں*

👈جاری ہے
ترجمہ: استادِ محترم علامہ آغا علی اصغر سیفی صاحب

⭐ *عالمی مرکز مہدویت قم*⭐




*حدیث شریف معراج*
*آٹھواں درس*
*یا أَحْمَدُ! إِنَّ أَهْلَ الآخِرَةِ رَقیقَةٌ وُجُوهُهُمْ، کَثیرٌ حَیاؤُهُمْ، قَلیلٌ حُمْقُهُمْ، کَثیرٌ نَفْعُهُمْ، قَلیلٌ مَکْرُهُمْ، أَلنّاسُ مِنْهُمْ فى راحَةٍ، وَ أَنْفُسُهُمْ مِنْهُمْ فى تَعَبٍ، کَلامُهُمْ مَوْزُونٌ، مُحاسِبینَ لِأَنْفُسِهِمْ مُتْعِبینَ لَها، تَنامُ أَعْیُنُهُمْ وَ لا تَنامُ قُلُوبُهُمْ، أَعْیُنُهُمْ باکِیَةٌ،وَ قُلُوبُهُمْ ذاکِرَةٌ؛ وَ إِذا کُتِبَ النّاسُ مِنَ الغافِلینَ، کُتِبُوا مِنَ الذّاکِرینَ،فی أَوَّلِ النِّعْمَةِ یَحْمَدُونَ، وَ فى آخِرِها یَشْکُرُونَ،دُعاؤُهُهْم عِنْدَ اللهِ مَرْفُوعٌ، وَ کَلامُهُمْ عِنْدَهُ مَسْمُوعٌ، تَفْرَحُ بِهِمُ المَلائِکَةُ، یَدُورُ دُعاؤُهُم تَحْتَ الحُجُبِ، یُحِبُّ الرَّبُّ أَنْ یَسْمَعَ کَلامَهُمْ، کَما تُحِبُّ الوالِدَةُ وَلَدَها؛ لا یَشْغَلُهُمْ عَنِ اللهِ شَىْءٌ طَرْفَةَ عَیْنٍ، وَ لا یُریدُونَ کَثْرَةَ الطَّعامِ وَ لا کَثْرَةَ الکَلامِ وَ لا کَثْرَةَ اللِّباسِ؛ أَلنّاسُ عِنْدَهُمْ مَوْتى، وَ اللهُ عِنْدَهُمْ حَىٌّ کَریمٌ لا یَمُوتُ؛  یَدْعُونَ المُدْبِرینَ کَرَماً، وَ یَزیدُونَ المُقْبِلینَ تَلَطُّفاً؛ قَدْ صارَتِ الدُّنْیا وَ الآخِرَةُ عِنْدَهُمْ واحِدَةً؛ یَمُوتُ النّاسُ مَرَّةً، وَ یَمُوتُ أَحَدُهُمْ فى کُلِّ یَوْمٍ سَبْعینَ مَرَّةً مِنْ مُجاهَدَةِ أَنْفُسِهِمْ وَ هواهُمْ وَ الشَّیْطانِ الَّذى یَجْری فى عُرُوقِهِمْ؛ لَوْ تَحَرَّکَتْ ریحٌ لَزَعْزَعَتْهُ، وَ إِنْ قامَ بَیْنَ یَدَىَّ فَکَأَنَّهُ بُنْیانٌ مَرْصُوصٌ،  لا أَرَى فی قَلْبِهِ شُغْلاً بِمَخْلُوقٍ. فَوَعِزَّتی وَ جَلالی، لَأُحْیِیَنَّهُ حَیاةً طَیِّبَةً، حَتَّى إِذا فارَقَ رُوحُهُ جَسَدَهُ، لا اُسَلِّطُ عَلَیْهِ مَلَکَ المَوْتِ، وَ لا یَلی قَبْضَ رُوحِهِ غَیْری، وَ لَأَفْتَحَنَّ لِرُوحِهِ أَبْوابَ السَّماءِ کُلَّها، وَ لَأَرْفَعَنَّ الحُجُبَ کُلَّها دُونی، وَ لَآمُرَنَّ الجِنانَ فَلْتَزَیَّنَنَّ، وَ الحُورَ العینَ فَلْتُشْرِقَنَّ، وَ المَلائِکَةَ فَلْتُصْلِبَنَّ، وَ الأَشْجارَ فَلْتُثْمِرَنَّ، وَ ثِمارَ الجَنَّةِ فَتَدَلَّیَنَّ، وَ لَآمُرَنَّ ریحاً مِنَ الرِّیاحِ الَّتی تَحْتَ العَرْشِ فَلْتَحْمِلَنَّ جبالاً مِنَ الکافُورِ وَ المِسْکِ الأَذْفَرِ فَلْتَضْرَمَنَّ وَقوداً مِنْ غَیْرِ نارٍ فَلْتَدْخُنَنَّ؛وَ لا یَکُونُ بَیْنی وَ بَیْنَ رُوحِهِ سَتْرٌ، وَ أَقُولُ لَهُ عِنْدَ قَبْضِ رُوحِهِ: مَرْحَباً وَ أَهْلاً بِقُدُومِکَ عَلَىَّ! أَسْعِدْ بِالکَرامَةِ وَ البُشْرَى بِالرَّحْمَةِ وَ الرِّضْوانِ وَ جَنّاتٍ لَهُمْ فیها نَعیمٌ مُقیمٌ خالِدینَ فیها أَبَداً، إِنَّ اللهَ عِنْدَهُ أَجْرٌ عَظیمٌ.فَلَوْ رَأَیْتَ المَلائِکَةَ کَیْفَ یَأْخُذُها واحِدٌ وَ یُعْطیهَا الآخَرَ!*

*اے احمد؛ اہل آخرت کے دل بہت نرم ، انکی شرم و حیاء بہت زیادہ ، نافہمی کم (اگر حماقت کریں تو بہت کم ایسی صورت حال پیش آتی ہے), انکا نفع و فائدہ (دوسروں کو) بہت زیادہ، (دوسروں کے ساتھ ) مکر و فریب نہایت کم ہے*
*لوگوں کو ان سے سہولت اور آسائش ملتی ہے لیکن انہیں لوگوں سے رنج و زحمت ملتی ہے، انکی گفتگو اچھی اور سنجیدہ ہے، اپنے نفس کا محاسبہ کرتے ہیں اسے سختی و زحمت میں رکھتے ہیں، انکی آنکھیں (رات کو) سوتی ہیں لیکن انکے دل ہمیشہ بیدار رہتے ہیں ، آنسو بھری آنکھوں سے دل میں اللہ کی یاد زندہ رکھتے ہیں۔*
*جب باقی لوگوں کا نام اللہ سے غفلت کرنے والوں میں لکھا جاتا ہے تو انکا نام اللہ کو یاد کرنے والوں لکھا جاتا ہے، نعمت ملتے ہی شروع میں اللہ کی حمد و ثناء کرتے ہیں اور آخر میں اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں، انکی دعا اللہ کی بارگاہ میں بلند ہوتی اور مستجاب ہوتی ہے انکی بات کو اللہ مانتا ہے ، فرشتے ان سے راضی ہیں ، انکی دعائیں( اللہ کی بارگاہ میں پہنچنے سے پہلے ) نوری حجابوں کے نیچے حرکت کرتی ہیں ، خدا کو انکی کلام سننا اسی طرح پسند ہے جس طرح ماں کو اپنے بچے کی بات کرنا پسند ہے۔*😭
*اللہ کی یاد سے وہ ایک پلک جھپکنے کا لحظہ بھی غافل نہیں ہیں، وہ کبھی بھی زیادہ کھانے زیادہ بولنے اور زیادہ لباس پہننے کا شوق نہیں رکھتے،ان کے نزدیک لوگ (اپنی حیوانی زندگی میں غرق ہونے کی وجہ سے گویا  کہ) مر چکے ہیں صرف پروردگار ہے جو حی و  کریم(بہت بڑا زندہ اور کرم و بخشش والا ہے)  کہ جسے موت نہیں ہے ، حق سے دور ہونے والوں کو اپنے کرم و بزرگی کی وجہ سے بلاتے ہیں ، اپنی طرف آنے والوں کا محبت و خوش اخلاقی سے استقبال کرتے ہیں،ان کی نگاہ میں دنیا اور اخرت ایک ہے،لوگ زندگی میں ایک بار مرتے ہیں لیکن یہ روزانہ اللہ کی راہ میں اپنے نفس، خواہشات نفسانی اور شیطان سے بہت زیادہ اور شدت سے جہاد کرنے کی وجہ سے 70 مرتبہ مرتے ہیں۔*
*بظاہر ان کا بدن ضعیف اور کمزور کہ ایک ہوا کا جھونکا بھی اسے لرزا دیتا ہے،لیکن جب میری بارگاہ میں نماز اور راز و نیاز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں،تو ایک مضبوط اور مستحکم چٹان کی مانند ہوتے ہیں،میں ان کے دلوں میں مخلوق سے کسی قسم کا تعلق اور وابستگی نہیں پاتا،مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم میں انہیں حیات طیبہ سے سرفراز رکھتا ہوں*
*جب ان کی روح کے جسم سے جدائی کا ٹائم اتا ہے تو میں فرشتہ موت کو ان کی طرف نہیں بھیجتا میرے علاوہ کوئی بھی ان کی جان کو قبض نہیں کرتا،😭 آسمان کے تمام دروازے ان کی ارواح کے لیے کھولتا ہوں اور اپنے اور ان کے درمیان جتنے حجاب ہیں سب اٹھا لیتا ہوں،حکم دیتا ہوں کہ جنت ان کے لیے اپنے اپ کو سجائے اور ان پر ہر طرف سے حور العین  استقبال کے لیے آئیں ، فرشتے ان کی خدمت کے لیے کھڑے ہوتے ہیں😭  جنتی درخت اپنے میوے دیتے ہیں اور یہ جنتی میوے ان کی خدمت میں پیش کیے جاتے ہیں،عرش کے نیچے جتنی نسیم بھری ہوائیں ہے ان میں سے کسی ایک باد نسیم کو حکم دیتا ہوں جاؤ مشک و کافور کے پہاڑوں سے خوشبو اٹھاؤ اور میرے ان بندوں کے گرد ماحول کو خوشبودار کرو خوشبو جلے لیکن آگ سے نہیں، میرے اور ان کی روح کے درمیان کوئی حجاب نہ ہو،جب ان کی جان لیتا ہوں تو کہتا ہوں اہلا وسہلا  محبت بھرے قدموں سے آنے کی مبارکباد دیتا ہوں😭،کرم بھری سعادت اسے عطا ہوتی ہے،رحمت،  رضوان اور بہشت کی خوشخبری دیتا ہوں کہ جس کی نعمتوں میں وہ ہمیشہ کی ابدی زندگی گزاریں گے،ان کے لیے ختم نہ ہونے والا سب سے بڑا اجر اللہ کی بارگاہ میں ہے،کاش تو دیکھتا فرشتے کیسے اسے اپنی اغوش میں لیتے ہیں اور ایک دوسرے کے اغوش میں دیتے ہیں۔*😭

