👈اخلاق منتظرین New
*اخلاق منتظرین 1*
*# موضوع:اپنی شناخت کی اہمیت ، انسان کے اندر حق iوباطل کی جنگ اور کیسے جہاد اکبر کریں*
*#استادِ محترم آغا علی اصغر سیفی*
*#عالمی مرکز مہدویت قم💚*
👆
اپنی شناخت کا مطلب یہ ہے کہ آپ اپنے ذاتی اور روحانی مواصلات کو سمجھتے ہیں، اپنے خوبیوں اور کمزوریوں کو پہچانتے ہیں، اور اپنے مقصد اور قیمتوں کو جانتے ہیں۔
اپنی شناخت کی اہمیت
اپنی شناخت کی اہمیت یہ ہے کہ وہ آپ کو اپنے اصلی خوابوں، مقاصد اور قدرتی صلاحیتوں کی طرف راہنمائی کرتی ہے۔ یہ آپ کو اپنی حقیقی خود کی شناخت میں مدد فراہم کرتی ہے، جو آپ کو زندگی میں کامیابی اور خوشی کی راہ پر لے جاتی ہے۔
اپنی شناخت کی اہمیت کو تفصیل سے سمجھانے کیلئے، ہم اسے چند مختلف زاویوں سے دیکھ سکتے ہیں:
1. **خود شناسی (Self-awareness):** اپنی شناخت کو جاننے سے آپ خود شناسی حاصل کرتے ہیں۔ آپ اپنی خوبیوں، کمزوریوں، خواہشات، اور علایقہ کو بہتر طریقے سے سمجھ سکتے ہیں۔
2. **مقصد کی طرف راہنمائی:** اپنی شناخت کو جاننے سے، آپ اپنے حقیقی مقاصد اور خوابوں کی طرف راہنمائی حاصل کرتے ہیں۔ آپ کو معلوم ہوتا ہے کہ آپ کیا حقیقت میں چاہتے ہیں اور کس راہ پر جانا چاہتے ہیں۔
3. **مواصلات میں بہتری:** اپنی شناخت کو جاننے سے، آپ اپنے ارتباطات میں بہتری لا سکتے ہیں۔ آپ کو معلوم ہوتا ہے کہ آپ کیا چاہتے ہیں اور دوسرے لوگوں کے ساتھ کس طرح مواصلات کرنا چاہتے ہیں۔
4. **توانائیوں اور کمزوریوں کی شناخت:** اپنی شناخت کو جاننے سے، آپ اپنی قوتوں اور کمزوریوں کو سمجھتے ہیں۔ آپ اپنی قوتوں کو مزید بڑھا سکتے ہیں اور کمزوریوں پر کام کر کے انہیں کم کر سکتے ہیں۔
5. **خود پر قابو:** شناخت کو جاننے سے، آپ اپنے عواطف اور رواج کو بہتر طریقے سے قابو میں رکھ سکتے ہیں۔ آپ اپنی خواہشات اور آرزوؤں کیلئے متعادل رویہ اختیار کر سکتے ہیں۔
با کرہ کی نقطہ نظر سے، اپنی شناخت کو جاننا زندگی میں کامیابی اور انسانی ترقی کے لیے بہت اہم ہے۔
انسان کے اندر حق وباطل کی جنگ اور کیسے جہاد اکبر کریں*
جہاد کے لغوی:
جہاد ’’جہد‘‘ سے نکلا ہے جس کا مطلب ہے ’’مشقت کرنا،ہمت کرنا،کسی کام کے کرنے میں پوری طرح کوشش کرنا۔‘‘
جہاد کے اصطلاحی معنی
شرعی اصطلاح میں جہاد کا معنی اپنی تمام تر جسمانی،ذہنی،مالی اور جانی صلاحیتوں کو اللہ کی رضا کی خاطر نیکی اور بھلائی کے کام میں وقف کر دینا ہے۔
آج کے دور میں جہاد سے صرف لڑائی، قتال اور جنگ مراد لیا جاتا ہے۔ درحقیقت جہاد تو ایک جہد ِمسلسل کا نام ہے جس کا مقصد صرف جنگ و قتال نہیں بلکہ قیامِ امن، نفاذِ عدل، انسانی حقوق کی بحالی اور ظلم کاخاتمہ ہے لیکن آج کل اسلام کے نام پر ہونے والی انتہاپسند اور دہشت گرد کاروائیوں کی وجہ سے جہاد کے تصور سے ذہن میں خون ریزی اور جنگ و جدال کا تاثر اُبھرتا ہے۔ جہاد کا مقصد مالِ غنیمت سمیٹنا اور ملک وسلطنت کی توسیع نہیں بلکہ حقیقت میں جہاد ایک پُرامن، تعمیری، سماجی، اخلاقی اور روحانی جدوجہد کا نام ہے جو حق و صداقت اور انسانیت کی فلاح کے لیے انجام دی جاتی ہے۔ انفرادی سطح سے لے کر اجتماعی سطح تک اور قومی سطح سے لے کر بین الااقوامی سطح تک امن و سلامتی، ترویج و اقامت ِ حق اور رضائے الٰہی کے حصول کے لیے مومن کا اپنی تمام تر جانی، مالی، جسمانی، لسانی اور ذہنی و تخلیقی صلاحیتیں صرف کر دینا جہاد کہلاتاہے۔
اسلام میں جہاد کا مطلب ہے اللہ تعالیٰ کے لیے اس کے دشمنوں سے لڑنا۔ جس طرح ہر شے کا ایک ظاہر اور ایک باطن ہوتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کے بھی ظاہری اور باطنی دونوں طرح کے دشمن ہیں۔ ظاہری دشمن منکر ِ خدا، منکر ِ رسولؐ اور اللہ تعالیٰ کے نافرمان‘ اللہ تعالیٰ کی زمین پر فتنہ و فساد برپا کرنے والے کفار اور مشرکین ہیں۔ ان ظاہری دشمنوں سے لڑنے کے لیے ظاہری ہتھیاروں کی ضرورت ہے تاکہ اللہ کا حکم نافذ
ہو سکے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
اِنِ الْحُکْمُ لِلّٰہِ (الانعام۔57)
ترجمہ: بے شک حکم تو صرف اللہ ہی کا ہے۔
اللہ پاک کا باطنی دشمن ابلیس ہے جو انسان کو راہِ حق سے بھٹکانے کے لیے نفس اور دنیا کو استعمال کرتا ہے۔ جب ابلیس راندئہ بارگاہِ حق ہوا تو اس نے اس بات کا ارادہ کیا کہ قیامت تک اولادِ آدم کو اللہ کے راستے سے بہکاتا رہوں گا لیکن اللہ تعالیٰ نے بھی واضح کر دیا کہ تو میرے بندوں کو سیدھے راستے سے نہیں بھٹکا سکے گا۔ قرآنِ مجید میں یہ واقعہ کچھ اس طرح بیان ہوا ہے :
ابلیس نے کہا اے پروردگار! اس سبب سے جو تو نے مجھے گمراہ کیا میں (بھی) یقینا ان کے لیے زمین میں (گناہوں اور نافرمانیوں کو) خوب آراستہ و خوش نما بنا دوں گا اور ان سب کو ضرور گمراہ کر کے رہوں گا۔ (سورۃ الحجر۔39)
اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
بیشک میرے (اخلاص یافتہ) بندوں پر تیرا کوئی زور نہیں چلے گا سوائے ان بھٹکے ہوؤں کے جنہوں نے تیری راہ اختیار کی۔ (سورۃ الحجر۔42)
شیطان اپنے ہتھیار یعنی نفس اور دنیا کے ذریعے انسان کو حق سے دور کرنے کے لیے ہر دم سرگرمِ عمل ہے لہٰذا ان باطنی دشمنوں سے لڑنے کے لیے باطنی ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ ان کی مکارانہ چالوں سے واقف ہونا بھی ضروری ہے۔ اَن دیکھے دشمن سے لڑنا (جہاد کرنا) ظاہری دشمن سے لڑنے سے قدرے مشکل ہے اس لئے نفس اور اس کی خواہشات، شیطان اور دنیا سے جہاد درجے میں زیادہ افضل ہے۔
جہاد کی اقسام
جہاد کی دو اقسام ہیں:
۱۔جہاد ِاَصغر (ظاہری جہاد)
۲۔جہاد ِ اکبر (باطنی جہاد)
جہادِ اَصغر:
جہادِاصغر سے مراد اہل ِ کفر و عناد کے ساتھ (اپنے دفاع کی خاطر کیا جانے والا) جہاد ہے۔جہادِاصغر کو جہاد بالسیف بھی کہا جاتا ہے۔
جہادِاکبر:
جہادِاکبر سے مراد جہاد بالنفس ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’ جو لوگ ہمارے حق میں جہاد (یعنی مجاہدہ) کرتے ہیں تو ہم یقینا انہیں اپنی ( طرف سَیراور وصول کی) راہیں دکھا دیتے ہیں اور بے شک اللہ احسان کرنے والوں کو اپنی معیت سے نوازتا ہے۔ (العنکبوت۔69)
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے نفس سے جنگ کر کے اس کا تزکیہ کرنے کو جہادِاکبر کا نام دیا ہے اور جب نفس تمام بیماریوں اور بتوں سے نجات پا لیتا ہے تواس کا تزکیہ ہو جا تا ہے۔(بحوالہ کتاب: تزکیہ نفس کا نبویؐ طریق)
حضرت علیؓ نے جہاد با لنفس کے بارے میں فرمایا: ’’(اگلے زمانوں میں) سب سے پہلے تم جس چیز کا انکار کروگے وہ جہاد بالنفس ہو گا۔‘‘ (ابن رجب حنبلی۔جامع العلوم و الحکم)
حضرت جابرؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے پاس غازیوں کی ایک جماعت حاضر ہوئی۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: تمہیں جہادِ اصغر (جہاد بالسیف) سے جہادِ اکبر (جہاد بالنفس) کی طرف لوٹ کرآنا مبارک ہو۔ عرض کیا گیا : جہادِ اکبر کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: انسان کا اپنی نفسانی خواہشات کے خلاف جہاد کرنا جہادِ اکبر ہے۔( اسے امام بیہقی نے ’’الزہد الکبیر‘‘ میں اور خطیب بغدادی و ابن ِعساکر نے روایت کیا ہے)
حضرت ابو ذر غفاریؓ بیان کرتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے عرض کیا: کون سا جہاد سب سے بہتر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: ’’یہ کہ تو اپنے نفس اورخواہشات کے خلاف اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرے۔‘‘
حضرت ابو ذر غفاریؓ سے ہی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: بہترین جہاد یہ ہے کہ انسان راہِ خدا میں اپنے نفس اوراس کی شہوات کے خلاف ریاضت و مجاہدہ کرے۔ (امام سیوطی)
خواجہ حسن بصری ؓ فرماتے ہیں کہ خواہشاتِ نفس کی مخالفت کرنا افضل ترین جہاد ہے۔
حضرت سفیان ثوریؒ کہتے ہیں ’’بے شک تمہارا دشمن وہی نفس ہے جو تمہارے پہلوؤں کے درمیان ہے۔ تم اپنے دشمن کے ساتھ جنگ سے بھی بڑھ کر اپنی نفسانی خواہشات کے ساتھ جنگ کرو۔‘‘
بعض آئمہ کا قول ہے ’’ بہترین جہاد نفس کا مجاہدہ ہے کہ تو اپنے نفس کو حرام سے محفوظ رکھے جس سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے اور اپنی خواہشات سے باز رکھے۔‘‘ (بحوالہ کتاب: الجہاد الاکبر، ڈاکٹر محمد طاہر القادری)
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نفس کیا ہے؟ نفس کی حقیقت کیا ہے؟ جہاد بالنفس کیوں ضروری ہے؟ نفس کے ساتھ جہا د کو کیوں افضل قرار دیا گیا ہے؟ جب حضرت آدمؑ کا بت تیار ہوگیا تو شیطان نے حسد اور نفسانیت کی وجہ سے اس بت پر تھوک دیا۔ یہ تھوک حضرت آدمؑ کی ناف کے مقام پر جا گرا جس سے آدم ؑکے وجود میں نفس کی بنیاد پڑی۔ نفس شیطان کا ہتھیار ہے اور وہ اسی ہتھیار کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے انسانوں کو گمراہ کرتا ہے۔ نفس انسانی بدن میں چور ہے جو انسان کو خدا کی طرف مائل نہیں ہونے دیتا، نفس بندے اور خداکے درمیان حجابِ اکبر ہے۔ نفس سے ہر طرح کی بُری خواہشات اور باغیانہ خیالات پیدا ہوتے ہیں۔ نفس تمام بُرائیوں کی جڑ ہے ۔نفس کفر کی بنیاد ہے کیونکہ اسلام کی لطافت کے ساتھ نفس کو کوئی لگاؤ نہیں ہے۔ نفس راہِ حق سے کبھی فرحت محسوس نہیں کرتا۔ نفس باطل ہے۔ نفس کسی حال میں خوش نہیں ہوتا۔ نفس کے مرنے سے ہی وصالِ الٰہی کی منزل حاصل ہوتی ہے۔
التماس دعا ظہور وفلسطین 🤲🏻🙏😭 💔
اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم
شہر بانو ✍
*#اخلاق منتظرین2* ok
*#موضوع:نفس مطمئنہ کی عظمت، کیسے اس مقام پر فائز ہوسکتے ہیں، انسان کی اصلی خوبیاں۔ماحول کی آلودگیوں سے کیسے بچنا*
👆
*#استادِ محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب*
*#عالمی مرکز مہدویت قم💚*
*Shehr Bano* by me✍🏻
نفس کی جمع انفس ہے۔ نفس ذات شے کو کہتے ہیں خواہ جو ہر ہو یا عرض۔ (جو بذات خود قائم ہو وہ جوہر ہے عرض وہ چیز جو دوسری چیز کی وجہ سے قائم ہو)۔ نفس سے مراد جان یا روح انسانی ہے اسی کو ادراک کہتے ہیں اور وہی دراصل انسان ہے اور یہ جسم اکتساب کمالات کے لیے اس کا آلہ ہے اور، نفوس انسانیہ اپنی استعداد وفیضان کے لحاظ سے مختلف مراتب اور درجات پر ہوتے ہیں نفسانسان کا جسم مٹی اور روح کا مرکب ہے۔ روح کا تعلق انسان کے دل سے ہوتا ہے جبکہ نفس کا تعلق جسم سے ہوتا ہے۔ نفس اور روح کا کام علیحدا علیحدا ہوتا ہے۔ روح تو انتہائی پاکیزہ اور بلند درجہ رکھتی ہے مگر نفس کے تین درجے ہیں۔ جن کو ہم نفس امارہ، نفس لوامہ اور نفس مطمئنہ کا نام دیتے ہیں۔
ان اللہ تعالیٰ خلق ادم وجعل فیہ نفس
ا وروحا فمن الروح عفافہ وفھمہ، وحلمہ وجودہ وسخاۂ ووفاۂ۔ ومن النفس شھوتہ وغضبہ وسفھہ وطیشہ :* کہ اللہ رب العزت نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا اور اس میں نفس بھی رکھا اور روح بھی تو روح سے انسان کی عفت و پاکدامنی اس کا علم وفہم اور اس کا وجودوکرم اور وفاء عہد ہے اور نفس سے اس کی شہوت اس کا غضب اور برافروختگی ہے۔
حدیث کا مضمون نفس اور روح مختلف ہونے دلالت کرتا ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ انسان میں اللہ تعالیٰ نے دو متضاد اور مختلف قوتیں پیدا کی ہیں ایک قوت اس کو خیر پر آمادہ کرنیو الی ہے جس کا نام روح ہے اور دوسری قوت شر پر آمادہ کرنے والی ہے اس کو نفس کہتے ہیں
’’اور کوئی نفس نہیں جانتا کہ وہ کس زمین میں مرے گا۔‘‘
نفس کے معنی شخص، ذات، اصل جان کے ہیں اور قرآن میں نفس ان تمام معانی مختلفہ میں استعمال ہوا ہے۔ مثلاً
(۱)۔ ’’اور کوئی نفس نہیں جانتا کہ وہ کس زمین میں مرے گا۔‘‘ یہاں نفس سے مراد شخص ہے۔
(۲)۔ ’’اے لوگو! بچاؤ اپنے نفس کو اور اپنے گھر والوں کو آگ سے۔‘‘ یہاں نفس سے مراد ذات ہے۔
(۳)۔ ’’اے لوگو! تم ڈرو اپنے رب سے جس نے تم کو پیدا کیا ایک نفس سے۔‘‘ یہاں نفس سے مراد اصل ہے۔
(۴)۔ نکالو تم اپنی جانیں۔‘‘ یہاں نفس سے مراد جان ہے۔
نفس کی اقسام
قرآن مجید میں نفس انسانی بمعنی دل کی تین قسموں کا ذکر کیا گیا ہے۔
نفسِ مطمئنہ
نفس لوامہ
نفس امارہ
نفسِ مطمئنہ
۔نفسِ مطمئنہ سے مراد وہ شخص ہے جس کو اسلام کے احکام اور اس کے پیغام کی سچائی پر دل سے ایسا یقین محکم ہوتا ہے کہ ناپاک جذبات، غلط معقولات اور گمراہ خواہشات کبھی بھی اس یقین میں شکوک و شبہات پیدا نہیں کرسکتیں۔
وہ اللہ کو اپنا رب ہونے پر اسلام کے اپنا دین ہونے پر اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اپنا رسول ہونے پر مطمئن ہوجاتا ہے۔ وہ اللہ اور رسول اللہؐ کے عطا کردہ نظریات اور تصورات کو ہر حال میں دنیا کے دوسرے علوم، اذکار و افکار جو انسان کے ذہن کی پیداوار ہوتے ہیں، افضل اجمل اور اکمل سمجھتا ہے اور زندگی کے ہر پہلو کو قرآن و سنت کی ہدایت کے نور سے منور کرتا ہے۔ وہ اللہ کا پکا اور سچا غلام ہوتا ہے۔ حصول رضائے الٰہی اس کا کام ہوتا ہے۔ ہر پل، ہر گھڑی رضا بہ قضا رہتا ہے۔ ’’رضائے مولیٰ ازہمہ اولیٰ‘‘ اس کی زندگی کا مقصد اعلیٰ ہوتا ہے۔
اس کا دل اللہ سے وابستہ ہوتا ہے۔ اس لیے وہ دنیا کی رنگینیوں پر فریفتہ نہیں ہوتا۔ ذوق خدائی اور لذت آشنائی اسے دو عالم سے بیگانہ کردیتی ہے۔ اللہ کی یاد، اس کا تصور، عشق و مستی اسے دیوانہ و مستانہ بنائے رکھتی ہے۔ دنیا میں رہتا ہے، لوگوں سے ملتا ہے، مگر لگتا ہے ایسا جیسے کہ گویا دل ہے اس کا کہیں کھویا کھویا۔
وہ ہجوم بلا سے ڈرتا نہیں، تندیٔ باد مخالف سے گھبراتا نہیں، طوفان مصائب سے بھاگتا نہیں، شیطان رجیم اسے کسی حال میں صراط مستقیم سے ہٹا سکتا نہیں،
آیت نَفْس مُطمئِّنہ یا آیات نَفْس مُطمئِّنہ، سورہ فجر کی آخری چار آیات کو کہا جاتا ہے جن میں نفس مطمئنہ کی بعض خصوصیات بیان ہوئی ہیں اور صاحب نفس مطمئنہ کو بہشت کی بشارت دی گئی ہے۔ مسلمان علماء کے مطابق صاحب نفس مطمئنہ اس شخص کو کہا جاتا ہے جوخدا پر ایمان رکھنے میں یقین کی منزل پر پہنچ چکا ہو اور گناہ کی طرف بالکل میل ہی نہ رکھتا ہو۔
آیت نفس مطمئنہ
راضیہ اور مرضیہ نفس مطمئنہ کی دو صفات ہیں: راضیہ سے مراد ثواب و عقاب اور قضا و قدر الہی پر نفس مطمئنہ کی رضایت جبکہ مرضیہ نفس مطمئنہ پر خدا کی رضایت کو کہا جاتا ہے۔
مختلف احادیث کے مطابق امام علیؑ، امام حسینؑ اور شیعیان علی ابن ابی طالب نفس مطمئنہ کے مصادیق میں سے ہیں۔
مُطمَئِنّہ، نفس کی اس حالت کو کہا جاتا ہے جس میں انسان یقین اور سکون کی منزلت پر پہنچنے کی وجہ سے گناہ کی طرف رغبت پیدا ہی نہیں کرتا۔[1] مسلمان علماء نقس کے کچھ مراتب اور حالات ذکر کرتے ہیں جن میں سب سے آخری اور پست ترین حالت نفس اَمّارہ ہے جو انسان کو گناہ کی طرف دعوت دیتی ہے۔ اس سے اوپر والے رتبے میں نفس لَوّامہ ہے جس کا حامل شخ گناہ کی انجام دہی کے بعد پشیمان ہوتا ہے اور اپنے آپ کی ملامت کرنے لگتا ہے۔ مراتب نفس میں سب سے اعلی مرتبہ نفس مُطمئنّہ کی ہے۔[2]
تفسیر
آیات نفس مطمئنہ کے ضمن میں اس کے ہر لفظ کے ذیل میں مختلف تفسیری نکات بیان ہوئے ہیں۔ مفسرین کے مطابق ان آیا میں نفس مطمئنہ سے ایسے مؤمنین مراد لیتے ہیں جو ایمان میں یقین اور طمأنینہ کے مقام پر پہنچے ہوئے ہوتے ہیں جس کے بعد کسی شک و تردید کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔[3] علامہ طباطبائی نفس مطمئنہ اس شخص کو کہا جاتا ہے جو خدا پر توکل کی وجہ سے سکون و اطمینان کے مقام پر فائز ہوتے ہیں اور خدا کی مرضی پر یوں راضی رہتا ہے کہ زندگی کے نشیب و فراز اس پر کوئی اثرانداز نہیں ہوتا۔ ایسا شخص عبودیت میں کمال کے درجے پر فائز ہے اور وہ کبھی بھی صراط مستقیم سے منحرف نہیں ہوتا۔[4]
طَبْرِسی مجمعالبیان میں "راضیہ" و "مرضیہ" کی بالترتیب اس طرح تعریف کرتے ہیں: صاحب نفس مطمئنہ خدا کے اجر و ثواب پر راضی ہوتا ہے اور خدا بھی اس کے اعمال سے راضی ہوتا ہے۔[5] علامہ طباطبائی کہتے ہیں نفس مطمئنہ اس بنا پر "راضیہ" و "مرضیہ" سے متصف ہے کہ خدا پر اطمینان رکھنے کی وجہ سے خدا کے قضا و قدر پر راضی رہتا ہے۔ اس بنا پر اس کی زندگی میں پیش آنے والے کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے یہ غمگین اور پریشان نہیں ہوتا اور نہ کسی گناہ میں مبتلا ہوتا ہوتا ہے۔ اور "مرضیہ" یعنی خدا بھی اس پر راضی ہے کیونکہ خدا کسی بھی بندے سے اس وقت ناراضی ہوتا ہے جب وہ عبودیت کے راستے سے خارج ہو جبکہ نفس مطمئنہ کبھی بھی راستے سے خارج نہیں ہوتا۔[6]
تفسیر نمونہ کے مطابق "راضیہ" سے مراد یہ ہے کہ نفس مطمئنہ خدا کے تمام وعدوں کو تحقق یافتہ دیکھتا ہے اور ان پر مکمل راضی اور خوشنود رہتا ہے۔ یہ مقام رضا اور تسلیم کامل کی علامت ہے؛ اس مقام پر پہنچنے والا خدا کی راہ میں ہر چیز کی قربانی سے دریغ نہیں کرتا۔ جبکہ "مرضیہ" سے مراد یہ ہے کہ ایسے لوگوں پر خدا بھی راضی اور خشنود ہیں۔[7]
بعض کہتے ہیں کہ خدا کی طرف سے نفس مطمئنہ کو مورد خطاب واقع ہونا جہاں ارشاد ہوتا ہے: "اِرْجِعی اِلیٰ رَبِّک (ترجمہ: اپنے پروردگار کی طرف لوٹ آ)[؟–؟]"، قیامت کے دن ہے جب مؤمنین بہشت میں داخل ہونگے۔ جبکہ بعض کا خیال ہے کہ یہ خطاب موت کے وقت ہے نہ قیامت کے دن۔[8] علامہ طباطبائی دوسرے نظریے کو قبول کرتے ہیں۔[9]
اسی طرح علامہ طباطبائی کے مطابق "فَادْخُلِي فِي عِبادِي[؟–؟]" سے معلوم ہوتا ہے کہ نفس مطمئنہ مقام عبودیت میں کمال کے درجے پر پہنچ چکا ہے؛ اس مقام پر پہنچنے والا خدا کی پسند اور چاہت کے علاوہ کسی چیز کی طرف چاہت اور ارادہ ہی نہیں کرتا ہے۔[10] علامہ کے مطابق "وَادْخُلِي جَنَّتِي[؟–؟]" میں خاص قسم کا احترام پوشیدہ ہے کیونکہ یہ قرآن کی واحد آیت ہے جس میں خدا نے بہشت کو اپنی طرف نسبت دی ہے۔[11]
نفس مطئنہ کی تفسیر روایی
تفسیر روایی کے منابع میں بعض احادیث میں آیت نفس مطمئنہ کے مصادیق کی طرف اشارہ ہوا ہے۔تفسیر فرات کوفی[12] اور شواہدالتنزیل[13] میں امام صادقؑ سے مروی ایک حدیث کے مطابق امام علیؑ اس آیت کا مصداق ہے۔ کتاب تفسیر قمی کے مطابق امام صادقؑ نے نفس مطمئنہ سے امام حسینؑ مراد لیا ہے۔[14] بحارالانوار میں آیا ہے کہ سورہ فجر سورہ امام حسینؑ ہے؛ کیونکہ امام حسینؑ نفس مطمئنہ کے مالک تھے۔ اس حدیث میں امام حسین کے اصحاب کو راضیہ و مرضیہ کا مصاداق قرار دیا گیا ہے؛ کیونکہ قیامت کے دن یہ لوگ خدا سے اور خدا ان سے راضی ہونگے۔[15]
کتاب کافی میں کلینی نے روایت کی ہے کہ امام صادقؑ نے آیات نفس مطمئنہ کی یوں تفسیر کی ہیں: "يا أَيَّتُہَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّۃُ إِلَى مُحَمَّدٍ وَ أَہْلِ بَيْتِہِ،ارْجِعِي إِلى رَبِّكِ راضِيَۃً بِالْوَلَايَۃِ مَرْضِيَّۃً بِالثَّوَابِ فَادْخُلِي فِي عِبادِي يَعْنِي مُحَمَّداً وَ أَہْلَ بَيْتِہِ وَ ادْخُلِي جَنَّتِي[؟–؟]" (اے وہ نفْس جو محمد اور آل محمدؑ پر اطمینان (یقین) رکھتا ہے، اپنے پروردگار کی طرف لوٹ آؤ، اس حالت میں کہ اہل بیتؑ کی ولایت پر راضی ہو اور خدا کے اجر و ثواب پر بھی راضی ہو گا۔ پس میرے بندوں یعنی محمدؐ اور آل محمدؑ میں شامل ہو جاؤ اور بہشت میں داخل ہو جاؤ)۔[16]
نفس لوامہ
