(Ist pdf) محور کائنات

محور کائنات کورس ون کا پہلا کتابچہ ہے 



انتہائی اہم پیغام 📣

بہت سے سٹوڈنٹس پوچھ رہے ہیں کیا کلاس زوم پر ہو گا لائیو ہو گی۔۔۔ 

ہدایات 📝

📍مھدویت کی کلاس اس مھدوی کمیونٹی میں ہو گی۔ 
📍 درس آڈیو لیکچر پر مبنی ہو گا
📍 آپ کو کتابچہ PDF کی صورت میں مہیا کیا جائے گا
📍درس سن کر آپ نے اس درس کا خلاصہ لکھنا ہوگا رجسٹر پر یا اپنی اواز میں ریکارڈ بھی کر سکتے ہیں۔ 
📍خلاصہ بھیجنے کا وقت چوبیس گھنٹے کا ہے درس آنے کے بعد چوبیس گھنٹے میں کسی بھی وقت آپ خلاصہ بھیج سکتے ہیں۔ 

📍 خلاصہ گفتگو گروپ میں بھیجنا ہوگا جب گروپ اوپن ہو گا آپ کے خلاصے کے لیے ۔ 

🔰 انتہائی اہم 🔰

📍 خلاصہ بھیجنے کے پابند فقط وہی سٹوڈنٹس ہوں گے جو کورس مکمل ہونے کے بعد امتحان میں شرکت کرنا چاہتے ہوں اور مرکز کی جانب سے سرٹیفکیٹ لینا چاہتے ہوں۔ 

📍امتحان اور سرٹیفکیٹ کی فیس اور رجسٹریشن کے بارے میں آپ کو بعد میں آگاہ کیا جائے گا۔ 

📍 امتحان کب ہو گا یہ امتحان سے پانچ دن پہلے بتایا جائے گا۔

📍 باقی جو سٹوڈنٹس فقط علمی استفادہ اور معرفت کے حصول کے لیے درس لینا چاہتے ہیں وہ خلاصہ بھیجنے کے پابند نہیں ہیں۔۔۔۔

=======================================


دنیا و آخرت میں آپ کی کامیابی کے خواہاں 🤲

شہر بانو✍
🪩 عالمی مرکز مھدویت قم 🪩



*معرفت امام زمانہ عج کورس کا پہلا درس*
*امام مہدی عج کہاں ہیں*
*دعائے عہد کی تلاوت*

_استادِ مہدویت آغا علی اصغر سیفی صاحب_



 پہلا درس کا خلاصہ 

کچھ سوالات کے جواب دے تھے
مولا کی معرفت کیا ہےاور یہ معرفت کیسے حاصل ہوگی؟
امام اس وقت کہاں ہے؟آیا ہم امام تک پہنچ سکتے ہیں ؟
امام کہا ن ہے 
امام زمین پر ہیں
اصول کافی میں امام جعفر صادق سے پوچھا گیا کہ آیا زمین حجت خدا سے خالی رہ سکتا ہے؟
تو فرمایا کہ
” اگر زمین حجت خدا سے خالی ہو تو وہ اپنی اوپر رہنے والوں نگل لے گا“
تو زمین کبھی حجت خدا سے خالی نھیں ہوتا 
جب خدا نے حضرت آدم کو خلق کیا تو اس خدا نے یہ ارادہ فرمایا تھا کہ زمیں کو حجت خدا سے خالی نھیں چھوڑے گے
پس
زمین پر ہمیشہ حجت خدا ہےچاہے وہ پیغمبر کی شکل میں ہو یا پیغمبر کی وصی کی شکل میں ہو 
تمام مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت محمد صلے ہمارے اخری نبی ہے
انکے بعد کوٸی نبی نھیں آۓ گا
احادیث کی رو سے ہمارے نبی کے بارہ وصی ہے 
ہر دور میں ایک وصی ہے جو عترت نبی ہے آپ صلے کی آال میں سے ہیں
حدیث  ثقلین میں آپ نے دو چیز چھوڑ گے
ایک اہل بیت 
دوسرا قرآن شریف 
یہ دونوں کبھی جدا نھیں ہوگا۔
اب
یہ جو زمانہ وہ امام مہدی کا ہے ہمارے مولا 255ھ کو دنیا میں تشریف لا چکے تھےاور 260ھسے مولا کی غیبت شروغ ہوگی ہے پلہے 70 غیبت صغری  رہی ہے اس کے بعد غیبت کبرا شروع ہوگی ہے
 ہمیں یقین رکھنا چاہیے کہ مولا زمین پر ہی موجو د ہے
امام علی کا فرمان ہے کہ
 غیبت نعمان کتاب سے یہ حدیث لی ہے
”اللہ کی قسم حجت خدا لوگوں کے درمیان میں ہوتی ہے زمین کے مشرق سے مغرب تک آمدرفت رکھتی ہے وہ لوگوں کو دیکھتی ہے پر لوگ اس سے اس وقت تک نھیں دیکھ سکتے جب تک خدا کا وعدہ پورا نھیں ہوتا “
جہاں جہاں شیعہ موجود ہے وہاں وہاں امام نگرانی کرتے ہیں
امام جعفر صادق علیہ سلام فرماتے ہے 
ہر صبح اپنی امام کی بیعت کرے اور دعا عہد کی تلاوت کرے 
التماس دعا شھادت 🤲
✍🏻شہر بانو 





پہلا درس کا خلاصہ 

 
کچھ سوالات کے جواب دے تھے
مولا کی معرفت کیا ہےاور یہ معرفت کیسے حاصل ہوگی؟
امام اس وقت کہاں ہے؟آیا ہم امام تک پہنچ سکتے ہیں ؟
امام کہا ن ہے 
امام زمین پر ہیں
اصول کافی میں امام جعفر صادق سے پوچھا گیا کہ آیا زمین حجت خدا سے خالی رہ سکتا ہے؟
تو فرمایا کہ
” اگر زمین حجت خدا سے خالی ہو تو وہ اپنی اوپر رہنے والوں نگل لے گا“
تو زمین کبھی حجت خدا سے خالی نھیں ہوتا 
جب خدا نے حضرت آدم کو خلق کیا تو اس خدا نے یہ ارادہ فرمایا تھا کہ زمیں کو حجت خدا سے خالی نھیں چھوڑے گے
پس
زمین پر ہمیشہ حجت خدا ہےچاہے وہ پیغمبر کی شکل میں ہو یا پیغمبر کی وصی کی شکل میں ہو 
تمام مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت محمد صلے ہمارے اخری نبی ہے
انکے بعد کوٸی نبی نھیں آۓ گا
احادیث کی رو سے ہمارے نبی کے بارہ وصی ہے 
ہر دور میں ایک وصی ہے جو عترت نبی ہے آپ صلے کی آال میں سے ہیں
حدیث  ثقلین میں آپ نے دو چیز چھوڑ گے
ایک اہل بیت 
دوسرا قرآن شریف 
یہ دونوں کبھی جدا نھیں ہوگا۔
اب
یہ جو زمانہ وہ امام مہدی کا ہے ہمارے مولا 255ھ کو دنیا میں تشریف لا چکے تھےاور 260ھسے مولا کی غیبت شروغ ہوگی ہے پلہے 70 غیبت صغری  رہی ہے اس کے بعد غیبت کبرا شروع ہوگی ہے
 ہمیں یقین رکھنا چاہیے کہ مولا زمین پر ہی موجو د ہے
امام علی کا فرمان ہے کہ
 غیبت نعمان کتاب سے یہ حدیث لی ہے
”اللہ کی قسم حجت خدا لوگوں کے درمیان میں ہوتی ہے زمین کے مشرق سے مغرب تک آمدرفت رکھتی ہے وہ لوگوں کو دیکھتی ہے پر لوگ اس سے اس وقت تک نھیں دیکھ سکتے جب تک خدا کا وعدہ پورا نھیں ہوتا “
جہاں جہاں شیعہ موجود ہے وہاں وہاں امام نگرانی کرتے ہیں
امام جعفر صادق علیہ سلام فرماتے ہے 
ہر صبح اپنی امام کی بیعت کرے اور دعا عہد کی تلاوت کرے 
التماس دعا شھادت 🤲
✍🏻شہر بانو 


السلام علیکم
 پہلا درس *معرفت امام زمانہ* خلاصہ
*جس نے اپنے امامؑ کی معرفت حاصل نہ کی گویا وہ جہالیت کی موت مرا*

 امام زمانہ عج زمین پر ہیں اصول کافی کی روایت ہے امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں زمین اگر حجت خدا سے خالی ہو تو اپنے اوپر رہنے والے لوگوں کو نگل جائے یعنی زمین کبھی بھی حجت خدا سے خالی نہیں رہ سکتی جب پروردگار عالم نے حضرت ادمؑ کو زمین پر اپنا خلیفہ بنا کر بھیجا تو پروردگار عالم نے ارادہ فرما لیا تھا کہ تا قیامت زمین کو کبھی بھی حجت خدا سے خالی نہیں رکھے گا چاہے وہ انبیاء ہوں چاہے وہ اوصیا ہوں ہم مسلمانوں کا عقیدہ ہے حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم اللہ کے اخری نبی پیغمبر رسول ہیں ان کے بعد تا قیامت کوئی نبی رسول پیغمبر نہیں ائے گا لیکن شیعہ سنی متفقہ کتابوں میں موجود ہے کہ ہمارے نبی کے 12 خلیفہ قیامت تک ہیں اور رسول اللہ کی حدیث ہے کہ *میں تم لوگوں کے درمیان دو گراں قدر چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں ایک قران اور دوسرے میرے اہل بیتؑ اور یہ ایک دوسرے سے تا قیامت جدا نہیں ہوں گے* تو قران اج موجود ہے تو اہل بیتؑ میں سے بھی کوئی ہم پلہ قران موجود ہوگا
امام زمانہ عج کی ولادت 255 ہجری میں ہوئی اور ان کی غیبت صغری 260 ہجری میں شروع ہوئی جو کہ 70 سال رہی اس کے بعد غیبت کبری ہے اور وہ دور یہی ہے جس میں ہم جی رہے ہیں غیبت کبری کا اختتام پروردگار عالم کے  اذن سے ختم ہوگا.
*امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام فرماتے ہیں اللہ تعالی کی قسم حجت خدا لوگوں کے درمیان میں ہوتی ہے یعنی حجت وہیں ہوگی جہاں لوگ ہوں گے اس لیے امام زمان سب لوگوں کو دیکھتے سنتے بھی ہیں لیکن ابھی ہم امام کو نہیں دیکھ سکتے* اس غیبت میں ہم پر فرض ہے کہ ہم اپنے امامؑ کو سب سے پہلے رکھیں انہیں یاد کریں ان کی بیعت کریں اور بیعت کرنے کے لیے دعائے عہد ہر صبح تلاوت کریں
مولاؑ ہم سب کے حامی و ناصر ہو ہو اور ہمیں وقت کے امامؑ کی معرفت نصیب فرمائیں🤲🏻
✍🏻شہر بانو 

خلاصہ درس اول مھدویت

معرفت امام زمان عجل اللہ فرجہ

امام زمان عجل اللہ زمین پر موجود ہیں،امام صادق علیہ السلام نے سوال کے جواب میں فرمایا کہ زمین اگر حجت خدا سے خالی ہو تو وہ اپنے رہنے والوں کو نگل لیتی ہے۔ 
یعنی زمین پر رہنے والے سب ہلاک ہوجائیں گے۔

حضرت آدم علیہ السلام کی خلقت سے تاقیامت تک خدا نے ارادہ کر لیا تھا کہ زمین کو حجت سے خالی نہیں چھوڑے گا چاہے وہ نبی کی شکل میں ہو یا انکے وصی کی شکل میں۔

آخری نبی محمد مصطفیٰ ص اور انکے بعد انہے 12 وصی ہیں۔

حدیث ثقلین؛ قرآن اور میری عترت
آخری فرد رسول خدا ص کی اولاد میں سے اس وقت موجود ہیں۔

امام 255 ہجری کو پیدا ہوئے اور 260 سے غیبت شروع ہوئی ہے۔

پہلے 70 سال غیبت صغریٰ تھی اور پھر غیبت کبریٰ جو ابھی تک جاری ہے۔
ہم سب کا یقین ہونا چاہیے کہ مولا زمین پر موجود ہیں اور ہمارے درمیان ہیں۔۔
کسی خاص خطے میں موجود نہیں ہیں۔ جزیرہ خضراء و برمودا افسانے ہیں۔
امام علی علیہ السلام کی روایت کتاب غیبت نعمانی میں نقل ہوئی ہے کہ؛
 اللہ تعالیٰ کی قسم حجت خدا لوگوں کے درمیان ہوتی ہے،انکے راستوں میں چلتی پھرتی ہے،انکے گھروں میں آتی جاتی ہے، لوگوں کی باتوں کو سنتی ہے،ان پر سلام بھیجتی ہے۔

وہ لوگوں کو دیکھتی ہے لیکن لوگ انہیں دیکھ نہیں سکتے جب تک خدا کا اذن نہیں ہوجاتا۔
ہمارا وظیفہ اپنے امام کو یاد رکھنا اور انکی بیعت کرنا ہے۔
دعای عھد امام زمانہ سے بیعت کے لئے امام صادق علیہ السلام سے بیان ہوئی ہے،اسلئے ہر شیعہ کو اس دعا کو ہر روز صبح پڑھنا چاہیے اور امام سے بیعت کرنی چاہیے۔ یہی ہمارا پہلا وظیفہ ہے۔

شہر بانو✍


السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

مجھے جتنی سمجھ آئی ہےآپکی خدمت میں پیش کرتی ہوں
سب سے پہلے ہمیں یقین کامل ہونا چاہے کہ ہمارے وقت کہ امام آخری حجت اس وقت پردہ غیبت میں موجود ہیں ہمیں دیکھتے ہیں مشکلات میں ہماری نصرت فرماتے ہیں اور ہمارے درمیان آمد و رفت رکھتے ہیں اور روایت میں ملتا ہےکہ حج کے موسم میں لوگوں کے ساتھ حج ادا فرماتے ہیں آپکی ولادت باسعادت 255ھ 17 ربیع الاول ہے  اور 260ھجری میں غیبت صغری شروع ہوئی کہ جس میں آپ کے چار خالص ترین نائبین تھے جو کہ لوگو کی مسائل وحاجات آپ تک پہچاتے تھے پھر 70 کے بعد آپکی غیبت کبری شروع ہوئی کہ جس سے پہلے  آپ علیہ السلام نے اپنے آخری نائب کو خط لکھا کہ  چھ دن بعد تمہاری وفات ہوگی اور اس کے بعد ہمارا کوئی نائب نہیں لہذا جو دعوا کرے اس جھٹلایا جائے اور یہ کہ ہمارے بعد قرآن حدیث کہ محقین  کی پیروی کی جائے
اور رسول خدا ؐکی حدیث بھی کہ میرے بعد میرے بارہ خلفاء ہوں گے اور ہر زمانے میں موجود ہوں گے اور ان میں سے بارہوے اور آخری  اس زمانے کے امام ہیں امام مہدی علیہ السلام  لہذا ہمیں روزانہ دعا عہد پڑھ کہ ان کی بعیت کر نی چاہیے اور زمینہ سازی کرنی چاہے

کچھ غلط لکھا ہو تو اصلاح فرمایئے گا🙏🏻
بہت شکریہ سلامت رہیں
شہر بانو✍






اسلام وعلیکم ۔۔🌷
تمام درودو سلام محمد وآل محمد پر 🌷
زمین کبھی حجت خدا سے خالی نہیں رہ سکتی۔۔۔اگر ایسا ہوتا تو یہ کاینات بھی قائم نہ رہتی۔۔۔۔بارہ اماموں کا تزکرہ شیعہ سنی کتب احادیث میں موجود ہے۔۔۔۔امام زمانہ ع۔س دو سو پچپن ہجری میں پیدا ہوئے دو سو ساٹھ ہجری میں غیبت صغری ہوئی یہ غیبت ستر سال رہی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پھر غیبت کبری شروع ہوئی جو امام ع۔س کے ظہور تک رہے گی
امام ہمارے درمیان موجود ہیں لیکن ہماری گناہ گار آنکھوں کو وہ بصیرت حا صل نہیں😢 وہ ہمیں دیکھتے ہیں ہماری باتیں جو ہم ان سے کرتے ہیں سنتے ہیں اور جواب بھی دیتے ہیں ۔۔۔۔جب ہم پکارتے ہیں 😢 آنسوں کے ساتھ اپنی حاجت بیان کرتے ہیں ایک دم سے ہمارے بے قرار دل کو سکون ملتا ہے لگتا ہے ہمارے آنسو کسی نے پوچھ دیے وہ میرے آقا میرے مولا ہی کا حکم ہوتا ہے ہمیں اطمینان حاصل ہو جا تا ہے بس ہم اپنی روح کو پا کیزہ کریں۔۔۔۔۔ 
امام ع۔س کو ایک مخصوص وقت سے پہلےنہیں دیکھ سکتے ہمیں چاھیے نماز فجر پڑھ کے روزانہ بیعت کی تجدیددعاے عہد کے ساتھ کریں 🌷

شہر بانو✍







*بسم الله الرحمن الرحیم* 

سلام علیکم و رحمةالله و برکاته 

زمین کبھی حُجت خُدا سے خالی نہیں رہ سکتی ۔ خاتم النبیین صلی‌الله‌علیه‌و‌آله‌وسلّم کے بعد اُن کے بارہ خلفاء کا تذکرہ سُنی شیعہ کُتب احادیث میں موجود ہے۔ اصول کافی میں روایت موجود ہے کہ اما صادق علیہ السلام سے پوچھا گیا کہ کیا زمین حجت خدا سے خالی ہو سکتی ہے؟ امام پاسخ فرمود: *"زمین اگر حجت خدا سے خالی ہو تو وہ اپنے اوپر رہنے والوں کو نگل لے۔"*
امام زمان  علیہ السلام کی ولادت ۲۵۵ہجری میں ہوئ اور ۲۶۰ہجری میں غیبت صغرى شروع ہوئی۔70سال غیبت صغری میں اور اس کے بعد اللہ کے حکم سے غیبت کبرئ شروع ہوگئی .امام علی علیہ السلام کے فرمان  کے مطابق امام زمان عج ہمارے درمیان موجود ہے لیکن ہمارے نظروں سے پوشدہ ہے اور روایت میں ملتا ہےکہ حج کے موسم میں آپ لوگوں سے ملاقات کرتےہیں۔ غیبت صغری میں آپ کے چار خالص  نائبین تھے جو کہ لوگوں کی مسائل و حاجات آپ تک پہنچاتے تھے پھر 70 سال کے بعد آپکی غیبت کبری شروع ہوئی کہ جس سے پہلے  آپ علیہ السلام نے اپنے آخری نائب علی سمری کو خط لکھا کہ  چھ دن بعد تمہاری وفات ہوگی اور اس کے بعد ہمارا کوئی نائب نہیں لہذا جو دعوا کرے اس جھٹلایا جائے۔  
لہذا ہمیں روزانہ دعا عہد پڑھ کہ ان کی بیعت کر نی چاہیے اور تعجیل ظہور کیلئے زمینہ سازی کرنی چاہیے۔

*عملی وظیفہ*

تلاوت دعائے عہد 
Ok
شہر بانو✍




*مہدویت*
*درس: 1*
▪️معرفت امام زمانہ عج
اصولِ کافی میں امام صادق علیہ السّلام سے پوچھا گیا کہ کیا زمین حجت خدا سے خالی رہ سکتی ہے؟ 
امام ع نے فرمایا: زمین اگر حجت خدا سے خالی ہو تو وہ اپنے اوپر رہنے والوں کو نگل لے۔ 
جب پروردگار نے حضرت آدم ع کو زمین پر بھیجا اسکے بعد پروردگار نے یہ ارادہ فرما لیا تھا کہ تاقیامت زمین کو کبھی بھی حجت خدا سے خالی نہیں 
چھوڑیں گے پھر چاھے وہ پیغمبر کی شکل میں ہو یا انکے وصی کی شکل میں۔ 
نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نے اپنے بعد دو چیزیں  چھوڑیں پہلی قرآن اور دوسری عترتِ اہلبیت ع اور جسنے ان میں سے ایک کو  پالیا وہ دوسری سے بے نیاز نہیں ہوسکتا۔
جس زمانے میں ہم رہ رہے ہیں یہ زمانہ حضرت امام مہدی علیہ السّلام کا زمانہ ہے۔امام عج کی ولادت 255 ہجری میں ہوئی اور 260 ہجری سے مولا عج کی غیبت شروع ہوئی پہلے 70 سال غیبت صغریٰ رہی اور اسکے بعد غیبت کبریٰ ہے۔
غیبت کبریٰ پروردگار کے اذن سے ختم ہوگئی اور مولا عج ظہور فرمائیں گے۔
امام علی علیہ السلام : پروردگار کی قسم حجت خدا لوگوں کے درمیان میں ہوتی ہے انکے راستوں ،گھروں میں آتی جاتی ہے اور زمین پر مشرق سے مغرب کی طرف حمد و رفت کرتی ہے حجت خدا لوگوں کو دیکھتی ہے لیکن انھیں ایک معیں وقت تک دیکھا نہیں جاسکتا۔

شہر بانو✍




بِسْمِ اللّٰهِِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْم 
السلام علیکم 
خلاصہ 
آغا صاحب نے جو بھی بتایا برحق ہے 
ان کی پوری بات کا خلاصہ یہ ہے 
کہ زمیں کو الله نے بنانے کے بعد خالی نہیں چھوڑا ہر دور میں زمیں پر حجت موجود رہی ہے 
کبھی انبیاء کی صورت میں کبھی اماموں کی صورت میں 
ہمیں بھی اللہ کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ ہمارے سروں پر بھی ہمارے امام امام زمانہ موجود ہیں الحمدللہ 
پر کیا بات یہاں ختم ہو جاتی ہے کہ موجود ہیں ؟ 
نہیں آغا صاحب نے کیا خوب بات کی کے روز صبح مولا کی بیعت کرنا اس پورے بیان کا خلاصہ یہ ہے امام ہیں بس ہم نے زندگی ایسا بنانا ہے کے ہمارے دن کا آغاز اور اختتام اسی بات پر ہو کہ کوئی ہے جو ہمیں دیکھ رہا ہے ہمارا ہر پل امام سے توسل کرنا ان سے عہد کرنا کہ ہم منتظر ہیں مولا ہمیں یقین ہے جس چیز کا وعدہ میرے اللہ کا ہے 
قرآن میں 72 آیات حجت پر دلالت کرتی ہیں
معصومین علیہ السلام کا واضح فرمان ہے کہ یہ ایات امام زمانہ علیہ السلام کے حجت پر دلالت کرتی ہیں 
سورہ قصص مصن آیت 
ترجمہ 
کہ ہمارا ارادہ یہ ہے کہ جنہیں زمین پر ضعیف بنا دیا گیا ان پر احسان کریں ہم  انہی کو امام بنائیں گے اور زمین کا وارث انہی بنائیں گے 
 زمین  اس وقت حجت سے خالی نہیں ہے حجت ہمارے درمیان موجود ہے ہر وقت ہر پل ہر لمحہ

شہر بانو✍






 *قدم بہ قدم یوسف زہرا عج کی جانب سفر*

*بسم الله الرحمن الرحیم* 
سلام 
*حدیث*
*جیسے نے اپنے زمانے کے امام کی معرفت حاصل نہ کئی تو گویا وہ جہالت کی موت مارا*
* اصول کافی*جو ہماری چار کتابوں میں سے ایک ہے اس میں روایت موجود ہے کہ امام صادق علیہ السلام سے پوچھا گیا کہ کیا زمین حجت خدا سے خالی ہو سکتی ہے؟ تو امام نے فرمایا: *"زمین اگر حجت خدا سے خالی ہو تو وہ اپنے اوپر رہنے والوں کو نگل لے۔"*
حضرت آدم ع کی خلقت کے بعد اللہ تعالٰی نے یہ ارادہ کیا کہ تا قیامت زمین کبھی بھی حجت خدا سے خالی نہ ہوگی
ہمارا یہ عقائد ہے کہ حضرت محمد ص اللہ کے آخری نبی ہیں اور ان کے بارہ خلفاء ہیں 
حدیث ثقلین میں  کہ میں تمہارے درمیان دو  چیزیں  چھوڑ کر جارہا  ایک *قرآن*اور دوسری *میری اھلبیت* یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہیں 
 اس اھلبیت کی ایک کڑی امام زمان عج ہے
امام زمان  عج کی ولادت ۲۵۵ہجری میں ہوئی  اور امام عج کی غیبت کے دو حصے ہیں ایک صغریٰ ۲۶۰ہجری میں غیبت صغرى شروع ہوئی۔70سال  کا عرصہ  ہےغیبت صغری کا  اور اس کے بعد اللہ کے حکم سے غیبت کبرئ شروع ہوگئی .  کتاب نعمانیہ میں امام علی علیہ السلام کے فرمان  کے مطابق امام زمان عج ہمارے درمیان موجود ہے لیکن ہمارے نظروں سے پوشیدہ ہے اور روایت میں ملتا ہےکہ حج کے موسم میں آپ لوگوں سے ملاقات کرتےہیں۔ غیبت صغری میں آپ کے چار خالص  نائبین تھے جو کہ لوگوں کی مسائل و حاجات آپ تک پہنچاتے تھے   آپ عج نے اپنے آخری نائب علی سمری کو خط لکھا کہ  چھ دن بعد تمہاری وفات ہوگی اور اس کے بعد ہمارا کوئی نائب نہیں ہے اور اس دن سے غیبت کبریٰ شروع ہوگئی
لہذا ہمیں روزانہ دعا عہد پڑھ کے اپنے وقت کے امام کے ساتھ تجدید عہد کرنا چاہیے اور  صبح کا پہلا سلام  اپنے وقت کے امام کو دے تعجیل ظہور کیلئے زمینہ سازی کرنے میں اپنا کردار نبھائے 
*پہلا وظیفہ*
 دعائے عہد بمعہ ترجمہ 
شہر بانو✍


بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
سلام و احترام
آج کے درس کا موضوع
امام کہاں ھیں
تلاوت دعائے عہد 

امام زمانہ علیہ السّلام زمیں پر ھیں۔ لوگوں کے درمیاں ھیں ۔اپ امام حسن عسکری علیہ السلام کے بیٹے ھیں۔اپ 255 ھجری میں دنیا میں تشریف لائے ۔اور 260ہجری سے غیبت صغریٰ شروع  ہوئی جو کہ 70سال تک رہی اور اس کے بعد غیبت کبریٰ۔اللہ کے اذن سے ختم ہو گی ۔
امام جعفر صادق علیہ السّلام سے پوچھا گیا کیا زمین حجت خدا سے خالی رہتی ہے ؟اپ نے فرمایا اگر زمین حجت خدا سے خالی ہو تو یہ اپنے اوپر رہنے والی ہر چیز کو نگل جائے ۔جناب آدم علیہ السّلام سے اللّٰہ رب العزت نے رونمائی و ھدایت کے لے انبیاء اور اولیاء کا سلسلہ رکھا ہر درو میں حجت خدا رہی ۔ اہلسنت و اہل تشیع دونوں مذاہبِ کی کتب میں محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے بارہ جانشینوں کی سند ملتی ھے۔اور ہم آخری خلیفہ کے دور میں ھیں۔
امام زمانہ کی معرفت لازم ھے۔تاکہ ہم سچے منتظر بنیں اور امام علیہ السّلام کے مددگاروں جانثاروں میں ھوں۔
معرفت اور امام سے متصل رہنے کے لیے ضروری کہ صبح امام کے حضور سلام پیش کریں اور بعیت کریں بزریعہ دعائے عہد ۔
دعائے عہد روزانہ نماز فجر کے بعد پڑھیں چائیے۔

شہر بانو✍



*معرفت امام زمان عج کا دوسرا درس*
*حدیث من مات*
*دعائے عہد کی تشریح*
*اور عقیدہ امامت کی تکمیل*

*_استاد مہدویت آغا علی اصغر سیفی صاحب💐_*

▪️ معروف عمومی حدیث من مات۔۔۔ یعنی جس میں امام مہدی علیہ السلام کا ذکر مبارک باقی آئمہ معصومین علیھم السلام کے ساتھ ہے:

جو اپنے زمانے کے امام کی معرفت کے بغیر مر گیا ، اس کی موت گویا جاہلیت کی موت ہے۔

▪️ اہلسنت کی صحاح ستہ میں یہ حدیث سات صحابہ کے ریفرنس سے بیان ہوئی ہے زید بن ارقم، عبداللہ بن عباس، عبداللہ بن عمر و غیر۔۔۔ اہلسنت نے اپنی ستر دیگر کتب میں اس حدیث کو نقل کیا ہے۔


▪️ مکتب اہلبیت علیہ السّلام میں علامہ مجلسی نے اس حدیث کو چالیس شیعہ اسناد کے ساتھ بیان کیا ہے۔


▪️ اہلسنت میں ابن حدید نے اس حدیث کے متواتر ہونے کا دعوا کیا ہے۔ تشیع میں شیخ مفید رہ، شیخ بہائی رہ، علامہ مجلسی رہ 


▪️اس حدیث کے مضامین میں معنی ایک ہی بنتا ہے لیکن تعبیرات میں فرق ہے۔ مثلاً جاہلیت کی موت کی بجائے یہودی نصرانی ہو کر مرنے کی طرف اشارہ ہے بہرحال سب کا مفہوم عاقبت خراب ہونا ہے۔


▪️ پس امام زمانہ ایسا وجود مبارک جن کی معرفت واجب، اس کے بغیر عاقبت خراب ، جہالت میں زندگی و موت کا واقع ہونا ہے۔

پس یہ وجود مبارک منصوص من اللہ اور الہی شرائط کے حامل امام و رہبر ہیں۔


▪️ اہم نکات

*بلند علمی مقام کی حامل شخصیت کہ آپ کی معرفت کی بغیر ہم جاہل رہ جائیں گے۔


* پاک و پاکیزہ امام کہ آپ ع کی مطلق اطاعت کا حکم ہے۔ کبھی اپنے علم و عمل میں اشتباہ نہیں کرتے۔ جنت کی طرف لے جانے والی ہدایت اور جہنم سے بچانے والے امام 

* ایسی شخصیت کا انتخاب انسان نہیں کر سکتے۔ پس آپ ع من اللہ امامت و ولایت کے حامل ہیں۔

ورنہ اپنے بنائے ہوئے امام کی پیروی منطقی بات نہیں لگتی۔


▪️ نتیجہ 

پس جو لوگ امامت کے دعوے کرتے ہیں ان کی زندگیوں پر غور کریں تو واضح ہو جاتا ہے کہ وہ خطا سے محفوظ نہیں ہیں۔

جاہلیت سے مراد سادہ جاہلیت نہیں بلکہ شرک کا راستہ ہے۔

صرف تشیع کے پاس بارہ امام واضح ہیں جو رسول اللہ ص نے اعلان کئے۔ جب کہ باقی مکاتب کے پاس آج تک بارہ کی تعداد نہ مکمل ہے اور نہ متفق ہیں۔ 

*دعائے عہد کی تشریح*

امام جعفر صادقؑ سے نقل ہوا ہے کہ جو شخص چالیس روز تک ہر صبح اس دعائے عہد کو پڑھے تو وہ امام ﴿عج﴾ کے مددگاروں میں سے ہو گا۔ اور اگر وہ امامؑ کے ظہور سے پہلے فوت ہو جائے تو خداوند کریم اسے قبر سے اٹھائے گا تاکہ وہ امام کے ہمراہ ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ اس دعا کے ہر لفظ کے عوض اسے ایک ہزار نیکیاں عطا کرے گا اور اس کے ایک ہزار گناہ محو کر دے گا۔ وہ دعائے عہد یہ ہے:




👆

: *درس اول*

ہمارے ذہنوں میں اکثر یہ سوال اتا ہے کہ امام زمانہ اس وقت کہاں ہیں 
*اصول کافی میں ہے کہ امام صادق علیہ السلام سے پوچھا گیا کہ ایا زمین حجت خدا سے خالی رہ سکتی ہے۔*

*امام علیہ السلام نے فرمایا کہ اگر زمین حجت خدا سے خالی ہو جائے تو اپنے اوپر رہنے والوں کو نگل لے*
زمین کبھی بھی حجت خدا سے خالی نہیں رہ سکتی
جب اللہ تعالی نے حضرت ادم علیہ السلام کو خلق فرمایا تو یہ ارادہ کیا کہ اب زمین کبھی بھی حجت خدا سے خالی نہیں چھوڑے گا اس طرح سے انبیاء کا سلسلہ چلا ایا ہے اور اخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہے ان کے بعد ان کے 12 جانشین ہیں حدیث ثقلین میں ہے کہ پیغمبر نے فرمایا کہ میں اپنے بعد دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں ایک قران اور دوسرا میرے اہل بیت اور یہ کبھی بھی ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گےاج کے اس زمانے میں جب قران مجید موجود ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی نہ کوئی جانشین بھی موجود ہے جو کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام ہیں
امام علیہ السلام کی ولادت 255 ہجری میں ہوئی 260 میں غیبت صغریٰ کا اغاز ہوا جو کہ تقریبا 70 سال تک رہا ہے اور پھر اس کے بعد غیبت کبری کا اغاز ہوا اس کا اختتام اللہ تعالی کے اذن  سے ہوگا
غیبت نعمانی میں حضرت علی علیہ السلام کا فرمان ہے حجت خدا ہمارے درمیان موجود ہے یعنی حجت خدا وہاں ہوتی ہے جہاں لوگ موجود ہوتے ہیں ان کے گھروں میں اتی جاتی ہے زمین میں مشرق سے مغرب تک امد و رفت کرتی ہے
لوگوں کی باتوں کو حجت خدا سنتی ہے ان پر سلام بھی بھیجتی ہے وہ لوگوں کو دیکھتی ہے لیکن انہیں ایک معین وقت تک نہیں دیکھا جا سکتا ہے جب تک کہ خدا کا وعدہ پورا نہیں ہوگا
ہمارا سب سے پہلا وظیفہ یہ ہے کہ ہم اپنے وقت کے امام کی بیعت کریں امام صادق علیہ السلام کا فرمان ہے کہ ہر شیعہ مومن جو کہ امام غیب کا منتظر ہے اسے چاہیے کہ ہر روز صبح اپنے امام سے بیعت کرے اور دعائے عہد کی تلاوت کریں
شہر بانو :✍️

 *دوسرادرس*

*معرفت امام زمانہ علیہ السلام*

رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا فرمان ہے

*مَن مَاتَ وَلَم یَعرِفٗ اِمامِ زمانہٖ مَاتَ مِیتۃً جَاہِلیَّۃ*

*جو شخص اپنے زمانے کے امام کی معرفت کے بغیر مر گیا وہ جاہلیت کی موت مرا*

*امام صادق علیہ السلام کا فرمان ہے*

*اگرکوئی مومن چالیس دن صبح کےوقت دعائےعہدکی تلاوت کرےتووہ امام قائم کے ناصرین میں سے ہوگااوراگروہ ان کےظہورسےقبل اس دنیا سے چلاجائے تواللہ تعالیٰ اسے امام کےظہورپردوبارہ اٹھائےگاتاکہ امام کی رکب میں دشمنوں سے لڑسکےاوراس دعاکےہرہرلفظ کےبدلےایک ہزار نیکیوں کا ثواب ملے گا اوراسکےایک 
ہزارگناہ معاف ہونگے*

*📚بحار الانوار جلد 83صفحہ 284*

بحیثیت منتظر یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ اپنے وقت کے امام کی معرفت حاصل کریں معرفت سے مراد یہ نہیں ہے کہ امام کے بارے میں ضروری معلومات حاصل کر لیں کہ اپ کون ہیں اپ تو والد کا نام کیا ہے یہ کافی نہیں ہے بلکہ معرفت سے مراد یہ ہے کہ ہم امام کے فرامین پڑھیں ان پر عمل کرنے کی کوشش کریں ان کے ظہور کے لیے زمینہ سازی کرنے کی کوشش کریں
پس اگر ہم منتظر ہیں تو  ہم پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اپنے وقت کے امام کی معرفت حاصل کریں اور ہر اس کام کو انجام دینے کی کوشش کریں جو ظہور میں تعجیل کا باعث بنے

شہر بانو :✍️


*اپنی صبح کا آغاز دعائے عہد یعنی امام وقت کے ساتھ بیعت کرتے ہوئے کریں*
💚 *دعائے عہد پڑھنے والے اھل انتظار ہیں*
💛 *دعائے عہد مولا عج کی روزانہ بیعت اور اقتداء کا میسیج ہے*
🧡 *دعائے عہد امام کے ظہور کا پیش خیمہ ہے*
💙 *دعائے عہد پڑھنے والا امام زمان عج کی دعا میں قرار پاتا ہے*
🤍 *دعائے عہد پڑھنے والے قبروں سے اٹھیں گے اور ناصرین کی صفوں میں داخل ہونگے*
🚩 اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم۔
شہر بانو✍





چوتھا درس 
معرفت امام زمانہ عج کی ضرورت
معاشرتی رو سے
سیاسی رو سے 

استادِ مہدویت آغا علی اصغر سیفی صاحب🚩
👆


معرفت امام زمانہ عج کی ضرورت معاشرتی رو سے

جب سے انسان نے زمین پر قدم رکھا ہے اس وقت سے ایک سعادت مندمعاشرتی زندگی کی آرزو کر رہا ہے۔ اگر اس خواہش کے برآوردہ ہونے کا امکا ن نہ ہوتاتو ہرگز ایسی خواہش ، آرزو اور امید انسان کی فطرت میں قرار نہ دی جاتی جیسے کہ اگر پانی اور غذا نہ ہوتی تو پیاس اور بھوک بھی نہ ہوتی۔
“مہدویت” ایک ایسی فکر ہے کہ جوبہت سے معاشرتی اثرات رکھتی ہے۔ ان میں سے سب سے اہم اثر، معاشرے کے پیکر سے مایوسی اور نا امیدی کا خاتمہ ہے مہدویت یعنی روشن مستقبل کی امید اور مظلوم اور بے سہارابشریت کے لئے آزادی کا پیغام اور یہ کہ ایک دن ایک مردخدا آئے گا اورلوگ جس چیز کی امید رکھتے ہیں وہ انجام پذیر ہو کر رہے گی۔
ہر مسلمان کا اس چیز پرپختہ یقین ہے کہ جو معاشرتی نظام،اس کی جائز خواہشات و آرزوﺅں کی تکمیل کر سکتا ہے اور جو اس معاشرتی نظام کو حق وعدالت کی بنیا د پر استوار کرسکتا ہے وہ اسلام کاوہ خوبصورت”حکومتی نظام” ہے۔جس کی کامل و مکمل شکل اما م زمانہ علیہ السلام کے ظہور کے وقت تشکیل پائے گی۔اوراس بات پر یقین امید، نشاط اورزندگی کے مساوی ہے۔
یہ فکر اتنی واضح و روشن ہے کہ حتٰی کہ بعض مستشرقین (جیسے جرمن فلسفی ماربین) نے بھی اس کو وضاحت سے بیان کیا ہے کہ”انتہائی اہم معاشرتی مسائل میں سے ایک مسئلہ جو امید (نجات) کا موجب ہو سکتا ہے وہ حضرت حجت ولی العصر علیہ السلام کے وجود پر اعتقاد رکھنا اور ان کے ظہور کا انتظار ہے”۔
بناءبر ایں،مہدی موعود علیہ السلام کے مقدس وجود پرعقیدہ رکھنا، (انسانوں کے) دلوں کے اندر امید کو زندہ کر دیتا ہے ، جو انسان اس “اصل”پرعقیدہ رکھتاہے وہ نا امید (اور مایوس) نہیں ہوتا۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ایک روشن اختتام حتمی ہے۔لہٰذاکوشش کرتاہے کہ خود کو اس (روشن اختتام )تک پہنچائے [3]اور یہی نظریہ اس کی مسلسل حرکت کا سبب بنتا ہے، بلکہ اس سے بڑھ کرروشن اختتام کو حقیقی شکل دینے کی را ہ میں جدوجہد کرتے ہوئے سختیوں و ناخوشگوار حوادث و واقعات کے سامنے شکست تسلیم نہیں کرتا ۔اس کا یہی عمل ” مہدویت” پر اعتقاد کے زیر اثر، بشریت کے لئے حاصل ہونے والا سب سے بڑا معاشرتی تخفہ ہے۔




معرفت امام زمانہ عج کی ضرورت سیاسی رو سے




جب سے تاریخ بشری شروع ہوئی ہے تب سے  حکومت اور سیاست کی بات اسی دور سے چل رہی ہے کہ کون انسانی معاشرے کا حاکم  ہے؟ کیسا نظام انسانی معاشرے پر حاکم ہو؟ لوگوں کے مسایل کس طرح یہ حکومتیں حل کریں؟ 


🔵پھر آیا یہ حکومتیں یہ مکاتب یہ سیاسی نظام جسے ہم دنیا میں دیکھ رہے ہیں لوگوں کی ضروریات پوری ہوئی کے نہیں؟ لوگوں کے مسائل بھی حل ہوئے کے نہیں؟ آیا واقعاً ان حکومتوں کے ذریعے اور ان سیاسی جتنے بھی  نظام آئے  اس سے سکھ کا سانس لیا؟ کیا واقعاً لوگوں نےخوشحال زندگی گزاری؟ یا یہ صرف ایک آرزو ہی رہی اور حکومتیں تو چینج ہوتی رہتی ہیں  اور ہر دفع لوگ ایک نئی حکومت کی طرف  نئی امیدیں لے کر دیکھتے ہیں لیکن وہ پہلے سے بھی زیادہ مایوس کر رہی ہے اور لوگوں کا دن بدن اعتماد ختم ہو رہا ہے ہماری ان اپنی بنائی ہوئی مختلف حکومتوں پر۔۔۔۔


💦 اکثر دنیا کی حکومتیں جھوٹ اور فریب کی بنیاد پر بنائی جاتی ہیں پہلے جو دعوے کیے جاتے ہیں وہ کبھی بھی پورے نہیں ہوتے صرف لوگوں سے استفادہ  ہوتا ہے  جہان ہمحمہوری نظام کو دیکھ رہے ہیں کہ وہ لوگوں کے ووٹ لینے کے لیے کیا کچھ نہیں کرتے اور بعد میں ایک گروہ اور ایک خاندان ہے جو عیاشی کرتا ہے۔۔۔۔ ✨گزشتہ کئی سالوں سے دو غالب نظریات کیپٹل ازم جو مغرب کی  لبرل ڈیموکریسی  کا نمائندہ ہے اور رکیمونزم جو مزدوروں  کے حقوق کے دفاع کا مدعی ہے۔۔۔۔


💫دو وحشی درندوں کی طرح ایٹمی اسلحوں کی طاقت کے ساتھ عصر حاضر کو خطرے سے دوچار کی دھمکی دے چکے ہیں۔۔۔۔ اس سے کوئی فایدہ نہیں ہوا لوگ غریب سے غریب تر ہوتا گیا اور امیر امیر سے امیر تر۔۔۔۔۔۔دوسری طاقت جو کیمونزم کے مقابلے میں تھی بظاہر رقیب نہ ہونے کی وجہ سے غرور اور تکبر میں مبتلا ہوکر اپنے نیچے اور دانت دکھا کر  اپنے آپ کو جدید عالمی نظام کے مقابلے کے لیے مناسب آئیڈیالوجی سمجھتی ہے  اور چاہتے ہیں کہ مخالف آواز کو ہر ممکن طریقے سے سینوں میں ہی دبا دیں۔۔۔


انسان انتظار میں ہے کہ ایک ایسا نظام بنے جس میں  سب کو برابر کے حقوق ملیں۔۔۔


🖇️ ایسی حکومت ایک امام ہی  قائم کر سکتا ہے  امام مہدی عج  ایک ایسا نظام بناییں گے جس میں سب کا خیال رکھا جائے گا اور تمام مسائل کو حل کیا جائے گا۔۔۔۔مہدویت ایک عالمگیر نظریہ ہے جو پوری دنیا کے لیے ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔..

شہر بانو :✍️




پانچواں درس 
معرفت امام زمانہ عج کی ضرورت
تاریخی اور ثقافتی رو سے 

استادِ مہدویت آغا علی اصغر سیفی صاحب
 🚩
👆

تاریخی پہلو

مہدویت کاسلسلہ امامت اور نبوت کے تسلسل کا نام ہے۔ اس وجہ سے تاریخ کے ایک حساس دور میں اس کا آغاز ہوا ہے۔ اور آج تک جاری و ساری ہے اور مہدویت کا یہ سلسلہ بشریت کی دنیوی زندگی کے اختتام تک باقی رہے گا۔ بناءبر ایں، امام علی علیہ السلامسے لے کر امام ولی عصر علیہ السلام تک (ان آئمہ کی) امامت کی کیفیت کے بارے میں بالعموم اور مہدویت کے بارے میں بالخصوص مسلمانوں کا رد عمل اور نیز اس سے پیش آنے والے تاریخی حوادث، تاریخ اسلام کے اہم اور حساس موضوعات قرار دئیے جا سکتے ہیں۔

مہدویت کے موضوع پر ہمیشہ بحث ہوتی رہی ہے اور شیعہ، سنی رورایات میں ، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و الہ سے حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے بارے میں کثرت سے بشارتیں ذکر ہوئی ہیں۔تاریخ اسلام میں ہمیشہ امام مہدی موعود علیہ السلام کے عقیدے پر جہت سے آثارمرتب ہوئے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ماضی اور حال میں بہت سی اصلاحی تحریکیں، نظریہ مہدویت سے متاثر تھیں( جیسے مصر میں فاطمیوں کی تحریک اور سوڈان میں مہدی سوڈانی کی تحریک ) ، (مہدی) موعود علیہ السلام پر عقیدہ کی بنیاد پر وجود میں آنے والی اصلاحی تحریکوں نے اسلامی معاشرے پر جو عجیب اثرات چھوڑے انہیں دیکھ کر کچھ حیلہ بازوں نے بھی لفظ مہدی کو استعمال کرتے ہوئے اپنے غلط اہداف تکہ پہنچنے کے لئے مہدویت کا دعویٰ کیا اورمسلم معاشروں کے کچھ لوگوں کو اپنے ساتھ ملا لیا ۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔....
شہر بانو :✍️











آٹھواں درس: عقیدہ امامت
امام کا معنی اور ضرورت
استاد مہدویت آغا علی اصغر سیفی صاحب
*عالمی مرکز مہدویت قم 💚*
👆🏻



امام کا معنی: 

لغت کے اندر امام پیشوا، مقتدا وغیرہ کے معنی میں ہے۔ امام وہ ہے جسے کسی کام میں آگے کیا جائے اور باقی لوگ اس کی پیروی کریں۔ وہ تیریا نیزہ جسے معیار اور پیمانہ بنا کر باقی تیروں اور نیزوں کو اس کے مطابق بنایا جاتا ہے، اسے امام کہا جاتا ہے۔ بچے کو خوش خطی سکھانے کے لیے تختی پر جو پہلی لائن لکھی جاتی ہے اور باقی لائنوں کو اسی کے مطابق لکھنے کی تلقین کی جاتی ہے، اس پہلی لائن کو امام کہا جاتا ہے۔ قرآن کا وہ اصلی نسخہ جس کو معیار بنا کر باقی مصاحف کی اس کے مطابق اصلاح کی گئی، اسے مصحفِ امام کہا گیا۔

 بعض نے کہا  امام وہ ہے جس کی اقتدا اور پیروی کی جائے، چاہے  وہ انسان ہو، کتاب ہو یا کوئی اور چیز۔ امام وہ ہے جس کی پیروی کی جائے۔ چاہے وہ انسان ہو جس کے قول اور فعل کی پیروی کی جائے، چاہے وہ کتاب ہو یا کچھ اور، چاہے وہ باطل ہو یا حق۔ پس امام کے لغوی معنی کے حوالے سے کوئی خاص اختلاف نہیں ہے۔

قرآن کریم میں لفظ امام اور اس کے مشتقات 12 مرتبہ استعمال ہوئے ہیں، جن میں سوائے ایک مورد کے ہر جگہ لفظِ امام پیشوا اور مقتدا کے معنی میں ہی آیا ہے۔ ایک مورد میں "لوح محفوظ" کو امام کہا گیا ہے۔ اس کی بھی وجہ شاید یہ ہو کہ لوح محفوظ میں مخلوقات کے تمام فیصلے لکھے گئے ہیں، اور مخلوقات اپنے افعال میں اس کی اتباع اور پیروی کرتی ہیں۔

طلحہ بن زید امام صادق علیہ السلام سے نقل کرتے ہیں کہ قرآن مجید میں دو قسم کے اماموں کی بات کی گئی ہے۔ (ہدایت کے امام، گمراہی کے امام) اللہ تعالی کا ارشاد ہے: (وَجَعَلْنَاهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا) ایک قسم کے امام وہ ہیں جو خدا کے حکم سے لوگوں کی ہدایت کرتے ہیں، نہ لوگوں کے حکم سے۔ اللہ کے امر کو اپنے امر پر اور اللہ کے حکم کو اپنے حکم پر مقدم رکھتے ہیں۔ جبکہ دوسری قسم کے بارے فرمایا: (وَجَعَلْنَاهُمْ أَئِمَّةً يَدْعُونَ إِلَى النَّارِ) یہ وہ لوگ ہیں جو امام بن کر لوگوں کو جہنم کی آگ کی طرف بلاتے ہیں۔ اپنے امر کو اللہ کے امر پر اور اپنے حکم کو اللہ کے حکم پر مقدم کرتے ہیں۔ جو کچھ اللہ کی کتاب میں ہے ان کے خلاف اپنی خواہشات نفسانی پر عمل کرتے ہیں۔

ضرورت امام:

موضوع امامت اپنی اھمیت اور خصوصیت کی بنا پر ھمیشہ شیعہ اور اھل سنت کے درمیان بحث و گفتگو کا موضوع رھا ھے. شیعہ علماء اور دانشمندوں نے اپنے مخصوص عقائد کے اثبات کے لئے بے شمار کتابیں تالیف کی ھیں جن میں ھزارھا دلائل و براھین کا ذکرکیا گیا ھے کہ اگر یھاں اجمالی اور سرسری طور پر بھی انکا ذکر کیا جائے تو یہ مباحث نھایت طویل ھو جائیں گے .
امامت سے مربوط مباحث دو حصوں میں تقسیم کئے جاسکتے ھیں:

 پھلا حصہ:

 اصل ضرورت وجود امام کے اثبات سے متعلق ھے


دوسرا حصہ: 

 اور دوسرا قرآن اور روایات پرمبنی متعدد دلائل پر مشتمل ھے کہ جن کے ذریعہ یہ ثابت کیا جاتا ھے کہ حضرت علی بن ابی طالب علیھ السلام اور آپ کے گیارہ فرزند، خداوند عالم کی طرف سے رسول اکرم کے اعلان کے مطابق اس مقام ومنصب کے لئے منتخب ھوئے ھیں.


اثبات ضرورت وجود امام

شیعی نقطہ نظر سے، جس طرح نبوت ایک امر لازم وضروری ھے اور حکمت خدا مقتضی ھے کہ انبیاء ھدایت بشر کے لئے بھیجے جائیں اسی طرح امامت بھی ایک امر لازم وضروری ھے جس کے بغیر راہ سعادت و کمال کی طرف بشرکی ھدایت نامکمل ھے.
شیعوں کی کتب کلامی میں اصل ضرورت وجود امام معصوم پر بے شمار عقلی ونقلی دلائل پیش کئے گئے ھیں. یھاں ھم صرف ایک ھی دلیل عقلی پر اکتفا کررھے ھیں. یہ دلیل پانچ مقدموں پر مشتمل ھے.

1) نبی شناسی میں گزر چکا ھے کہ حکمت خداوند عالم کے مطابق ضروری ھے کہ ھدایت بشر کے لئے انبیاء بھیجے جائیں.
2) دین اسلام ایسے قوانین واحکام کا مجموعہ ھے جوابدی اور ھمیشہ باقی رھنے والا ھے نیز رسول اکرم کے بعد اب کوئی دوسرا پیغمبر نھیںآئے گا.
3) خاتمہ? نبوت فقط اسی صورت میں حکمت نبوت سے مطابقت رکھتا ھے جب آخری آسمانی شریعت ، بشر کی تمام مادی ومعنوی اور روحانی ضرورتوں کوپورا کرسکتی ھو نیز جس کی بقا کی ضمانت دنیا کے اختتام تک دی جاسکے.
4) اگرچہ خدا وند عالم نے قرآن کریم کوھر قسم کی تحریف و تبدیلی سے محفوظ رکھنے کا وعدہ کیا ھے (1) لیکن تمام احکام و قوانین اسلام، قرآن کی ظاھری آیات سے واضح نھیں ھو پاتے ھیں کیونکہ عموماً قرآن مجید میں احکام وقوانین کی تفصیل بیان نھیں کی گئی ھے بلکہ ان کی تعلیم پیغمبر اکرم کے حوالے کردی گئی ھے تاکہ خدا کے ذریعے عطا کردہ علم کی مدد سے ان کو لوگوں کے لئے بیان کرسکیں.«وانزلنا الیک الذکرلتبین للناس مانزل الیھم»
5) رسول اکرم کی سختیوں ومشکلات سے بھری ھوئی زندگی اور دشوار حالات وشرائط کے پیش نظر آپ کو اتنی فرصت و وقت نھیں مل سکا تھا کہ تمام احکام وقوانین کوبالتفصیل بیان فرماسکتے حتی جس قدر بھی آپ کے اصحاب آپ کی تعلیمات حاصل کرسکے تھے اس کی بقا کی بھی ضمانت نھیں تھی. یھاں تک کہ آپ ھی کی امت میں وضو کی کیفیت کے بارے میں اختلاف پیدا ھوگیا تھا جب کہ سالھا سال آپ کے اصحاب نے آپ کووضوفرماتے ھوئے مشاھدہ کیا تھا. جب اس طرح کے عملی احکام (وہ عملی احکام جو روزمرہ زندگی میں مسلمانوں کی ضرورت رھے ھیں اور ھیں نیز جن میں تبدیلی و تحریف کی بھی کوئی وجہ سمجھ میں نھیں آتی) میں اختلاف پیدا ھوسکتے ھیں تولامحالہ دقیق اور پیچیدہ احکام میں تحریف و تبدیلی کے امکانات کھیںزیادہ ھیں مخصوصاً ایسے احکام و قوانین میں جو لوگوں کی نفسانی خواھشات اور ذاتی مفادات میں حائل ھوتے ھیں یا رکاوٹ پیدا کرتے ھیں.
مذکورہ پانچوں نکات کے مدنظر دین اسلام اسی وقت، دین کامل کے عنوان سے تا ابد بشریت کی تمام ضروریات کو پورا کرسکتا ھے جب اس میں معاشرے کی ان مصلحتوںاور مسائل کا کوئی راہ حل پیش کیا گیا ھو جو رسول خدا کی رحلت کے بعد ھی پیدا ھو گئے تھے.
اسلام نے اس کا راہ حل خدا کی طرف سے معین شدہ نبی اکرم کے جانشین کے طور پر پیش کیا ھے ایسا جانشین جو علم لدنی کا حامل ھوتا کہ تمام حقائق و احکام دینی کو ان کے تمام پھلوؤں کے ساتھ بیان کرسکے ساتھ ھی معصوم بھی ھوتا کہ نفسانی خواھشات وجذبات اس پر حاوی نہ ھوسکیں. اور وہ دین میںعمداً یا سھواً تحریف نہ کرسکے نیز رسول اکرم کی روش پرمعاشرے کی تربیت بھی کرسکے اور کمال طلب افراد کو کمال وسعادت کے اعلی. مراتب تک لے جا سکے. ساتھ ھی ساتھ شرائط اجتماعی کے سازگار ھونے کی صورت میں حکومت وتدبیر امور جامعہ بھی کرسکے تاکہ اسلام کے قوانین اجتماعی کی ترویج کے ذریعہ دنیا میں عدل و انصاف کو پھیلا سکے.



التماس دعا ظہور وفلسطین 🤲🏻🙏😭 💔
اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم 
شہر بانو ✍

 


نواں درس: امام کی صفات
علم امام
عصمت امام
حدیث ثقلین کی تشریح
استادِ محترم علامہ آغا علی اصغر سیفی صاحب
عالمی مرکز مہدویت قم 💚

👆🏻

 



مقدمہ

جیسا کہ ہم  کہ جانتے ہیں کہ اہل تشیع اور اہل تسنن کے درمیان موضوع امامت کے تحت صرف تین مسئلوں میں اختلاف ہے
١۔ پہلے یہ کہ امام کا تعین و انتخاب، خدا کی جانب سے ہو۔
٢۔ دوسرے یہ کہ امام ملکۂ عصمت سے آراستہ ہو۔
٣۔ تیسرے یہ کہ علم لدنی کا مالک ہو، 


عصمت امام ۔

منصب امامت کا الٰہی ہونا اور حضرت علی علیہ السلام اور آپ کی اولاد کا خدا کی جانب سے منصب امامت پر فائز ہونے کے اثبات کے بعد ائمہ ا طہار علیہم السلام کی عصمت کو اِس آیت کے ذریعہ ثابت کیا جاسکتا ہے ۔
'' لَا ینالُ عَہدِ الظَالِمِینَ''(١)
یعنی منصب امام صرف انھیں حضرات کے لئے سزاوار ہے جو گناہوں سے آلودہ نہ ہوں۔
اس کے علاوہ آیہ ''اولوا الامر'' (٢)جو امام کی اطاعت کو مطلق قرار دیتی ہے اور امام کی اطاعت کو آنحضرت ۖ کی اطاعت کے مساوی قرار دیتی ہے، اُس کے ذریعہ بھی ائمہ علیہم السلام کی عصمت کو ثابت کیا جاسکتا ہے کیونکہ کسی بھی صورت میں امام کی اطاعت کو اطاعت خدا کے خلاف قرار نہیں د یا جا سکتا لہٰذا او لوالامر یعنی امام کی مطلق اطاعت کا حکم دینا اس کے معصوم ہونے پر دلالت کرتا ہے۔
اسی طرح ائمہ ا طہار علیہم السلام کی عصمت کوآ یہ تطہیر سے بھی ان کا معصوم ہونا ثابت کیا جا سکتا ہے:
( اِنَّمَا یُرِیدُ اللَّہُ لِیُذہِبَ عَنکُمُ الرِجسَ اَہلَ البَیتِ وَ یُطَہِّرَ کُم تَطہِیراً)(٣)
اے اھل بیت !(رسول) خدا تو بس یہ چاہتا ہے کہ تم کو (ہر طرح کی ) برائی سے دوررکھے اور جو پاک و پاکیزہ رکھنے کا حق ہے ایسا پاک و پاکیزہ رکھے ۔
بندوں کی تطہیر کا ارادۂ تشریعی، کسی خاص فرد سے مخصوص نہیں ہے، لیکن اہل بیت علیہم السلام کی طہارت کے سلسلہ میں خدا کا ارادہ، ارادۂ تکوینی ہے کہ جس میں اراد کا ارادہ کرنے والے (خدا ) سے تخلف ممکن نہیں ہے ، جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے :
( اِنَّمَا اَمرُہُ اِذَا اَرَادَ شَیٔاً اَن یَقُولَ لَہُ کُن فَیَکُونُ).(٤)
پس تطہیر مطلق اور کسی بھی قسم کی نجاست اور پلیدی سے دورری عین عصمت ہے اور ہمیں بخوبی معلوم ہے کہ مسلمانو ںمیں سے کوئی بھی فرقہ آنحضرت ۖ کے اہل بیت علیہم السلام کی عصمت کا قائل
………………………………………

(١) سورۂ بقرہ آیت ١٢٤.
(٢)سورہ نسا۔آیت٥٩
(٣) سورۂ احزاب آیت ٣٣
(٤) سورۂ یس ٨٢.

نہیں ہے فقط شیعہ فرقہ ہے جو حضرت زہراء علیہا السلام اور بارہ اماموں کی عصمت کا قائل ہے۔( ١)
اس مقام پر اس نکتہ کی طرف اشارہ کرنا لازم ہے کہ اس آیت کے سلسلہ میں وہ روایتیں جو نقل ہوئیں ہیں، ان میں سے اکثر کو اہل سنت کے علماء نے اپنی کتابوں میں درج کیا ہے، جو اِس بات پردلالت کرتی ہیں کہ یہ آیت ،خمسہ طیبہ کے سلسلہ میںنازل ہوئی ہے۔(٢)
شیخ صدو ق حضرت علی علیہ السلام سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول خدا ۖ فرما یا: اے علی! یہ آیت تمہارے اور حسن و حسین علیہم السلام اور تمہار ی نسل سے ہونے والے اماموں کے سلسلہ میں نازل ہوئی ہے ،میں نے سوال کیا کہ آپ کے بعد کتنے امام ہوں گے تو آپ ۖ نے فرمایا: اے علی! تم ہوگے پھر حسن اور پھر حسین اور حسین کے بعد علی بن الحسین اس کے بعد محمد بن علی اس کے بعد جعفر بن محمد اس کے بعد موسیٰ بن جعفر اس کے بعد علی بن موسیٰ اس کے بعد محمد بن علی اس کے بعد علی بن محمد اس کے بعد حسن بن علی اور پھر حسن کے فرزند حجت خدا امام ہوں گے۔
اس کے بعد فرمایا: کہ یہ اسماء اسی ترتیب سے ساحت عرش پر لکھے ہوئے ہیں، اور جب میں نے ان اسماء کو دیکھا تو خدا سے سوال کیا کہ یہ اسماء کس کے ہیں! تو خدا نے فرمایا:اے محمد ۖ یہ تمہارے بعد ہونے والے امام ہیں کہ جنھیں پاک قراردیا گیا ہے اور وہ معصوم ہیں نیز ان کے دشمنوں پر بے شمار لعنت کی گئی ہے۔(٣)
ان آیتوں کے علاوہ حدیث ثقلین جس میں آنحضرت ۖ نے ائمہ ا طہار علیہم السلام کو قرآن کے مساوی قرار دیا ہے اور تاکید فرمائی ہے کہ یہ دونوں کسی بھی حال میں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوسکتے، جو ائمہ معصومین علیہم السلام کی عصمت پر ایک روشن دلیل ہے، اس لئے کہ ایک معمولی خطا کا بھولے سے بھی سرزد ہوجانا قرآن عملی مفارقت کا سبب ہوگا۔
………………………………………………

(١) مزید وضاحت کے لے تفسیر المیزان اور کتاب ''الامامة والولایة فی القرآن''. کی طرف رجوع کیا جائے
(٢) غایة المرام ص ۔٢٨٧ ٢٩٣.
(٣) غایة المرام (ط قدیم) ۔ج،٦۔ ص ٢٩٣


علم امام۔

اس بات میں کوئی شک نہیں ہے ائمہ ا طہار علیہم السلام لوگوں کے مقابلہ میں علمی اعتبار سے بہت بلند مقامات کے حامل تھے جیسا کہ نحضرت ۖ نے فرمایا:
(لَا تُعَلِّمُوہُم فَاِنَّہُم اَعلَمُ مِنکُم)
انھیں تعلیم نہ دو اس لئے کہ وہ تم لوگوں سے کہیں زیادہ جاننے والے ہیں(١)
مخصوصاً حضرت علی علیہ السلام جو بچپنے سے رسول اللہ ۖ کے سائے میں رہے اور آپ ۖ کی آخری سانسوں تک آپ کے علوم سے مستفید ہوتے رہے، جیسا کہ رسول اللہ ۖ نے خود فرمایا:
( اَنَا مَدِینَةُ العِلمِ وَ عَلِّ بَابُہَا) (٢)
میں علم کا شہر ہوں اور حضرت علی علیہ السلام اُس کا دروازہ ہیں۔
اس کے علاوہ خود امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں :
( اِنَّ رَسُولَ اللَّہِ ۖ عَلَّمَن اَلفَ بَابٍ وَ کُلُّ بَابٍ یَفتَحُ اَلفَ بَابٍ فَذَلِکَ
اَلفَ اَلفَ بَاب حَتَّی عَلِمتُ مَاکَانَ وَ مَایَکُونُ اِلی یَومِ القِیَامَةِ وَ عَلِمتُ عِلمَ المَنایا وَ البَلایا وَ فَصلَ الخِطابِ)(٣)
………………………

(١) غایة المرام ۔ص،٢٦٥ اصول کافی۔ ج ١' ص٢٩٤
(٢)مستدرک حاکم۔ ج٣ ص ٢٢٦قابل توجہ نکتہ تو یہ ہے کہ ایک سنی عالم نے ایک کتاب بنام
''فتح الملک العلی بصحة حدیث مدینة العلم علی'' نے لکھی جو ١٣٥٤ میں قاہرہ میں چھپی ہے
(٣) ینابیع المودہ۔ ص٨٨ اصول کافی ۔ج ١ ص،٢٩٦

یعنی رسول اللہ ۖ نے مجھے علم کے ہزار باب سکھائے اور میں نے ہر باب سے ہزار ہزار باب کھولے جو مجموعاً ہزار ہزار باب (دس لاکھ باب ) ہوجاتے ہیں یہاں تک کہ جو کچھ ہوچکا ہے اور جو کچھ قیامت تک ہونے والا ہے اُن سب سے میںباخبرہوگیا ، اموات و آفات کے اسرار کا میں عالم اور 'عدل کے ساتھ حکم کرنا'' کا مالک ہوں۔
لیکن علوم آ ل محمد ۖ صرف اُن علوم پر منحصر نہیں ہے کہ جسے واسطہ کے ساتھ یا واسطہ کے بغیر انھوں نے آنحضرت ۖ سے حاصل کیا ،بلکہ ائمہ اطہار علیہ السلام غیر عادی علوم سے بھی سرفراز تھے جس سے بصورتِ الہٰام باخبر ہوجاتے تھے(١) بالکل اسی طرح کہ جیسے جناب خضر، جناب ذوالقرنین، (٢)حضرت مریم اورجناب موسیٰ کی والدہ پر افاضہ ہوا کرتا تھا(٣) جن میں سے بعض کو قرآن نے وحی سے تعبیر کیا ہے لیکن یہاں وحی سے مراد وحی نبوت نہیں ہے، اسی وجہ سے بعض ائمہ علیہم السلام بچپنے میں مقام امامت پر فائز اور دوسروں سے تعلیم حاصل کرنے سے بے نیاز ہوتے تھے۔
یہ مطلب ان روایتوں کے ذریعہ ثابت ہے جو خود ائمہ اطہار علیہم السلام سے نقل ہوئیں ہیں جن کی حجیت آپ لوگوں کی عصمت سے ثابت ہے، لیکن ان میں سے بعض کو بطور نمونہ پیش کرنے سے پہلے قرآن کی اس آیت کی طرف اشارہ ضروری ہے جس میں بعض افراد کو'ومن عندہ علم الکتاب' (٤) کے عنوان سے آنحضرت ۖ کی حقانیت پر بہ طور شاھد پیش کیا گیا ہے، اور وہ آیت یہ ہے
( قُل کَفَی بِاللّہِ شَہِیداً بَینِ وَ بَینَکُم وَمَن عِندَہُ عِلمُ الکِتَابِ)(٥)
آپ کہہ دیں کہ خدا میرے اور تمہارے درمیان شہادت اور گواہی دینے کے لئے کافی ہے اسی طرح وہ لوگ بھی کافی ہیں کہ جن کے پاس علم الکتاب ہے۔
…………………………………

(١) اصول کافی۔ کتاب الحجہ۔ ٢٦٤ ٢٧٠
(٢)اصول کافی ۔ج ١، ص ٢٦٨
(٣) سورۂ کہف۔ ٦٥ ٩٨ آل عمران ۔٤٢، مریم ١٧' ٢١ طہ۔ ٣٨ قصص۔٧
(٤) سورۂ رعد۔ ٤٣
(٥)سورۂ رعد ۔٤٣

پس اس امر میں کوئی شک نہیں ہے کہ وہ شخص جس کی گواہی خدا کی گواہی کے برابر ہو، اور علم الکتاب سے آراستہ ہو ، وہ کمالات کے عظیم درجات پر فائز ہوگا ۔
ایک دوسری آیت میں اسی شاہد کی طرف اشارہ کیا ہے:
(َفَمَن کَانَ عَلی بَیِّنَةٍ مِن رَبِّہِ وَ یَتلُوہُ شَاہِد مِّنہُ)(١)
تو کیا جو شخص اپنے پروردگار کی طرف سے روشن دلیل پر ہو اور اس کے پیچھے ہی پیچھے انہی کا ایک گواہ ہو
اس آیت میں(مِنہُ) اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ وہ شاہد رسول اللہ ۖ کے خاندان اور آپ کے ا ہل بیت سے ہے، اہل تشیع و تسنن کی طرف سے نقل ہونے والی روایتوں کے مطابق اس شاہد سے مراد علی ابن ابی طالب علیہ السلام ہیں۔
منجملہ ابن مغازلی شافعی نے عبد اللہ بن عطا سے روایت کی ہے کہ اس نے کہا کہ میں ایک روز امام محمد باقر علیہ السلام کی خدمت میں تھا کہ ''عبد اللہ بن سلام ( آنحضرت ۖکے دور میں اہل کتاب کے بزرگ علماء میں سے تھے) کے فرزند ہمارے سامنے سے گذرے تو میں نے امام علیہ السلام سے سوال کیا کہ کیا ومن عندہ علم الکتاب.سے مراد اس شخص کے والد ہیں؟ توامام علیہ السلام نے فرمایا نہیں،بلکہ اس سے مراد حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام ہیں، اور آیہ ''
(وَیَتلُوہُ شَاہِد مِنہ) اور آیہ (اِنَّما وَلِیُکُمُ اللَّہُ وَ رَسُولُہُ وَ الَّذِینَ آمَنُوا) (٢)
(اے ایماندارو)تمارے مالک و سرپرست بس یہی ہیں ۔ خدا اس کا رسول اور وہ مومنین جو پابندی سے نماز ادا کرتے ہیںاور حالت رکوع میں زکوة دیتے ہیں۔
حضرت علی علیہ السلام ہی کی شان میں نازل ہوئی ہے اسی طرح بہت سی روایتوں کے مطابق جو شیعہ اور سنی اسناد کے (٣) مطابق وارد ہوئی ہیں، سورۂ ہود میں ''شاہد'' سے مراد علی ابن ابی طالب ہیں،
…………………………………

(١) سورۂ ہود۔ آیت/ ١٧
(٢) سورۂ مائدہ۔ آیت /٥٥
(٣)غایة المرام (ط قدیم) ٣٥٩.٣٦١

لہٰذا ''منہ'' سے مراد امام علی علیہ السلام کے علاوہ کوئی اور نہیں ہوسکتا۔
علم الکتاب کے حامل ہونے کی اہمیت اُس وقت آشکار ہوگی کہ جب ہم جناب سلیمان علیہ السلام کے حضور میں تخت بلقیس کے حاضر کرنے کی داستان کا مطالعہ کریں:
( وَقَالَ الذِّ عِندَہُ عِلم مِنَ الکِتَاب أَناَ آتِیکَ بِہِ قبَلَ ن یَرتَدَّ اِلَیکَ طَرفُکَ)( ١)
یعنی جس کے پاس کتاب کا ایک مختصر علم تھا اس نے کہا کہ میں تخت بلقیس کو آپ کی پلک جھپکنے سے پہلے یہاں حاضر کروں گا۔
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ علم الکتاب کے ایک حصہ سے باخبر ہونا ایسے حیرت انگیز امورکا باعث ہے، پس تمام علم الکتاب سے متصف ہونا کیسے عظیم اثرات کیرونما ہونے کا سبب ہوسکتا ہے، یہی وہ نکتہ ہے جسے امام صادق علیہ السلام نے ''جناب سدیر'' سے نقل ہونے والی روایت میں فرمایا ہے، سدیر کہتے ہیں کہ میں،، ابو بصیر، یحییٰ بزاز اور دائود بن کثیر جو امام صادق علیہ السلام کی بارگاہ میں حاضر تھے کہ حضرت بڑے غضب کے عالم میں وارد مجلس ہوئے فرمایا: کہ مجھے ان لوگوں پر تعجب ہے کہ جو یہ خیال کرتے ہیںکہ ہمارے پاس علم غیب ہے، حالانکہ خدا کے علاوہ کوئی بھی علم غیب سے واقف نہیں ہے میں اپنی کنیز کو تنبیہ کرنا چاہتا تھا کہ وہ فرار ہوگئی جبکہ مجھے یہ نہیں معلوم کہ وہ کس حجرہ میں مخفی ہے۔(٢)
……………………

(١) سورۂ نمل۔آیت ٤٠
(٢) اس حدیث کے لب و لہجہ سے معلوم ہوتا ہے کہ امام نے یہ باتیں نامحرموں سے کہی ہیں، اور یہ نکتہ معلوم رہے کہ وہ علم غیب جو خدا سے مخصوص ہے اس سے مراد وہ علم ہے جسے حاصل کرنے کے لئے تعلیم کی ضرورت نہ ہو جیسا کہ امام علی علیہ السلام نے سائل کے سوال کے ( کیا آپ علم غیب کے مالک ہیں) کے جواب میں فرمایا کہ '' انما ہم تعلم من ذی علم '' وگرنہ ا نبیاء اور اولیاء الٰہی وحی اور الہٰام کے ذریعہ علوم غیبی سے واقف تھے، مادر حضرت موسیٰ کے لئے خدا کی جانب سے الہٰام انھیں مقامات میں سے ایک ہے کہ جس کے لئے شک نہیں کیا جاسکتا ۔

'' انا رادہ الیک و جاعلوہ من المرسلین'''' قصص ٧٠''.
سدیر کہتے ہیں: جب امام علیہ السلام اپنے گھر کی طرف جانے کے لئے کھڑے ہوئے تو میں بھی ابو بصیر اور میسر کے ساتھ آنحضرت کے ہمراہ ہو لیا اور راستہ میں میں نے حضرت علیہ السلام سے عرض کی کہ ہم آپ پر قربان جائیں آپ نے جو کچھ اپنی کنیز کے سلسلہ میں فرمایا، اسے ہم نے تسلیم کیا اور ہم اس کے بھی معتقد ہیں کہ آپ بے شمار علوم کے مالک ہیں نیز کبھی بھی آپ کے سلسلہ میں علم غیب کا دعوی نہیں کرتے۔
ا مام علیہ السلام نے فرمایا کہ اے سدیر! کیا تم نے قرآن نہیں پڑھا میں نے عرض کی کہ کیوں نہیں،، تو آپ نے فرمایا کہ کیا اِس آیت کی تلاوت نہیں کی ہے:
(قَالَ الذِّ عِندَہُ عِلم مِن الکِتَابِ اَنَا آتِیکَ بِہِ قَبلَ اَن یَرتَدَّ اَلِیکَ طَرفُکَ)
وہ شخص ( آصف بن برخیا ) جس کے پاس کتاب خدا کا کچھ علم تھا بولا کہ میں آپ کی پلک جھپکنے سے پہلے تخت بلقیس کو آپ کے پاس حاضر کر دوں گا ۔
تو میں نے کہا کہ ضرور تلاوت کی ہے، پھر امام علیہ السلام نے فرمایا: کیا تمہیں معلوم ہے کہ یہ شخص کتاب میںسے کس قدر علم کا مالک تھا؟ تو میں نے کہا کہ آپ ہی فرمائیں، پھر امام علیہ السلام نے فرمایا کہ ایک عظیم سمندر سے صرف ایک قطرہ کے برابر، اس کے بعد فرمایا کہ کیا اس آیت کی تلاوت کی ہے؟ (قل کفی باللہ شہیداً بین و بینکم ومَن عندہ علم الکتاب)
میں نے کہا کہ ضرور تلاوت کی ہے، تو امام علیہ السلام نے فرمایا کہ بتائو وہ شخص افضل ہے جو تمام کتاب کے علم سے واقف ہے یا وہ شخص جو صرف کتاب کا ایک حصہ جانتا ہے؟ تو میں نے جواب میں عرض کیا کہ جس کے پاس تمام کتاب کا علم ہے، اس کے بعد امام علیہ السلام نے اپنے سینہ کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا خدا کی قسم تمام کتاب کا علم ہما رے پاس ہے(١) اب اس کے بعد اہل بیت علیہم السلام کے علوم کو بیان کرنے والی روایتوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
………………………………

(١)اصول کافی۔ ج١ ص٢٥٧(طبع دار الکتب الاسلامیہ).

امام رضا علیہ السلام، امامت کے سلسلہ میں ایک مفصل حدیث کے ضمن میں فرماتے ہیں : جب خدا کسی کو لوگوں کے لئے منتخب کرتا ہے تو اسے سعہ صدر عطا کرتا ہے اور اس کے دل میں حکمت کے چشمے جاری اور اُسے علم کی دولت سے آراستہ کردیتاہے تا کہ وہ سوالات کے جوابات دے سکے ،اور حق کو پہچاننے میں سرگردان نہ ہو، چنانچہ ایسا شخص معصوم، خدا کی طرف سے تائید شدہ اور خطائوں سے محفوظ ہوتا ہے۔
در اصل خدا، اِس لئے اس کو یہ خصلتیں عطا کرتا ہے تا کہ اس کے ذریعہ سے اپنے بندوں پر حجت تمام کر سکے لھذایہ ایک عطیہ ہے جسے خدا پسند کرتا ہے ا ُسے عطاء کرتا ہے
ا سکے بعد فرمایا کیا عوام میں اتنی استطاعت ہے کہ وہ ایسے شخص کو پہچان کر اسے منتخب کرلیں، اور جب وہ کسی کا انتخاب کرتے ہیں تو کیا وہ شخص ایسی صفات کا مالک ہوتا ہے ؟! (١)
حسن بن یحییٰ مدائنی امام صادق علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے امام علیہ السلام سے سوال کیا کہ جب امام سے کوئی سوال کیا جاتا ہے تو وہ کس طرح جواب دیتے ہیں تو آپ ( علیہ السلام) نے میں فرمایا: کبھی اُس پر الہٰام ہوتا ہے اور کبھی فرشتہ سے سنتا ہے اور کبھی دونوں ایک ساتھ (٢) واقع ہوتا ہے۔
ایک دوسری روایت میں امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ''وہ امام جسے معلوم نہ ہو کہ اس پر کیسی مصیبت آنے والی ہے اور اس کا انجام کیاہوگا تو وہ بندوں پر خدا کی حجت نہیں ہوسکتا۔(٣)
ایک دوسری روایت میں امام علیہ السلام فرماتے ہیں کہ جب بھی امام کسی چیز کے متعلق جانناچاہتا ہے تو خدا اُس سے باخبر کردیتا ہے۔(٤)
…………………………

(١)اصول کافی۔ ج١ ص ١٩٨ ٢٠٣.
(٢)بحار الانوار ۔ج٢٦ ص٥٨.
(٣)اصول کافی ۔ج١ ص١٥٨.
(٤)اصول کافی ۔ج١ص ٢٥٨.

اسی طرح آپ کی جانب سے نقل ہونے والی متعدد روایتوں میںآیا ہے کہ روح، جبرئیل و میکائیل سے عظیم تر مخلوق ہے جو رسول اللہ ۖ کے پا س تھی، اُن کے بعد ائمہ علیہم السلام کی طرف منتقل ہوگئی جن سے ان کی مدد ہوتی ہے۔(١)
………………………………

(١) اصول کافی ج١ص ٢٧٣.


حدیث ثقلین رسول اللہ کی ایک مشہور اور متواتر حدیث ہے جو فرماتے ہیں: "میں تمھارے درمیان میں اللہ کی کتاب (یعنی قرآن) اور عترت یا اہل بیت چھوڑے جا رہا ہوں۔ قرآن اور اہل بیت قیام قیامت تک ایک دوسرے سے الگ نہ ہوں گے"۔

یہ حدیث تمام مسلمانوں کے ہاں متفق علیہ ہے اور شیعہ اور سنی کتب حدیث میں نقل ہوئی ہے۔

شیعہ اس حدیث کے سہارے لزوم امامت اور ائمہ کی عصمت اور تمام زمانوں میں امامت کے دوام اور تسلسل کا ثبوت دیتے ہیں۔


 

حدیث ثقلین


إِنِّي تَارِكٌ فِيكُمْ أَمْرَيْنِ إِنْ أَخَذْتُمْ بِهِمَا لَنْ تَضِلُّوا كِتَابَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَأَهْلَ بَيْتِى عِتْرَتِى أَيُّهَا النَّاسُ اسْمَعُوا وَقَدْ بَلَّغْتُ إِنَّكُمْ سَتَرِدُونَ عَلَيَّ الْحَوْضَ فَأَسْأَلُكُمْ عَمَّا فَعَلْتُمْ فِى الثَّقَلَيْنِ وَالثَّقَلَانِ كِتَابُ اللَّهِ جَلَّ ذِكْرُهُ وَأَهْلُ بَيْتِى فَلَا تَسْبِقُوهُمْ فَتَهْلِكُوا وَلَا تُعَلِّمُوهُمْ فَإِنَّهُمْ أَعْلَمُ مِنْكُمْ۔



ترجمہ: 


بے شک میں دو امانتیں تمھارے درمیان میں چھوڑے جارہا ہوں، اگر انھیں قبول کرو تو ہرگز گمراہ نہ ہوگے۔ 1۔ خدائے عز و جل کی کتاب (قرآن) اور 2۔ میرے اہل بیت اور میری عترت، 



تشریح حدیث ثقلین:


اے لوگو! سنو! میں تمھیں یہ حقیقت پہنچا چکا کہ تمھیں میرے پاس حوض کے کنارے لوٹا دیا جائے گا اور میں ان دو بھاری اور گران بہا امانتوں کے ساتھ تمھارے برتاؤ کے بارے میں تم سے بازخواست کروں گا اور یہ دو بھاری امانتیں کتاب خدا اور میرے اہل بیت ہیں۔ پس ان سے آگے بڑھنے کی کوشش مت کرو اور انھیں کچھ سکھانے کی کوشش نہ کرو کیونکہ وہ تم سے زیادہ عالم و دانا ہیں۔


التماس دعا ظہور وفلسطین 🤲🏻🙏😭 💔
اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم 
شہر بانو ✍





*دسواں درس :*
*امام کی صفات*
*✔️اخلاق حسنہ میں کامل*
*✔️اللہ کی طرف سے منصوب*
✔️ *امام رضا علیہ السلام کا خوبصورت فرمان*
*استادِ محترم علامہ آغا علی اصغر سیفی صاحب*🎤
*عالمی مرکز مہدویت قم 💚*
👆🏻



بسم اللہ الرحمن الرحیم

سبق کا ٹاپک: امام کی صفات 

آج کے درس کے نکات: 

1: اخلاق حسنہ میں کامل
2: اللہ کی طرف سے منصوب
3: امام رضا علیہ السلام کا خوبصورت فرمان


1: اخلاق حسنہ اور معصومین علیہم السلام

رسول خدا (ص) اور ا ئمہ معصومین علیہم السلام، اخلاق حسنہ کی اعلی ترین مثالیں ہیں اور یہ بے مثال "” حُسن خلق "”ان کے کردار اور گفتار سے عیاں تھا_ ان ہی عظیم شخصیتوں کے ارشادات کی روشنی میں ہم "”حُسن خلق”” کے اعلی درجہ پر فائز ہو سکتے ہیں_



 چنانچہ ہم یہاں اُن کے ارشادات سے چند نمونے پیش کر رہے ہیں تاکہ وہ ہماری زندگی کے لئے مشعل راہ بن جائیں :


 رسول خدا (ص) نے صحابہ کو مخاطب کرکے فرمایا :
"”کیا میں تمہیں وہ چیز نہ بتائوں کہ جس کے لحاظ سے تم میں سے کون مجھ سے زیادہ مشابہ ہوگا ؟ صحابہ نے عرض کی : "”اے اللہ کے رسول (ص) ضرور بتایئے_”” تو آپ (ص) نے فرمایا :
"”جس کا اخلاق بہت اچھا ہے””
اصول کافی (مترجم ) ج2، ص 84یا تحف العقول ص48


آپ (ص) ہی کا ارشاد گرامی ہے:
"”خوش نصیب ہے وہ شخص جو لوگوں سے خوش خلقی سے ملتا ہے ” ان کی مدد کرتا ہے اور اپنی برائی سے انہیں محفوظ رکھتا ہے”
تُحف العقول ، ص28


امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
"”خداوند عالم نے اپنے ایک پیغمبر کو مخاطب کرکے فرمایا :
"”خوش خلقی گناہوں کو اُسی طرح ختم کردیتی ہے جس طرح سورج برف کو پگھلا دیتا ہے”
تحف العقول _ ص 28_ بحارالانوار ج 71، ص 383


آپ (ع) ہی کا ارشاد ہے:
"”بے شک بندہ اپنے حسن اخلاق سے دن کو روزہ رکھنے والے اور رات کو نماز قائم کرنے والے کا درجہ حاصل کرلیتا ہے”
وسائل الشیعہ ج8، ص 56_ تحف العقول ص 48


ہمارے معصوم رہبروں (ع) نے جس طرح "”اخلاق حسنہ”” کے بارے میں نہایت ہی سبق آموز ارشادات فرمائے ہیں ” اسی طرح دوست اور دشمن کے سامنے نیک اخلاق کے بہترین اعلی نمونے بھی پیش کئے ہیں; 



1:  انس (پیغمبر اکرم (ص) کے خادم) سے مروی ہے کہ : میں نے رسالت مآب (ص) کی نو سال تک خدمت کی "لیکن اس طویل عرصے میں حضور (ص) نے مجھے حتی ایک بار بھی یہ نہیں فرمایا: "”تم نے ایسا کیوں کیا؟”” _ میرے کسی کام میں کبھی کوئی نقص نہیں نکالا، میں نے اس مدت میں آنحضرت (ص) کی خوشبو سے بڑھ کر کوئی اور خوشبو نہیں سونگھی۔ 


2: ایک دن ایک بادیہ نشین (دیہاتی) آیا اور آنحضرت (ص) کی عبا کو اتنی زور سے کھینچا کہ عبا کے نشان آپ (ص) کی گردن پر ظاہر ہوگئے_ اس کا اصرار تھا کہ حضور اکرم (ص) اسے کوئی چیز عطا فرمائیں_ رسالت مآب (ص) نے بڑی نرمی اور مہربانی سے اُسے دیکھا اور مسکراتے ہوئے فرمایا:
"اسے کوئی چیز دے دو”
چنانچہ خداوند عالم نے یہ آیت نازل فرمائی:
انّک لَعلی خُلق: عظیم
"بے شک آپ اخلاق (حسنہ) کے اعلی درجہ پر فائز ہیں”
سورہ قلم ، آیت 4

3: حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کے قریبی افراد میں سے ایک شخص آپ (ع) کے پاس آیا اور بُرا بھلا کہنے لگا ” لیکن آپ (ع) خاموش رہے ، جب وہ شخص چلا گیا تو امام (ع) نے حاضرین کو مخاطب کرکے فرمایا:
"آپ لوگوں نے سن لیا ہوگا کہ اس شخص نے مجھ سے کیا کہا ہے اب میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے ساتھ چلیں اور میرا جواب بھی سن لیں”
امام علیہ السلام راستے میں اس آیت کی تلاوت فرماتے جارہے تھے:
"و الکاظمین الغیظ والعافین عن الناس والله یحب المحسنین "
"جو لوگ غصے کو پی جاتے ہیں اور لوگوں کو معاف اور درگذر کردیتے ہیں اوراللہ تعالی ایسے احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے”_
سورہ آل عمران آیت 134
ساتھیوں نے سمجھ لیا کہ امام (ع) آیت عفو کی تلاوت فرما رہے ہیں، لہذا اسے کوئی تکلیف نہیں پہنچائیں گے ،جب اس کے گھر پہنچے تو امام (ع) نے اس کے خادم سے فرمایا :
کہ اپنے مالک سے کہدو کہ علی ابن الحسین علیہ السلام تمہیں بلا رہے ہیں_
جب اس شخص نے سنا کہ امام (ع) فوراً ہی اس کے پاس آئے ہیں تو اس نے دل میں کہا کہ یقینا حضرت (ع) مجھے میرے کئے کی سزا دیں گے اور اس کا انتقام لیں گے_ چنانچہ اس نے یہ سوچ کر خود کو مقابلہ کے لئے تیار کرلیا، لیکن جب باہر آیا تو امام (ع) نے فرمایا :
"”میرے عزیز تم نے اب سے کچھ دیر پہلے میرے متعلق کچھ باتیں کہی تھیں ” اگر یہ باتیں مجھ میں پائی جاتی ہیں تو خدا مجھے معاف کرے” اور اگر میں اُن سے پاک اور بَری ہوں تو خدا تمہیں معاف کرے””_
اُس شخص نے جب یہ سنا تو بہت شرمندہ ہوا ” امام (ع) کی پیشانی پر بوسہ دیا اور معافی مانگنے لگا اور عرض کی :””میں نے جو کچھ کہا ” غلط کہا” بے شک آپ (ع) ایسی باتوں سے پاک ہیں”ہاں ” میرے اندر یہ باتیں موجود ہیں ”



2:امام کس کی جانب سے منصوب ہوتا ہے 

امام علی رضا علیہ السلام فرماتے ہیں کہ جو لوگ امامت کے مسئلے پر اختلاف کرتے ہیں اور گمان کرتے ہیں کہ امامت ایک انتخابی مسئلہ ہے تو وہ جہالت کا ثبوت دیتے ہیں۔

     ہم شیعوں  کا اس بات پر یقین ہے کہ امام، اللہ کی طرف سے منصوب ہوتا ہے کیونکہ خداوند عالم بندوں کے بارے میں بہتر جانتا ہے کہ کس چیز میں ان کا فائدہ ہے اور کن چیزوں میں ان کا نقصان ہے۔ جس طرح بندوں کی ہدایت کے لئے خدا نے انبیاء کو بھیجا اسی طرح بندوں کو سعادت اور کمال تک پہوچانے کے لئے خدا نے ائمہ(علیہم السلام) کو بھیجا کیونکہ انسان کی عقل، تنہا اس بات کا فیصلہ نہیں کرسکتی کہ کس بات میں اس کا فائدہ ہے یا کس میں نقصان، اسی لئے انسان کو کمال اور سعادت ابدی تک پہونچانے کے لئے ایک معصوم امام کا ہونا ضروری ہے۔
     ہمارے بارہ اماموں کی امامت کو آیات میں کلی طور پر بیان کیا گیا ہے،  قرآن میں بہت زیادہ آیات ہیں جو ائمہ(علیہم السلام) کی امامت پر دلالت کرتی ہیں، جن میں سے بعض یہ ہیں: « أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ[سورۂ نساء، آیت:۵۹] ایمان والو اللہ کی اطاعت کرو رسول اور صاحبانِ امر کی اطاعت کرو جو تم ہی میں سے ہیں»، « فَسْئَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لا تَعْلَمُونَ[سورۂ نحل، آیت:۴۳] اگر تم نہیں جانتے ہو تو جاننے والوں سے دریافت کرو »، «یا اَیُّهَا الَّذینَ آمَنُوا اتَّقُوا اللّهَ وَ کُونُوا مَعَ الصّادِقینَ[سورۂ توبہ، آیت:۱۱۹] ایمان والو اللہ سے ڈرو اور صادقین کے ساتھ ہوجاؤ»۔

3: امام رضا علیہ السلام کا خوبصورت فرمان

امام علی رضا علیہ السلام فرماتے ہیں کہ جو لوگ امامت کے مسئلے پر اختلاف کرتے ہیں اور گمان کرتے ہیں کہ امامت ایک انتخابی مسئلہ ہے تو وہ جہالت کا ثبوت دیتے ہیں۔






التماس دعا ظہور وفلسطین 🤲🏻🙏😭 💔
اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم 
شہر بانو ✍














تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

(Ist pdf) 👈 مہدویت پر بحث کی ضرورت (استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب)

دروس عقائد کا امتحان

کتاب غیبت نعمانی کے امتحان کے سوالات اور ان کے جوابات