👈جاری ہے

_*ترجمہ: استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب*💐_

*عالمی مرکز مہدویت قم*



☀️ *حدیث شریف معراج*☀️
*نواں حصہ*
  *یا أَحْمَدُ! إِنَّ أَهْلَ الآخِرَةِ لا یَهْنَأُهُمُ الطَّعامُ مُنْذُ عَرَفُوا رَبَّهُمْ، وَلا تَشْغَلُهُمْ مُصیبَةٌ مُنْذُ عَرَفُوا سَیِّئاتِهِمْ، یَبْکُونَ عَلى خَطایاهُمْ، وَیُتْعِبُونَ أَنْفُسَهُمْ وَلا یُریحُونَها.  إِنَّ راحَةَ أَهْلِ الآخِرَةِ فِى المَوْتِ، وَالآخِرَةُ مُسْتَراحُ العارِفینَ;  مُونِسُهُمْ دُمُوعُهُمُ الَّتی تَفیضُ عَلى خُدُودِهِمْ،  وَجُلُوسُهُمْ مَعَ المَلائِکَةِ الَّذینَ یَمْشُونَ عَلى أَیْمانِهِمْ وَشَمآئِلِهِمْ،  وَمُناجاتُهُمْ مَعَ الجَلیلِ الَّذی فَوْقَ عَرْشِهِمْ.   إِنَّ أَهْلَ الآخِرَةِ قُلُوبُهُمْ فى أَجْوافِهِمْ قَدْ قَرَحَتْ، یَقُولُونَ: مَتى نَسْتَریحُ مِنْ دارِالفَنآءِ إِلى دارِ البَقآءِ؟*

*اے احمد اہل اخرت نے جب سے اپنے رب کی معرفت حاصل کی ہے اس وقت سے انہیں کوئی خوراک مزہ نہیں دیتی*(صرف اللہ کی یاد کا لطف آتا ہے) *اور جب سے انہوں نے اپنے گناہوں کو جانا ہے کوئی مصیبت  انہیں پریشان نہیں کرتی،* (کیونکہ گناہوں کی مصیبت و عذاب دنیا کی ہر مصیبت سے بڑا ہے) *اپنی خطاؤں پر روتے ہیں اور اپنے نفس کو سختی میں ڈالتے ہیں اسے سکون نہیں لینے دیتے،* ( کیونکہ اپنے نفس کو جب بھی آسائش دیں گے تو یہ گناہ کی خواھش ابھارے گا اس لیے اسے عبادات اور سخت کاموں کی سختی میں مصروف رکھتے ہیں جیسے کثرت سے روزے اور کم کھانا اور کم بولنا وغیرہ) *اہل اخرت کا سکون موت میں ہے اور عرفاء کی آسائش کی جگہ اخرت ہے*( مراد یہ ہے کہ دنیا میں یا تو انہیں ارد گرد کے لوگوں سے رنج و درد ملتے ہیں یا گناہ کر بیٹھتے ہیں اور اس سے پشیمان و خوف عذاب کا رنج ملتا ہے اس لیے وہ موت یعنی دنیا سے جانے کو ترجیح دیتے ہیں) *،ان کے دوست وہ انسو ہیں جو ان کے رخساروں پر جاری ہوتے ہیں،* ( وہ انسو جو اللہ کی محبت اور گناہوں کی پشیمانی میں جاری ہوتے ہیں) *ان کے ہم نشین وہ فرشتے ہیں جو ان کے ارد گرد حرکت میں رہتے ہیں*(اللہ کی طرف سے انسان کے محافظ اور نگہبان فرشتے) *،ان کا راز و نیاز اپنے رب سے ہے جو ہر چیز پر برتر ہے اور ان کے علم و قدرت پر حاوی ہے،اہل اخرت کے دل ان کے سینوں میں زخمی ہو چکے ہیں،* ( دنیا والوں کی بیوفائی اور انکے رنج و درد اور شیطان و نفس امارہ کے حملوں سے انکے دل زخمی ہیں) *وہ کہتے ہیں کب اس دنیا فانی سے ہم راحت ہوں گے اور عالم باقی کی طرف جائیں گے؟*
👈 جاری ہے
ترجمہ و تشریح: استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب

🪷 *عالمی مرکز مہدویت قم*🪷




*☀️حدیث شریف معراج☀️*
*دسواں حصہ*
 *یا أَحْمَدُ! هَلْ تَعْرِفُ ما لِلزّاهِدینَ عِنْدی؟ قالَ: لا، یا رَبِّ! قالَ: یُبْعَثُ الخَلْقُ وَیُناقَشُونَ الحِسابَ، وَهُمْ مِنْ ذلِکَ آمِنُونَ.    إِنَّ أَدْنى ما اُعْطِى الزّاهِدینَ فِى الآخِرَةِ، أَنْ اُعْطِیَهُمْ مَفاتیحَ الجِنانِ کُلَّها، حَتّى یَفْتَحُوا أَىَّ باب شاؤُوا،  وَلا أَحْجُبُ عَنْهُمْ وَجْهى، وَلاَُنْعِمُهُمْ بِأَلْوانِ التَّلَذُّذِ مِنْ کَلامی، وَلاَُجْلِسَنَّهُمْ  [خ ل: لاَُمَتِّعَنَّهُمْ] فى مَقْعَدِ صِدْق، فَاُذَکِّرُهُمْ ما صَنَعُوا وَتَعِبُوا فى دارِ الدُّنْیا، وَاَفْتَحُ لَهُمْ أَرْبَعَةَ أَبْواب: بَابٌ تَدْخُلُ عَلَیْهِمُ الهَدایـا مِنْهُ بُکْرَةً وَعَشِیّاً مِنْ عِنْدی;  وَبابٌ یَنْظُرُونَ مِنْهُ إِلَىَّ کَیْفَ شاؤُوا بِلا صُعُوبَة; وَبابٌ یَطَّلِعُونَ مِنْهُ إِلَى النّارِ، فَیَنْظُرُونَ إِلَى الظّالِمینَ کَیْفَ یُعَذَّبُونَ;  وَبابٌ تَدْخُلُ عَلَیْهِمْ مِنْهُ الوَصائِفُ وَالحُورُ العینُ.   قالَ: یا رَبِّ! مَنْ هؤُلاءِ الزّاهِدُونَ الَّذینَ وَصَفْتَهُمْ؟ قالَ: أَلزّاهِدُ هُوَ الَّذی لَیْسَ لَهُ بَیْتٌ یَخْرَبُ، فَیَغْتَمَّ لِخَرابِهِ، وَ لا لَهُ وَلَدٌ یَمُوتُ، فَیَحْزَنَ لِمَوْتِهِ، وَلا لَهُ شَىْءٌ یَذْهَبُ، فَیَحْزَنَ لِذَهابِهِ، وَلا یَعْرِفُهُ إِنْسانٌ، فَیَشْغَلَهُ عَنِ اللهِ طَرْفَةَ عَیْن، وَلا لَهُ فَضْلُ طَعام، فَیُسْئَلَ عَنْهُ، وَلا لَهُ ثَوْبٌ لَیِّنٌ.*

*اے احمد کیا تم جانتے ہو کہ*(دنیا کے مال و رنگینی سے بےنیاز) *زاھدوں کا مقام میرے نزدیک کیا ہے؟ نبی کریم (ص) نے عرض کیا ، نہیں پروردگارا نہیں جانتا، پروردگار نے فرمایا: لوگ جب روز قیامت اٹھیں گے تو حساب کی مشکل میں پھنس جائیں گے لیکن زاھد لوگ اس مشکل سے بچیں رہیں گے* (یعنی انکا حساب ہی نہیں لیا جائیگا).*سب سے کمتر چیز جو انہیں دوں گا سب جنتوں کی چابی ہے تاکہ جس دروازے کو چاہیں اپنے لیے کھولیں،ان سے اپنا چہرہ نہیں چھپاؤں گا* (یعنی ایک عبد کے لیے رب جس قدر تجلی کرسکتا ہے کرے گا) *انہیں مقعد صدق میں طرح طرح کی لذتیں جیسے رب سے ہم کلامی اور رب سے ہم نشینی سے بہرہ مند کروں گا*(مقعد صدق جنت میں وہ مقام ہے جہاں اللہ تعالیٰ کے نیک لوگوں سے سارے وعدے پورے ہونگے) *،انہیں یاد دلاؤں گا جو انہوں نے دنیا میں اعمال انجام دئیے اور جو زحمتیں اٹھائیں، انکے لیے چار دروازے کھولوں گا ، ایک دروازے سے صبح و شام انہیں میری طرف سے انہیں تحائف وصول ہونگے، ایک دروازہ وہ ہوگا جب انکا دل کرے گا بغیر کسی مشقت کے میرا دیدار کرسکیں گے*( مطلب الہی تجلیات و کرشمے ورنہ اللہ تو جسم ہی نہیں کہ جسے دیکھا جاسکے) *، ایک دروازے سے وہ جہنم میں جلتے دوزخیوں کے عذاب و سخت حالات دیکھیں گے ، ایک دروازے سے بہشتی کنیزیں اور حوریں انکی طرف آئیں گی ۔ نبی کریم نے عرض کی پروردگارا یہ زاہد لوگ جن کی تو نے توصیف کی ہے یہ کون ہیں؟ پروردگار نے فرمایا: زاہد وہ ہے کہ جس کا نہ کوئی گھر ہو  کہ خراب ہو سکے اور نہ اسے کوئی گھر کے خراب ہونے کا غم ہوتا ہے*( مراد یہ ہے کہ گھروں سے دل بستگی نہیں رکھتے ورنہ گھر تو سب لوگوں کے ہوتے ہیں انبیاء اور آئمہ علیہم السلام کے بھی گھر تھے)، *نہ اولاد سے ایسے وابستہ ہے کہ ان کی موت سے غمگین ہو جائے*( یہاں بھی مراد یہ ہے کہ اولاد سے دل بستہ نہیں ہیں اولاد اللہ کی نعمت ہے مل جائے تو شکر ادا کرتے ہیں اور اگر خدا واپس لے لے تو اس پر غمگین نہیں ہوتے) *نہ اس کے پاس دنیا کا مال و دولت ہے کہ جس کے جانے سے اسے غم ہوتا ہو اس کا کوئی بھی ایسا نہیں ہوتا کہ جو اسے ایک پلک جھپکنے کی مدت بھی خدا سے غافل کر دے نہ وہ زیادہ خوراک کھاتا ہے کہ اسے حساب دینا پڑے اور نہ اس کے پاس نرم اور آسائش والا لباس ہے۔*( مطلب ایسے لباس نہیں کہ جن سے دل بستہ ہوں ورنہ لباس تو سب کے ہوتے ہیں وہ لباس کو ایک ضرورت سمجھ کر استفادہ کرتے ہیں نہ کہ لباسوں سے محبت کرتے ہیں)
👈جاری ہے 
*ترجمہ اور تشریح: استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب*

☀️ *عالمی مرکز مہدویت قم*☀️




 *🌟حدیث شریف معراج🌟*
*گیارھواں حصہ*
 *یا أَحْمَدُ! وُجُوهُ الزّاهِدینَ مُصْفَرَّةٌ مِنْ تَعَبِ اللَّیْلِ  وَ صَوْمِ النَّهارِ،  وَأَلْسِنَتُهُمْ کِلالٌ مِنْ ذِکْرِ اللهِ تَعالى،  قُلُوبُهُمْ فى صُدُورِهِمْ مَطْعُونَةٌ مِنْ کَثْرَةِ ما یُخالِفُونَ أَهْوآئَهُمْ; قَدْ ضَمَّرُوا أَنْفُسَهُمْ مِنْ کَثْرَةِ صَمْتِهِمْ; قَدْ أَعْطَوُا المَجْهُودَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ لا مِنْ خَوْفِ نار، وَلا مِنْ شَوْق إِلَى الجَنَّةِ  [شَوْقِ جَنَّة] وَلِکنْ یَنْظُرُونَ فى مَلَکُوتِ السَّماواتِ وَالأَرْضِ، کَما یَنْظُرُونَ إِلى مَنْ فَوْقَها، فَیَعْلَمُونَ أَنَّ اللهَ سُبْحانَهُ أَهْلٌ لِلْعِبادَةِ.*

*اے احمد : زاہدوں کے چہروں کا رنگ رات کی* (بیداری کی) *تھکاوٹ اور دن کے روزوں کی وجہ سے زرد ہوچکا ہے ، انکی زبانیں غیر خدا کے ذکر سے بند ہوچکی ہیں اور انکے دل نفسانی خواہشات کی کثرت سے  مخالفت کی وجہ سے سینے میں زخمی ہیں، عاقلانہ سکوت کی وجہ سے اپنے اندر غرق ہیں* (اور انکے خیالات باقیوں سے پنہاں ہیں)، *بےپناہ کوشش و جدو جہد کرتے ہیں نہ جھنم کی آگ کا خوف اور نہ جنت کا اشتیاق ہے، لیکن آسمانوں اور زمین کے ملکوت*(عالم مجرد اور عالم مثال جہاں ارواح بغیر اجسام بارگاہ الٰہی میں پہنچتی ہیں) *کی طرف دیکھتے ہیں اور پرودگار کی طرف آنکھیں لگائے ہیں اور جان چکے ہیں کہ اللہ سبحانہ ہی ہے جو لائق عبادت ہے۔*
*قالَ النَّبِىُّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَآلِهِ: هَلْ یُعْطى فى اُمَّتی مِثْلُ هَذا؟ قالَ: یا أحْمَدُ! هذِهِ دَرَجَةُ الأَنْبِیآءِ وَالصِّدّیقینَ مِنْ اُمَّتِکَ وَاُمَّةِ غَیْرِکَ وَأَقْوام مِنَ الشُّهَدآءِ.  قالَ: یا رَبِّ! أَىُّ الزُهّادِ أَکْثَرُ؟ أَزُهّادُ اُمَّتى أَمْ بَنی إِسْرائیلَ؟ قالَ: إِنَّ زُهّادَ بَنی إِسْرائیلَ فی زُهّادِ اُمَّتِکَ، کَشَعْرَة سَوْدآءَ فی بَقَرَة بَیْضآءَ. فَقالَ: یا رَبِّ! وَکَیْفَ ذلِکَ، وَعَدَدُ بنى إِسْرائیلَ أَکْثَرُ؟ قال: لاَِ نَّهُم شَکُّوا بَعْدَ الیَقینِ، وَجَحَدُوا بَعْدَ الاِْقْرارِ.  قالَ النَّبِىُّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: فَحَمَدْتُ اللهَ کَثیراً، وَشَکَرْتُهُ*
*نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرض کی ؛ پروردگارا آیا یہ چیز*(زاہدوں کی خصوصیات ) *میری امت میں بھی کسی کو عطا ہوگی؟* 
*پروردگار نے فرمایا: اے احمد ؛ یہ پیغمبروں اور صدیقوں کا درجہ*(زھد) *تیری امت کے لوگوں کا اور تیرے علاوہ دوسری امتوں کے لوگوں کا اور شہداء کے ایک گروہ کا بھی ہے,*
*نبی کریم (ص) نے عرض کیا پروردگارا کس امت کے زاہد زیادہ ہیں میری امت کے یا بنی اسرائیل کے؟ پروردگار نے فرمایا: تیری امت کے زاہدوں میں بنی اسرائیل کے زاہدوں کی مثال ایسے ہے جیسے سفید گائے پر سیاہ بال ہوں۔*
*نبی کریم (ص) نے عرض کی : پروردگارا اسکی وجہ کیا ہے حالانکہ بنی اسرائیل کی امت تعداد میں میری امت سے زیادہ ہے؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اسکی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے یقین کے بعد شک کیا اور اقرار کے بعد انکار کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں میں نے اللہ کی بہت حمد و ثناء کی اور اسکا شکر ادا کیا ۔۔۔۔*

👈جاری ہے 

*ترجمہ و تشریح: استادِ محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب*

*☀️عالمی مرکز مہدویت قم☀️*

 ☀️ *حدیث شریف معراج*☀️
*بارھواں حصہ*
 *وَدَعَوْتُ لَهُمْ بِالحِفْظِ وَالرَّحْمَةِ وَسآئِرِ الخَیْراتِ، وَقُلْتُ: أَللّهُمَّ! احْفَظْهُمْ، وَارْحَمْهُمْ، وَاحْفَظْ عَلَیْهِمْ دینَهُمُ الَّذِى ارْتَضَیْتَ لَهُمْ. أَللّهُمَّ! ارْزُقْهُمْ إیمانَ المُؤْمِنینَ، الَّذی لَیْسَ بَعْدَهُ شَکٌّ، وَ وَرَعاً لَیْسَ بَعْدَهُ رَغبَةٌ، وَخَوْفاً لَیْسَ بَعْدَهُ غَفْلَةٌ، وَعِلْماً لَیْسَ بَعْدَهُ جَهْلٌ، وَعَقْلاً لَیْسَ بَعْدَهُ حُمْقٌ،  وَقُرباً لَیْسَ بَعْدَهُ بُعْدٌ، [ وَخُشُوعاً لَیْسَ بَعْدَهُ قَساوَةٌ، وَذِکْراً لَیْسَ بَعْدَهُ نِسْیانٌ،  وَکَرَماً لَیْسَ بَعْدَهُ هَوانٌ، وَصَبْراً لَیْسَ بَعْدَهُ ضَجَرٌ،  وَحِلْماً لَیْسَ بَعْدَهُ عَجَلَةٌ; وَامْلاَْ قُلُوبَهُمْ حَیآءً مِنْکَ حَتّى یَسْتَحْیُوا مِنْکَ کُلَّ وَقْت،  وَبَصِّرْهُمْ بِآفاتِ الدُّنْیا وَآفاتِ أَنْفُسِهِمْ وَوَساوِسِ الشَّیْطانِ; فَإِنَّکَ تَعْلَمُ ما فى نَفْسى، وَأنْتَ عَـلاّمُ الغُیُوبِ.*
*نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں ؛ میں نے اپنی امت کے زاہدوں کی حفاظت اور ان پر خیر و رحمت کے نازل ہونے کی دعا کی ،اور عرض کی پروردگارا؛ انکی حفاظت کر ان پر رحمت نازل فرما ، جو دین انکے لیے پسند کیا اسکو ان پر قرار دے ، مومنین کا ایمان انکے لیے روزی قرار دے ایسا ایمان کہ جس میں شک نہ رکھیں، انہیں ایسا ورع*(تقوی کی بلند ترین حالت جس میں انسان حرام اور ہر وہ چیز جس میں حرام کا شبہہ ہو اس سے بھی پرہیز کرے) *عطا کر کہ پھر دنیا کی رغبت نہ کریں، ایسا خوف عطا کر کہ پھر غفلت میں نہ پڑیں، ایسا علم عطا کر کہ جس میں جہالت کی گنجائش نہ ہو،ایسی عقل عطا کر جس میں ناسمجھی نہ ہو، ایسا*(اپنے سے) *قرب عطا کر کہ جس کے بعد* (تجھ سے) *دوری اختیار نہ کریں، انہیں تواضع اور خشوع عطا کر کہ انکے دلوں میں قساوت*( بے رحمی) *اور سیاہی پیدا نہ ہو، اپنا ذکر و یاد انہیں عنایت کر کہ* (تجھ سے) *فراموشی ان سے دور ہو جائے ، ان کو  بزرگی اور کرم سے سرفراز کر کہ کبھی خفت و ذلت انہیں نہ چھوئے، ایسا صبر و استقامت عطا کر کہ کبھی حوصلہ نہ چھوڑیں اور دل زخمی نہ کریں ، ایسی بردباری اور حلم عطا کر کہ کبھی جلدبازی نہ کریں، انکے دل ایسی حیا سے بھر دے کہ ہر حال میں تجھ سے شرم کریں، انہیں دنیا کی آفات ، اپنے نفس ، اور شیطان کے وسوسوں سے آگاہ فرما، پروردگارا؛ تو جانتا ہے میرے اندر کیا ہورہا ہے تو سب غیب و پنہان چیزوں کا علم رکھنے والا ہے۔*
👈 جاری ہے

ترجمہ و تشریح: استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب

🌟 *عالمی مرکز مہدویت قم*🌟



*☀️ حدیث شریف معراج☀️*
*تیرھواں حصہ*
*ثُمَّ قالَ: یا أَحْمَدُ! عَلَیْکَ بِالوَرَعِ! فَإِنَّ الوَرَعَ رَأْسُ الدّینِ وَ وَسَطُ الدّینِ وَآخِرُ الدّینِ، إِنَّ الوَرَعَ یُقَرِّبُ إِلَى اللهِ تَعالى.*

*پھر کہا اے احمد تم پر ضروری ہے ورع پیدا کرو* ( ورع تقوی کی بلند ترین کیفیت کو کہتے ہیں جس میں انسان حرام سے پرہیز کرنے کے ساتھ ساتھ ہر اس چیز سے بھی پرہیز کرتا ہے کہ جہاں حرام کا شبہ ہو) *ورع دین کا سر ہے دین کا پیکر ہے اور دین کی انتہا ہے اور بے شک ورع ہی اللہ تعالی کے قریب کرنے والا وسیلہ ہے۔*
*یا أَحْمَدُ! إِنَّ الوَرَعَ زَیْنُ المُؤْمِنِ وَعِمادُ الدّینِ، وَإِنَّ الوَرَعَ مَثَلُهُ کَمَثَلِ السَّفینَةِ، کَما أَنَّ فِى البَحْرِ لا یَنْجُو إِلاّ مَنْ کانَ فیها، کَذلِکَ لا یَنْجُو الزّاهِدُ مِنَ الدُّنْیا إِلاّ بِالْوَرَعِ.*
*ورع مومن کی زینت ہے اور دین کا ستون ہے اور ورع کی مثال کشتی کی مانند ہے جس طرح سمندر میں صرف وہی نجات پاتا ہے جو کشتی میں ہے، اسی طرح دنیا سے وہی زاہد نجات پائے گا جو ورع کے ساتھ ہے۔*
  *یا أَحْمَدُ! إِنَّ الوَرَعَ یَفْتَحُ عَلَى الْعَبْدِ أَبْوابَ العِبادَةِ [خ ل: أَبْوابَ السَّمآءِ کَما یُفْتَحُ لِلْمَلائِکَةِ] ، فَیُکْرَمُ بِهِ الْعَبْدُ عِنْدَ الخَلْقِ،  وَیَصِلُ بِهِ إِلَى اللهِ ـ عزّوجلّ۔*
*اے احمد! ورع عبد پر عبادت کے دروازے کھولتا ہے جس طرح اسماں کے دروازے فرشتوں پر کھلتے ہیں ورع کے ذریعے انسان لوگوں میں عزت پاتا ہے اور اسکے ساتھ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پہنچتا ہے۔*
  *یا أَحْمَدُ! ما عَرَفَنی عَبْدٌ إِلاّ خَشَعَ لی، وَما خَشَعَ لی عَبْدٌ إِلاّ خَشَعَ لَهُ کُلُّ شَىْء.*
*اے احمد ! کسی عبد نے مجھے اس وقت تک نہیں پہچانا جب تک میرے لیے خاشع*( اللہ کے مقابلے میں تواضع و جھکنا) *نہیں ہوا، کوئی ایسا عبد نہیں جو میرے لیے خاشع ہوا ہو اور میں نے اسکے لیے ساری چیزوں کو خاشع نہیں کیا ہو،* ( یعنی جو اللہ کے لیے جھکا اللہ نے سب کائنات کو اسکے لیے جھکایا)۔
*یا أَحْمَدُ! عَلَیْکَ بِالصَّمْتِ! فَإِنَّ أَعْمَرَ القُلُوبِ قُلُوبُ الصّالِحینَ وَالصّامِتینَ، وَإِنَّ أَخْرَبَ القُلُوبِ قُلُوبُ المُتَکَلِّمینَ بِما لا یَعْنیهِمْ.*
*اے احمد !  تم پر (حکیمانہ) سکوت و خاموشی کی رعایت ضروری ہے، بلاشبہ سب سے زیادہ آباد دل ، صالحین اور اہل سکوت کے ہیں اور سب سے زیادہ ویران و خراب دل فضول باتیں کرنے والوں کے ہیں۔*
👈جاری ہے 

_ترجمہ و تشریح: استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب_

*عالمی مرکز مہدویت قم*




 *☀️حدیث شریف معراج ☀️*
*چودھواں درس*
 *یا أَحْمَدُ! إِنَّ العِبادَةَ عَشْرَةُ أَجْزآء: تِسْعَةٌ مِنْها طَلَبُ الحَلالِ;  فَإِذا طَیَّبْتَ مَطْعَمَکَ وَمَشْرَبَکَ، فَأنْتَ فى حِفْظی وَکَنَفی.  قالَ: یا رَبِّ! ما أَوَّلُ العِبادَةِ؟ قالَ: یا أَحْمَدُ! أَوَّلُ العِبادَةِ، أَلصَّمْتُ وَالصَّوْمُ. قالَ: هَلْ تَعْلَمُ ـ یا أَحْمَدُ! ـ ما میراثُ الصَّوْمِ؟ قالَ: لا، یا رَبِّ! قالَ: میراثُ الصَّوْمِ قِلَّةُ الأَکْلِ وَقِلَّةُ الکَلامِ. وَالْعِبادَةُ الثّانِیَةُ، أَلصَّمْتُ، وَالصَّمْتُ یُورِثُ الحِکْمَةَ، وَتُورِثُ الحِکْمَةُ المَعْرِفَةَ، وَتُورِثُ المَعْرِفَةُ الیَقینَ;فَإِذَا اسْتَیْقَنَ العَبْدُ لا یُبالى کَیْفَ أَصْبَحَ; بِعُسْر أَمْ بِیُسْر; فَهذا مَقامُ الرّاضینَ*
*اے احمد ! عبادت کے دس حصے ہیں کہ اس میں نو حصے حلال روزی کی طلب و جستجو ہے۔جب تیری خوراک پاک ہو جائیگی تو میری حفاظت و حمایت میں قرار پائیگا۔*
*نبی کریم (ص) نے عرض کی ؛ میرے رب : عبادت کا آغاز کس سے ہوتا ہے* (یعنی اسکا سر چشمہ کیا ہے) *تو پروردگار نے فرمایا؛ اے احمد: عبادت کا آغاز خاموشی اور روزہ ہے ۔*
*اے احمد! جانتے ہو روزے کا نتیجہ و ثمرہ کیا حاصل ہوتا ہے؟ نبی کریم (ص) نے عرض کی نہیں میرے رب میں نہیں جانتا، تو پروردگار نے فرمایا: روزے کا ثمرہ کم کھانا اور کم بولنا ہے۔ دوسری عبادت عاقلانہ سکوت ہے* ( مطلب جب ضروری ہو بات کرے باقی غیر ضروری اور غیر شرعی باتوں سے پرہیز کرے) *اسکا نتیجہ علم اور حکمت ہے* (حکمت سے مراد دانائی و فکر کا اعلی ترین مقام ہے) *حکمت کا نتیجہ شناخت ہے* (یعنی معرفت کا حصول ، ایک عاقل شخص کائنات میں غور فکر کرتے ہوئے اس کائنات کی تخلیق کے ھدف اور اسکے خالق کی منشاء اور اسکی ذات و صفات اور افعال کے فلسفہ کو سمجھتا ہے اور شناخت و معرفت کا مقام حاصل کرتا ہے) *اور شناخت کا نتیجہ یقین ہے جو بندہ بھی مقام یقین تک پہنچتا ہے اسے فرق نہیں پڑتا زندگی سخت گذر رہی ہے یا آسان، اور یہ اھل رضا کا مقام ہے۔*
*فَمَنْ عَمِلَ بِرِضاىْ، اُلْزِمْهُ ثَلاثَ خِصال: اُعَرِّفْهُ شُکْراً لا یُخالِطُهُ الجَهْلُ;  وَذِکْراً لا یُخالِطُهُ النِّسْیانُ، وَمَحبَّةً لا یُؤْثِرُ عَلى مَحَبَّتى حُبَّ المَخْلُوقینَ;*
*جو میری رضا کے مطابق عمل کرتا ہے اسے تین صفات عطا کرتا ہوں: ایسا شکر عطا کرتا ہوں جس میں جہالت کی آمیزش نہیں ہوتی* ( یعنی خداکی نعمات اور اسکے مقام کی آگاہی کے ساتھ رب کا شکر ادا کرتا ہے نہ جاھلوں جیسا) *ایسا ذکر عطا کرتا ہوں کہ جو فراموشی سے پاک ہو* ( یعنی ہمیشہ ذکر الہیٰ کرتا ہے اپنے رب کی یاد کو نہیں بھولتا) *وہ محبت عطا کرتا ہوں کہ پھر میری محبت پر مخلوقات کی محبت کو ترجیح نہیں دیتا۔*

👈جاری ہے 
ترجمہ و تشریح ؛ استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب 
*عالمی مرکز مہدویت قم*


*☀️حدیث شریف معراج☀️*
*پندرھواں حصہ*
*فَإِذا أَحَبَّنى،أَحْبَبْتُهُ وَحَبَّبْتُهُ إِلى خَلْقی،  وَأَفْتَحُ عَیْنَ قَلْبِهِ إِلى جَلالی وَعَظَمَتی،  فَلا اُخْفی عَلَیْهِ عِلْمَ خآصَّةِ خَلْقی،  فَاُناجیهِ فی ظُلَمِ اللَّیْلِ وَنُورِ النَّهارِ، حَتّى یَنْقَطِعَ حَدیثُهُ مَعَ المَخْلُوقینَ وَمُجالَسَتُهُ مَعَهُمْ،  وَاُسْمِعُهُ کَلامی  وَکَلامَ مَلائِکَتى، وَاُعَرِّفُهُ سِرِّىَ الَّذی سَتَرْتُهُ عَنْ خَلْقى،  وَاُلْبِسُهُ الحَیآءَ حَتّى یَسْتَحْیِىَ مِنْهُ الخَلْقُ کَلُّهُمْ،  وَیَمْشِى عَلَى الأَرْضِ مَغْفُوراً لَهُ،  وَأَجْعَلُ قَلْبَهُ واعِیاً وَبَصیراً [خ ل: قَلْبَهُ وِعآءَ مَعْرِفَتى، و خ ل: وِعآءَ أَسْراری] ، وَلا اُخْفی عَلَیْهِ شَیْئاً مِنْ جَنَّة وَلا نار، وَاُعَرِّفُهُ ما یَمُرُّ عَلَى النّاسِ یَوْمَ القِیامَةِ مِنَ الهَوْلِ وَالشِّدَّةِ،  وَما أُحاسِبُ بِهِ الأَغْنِیآءَ وَالفُقَرآءَ، وَالجُهّالَ وَالعُلَمآءَ. وَاُنَوِّرُ لَهُ فى قَبْرِهِ، وَاُنْزِلُ عَلَیْه مُنْکراً وَنَکیراً حَتّى یَسْأَلاهُ وَیُبَشِّراهُ، وَلا یَرى غَمْرَةَ المَوْتِ وَظُلْمَةَ القَبْرِ وَاللَّحْدِ  وَهَوْلَ المُطَّلَعِ،  ثُمَّ لا أَنْصِبُ لَهُ میزانَهُ،  وَلا أَنْشُرُ لَهُ دیوانَهُ، ثُمَّ أَضَعُ کِتابَهُ فی یَمینِهِ فَیَقْرَؤُهُ مَنْشُوراً،  ثُمُّ لا أَجْعَلُ بَیْنی وَبَیْنَهُ تَرْجُماناً، ثُمّ أَرْفَعُهُ إِلَىَّ، فَیَنْکُبُ مَرَّةً وَیَقُومُ مَرَّةً، وَیَقْعُدُ مَرَّةً وَیَسْکُنُ مَرَّةً،  ثُمَّ یَجُوزُ عَلَى الصِّراطِ،  ثُمّ یُقَرَّبُ له جَهَنَّمُ، ثُمَّ تُزَیَّنُ لَهُ الجَنَّةُوَجِئَ بِالنَّبِیّینَ وَالشُّهَدآءِ*

*ترجمہ*:
*جب وہ میری محبت اپنے دل میں لیتا ہے تو میں بھی اس سے محبت کرتا ہوں اور باقی مخلوقات کے دل میں اسکی محبت ڈالتا ہوں اسکے دل کی آنکھ کو اپنے جلال و عظمت پر کھولتا ہوں،اپنے خاص بندوں کا علم اس سے مخفی نہیں رکھتا رات کی تاریکی اور دن کی روشنی میں اس سے سرگوشی کرتا ہوں تاکہ باقی مخلوقات سے ہم سخن ہونے اور ہم نشیں ہونے سے بالکل دور ہو جائے ( مطلب باقی مخلوقات سے دل بستہ نہ ہو) ۔اپنی اور اپنے فرشتوں کی کلام اسکے کانوں تک پہنچاتا ہوں ، جو راز اپنی مخلوق پر مخفی رکھے تھے اس پر آشکار کرتا ہوں ۔ اسے شرم و حیا کا لباس پہناتا ہوں تاکہ ساری مخلوق اس سے حیاء کرے۔ زمین پر جب بھی قدم اٹھاتا ہے اس کے لیے مغفرت لکھی جاتی ہے، اسکے دل کو بیدار اور بابصیرت کرتا ہوں ( بعض نسخوں میں آیا ہے اسکے دل کو اپنی معرفت و اسرار سے لبریز کرتا ہوں) جنت و جہنم کی کوئی چیز اس سے نہیں چھپاتا، قیامت کے دن لوگوں کے سخت حالات اور انکا خوف و ڈر اسے دکھاتا ہوں، اسے دکھاتا ہوں کیسے لوں گا حساب، امیر لوگوں کا ، حقیروں کا ، جاہلوں اور عالموں کا ، اسکی قبر کو نورانی کرتا ہوں ، منکر و نکیر اس پر اتارتا ہوں تاکہ اس سے سوال کریں اور میری رضایت کی بشارت دیں کہ موت کی سختی کبھی نہ دیکھے اور قبر و لحد کی وحشت و خوف اس پر طاری نہ ہو، روز قیامت اسکا حساب نہیں لیا جائیگا اسکے اعمال نامہ کی کتاب پوچھ گچھ کے لیے نہیں  کھولی جائیگی ، بلکہ آسکا اعمال نامہ اسکے دائیں ھاتھ میں دوں گا تاکہ خود کھولے ، اپنے اور اسکے درمیان گفتگو کے لیے کسی کو واسطہ قرار نہیں دوں گا پھر اسے اپنی طرف بلاؤں گا وہ کبھی ادھر ادھر ہوگا کبھی اٹھے گا کبھی بیٹھے گا کبھی آرام کرے گا بالآخر صراط کو عبور کرے گا ، دوزخ اسکے قریب لائی جائیگی (تاکہ عبرت کی جگہ دیکھے) اور جنت اسکے لیے سجائی جائیگی انبیاء اور شہدا ء اسکے استقبال کے لیے آئیں گے*

*استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب*💐
👈 جاری ہے 
*عالمی مرکز مہدویت قم*


*حدیث شریف معراج*
*سولہواں حصہ*
*وَیَتَعَلَّقُ المَظْلُومینَ [ظ: المَظْلُومُونَ] بِالظّالِمینَ، وَیُوضَعُ الکُرْسِىُّ لِفَصْلِ القَضآءِ، وَیَقُولُ کُلُّ إِنْسان لِخَصْمِهِ: بَیْنی وَبَیْنَکَ، أَلْحَکَمُ العَدْلُ الَّذى لا یَجُورُ،  ثُمَّ أَرْفَعُ الحُجُبَ بَیْنی وَبَیْنَهُ، فَاُنْعِمُهُ بِکَلامی، وَاُلَذِّذُهُ بِالنَّظَرِ إِلَىَّ.  فَمَنْ کانَ فِعْلُهُ فِى الدُّنْیا هکَذا، کَیْفَ یَکُونُ رَغْبَتُهُ فِى الدُّنْیا؟ وَکَیْفَ یَکُونُ حُبُّهُ لِلدُّنْیا؟ وَهُوَ یَعْلَمُ أَنَّ کُلَّ حَىٍّ فیها یَمُوتُ، وَأَنَا الحَىُّ الَّذی لا أَمُوتُ.  وَلاََجْعَلَنَّ مُلْکَ هذَا العَبْدِ فَوْقَ مُلْکِ المُلُوکِ، حَتْى یَتَضَعْضَعَ لَهُ کُلُّ مَلِک، وَیَهابَهُ کُلُّ سُلْطان جآئِر وَجَبّار عَنید، وَیَتَمَسَّحَ بِهِ کُلُّ سَبُع ضآرٍّ،  وَلاَُشَوِّقَنَّ إِلَیْهِ الجَنَّةَ وَما فیهـا،  وَلاََسْتَغْرِقَنَّ عَقْلَهُ بِمَعْرِفَتی وَلاََقُومَنَّ لَهُ مَقامَ عَقْلِهِ.   ثُمَّ لاَُهَوِّنَنَّ عَلَیْهِ المَوْتَ وَسَکَراتِهِ وَمَرارَتَهُ وَفَزَعَهُ، حَتّى یُساقَ إِلَى الجَنَّةِ سَوْقاً; فَإِذا اُنْزِلَ بِهِ مَلَکُ المَوْتِ، یَقُولُ لَهُ: مَرْحَباً! طُوبى لَکَ! طُوبى لَکَ! طُوبى لَکَ! إِنَّ اللهَ تَعالى إِلَیْکَ لَمُشْتاقٌ، وَاعْلَمْ ـ یا وَلِىَّ اللهِ! ـ أَنَّ الأَبْوابَ الَّتى کانَ یَصْعَدُ فیها عَمَلُکَ تَبْکی عَلَیْکَ، وَأَنَّ مِحْرابَکَ وَمُصَلاّکَ یَبْکِیانِ عَلَیْکَ. فَیَقُولُ: أَنَا راض بِرِضْوانِ اللهِ وَکَرَامَتِهِ; وَیَخْرُجُ رُوحُهُ مِنْ جَسَدِهِ کَما تَخْرُجُ الشَّعْرَةُ مِنَ العَجینِ; وَإِنَّ المَلائِکَةَ یَقُومُونَ عِنْدَ رَأْسِهِ، بِیَدَىْ کُلِّ مَلَک کَأْسٌ مِنْ ماءِ الکَوْثَرِ، وَکَأْسٌ مِنَ الخَمْرِ، یُسْقُونَ رُوحَهُ، حَتّى تَذْهَبَ سَکْرَتُهُ وَمَرارَتُهُ، وَیُبَشِّرُونَهُ بِالبَشارَةِ العُظمى، وَیَقُولُونَ لَهُ: طِبْتَ! وَطابَ مَثْواکَ! إِنَّکَ تَقْدِمُ عَلَى العَزیزِ الکَریمِ الحَبیبِ القَریبِ. فَتَطیرُ الرُّوحُ مِنْ أَیْدِى المَلائِکَةِ، فتَصْعَدُ إِلَى اللِّهِ تَعالى فی أَسْرَعَ مِنْ طَرْفَةِ عَیْن، وَلا یَبْقى حِجابٌ وَلا سَتْرٌ بَیْنَها وَبَیْنَ اللهِ تَعالى، وَاللهُ ـ عزّوجلّ ـ إِلَیْها مُشْتاقٌ،  فَتَجْلِسُ عَلى عَیْن عَنْ یَمینِ العَرْشِ، ثُمَّ یُقالُ لَها: أَیَّتُهَا الرُّوحُ! کَیْفَ تَرَکْتِ الدُّنْیا؟ فَتَقُولُ: إِلهى وَ سَیِّدی! وَعِزَّتِکَ وَجَلالِکَ، لا عِلْمَ لی بِالدُّنْیا، أَنَا مُنْذُ خَلَقْتَنی إِلى هذِهِ الغایَةِ خائِفٌ مِنْکَ. فَیَقُولُ اللهُ: صَدَقْتَ، عَبْدی! کُنْتَ بِجَسَدِکَ فِى الدُّنْیا، وَبِرُوحِکَ مَعی; فَأَنْتَ بِعَیْنی، أَعْلَمُ سِرَّکَ وَعَلانِیَتَکَ، سَلْ أُعْطِکَ، وَتَمَنَّ عَلَىَّ فَاُکْرِمْکَ، هذِهِ جَنَّتی فَتَبَحْبَحْ فیها، وَهذا جِواری فَاسْکُنْهُ.  فَتَقُولُ الرُّوحُ: إِلهی! عَرَّفْتَنی نَفْسَکَ، فَاسْتَغْنَیْتُ بِها عَنْ جَمیعِ خَلْقِکَ.  وَعِزَّتِکَ وَجَلالِکَ، لَوْ کانَ رِضاکَ فى أَنْ أُقَطَّعَ إِرْباً إِرْباً، أَوْ اُقْتَلَ سَبْعینَ قَتْلَةً بِأَشَدِّ ما یُقْتَلُ بِهِ النّاسُ، لَکانَ رِضاکَ أَحَبَّ إِلَىَّ.  إِلهِى! وَکَیْفَ أَعْجَبُ بِنَفْسی؟ وَأَنَا ذَلیلٌ إِنْ لَمْ تُکْرِمْنى، وَأَنَا مَغْلُوبٌ إِنْ لَمْ تَنْصُرْنی، وَأَنَا ضَعیفٌ إِنْ لَمْ تُقَوِّنی، وَأَنَا مَیِّتٌ إِنْ لَمْ تُحْیِنی بِذِکْرِکَ. وَلَوْلا سَتْرُکَ، لاَفْتَضَحْتُ أَوَّلَ مَرَّة عَصَیْتُکَ.  إِلهِى! کَیْفَ لا أَطْلُبُ رِضاکَ؟ وقَدْ أَکْمَلْتَ عَقْلى، حَتّى عَرَفْتُکَ،  وَعَرَفْتُ الحَقَّ مِنَ الباطِلِ،   وَالأَمْرَ مِنَ النَّهْىِ،  وَالعِلْمَ مِنَ الجَهْلِ،  وَالنُّورَ مِنَ الظُلْمَةِ.  فَقالَ اللهُ ـ عزّوجلّ ـ : وَعِزَّتى وَجَلالى، لا أَحْجُبُ بَینی وَبَیْنَکَ فی وَقْت مِنَ الأَوْقاتِ، حَتّى تَدْخُلَ عَلَىَّ أَىَّ وَقْت شِئْتَ، وَکَذلِکَ أَفْعَلُ بِأَحِبّآئى.*

ترجمہ: مظلومین ، ظالموں کا گریبان پکڑیں گے، آخری حکم کے لیے کرسی رکھی جائیگی، ہر انسان اپنے دشمن کو کہے گا: آج میرے اور تمھارے درمیان ایسا حکم عدل جاری ہوگا جس میں ذرہ بھر ظلم نہیں ہوگا،پھر میں اپنے اور اسکے درمیان حجاب اٹھا لوں گا اسے اپنی گفتگو سے مستفید کروں گا، اپنے جمال کی روئیت کی لذت چکھاوں گا،  جسکا دنیا میں رہن سہن ایسا ہو۔ وہ کیسے دنیا سے دلبستگی رکھ سکتا ہے کیسے دنیا کی محبت رکھ سکتا ہے جب کہ جانتا ہے اس دنیا میں ہر زندہ چیز نے ایک دن مر جانا ہے وہ جو ہمیشہ زندہ رہنے والی ذات ہے وہ میں ہوں ، اس بندے کی سلطنت کو دنیا کے بادشاہوں سے زیادہ بڑھا دوں گا کہ دنیا کے بادشاہ اسکے سامنے جھکیں گے ، ظالم و سرکش حاکم اس سے خوف کھائیں گے اور اسکی ھیبت کا ذکر کریں گے ، جانور اور درندے اس کے سامنے جھکیں گے اور اس سے متبرک ہونگے، جنت اور جنت والوں میں اسکا اشتیاق پیدا کروں گا ، اسکی عقل و فہم کو اپنی ذات میں غرق اور مصروف رکھوں گا اور خود اسکی عقل کی جگہ پر اسکے سارے امور زندگی چلاؤں گا ، موت اور اسکی سختی و تلخی اور خوف اسکے لیے آسان کروں گا تاکہ جلد اور سلامتی کے ساتھ جنت لیجایا جائے ، جب اس پر موت کا فرشتہ نازل ہوتا ہے تو اسے خوشخبری دیتا ہے: خوش آمدید ، تجھے بشارت ہو ، تجھے بشارت ہو ، تجھے بشارت ہو ، اللہ تعالیٰ آپ کا اشتیاق سے منتظر ہے، اے اللہ کے ولی جان لو جن دروازوں سے تیرا عمل آسمانوں کی طرف بلند ہوتا تھا، تجھ پر اور تیرے فراق میں رو رہے ہیں، تیری نماز کی جگہ اور سجادہ نماز تیرے سوگ میں نالہ و فریاد کررہے ہیں ، وہ بندہ کہتا ہے : میں صرف اللہ کی رضا اور خوشنودی نیز اسکے کرم پر راضی ہوں ، جیسے آٹے سے بال نکال جاتا ہے اسی طرح اسکے بدن سے روح کھینچی جائیگی، اسکے سر کے مقام پر فرشتے اسکی خدمت کے لیے کھڑے ہونگے، ہر فرشتے کے ھاتھ میں کوثر کا اور شراب(طہور) کا جام ہوگا جس سے اسکی روح کو سیراب کریں گے تاکہ وہ موت کی سختی و شدت کو ختم کرے اور اسے بشارت دیں گے کہ تم بھی پاک ہو اور تمھاری جگہ بھی پاک ہے، تو خدائے عزیز و کریم اور اپنے قریب کے محبوب کی بارگاہ میں حاضر ہونے والا ہے ، تو فرشتوں کے درمیان سے اسکی روح پرواز کرے گی اور پلک جھپکنے سے کم مدت میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں معراج کرے گی اتنی نزدیک ہوگی کہ اسکے اللہ کے درمیان کوئی پردہ و حجاب نہیں رہے گا، عرش پروردگار کے دائیں جانب ایک چشمہ پر بیٹھے گی ، اس سے سوال ہوگا، اے روح دنیا کو کس حال میں چھوڑا؟ اس بندے کی روح کہے گی:  میرے پروردگار ، تیری عزت و جلال کی قسم ؛ میں نے دنیا پر معمولی سی توجہ بھی نہیں کی ، میں اس سے بے خبر رہا ہوں ، جب سے  تو نے مجھے خلق کیا اس وقت سے اب تک صرف تجھ سے ڈرتا رہا ، خدا کہے گا ، تو نے سچ کہا ، تیرا جسم دنیا میں رہا اور تیری روح میرے ساتھ رہی ہے ، تو میری نگاہ لطف و کرم میں ہے میں تیرا ظاہر و باطن جانتا ہوں آج مانگ مجھ سے میں عطا کروں گا تو آرزو کر پورا کروں گا یہ میری جنت ہے اس میں سکونت کر، یہ میری جوار (بارگاہ) ہے یہاں آرام کر ، روح کہے گی: پروردگار جب سے تو نے اپنی معرفت دی, میں تیری ساری خلقت سے بے نیاز ہو گیا ، تیری عزت و جلال کی قسم اگر تیری رضا اس میں ہو کہ ٹکرے ٹکرے ہوجاوں ، یا ستر بار شدید ترین موت سے مارا جاؤں ، میرے لیے تیری یہ رضا ہر چیز سے بہتر ہے ، کس طرح اپنے اوپر ناز کروں حالانکہ اگر تو  عزت نہ دے  تو ذلیل و رسواء ہوجاتا ہوں، اگر مدد نہ کرے تو شکست کھا جاتا ہوں ، اگر تو قوت و طاقت نہ دے, کمزور و ناتواں ہوجاتا ہوں ، اگر تو اپنی یاد سے زندہ نہ رکھے, تو فقط مردہ ہوتا، اگر تو پردہ پوشی نہ کرتا ,تو پہلے گناہ سے ہی رسوا ہوجاتا، خدایا کیسے تیری رضا نہ چاھوں حالانکہ تو نے میری عقل کو کمال دیا ، یہانتک کہ تیری معرفت حاصل ہوئی ، حق کو باطل سے جدا پایا، امر کو نہی سے ، علم کو جہالت سے ، نور کو تاریکی سے جدا جان لیا، تو اللہ عزوجل فرمائے گا ؛ مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم ،کبھی بھی اپنے اور تیرے درمیان حجاب قرار نہیں دوں گا ،کہ جب بھی تیرا ارادہ ہو میری بارگاہ میں پہنچ سکتا ہے. میں اپنے چاھنے والوں سے ایسا ہی طرزِ عمل رکھتا ہوں۔

👈 جاری ہے 
ترجمہ: استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب 💐
☀️ *عالمی مرکز مہدویت قم*☀️




*حدیث شریف معراج*
*حصہ 17*
 *یا أَحْمَدُ! هَلْ تَدْری أَىُّ عَیْش أَهْنـا وَأَیَّةُ حَیاة أَبْقى؟ قالَ: أَللّهُمَّ! لا. قالَ: أَمَّا العَیْشُ الهَنِىُّ، فَهُوَ الَّذی لا یَفْتُرُ صاحِبُهُ عَنْ ذِکْری، وَلا یَنْسى نِعْمَتى، وَلا یَغْفُلُ عَنّی،  وَلا یَجْهَلُ حَقِّی، وَیَطْلُبُ رِضاىَ لَیْلَهُ وَنَهارَهُ.  وَأَمَّا الحَیاةُ الباقِیَةُ، فَهِىَ لِلَّذی یَعْمَلُ لِنَفْسِهِ، حَتّى تَهُونَ عَلَیْهِ الدُّنْیا وَتَصْغُرَ فى عَیْنِهِ، وَتَعْظُمَ الآخِرَةُ عِنْدَهُ، وَیُؤْثِرَ هَواىَ عَلى هَواهُ، فَیَبْتَغی مَرْضاتی،  وَیُعَظِّمَنی حَقَّ عَظَمَتی،  وَیَذْکُرَ عِلْمی بِهِ،  وَیُراقِبَنی بِاللَّیْلِ وَالنَّهارِ عِنْدَ کُلِّ سَیِّئَة وَمَعْصِیَة،  وَیَنْقى قَلْبَهُ عَنْ کُلِّ ما أَکْرَهُ، وَیُبْغِضَ الشَّیْطانَ وَوَسْواسَهُ، وَلا یَجْعَلَ لاِِبْلیسَ عَلى قَلْبِهِ سُلْطاناً وَسَبیلاً.  فَإِذا فَعَلَ ذلِکَ، أَسْکَنْتُ قَلْبَهُ حُبّاً، حَتّى أَجْعَلَ قَلْبَهُ لی، وَفَراغَهُ وَاشْتِغالَهُ وَهَمَّهُ لی، وَحَدیثَهُ مِنَ النِّعْمَةِ الَّتی أَنْعَمْتُ بِها عَلى أَهْلِ مَحَبَّتی مِنْ خَلْقی،  وَأَفْتَحُ عَیْنَ قَلْبِهِ وَسَمْعِهِ، حَتّى یَسْمَعَ بِقَلْبِهِ مِنّى، وَیَنْظُرَ بِقَلْبِهِ إِلى جَلالی وَعَظَمَتی، وَاُضَیِّقُ عَلَیْهِ الدُّنْیا، وَاُبَغِّضُ إِلَیْهِ ما فیها مِنَ اللَّذّاتِ، وَاُحَذِّرُهُ مِنَ الدُّنْیا وَما فیها، کَما یُحَذِّرُ الرّاعی غَنَمَهُ مِنْ مَراتِعِ الهَلَکَةِ; فَإِذا کانَ هکَذا، یَفِرُّ مِنَ النّاسِ فِراراً، وَیَنْقُلُ مِنْ دارِ الفَنآءِ إِلى دارِ البَقآءِ، وَمِنْ دارِالشَّیْطانِ إِلى دارِ الرَّحْمانِ.*

,*ترجمہ: اے احمد جانتے ہو عیش و ارام والی اور ابدی (جاودانی) زندگی کیا ہے؟*
*نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا نہیں میرے پروردگارا میں نہیں جانتا*
*اللہ تعالی نے فرمایا: عیش و ارام والی زندگی یہ ہے کہ انسان کبھی بھی میری یاد سے نہ تھکے اور میری نعمتوں کو نہ بھولے، مجھ سے غافل اور بے خبر نہ ہو اور میرا جو حق ہے اس سے جاہل نہ ہو شب و روز میری رضا کے لیے کوشش کرے۔*
*اور جاودانی و  ابدی زندگی اس کے لیے ہے کہ جس کے لیے دنیا ذلیل اور اس کی انکھوں میں حقیر ہو جاتی ہے،اور اخرت اس کے نزدیک عظیم ہو جاتی ہے*
 *اور وہ میری منشا کو اپنی خواہشات پر ترجیح دیتا ہے اور ہمیشہ میری رضا اور خوشنودی کی تلاش میں رہتا ہے, جس طرح حق ہے اس طرح مجھے اعلی ,عظیم اور بڑا شمار کرتا ہے اور ہمیشہ یاد رکھتا ہے کہ میں اس سے آگاہ ہوں، دن ہو یا رات اور جب بھی برائیوں اور گناہوں کا وقت ہو تو میری طرف توجہ رکھتا ہے اور اس کا دل ہر اس چیز سے پاک ہے جو مجھے پسند نہیں اور وہ شیطان اور اپنے وسوسوں کو اپنا دشمن سمجھتا ہے اور انہیں اپنے اوپر مسلط ہونے کی کوئی راہ نہیں دیتا۔*
*جب کوئی بندہ ایسے کرتا ہے تو میں اس کے دل کو اپنی محبت سے تسکین دیتا ہوں،اور اس کے قلب کو اپنے اختیار میں لے لیتا ہوں،اس کی آسودگی، مشکلات اور کوششوں کو اپنے لیے قرار دیتا ہوں،اس کی زباں کو ان نعمتوں کے لیے کھولتا ہوں جو میں نے اہل محبت کے لیے مخصوص کی ہے اس کے دل کی سماعت اور بصارت کو کھولتا ہوں تاکہ میری طرف سے اپنے دل کے ذریعے ہر چیز کو سنے اور دل کی انکھ سے میری جلال و عظمت کو دیکھے۔*
*میں اس کے لیے دنیا تنگ کر دیتا ہوں اور دنیا کی خوشیاں اور لذتیں اس کے لیے ناپسندیدہ کرتا ہوں میں اس کو دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے اس سے ڈراتا ہوں خبردار کرتا ہوں جس طرح چرواہا اپنے بھیڑ بکریوں کو ایسی چراگاہ سے ڈراتا ہے جہاں دشمن چھپے ہوئے ہوں، جب ایسا ہو جائے تو دنیا کے لوگوں سے بہت زیادہ دوری اختیار کرتا ہے اور اس فانی جہاں سے ابدی جہاں کی طرف بڑھتا ہے، اور شیطان کے گھر سے رحمان کے گھر کی طرف منتقل ہوتا ہے۔*

👈 جاری ہے 
ترجمہ : استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب 
*عالمی مرکز مہدویت قم*

*حدیث شریف معراج*
*حصہ 18*
*یا أَحْمَدُ! وَلاَُزَیِّنَنَّهُ بِالهَیْبَةِ وَالعَظَمَةِ; فَهذا هُوَ العَیْشُ الهَنِىُّ وَالحَیاةُ الباقِیَةُ.*
اے احمد میں اسے ہیبت ( لوگوں پر اسکا رعب) اور عظمت سے سجاتا ہوں ، یہ وہی عیش و آرام اور ابدی زندگی ہے۔

*یا أَحْمَدُ! لاغِناءَ لِمَنْ لاعَقْلَ لَهُ، وَلا فَقْرَ لِمَنْ لاجَهْلَ لَهُ، وَلارِضى لِمَنْ لا یَرْضى بِالیَسیرِ کَما یَرْضى بِالرَّخآءِ.*
اے احمد جس کے پاس عقل نہیں وہ بے نیاز نہیں ہے جس کے پاس جہالت نہیں وہ فقیر نہیں ہے جو قلیل نعمت پر کثیر نعمتوں کی طرح راضی نہیں وہ کبھی خوش نہیں رہے گا۔

 *یا أَحْمَدُ! هَلْ تَدْرى لاَِىِّ شَىْء فَضَّلْتُکَ عَلى سائِرِ الاَْنْبِیاءِ؟ قالَ: أَللّهُمَّ! لا. قالَ: بِالیَقینِ،  وَحُسْنِ الخُلْقِ،  وَسَخاوَةِ النَّفْسِ،  وَرَحْمَةِ الخَلْقِ، وَکَذلِکَ أَوْتادُ الأَرْضِ لَمْ یَکُونُوا أَوْتاداً إِلاّ بِهذا.*
اے احمد کیا تو جانتا ہے کہ میں نے تجھے کیوں سارے نبیوں پر فضلیت بخشی ہے ؟ نبی کریم (ص) نے عرض کی ؛ پروردگارا میں نہیں جانتا۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تیرا یقین ، نیک اخلاق ، سخاوت و بخشش اور لوگوں سے مہربانی ، یہ بھی جان لو کہ اوتاد ( اللہ کے پاک و محبوب بندے کہ زمین ان سے کبھی خالی نہیں) بھی ان صفات کی وجہ سے اوتاد ہوتے ہیں۔

*یا أَحْمَدُ! إِجْعَلْ هَمَّکَ هَمّاً واحِداً، وَاجْعَلْ لِسانَکَ واحِداً،  وَاجْعَلْ بَدَنَکَ مُتَواضِعاً، حَتّى لا تَغْفَلَ عَنّی أَبداً; فَمَنْ غَفَلَ عَنّی، لا اُبالی فی أَىِّ واد هَلَکَ.*
اے احمد اپنی کوششوں کو ایک جہت( خدا کے لیے) پر قرار دے، اپنی زبان کو ایک (الہی) زبان قرار دے، اپنے بدن کو تواضع و انکساری کی عادت ڈالو تاکہ کبھی بھی مجھ سے غافل اور بے خبر نہ رہے ، یاد رکھو جو مجھ سے غافل ہو ، پھر میرے لیے اہم نہیں کہ وہ کس جگہ اور کس حال میں ھلاک ہوا ہے۔

*یا أَحْمَدُ! إِسْتَعْمِلْ عَقْلَکَ قَبْلَ أَنْ یَذْهَبَ; فَمَنِ اسْتَعْمَلَ عَقْلَهُ، لا یَخْطى [ظ: لا یَخْطَئُ] وَلا یَطْغى،  وَاعْمَلْ بِعِلْمِکَ الَّذی عَلَّمْتُکَ، حَتّى یَجْتَمِعَ لَکَ عِلْمُ الأَوَّلینَ وَالآخِرینَ،  ثُمَّ أَخْتِمُ عَلى قَلْبِکَ بِالمَعْرِفَةِ ما لا یَقْتَدِرُ عَلى وَصْفِهِ الواصِفُونَ، وَأَجْعَلُ لَکَ مَعْلَماً حَیْثُ تَوَجَّهْتَ،  وَأَسْلُکُ بِکَ کُلَّ خَیْر،  وَاُرْشِدُکَ إِلى طَریقِ العارِفینَ،  وَاُقَوِّیکَ عَلَى العِبادَةِ، وَاُحَبِّبُها إِلَیْکَ، وَاُعینُکَ عَلَیْها، حتّى لا یَکُونَ شَىْءٌ أَحَبَّ إِلَیْکَ مِنَ العِبادَةِ.*
اے احمد اپنی عقل کو استعمال کرو اس سے پہلے کہ زائل ہو جائے ، جو اپنی عقل کو استعمال کرتا ہے وہ غلطی اور نافرمانی سے بچا رہتا ہے ، جو علم تجھے سکھایا اس پر عمل کرو تاکہ اولین و آخرین کا علم تجھ میں جمع ہو جائے ، تیرے دل پر معرفت کی ایسی مہر لگاؤں گا کہ بیان کرنے والے اسکی توصیف نہیں کرسکیں گے ، جدھر رخ کرے گا تیرے لیے راہنمائ کی علامت قرار دوں گا ، ہر امر خیر میں تیری رہبری کروں گا ، تجھے عارفوں کی راہ دکھاوں گا ، عبادت کے انجام دینے کی قوت عطا کروں گا، عبادت کی محبت تیرے دل میں ڈالوں گا ، اسکے انجام دینے پر تیری مدد کروں گا یہاں تک کوئی چیز تیرے لیے عبادت سے بڑھ کر محبوب نہیں ہوگی۔

👈جاری ہے 
ترجمہ : استاد محترم آغا علی اصغر سیفی 
*عالمی مرکز مہدویت قم*



*حدیث شریف معراج*
*حصہ 19*
*یا أَحْمَدُ! إِنْ أَحْبَبْتَ أَنْ تَجِدَ حَلاوَةَ الإیمانِ،  فَجَوِّعْ نَفْسَکَ، وَأَلْزِمْ لِسانَکَ الصَّمْتَ،  وَأَلْزِمْ نَفْسَکَ خَشْیَةً وَخَوْفاً; فَإِنْ فَعَلْتَ ذلِکَ، فَلَعَلَّکَ تَسْلَمُ; وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ، فَإِنَّکَ مِنَ الهالِکینَ.*
اے احمد اگر چاھتے ہو ایمان کی شیرینی پاؤ تو شکم کو بھوک اور زبان کو سکوت دو ،اور اپنے کو ہمیشہ (اللہ کے) خوف و خشیت میں رکھو اگر ایسا کرو گے تو نجات کی امید ہے اگر ایسا نہ کیا تو ھلاک ہوجاو گے۔
*یا أَحْمَدُ! وَعِزَّتی وَجَلالی، مَا أَوَّلُ عِبادَةِ العُبّادِ وَتَوْبَتِهِمْ وَقُرْبَتِهِمْ، إِلاَّ الصَّوْمُ وَالجُوعُ وَطُولُ الصَّمْتِ وَالإِنْفِرادُ مِنَ النّاسِ;  وَإِنَّ أَوَّلَ مَعْصِیَة یَعْمَلُهَا العَبْدُ، شَبْعُ البَطْنِ  وَفَتْحُ اللِّسانِ بِما لا یَعْنی  وَمُخالَطَةُ المَخْلُوقینَ بِأَهْوآئِهِمْ.*
اے احمد مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم ؛ بندوں کی پہلی (آغاز سے) عبادت ، توبہ اور تقرب ؛ صرف اور صرف روزہ، بھوک ، طولانی مدت سکوت اور لوگوں سے دوری(یعنی لوگوں میں فضولیات سے دوری نہ اپنے حقوق و فرائض سے دوری) ہے۔
بندوں کا سب سے پہلا گناہ (گناہ کا آغاز) شکم سیری، فضول زبان درازی ، لوگوں کی ہوائے نفس میں انکی ہمراہی و ہم نشینی ہے۔( مطلب لوگوں میں ٹائم ضائع کرنا ، انکے ساتھ ملکر گناہ آلود باتیں اور کام کرنا وغیرہ) 

*یا أَحْمَدُ! إِنَّ الْعَبْدَ إِذا جاعَ بَطْنُهُ وَحَفِظَ لِسانَهُ، عَلَّمْتُهُ الحِکْمَةَ، وَإِنْ کانَ کافِراً، تَکُونُ حِکْمَتُهُ حُجَّةً عَلَیْهِ وَوَبالاً; وَإِنْ کانَ مُؤْمِناً، تَکُونُ حِکْمَتُهُ لَهُ نُوراً وَبُرْهاناً وَشِفآءً وَرَحْمةً، فَیَعْلَمُ ما لَمْ یَکُنْ یَعْلَمُ، وَیُبْصِرُ مالَمْ یَکُنْ یُبْصِرُ; فَأَوَّلُ ما أبَصِّرُهُ، عُیُوبُ نَفْسِهِ، حَتّى یَشْتَغِلَ بِها عَنْ عُیُوبِ غَیْرِهِ، وَاُبَصِّرُهُ دَقآئِقُ العِلْمِ، حَتّى یَدْخُلَ عَلَیْهِ الشَّیْطانُ مِنْ مَوْضِع، وَاُبَصِّرُهُ حِیَلَ الشَّیْطانِ وَحِیَلَ نَفْسِهِ، حَتّى لا یَکُونَ لِنَفْسِهِ عَلَیْهِ سَبیلٌ.*
اے احمد ؛ جب بندہ بھوکا ہو (مطلب شکم سیر نہ کرے کھانے میں پیٹ میں بھوک رکھے) اور اسکی زبان (لغویات سے) محفوظ ہو ، اسے حکمت و دانائی سکھاتا ہوں۔ اگر وہ کافر ہو تو یہ حکمت اس پر حجت (حق تمام کرنے والی) اور وبال جان ہوگی،( مطلب اسے ہمیشہ حق کی طرف کھینچے گی وہ کفر کی وجہ سے اذیت پائے گا) ، اگر مومن ہوگا تو یہ حکمت اسکے لیے نور، راہنما ، شفاء اور رحمت ہوگی۔
وہ اس حکمت کی بدولت جو نہیں جانتا تھا جان لے گا ، جو نہیں دیکھ سکتا تھا دیکھ لے گا۔
سب سے پہلی چیز جو اس کے لیے ظاہر کروں گا اسکی اپنی کمزوریاں اور نقائص ہیں تاکہ دوسروں کے عیب نکالنے کی بجائے اپنے نقائص و کمزوریاں دور کرنے میں مشغول ہو ، علم کی پنہاں اور دقیق چیزیں اسے دکھاوں گا تاکہ شیطان کسی بھی راہ سے اس پر حملہ نہ کرے، اسے شیطان اور نفس کے فریب و مکر سے آگاہ کرتا ہوں تاکہ اسکا نفس اس پر قبضہ نہ کرے۔

👈جاری ہے
ترجمہ و تشریح: استادِ محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب 

عالمی مرکز مہدویت قم


*حدیث شریف معراج*
*حصہ 20*
*یا أَحْمَدُ! لَیْسَ شَىْءٌ مِنَ العِبادَةِ أَحَبَّ إِلَىَّ، مِنَ الصَّوْمِ وَالصَّمْتِ; فَمَنْ صامَ وَلَمْ یَحْفَظْ لِسانَهُ، کانَ کَمَنْ قامَ وَلَمْ یَقْرَأْ فى صَلاتِهِ شَیْئاً، فَاُعْطیهِ أَجْرَ القِیامِ وَلا اُعْطیهِ أَجْرَ العابِدینَ.*
اے احمد؛ میرے نزدیک روزہ اور عاقلانہ سکوت سے بڑھ کر کوئی عبادت نہیں ہے ، جو روزہ تو رکھے لیکن اپنی زبان کو کنٹرول نہ کرے اس شخص کی مانند ہے جو نماز کے لیے کھڑا ہے لیکن کچھ نہیں پڑھ رہا۔
اسے نماز کے لیے قیام کرنے والوں کا اجر تو دوں گا لیکن عبادت کرنے والوں کا اجر نہیں دوں گا۔
*یا أَحْمَدُ! هَلْ تَدْری مَتى یَکُونُ العَبْدُ عابِداً؟ قالَ: لا، یا رَبِّ! قالَ: إِذَا اجْتَمَعَ فیهِ سَبْعُ خِصال: وَرَعٌ یَحْجُزُهُ عَنِ المَحارِمِ; وَصَمْتٌ یَکُفُّهُ عَمّا لایَعْنیهِ;وَخَوْفٌ یَزْدادُ کُلَّ یَوْم فى بُکائِهِ;وَحَیاءٌ یَسْتَحی مِنّی فِى الخَلاءِ; وَأَکْلُ ما لابُدَّ مِنْهُ; وَیُبْغِضُ الدُّنْیا لِبُغضی لها; وَیُحِبُّ الآخِرَةَ لِحُبّی إِیّاها*
اے احمد؛ آیا تو جانتا ہے کہ بندہ کس وقت عابد ہوتا ہے ؟
نبی کریم (ص) نے عرض کیا: نہیں میرے پروردگار ، تو رب العالمین نے فرمایا : جب اسکے اندر سات خصلتیں جمع ہوں : 
ورع(تقوی کی بلند ترین حالت ) کہ جو اسے حرام کاموں سے روکے، 
سکوت کہ جو اسے فضول باتوں سے محفوظ رکھے، 
خوف(خدا) کہ جو ہر روز اسکا گریہ بڑھائے، 
حیاء کہ جو اسے تنہائی و خلوت میں مجھ سے شرم دلائے ( چونکہ انسان عام طور پر تنہائی میں زیادہ گناہ کی طرف مائل ہوتا ہے حالانکہ خدا اسکے پاس ہوتا ہے اسکی حیاء نہیں کرتا)، 
ضرورت کے مطابق کھائے(کہ اسکی جان بچی رہے) ،
 دنیا کو دشمن سمجھے کیونکہ میں دنیا کو پسند نہیں کرتا ( مطلب دنیا سے وابستگی و محبت پیدا نہ کرے) ،
 آخرت سے محبت کرے کیونکہ مجھے آخرت پسند ہے۔

*یا أَحْمَدُ! لَیْسَ کُلُّ مَنْ قالَ: أَنَا اُحِبُّ اللَّهَ، أَحَبَّنی، حَتّى یَأْخُذَ قُوتاً، وَیَلْبَسَ دُوناً، وَیَنامَ سُجُوداً، وَیُطیلَ قِیاماً، وَیَلْزَمَ صَمْتاً، وَیَتَوَکَّلَ عَلَىَّ، وَیَبْکِىَ کَثیراً، وَیَقِلَّ ضِحْکاً، وَیُخالِفَ هَواهُ، وَیَتَّخِذَ المَسْجِدَ بَیْتاً۔۔۔.*

اے احمد ؛ ایسا نہیں ہے کہ جو کہے میں اللہ سے محبت کرتا ہوں اور وہ واقعا مجھ سے محبت کرتا ہے۔مگر یہ کہ: 
زندہ رہنے کی حد تک فقط کھائے ، 
سادہ بغیر فیشن کے لباس پہنے ،
 سجدوں میں سوئے( اتنے طولانی سجدے کہ تھک کر سو جانے والی حالت پیدا ہو)
 طولانی قیام کرے،
 اپنے عاقلانہ سکوت کو ہمیشہ قائم رکھے ، 
بہت (میرے لیے) گریہ کرے ،
 بہت کم ھنسے، 
خواھشات نفسانی کی مخالفت کرے ،
 اور مسجد کو اپنا گھر سمجھے۔۔۔

👈 جاری ہے
ترجمہ و تشریح: استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب 

*عالمی مرکز مہدویت قم*



*حدیث شریف معراج*
*حصہ 21*
*👈آخری حصہ*
*یا أَحْمَدُ! لَیْسَ کُلُّ مَنْ قالَ: أَنَا اُحِبُّ اللَّهَ، أَحَبَّنی، حَتّى یَأْخُذَ قُوتاً،  وَیَلْبَسَ دُوناً،  وَیَنامَ سُجُوداً، وَیُطیلَ قِیاماً، وَیَلْزَمَ صَمْتاً،  وَیَتَوَکَّلَ عَلَىَّ، وَیَبْکِىَ کَثیراً، وَیَقِلَّ ضِحْکاً، وَیُخالِفَ هَواهُ، وَیَتَّخِذَ المَسْجِدَ بَیْتاً۔۔۔.*

اے احمد ؛ ایسا نہیں ہے کہ جو کہے میں اللہ سے محبت کرتا ہوں اور وہ واقعا مجھ سے محبت کرتا ہے۔مگر یہ کہ: 
زندہ رہنے کی حد تک فقط کھائے ، 
سادہ بغیر فیشن کے لباس پہنے ،
 سجدوں میں سوئے( اتنے طولانی سجدے کہ تھک کر سو جانے والی حالت پیدا ہو)
 طولانی قیام کرے،
 اپنے عاقلانہ سکوت کو ہمیشہ قائم رکھے ، 
بہت (میرے لیے) گریہ کرے ،
 بہت کم ھنسے، 
خواھشات نفسانی کی مخالفت کرے ،
 اور مسجد کو اپنا گھر سمجھے۔۔۔
*وَالعِلْمَ صاحِباً، وَالزُّهْدَ جَلیساً، وَالعُلَمآءَ أَحِبّآءَ،  وَالفُقَرآءَ رُفَقآءَ، وَیَطْلُبَ رِضاىَ،  وَیَفِرَّ مِنْ سَخَطی، وَیَهْرَبَ مِنَ المَخْلُوقینَ هَرَباً،  وَیَفِرَّ مِنَ المَعاصی فِراراً، وَیَشْتَغِلَ بِذِکْرِى اشْتِغالاً، وَیُکْثِرَ التَّسْبیحَ دآئِماً، وَیَکُونَ بِالوَعْدِ صادِقاً،  وَبِالعَهْدِ وافِیاً، وَیَکُونَ قَلْبُهُ طاهِراً، وَقُوتُهُ زاکِیاً،  وَفِى الفَرآئِضِ مُجْتَهِداً، وَفیما عِنْدی مِنَ الثَّوابِ راغِباً، وَمِنْ عَذابی راهِباً،  وَلاَِحِبّآئی قَریناً وَجَلیساً.*
علم کو اپنا ہمدم اور زہد کو اپنا ہمنشیں جانے، علماء سے محبت  کرے اور محتاجوں کا اپنا دوست و ہمراہی بنائے، میری رضایت کی تلاش میں رہے اور میری ناراضگی سے بچتا رہے، مخلوق سے زیادہ دوری اختیار کرے (مطلب اہل دنیا کے تماشوں اور فضولیات سے) اور گناہوں سے شدت سے فرار ہوتا رہے، میری کثرت سے یاد میں رہے اور ہمیشہ تسبیح و تنزیہ (حمد و ثنا پروردگار) میں مشغول رہے،وعدے کا سچا اور عہد میں وفادار ہو ،اسکا دل پاک اور غذا پاکیزہ ہو، واجب کو انجام دینے میں سنجیدہ اور کوشش کرنے والا ہو ، میرے پاس جو اجر ہے اسکی طرف رغبت کرے ، میرے عذاب سے خوف کھانے والا اور میرے دوستوں کا ہمنشیں و ہمدم ہو۔

*یا أَحْمَدُ! لَوْ صَلَّى العَبْدُ صَلاةَ أَهْلِ السَّمآءِ وَالأَرْضِ، وَیَصُومُ صِیامَ أَهْلِ السَّمآءِ وَالأَرْضِ، وَطَوى مِنَ الطَّعامِ مِثْلَ المَلائِکَةِ، وَلَبِسَ لِباسَ العاری، ثُمَّ أَرى فى قَلْبِهِ مِنْ حُبِّ الدُّنْیا ذَرَّةً أَوْ سُمْعَتِها أَوْ رِیاسَتِها أَوْ صُبَّتِها أَوْ زینَتِها، لا یُجاوِرُنی فی داری، وَلاََنْزَعَنَّ مِنْ قَلْبِهِ مَحَبَّتی، وَلاَُظْلِمَنَّ قَلْبَهُ حَتّى یَنْسانی، وَلا اُذیقُهُ حَلاوَةَ مَعْرِفَتی. وَعَلَیْکَ سَلامی وَرَحْمَتی، وَالحَمْدُلِلّهِ رَبِّ العالَمینَ.*
اے احمد ؛ اگر کوئی بندہ آسمانی و زمینی مخلوقات کی جتنی نماز پڑھے، اور آسمان و زمین میں رہنے والوں کی مقدار کے مطابق روزے رکھے، فرشتوں کی مانند غذا سے دور رہے ، عریاں لوگوں کی طرح لباس پہنے (یعنی لباس سادا اور نہایت معمولی پہنے) اگر میں اسکے دل میں دنیا کی محبت یا شہرت کی چاہت ، ریاست و حکومت کے خیالات ، یا دنیا کے مزوں و مٹھاس اور زیور و زینت کی محبت کا ذرہ بھی پاؤں گا تو اسے اپنا ہمسایہ ( یعنی اپنی قربت) بننے کے حق سے محروم کروں گا، اسکے دل کو تاریک کروں گا تاکہ مجھے بھول جائے،اسے اپنی معرفت کی شیرینی نہیں چکھنے دوں گا، اے احمد تجھ پر میرا درود و سلام ہو ، عالمین کے پروردگار کی حمدو ثنا ہو ۔

ترجمہ: استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب 

*عالمی مرکز مہدویت قم*


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

(Ist pdf) 👈 مہدویت پر بحث کی ضرورت (استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب)

دروس عقائد کا امتحان

کتاب غیبت نعمانی کے امتحان کے سوالات اور ان کے جوابات