نفس لوامہ / دل زندہ:نفس لوامہ یا دل زندہ، شدت سے ملامت کرنے والا ہوتا ہے۔ وہ فرد بشر جو اپنی بری نیت، بری نظر، بری فکر، بری بات جو کر گزرا اس پر سوچتا ہے تو اس کی شدت سے ملامت اور ندامت ہوتی ہے۔ شیطان کے سبز باغ دکھانے اور بہکانے میں آکر برائی کے دریا میں تیرتے رہنے پر پریشان اور پشیمان ہوتا ہے۔ دل رونے لگتا ہے۔ آنکھوں سے آنسو بہنے لگتے ہیں۔ اللہ کے حضور سربسجود ہوکر توبہ و استغفار کرتا ہے۔ شیطان سے دوستی، یاری، طرف داری ترک کرنے، صحیح راہ پر چلنے اور غلط راہ کو چھوڑنے کا عزم محکم و مصمم کرتا ہے۔ خدا اور رسولؐ سے دوبارہ پیمان وفا باندھتا ہے۔ اب وسواس اور خناس اس کے سامنے بھیس بدل بدل کر آتے جاتے رہتے ہیں لیکن اب وہ ان کے جھانسے میں نہیں آتا۔ اس طرح نفس لوامہ، دل زندہ اور قابل اصلاح ہونے کی علامت ہے۔
نفس امارہ
نفس امارہ/ دل مردہ:پہلے آدمی برائی کرتا ہے۔ پھر برائی، برائی کراتی ہے اور پھر برائی، آدمی پر چڑھائی کردیتی ہے۔
اب آدمی، مکڑی کے جال میں مکھی کی طرح پھنس جاتا ہے۔ اب اس کا یہ حال ہوتا ہے کہ شیطان حاکم و محکوم، خود عبد خناس معبود، زندگی کا مطلوب و مقصود، حق ہو نیست و نابود۔ اب وہ خدا، رسول، دین اور انسان کا شیطان کی طرح دشمن بن جاتا ہے۔ اس قدر شوخ کہ اللہ سے بھی رہتا ہے برہم۔ دین میں خامیاں ڈھونڈنے لگتا ہے۔ کیڑے نکالنے لگتا ہے۔ خوب کو ناخوب اور ناخوب کو خوب بناکر انسانی نظروں کے سامنے پیش کرتا ہے۔ اور دین سے لوگوں کو بے عمل اور بدظن کرتا پھرتا ہے۔
حق سے رشتہ توڑ کر باطل سے رشتہ جوڑ کر، اندھا، گونگا اور بہرا بن جاتا ہے۔ اور کئی امراض قلب مثلاً زیغ دل، زنگ دل، غلاف دل، جہل دل، قفل دل، کور دل، قسوۂ دل، ختم دل جیسی خطرناک نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ شیطان کی طرح اللہ اور اللہ کے نام لینے والوں کا دشمن ہوجاتا ہے۔
رقیبوں نے رپٹ لکھوائی ہے جا جا کے تھانے میں
کہ اکبر نام لیتا ہے خدا کا اس زمانے میں
مذہب کے پرستاروں سے وہ کد، کدر اور کدورت میں حد سے گزر جاتا ہے۔ ڈرانا، دھمکانا، آنکھیں دکھانا اس کا شیوہ بن جاتا ہے۔ نیک نام لوگوں پر الزام، ان کی عزت اور نیک شہرت کو بذریعہ غیبت و تہمت بدنام کرتا پھرتا ہے۔ حسد کی آگ میں جلنا، اشراف کے خلاف افواہیں پھیلانا۔ دو ملے ہوئے دلوں میں میل پیدا کرنا، لوگوں کے کان بھرنا، نفرتوں اور سازشوں کے جال بننا، صبح ہو شام، بس اس کا ہوتا ہے یہی ایک کام۔ خود تو ہوتا ہے حقیقتاً کالا، لیکن حسداً کہتا ہے گورے کو کالا۔ اور اس طرح خود اور کرتا ہے اپنا ہی منہ کالا۔
اس کا کوئی علاج نہیں۔ جسمانی امراض کی طرح رب کریم نے نفسیاتی امراض کے لیے بھی روحانی علاج رکھا ہے۔ ہم تو کچھ بھی نہیں۔ دور رسالت مآبؐ میں تو آوے کا آوا نفس امارہ کا گہوارا تھا۔ لیکن جب انھوں نے اللہ کا پیغام سنا۔ صدق دل سے قبول کیا۔ قرآن کو سینے سے لگایا، دل میں بسایا، اس کی روشنی میں چل کر دکھایا تو ان کی ہر بیماری خزاں کے پتے کی طرح ایک ایک کرکے جھڑتی چلی گئی۔ جو تھے بدنام زمانہ، وہ ایسے، ایک اور ایک نیک بن گئے، شر کے منکر اور خیر کے پیکر ہوگئے کہ ان کو دیکھ کر دنگ رہ گیا زمانہ۔
زمانے کے بدلنے کے ساتھ اصول و اقدار بدلا نہیں کرتے۔ آج بھی ہماری بیماری دل کی شفایابی کے لیے وہی اصول و اقدار ہیں جو کل تھے۔ یعنی قلب میں سوز، روح میں احساس، پیغام رسالتؐ کا خیال خاص۔ کل کا بھولا شام کو گھر لوٹ آئے تو اسے بھولا نہیں کہتے۔ جو ہوچکا سو ہو چکا۔ مگر آج بھی ہم قرآن کا دامن عزم مصمم کے ساتھ تھام لیں تو ہمارا نفس امارہ کا مارا، معاشرہ، حسن و سچائی اور امن و سلامتی کا گہوارہ بن جائے اور رنگ لیل و نہار پر بہار آجائے۔ دنیا اسلاف کی طرح اخلاف کو کبھی دیکھتی رہ جائے۔ مگر نیت، ہمت، محنت، جرأت اور جذبہ شہادت کی ضرورت ہے۔
قرآن نور بھی ہے ہدیٰ بھی ہے۔ دعا بھی ہے، شفا بھی ہے اور اس بات کی صدا بھی ہے:
ہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیں
راہ دکھلائیں کسے؟ رہروِ منزل ہی نہیں
۔*#اخلاق منتظرین2*
*#موضوع:نفس مطمئنہ کی عظمت، کیسے اس مقام پر فائز ہوسکتے ہیں، انسان کی اصلی خوبیاں۔ماحول کی آلودگیوں سے کیسے بچنا*
👆
*#استادِ محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب*
*#عالمی مرکز مہدویت قم💚*
*Shehr Bano* by me✍🏻
نفس کی جمع انفس ہے۔ نفس ذات شے کو کہتے ہیں خواہ جو ہر ہو یا عرض۔ (جو بذات خود قائم ہو وہ جوہر ہے عرض وہ چیز جو دوسری چیز کی وجہ سے قائم ہو)۔ نفس سے مراد جان یا روح انسانی ہے اسی کو ادراک کہتے ہیں اور وہی دراصل انسان ہے اور یہ جسم اکتساب کمالات کے لیے اس کا آلہ ہے اور، نفوس انسانیہ اپنی استعداد وفیضان کے لحاظ سے مختلف مراتب اور درجات پر ہوتے ہیں نفسانسان کا جسم مٹی اور روح کا مرکب ہے۔ روح کا تعلق انسان کے دل سے ہوتا ہے جبکہ نفس کا تعلق جسم سے ہوتا ہے۔ نفس اور روح کا کام علیحدا علیحدا ہوتا ہے۔ روح تو انتہائی پاکیزہ اور بلند درجہ رکھتی ہے مگر نفس کے تین درجے ہیں۔ جن کو ہم نفس امارہ، نفس لوامہ اور نفس مطمئنہ کا نام دیتے ہیں۔
نفس کی اقسام
نفس امارہ
نفس امارہ
نفس مطمئنہ
نفس انسانی کی تین حالتیں : 1۔ نفس مطمئنہ۔ ہر حال میں مطمئن یعنی نیکی پر قائم رہنے والا نفس۔ (الفجر : 27)
يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ
نفس مطمئنہ : جو انسان کو اطاعت الہی اور اللہ کے ذکر فکر میں مطمئن رکھتا ہے اور خواہشات کی کشمش اور گناہوں کے خطراب سے دور رکھتا ہے 2۔ نفس لوّامہ۔ گناہ پر ملامت کرنے والا نفس۔ (القیامہ : 2)
وَلَا أُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِ
نفس لوامہ : ۔۔۔۔۔۔ جو انسان کو گناہوں پر ملامت کرتا ہے کہ یہ کام بہت برا تھا تم نے کیوں کیا؟ 3۔ نفس امّارہ۔ گناہ پر ابھارنے والا نفس۔ (یوسف : 53)
وَمَا أُبَرِّىءُ نَفْسِي إِنَّ النَّفْسَ لأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ إِلاَّ مَا رَحِمَ رَبِّيَ إِنَّ رَبِّي غَفُورٌ رَّحِيمٌ
نفس امارہ : ۔۔۔۔۔۔ جو انسان کو گناہوں پر آمادہ کرتا ہے۔
بعض حضرات نے کہا ہے کہ یہ نفس کی الگ الگ تین قسمیں نہیں بلک ایک ہی نفس کی مختلف کیفیات وصفات ہیں۔ چنانچہ نفس امارہ ہر نفس کی ذاتی صفت ہے جو شہوت وغضب کے وقت عقل وشرع کے حکم پر غلبہ کرتا ہے۔ لوامہ ہونا بھی ہر نفس کی صفت ہے جس وقت وہ عقل وشرع کی طرف توجہ کرتا ہے اور خیر وشر کے درمیان فرق و پہچان کرتا ہے۔ اور مطمئنہ بھی ہر نفس کی صفت ہے مگر یہ صفت اور کیفیت اس وقت حاصل ہوتی ہے جب ذکر کا نور بدن کے تمام اجزاء پر غالب ہوجاتا ہے [1]
نفس لوامہ :* انسان کے اندر ایک اور نفس بھی ہے جس کی قسم کھائی گئی ہے۔ وہ نفس لوامہ ہے، یعنی انسان کو اندر سے ٹوکنے والا، ملامت کرنے والا، آڈیٹر یا محتسب جس کو ہم ضمیر کہتے ہیں۔ یہ امر ربی اور روح کا مظہر ہے۔ شاہ ولی اللہ دہلوی (رح) اس کے لیے ملکیت کا نام استعمال کرتے ہیں کہ یہ فرشتوں کی صفات رکھتا ہے۔ اس طرح انسان بنیادی طور پر دو نفوس کا حامل ہے یعنی نفس امارہ اور نفس لوامہ۔ بھیمیت اور اول الذکر صفات جانوروں کی ہیں یعنی انسان زیادہ کھائے، زیادہ پئے، زیادہ سوئے اور زیادہ لذت اٹھائے او اس امر میں اگر دوسروں کا حق مارنا پڑے تو اس سے گریز نہ کرے۔ جبکہ مؤخر الذکر نفس لوامہ (ملکیت) کی صفات یہ ہیں کہ وہ کم کھاتا، کم پیتا ہے اور کم سوتا ہے۔ ہر وقت اللہ تبارک وتعالیٰ کا ذکر کرتا رہتا ہے۔ اپنی ہر غرض سے بے نیاز ہو کر دوسروں کی خدمت کرتا چلا جاتا ہے۔[2]
*#اخلاق منتظرین2*
*#موضوع:نفس مطمئنہ کی عظمت، کیسے اس مقام پر فائز ہوسکتے ہیں، انسان کی اصلی خوبیاں۔ماحول کی آلودگیوں سے کیسے بچنا*
👆
*#استادِ محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب*
*#عالمی مرکز مہدویت قم💚*
خلاصہ اخلاق منتظرین 2
نفس کی تعریف اور اس کے درجے
نفس کی جمع انفس ہے۔ نفس ذات شے کو کہتے ہیں خواہ جو ہر ہو یا عرض۔ (جو بذات خود قائم ہو وہ جوہر ہے عرض وہ چیز جو دوسری چیز کی وجہ سے قائم ہو)۔ نفس سے مراد جان یا روح انسانی ہے اسی کو ادراک کہتے ہیں اور وہی دراصل انسان ہے اور یہ جسم اکتساب کمالات کے لیے اس کا آلہ ہے اور، نفوس انسانیہ اپنی استعداد وفیضان کے لحاظ سے مختلف مراتب اور درجات پر ہوتے ہیں نفس
انسان کا جسم مٹی اور روح کا مرکب ہے۔ روح کا تعلق انسان کے دل سے ہوتا ہے جبکہ نفس کا تعلق جسم سے ہوتا ہے۔ نفس اور روح کا کام علیحدا علیحدا ہوتا ہے۔ روح تو انتہائی پاکیزہ اور بلند درجہ رکھتی ہے مگر نفس کے تین درجے ہیں۔ جن کو ہم نفس امارہ، نفس لوامہ اور نفس مطمئنہ کا نام دیتے ہیں۔
نفسِ مطمئنہ
۔نفسِ مطمئنہ سے مراد وہ شخص ہے جس کو اسلام کے احکام اور اس کے پیغام کی سچائی پر دل سے ایسا یقین محکم ہوتا ہے کہ ناپاک جذبات، غلط معقولات اور گمراہ خواہشات کبھی بھی اس یقین میں شکوک و شبہات پیدا نہیں کرسکتیں۔
آیت نَفْس مُطمئِّنہ یا آیات نَفْس مُطمئِّنہ، سورہ فجر کی آخری چار آیات کو کہا جاتا ہے جن میں نفس مطمئنہ کی بعض خصوصیات بیان ہوئی ہیں اور صاحب نفس مطمئنہ کو بہشت کی بشارت دی گئی ہے۔ مسلمان علماء کے مطابق صاحب نفس مطمئنہ اس شخص کو کہا جاتا ہے جوخدا پر ایمان رکھنے میں یقین کی منزل پر پہنچ چکا ہو اور گناہ کی طرف بالکل میل ہی نہ رکھتا ہو۔
آیت نفس مطمئنہ
راضیہ اور مرضیہ نفس مطمئنہ کی دو صفات ہیں: راضیہ سے مراد ثواب و عقاب اور قضا و قدر الہی پر نفس مطمئنہ کی رضایت جبکہ مرضیہ نفس مطمئنہ پر خدا کی رضایت کو کہا جاتا ہے۔
مختلف احادیث کے مطابق امام علیؑ، امام حسینؑ اور شیعیان علی ابن ابی طالب نفس مطمئنہ کے مصادیق میں سے ہیں۔
مُطمَئِنّہ، نفس کی اس حالت کو کہا جاتا ہے جس میں انسان یقین اور سکون کی منزلت پر پہنچنے کی وجہ سے گناہ کی طرف رغبت پیدا ہی نہیں کرتا۔[1] مسلمان علماء نقس کے کچھ مراتب اور حالات ذکر کرتے ہیں جن میں سب سے آخری اور پست ترین حالت نفس اَمّارہ ہے جو انسان کو گناہ کی طرف دعوت دیتی ہے۔ اس سے اوپر والے رتبے میں نفس لَوّامہ ہے جس کا حامل شخ گناہ کی انجام دہی کے بعد پشیمان ہوتا ہے اور اپنے آپ کی ملامت کرنے لگتا ہے۔ مراتب نفس میں سب سے اعلی مرتبہ نفس مُطمئنّہ کی ہے۔[2]
تفسیر
آیات نفس مطمئنہ کے ضمن میں اس کے ہر لفظ کے ذیل میں مختلف تفسیری نکات بیان ہوئے ہیں۔ مفسرین کے مطابق ان آیا میں نفس مطمئنہ سے ایسے مؤمنین مراد لیتے ہیں جو ایمان میں یقین اور طمأنینہ کے مقام پر پہنچے ہوئے ہوتے ہیں جس کے بعد کسی شک و تردید کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔[3] علامہ طباطبائی نفس مطمئنہ اس شخص کو کہا جاتا ہے جو خدا پر توکل کی وجہ سے سکون و اطمینان کے مقام پر فائز ہوتے ہیں اور خدا کی مرضی پر یوں راضی رہتا ہے کہ زندگی کے نشیب و فراز اس پر کوئی اثرانداز نہیں ہوتا۔ ایسا شخص عبودیت میں کمال کے درجے پر فائز ہے اور وہ کبھی بھی صراط مستقیم سے منحرف نہیں ہوتا۔[4]
طَبْرِسی مجمعالبیان میں "راضیہ" و "مرضیہ" کی بالترتیب اس طرح تعریف کرتے ہیں: صاحب نفس مطمئنہ خدا کے اجر و ثواب پر راضی ہوتا ہے اور خدا بھی اس کے اعمال سے راضی ہوتا ہے۔[5] علامہ طباطبائی کہتے ہیں نفس مطمئنہ اس بنا پر "راضیہ" و "مرضیہ" سے متصف ہے کہ خدا پر اطمینان رکھنے کی وجہ سے خدا کے قضا و قدر پر راضی رہتا ہے۔ اس بنا پر اس کی زندگی میں پیش آنے والے کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے یہ غمگین اور پریشان نہیں ہوتا اور نہ کسی گناہ میں مبتلا ہوتا ہوتا ہے۔ اور "مرضیہ" یعنی خدا بھی اس پر راضی ہے کیونکہ خدا کسی بھی بندے سے اس وقت ناراضی ہوتا ہے جب وہ عبودیت کے راستے سے خارج ہو جبکہ نفس مطمئنہ کبھی بھی راستے سے خارج نہیں ہوتا۔[6]
تفسیر نمونہ کے مطابق "راضیہ" سے مراد یہ ہے کہ نفس مطمئنہ خدا کے تمام وعدوں کو تحقق یافتہ دیکھتا ہے اور ان پر مکمل راضی اور خوشنود رہتا ہے۔ یہ مقام رضا اور تسلیم کامل کی علامت ہے؛ اس مقام پر پہنچنے والا خدا کی راہ میں ہر چیز کی قربانی سے دریغ نہیں کرتا۔ جبکہ "مرضیہ" سے مراد یہ ہے کہ ایسے لوگوں پر خدا بھی راضی اور خشنود ہیں۔[7]
بعض کہتے ہیں کہ خدا کی طرف سے نفس مطمئنہ کو مورد خطاب واقع ہونا جہاں ارشاد ہوتا ہے: "اِرْجِعی اِلیٰ رَبِّک (ترجمہ: اپنے پروردگار کی طرف لوٹ آ)[؟–؟]"، قیامت کے دن ہے جب مؤمنین بہشت میں داخل ہونگے۔ جبکہ بعض کا خیال ہے کہ یہ خطاب موت کے وقت ہے نہ قیامت کے دن۔[8] علامہ طباطبائی دوسرے نظریے کو قبول کرتے ہیں۔[9]
اسی طرح علامہ طباطبائی کے مطابق "فَادْخُلِي فِي عِبادِي[؟–؟]" سے معلوم ہوتا ہے کہ نفس مطمئنہ مقام عبودیت میں کمال کے درجے پر پہنچ چکا ہے؛ اس مقام پر پہنچنے والا خدا کی پسند اور چاہت کے علاوہ کسی چیز کی طرف چاہت اور ارادہ ہی نہیں کرتا ہے۔[10] علامہ کے مطابق "وَادْخُلِي جَنَّتِي[؟–؟]" میں خاص قسم کا احترام پوشیدہ ہے کیونکہ یہ قرآن کی واحد آیت ہے جس میں خدا نے بہشت کو اپنی طرف نسبت دی ہے۔[11]
نفس مطئنہ کی تفسیر روایی
تفسیر روایی کے منابع میں بعض احادیث میں آیت نفس مطمئنہ کے مصادیق کی طرف اشارہ ہوا ہے۔تفسیر فرات کوفی[12] اور شواہدالتنزیل[13] میں امام صادقؑ سے مروی ایک حدیث کے مطابق امام علیؑ اس آیت کا مصداق ہے۔ کتاب تفسیر قمی کے مطابق امام صادقؑ نے نفس مطمئنہ سے امام حسینؑ مراد لیا ہے۔[14] بحارالانوار میں آیا ہے کہ سورہ فجر سورہ امام حسینؑ ہے؛ کیونکہ امام حسینؑ نفس مطمئنہ کے مالک تھے۔ اس حدیث میں امام حسین کے اصحاب کو راضیہ و مرضیہ کا مصاداق قرار دیا گیا ہے؛ کیونکہ قیامت کے دن یہ لوگ خدا سے اور خدا ان سے راضی ہونگے۔[15]
کتاب کافی میں کلینی نے روایت کی ہے کہ امام صادقؑ نے آیات نفس مطمئنہ کی یوں تفسیر کی ہیں: "يا أَيَّتُہَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّۃُ إِلَى مُحَمَّدٍ وَ أَہْلِ بَيْتِہِ،ارْجِعِي إِلى رَبِّكِ راضِيَۃً بِالْوَلَايَۃِ مَرْضِيَّۃً بِالثَّوَابِ فَادْخُلِي فِي عِبادِي يَعْنِي مُحَمَّداً وَ أَہْلَ بَيْتِہِ وَ ادْخُلِي جَنَّتِي[؟–؟]" (اے وہ نفْس جو محمد اور آل محمدؑ پر اطمینان (یقین) رکھتا ہے، اپنے پروردگار کی طرف لوٹ آؤ، اس حالت میں کہ اہل بیتؑ کی ولایت پر راضی ہو اور خدا کے اجر و ثواب پر بھی راضی ہو گا۔ پس میرے بندوں یعنی محمدؐ اور آل محمدؑ میں شامل ہو جاؤ اور بہشت میں داخل ہو جاؤ)۔[16]
نفس لوامہ
نفس لوامہ / دل زندہ:نفس لوامہ یا دل زندہ، شدت سے ملامت کرنے والا ہوتا ہے۔ وہ فرد بشر جو اپنی بری نیت، بری نظر، بری فکر، بری بات جو کر گزرا اس پر سوچتا ہے تو اس کی شدت سے ملامت اور ندامت ہوتی ہے۔ شیطان کے سبز باغ دکھانے اور بہکانے میں آکر برائی کے دریا میں تیرتے رہنے پر پریشان اور پشیمان ہوتا ہے۔ دل رونے لگتا ہے۔ آنکھوں سے آنسو بہنے لگتے ہیں۔ اللہ کے حضور سربسجود ہوکر توبہ و استغفار کرتا ہے۔ شیطان سے دوستی، یاری، طرف داری ترک کرنے، صحیح راہ پر چلنے اور غلط راہ کو چھوڑنے کا عزم محکم و مصمم کرتا ہے۔ خدا اور رسولؐ سے دوبارہ پیمان وفا باندھتا ہے۔ اب وسواس اور خناس اس کے سامنے بھیس بدل بدل کر آتے جاتے رہتے ہیں لیکن اب وہ ان کے جھانسے میں نہیں آتا۔ اس طرح نفس لوامہ، دل زندہ اور قابل اصلاح ہونے کی علامت ہے۔
نفس امارہ
نفس امارہ/ دل مردہ:پہلے آدمی برائی کرتا ہے۔ پھر برائی، برائی کراتی ہے اور پھر برائی، آدمی پر چڑھائی کردیتی ہے۔
اب آدمی، مکڑی کے جال میں مکھی کی طرح پھنس جاتا ہے۔ اب اس کا یہ حال ہوتا ہے کہ شیطان حاکم و محکوم، خود عبد خناس معبود، زندگی کا مطلوب و مقصود، حق ہو نیست و نابود۔ اب وہ خدا، رسول، دین اور انسان کا شیطان کی طرح دشمن بن جاتا ہے۔ اس قدر شوخ کہ اللہ سے بھی رہتا ہے برہم۔ دین میں خامیاں ڈھونڈنے لگتا ہے۔ کیڑے نکالنے لگتا ہے۔ خوب کو ناخوب اور ناخوب کو خوب بناکر انسانی نظروں کے سامنے پیش کرتا ہے۔ اور دین سے لوگوں کو بے عمل اور بدظن کرتا پھرتا ہے۔
حق سے رشتہ توڑ کر باطل سے رشتہ جوڑ کر، اندھا، گونگا اور بہرا بن جاتا ہے۔ اور کئی امراض قلب مثلاً زیغ دل، زنگ دل، غلاف دل، جہل دل، قفل دل، کور دل، قسوۂ دل، ختم دل جیسی خطرناک نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ شیطان کی طرح اللہ اور اللہ کے نام لینے والوں کا دشمن ہوجاتا ہے۔
رقیبوں نے رپٹ لکھوائی ہے جا جا کے تھانے میں
کہ اکبر نام لیتا ہے خدا کا اس زمانے میں
مذہب کے پرستاروں سے وہ کد، کدر اور کدورت میں حد سے گزر جاتا ہے۔ ڈرانا، دھمکانا، آنکھیں دکھانا اس کا شیوہ بن جاتا ہے۔ نیک نام لوگوں پر الزام، ان کی عزت اور نیک شہرت کو بذریعہ غیبت و تہمت بدنام کرتا پھرتا ہے۔ حسد کی آگ میں جلنا، اشراف کے خلاف افواہیں پھیلانا۔ دو ملے ہوئے دلوں میں میل پیدا کرنا، لوگوں کے کان بھرنا، نفرتوں اور سازشوں کے جال بننا، صبح ہو شام، بس اس کا ہوتا ہے یہی ایک کام۔ خود تو ہوتا ہے حقیقتاً کالا، لیکن حسداً کہتا ہے گورے کو کالا۔ اور اس طرح خود اور کرتا ہے اپنا ہی منہ کالا۔
اس کا کوئی علاج نہیں۔ جسمانی امراض کی طرح رب کریم نے نفسیاتی امراض کے لیے بھی روحانی علاج رکھا ہے۔ ہم تو کچھ بھی نہیں۔ دور رسالت مآبؐ میں تو آوے کا آوا نفس امارہ کا گہوارا تھا۔ لیکن جب انھوں نے اللہ کا پیغام سنا۔ صدق دل سے قبول کیا۔ قرآن کو سینے سے لگایا، دل میں بسایا، اس کی روشنی میں چل کر دکھایا تو ان کی ہر بیماری خزاں کے پتے کی طرح ایک ایک کرکے جھڑتی چلی گئی۔ جو تھے بدنام زمانہ، وہ ایسے، ایک اور ایک نیک بن گئے، شر کے منکر اور خیر کے پیکر ہوگئے کہ ان کو دیکھ کر دنگ رہ گیا زمانہ۔
زمانے کے بدلنے کے ساتھ اصول و اقدار بدلا نہیں کرتے۔ آج بھی ہماری بیماری دل کی شفایابی کے لیے وہی اصول و اقدار ہیں جو کل تھے۔ یعنی قلب میں سوز، روح میں احساس، پیغام رسالتؐ کا خیال خاص۔ کل کا بھولا شام کو گھر لوٹ آئے تو اسے بھولا نہیں کہتے۔ جو ہوچکا سو ہو چکا۔ مگر آج بھی ہم قرآن کا دامن عزم مصمم کے ساتھ تھام لیں تو ہمارا نفس امارہ کا مارا، معاشرہ، حسن و سچائی اور امن و سلامتی کا گہوارہ بن جائے اور رنگ لیل و نہار پر بہار آجائے۔ دنیا اسلاف کی طرح اخلاف کو کبھی دیکھتی رہ جائے۔ مگر نیت، ہمت، محنت، جرأت اور جذبہ شہادت کی ضرورت ہے۔
قرآن نور بھی ہے ہدیٰ بھی ہے۔ دعا بھی ہے، شفا بھی ہے اور اس بات کی صدا بھی ہے:
ہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیں
راہ دکھلائیں کسے؟ رہروِ منزل ہی نہیں
التماس دعا ظہور وفلسطین 🤲🏻🙏😭 💔
اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم
شہر بانو ✍
*#اخلاق منتظرین2*
*#موضوع:نفس مطمئنہ کی عظمت، کیسے اس مقام پر فائز ہوسکتے ہیں، انسان کی اصلی خوبیاں۔ماحول کی آلودگیوں سے کیسے بچنا*
👆
*#استادِ محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب*
*#عالمی مرکز مہدویت قم💚*
نفس کی جمع انفس ہے۔ نفس ذات شے کو کہتے ہیں خواہ جو ہر ہو یا عرض۔ (جو بذات خود قائم ہو وہ جوہر ہے عرض وہ چیز جو دوسری چیز کی وجہ سے قائم ہو)۔ نفس سے مراد جان یا روح انسانی ہے اسی کو ادراک کہتے ہیں اور وہی دراصل انسان ہے اور یہ جسم اکتساب کمالات کے لیے اس کا آلہ ہے اور، نفوس انسانیہ اپنی استعداد وفیضان کے لحاظ سے مختلف مراتب اور درجات پر ہوتے ہیں نفس
انسان کا جسم مٹی اور روح کا مرکب ہے۔ روح کا تعلق انسان کے دل سے ہوتا ہے جبکہ نفس کا تعلق جسم سے ہوتا ہے۔ نفس اور روح کا کام علیحدا علیحدا ہوتا ہے۔ روح تو انتہائی پاکیزہ اور بلند درجہ رکھتی ہے مگر نفس کے تین درجے ہیں۔ جن کو ہم نفس امارہ، نفس لوامہ اور نفس مطمئنہ کا نام دیتے ہیں۔
تالیفات معظم له > قرآنی آثار > تفسیر نمونه جلد 27 > اے صاحب نفس مطمئنہ!
اے صاحب نفس مطمئنہ!
اس دن بیدار ہوں گے کہ جب پانی سر سے اونچا ہو چکا ہو گا ۔ سورہ ٴبلد
اس وحشت ناک عذاب کے تذکرے کے بعد جو سر کشوں اور دنیا پرستوں پر قیامت میں نازل ہوگا ، زیر بحث آیات میں ا سکے بر عکس ، جو صورتِ حال ہے اس کو پیش کرتاہے ، اب نفس مطمئنہ اور ان مومنین کی طرف جو ان عظیم طوفانوں میں مکمل سکون و اطمینا ن سے بہرہ وررہے ، متوجہ انہیں نہایت لطف و محبت سے مخاطب کرتے ہوئے فرماتاہے :
” اے نفس مطمئنہ!“ ( یا ایھا النفس المطمئنة) ۔ اپنے پروردگارکی طرف پلٹ آ، اس حالت میں کہ تو اس سے راضی ہے اور وہ تجھ سے راضی ہے“۔(ارجعی الیٰ ربک راضیة مرضیة)۔” اور میرے بندوں کی صف میں داخل ہوجا “۔ ( فادخلی فی عبادی) ۔ ” اور میری جنت میں داخل ہوجا “۔(وادخلی جنتی )۔ کیاہی پرکشش، دل خوش کن اور روح پرور تعبیر یں ہیں ، جن سے لطف وصفا اور اطمینان کی خوشبو آتی ہے ۔
پروردگار کی دعوت مستقیم ایسے نفوس کے لئے ، جو ایمان کے سائے میں اطمینان و سکون کی حالت میں پہنچے ہوئے ہیں ، انہیں اپنے پروردگار ، اپنے مالک ومربی اور مصلح کی طر ف باز گشت کی دعوت دیتا ہے ، ایسی دعوت جو طرفین کی رضا مندی لئے ہوئے ، دلدادہ عاشق کی رضامندی معشوق کے لئے اور محبوب ومعبودحقیقی کی رضامندی ۔ اس کے بعد افتخارِ عبودیت کا تاج ا س کے سر پر رکھنا اور لباس زندگی سے اسے مفتخر کرنا اور اپنے خاصانِ بارگاہ کی مسلک میں انہیں پرونا اور جگہ دینا ۔
اس کے بعد انہیں جنت میں ورود کی دعوت دینا اور وہ بھی ” میری جنت میں داخل ہو جا“ کی تعبیر کے ساتھ جو بتاتی ہے کہ اس مہمان کامیز بان صرف اور صرف خدا کی ذات پاک ہے ۔ عجیب دعوت ، عجیب مہمان اور عجیب میزبانی ہے ۔
نف سے مراد وہی انسان ہے اور مطمئنہ کی تعبیر اس سکون و اطمینان کی طرف اشارہ ہے جو ایمان کے پر تو کے سائے میں پیدا ہوا ہے ، جیسا کہ قرآن کہتا ہے :( الابذکر اللہ تطمئن القلوب) ” جان لو کہ صرف اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو سکون و اطمینان حاصل ہوتا ہے “۔ ( رعد۔ ۲۸) اس قسم کا نفس اللہ کے وعدوں پر بھی اطمینان رکھتا ہے اور جو راہ اس نے اختیار کی ہے اس پر بھی مطمئن ہوتا ہے ۔ دنیا اس کی طرف بڑھے ، تب بھی اور اس سے منہ موڑے تب بھی ، طوفان میں بھی اور حوادث و بلا میں بھی ،اور سب سے بالاتر خوف و وحشت اور قیامت کے عظیم اضطراب میں بھی۔
پروردگار کی طرف باز گشت سے مراد ، مفسرین کی ایک جماعت کے نظریہ کے مطابق ، ا سکے ثواب و رحمت کی طرف باز گشت ہے ، یعنی اس کے جوار قرب میں جگہ پانا، معنوی و روحانی باز گشت پاناکہ مادی و جسمانی ۔
کیا پروردگا رکی طرف یہ باز گشت صرف قیامت میںہوگی یا جان دینے والے عمر کے لمحات کے ختم ہونے سے متعلق ہے ؟ آیا ت کا سیاق تو البتہ قیامت
سے مربوط ہے ، اگر چہ اس آیت کی تعبیر مطلق و وسیع ہے ، راضیہ کی تعبیر اس بناء پر ہے کہ ثواب ِ خدا وندی کے تمام وعدوں کو ، اس سے زیادہ کہ جتنا وہ تصور کرسکتا تھا ، وہ حقیقی طور پر دیکھے گا اور اس طرح خدا کا فضل و کرم اس کے شامل حال ہوگا کہ وہ جسم رضا بن جائے گا ۔ باقی رہا مرضیہ کی تعبیر تو وہ اس بناپر ہے کہ وہ مورد ِ قبول و رضائے دوست واقع ہوا ہے ۔
اس قسم کا بندہ اس طرح کے اوصاف کے ساتھ اور مکمل رضا و تسلیم کے مقام پرپہنچنے کے ساتھ ، جس نے عبودیت کی اس حقیقت کو جو معبود کی راہ میں ہر چیز کو چھوڑ دینا ہے ، پالیا ہے اور اس نے خدا کے بندگان ِ خاص کے دائرہ میں قدم رکھا ہے ۔ یقینا ا س کے لئے جنت کے علاوہ کوئی دوسری جگہ نہیں ہے ۔
بعض تفاسیر میں آیاہے کہ یہ آیتیں سید الشہداء حضرت حمزہ ۻ کے بارے میں نازل ہوئی ہیں ، لیکن اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ یہ سورہ مکی ہے ، یہ حقیقت میں ایک قسم کی تطبیق ہے ، نہ کہ شانِ نزول ، جیسا کہ امام حسین کے بارے میں بھی ہم نے سورہ کے آغاز میں پڑھا ہے ۔ قابل توجہ یہ کہ کافی میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ایک روایت میں ہمیں ملتاہے کہ آپ کے ایک صحابی نے پوچھا کہ کیا یہ ممکن ہے کہ ایک مومن اپنی روح کے قبض ہوجانے سے خوش نہ ہو ؟ تو آپ نے فرمایا: ” نہیں خدا کی قسم ! جب موت کا فرشتہ اس کی روح قبض کرنے کے لئے آتاہے تو ناخوشی و ناراضی کا اظہار کرتا ہے ۔ اس وقت موت کا فرشتہ اس سے کہتا ہے ” اے ولی خدا ! پریشان نہ ہو قسم ہے اس ذات کی جس نے محمد کو مبعوث کیا ہے ، میں تجھ پرمہر بان باپ سے زیادہ شفیق ہوں ٹھیک طرح سے اپنی آنکھیں کھول کر دیکھ لے “ وہ دیکھے گا رسول خدا ، امیر المومنین حضرت فاطمہ زہر حسن و حسین اور باقی ائمہ تیرے دوست و محبوب ہیں “ وہ اپنی آنکھوں کو کھولے گا اور دیکھے گا ۔ اچانک ایک کہنے والا پروردگار کی طرف سے کہے گا ” یا ایتھا النفس المطمئنة“ اے وہ شخص جو حضرت اور ان کے اہلبیت پر ایمان رکھتا ہے ، پلٹ آ، اپنے پروردگار کی جانب، اس حالت میں کہ تو ان کی ولایت پر راضی ہے اور و ہ اپنے ثواب پر تجھ سے راضی ہیں ۔ داخل ہوجا میرے بندوں یعنی محمد اور ان کے اہلبیت کے درمیان اور داخل ہو جامیری جنت میں تو اس موقع پر اس مومن کے لئے کوئی اور چیز زیادہ محبوب نہیں ہوگی ۔
وہ چاہے گا کہ جس قدر جلد ہو روح بدن سے رہا ہو اور اس منادی کے ساتھ مل جائے “۔ ۱
خدا وند! ہمیں اس قسم کے اطمینان و سکون سے مفتخر فرماتاکہ ہم اس عظیم خطاب کے لائق و شائستہ بنیں ۔
پروردگارا ! اس مقام تک پہنچنا تیرے لطف و کرم کے بغیر ممکن نہیں ہے ہمیں اپنے لطف و کرم سے نواز ۔
خدا وندا ! یقینا کوئی چیز تیرے کرم سے کم نہیں ہوگی ، اگر ہمیں صاحبان ِ نفوس ِ مطمئنہ میں سے قرار دے ہم پر احسان و کرم فرما۔
بار الہٰا! ہم جانتے ہیں کہ یہ سکون و اطمنان تیرے ذکر کے سائے کے بغیر ممکن نہیں ہے ۔ تو ہمیں اپنے ذکر کی خود توفیق عطا فرما۔
آمین یا رب العالمین
۱۔ کافی جلد ۳، باب ان الموٴمن ل ایکرہ علی قبض روحہ ۔ حدیث ۲۔
اس دن بیدار ہوں گے کہ جب پانی سر سے اونچا ہو چکا ہو گا ۔ سورہ ٴبلد
نفس لوامہ
نفس لوامہ / دل زندہ:نفس لوامہ یا دل زندہ، شدت سے ملامت کرنے والا ہوتا ہے۔ وہ فرد بشر جو اپنی بری نیت، بری نظر، بری فکر، بری بات جو کر گزرا اس پر سوچتا ہے تو اس کی شدت سے ملامت اور ندامت ہوتی ہے۔ شیطان کے سبز باغ دکھانے اور بہکانے میں آکر برائی کے دریا میں تیرتے رہنے پر پریشان اور پشیمان ہوتا ہے۔ دل رونے لگتا ہے۔ آنکھوں سے آنسو بہنے لگتے ہیں۔ اللہ کے حضور سربسجود ہوکر توبہ و استغفار کرتا ہے۔ شیطان سے دوستی، یاری، طرف داری ترک کرنے، صحیح راہ پر چلنے اور غلط راہ کو چھوڑنے کا عزم محکم و مصمم کرتا ہے۔ خدا اور رسولؐ سے دوبارہ پیمان وفا باندھتا ہے۔ اب وسواس اور خناس اس کے سامنے بھیس بدل بدل کر آتے جاتے رہتے ہیں لیکن اب وہ ان کے جھانسے میں نہیں آتا۔ اس طرح نفس لوامہ، دل زندہ اور قابل اصلاح ہونے کی علامت ہے۔
نفس امارہ
نفس امارہ/ دل مردہ:پہلے آدمی برائی کرتا ہے۔ پھر برائی، برائی کراتی ہے اور پھر برائی، آدمی پر چڑھائی کردیتی ہے۔
اب آدمی، مکڑی کے جال میں مکھی کی طرح پھنس جاتا ہے۔ اب اس کا یہ حال ہوتا ہے کہ شیطان حاکم و محکوم، خود عبد خناس معبود، زندگی کا مطلوب و مقصود، حق ہو نیست و نابود۔ اب وہ خدا، رسول، دین اور انسان کا شیطان کی طرح دشمن بن جاتا ہے۔ اس قدر شوخ کہ اللہ سے بھی رہتا ہے برہم۔ دین میں خامیاں ڈھونڈنے لگتا ہے۔ کیڑے نکالنے لگتا ہے۔ خوب کو ناخوب اور ناخوب کو خوب بناکر انسانی نظروں کے سامنے پیش کرتا ہے۔ اور دین سے لوگوں کو بے عمل اور بدظن کرتا پھرتا ہے۔
حق سے رشتہ توڑ کر باطل سے رشتہ جوڑ کر، اندھا، گونگا اور بہرا بن جاتا ہے۔ اور کئی امراض قلب مثلاً زیغ دل، زنگ دل، غلاف دل، جہل دل، قفل دل، کور دل، قسوۂ دل، ختم دل جیسی خطرناک نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ شیطان کی طرح اللہ اور اللہ کے نام لینے والوں کا دشمن ہوجاتا ہے۔
رقیبوں نے رپٹ لکھوائی ہے جا جا کے تھانے میں
کہ اکبر نام لیتا ہے خدا کا اس زمانے میں
مذہب کے پرستاروں سے وہ کد، کدر اور کدورت میں حد سے گزر جاتا ہے۔ ڈرانا، دھمکانا، آنکھیں دکھانا اس کا شیوہ بن جاتا ہے۔ نیک نام لوگوں پر الزام، ان کی عزت اور نیک شہرت کو بذریعہ غیبت و تہمت بدنام کرتا پھرتا ہے۔ حسد کی آگ میں جلنا، اشراف کے خلاف افواہیں پھیلانا۔ دو ملے ہوئے دلوں میں میل پیدا کرنا، لوگوں کے کان بھرنا، نفرتوں اور سازشوں کے جال بننا، صبح ہو شام، بس اس کا ہوتا ہے یہی ایک کام۔ خود تو ہوتا ہے حقیقتاً کالا، لیکن حسداً کہتا ہے گورے کو کالا۔ اور اس طرح خود اور کرتا ہے اپنا ہی منہ کالا۔
اس کا کوئی علاج نہیں۔ جسمانی امراض کی طرح رب کریم نے نفسیاتی امراض کے لیے بھی روحانی علاج رکھا ہے۔ ہم تو کچھ بھی نہیں۔ دور رسالت مآبؐ میں تو آوے کا آوا نفس امارہ کا گہوارا تھا۔ لیکن جب انھوں نے اللہ کا پیغام سنا۔ صدق دل سے قبول کیا۔ قرآن کو سینے سے لگایا، دل میں بسایا، اس کی روشنی میں چل کر دکھایا تو ان کی ہر بیماری خزاں کے پتے کی طرح ایک ایک کرکے جھڑتی چلی گئی۔ جو تھے بدنام زمانہ، وہ ایسے، ایک اور ایک نیک بن گئے، شر کے منکر اور خیر کے پیکر ہوگئے کہ ان کو دیکھ کر دنگ رہ گیا زمانہ۔
زمانے کے بدلنے کے ساتھ اصول و اقدار بدلا نہیں کرتے۔ آج بھی ہماری بیماری دل کی شفایابی کے لیے وہی اصول و اقدار ہیں جو کل تھے۔ یعنی قلب میں سوز، روح میں احساس، پیغام رسالتؐ کا خیال خاص۔ کل کا بھولا شام کو گھر لوٹ آئے تو اسے بھولا نہیں کہتے۔ جو ہوچکا سو ہو چکا۔ مگر آج بھی ہم قرآن کا دامن عزم مصمم کے ساتھ تھام لیں تو ہمارا نفس امارہ کا مارا، معاشرہ، حسن و سچائی اور امن و سلامتی کا گہوارہ بن جائے اور رنگ لیل و نہار پر بہار آجائے۔ دنیا اسلاف کی طرح اخلاف کو کبھی دیکھتی رہ جائے۔ مگر نیت، ہمت، محنت، جرأت اور جذبہ شہادت کی ضرورت ہے۔
قرآن نور بھی ہے ہدیٰ بھی ہے۔ دعا بھی ہے، شفا بھی ہے اور اس بات کی صدا بھی ہے:
ہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیں
راہ دکھلائیں کسے؟ رہروِ منزل ہی نہیں
سلسلہ دروس اخلاق منتظرین*🌷
*تیسرا درس*
☑️موضوع: اخلاقی تربیت میں امام شناسی کا کردار
☑️کس امام سے تربیت لیں
☑️کیوں امام بدلنے سے عقائد اور اخلاق بدل جاتے ہیں
☑️عصر ظہور کے لوگوں کا اخلاق کیسا ہوگا
امام کا لغوی معنی کیا ہے؟
لغت کے اندر امام پیشوا، مقتدا وغیرہ کے معنی میں ہے۔ امام وہ ہے جسے کسی کام میں آگے کیا جائے اور باقی لوگ اس کی پیروی کریں۔ وہ تیریا نیزہ جسے معیار اور پیمانہ بنا کر باقی تیروں اور نیزوں کو اس کے مطابق بنایا جاتا ہے، اسے امام کہا جاتا ہے۔ بچے کو خوش خطی سکھانے کے لیے تختی پر جو پہلی لائن لکھی جاتی ہے اور باقی لائنوں کو اسی کے مطابق لکھنے کی تلقین کی جاتی ہے، اس پہلی لائن کو امام کہا جاتا ہے۔ قرآن کا وہ اصلی نسخہ جس کو معیار بنا کر باقی مصاحف کی اس کے مطابق اصلاح کی گئی، اسے مصحفِ امام کہا گیا۔
بعض نے کہا امام وہ ہے جس کی اقتدا اور پیروی کی جائے، چاہے وہ انسان ہو، کتاب ہو یا کوئی اور چیز۔ امام وہ ہے جس کی پیروی کی جائے۔ چاہے وہ انسان ہو جس کے قول اور فعل کی پیروی کی جائے، چاہے وہ کتاب ہو یا کچھ اور، چاہے وہ باطل ہو یا حق۔ پس امام کے لغوی معنی کے حوالے سے کوئی خاص اختلاف نہیں ہے۔
قرآن کریم میں لفظ امام اور اس کے مشتقات 12 مرتبہ استعمال ہوئے ہیں، جن میں سوائے ایک مورد کے ہر جگہ لفظِ امام پیشوا اور مقتدا کے معنی میں ہی آیا ہے۔ ایک مورد میں "لوح محفوظ" کو امام کہا گیا ہے۔ اس کی بھی وجہ شاید یہ ہو کہ لوح محفوظ میں مخلوقات کے تمام فیصلے لکھے گئے ہیں، اور مخلوقات اپنے افعال میں اس کی اتباع اور پیروی کرتی ہیں۔
طلحہ بن زید امام صادق علیہ السلام سے نقل کرتے ہیں کہ قرآن مجید میں دو قسم کے اماموں کی بات کی گئی ہے۔ (ہدایت کے امام، گمراہی کے امام) اللہ تعالی کا ارشاد ہے: (وَجَعَلْنَاهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا) ایک قسم کے امام وہ ہیں جو خدا کے حکم سے لوگوں کی ہدایت کرتے ہیں، نہ لوگوں کے حکم سے۔ اللہ کے امر کو اپنے امر پر اور اللہ کے حکم کو اپنے حکم پر مقدم رکھتے ہیں۔ جبکہ دوسری قسم کے بارے فرمایا: (وَجَعَلْنَاهُمْ أَئِمَّةً يَدْعُونَ إِلَى النَّارِ) یہ وہ لوگ ہیں جو امام بن کر لوگوں کو جہنم کی آگ کی طرف بلاتے ہیں۔ اپنے امر کو اللہ کے امر پر اور اپنے حکم کو اللہ کے حکم پر مقدم کرتے ہیں۔ جو کچھ اللہ کی کتاب میں ہے ان کے خلاف اپنی خواہشات نفسانی پر عمل کرتے ہیں۔
البتہ اس دوسری قسم میں جو کہا گیا کہ ہم نے ان کو امام بنایا، اس سے مراد یہ نہیں کہ اللہ تعالی نے ان کو اس کام کے لیے نصب کیا ہو کہ وہ لوگوں کو گمراہ کریں اور آگ کی طرف بلائیں۔ بلکہ یہاں "جعل" اذن تکوینی کے معنی میں ہے، یعنی اللہ تعالی نے تشریعی طور پر اس کام سے روکا ہے، لیکن تکوینی طور پر ان کو مجبور نہیں کیا کہ وہ ایسے کاموں سے رک جائیں۔ وہ لوگ اللہ تعالی کی طرف سے حاصل قدرت اور طاقت کو غلط کاموں میں استعمال کرتے ہیں۔
پہلی والی آیت (وَجَعَلْنَاهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا) میں دو نکتے انتہائی قابلِ غور ہیں:
۱۔ (جَعَلْنَاهُمْ) یعنی ہم نے ان کو امام بنایا۔ یہاں سے پتہ چلتا ہے ہدایت دینے والے امام کی تعیین اور تنصیب خداوند متعال خود کرتا ہے۔ اس کام کو لوگوں کے اوپر نہیں چھوڑا کہ وہ جمہوریت کے طریقے پر اپنے لیے امام تعیین کریں۔
۲۔ ( بِأَمْرِنَا) اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں۔ پہلا معنی یہ کی ہدایت والے امام لوگوں کو امرِ خدا کی طرف دعوت دیتے ہیں۔ یعنی ان کا ہدف اور مِشن الہی ہوتا ہے جس کی طرف لوگوں کو بلاتے ہیں۔ ان کے اپنے ذاتی اہداف و مقاصد نہیں ہوتے۔ جبکہ دوسرا معنی یہ ہو سکتا ہے کہ یہاں (باء) سببیت کا معنی دے رہا ہے۔ یعنی چونکہ ہم نے اپنے خاص حکم کے ذریعے ان کو امام بنایا ہے لہذا اس وجہ سے وہ لوگوں کی ہدایت کرتے ہیں۔ پس امام کی طرف سے لوگوں کی ہدایت اپنی طرف سے خودساختہ نہیں ہے، بلکہ اللہ تعالی کی طرف سے امامت کا اذن حاصل ہے اس لیے وہ لوگ اس منصب پر فائز ہیں۔ اس سے بھی یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ ہدایت کے لیے امام کی تعیین اللہ تعالی کے خاص امر پر موقوف ہے۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ لوگ اکھٹے ہو کر خود سے اپنے لیے امام معین کریں، جبکہ اللہ تعالی کی طرف سے اس بندے کے لیے ہدایت یافتہ ہونے کی کوئی سند حاصل نہ ہو۔ اور جو خود ہدایت یافتہ نہ ہو، وہ کیسے لوگوں کی ہدایت کر سکتا ہے؟
(أَفَمَن يَهْدِي إِلَى الْحَقِّ أَحَقُّ أَن يُتَّبَعَ أَمَّن لَّا يَهِدِّي إِلَّا أَن يُهْدَىٰ)
تو پھر (بتاو کہ) جو حق کی راہ دکھاتا ہے وہ اس بات کا زیادہ حقدار ہے کہ اس کی پیروی کی جائے یا وہ جو خود اپنی راہ نہیں پاتا جب تک اس کی رہنمائی نہ کی جائے؟
اچھے اخلاق کا مالک ہونا:
امام زمانہؑ کے اصحاب اور منتظرین کی ایک اور خصوصیت اچھے اخلاق کا حامل ہونا ہے۔
مختصر کروں امام زمانہ علیہ السلام کے اصحاب اور منتظرین کا تقویٰ، علم اور ان کی معرفت ایسی ہوتی کہ تمام کائنات ان کے آگے سر تسلیم خم کر دیتی ہے اور زمین و آسمان ان کے وجود پر فخر کرتے ہیں۔ خدا اور ائمہ معصومین علیہم السلام کے نزدیک کسی بھی شخص کا مقام اس کے علم اور اخلاص کی وجہ سے ہی بلند ہوتا ہے لیکن چونکہ امام مہدیؑ کے اصحاب کو کوئی نہیں جانتا، اس لیے ہر کوئی اپنے اندر یہ صلاحیت پیدا کرسکتا ہے کہ وہ امام مہدیؑ کے اصحاب میں شامل ہو جائے۔
امام زمانہؑ کے اصحاب اور منتظرین کی ایک اور خصوصیت اچھے اخلاق کا حامل ہونا ہے۔
مختصر کروں امام زمانہ علیہ السلام کے اصحاب اور منتظرین کا تقویٰ، علم اور ان کی معرفت ایسی ہوتی کہ تمام کائنات ان کے آگے سر تسلیم خم کر دیتی ہے اور زمین و آسمان ان کے وجود پر فخر کرتے ہیں۔ خدا اور ائمہ معصومین علیہم السلام کے نزدیک کسی بھی شخص کا مقام اس کے علم اور اخلاص کی وجہ سے ہی بلند ہوتا ہے لیکن چونکہ امام مہدیؑ کے اصحاب کو کوئی نہیں جانتا، اس لیے ہر کوئی اپنے اندر یہ صلاحیت پیدا کرسکتا ہے کہ وہ امام مہدیؑ کے اصحاب میں شامل ہو جائے۔
*#اخلاق منتظرین (4)* ok
*#موضوع:اخلاقی تربیت کی اہمیت اور اسکے مراحل*
*#استادِ محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب*
*#عالمی مرکز مہدویت قم💚*
اخلاقی تربیت اور اس کے مراحل
خلاصہ اور اہم نکات
_انسان دوسروں کو لیکچر تو دے سکتا ہے اور تربیت بھی کر سکتا ہے ۔،سب سے مشکل کام خود کی اپنی تربیت ہے ۔۔۔جو کہ جہاد اکبر بھی ہے ۔۔۔_
تربیت میں انسان شناسی اہم ترین نکتہ ہے ۔۔
قرآن پاک میں بھی تین طرح کے نفس بیان کئے گئے ہیں ۔۔۔
نفس امارہ
نفس لوامہ
نفس مطمئنہ
انسان کی تربیت میں امام شناسی ایک اہم ترین شاھراہ ہے ۔۔۔
انسان کی تربیت میں اللہ پاک نے انسان کی خلقت کے ساتھ ہی ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کو بتدریج بھیجا ۔۔
اور ساتھ ہی اپنی چار آسمانی کتب بھی بھیجیں ۔۔۔تاکہ انسان کی اچھے طریقے سے تربیت ہو سکے
اور اس کے بعد تربیت کا سلسلہ ختم نہیں ہوا نبوت کے بعد اللہ پاک نے امامت کا سلسلہ شروع کر دیا۔۔ اب جب تک قیامت رہے گی اس وقت تک انسان کی تربیت انسان کے شعور و بیداری کے لئے امامت کا سلسلہ رہے گا ۔
اللہ سبحان تعالی نے انبیاء کے بعد امامت کا سلسلہ انسان کی تربیت کیلئے جاری کیا جو قیامت تک جاری و ساری رہے گا ۔
احادیث کی رو سے اگر ہم معرفت امام زمانہ نہیں رکھتے تو ہم جہالت کی موت مریں گے ۔۔کیوں کہ تاریخی اعتبار سے اس وقت ہم امام کے دور میں ہیں ۔اور ایسا دور ہے کہ جس سے پہلے ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام گزر چکے ہیں اور ہم آخری نبی کی امت سے ہے ۔۔
لہذا ہم قیامت کے دور کے نزدیک ہے لیکن یہاں یہ اہم ہے کہ قیامت سے پہلے آخری وصی کا ظہور ہوگا ۔
ہم اپنی تربیت کو امام کے فرامین اور اخلاقی درس سے بہتر سے بہترین بنا سکتے ہیں ۔۔
اگر ہم غور کریں تو قرآن پاک میں بہت سے واقعات بیان ہوئے ہیں جن کو پڑھ کر ان پر عمل کرنا چاہیے ۔۔
جب انسان پیدا ہوتا ہے اس پر کوئی رنگ نہیں ہوتا بس الہی رنگ ہوتا ہے ۔۔
پھر آہستہ آہستہ اس کا معاشرہ ارد گرد کا ماحول اس کے ماں باپ اور رشتہ دار بہن بھائی جو اس کو سمجھ آتے ہیں وہی کرنا شروع کر دیتا ہے ۔۔
انسان بڑا ہو جاتا ہے ۔۔اس پر مختلف رنگ چڑھنے شروع ہو جاتا ہے ۔۔
لیکن انسان کو اچھی عادتیں اپنانی چاہیے ۔۔بری عادتوں کو چھوڑ دینا چاہیے ۔۔
فطرت توحید پر اللہ نے انسان کو پیدا کیا ہے ہماری شخصیت سوائے خیر کے کچھ نہیں ہے
اللہ کی ذات ہمیں خود کو سمجھنے کی توفیق دے ۔۔
اور اپنے لوگوں کے لیے محلے والے رشتہ دار اور پوری ملت جعفریہ کے لیے اللہ سے خیر مانگنا چاہیے ۔۔۔
اللہ تعالی ہماری معرفت میں اضافہ فرمائے ۔اور ہماری ہدایت فرمائے ۔
قرآن مجید کے اندر انبیاء کرام کو امام قرار دیا ہے ۔۔
تاکہ وہ حکومت کے ذریعہ ہدایت فرمائیں ۔۔
کچھ ہستیاں صرف نبی کے ساتھ امام بھی تھی نبی اور امام دونوں حجت خدا ہیں ۔
حضرت ابراھیم نبی اور امام تھے۔
اب ہم أئمہ کے دور میں ہیں۔یہ ہستیاں صرف امام ہے ۔
اللہ تعالی نے قرآن میں نبی اکرم سے فرمایا ۔۔آپ نے اللہ کا پیغام اور جن چیزوں سے ڈرایا ہے وہ پہنچا دیں
جب تک انسان باقی ہے تب تک ہادی بھی موجود ہے ۔
اپنے تزکیہ نفس کے لیے امام سے مدد مانگنی چاہیے ۔
اللہ سبحانہ تعالیٰ نے مولا علی علیہ السلام اور ان کی اولاد کو ہمارے لئے امام بنایا اس لیے ہم مولا علی علیہ السلام کے بارہویں بیٹے کے دور میں ہیں ۔
اللہ پاک ہم سب کو قرآن پڑھنے سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے ۔
اور امام زمانہ علیہ السلام کی معرفت اور ان کا سچا ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے ۔۔۔
الہی آمین ۔۔
اخلاقی تربیت اور اس کے مراحل
خلاصہ اور اہم نکات
_انسان دوسروں کو لیکچر تو دے سکتا ہے اور تربیت بھی کر سکتا ہے ۔،سب سے مشکل کام خود کی اپنی تربیت ہے ۔۔۔جو کہ جہاد اکبر بھی ہے ۔۔۔_
تربیت میں انسان شناسی اہم ترین نکتہ ہے ۔۔
قرآن پاک میں بھی تین طرح کے نفس بیان کئے گئے ہیں ۔۔۔
نفس امارہ
نفس لوامہ
نفس مطمئنہ
انسان کی تربیت میں امام شناسی ایک اہم ترین شاھراہ ہے ۔۔۔
انسان کی تربیت میں اللہ پاک نے انسان کی خلقت کے ساتھ ہی ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کو بتدریج بھیجا ۔۔
اور ساتھ ہی اپنی چار آسمانی کتب بھی بھیجیں ۔۔۔تاکہ انسان کی اچھے طریقے سے تربیت ہو سکے
اور اس کے بعد تربیت کا سلسلہ ختم نہیں ہوا نبوت کے بعد اللہ پاک نے امامت کا سلسلہ شروع کر دیا۔۔ اب جب تک قیامت رہے گی اس وقت تک انسان کی تربیت انسان کے شعور و بیداری کے لئے امامت کا سلسلہ رہے گا ۔
اللہ سبحان تعالی نے انبیاء کے بعد امامت کا سلسلہ انسان کی تربیت کیلئے جاری کیا جو قیامت تک جاری و ساری رہے گا ۔
احادیث کی رو سے اگر ہم معرفت امام زمانہ نہیں رکھتے تو ہم جہالت کی موت مریں گے ۔۔کیوں کہ تاریخی اعتبار سے اس وقت ہم امام کے دور میں ہیں ۔اور ایسا دور ہے کہ جس سے پہلے ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام گزر چکے ہیں اور ہم آخری نبی کی امت سے ہے ۔۔
لہذا ہم قیامت کے دور کے نزدیک ہے لیکن یہاں یہ اہم ہے کہ قیامت سے پہلے آخری وصی کا ظہور ہوگا ۔
ہم اپنی تربیت کو امام کے فرامین اور اخلاقی درس سے بہتر سے بہترین بنا سکتے ہیں ۔۔
اگر ہم غور کریں تو قرآن پاک میں بہت سے واقعات بیان ہوئے ہیں جن کو پڑھ کر ان پر عمل کرنا چاہیے ۔۔
جب انسان پیدا ہوتا ہے اس پر کوئی رنگ نہیں ہوتا بس الہی رنگ ہوتا ہے ۔۔
پھر آہستہ آہستہ اس کا معاشرہ ارد گرد کا ماحول اس کے ماں باپ اور رشتہ دار بہن بھائی جو اس کو سمجھ آتے ہیں وہی کرنا شروع کر دیتا ہے ۔۔
انسان بڑا ہو جاتا ہے ۔۔اس پر مختلف رنگ چڑھنے شروع ہو جاتا ہے ۔۔
لیکن انسان کو اچھی عادتیں اپنانی چاہیے ۔۔بری عادتوں کو چھوڑ دینا چاہیے ۔۔
فطرت توحید پر اللہ نے انسان کو پیدا کیا ہے ہماری شخصیت سوائے خیر کے کچھ نہیں ہے
اللہ کی ذات ہمیں خود کو سمجھنے کی توفیق دے ۔۔
اور اپنے لوگوں کے لیے محلے والے رشتہ دار اور پوری ملت جعفریہ کے لیے اللہ سے خیر مانگنا چاہیے ۔۔۔
اللہ تعالی ہماری معرفت میں اضافہ فرمائے ۔اور ہماری ہدایت فرمائے ۔
قرآن مجید کے اندر انبیاء کرام کو امام قرار دیا ہے ۔۔
تاکہ وہ حکومت کے ذریعہ ہدایت فرمائیں ۔۔
کچھ ہستیاں صرف نبی کے ساتھ امام بھی تھی نبی اور امام دونوں حجت خدا ہیں ۔
حضرت ابراھیم نبی اور امام تھے۔
اب ہم أئمہ کے دور میں ہیں۔یہ ہستیاں صرف امام ہے ۔
اللہ تعالی نے قرآن میں نبی اکرم سے فرمایا ۔۔آپ نے اللہ کا پیغام اور جن چیزوں سے ڈرایا ہے وہ پہنچا دیں
جب تک انسان باقی ہے تب تک ہادی بھی موجود ہے ۔
اپنے تزکیہ نفس کے لیے امام سے مدد مانگنی چاہیے ۔
اللہ سبحانہ تعالیٰ نے مولا علی علیہ السلام اور ان کی اولاد کو ہمارے لئے امام بنایا اس لیے ہم مولا علی علیہ السلام کے بارہویں بیٹے کے دور میں ہیں ۔
اللہ پاک ہم سب کو قرآن پڑھنے سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے ۔
اور امام زمانہ علیہ السلام کی معرفت اور ان کا سچا ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے ۔۔۔
الہی آمین ۔۔
التماس دعا ظہور وفلسطین 🤲🏻🙏😭 💔
اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم
شہر بانو ✍
*#اخلاق منتظرین (4)*
*#موضوع:اخلاقی تربیت کی اہمیت اور اسکے مراحل*
*#استادِ محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب*
*#عالمی مرکز مہدویت قم💚*
انسان کی پیدائش کے وقت توحید پرست ہوتا ہے لیکن وقت کے ساتھ انسان اپنے اردگرد کے ماحول لوگ ، رشتےدار ، والدین سے تربیت حاصل کرتا ہے اور پھر اس میں اچھی یا بری عادتیں پیدا ہوتی ہیں اگر ماحول اور لوگ اچھے ہونگے تو انسان میں اچھی عادتیں اور اگر برے لوگ اور ماحول ہوگا تو انسان کے اندر بری خصلتیں پیدا ہوتی ہیں۔ لیکن جسکی روحی تربیت ہوگی وہ دنیا میں اچھا اور نیک انسان بنے گا اور اسکی آخرت میں بھی فتح ہوگی۔
انسان اگر اپنی اخلاقی تربیت میں کامیاب ہوجاۓ تو ہوری انسانیت اس کے شر سے محفوظ ہوجاتی ہے۔
انسان کو اپنا مطالعہ کرنا چاہیے اور اگر اس میں اچھی خصلتین ہیں تو انہیں بڑھاۓ اور بڑی خصلتوں سے جان چھوڑانی چاہیئے۔ اپنے بچوں پر توجہ کے ساتھ اچھی تربیت اور اچھا اخلاق سیکھنا چاہیۓ تاکہ وہ بچہ بڑا ہوکر اپنے لیۓ اور معاشرے کے لیۓ خیر بنے۔
التماس دعا ظہور وفلسطین 🤲🏻🙏😭 💔
*اخلاق منتظرین (5)*
*▪️اچھی بری خصلتوں کی پہچان*
*▪️بری خصلتوں سے کیسے جان چھڑائیں*
*▪️عبادات کی انجام دہی، تلاوت قرآن اور فرامین معصومین (ع) پر توجہ کی ضرورت*
*استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب🎤*
*عالمی مرکز مہدویت قم 💚*
🌹بسم اللہ الرحمٰن الرحیم🌹
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ🚩
یا علی علیہ السلام مدد🙏🏻🙏🏻🙏🏻
1: اچھی بری خصلتوں کی پہچان
قرآن اور حدیث، خصوصاً اہل بیت کی تعلیمات میں اچھی اور بری خصلتوں کی واضح نشاندہی کی گئی ہے۔ اسلامی تعلیمات میں انسان کے اخلاقی و روحانی ترقی پر بہت زور دیا گیا ہے۔
اچھی اور بری خصلتوں کی پہچان ایک اہم موضوع ہے جو ہماری ذاتی ترقی اور معاشرتی تعلقات کو متاثر کرتا ہے۔ یہاں کچھ عمومی اچھی اور بری خصلتیں دی گئی ہیں:
### اچھی خصلتیں:
1. **امانتداری**: سچ بولنے اور دیانتدار رہنے کی خصلت۔
2. **محبت کرنے کی صلاحیت**: دوسروں سے بے لوث محبت کرنا اور ان کی بھلائی کی خواہش رکھنا۔
3. **صبر**: مشکل حالات میں صبر سے کام لینا اور جلدی مایوس نہ ہونا۔
4. **مہربانی**: دوسروں کے ساتھ نرمی اور شفقت سے پیش آنا۔
5. **ذمہ داری**: اپنے فرائض کو سمجھنا اور انہیں پورا کرنا۔
### بری خصلتیں:
1. **جھوٹ بولنا**: حقیقت کو چھپانا یا غلط بیانی کرنا۔
2. **غصہ**: بے قابو ہو جانا اور اس کی وجہ سے دوسروں کو تکلیف دینا۔
3. **حسد**: دوسروں کی خوشیوں یا کامیابیوں پر جلن محسوس کرنا۔
4. **خودغرضی**: صرف اپنے مفادات کو اہمیت دینا اور دوسروں کی بھلائی کو نظرانداز کرنا۔
5. **سستی**: ضروری کاموں کو ٹالنا یا ان سے کترانا۔
### پہچان کے طریقے:
- **خود شناسی**: اپنے آپ کو بہتر جاننے کے لیے وقت نکالیں اور خود انکساری کے ساتھ اپنے اعمال کا جائزہ لیں۔
- **مشاہدہ**: دوسروں کے رویے کا مشاہدہ کریں اور ان سے سیکھیں۔
- **فیڈبیک**: دوستوں اور خاندان سے اپنے بارے میں فیڈبیک حاصل کریں۔
- **تعلیم و تربیت**: کتابیں پڑھنا اور ورکشاپس میں شرکت کرنا جو ذاتی ترقی کی طرف لے جائیں۔
اپنی اچھی خصلتوں کو فروغ دینے اور بری خصلتوں پر قابو پانے کے لیے مسلسل کوشش اور خود احتسابی ضروری ہے۔
2: بری خصلتوں سے کیسے جان چھڑائیں
بری خصلتوں سے جان چھڑانے کے لئے قرآن، حدیث اور اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات میں بہت سارے رہنما اصول اور طریقے بیان کیے گئے ہیں۔ اسلامی تعلیمات میں خود احتسابی، صبر، استقامت اور دعا کی بہت زور دیا گیا ہے۔ یہاں چند اہم نکات دیے جا رہے ہیں:
1. **خود شناسی اور توبہ**: سب سے پہلے یہ ضروری ہے کہ انسان اپنے آپ کو پہچانے اور اپنی کمزوریوں کا ادراک کرے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "یَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا تُوبُوا إِلَى اللَّهِ تَوْبَةً نَصُوحًا" (التحریم: 8)، یعنی اے ایمان والو! اللہ کی طرف سچی توبہ کرو۔
2. **نماز و دعا**: نماز انسان کو برائیوں سے روکتی ہے اور دعا انسان کو اللہ سے قریب کرتی ہے۔ نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے کہ: "دعا مؤمن کی معراج ہے۔"
3. **محاسبہ نفس**: روزانہ اپنے اعمال کا جائزہ لینا اور خود کو بہتر بنانے کی کوشش کرنا۔ امام علی علیہ السلام کا قول ہے: "حاسبوا أنفسکم قبل أن تُحاسبوا."
4. **صحبت صالحین**: اچھی صحبت اختیار کرنا بھی بہت ضروری ہے۔ امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا: "صحبت صالحین سے دل نرم ہوتے ہیں اور برائی سے دوری ہوتی ہے۔"
5. **علم حاصل کرنا**: علم حاصل کرنے سے انسان کی سوچ میں وسعت آتی ہے اور وہ بری خصلتوں کو پہچان کر ان سے دور ہو سکتا ہے۔
6. **صبر و استقامت**: بری خصلتوں سے جان چھڑانے کے لئے صبر اور استقامت بہت ضروری ہیں۔ انسان کو چاہیے کہ وہ مستقل مزاجی کے ساتھ اپنی اصلاح کی کوشش کرے۔
یہ سارے طریقے اور اصول ہمیں بری خصلتوں سے دور رہنے اور اپنی زندگی کو بہتر بنانے میں مدد دیتے ہیں۔
3: عبادات کی انجام دہی، تلاوت قرآن اور فرامین معصومین (ع) پر توجہ کی ضرورت
عبادات کی انجام دہی، تلاوت قرآن، اور فرامین معصومین (ع) پر توجہ دینا، مسلمان کی روحانی زندگی کے اہم جزو ہیں۔ ان عبادات کو انجام دینے سے نہ صرف آپ کا تعلق اللہ سے مضبوط ہوتا ہے بلکہ آپ کی داخلی سکون اور خود آگاہی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
1. **عبادات کی اہمیت**: نماز، روزہ، حج، زکوۃ وغیرہ، یہ سب عبادات اسلام کے بنیادی ستون ہیں جو ایک مسلمان کو خدا کی بندگی کی یاد دلاتے ہیں اور اس کے ایمان کو مضبوط بناتے ہیں۔
2. **تلاوت قرآن**: قرآن کریم کی تلاوت کرنا نہ صرف ثواب کا باعث ہے بلکہ یہ آپ کو اللہ کے کلام کی گہرائیوں میں جھانکنے کا موقع بھی دیتا ہے۔ اس سے آپ کے دل و دماغ میں سکون اور راحت محسوس ہوتی ہے اور زندگی کی مشکلات میں صبر و استقامت کی تعلیم ملتی ہے۔
3. **فرامین معصومین (ع) پر توجہ**: اہل بیت (ع)
کے اقوال و تعلیمات میں زندگی کے ہر پہلو کے لیے رہنمائی موجود ہے۔ ان کی تعلیمات کو پڑھنا اور سمجھنا آپ کو نہ صرف ایک بہتر مسلمان بننے میں مدد دیتا ہے، بلکہ یہ آپ کو معاشرتی اور اخلاقی زندگی میں بھی بہترین رہنمائی فراہم کرتی ہے۔
ان تمام پہلوؤں پر توجہ دینا آپ کو روحانی طور پر ترقی دینے کے ساتھ ساتھ آپ کے ایمان کو مزید پختہ کرتا ہے اور آپ کو ایک متوازن اور پر سکون زندگی گزارنے کی رہنمائی کرتا ہے۔
🚩 والسلام علیکم ورحمۃ اللہ.
التماس دعا ظہور وفلسطین 🤲🏻🙏😭 💔
اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم
🚩زیر سرپرستی امام زمانہ عج 🙏🏻🏕️
شہر بانو ✍
☀️ *اخلاق منتظرین (6)*
*☀️تقوی الہی کا مقام کیسے حاصل ہوگا*
*☀️ملکات یا خصلتیں(اچھی ، بری)کیسے انسان میں پیدا ہوتی ہیں؟*
*استادِ محترم علامہ آغا علی اصغر سیفی صاحب*💫
*عالمی مرکز مہدویت قم 💚*
🌹بسم اللہ الرحمٰن الرحیم🌹
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ🚩
یا علی علیہ السلام مدد🙏🏻🙏🏻🙏🏻
*☀️تقوی الہی کا مقام کیسے حاصل ہوگا*
*☀️ملکات یا خصلتیں(اچھی ، بری)کیسے انسان میں پیدا ہوتی ہیں؟*
*استادِ محترم علامہ آغا علی اصغر سیفی صاحب*💫
*عالمی مرکز مہدویت قم 💚*
1:: تقوی الہی کا مقام کیسے حاصل ہوگا
تقویٰ الہی کا مقام حاصل کرنا اسلام میں ایک اہم مقصد ہے۔ تقویٰ کا لفظی معنی ہے "خوف" یا "ڈر"، لیکن اسلامی اصطلاح میں اس کا مطلب ہے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنا اور اُس سے گناہوں سے بچنا۔ قرآن مجید اور احادیث اہل بیت (علیہم السلام) میں تقویٰ کے حصول کے لئے کئی رہنمائیاں دی گئی ہیں۔
1. **قرآن کی ہدایات کا اتباع**: اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بار بار تقویٰ کی اہمیت بیان کی ہے، جیسے کہ سورہ البقرہ میں فرمایا گیا ہے: "یا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُسْلِمُونَ" (اے ایمان والو! الله سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنا چاہیے، اور تم مسلمان ہو کر ہی مرنا۔)
2. **نماز کا قائم کرنا**: نماز تقویٰ حاصل کرنے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔ نماز انسان کو گناہوں سے بچاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے قریب کرتی ہے۔
3. **اہل بیت کی تعلیمات کا اتباع**: اہل بیت (علیہم السلام) کی تعلیمات بھی تقویٰ کے حصول میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ حضرت علی (علیہ السلام) نے فرمایا: "تقویٰ اللہ کی مدد سے کام لو، اور اسے بطور زاد راہ استعمال کرو۔"
4. **زبان کی حفاظت**: ایک حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جو شخص اپنی زبان کی حفاظت کرے، میں اُس کے جنت میں داخل ہونے کی ضمانت دیتا ہوں۔" زبان کی حفاظت کرنا تقویٰ کا ایک اہم جز ہے۔
5. **صبر و استقامت**: صبر اور استقامت بھی تقویٰ کے اہم عناصر ہیں۔ مشکل حالات میں صبر کرنا اور اپنے ایمان کو مضبوط رکھنا اللہ کے قریب لاتا ہے۔
6. **خوف الہی اور محاسبہ نفس**: انسان کو چاہیے کہ وہ ہمیشہ اللہ سے ڈرتا رہے اور اپنے آپ کا محاسبہ کرتا رہے۔ اپنے اعمال کا جائزہ لینا اور خود کو بہتر بنانے کی کوشش کرنا تقویٰ کی طرف لے جاتا ہے۔
یہ چند طریقے ہیں جن کے ذریعے ایک مسلمان تقویٰ الہی کا مقام حاصل کر سکتا ہے۔ تقویٰ حاصل کرنا زندگی کے ہر شعبے میں اللہ تعالیٰ کے احکامات کی پیروی کرنے کا نتیجہ ہے۔
2: ملکات یا خصلتیں(اچھی ، بری)کیسے انسان میں پیدا ہوتی ہیں؟
ملکات یا خصلتیں، چاہے وہ اچھی ہوں یا بری، انسان میں مختلف ذرائع اور عملیات کے ذریعے پیدا ہوتی ہیں۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق، یہ خصلتیں عمل، ماحول، اور نیت پر منحصر ہوتی ہیں۔ قرآن مجید اور احادیث اہل بیت (علیہم السلام) میں ان ملکات کے پیدا ہونے اور ترقی کے بارے میں بہت کچھ بیان ہوا ہے۔
1. **عمل کا اعادہ**: اچھی یا بری خصلتیں اکثر ان عملیات کے اعادہ سے پیدا ہوتی ہیں جنہیں انسان بار بار دہراتا ہے۔ امام علی (علیہ السلام) نے فرمایا: "عادت ایک دوسری فطرت بن جاتی ہے۔" اس بنا پر، جب ایک شخص مثبت عمل کو دہراتا ہے، تو یہ عمل ایک اچھی خصلت کے طور پر اُس کی شخصیت میں شامل ہو جاتا ہے، اور اگر وہ منفی عمل دہرائے تو بری خصلت بن جاتی ہے۔
2. **تربیت اور ماحول**: انسان کا پرورشی ماحول بھی اُس کی خصلتوں کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ قرآن میں اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ انسان کو نیک اور بد کی پہچان دی گئی ہے (سورہ الشمس، آیات ۷-۱۰)۔ اس پس منظر میں، والدین، اساتذہ، اور دوست اہم ہیں جن کی صحبت اور تربیت خصلتوں کی تشکیل میں مدد دیتی ہے۔
3. **نیت اور دلی ارادہ**: انسان کی نیت اُس کے عمل کی رہنمائی کرتی ہے۔ حدیث قدسی میں آتا ہے کہ اللہ فرماتے ہیں، "میں انسان کے دل کے مطابق عمل کرتا ہوں۔" اچھی نیتیں اچھی خصلتوں کی جانب لے جاتی ہیں، جبکہ بری نیتیں بری خصلتوں کی طرف مائل کرتی ہیں۔
4. **دعا اور استغفار**: دعا اور استغفار بھی خصلتوں کی تشکیل میں مدد دیتے ہیں۔ انسان جب اللہ سے مدد مانگتا ہے اور اپنے گناہوں کی معافی طلب کرتا ہے، تو اللہ تعالی اُسے نیکی کی راہ دکھاتا ہے اور بری خصلتوں سے دور رکھتا ہے۔
ان تمام عوامل کا جوڑ تقویٰ، خود شناسی، اور مسلسل محنت سے ہوتا ہے۔ انسان جب اپنی روحانی اور اخلاقی حالت کو بہتر بنانے کی کوشش کرتا ہے تو اللہ تعالی بھی اُس کی مدد فرماتا ہے۔
🚩 والسلام علیکم ورحمۃ اللہ.
التماس دعا ظہور وفلسطین 🤲🏻🙏😭 💔
اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم
🚩زیر سرپرستی امام زمانہ عج 🙏🏻🏕️
شہر بانو ✍
☀️ *اخلاق منتظرین (6)*
*☀️تقوی الہی کا مقام کیسے حاصل ہوگا*
*☀️ملکات یا خصلتیں(اچھی ، بری)کیسے انسان میں پیدا ہوتی ہیں؟*
*استادِ محترم علامہ آغا علی اصغر سیفی صاحب*💫
*عالمی مرکز مہدویت قم 💚*
🌹بسم اللہ الرحمٰن الرحیم🌹
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ🚩
یا علی علیہ السلام مدد🙏🏻🙏🏻🙏🏻
تقویٰ الہی، جو کہ اللہ تعالیٰ کے خوف اور اس کی عظمت کا احساس کرنے کا نام ہے، اسلام میں بھی بہت اہم مقام رکھتا ہے۔ اسلام میں تقویٰ کے حصول کے لیے درج ذیل امور پر عمل پیرا ہونے کی تعلیم دی جاتی ہے:
1. **عبادات کی پابندی**: نماز، روزہ، حج، زکوۃ و خمس وغیرہ کی پابندی، خاص طور پر ان کی ادائیگی کے لیے درست نیت اور خلوص کا ہونا ضروری ہے۔
2. **قرآن کریم کی تلاوت و تدبر**: قرآن کریم کی باقاعدہ تلاوت کرنا اور اس کے معانی پر غور کرنا۔
3. **اہل بیت کی سیرت کا مطالعہ**: اماموں اور آل رسول کی حیات طیبہ کا مطالعہ کرکے ان کے اخلاق و عادات کو اپنانا۔
4. **گناہوں سے اجتناب**: شریعت میں حرام قرار دیے گئے امور سے بچنا اور نیکیوں کی طرف رغبت دکھانا۔
5. **دعا و مناجات**: اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا اور خصوصی اوقات میں (مثلاً تہجد کے وقت) مناجات میں مصروف رہنا۔
6. **اخلاقی تربیت**: صبر، شکر، حلم، عفو و درگزر جیسی اخلاقی خصوصیات کو اپنانا اور غضب، حسد، تکبر جیسے منفی اخلاق سے بچنا۔
7. **معاشرتی ذمہ داریاں**: معاشرے میں عدل و انصاف کو فروغ دینا، ضرورتمندوں کی مدد کرنا، اور امن و آشتی کی کوشش کرنا۔
8. **علم حاصل کرنا**: دینی اور دنیاوی علوم میں علم حاصل کرنا، تاکہ انسان خود بھی بہتر بن سکے اور دوسروں کے لیے مفید رہے۔
تقویٰ الہی کا مقصد انسان کو ایک متقی شخصیت بنانا ہے جو نہ صرف خود اللہ کے قریب ہو بلکہ دوسروں کے لیے بھی رحمت بن سکے۔
ملکات یا خصلتیں(اچھی ، بری)کیسے انسان میں پیدا ہوتی ہیں؟
انسانی خصلتیں یا ملکات، چاہے وہ اچھی ہوں یا بری، مختلف عوامل کے تحت تشکیل پاتی ہیں۔ یہ عوامل ماحولیاتی، نفسیاتی، تربیتی، اور فطری ہو سکتے ہیں۔ ذیل میں انسانی خصلتوں کی تشکیل کے کچھ اہم عوامل کا ذکر کیا جا رہا ہے:
1. **جینیاتی عوامل (Genetics)**: بعض خصلتیں جینیاتی ہوتی ہیں۔ یہ خصوصیات والدین سے ان کے بچوں میں منتقل ہو سکتی ہیں، جیسے کہ مزاج کی چند خصوصیات۔
2. **تربیت و تعلیم (Upbringing and Education)**: والدین اور اساتذہ کا کردار انتہائی اہم ہوتا ہے۔ اچھی تربیت اور تعلیم سے اچھی خصلتیں پروان چڑھتی ہیں، جبکہ ناقص تربیت سے بری خصلتیں جنم لیتی ہیں۔
3. **ماحولیاتی عوامل (Environmental Factors)**: انسانی ملکات پر ماحول کا گہرا اثر ہوتا ہے۔ سماجی، ثقافتی، اور معاشی حالات خصلتوں کی تشکیل میں کردار ادا کرتے ہیں۔
4. **ذاتی تجربات (Personal Experiences)**: انسانی تجربات بھی خصلتوں کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ مثلاً، کسی تلخ تجربہ کی وجہ سے انسان میں محتاط رویہ پیدا ہو سکتا ہے۔
5. **فیصلہ سازی اور عملی رویہ (Decision Making and Practice)**: انسان جب کسی خصلت کو بار بار دہراتا ہے تو وہ اس کی عادت بن جاتی ہے۔ مثلاً، اگر کوئی شخص مسلسل صدقہ دیتا ہے، تو اس میں سخاوت کی عادت پختہ ہوتی جاتی ہے۔
6. **ذاتی عزم و ارادہ (Personal Resolve and Will)**: خصلتوں کی تشکیل میں ذاتی عزم و ارادہ بھی اہم ہوتا ہے۔ انسان اگر خود کو بہتر بنانے کا عزم کر لے تو وہ اپنی بری خصلتوں کو تبدیل کر سکتا ہے۔
7. **روحانی و دینی ارشادات (Spiritual and Religious Guidance)**: دینی تعلیمات اور روحانی رہنمائی بھی خصلتوں کی تشکیل میں مدد دیتی ہیں۔ دین اسلام میں نیکیوں کی تعلیمات اور برائیوں سے بچنے کی ہدایات انسان کی ملکات کو بہتر بناتی ہیں۔
ان عوامل کا مجموعہ انسانی خصلتوں کی تشکیل کا سبب بنتا ہے۔ اچھی خصلتیں پیدا کرنے کے لیے ذاتی جدوجہد، مثبت ماحول، اور صحیح تربیت کی اہمیت نہایت زیادہ ہوتی ہے۔
🚩 والسلام علیکم ورحمۃ اللہ.
التماس دعا ظہور وفلسطین 🤲🏻🙏😭 💔
اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم
🚩زیر سرپرستی امام زمانہ عج 🙏🏻🏕️
شہر بانو ✍
اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم
شہر بانو ✍
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں