(Ist pdf) محور کائنات
محور کائنات کورس ون کا پہلا کتابچہ ہے
انتہائی اہم پیغام 📣
بہت سے سٹوڈنٹس پوچھ رہے ہیں کیا کلاس زوم پر ہو گا لائیو ہو گی۔۔۔
ہدایات 📝
📍مھدویت کی کلاس اس مھدوی کمیونٹی میں ہو گی۔
📍 درس آڈیو لیکچر پر مبنی ہو گا
📍 آپ کو کتابچہ PDF کی صورت میں مہیا کیا جائے گا
📍درس سن کر آپ نے اس درس کا خلاصہ لکھنا ہوگا رجسٹر پر یا اپنی اواز میں ریکارڈ بھی کر سکتے ہیں۔
📍خلاصہ بھیجنے کا وقت چوبیس گھنٹے کا ہے درس آنے کے بعد چوبیس گھنٹے میں کسی بھی وقت آپ خلاصہ بھیج سکتے ہیں۔
📍 خلاصہ گفتگو گروپ میں بھیجنا ہوگا جب گروپ اوپن ہو گا آپ کے خلاصے کے لیے ۔
🔰 انتہائی اہم 🔰
📍 خلاصہ بھیجنے کے پابند فقط وہی سٹوڈنٹس ہوں گے جو کورس مکمل ہونے کے بعد امتحان میں شرکت کرنا چاہتے ہوں اور مرکز کی جانب سے سرٹیفکیٹ لینا چاہتے ہوں۔
📍امتحان اور سرٹیفکیٹ کی فیس اور رجسٹریشن کے بارے میں آپ کو بعد میں آگاہ کیا جائے گا۔
📍 امتحان کب ہو گا یہ امتحان سے پانچ دن پہلے بتایا جائے گا۔
📍 باقی جو سٹوڈنٹس فقط علمی استفادہ اور معرفت کے حصول کے لیے درس لینا چاہتے ہیں وہ خلاصہ بھیجنے کے پابند نہیں ہیں۔۔۔۔
============================== =========
دنیا و آخرت میں آپ کی کامیابی کے خواہاں 🤲
شہر بانو✍
🪩 عالمی مرکز مھدویت قم 🪩
*معرفت امام زمانہ عج کورس کا پہلا درس*
*امام مہدی عج کہاں ہیں*
*دعائے عہد کی تلاوت*
_استادِ مہدویت آغا علی اصغر سیفی صاحب_
پہلا درس کا خلاصہ
کچھ سوالات کے جواب دے تھے
مولا کی معرفت کیا ہےاور یہ معرفت کیسے حاصل ہوگی؟
امام اس وقت کہاں ہے؟آیا ہم امام تک پہنچ سکتے ہیں ؟
امام کہا ن ہے
امام زمین پر ہیں
اصول کافی میں امام جعفر صادق سے پوچھا گیا کہ آیا زمین حجت خدا سے خالی رہ سکتا ہے؟
تو فرمایا کہ
” اگر زمین حجت خدا سے خالی ہو تو وہ اپنی اوپر رہنے والوں نگل لے گا“
تو زمین کبھی حجت خدا سے خالی نھیں ہوتا
جب خدا نے حضرت آدم کو خلق کیا تو اس خدا نے یہ ارادہ فرمایا تھا کہ زمیں کو حجت خدا سے خالی نھیں چھوڑے گے
پس
زمین پر ہمیشہ حجت خدا ہےچاہے وہ پیغمبر کی شکل میں ہو یا پیغمبر کی وصی کی شکل میں ہو
تمام مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت محمد صلے ہمارے اخری نبی ہے
انکے بعد کوٸی نبی نھیں آۓ گا
احادیث کی رو سے ہمارے نبی کے بارہ وصی ہے
ہر دور میں ایک وصی ہے جو عترت نبی ہے آپ صلے کی آال میں سے ہیں
حدیث ثقلین میں آپ نے دو چیز چھوڑ گے
ایک اہل بیت
دوسرا قرآن شریف
یہ دونوں کبھی جدا نھیں ہوگا۔
اب
یہ جو زمانہ وہ امام مہدی کا ہے ہمارے مولا 255ھ کو دنیا میں تشریف لا چکے تھےاور 260ھسے مولا کی غیبت شروغ ہوگی ہے پلہے 70 غیبت صغری رہی ہے اس کے بعد غیبت کبرا شروع ہوگی ہے
ہمیں یقین رکھنا چاہیے کہ مولا زمین پر ہی موجو د ہے
امام علی کا فرمان ہے کہ
غیبت نعمان کتاب سے یہ حدیث لی ہے
”اللہ کی قسم حجت خدا لوگوں کے درمیان میں ہوتی ہے زمین کے مشرق سے مغرب تک آمدرفت رکھتی ہے وہ لوگوں کو دیکھتی ہے پر لوگ اس سے اس وقت تک نھیں دیکھ سکتے جب تک خدا کا وعدہ پورا نھیں ہوتا “
جہاں جہاں شیعہ موجود ہے وہاں وہاں امام نگرانی کرتے ہیں
امام جعفر صادق علیہ سلام فرماتے ہے
ہر صبح اپنی امام کی بیعت کرے اور دعا عہد کی تلاوت کرے
التماس دعا شھادت 🤲
✍🏻شہر بانو
پہلا درس کا خلاصہ
کچھ سوالات کے جواب دے تھے
مولا کی معرفت کیا ہےاور یہ معرفت کیسے حاصل ہوگی؟
امام اس وقت کہاں ہے؟آیا ہم امام تک پہنچ سکتے ہیں ؟
امام کہا ن ہے
امام زمین پر ہیں
اصول کافی میں امام جعفر صادق سے پوچھا گیا کہ آیا زمین حجت خدا سے خالی رہ سکتا ہے؟
تو فرمایا کہ
” اگر زمین حجت خدا سے خالی ہو تو وہ اپنی اوپر رہنے والوں نگل لے گا“
تو زمین کبھی حجت خدا سے خالی نھیں ہوتا
جب خدا نے حضرت آدم کو خلق کیا تو اس خدا نے یہ ارادہ فرمایا تھا کہ زمیں کو حجت خدا سے خالی نھیں چھوڑے گے
پس
زمین پر ہمیشہ حجت خدا ہےچاہے وہ پیغمبر کی شکل میں ہو یا پیغمبر کی وصی کی شکل میں ہو
تمام مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت محمد صلے ہمارے اخری نبی ہے
انکے بعد کوٸی نبی نھیں آۓ گا
احادیث کی رو سے ہمارے نبی کے بارہ وصی ہے
ہر دور میں ایک وصی ہے جو عترت نبی ہے آپ صلے کی آال میں سے ہیں
حدیث ثقلین میں آپ نے دو چیز چھوڑ گے
ایک اہل بیت
دوسرا قرآن شریف
یہ دونوں کبھی جدا نھیں ہوگا۔
اب
یہ جو زمانہ وہ امام مہدی کا ہے ہمارے مولا 255ھ کو دنیا میں تشریف لا چکے تھےاور 260ھسے مولا کی غیبت شروغ ہوگی ہے پلہے 70 غیبت صغری رہی ہے اس کے بعد غیبت کبرا شروع ہوگی ہے
ہمیں یقین رکھنا چاہیے کہ مولا زمین پر ہی موجو د ہے
امام علی کا فرمان ہے کہ
غیبت نعمان کتاب سے یہ حدیث لی ہے
”اللہ کی قسم حجت خدا لوگوں کے درمیان میں ہوتی ہے زمین کے مشرق سے مغرب تک آمدرفت رکھتی ہے وہ لوگوں کو دیکھتی ہے پر لوگ اس سے اس وقت تک نھیں دیکھ سکتے جب تک خدا کا وعدہ پورا نھیں ہوتا “
جہاں جہاں شیعہ موجود ہے وہاں وہاں امام نگرانی کرتے ہیں
امام جعفر صادق علیہ سلام فرماتے ہے
ہر صبح اپنی امام کی بیعت کرے اور دعا عہد کی تلاوت کرے
التماس دعا شھادت 🤲
✍🏻شہر بانو
السلام علیکم
پہلا درس *معرفت امام زمانہ* خلاصہ
*جس نے اپنے امامؑ کی معرفت حاصل نہ کی گویا وہ جہالیت کی موت مرا*
امام زمانہ عج زمین پر ہیں اصول کافی کی روایت ہے امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں زمین اگر حجت خدا سے خالی ہو تو اپنے اوپر رہنے والے لوگوں کو نگل جائے یعنی زمین کبھی بھی حجت خدا سے خالی نہیں رہ سکتی جب پروردگار عالم نے حضرت ادمؑ کو زمین پر اپنا خلیفہ بنا کر بھیجا تو پروردگار عالم نے ارادہ فرما لیا تھا کہ تا قیامت زمین کو کبھی بھی حجت خدا سے خالی نہیں رکھے گا چاہے وہ انبیاء ہوں چاہے وہ اوصیا ہوں ہم مسلمانوں کا عقیدہ ہے حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم اللہ کے اخری نبی پیغمبر رسول ہیں ان کے بعد تا قیامت کوئی نبی رسول پیغمبر نہیں ائے گا لیکن شیعہ سنی متفقہ کتابوں میں موجود ہے کہ ہمارے نبی کے 12 خلیفہ قیامت تک ہیں اور رسول اللہ کی حدیث ہے کہ *میں تم لوگوں کے درمیان دو گراں قدر چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں ایک قران اور دوسرے میرے اہل بیتؑ اور یہ ایک دوسرے سے تا قیامت جدا نہیں ہوں گے* تو قران اج موجود ہے تو اہل بیتؑ میں سے بھی کوئی ہم پلہ قران موجود ہوگا
امام زمانہ عج کی ولادت 255 ہجری میں ہوئی اور ان کی غیبت صغری 260 ہجری میں شروع ہوئی جو کہ 70 سال رہی اس کے بعد غیبت کبری ہے اور وہ دور یہی ہے جس میں ہم جی رہے ہیں غیبت کبری کا اختتام پروردگار عالم کے اذن سے ختم ہوگا.
*امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام فرماتے ہیں اللہ تعالی کی قسم حجت خدا لوگوں کے درمیان میں ہوتی ہے یعنی حجت وہیں ہوگی جہاں لوگ ہوں گے اس لیے امام زمان سب لوگوں کو دیکھتے سنتے بھی ہیں لیکن ابھی ہم امام کو نہیں دیکھ سکتے* اس غیبت میں ہم پر فرض ہے کہ ہم اپنے امامؑ کو سب سے پہلے رکھیں انہیں یاد کریں ان کی بیعت کریں اور بیعت کرنے کے لیے دعائے عہد ہر صبح تلاوت کریں
مولاؑ ہم سب کے حامی و ناصر ہو ہو اور ہمیں وقت کے امامؑ کی معرفت نصیب فرمائیں🤲🏻
✍🏻شہر بانو
خلاصہ درس اول مھدویت
معرفت امام زمان عجل اللہ فرجہ
امام زمان عجل اللہ زمین پر موجود ہیں،امام صادق علیہ السلام نے سوال کے جواب میں فرمایا کہ زمین اگر حجت خدا سے خالی ہو تو وہ اپنے رہنے والوں کو نگل لیتی ہے۔
یعنی زمین پر رہنے والے سب ہلاک ہوجائیں گے۔
حضرت آدم علیہ السلام کی خلقت سے تاقیامت تک خدا نے ارادہ کر لیا تھا کہ زمین کو حجت سے خالی نہیں چھوڑے گا چاہے وہ نبی کی شکل میں ہو یا انکے وصی کی شکل میں۔
آخری نبی محمد مصطفیٰ ص اور انکے بعد انہے 12 وصی ہیں۔
حدیث ثقلین؛ قرآن اور میری عترت
آخری فرد رسول خدا ص کی اولاد میں سے اس وقت موجود ہیں۔
امام 255 ہجری کو پیدا ہوئے اور 260 سے غیبت شروع ہوئی ہے۔
پہلے 70 سال غیبت صغریٰ تھی اور پھر غیبت کبریٰ جو ابھی تک جاری ہے۔
ہم سب کا یقین ہونا چاہیے کہ مولا زمین پر موجود ہیں اور ہمارے درمیان ہیں۔۔
کسی خاص خطے میں موجود نہیں ہیں۔ جزیرہ خضراء و برمودا افسانے ہیں۔
امام علی علیہ السلام کی روایت کتاب غیبت نعمانی میں نقل ہوئی ہے کہ؛
اللہ تعالیٰ کی قسم حجت خدا لوگوں کے درمیان ہوتی ہے،انکے راستوں میں چلتی پھرتی ہے،انکے گھروں میں آتی جاتی ہے، لوگوں کی باتوں کو سنتی ہے،ان پر سلام بھیجتی ہے۔
وہ لوگوں کو دیکھتی ہے لیکن لوگ انہیں دیکھ نہیں سکتے جب تک خدا کا اذن نہیں ہوجاتا۔
ہمارا وظیفہ اپنے امام کو یاد رکھنا اور انکی بیعت کرنا ہے۔
دعای عھد امام زمانہ سے بیعت کے لئے امام صادق علیہ السلام سے بیان ہوئی ہے،اسلئے ہر شیعہ کو اس دعا کو ہر روز صبح پڑھنا چاہیے اور امام سے بیعت کرنی چاہیے۔ یہی ہمارا پہلا وظیفہ ہے۔
شہر بانو✍
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
مجھے جتنی سمجھ آئی ہےآپکی خدمت میں پیش کرتی ہوں
سب سے پہلے ہمیں یقین کامل ہونا چاہے کہ ہمارے وقت کہ امام آخری حجت اس وقت پردہ غیبت میں موجود ہیں ہمیں دیکھتے ہیں مشکلات میں ہماری نصرت فرماتے ہیں اور ہمارے درمیان آمد و رفت رکھتے ہیں اور روایت میں ملتا ہےکہ حج کے موسم میں لوگوں کے ساتھ حج ادا فرماتے ہیں آپکی ولادت باسعادت 255ھ 17 ربیع الاول ہے اور 260ھجری میں غیبت صغری شروع ہوئی کہ جس میں آپ کے چار خالص ترین نائبین تھے جو کہ لوگو کی مسائل وحاجات آپ تک پہچاتے تھے پھر 70 کے بعد آپکی غیبت کبری شروع ہوئی کہ جس سے پہلے آپ علیہ السلام نے اپنے آخری نائب کو خط لکھا کہ چھ دن بعد تمہاری وفات ہوگی اور اس کے بعد ہمارا کوئی نائب نہیں لہذا جو دعوا کرے اس جھٹلایا جائے اور یہ کہ ہمارے بعد قرآن حدیث کہ محقین کی پیروی کی جائے
اور رسول خدا ؐکی حدیث بھی کہ میرے بعد میرے بارہ خلفاء ہوں گے اور ہر زمانے میں موجود ہوں گے اور ان میں سے بارہوے اور آخری اس زمانے کے امام ہیں امام مہدی علیہ السلام لہذا ہمیں روزانہ دعا عہد پڑھ کہ ان کی بعیت کر نی چاہیے اور زمینہ سازی کرنی چاہے
کچھ غلط لکھا ہو تو اصلاح فرمایئے گا🙏🏻
بہت شکریہ سلامت رہیں
شہر بانو✍
اسلام وعلیکم ۔۔🌷
تمام درودو سلام محمد وآل محمد پر 🌷
زمین کبھی حجت خدا سے خالی نہیں رہ سکتی۔۔۔اگر ایسا ہوتا تو یہ کاینات بھی قائم نہ رہتی۔۔۔۔بارہ اماموں کا تزکرہ شیعہ سنی کتب احادیث میں موجود ہے۔۔۔۔امام زمانہ ع۔س دو سو پچپن ہجری میں پیدا ہوئے دو سو ساٹھ ہجری میں غیبت صغری ہوئی یہ غیبت ستر سال رہی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پھر غیبت کبری شروع ہوئی جو امام ع۔س کے ظہور تک رہے گی
امام ہمارے درمیان موجود ہیں لیکن ہماری گناہ گار آنکھوں کو وہ بصیرت حا صل نہیں😢 وہ ہمیں دیکھتے ہیں ہماری باتیں جو ہم ان سے کرتے ہیں سنتے ہیں اور جواب بھی دیتے ہیں ۔۔۔۔جب ہم پکارتے ہیں 😢 آنسوں کے ساتھ اپنی حاجت بیان کرتے ہیں ایک دم سے ہمارے بے قرار دل کو سکون ملتا ہے لگتا ہے ہمارے آنسو کسی نے پوچھ دیے وہ میرے آقا میرے مولا ہی کا حکم ہوتا ہے ہمیں اطمینان حاصل ہو جا تا ہے بس ہم اپنی روح کو پا کیزہ کریں۔۔۔۔۔
امام ع۔س کو ایک مخصوص وقت سے پہلےنہیں دیکھ سکتے ہمیں چاھیے نماز فجر پڑھ کے روزانہ بیعت کی تجدیددعاے عہد کے ساتھ کریں 🌷
شہر بانو✍
*بسم الله الرحمن الرحیم*
سلام علیکم و رحمةالله و برکاته
زمین کبھی حُجت خُدا سے خالی نہیں رہ سکتی ۔ خاتم النبیین صلیاللهعلیهوآلهوسلّم کے بعد اُن کے بارہ خلفاء کا تذکرہ سُنی شیعہ کُتب احادیث میں موجود ہے۔ اصول کافی میں روایت موجود ہے کہ اما صادق علیہ السلام سے پوچھا گیا کہ کیا زمین حجت خدا سے خالی ہو سکتی ہے؟ امام پاسخ فرمود: *"زمین اگر حجت خدا سے خالی ہو تو وہ اپنے اوپر رہنے والوں کو نگل لے۔"*
امام زمان علیہ السلام کی ولادت ۲۵۵ہجری میں ہوئ اور ۲۶۰ہجری میں غیبت صغرى شروع ہوئی۔70سال غیبت صغری میں اور اس کے بعد اللہ کے حکم سے غیبت کبرئ شروع ہوگئی .امام علی علیہ السلام کے فرمان کے مطابق امام زمان عج ہمارے درمیان موجود ہے لیکن ہمارے نظروں سے پوشدہ ہے اور روایت میں ملتا ہےکہ حج کے موسم میں آپ لوگوں سے ملاقات کرتےہیں۔ غیبت صغری میں آپ کے چار خالص نائبین تھے جو کہ لوگوں کی مسائل و حاجات آپ تک پہنچاتے تھے پھر 70 سال کے بعد آپکی غیبت کبری شروع ہوئی کہ جس سے پہلے آپ علیہ السلام نے اپنے آخری نائب علی سمری کو خط لکھا کہ چھ دن بعد تمہاری وفات ہوگی اور اس کے بعد ہمارا کوئی نائب نہیں لہذا جو دعوا کرے اس جھٹلایا جائے۔
لہذا ہمیں روزانہ دعا عہد پڑھ کہ ان کی بیعت کر نی چاہیے اور تعجیل ظہور کیلئے زمینہ سازی کرنی چاہیے۔
*عملی وظیفہ*
تلاوت دعائے عہد
Ok
شہر بانو✍
*مہدویت*
*درس: 1*
▪️معرفت امام زمانہ عج
اصولِ کافی میں امام صادق علیہ السّلام سے پوچھا گیا کہ کیا زمین حجت خدا سے خالی رہ سکتی ہے؟
امام ع نے فرمایا: زمین اگر حجت خدا سے خالی ہو تو وہ اپنے اوپر رہنے والوں کو نگل لے۔
جب پروردگار نے حضرت آدم ع کو زمین پر بھیجا اسکے بعد پروردگار نے یہ ارادہ فرما لیا تھا کہ تاقیامت زمین کو کبھی بھی حجت خدا سے خالی نہیں
چھوڑیں گے پھر چاھے وہ پیغمبر کی شکل میں ہو یا انکے وصی کی شکل میں۔
نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نے اپنے بعد دو چیزیں چھوڑیں پہلی قرآن اور دوسری عترتِ اہلبیت ع اور جسنے ان میں سے ایک کو پالیا وہ دوسری سے بے نیاز نہیں ہوسکتا۔
جس زمانے میں ہم رہ رہے ہیں یہ زمانہ حضرت امام مہدی علیہ السّلام کا زمانہ ہے۔امام عج کی ولادت 255 ہجری میں ہوئی اور 260 ہجری سے مولا عج کی غیبت شروع ہوئی پہلے 70 سال غیبت صغریٰ رہی اور اسکے بعد غیبت کبریٰ ہے۔
غیبت کبریٰ پروردگار کے اذن سے ختم ہوگئی اور مولا عج ظہور فرمائیں گے۔
امام علی علیہ السلام : پروردگار کی قسم حجت خدا لوگوں کے درمیان میں ہوتی ہے انکے راستوں ،گھروں میں آتی جاتی ہے اور زمین پر مشرق سے مغرب کی طرف حمد و رفت کرتی ہے حجت خدا لوگوں کو دیکھتی ہے لیکن انھیں ایک معیں وقت تک دیکھا نہیں جاسکتا۔
شہر بانو✍
بِسْمِ اللّٰهِِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْم
السلام علیکم
خلاصہ
آغا صاحب نے جو بھی بتایا برحق ہے
ان کی پوری بات کا خلاصہ یہ ہے
کہ زمیں کو الله نے بنانے کے بعد خالی نہیں چھوڑا ہر دور میں زمیں پر حجت موجود رہی ہے
کبھی انبیاء کی صورت میں کبھی اماموں کی صورت میں
ہمیں بھی اللہ کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ ہمارے سروں پر بھی ہمارے امام امام زمانہ موجود ہیں الحمدللہ
پر کیا بات یہاں ختم ہو جاتی ہے کہ موجود ہیں ؟
نہیں آغا صاحب نے کیا خوب بات کی کے روز صبح مولا کی بیعت کرنا اس پورے بیان کا خلاصہ یہ ہے امام ہیں بس ہم نے زندگی ایسا بنانا ہے کے ہمارے دن کا آغاز اور اختتام اسی بات پر ہو کہ کوئی ہے جو ہمیں دیکھ رہا ہے ہمارا ہر پل امام سے توسل کرنا ان سے عہد کرنا کہ ہم منتظر ہیں مولا ہمیں یقین ہے جس چیز کا وعدہ میرے اللہ کا ہے
قرآن میں 72 آیات حجت پر دلالت کرتی ہیں
معصومین علیہ السلام کا واضح فرمان ہے کہ یہ ایات امام زمانہ علیہ السلام کے حجت پر دلالت کرتی ہیں
سورہ قصص مصن آیت
ترجمہ
کہ ہمارا ارادہ یہ ہے کہ جنہیں زمین پر ضعیف بنا دیا گیا ان پر احسان کریں ہم انہی کو امام بنائیں گے اور زمین کا وارث انہی بنائیں گے
زمین اس وقت حجت سے خالی نہیں ہے حجت ہمارے درمیان موجود ہے ہر وقت ہر پل ہر لمحہ
شہر بانو✍
*قدم بہ قدم یوسف زہرا عج کی جانب سفر*
*بسم الله الرحمن الرحیم*
سلام
*حدیث*
*جیسے نے اپنے زمانے کے امام کی معرفت حاصل نہ کئی تو گویا وہ جہالت کی موت مارا*
* اصول کافی*جو ہماری چار کتابوں میں سے ایک ہے اس میں روایت موجود ہے کہ امام صادق علیہ السلام سے پوچھا گیا کہ کیا زمین حجت خدا سے خالی ہو سکتی ہے؟ تو امام نے فرمایا: *"زمین اگر حجت خدا سے خالی ہو تو وہ اپنے اوپر رہنے والوں کو نگل لے۔"*
حضرت آدم ع کی خلقت کے بعد اللہ تعالٰی نے یہ ارادہ کیا کہ تا قیامت زمین کبھی بھی حجت خدا سے خالی نہ ہوگی
ہمارا یہ عقائد ہے کہ حضرت محمد ص اللہ کے آخری نبی ہیں اور ان کے بارہ خلفاء ہیں
حدیث ثقلین میں کہ میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑ کر جارہا ایک *قرآن*اور دوسری *میری اھلبیت* یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہیں
اس اھلبیت کی ایک کڑی امام زمان عج ہے
امام زمان عج کی ولادت ۲۵۵ہجری میں ہوئی اور امام عج کی غیبت کے دو حصے ہیں ایک صغریٰ ۲۶۰ہجری میں غیبت صغرى شروع ہوئی۔70سال کا عرصہ ہےغیبت صغری کا اور اس کے بعد اللہ کے حکم سے غیبت کبرئ شروع ہوگئی . کتاب نعمانیہ میں امام علی علیہ السلام کے فرمان کے مطابق امام زمان عج ہمارے درمیان موجود ہے لیکن ہمارے نظروں سے پوشیدہ ہے اور روایت میں ملتا ہےکہ حج کے موسم میں آپ لوگوں سے ملاقات کرتےہیں۔ غیبت صغری میں آپ کے چار خالص نائبین تھے جو کہ لوگوں کی مسائل و حاجات آپ تک پہنچاتے تھے آپ عج نے اپنے آخری نائب علی سمری کو خط لکھا کہ چھ دن بعد تمہاری وفات ہوگی اور اس کے بعد ہمارا کوئی نائب نہیں ہے اور اس دن سے غیبت کبریٰ شروع ہوگئی
لہذا ہمیں روزانہ دعا عہد پڑھ کے اپنے وقت کے امام کے ساتھ تجدید عہد کرنا چاہیے اور صبح کا پہلا سلام اپنے وقت کے امام کو دے تعجیل ظہور کیلئے زمینہ سازی کرنے میں اپنا کردار نبھائے
*پہلا وظیفہ*
دعائے عہد بمعہ ترجمہ
شہر بانو✍
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
سلام و احترام
آج کے درس کا موضوع
امام کہاں ھیں
تلاوت دعائے عہد
امام زمانہ علیہ السّلام زمیں پر ھیں۔ لوگوں کے درمیاں ھیں ۔اپ امام حسن عسکری علیہ السلام کے بیٹے ھیں۔اپ 255 ھجری میں دنیا میں تشریف لائے ۔اور 260ہجری سے غیبت صغریٰ شروع ہوئی جو کہ 70سال تک رہی اور اس کے بعد غیبت کبریٰ۔اللہ کے اذن سے ختم ہو گی ۔
امام جعفر صادق علیہ السّلام سے پوچھا گیا کیا زمین حجت خدا سے خالی رہتی ہے ؟اپ نے فرمایا اگر زمین حجت خدا سے خالی ہو تو یہ اپنے اوپر رہنے والی ہر چیز کو نگل جائے ۔جناب آدم علیہ السّلام سے اللّٰہ رب العزت نے رونمائی و ھدایت کے لے انبیاء اور اولیاء کا سلسلہ رکھا ہر درو میں حجت خدا رہی ۔ اہلسنت و اہل تشیع دونوں مذاہبِ کی کتب میں محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے بارہ جانشینوں کی سند ملتی ھے۔اور ہم آخری خلیفہ کے دور میں ھیں۔
امام زمانہ کی معرفت لازم ھے۔تاکہ ہم سچے منتظر بنیں اور امام علیہ السّلام کے مددگاروں جانثاروں میں ھوں۔
معرفت اور امام سے متصل رہنے کے لیے ضروری کہ صبح امام کے حضور سلام پیش کریں اور بعیت کریں بزریعہ دعائے عہد ۔
دعائے عہد روزانہ نماز فجر کے بعد پڑھیں چائیے۔
شہر بانو✍
*معرفت امام زمان عج کا دوسرا درس*
*حدیث من مات*
*دعائے عہد کی تشریح*
*اور عقیدہ امامت کی تکمیل*
*_استاد مہدویت آغا علی اصغر سیفی صاحب💐_*
▪️ معروف عمومی حدیث من مات۔۔۔ یعنی جس میں امام مہدی علیہ السلام کا ذکر مبارک باقی آئمہ معصومین علیھم السلام کے ساتھ ہے:
جو اپنے زمانے کے امام کی معرفت کے بغیر مر گیا ، اس کی موت گویا جاہلیت کی موت ہے۔
▪️ اہلسنت کی صحاح ستہ میں یہ حدیث سات صحابہ کے ریفرنس سے بیان ہوئی ہے زید بن ارقم، عبداللہ بن عباس، عبداللہ بن عمر و غیر۔۔۔ اہلسنت نے اپنی ستر دیگر کتب میں اس حدیث کو نقل کیا ہے۔
▪️ مکتب اہلبیت علیہ السّلام میں علامہ مجلسی نے اس حدیث کو چالیس شیعہ اسناد کے ساتھ بیان کیا ہے۔
▪️ اہلسنت میں ابن حدید نے اس حدیث کے متواتر ہونے کا دعوا کیا ہے۔ تشیع میں شیخ مفید رہ، شیخ بہائی رہ، علامہ مجلسی رہ
▪️اس حدیث کے مضامین میں معنی ایک ہی بنتا ہے لیکن تعبیرات میں فرق ہے۔ مثلاً جاہلیت کی موت کی بجائے یہودی نصرانی ہو کر مرنے کی طرف اشارہ ہے بہرحال سب کا مفہوم عاقبت خراب ہونا ہے۔
▪️ پس امام زمانہ ایسا وجود مبارک جن کی معرفت واجب، اس کے بغیر عاقبت خراب ، جہالت میں زندگی و موت کا واقع ہونا ہے۔
پس یہ وجود مبارک منصوص من اللہ اور الہی شرائط کے حامل امام و رہبر ہیں۔
▪️ اہم نکات
*بلند علمی مقام کی حامل شخصیت کہ آپ کی معرفت کی بغیر ہم جاہل رہ جائیں گے۔
* پاک و پاکیزہ امام کہ آپ ع کی مطلق اطاعت کا حکم ہے۔ کبھی اپنے علم و عمل میں اشتباہ نہیں کرتے۔ جنت کی طرف لے جانے والی ہدایت اور جہنم سے بچانے والے امام
* ایسی شخصیت کا انتخاب انسان نہیں کر سکتے۔ پس آپ ع من اللہ امامت و ولایت کے حامل ہیں۔
ورنہ اپنے بنائے ہوئے امام کی پیروی منطقی بات نہیں لگتی۔
▪️ نتیجہ
پس جو لوگ امامت کے دعوے کرتے ہیں ان کی زندگیوں پر غور کریں تو واضح ہو جاتا ہے کہ وہ خطا سے محفوظ نہیں ہیں۔
جاہلیت سے مراد سادہ جاہلیت نہیں بلکہ شرک کا راستہ ہے۔
صرف تشیع کے پاس بارہ امام واضح ہیں جو رسول اللہ ص نے اعلان کئے۔ جب کہ باقی مکاتب کے پاس آج تک بارہ کی تعداد نہ مکمل ہے اور نہ متفق ہیں۔
*دعائے عہد کی تشریح*
امام جعفر صادقؑ سے نقل ہوا ہے کہ جو شخص چالیس روز تک ہر صبح اس دعائے عہد کو پڑھے تو وہ امام ﴿عج﴾ کے مددگاروں میں سے ہو گا۔ اور اگر وہ امامؑ کے ظہور سے پہلے فوت ہو جائے تو خداوند کریم اسے قبر سے اٹھائے گا تاکہ وہ امام کے ہمراہ ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ اس دعا کے ہر لفظ کے عوض اسے ایک ہزار نیکیاں عطا کرے گا اور اس کے ایک ہزار گناہ محو کر دے گا۔ وہ دعائے عہد یہ ہے:
👆
: *درس اول*
ہمارے ذہنوں میں اکثر یہ سوال اتا ہے کہ امام زمانہ اس وقت کہاں ہیں
*اصول کافی میں ہے کہ امام صادق علیہ السلام سے پوچھا گیا کہ ایا زمین حجت خدا سے خالی رہ سکتی ہے۔*
*امام علیہ السلام نے فرمایا کہ اگر زمین حجت خدا سے خالی ہو جائے تو اپنے اوپر رہنے والوں کو نگل لے*
زمین کبھی بھی حجت خدا سے خالی نہیں رہ سکتی
جب اللہ تعالی نے حضرت ادم علیہ السلام کو خلق فرمایا تو یہ ارادہ کیا کہ اب زمین کبھی بھی حجت خدا سے خالی نہیں چھوڑے گا اس طرح سے انبیاء کا سلسلہ چلا ایا ہے اور اخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہے ان کے بعد ان کے 12 جانشین ہیں حدیث ثقلین میں ہے کہ پیغمبر نے فرمایا کہ میں اپنے بعد دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں ایک قران اور دوسرا میرے اہل بیت اور یہ کبھی بھی ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گےاج کے اس زمانے میں جب قران مجید موجود ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی نہ کوئی جانشین بھی موجود ہے جو کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام ہیں
امام علیہ السلام کی ولادت 255 ہجری میں ہوئی 260 میں غیبت صغریٰ کا اغاز ہوا جو کہ تقریبا 70 سال تک رہا ہے اور پھر اس کے بعد غیبت کبری کا اغاز ہوا اس کا اختتام اللہ تعالی کے اذن سے ہوگا
غیبت نعمانی میں حضرت علی علیہ السلام کا فرمان ہے حجت خدا ہمارے درمیان موجود ہے یعنی حجت خدا وہاں ہوتی ہے جہاں لوگ موجود ہوتے ہیں ان کے گھروں میں اتی جاتی ہے زمین میں مشرق سے مغرب تک امد و رفت کرتی ہے
لوگوں کی باتوں کو حجت خدا سنتی ہے ان پر سلام بھی بھیجتی ہے وہ لوگوں کو دیکھتی ہے لیکن انہیں ایک معین وقت تک نہیں دیکھا جا سکتا ہے جب تک کہ خدا کا وعدہ پورا نہیں ہوگا
ہمارا سب سے پہلا وظیفہ یہ ہے کہ ہم اپنے وقت کے امام کی بیعت کریں امام صادق علیہ السلام کا فرمان ہے کہ ہر شیعہ مومن جو کہ امام غیب کا منتظر ہے اسے چاہیے کہ ہر روز صبح اپنے امام سے بیعت کرے اور دعائے عہد کی تلاوت کریں
شہر بانو :✍️
*دوسرادرس*
*معرفت امام زمانہ علیہ السلام*
رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا فرمان ہے
*مَن مَاتَ وَلَم یَعرِفٗ اِمامِ زمانہٖ مَاتَ مِیتۃً جَاہِلیَّۃ*
*جو شخص اپنے زمانے کے امام کی معرفت کے بغیر مر گیا وہ جاہلیت کی موت مرا*
*امام صادق علیہ السلام کا فرمان ہے*
*اگرکوئی مومن چالیس دن صبح کےوقت دعائےعہدکی تلاوت کرےتووہ امام قائم کے ناصرین میں سے ہوگااوراگروہ ان کےظہورسےقبل اس دنیا سے چلاجائے تواللہ تعالیٰ اسے امام کےظہورپردوبارہ اٹھائےگاتاکہ امام کی رکب میں دشمنوں سے لڑسکےاوراس دعاکےہرہرلفظ کےبدلےایک ہزار نیکیوں کا ثواب ملے گا اوراسکےایک
ہزارگناہ معاف ہونگے*
*📚بحار الانوار جلد 83صفحہ 284*
بحیثیت منتظر یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ اپنے وقت کے امام کی معرفت حاصل کریں معرفت سے مراد یہ نہیں ہے کہ امام کے بارے میں ضروری معلومات حاصل کر لیں کہ اپ کون ہیں اپ تو والد کا نام کیا ہے یہ کافی نہیں ہے بلکہ معرفت سے مراد یہ ہے کہ ہم امام کے فرامین پڑھیں ان پر عمل کرنے کی کوشش کریں ان کے ظہور کے لیے زمینہ سازی کرنے کی کوشش کریں
پس اگر ہم منتظر ہیں تو ہم پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اپنے وقت کے امام کی معرفت حاصل کریں اور ہر اس کام کو انجام دینے کی کوشش کریں جو ظہور میں تعجیل کا باعث بنے
شہر بانو :✍️
*اپنی صبح کا آغاز دعائے عہد یعنی امام وقت کے ساتھ بیعت کرتے ہوئے کریں*
💚 *دعائے عہد پڑھنے والے اھل انتظار ہیں*
💛 *دعائے عہد مولا عج کی روزانہ بیعت اور اقتداء کا میسیج ہے*
🧡 *دعائے عہد امام کے ظہور کا پیش خیمہ ہے*
💙 *دعائے عہد پڑھنے والا امام زمان عج کی دعا میں قرار پاتا ہے*
🤍 *دعائے عہد پڑھنے والے قبروں سے اٹھیں گے اور ناصرین کی صفوں میں داخل ہونگے*
🚩 اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم۔
شہر بانو✍
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں