Course 2 Book 4 Me

 

*کتابچہ " امام مہدی عج شیعہ و سنی احادیث کی رو سے"*

پہلا درس

احادیث سے متعلق تمہیدی گفتگو

استادِg محترم آغا علی اصغر سیفی

عالمی مرکز مہدویت قم

  ♡☆☆☆☆☆☆♡  ♡☆☆☆☆☆☆♡




♡☆☆☆☆☆☆♡


🌹بسم اللہ الرحمٰن الرحیم🌹


اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ🚩


یا علی علیہ السلام مدد🙏🏻🙏🏻🙏🏻



▪️ اسلام کے اندر کسی بھی موضوع غیبت ، ظہور، انتظار سب کو جاننے کے لئے قرآن کے بعد اہم منبع احادیث محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔


▪️ احادیث میں امام آخر علیہ السلام کا ذکر بہت تفصیل سے کیا گیا ہے۔ ہمارے مستقبل کا نقشہ جو آج ہم جانتے ہیں وہ انہیں احادیث کی بدولت ہے۔ 


▪️ حدیث کے لغوی معنی چھپی ہوئی چیز کا ظاہر ہونا۔ اصطلاح میں قول و فعل معصوم ، یا کوئی فعل ان کے سامنے انجام پایا ہو اس کے بارے میں تائید یا تردید کو بیان کرے، اسے حدیث کہتے ہیں۔


▪️اہلسنت کے اندر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، اصحاب و تابعین کے قول و فعل و تائید کو حدیث کہتے ہیں۔ 

 ▪️ *حدیث صحیح* حدیث بیان کرنے کے طبقے ہیں یعنی جن کے ذریعے وہ کلام ہم تک پہنچا ہے۔ اگر یہ تمام طبقات شیعہ اور عادل راوی ہوں تو اس حدیث کو صحیح کہتے ہیں۔

اہلسنت میں یہ شرط کہ  دقت کرنے والے ہوں اور یہ کہ حدیث مشہور احادیث کی مخالفت نہ کرے اور کم ازکم ایک راوی عادل ہو۔


▪️ *حدیث حسن* وہ روایت سوائے ایک یا چند راویوں کے قابل اعتماد ہوں۔

اہلسنت کے نزدیک عادل ہوں اور کم دقت والے ہوں۔


▪️ *خبر متواتر* تمام راویوں کی تعداد بہت زیادہ ہو۔

*خبر واحد* جس کے راویوں کی تعداد کم ہو. 


▪️اہلسنت کی اہم ترین کتابیں صحاح ستہ ہیں۔ اہل تشیع میں چار کتابیں اہم ہیں کتاب کافی، من لا یحضرہ الفقیہہ، الاستبصار اور تہذیب ہیں۔

التماس دعا ظہور وفلسطین 🤲🏻🙏😭 💔

اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم 

شہر بانو ✍



lesson 2

*کتابچہ " امام مہدی عج شیعہ و سنی احادیث کی رو سے"*

دوسرا درس

احادیث سے متعلق تمہیدی گفتگو

شیعہ حدیثی ماخذات کا تعارف

استادِ محترم آغا علی اصغر سیفی

عالمی مرکز مہدویت قم


اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ🚩

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

 اسلام کے اندر کسی بھی موضوع غیبت ، ظہور، انتظار سب کو جاننے کے لئے قرآن کے بعد اہم منبع احادیث محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔


▪️ احادیث میں امام آخر علیہ السلام کا ذکر بہت تفصیل سے کیا گیا ہے۔ ہمارے مستقبل کا نقشہ جو آج ہم جانتے ہیں وہ انہیں احادیث کی بدولت ہے۔ 


حدیث کے لغوی معنی


▪️ حدیث کے

 لغوی معنی چھپی ہوئی چیز کا ظاہر ہونا۔


شیعہ کی نظر میں حدیث کی اصطلاحی تعریف


 اصطلاح میں قول و فعل معصوم ، یا کوئی فعل ان کے سامنے انجام پایا ہو اس کے بارے میں تائید یا تردید کو بیان کرے، اسے حدیث کہتے ہیں۔


ایل سنت کی روشنی میں حدیث کی اصطلاحی تعریف


▪️اہلسنت کے اندر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، اصحاب و تابعین کے قول و فعل و تائید کو حدیث کہتے ہیں۔ 

و



مہدویت کے موضوع پر ہر دو شیعہ سنی نے احادیث کے ذخیرے موجود ہیں۔ جنہیں الگ ابواب کی شکل میں یا الگ کتابیں بھی سامنے آئی ہیں۔


 *شیعہ مآخذ* تاریخی اعتبار سے اس کی ایک ترتیب ہے۔ 

آپ علیہ السلام کی ولادت سے پہلے علماء کا کام اور بعد از ولادت


 *ولادت امام زمان عجل اللہ فرجہ الشریف سے پہلے علماء کا کام* جو سابق آئمہ معصومین علیھم السلام کے ادوار میں تحریر ہوئی ہیں۔


 اہم ترین کتاب *سلیم ابن قیس ہلالی* ہے جو اسرار آل محمد ص کے نام سے معروف ہے۔ یہ غالباً 73ہجری سے پہلے لکھی گئی۔ یہ کتاب مکمل مہدویت پر نہیں ہے،اس کا کچھ حصہ مہدویت پر احادیث سے متعلق ہے۔


*الغیبہ للحجہ* کتاب ہے، جو جناب  یہ کام 220ہجری میں ان کی وفات سے پہلے کا ہے۔ اس میں مکمل مہدویت کے متعلق احادیث ہیں۔


کتاب *اخبار المہدی* جو جناب ابو سعید رہ کی وفات 255 ہجری سے پہلے لکھی گئی۔

ہمارے پاس یہ پانچ کتب ایسی ہیں جو امام زمان علیہ السلام کی ولادت سے پہلے سابق آئمہ علیہم السلام کے ادوار میں لکھی گئیں۔


آپ علیہ السلام کی ولادت کے بعد کی کتب بھی ہمارے پاس موجود ہیں۔

ان میں دو طرح کی تقسیم ہے:

*عمومی:* جس میں بہت سارے موضوعات ہیں اور ایک باب یا کچھ حصہ امام زمان علیہ السلام کے بارے میں۔

دوسرا وہ *منابع خاص* کتابیں جو آپ ع کی ولادت کے بعد تحریر ہوئیں اور مکمل آپ ع کے ذکر پر مبنی ہیں۔


 *منابع عام*

کتاب کافی جناب یعقوب کلینی رہ کی کتاب  سب سے مشہور ہے۔ ان کی وفات کا سال چوتھے نائب خاص امام زمان علیہ السلام کی وفات کے سال میں ہے۔

یہ قدیمی اور معتبر ترین کتاب ہے جس کی تشریح میں بھی بہت کتابیں لکھی گئیں ہیں۔

اس کتاب میں سولہ ہزار سے زائد احادیث ہیں۔ اس میں امام زمان علیہ السلام پر بھی ابواب موجود ہیں۔


 *قرب الاسناد* ہے جو عبداللہ بن جعفر حمیری رہ کی ہے۔ آپ محقق کلینی کے استاد تھے اور امام نقی علیہ السلام و امام حسن عسکری علیہ السلام کے ساتھ خط کتابت بھی جاری تھی۔ اور غیبت صغری میں امام کے دوسرے نائب خاص کے ساتھ بھی آپ کی خط و کتابت تھی۔ یہ کتاب کافی سے قدیم ہے۔ ابواب کی شکل میں امام مہدی علیہ السلام کا ذکر موجود ہے۔


 *کتاب بصائر الدرجات* ہے تیسرا اہم منبع ہے۔ ابو جعفر محمد ابن حسن السفار رہ نے لجھی۔ آپ امام عسکری علیہ السلام کے اصحاب میں سے تھے۔ یہ بھی محقق کلینی رہ کے اساتید میں سے تھے۔


 اہم کتاب *المحاسن* ہے جو جناب ابو جعفر خالد برکی رہ کی لکھی ہوئی ہے۔ بہترین کتب میں شمار ہوتی ہے۔ بعض علماء اسے کتب اربعہ کے برابر سمجھتے ہیں۔ یہ کتاب ہمارے پاس نامکمل پہنچی ہے۔


 *کتاب کفایت الاثر*  چوتھی صدی کی کتاب ہے، شیخ صدوق رہ کے شاگردوں میں سے ہیں۔


کتاب *الارشاد فی المعرفہ حجج اللہ* اہم ہے۔ یہ شیخ مفید رہ کی کتاب ہے۔ آپ شیخ طوسی رہ، شیخ مرتضی انصاری رہ ، سید رضی رہ کے استاد تھے۔

 *منابع خاص*

 

کمال الدین و تمام النعمہ شیخ صدوق رہ


 کتاب الغیبہ محمد نعمانی کی کتاب،  کتاب نعمانی کے نام سے بھی پہچانی جاتی ہے۔


 جناب شیخ مفید رہ کی خاص امام زمانہ علیہ السلام کے موضوع پر کتاب 


 اربعہ رسالہ فی الغیبہ شیخ مفید رہ


 شیخ طوسی رہ کی کتاب الغیبہ فی الحجہ

بہت اہم کتاب ہے


آج کےزمانے میں معجمہ احادیث مختلف محققین نے مل کر رکھا ہے اور امام زمان علیہ السلام کے موضوع پر تمام تر احادیث شیعہ و سنی منابع سے ان کو جمع کیا ہے۔ یہ پانچ جلدوں میں ہے۔


 آیت اللہ صافی گلپائیگانی کی کتاب منتخب الاثر ہے جو شاہکار کتاب ہے۔


*اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم*


شہر بانو

 

 *کتابچہ " امام مہدی عج شیعہ و سنی احادیث کی رو سے"*


التماس دعا ظہور وفلسطین 🤲🏻🙏😭 💔


اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم 


شہر بانو ✍





تیسرا درس

احادیث سے متعلق تمہیدی گفتگو

سنی حدیثی ماخذات کا تعارف

استادِ محترم آغا علی اصغر سیفی

عالمی مرکز مہدویت قم



🌹بسم اللہ الرحمٰن الرحیم🌹


اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ🚩


یا علی علیہ السلام مدد🙏🏻🙏🏻🙏🏻

 اسلام کے اندر کسی بھی موضوع غیبت ، ظہور، انتظار سب کو جاننے کے لئے قرآن کے بعد اہم منبع احادیث محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔


▪️ احادیث میں امام آخر علیہ السلام کا ذکر بہت تفصیل سے کیا گیا ہے۔ ہمارے مستقبل کا نقشہ جو آج ہم جانتے ہیں وہ انہیں احادیث کی بدولت ہے۔ 


حدیث کے لغوی معنی


▪️ حدیث کے

 لغوی معنی چھپی ہوئی چیز کا ظاہر ہونا۔


شیعہ کی نظر میں حدیث کی اصطلاحی تعریف


 اصطلاح میں قول و فعل معصوم ، یا کوئی فعل ان کے سامنے انجام پایا ہو اس کے بارے میں تائید یا تردید کو بیان کرے، اسے حدیث کہتے ہیں۔


ایل سنت کی روشنی میں حدیث کی اصطلاحی تعریف


▪️اہلسنت کے اندر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، اصحاب و تابعین کے قول و فعل و تائید کو حدیث کہتے ہیں۔ 



 

 اہلسنت کے راویوں کی تعداد 160 ہے جنہوں نے امام مہدی علیہ السلام کے متعلق کام کیا ہے۔ 



مختصراًتین مرحلوں میں جائزہ:



امام مہدی علیہ السلام کی ولادت سے پہلے کی کتابوں میں ذکر:


آپ علیہ السلام کی ولادت کے بعد کی کتابوں میں ذکر



غیبت  کبریٰ کے دوران



امام مہدی علیہ السلام کی ولادت سے پہلے کی کتابوں میں ذکر:


کتاب الجامع 151 ہجری

کتاب الرسالہ (امام شافعی رہ)

السنن سنانی

الفتن

السنن فی الاحادیث ابن شیبہ

مسند ابن حنبل 



آپ علیہ السلام کی ولادت کے بعد کی کتابوں میں ذکر:


سنن ابن داؤد

سنن ابن ماجہ

سنن ترمذی

کتاب الفتن والملائن 



غیبت کبریٰ کے دوران



غیبت کبریٰ کے دوران کتابوں میں میں بھی آپ علیہ السلام کا  ذکر موجود ہے مثلاً المستدرک



اہلسنت کی امام مہدی علیہ السلام پر مختص کتابیں:

الاربعین

البیان فی الاخبار صاحب الزمان عجل

البرہان فی علامات مہدی آخر الزمان۔۔۔ متقی ہندی 

موسوعہ ...

الفصول المہممہ



اس سے ظاہر ہے کہ اہلسنت نے بھی احادیث کے مجموعے کو اہتمام کے ساتھ جمع کیا ہے اور امام مہدی علیہ السلام کے موضوع پر بھی ان کی نظر ہمیشہ سے رہی ہے۔


التماس دعا ظہور وفلسطین 🤲🏻🙏😭 💔

اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم 

شہر بانو ✍


💠 


*کتابچہ " امام مہدی عج شیعہ و سنی احادیث کی رو سے"*

چوتھا درس

مہدوی احادیث کے موضوعات

کتاب منتخب الاثر کی فہرست پر ایک نظر

استادِ محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب

عالمی مرکز مہدویت قم


New



🌹بسم اللہ الرحمٰن الرحیم🌹


اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ🚩


یا علی علیہ السلام مدد🙏🏻🙏🏻🙏🏻



اس درس میں ایت اللہ صافی گلپائیگانی کی کتاب *منتخب الاثر* کے بارے میں بات کی گئی ہے اور ایک فہرست بتائی گئی ہے جس میں احادیث کے موضوعات اور ان کی تعداد کا بیان ہے۔


💠157 کتابوں کا مطالعہ کرنے کے بعد ایت اللہ صافی گلپائگانی نے یہ کتاب تحریر کی ہے۔

 

💠چھ ہزار سے زیادہ احادیث کا مطالعہ کیا۔پھر 922 یا 1000 احادیث کو منتخب کیا۔


💠99 موضوعات پہ احادیث اکٹھی کی گئیں ۔

اس میں امام 12 ہیں اس بارے میں 271 احادیث۔


💠بنی اسرائیل کے نقباء کی تعداد بھی 12 امام بھی 12۔


💠پہلے امام علی علیہ السلام ہیں 123 احادیث۔

12 اماموں کے ناموں والی 24 احادیث۔


💠امام 12 ہیں اور امام حسن حسین دوسرے اور تیسرے امام۔ اور بارھویں امام مہدی ہوں گے اس بارے میں 94 احادیث۔


💠امام مہدی علیہ السلام عترت پیغمبر ہیں 50 حدیثیں ۔


💠امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کی بشارت۔

 50 احادیث۔


💠 امام مہدی علیہ السلام کے بارے میں 48 احادیث۔

 

💠آخری امام امام مہدی علیہ السلام مولا علی کی نسل سے ہوں گے 21 احادیث۔


💠جناب زہرا علیہ السلام کی نسل سے ہوں گے 214 احادیث۔


💠امام حسین علیہ السلام کی نسل سے نویں امام ہوں گے 160 احادیث۔


💠والد کا نام حسن ہے 146 احادیث۔


💠والدہ گرامی کنیزوں میں سے سب سے بہترین کنیز ہیں 147 احادیث۔ البتہ کنیز سے مراد یہ ہے کہ جو خاندان بنی ہاشم سے باہر کی خواتین شادی کر کے خاندان اہل بیت میں شامل ہوئی ہیں ورنہ بی بی کا رتبہ بہت بلند ہے۔


💠یہ 3 نام محمد ،علی ،حسن یکے بعد دیگرے ائیں تو چوتھے امام مہدی ہوں گے اس بارے میں 9 احادیث۔


💠اپ کی ولادت مخفی ہوگی اس بارے میں 14 احادیث۔


💠اپ کی غیبت طولانی ہوگی اور حکم خدا سے یہ غیبت ختم ہوگی اور اپ خدا کے حکم سے ظہور فرمائیں گے۔ 10 احادیث۔


💠غیبت میں امام مہدی علیہ السلام سے کیسے فیض حاصل کیا جائے اس بارے میں 7 احادیث۔


💠اپ عجل آللہ الشریف ظہور کے بعد اس زمین کو عدل و انصاف ے سے بھر دیں گے 136 احادیث ۔


💠اپ کی طولانی عمر کے بارے میں 318 احادیث۔


💠آپ کی غیبت اور طولانی عمر میں بھی اپ جوان رہیں گے اس بارے میں 

8 احادیث۔


💠اپ کسی کی بیعت نہیں کریں گے بلکہ سب اپ کی بیعت کریں گے اس بارے میں 10 احادیث۔


💠قران کے معنی و مفاہیم کو ظاہر کریں گے 19 احادیث۔


💠ملت کو قران و سنت کی طرف لائیں گے 15 احادیث۔


💠اپ کی غیبت پیغمبروں کی سنت ہے جیسے حضرت ادریس حضرت یونس علیہ السلام حضرت موسی علیہ السلام کا غائب ہونا کچھ عرصے کے لیے۔۔اس بارے میں 23 احادیث۔


💠اپ شمشیر یعنی اسلحے سے قیام کریں گے 7 احادیث.


💠اپ حضرت عیسی علیہ السلام کی امامت کریں گے اپ پیغمبر کے پرچم کے مالک ہوں گے دنیا کے تمام لوگ اپ کے فرمانبردار ہوں گے ان سب موضوعات پر الگ الگ باب ہیں۔


💠اپ کی والدہ پر ایک الگ باب ہے۔


💠اپ کو امام حسن عسکری علیہ السلام کے زمانے میں دیکھا 214 احادیث۔


💠غیبت کبری میں اپ کے معجزات سے متعلق 14 حکایات۔


💠غیبت کبری میں جن لوگوں نے اپ سے ملاقات کی 13 روایات۔


💠غیبت صغری میں اپ کے معجزات 27 روایات۔


💠ندائے اسمانی پر 27 روایات۔


💠سفیانی ۔خسف بیداء۔ صحیحہء اسمانی سب علامات ظہور ہیں ان پر 38 احادیث۔


💠ظہور کا وقت معین کرنا جائز نہیں 7 احادیث۔


💠بیعت کی کیفیت 11 احادیث۔


💠ظہور سے پہلے دنیا میں فساد ظلم بے چینی 37 احادیث۔


💠اپ مشرق و مغرب فتح کریں گے 17 روایات۔


💠آپ کے 313 انصار جو ایک ہی وقت میں اپ کی خدمت میں حاضر ہوں گے ان کے متعلق 25 احادیث۔


💠آپ کے ظہور کے بعد کاموں میں اسانی عقلیں کامل ہو جائیں گی۔


💠ظہور کے بعد مولا کی حکومت کی مدت پہ 18 روایات ہیں۔


💠حضرت حجت القائم کے وجود کا انکار کرنا حرام ہے اس پہ 9 احادیث۔


💠غیبت میں اپ پر ایمان اور اپ کا انتظار کرنے کی فضیلت 23 احادیث ہیں۔


💠غیبت میں شیعوں کی ذمہ داری 54 احادیث ہیں۔


💠اپ کی جانب سے منسوب دعائیں ان پہ 13 روایات ہیں۔۔


اس درس سے ہمیں معلوم ہوا کہ امام مہدی علیہ السلام پر کتنا کام ہو چکا ہے اور ہو رہا ہے پروردگار عالم ہمیں ہمارے امام کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جاننے کا شوق اور جستجو کی توفیق عطا فرمائے ۔ اور اپ کے اطاعت گزار انصار میں شامل فرمائے الہی امین اللہم عجل لولیک الفرج ۔ آمین ۔

🚩 والسلام علیکم ورحمۃ اللہ.


التماس دعا ظہور وفلسطین 🤲🏻🙏😭 💔

اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم 


🚩زیر سرپرستی امام زمانہ عج 🙏🏻🏕️


شہر بانو ✍



*کتابچہ " امام مہدی عج شیعہ و سنی احادیث کی رو سے"*

چوتھا درس

مہدوی احادیث کے موضوعات

کتاب منتخب الاثر کی فہرست پر ایک نظر

استادِ محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب

عالمی مرکز مہدویت قم


🌹بسم اللہ الرحمٰن الرحیم🌹

اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ🚩

یا علی علیہ السلام مدد🙏🏻🙏🏻🙏🏻


▪️ اہلسنت کے راویوں کی تعداد 160 ہے جنہوں نے امام مہدی علیہ السلام کے متعلق کام کیا ہے۔ 


▪️مختصراًتین مرحلوں میں جائزہ:


▪️امام مہدی علیہ السلام کی ولادت سے پہلے کی کتابوں میں ذکر:


کتاب الجامع 151 ہجری

کتاب الرسالہ (امام شافعی رہ)

السنن سنانی

الفتن

السنن فی الاحادیث ابن شیبہ

مسند ابن حنبل 


▪️آپ علیہ السلام کی ولادت کے بعد کی کتابوں میں ذکر:

سنن ابن داؤد

سنن ابن ماجہ

سنن ترمذی

کتاب الفتن والملائن 


▪️غیبت کبریٰ کے دوران کتابوں میں میں بھی آپ علیہ السلام کا  ذکر موجود ہے مثلاً المستدرک


▪️اہلسنت کی امام مہدی علیہ السلام پر مختص کتابیں:

الاربعین

البیان فی الاخبار صاحب الزمان عجل

البرہان فی علامات مہدی آخر الزمان۔۔۔ متقی ہندی 

موسوعہ ...

الفصول المہممہ


▪️اس سے ظاہر ہے کہ اہلسنت نے بھی احادیث کے مجموعے کو اہتمام کے ساتھ جمع کیا ہے اور امام مہدی علیہ السلام کے موضوع پر بھی ان کی نظر ہمیشہ سے رہی ہے۔



🚩 والسلام علیکم ورحمۃ اللہ.

التماس دعا ظہور وفلسطین 🤲🏻🙏😭 💔

اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم 

🚩زیر سرپرستی امام زمانہ عج 🙏🏻🏕️


شہر بانو 




🌸﷽🌸

🌷اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎،




کتابچہ " امام مہدی عج شیعہ و سنی احادیث کی رو سے"

چوتھا درس

مہدوی احادیث کے موضوعات

کتاب منتخب الاثر کی فہرست پر ایک نظر

استادِ محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب

عالمی مرکز مہدویت قم



اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ🚩

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

 🤲🏻پروردگار ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائی ہے جسے امام مہدی علیہ السلام کے موضوع میں جاری ہے اس سے پہلے مولا پر مختلف شیعہ سنی ماخذات پر گفتگو ہو چکی ہے ،


ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ ان شیعہ سنی ماخذات میں امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف پر جو احادیث ہیں ان کے موضوعات کیا ہے،

ہر احادیث جو ہے وہ موجود ہیں اس کتاب کا تجزیہ کریں اس کی 

ایک مشہور کتاب 📚منتخب الاثر جو حضرت آیت اللہ صافی گلپایگانی ان کے ابھی حال ہی میں وفات ہوئی ہے، پروردگار ان کے درجات بلند فرمائے آپ جو ہیں وہ ایک مہدی شخصیت بھی تھے تو نے شیعہ سنی کتابوں سے ہے احادیث سے لکھا اور پھر کی شکل میں جو ہے یہ کتاب ہمارے سامنے آرہی ہے اس کتاب کے اندر ہر بندہ نے بہت ہی محنت کے ساتھ جو ہے وہ تقریباً ایک سو ستاون کتابوں کا مطالعہ کیا اور تقریباً چھ ہزار سے زیادہ کتاب کے اندر تقریبا 922 یار 53 ہزار کے قریب جو ہوں حدیث کو جمع کیا ہے کہ ان میں وہ انسان جو اصل میں ہم دیکھ رہے ہیں وہ تقریبا نو سو چوہے کو حرام ہے حدیث کی کتاب جو احادیث پر مشتمل ہے مولا امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کے حوالے سے کتنے انا مین ہو سکتے ہیں میں سب سے پہلے انہوں نے بارہ آئمہ والی احادیث کو بیان کیا یعنی ایک موضوع ہے کہ امام بارہ ہے شیعہ سنی کتابوں سے بیان کیا ہے اسی طرح دوسرا موضوع ہے وہ یہ ہے کہ امام جو ہے وہ بنی اسرائیل کے نقباء کی تعداد کے مطابق وہ بھی بارہ نقیب تھے ابھی 12 ہیں اور بالوں والا جو موضوع ہے اس نے وہ احادیث پیش کر دینا ہر موضوع پر احادیث امام بارگاہ اس پر انہوں نے دو سو اکتر احادیث ہیں وہ پیش کی ہیں بنی اسرائیل کے نقباء کی تعداد کے مطابق ہے چالیس احادیث پیش کی ہیں ائمہ ع کی متضاد بیان ہے

اور پہلے امام علی ہیں اس 143 ہیں اور اماموں کی تعداد بارہ ہیں اور ان میں سے نو امام جو ہے وہ امام حسین علیہ السلام کی نسل سے اس پر 91 احادیث ہیں اور یہ اماموں کی تعداد بارہ ہے اور نوں امام حسین علیہ السلام کی اولاد ہیں.


 اور ان میں سے بارہویں امام مہدی امام قائم ہیں اس پر تقریبا 94 احادیث بیان کی ہیں پھر بارہ اماموں کے تمام نام والی جو ہے وہ 139 ہے پھر امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کی بشارت دی گئی ہے وہ پچاس احادیث ہے-


 ایک معمہ ہے جو ہیں وہ دوسرے پیغمبر ہیں اور آپ کی ضروریات اور اہل بیت سے ہیں اس پر پچاس احادیث ہے اسی طرح آپ دیکھیں کہ امام کا نام پیغمبر والا نام ہے کنیت ہے پیغمبر جیسی ہے اور سب سے زیادہ سے مشابہت رکھتے ہیں اور آپ کی سنت پر عمل کرنے والے ہوں گے اس پر تین سو اٹھانوے احادیث ہیں امام مہدی علیہ السلام کے شمالی مبارک پر 48 احادیث ہیں "


امام علی علیہ السلام کی نسل میں سے ہیں ہم اس پر اکیس احادیث ہیں ہیں بی بی زہرا کی کی نسل میں سے ہیں اس پر دو سو بیس احادیث حسن و حسین حسین کی اولاد میں سے ہیں ہیں پر ایک سو بیانوے احادیث ہیں ہیں صرف یہ کہ کہ آپ 

❤️امام حسین کی نسل میں سے ہیں  اس پر ہم نو سو احادیث ہیں .

امام حسین کی نسل میں سے ہے امام کاظم کی اولاد میں سے ہیں یا امام صادق ع نسل میں سے پانچ ہیں امام رضا علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں امام تقی علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں امام علی نقی علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں انہیں دوسرے ہیں اور آپ کے والد کا نام حسن ھے یا ان سب پر احادیث کی تعداد ہے سارے باب ہیں 


آپ کے والد کا نام حسن ایک سو چالیس احادیث صحیحہ میں بیان کیا آپ کی والدہ جو ہے وہ کنیزوں میں سے بہترین مقام بہت بلند ہے لیکن جو بھی بی بی باہر سے دیگر خاندانوں سے خاندان اہل بیت میں آتی تھی وہ اپنے آپ کو کنیز پیش کرتی تھی .

تو جتنی بھی باہر سے بیبیاں آٸیں یہ سب سے بہترین کنیز یعنی سب کنیزوں کی سردار  حضرت نرجس خاتون سلام اللہ علیہ ھے 

۔

 جب تین نام محمد علی الحسن آئیں گے تو ان میں ان کے بعد چوتھے قائم عج ہے یعنی امام سے آگے محمد علی اور حسن اس پر  نو احادیث ہیں۔

اور یہ بھی بتایا گیا تھا کہ آپ کی غیبت کی ہو گئی ایک مختصر اور ایک تولہ نے اس پر 130 احادیث ہیں وہ کب لکھی گئی یہاں تک کہ خدا انہیں خرچ کر دے گا اس پر دس احادیث ہیں آپ کی غیبت کی علّت یا فلسفہ اس پر قانون حدیث امام غائب سے کیا فائدہ اور دیا جاسکتا ہے اس پر 7 امام کے طولانی عمر پر 318 حدیث ہیں اور یہ کہ امام غیبت کے زمانے میں ہمیشہ جوان ہیں ان کے چہرے پر بڑھاپے کے آثار نہیں ہیں 0 آپ کی ولادت مصطفی ہے 14 حدیث آپ پر کسی کی بیعت نہیں زمانہ غیبت میں کسی کی نہیں بلکہ ہمارے دور میں بھی کسی کی بات نہیں کریں گے ساری دنیا ان کی بیعت کرے اس پر دس احادیث خدا کے دشمنوں کو قتل کریں گے زمین کو شرک سے پاک کریں گے ظالموں کی حکومت کا خاتمہ کریں گے اور ان کی تعبیر قرآن کی جو مان اور مفاہیم ہیں جو باقی ھیں اس پر 10 احدیث ہیں .


زمین کو زندہ کریں گے اس پر 47 آپ لوگوں کو قرآن اور سنت پیغمبر کی طرف لائیں گے 15 29 دشمنان خدا سے انتقام لیں گے اس پر چڑھ کے اسباب میں سے ہے اس پر ترس نبی کا لب پر جو ہیں وہ پردہ غیبت میں ہیں اس لئے پیغمبروں کی سنت ان کی غیبت کے اسباب میں سے ہیں اس کے بعد اس سے پہلے ایمان رکھتا ہو اسے کوئی فائدہ نہیں دے گا اس کے ساتھ احادیث میں یہاں تو اسی طرح کروں گا یہ کہ شمشیر کے صدقے ہم کریں تو اس سے مراد آپ اس کے ساتھ کام کریں گے آپ کا کیا مسئلہ ہے لفظ شمشیر پر ہے وہ نام ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ اس جدید ٹیکنالوجی کے دور کے اندر بھی شمشیر پھیلائیں گے جبکہ بچہ بھی سمجھتا ہے کہ جدید اسلحے کے سامنے شمشیر کوئی حیثیت نہیں رکھتی یہ بات اس زمانے میں کی گئی تھی کہ جب شمسی سب سے دنیا کا بہترین فیصلہ تھا اور یہ کہنا کہ اس کے بعد اس کا ایمان لانا جو پہلے ایمان رکھتا ہے اسے کوئی فائدہ نہیں دے گا اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے تیاری نہیں کی ہوگی اور اپنی تربیت نہیں کی اور اپنے آپ کو انتظار کے مطابق جو ہے اپنی شخصیت نہیں ڈالی ہوگی جب آپ کا ظہور ہوگا اس وقت پھر یہ کوششوں کا ٹائم ہو جائے گا نہیں تو مولا کی طرف سے تو محبت حاصل ہوگی ان کو قبول کیا جائے گا لیکن لوگ خود ہی اپنی تربیتی کی وجہ سے اپنی تربیت نہ کرنے کی وجہ سے اور احساس کو خوشبو یا خود بخود دشمنوں کی مدد کریں گے.

التماس دعا ظہور وفلسطین 🤲🏻🙏😭 💔

اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم 

شہر بانو ✍




🌸﷽🌸
اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎،

🌹اللّٰھم صل علیٰ محمد وآل محمد"

🤲🏻اللہم عجل لولیک الفرج"





کتابچہ " امام مہدی عج شیعہ و سنی احادیث کی رو سے"
درس 5
احادیث مہدویت کی تقسیم اور ان اصحاب کی تعداد و نام جنہوں نے مہدوی احادیث کو نقل کیا ہے
استادِ محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب
عالمی مرکز مہدویت قم

اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ🚩
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
درس "5"

📚 کتاب منتخب الاثر اس کی فہرست کو بھی بیان کیا ۔

ہمارے ماہرین نے احادیث کو عمومی طور پر اور بالخصوص احادیث مہدویت کو چار گروپس میں تقسیم کرتے ہیں۔

1: تفسیری روایات ہیں جو قرآن مجید کی آیات کے ذیل میں نقل ہوئی ہیں
 اور آیت کو امام مہدی علیہ السلام پر تصدیق کرتی ہے ان کے اندر دو سو سے زائد آیات ہیں اور ہر آیت کے ذیل نے معصومین علیہم السلام سے جو روایات نقل ہوئی ہیں ان کے بارے میں ہے  تو اس قسم کی روایات کو ہم تفسیری روایات کہتے ہیں.

 2: دوسرا گروپ اخباری روایات ہیں اس کے اندر خبر دی گئی ہے،
ماضی کے بارے میں مستقبل کے بارے میں ان روایات میں خبر دی گئی ہے ھمارے آٸمہ ع نے اپنے دور میں بتایا کہ یہ غیبت واقع ہوگی اور اس کی کتنی قسمیں ہیں یا غیبت کے دوران کیا ہوگا اس سے پہلے کیا حالات ہوں گے ظہور سے پہلے کون سی علامات ظاہر ہوں گی یا ظہور کی بشارت ہے۔
 جتنی بھی بشارتیں ہیں یے سب روایات میں بتائے گٸی ھیں
اس مولا کی سیرت کیا ہوگی ان کے اوصاف کیا ہوں گے اس طرح قیام کریں گے کس طرح جنگ ہوگی حضرت عیسی کا نزول اور کیسے عدل و انصاف سے یے دنيا بھر جاٸے گی یے 
 ساری کی ساری اخباری روایات ھیں۔

3: گروہ تشریحی روایات، 
 وہ روایات جن میں غیبت کے اسباب ہیں  فلسفہ غیبت کیا ہے کیوں پیش آئے گی انتظار کا مطلب کیا ہے کیوں یہ اہم ہے منتظرین کی کیا کیا ذمہ داریاں ہیں??? کیوں ہم ظہور کا وقت معین نہیں کر سکتے
 کیوں مولا کا نام لینے سے منع کیا گیا تھا انکو ہم کہتے ہیں تشریحی روایات۔

4:  گروہ تاریخی روایات،
 وہ روایات جن پر  امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ پر ایک تاریخی نگاہ ڈالی گئی ہے آپ کے ولادت پر آپکے معجزات پر کیا کیا واقعات پیش آئے 
آپ سے کیا کیا سوال ھوٸے یے جو ساری روایات ہیں تاریخ کا حصہ ہے اس لیے ہم نے انکو تاریخی روایات کھتے ھیں امام زمان عج اللہ فرجہ الشریف پر کتنی احادیث ہے اور اس کے اندر کے مختلف ماخذات ہیں اور ہر ماخذ نے اپنی اپنی تحقیق سے اس روایت کی تعداد کو ایسے پیش کیا ہم یہاں بطور مثال 
ایک ماخذ
 معجم الاحادیث جو  الامام المہدی صلوات اللہ علیہ کے بارے میں علما کے گرہ نے لکھا ہے ۔
عصر حاضر میں یےکتاب  📚معجم  اس کے اندر مصنفین نے تقریبا 1941  
احادیث بیان ھوٸی ھیں،
 خود پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے 560 احادیث امام علی علیہ السلام علیہ السلام سے130 ہیں امام حسن علیہ السلام سے نو امام حسین علیہ السلام سے دس امام سجاد علیہ السلام سے 22 احادیث امام باقر علیہ السلام سے 60 ہے امام صادق علیہ السلام سے 297 ہے امام کاظم علیہ السلام سے 9 امام رضا علیہ السلام 30 امام محمد تقی علیہ السلام سے نو امام نقی علیہ السلام سے 13 امام عسکری علیہ السلام سے 42 خود امام زمانہ عج 130 توقیع ھیں ۔
اسی طرح دیکھتے ہیں کہ اسی کتاب کی پانچویں جلد ہے.
 اس میں جو امام مہدی علیہ السلام سے متعلق جو آیات ہیں ۔
ان کی تعبیر میں تقریبا پانچ سو کے قریب احادیث بیان ھوٸے ھیں اتنا بڑا ذخیرہ ہے وہ بھی احادیث کا ملتا ہے، اس کے بعد ہم آتے ہیں ،
صحابہ سے جو ہے وہ مہدی احادیث کے راوی کتنے ہیں ۔اس میں سب سے پہلے جنہوں نے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صحابہ کرام سے  جائے تو پتہ چلتا ہے کہ تقریبا ساٹھ کے قریب قریب اصحاب ہیں جنہوں نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بلا واسطہ امام مہدی علیہ السلام کے متعلق احادیث نقل کیں ھیں۔
 کچھ اصحاب کا نام بیان کرتے ہیں جن میں مرد و زن ہر دو طرح کی ہے اور صحابیوں موجود ہیں اور یہاں یہ چیز ہے وہ ہمیں بتا رہی ہے کہ مہدویت یہ عقیدہ ہے 60 کے قریب اصحاب نے احادیث بیان کے.

اس سے اس عقیدے کی  جڑوں کا گہرا ہونا اور اس کی اھمیت اور عظمت کا پتہ چلتا ہے اور یہ جو روایات اصحاب سے نقل ھوٸی یہ شیعہ سنی کتابوں میں موجود ہے ۔
جو ہمارے معاشرے میں موجود ہیں سب سے پہلے خود امیر المؤمنین جو اہل بیت سے جن کا تعلق ہے بی بی فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا
حضرت امام حسن ابن علی علیہ السلام اور امام حسین علیہ سلام ان سے نقل ہوئی ہیں جو خاندان رسول سے ھیں ہے جناب عباس بن عبدالمطلب اسی طرح ان کے بیٹے عبداللہ بن عباس عبداللہ بن جعفر طیار یہ وہ لوگ ہیں جو عزیزان ہے رسول اللہ صلی اللہ وسلم کی اولاد ہیں یہ بھی اسی حساب سے تعلق رکھتے ہیں جنہوں نے بہت بڑی تعداد میں کیا اس کے علاوہ اور بھی بہت بڑی تعداد جیسے جناب ابوذر غفاری ہے جناب سلمان فارسی ہی عمار یاسر حضرت براء بن یمان ہے اسی طرح عبدالرحمن بن عوف ہے عمر بن خطاب نے معاذ بن جبل ہے عثمان بن عفان ہے تنہا ہے جابر بن عبداللہ انصاری ہیں ابو ہریرہ ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں جناب عائشہ ہے امی سلمٰی اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ خود عبداللہ بن عمر ہے زید بن ارقم ہے اور مالک ہے ابو سعید خدری ہی  توفیل ہیں عبداللہ ابن ابی اوفیٰ ہیں اسی طرح ابوسلمان صحابی ہیں جن میں مالک ہے.

خلاصہ یہ ہے کہ ساٹھ کے قریب اصحاب نے اس موضوع کو بیان کیا ھے اس سے پتہ چلتا ہے جو ہم اس کا تجزیہ کریں تو چہرہ سامنے آتی ہیں ایک تو ہمیں موضوع مہدویت کی اہمیت کا پتا چلتا ھے. 

 والسلام علیکم ورحمۃ اللہ.

التماس دعا ظہور وفلسطین 🤲🏻🙏😭 💔

اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم 

شہر بانو ✍




کتابچہ " امام مہدی عج شیعہ و سنی احادیث کی رو سے"
درس 6
احادیث مہدویت کا متواتر اور صحیح ہونا 
اہل سنت کے علماء کا اظہار 

استادِ محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب
عالمی مرکز مہدویت قم


🌹بسم اللہ الرحمٰن الرحیم🌹

اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ🚩

یا علی علیہ السلام مدد🙏🏻🙏🏻🙏🏻
➖➖➖➖🚩
▪️ امام مہدی علیہ السلام کے موضوع پر احادیث متواتر ہیں۔
متواتر یعنی وہ حدیث جسے ہر دور میں اتنے لوگ نقل کریں کہ اس میں جھوٹ کا احتمال باقی نہ رہے۔ یعنی متواتر احادیث کا موضوع مسلم مسئلہ ہے۔

▪️ اہل تشیع میں مہدویت مسلم عقیدہ ہے علمائے اہلسنت کے نام جو مہدویت کے موضوع پر احادیث کے متواتر ہونے کو بیان کرتے ہیں:
محمد حسین شافعی 
ابن قیم
ابن حجر عسقلانی 
جناب سیوطی
ابن حجر
محمد رسول برزنجی
شیخ محمد علی
پس مہدویت کا انکار نہیں ہو سکتا۔

▪️ احادیث صحیحہ جو عادل راوی بیان کریں اور اس کے موضوع مسلم ہو۔
گو کہ ان کا مقام تواتر کے بعد ہے لیکن احادیث کی بحث میں یہ متواتر احادیث سے بلند مقام رکھتی ہیں۔
پس علمائے سنت بھی ان احادیث صحیحہ کو قبول کرتے ہیں۔
حافظ ابو جعفر اپنی کتاب 
حاکم نیشا پوری اپنی کتاب مستدرک میں
جناب بیہقی اپنی کتاب میں
ابن اسیر، عبدالعظیم اور چند دیگر علماء اہلسنت مہدویت کے موضوع پر احادیث صحیحہ کو اپنی کتابوں میں درج کیا ہے۔

🚩 والسلام علیکم ورحمۃ اللہ.

التماس دعا ظہور وفلسطین 🤲🏻🙏😭 💔
اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم 

🚩زیر سرپرستی امام زمانہ عج 🙏🏻🏕️

شہر بانو ✍



 *کتابچہ " امام مہدی عج
 شیعہ و سنی احادیث کی رو سے"*
درس 7
احادیث عام اور خاص ،حدیث ثقلین کا بیان ، لفظ اھل بیت سے قرآن کی رو سے مراد  

استادِ محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب



🌹بسم اللہ الرحمٰن الرحیم🌹

اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ🚩

یا علی علیہ السلام مدد🙏🏻🙏🏻🙏🏻

☆ عمومی احادیث:
عمومی احادیث میں تمام اہل بیت ع کے بارے میں احادیث  وارد ہوئی ہیں اس میں امام مہدی عج کا بھی ذکر ہے ۔۔۔۔جیسے حدیث ثقلین میں،من مات اور خلفائے اثناء عشر ہیں
☆ حدیث ثقلین:
یہ حدیث سنی شیعہ  کتب میں بہت کثرت سے بیان ہوئی ہے  رسول خدا ص کے تقریبا 34 اصحاب نے حدیث کو ذکر کیا ہے اور اہل سنت کے 187 علماء نے جن میں احمد حنبل اور احمد ترمذی نے بیان کی ہیں۔۔۔
کتاب صحیح مسلم میں زید بن ارقم سے نقل ہوا ہے کہ رسول خدا ص ایک دن پانی کے کنارے جس کا نام خم(غدیر خم) جو مکہ اور مدینہ کے درمیان واقع ہے خطبہ ارشاد فرمایا اس خطبے میں حمدوثناء پروردگار اور لوگوں کی واعظ نصیحت کرنے کے بعد یہ حدیث بیان فرمائی۔۔۔۔۔
مسلم اور ترمذی جوکہ صحاح اور سنن کے مؤلف ہیں نے لفظ اہل بیت پر تاکید کی ہے۔۔۔۔۔
☆ حدیث ثقلین میں اہل بیت ع:
لفظ"اہل بیت ع" قرآن مجید میں موجود ہے اللہ تعالی کا ارشاد ہے کہ:
بےشک میں نے اہل بیت ع کو ہر رجس سے دور اور  پاک و پاکیزہ کر دیا ہے۔۔۔۔(مفہوم)
سنن ترمذی،مسند احمد اور مسند عبد بن حمید میں یوں منقول ہے کہ:
اہل بیت ع کون افراد ہیں؟
 6 ماہ تک ہر روز صبح جب نماز کے لیے مسجد جاتے تو فرماتے کہ: اے اہل بیت ع نماز، بےشک خداوندعالم نے یہ ارادہ کر لیا ہے کہ تم سے رجس کو دور رکھے اور پاک و پاکیزہ رکھے جو حق ہے پاکیزہ رکھنے کا ۔۔۔اور اہل بیت وہی افراد ہیں جو مباہلہ میں موجود تھے
🚩 والسلام علیکم ورحمۃ اللہ.

التماس دعا ظہور وفلسطین 🤲🏻🙏😭 💔
اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم 

🚩زیر سرپرستی امام زمانہ عج 🙏🏻🏕️

شہر بانو ✍







کتابچہ " امام مہدی عج شیعہ و سنی احادیث کی رو سے"
درس 8
حدیث ثقلین میں لفظ عترت سے مراد، قرآن و عترت کی ہمراہی سے پانچ نکات کی وضاحت

استادِ محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب

🚩 🌹بسم اللہ الرحمٰن الرحیم🌹

اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ🚩

یا علی علیہ السلام مدد🙏🏻🙏🏻🙏🏻


حدیث ثقلین میں لفظ عترت سے مراد:

عترت میں خاص اور نزدیک ترین لوگ آتے ہیں اور زیادہ تر اولاد پر انحصار ہوتا ہے پس جناب فاطمہ س کے فرزندان رسول اللہ کی عترت ہیں۔۔حدیث ثقلین میں میں عترت سے محدود ترین لوگ مراد ہیں اور رسول خدا ص سے منسوب  تمام لوگ اس میں شامل نہیں ہیں صرف وہی اہل بیت مراد ہیں جو قرآن کے ہمراہ اور ہم سنگ ہونے کے خاص امتیاز رکھتے ہیں ان سے متمسک رہنا لغرش اور انحراف سے محفوظ رہنا ہے۔۔۔
چند اہم نکات:
☆ جس طرح کتاب خدا ابدی ہے اور دنیا کے خاتمے تک باقی ہے اسی طرح اہل بیت ع سے ایک فرد قرآن کے ساتھ ہمیشہ تک باقی ہے۔۔
☆ جس طرح کتاب خدا حجت ہے اور لوگوں پر اسکے پیروی واجب ہے اسی طرح اہل بیت ع کی اطاعت اور پیروی بھی واجب ہے۔۔۔
☆  قرآن میں کسی قسم کی لغرش اور خطا نہیں ہے اور اسکے  حقیقی پیروکار کبھی بھی خطا کے مرتکب نہیں ہوئے اس لیے رسول خدا ص نے اہل بیت ع کو  قرآن کے ساتھ منسلک کرکے فرمایا کہ:اگر آپ دونوں سے متمسک رہیں تو  کبھی خطا کے مرتکب نہیں ہونگے۔۔۔۔
☆  قرآن اور اہل بیت ع کا ساتھ یہ بھی نقطہ واضح کرتا ہےکہ صرف اہل بیت ع ہی ہیں جو  قرآن آیات کے حقائق کو بطور کامل اور درست سمجھ کر لوگوں کو پیش کر سکتے ہیں۔۔
☆ قرآن معرفت کا عظیم دریا ہے اور اہل بیت ع کا قرآن سے منسلک ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ علم کے عظیم درجوں ہر فائز ہیں۔۔۔


🚩 🚩 والسلام علیکم ورحمۃ اللہ.

التماس دعا ظہور وفلسطین 🤲🏻🙏😭 💔
اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم 

🚩زیر سرپرستی امام زمانہ عج 🙏🏻🏕️

شہر بانو ✍




New 
درس 8.. 



🚩 🌹بسم اللہ الرحمٰن الرحیم🌹

اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ🚩

یا علی علیہ السلام مدد🙏🏻🙏🏻🙏🏻


*خلاصہ*: 

حدیث ثقلین میں لفظ عترت سے مراد صاحبان حدیث کساء ہیں۔  ،

 قرآن و عترت کی ہمراہی سے پانچ نکات ۔


1- حدیث ثقلین میں لفظ عترت سے مراد۔۔


💠عترت میں خاص اور نزدیک ترین لوگ آتے ہیں اور زیادہ تر اولاد پر انحصار ہوتا ہے پس جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کے فرزندان رسول اللہ کی عترت ہیں۔۔حدیث ثقلین میں عترت سےجو لوگ مراد ہیں وہ صرف 14 معصومین علیہ السلام ہیں اور رسول خدا ص سے منسوب  تمام لوگ یعنی ازواج وغیرہ اس میں شامل نہیں ہیں۔۔

💠اہل بیت سے مراد وہی لوگ ہیں جو قرآن کے ہمراہ 

ہونے کا خاص امتیاز رکھتے ہیں ان سے متمسک رہنا لغرش اور انحراف سے محفوظ رکھتا ہے۔۔۔یعنی جن کو قران ناطق ہونے کی حیثیت حاصل ہے ۔


💠 جس طرح کتاب خدا ابدی ہے اور دنیا کے خاتمے تک باقی ہے اسی طرح اہل بیت ع میں سے ایک فرد قرآن کے ساتھ ہمیشہ  باقی ہے۔۔


💠 جس طرح کتاب خدا حجت ہے اور لوگوں پر اس کی پیروی واجب ہے اسی طرح اہل بیت ع کی اطاعت اور پیروی بھی واجب ہے۔۔۔


💠  قرآن کلام الہی ہے اور اس میں کسی قسم کی لغرش اور خطا نہیں ہے اور اسکے  حقیقی پیروکار کبھی بھی خطا کے مرتکب نہیں ہوئے اس لیے رسول خدا ص نے اہل بیت ع کو  قرآن کے ساتھ منسلک کرکے فرمایا کہ:اگر آپ دونوں سے متمسک رہیں تو  کبھی خطا کے مرتکب نہیں ہونگے۔۔۔۔


💠  قرآن اور اہل بیت ع کا ساتھ یہ بھی ہواضح کرتا ہےکہ صرف اہل بیت ع ہی ہیں جو  قرآنی آیات کے حقائق کو بطور کامل اور درست سمجھ کر لوگوں کو پیش کر سکتے ہیں۔۔


💠 قرآن معرفت کا عظیم دریا ہے اور اہل بیت ع کا قرآن سے منسلک ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ علم کے عظیم ترین درجات کے حامل ہیں۔۔۔اور قران کی باطن میں چھپے ہر راز ، ہر علم اور ہر پیغام کو اہل بیت سے زیادہ کوئی نہیں سمجھ سکتا۔

🤲اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن و اہلبیت علیہ السّلام سے متمسک رہنے کی توفیق عطا فرمائے اور مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین ۔

🤲الھم عجل لولیک الفرج 

 🚩 🚩 والسلام علیکم ورحمۃ اللہ.

التماس دعا ظہور وفلسطین 🤲🏻🙏😭 💔
اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم 

🚩زیر سرپرستی امام زمانہ عج 🙏🏻🏕️




کتابچہ " امام مہدی عج شیعہ و سنی احادیث کی رو سے"
درس 9
حدیث ثقلین کی روشنی میں امام مہدی عج

استادِ محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب
عالمی مرکز مہدویت قم


🚩 🌹بسم اللہ الرحمٰن الرحیم🌹

اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ🚩

یا علی علیہ السلام مدد🙏🏻🙏🏻🙏🏻

▪️ مہدی علیہ السلام اہلبیت رسول کریم ص میں سے ہیں:
علمائے اہلسنت کی درج کردہ احادیث سے ان کے نزدیک یہ بات مسلم ہے کہ امام مہدی علیہ السلام اہلبیت رسول کریم ص میں سے ہیں۔ جو زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے، حضرت عیسیٰ ع کا آپ کے ساتھ نزول اور آپ کے پیچھے نماز ادا کریں گے۔ مثلاً:
نہ یہ زمانہ ختم ہو گا اور نہ یہ دنیا یہاں تک کہ میری اہلبیت سے ایک فرد عرب پر حاکم ہو گا جس کا نام میرے نام جیسا ہو گا۔

▪️ اہلسنت کے ایک اور عالم یحییٰ مقدسہ  نے اپنی معتبر کتاب میں ایک پورا باب اس موضوع پر تحریر کیا ہے کہ امام مہدی علیہ السلام ذریت/عترت رسول کریم ص ہیں۔اور اس باب میں 34 احادیث ذکر کی ہیں۔
ایک حدیث:
مہدی ع جو میری عترت اور فاطمہ سلام اللہ علیہا کی اولاد میں سے ہیں

▪️خود اہلسنت کی کتابوں میں یہ بات صراحت سے موجود ہے کہ امام مہدی علیہ السلام اولاد رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہیں۔ مستدرک الحاکم میں ایک مشہور فرمان:
مہدی ع مجھ سے ہے، میری اولاد میں سے ہیں۔

▪️اہلسنت کے ایک اور عالم حافظ قاسم نخعی وہ اپنی کتاب شرح سیرہ رسول اللہ ص میں سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا کی کائنات کی جہاں تمام عورتوں پر فضیلت بیان کرتے ہیں وہاں ایک بات یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ سیدہ س کی فضیلت میں یہ بات بھی ہے کہ جس مہدی ع کی بشارت آخری زمانے کے لئے ہے وہ انہیں فاطمہ س کی اولاد ہیں۔

▪️ پس آج کے دور میں جو ظہور سے پہلے کا دور ہے قرآن و اہلبیت رسول ص سے تمسک کرنے کی جو صراحت ہے اس میں اہلبیت رسول ص کے آخری فرد امام مہدی علیہ السلام ہیں، اور آپ کے ساتھ تمسک رکھنے میں ہی ہماری نجات ہے۔

🚩 والسلام علیکم ورحمۃ اللہ.

التماس دعا ظہور وفلسطین 🤲🏻🙏😭 💔

اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم 

شہر بانو ✍



New

 کتابچہ " امام مہدی عج شیعہ و سنی احادیث کی رو سے"
درس 9
حدیث ثقلین کی روشنی میں امام مہدی عج

استادِ محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب
عالمی مرکز مہدویت قم


🚩 🌹بسم اللہ الرحمٰن الرحیم🌹

اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ🚩

یا علی علیہ السلام مدد🙏🏻🙏🏻🙏🏻 
حدیث ثقلین کی روشنی میں امام مہدی علیہ السلام 
قران مجید کے ہمراہ اہل بیت کا ذکر بھی ہے اور عترت پیغمبر کا ذکر بھی ہے یہ بات واضح ہے کہ قیامت تک قران کی ہمراہ اہل بیت اور عورت پیغمبر سے ایک فرد ضروری ہے جس سے تمسک ضروری ہے اور اسی میں نجات ہے وہ کون سی ہستی ہے جو قران مجید کے ساتھ ساتھ فرد اہل بیت اور عترت پیغمبر کا جزو ہے شیعہ حدیث بلکہ اہل سنت کی احادیث اور ان کے علماء کے نزدیک بھی اپ اہل بیت سے ہیں سب سے پہلے یہ موضوع کہ امام مہدی اہل بیت میں سے ہیں
اہل سنت کی کتابیں مسند احمد سنن ابن ابی داؤد اس میں رسول اللہ کا فرمان یہ زمانہ ختم نہ ہوگا نہ دنیا کی عمر تمام ہوگی یہاں تک کہ میرے اہل بیت میں سے ایک شخص عرب پر حاکم ہوگا جس کا نام میرے نام جیسا ہوگا اہل سنت کے ایک اور عالم ابو الحسن محمد بن حسین بن ابراہیم ابن عاجم سجزی کہتے ہیں کہ وہ اہل بیت پیغمبر سے ہیں زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے حضرت عیسی حضرت امام مہدی کی دجال کے قتل میں نصرت کریں گے اور امام مہدی اس امت کی رہبری کریں گے اور امام ہوں گے حضرت عیسی ان کے پیچھے نماز پڑھیں گے 
حضرت امام مہدی نبی اکرم کی فطرت میں سے ہیں ایک اور عالم اہل سنت یوسف بن یحیی مقدسیہ اپنی کتاب عقد الدرر میں بیان کرتے ہیں پیغمبر اسلام کی ذریت اور عترت میں سے ہے اس کے بعد 34 حد احادیث اس حوالے سے ہے جن میں سے بعض احادیث المعجم الکبیر سنن ابن ابی داؤد سنن ابی ماجہ مسند امام احمد مستدرک ال صحیحین جیسی معتبر کتابوں میں ائی ہیں کہ مہدی میری عترت اور فاطمہ سلام اللہ علیہا کی اولاد سے ہیں 
حضرت مہدی پیغمبر کی اولاد سے ہیں ایک مشہور فرمان اہل سنت کی کتاب مستدرک حاکم میں بھی ہے فرمان رسول المہدی منی مہدی مجھ سے ہے اہل سنت کے عالم دین حافظ ابوالقاسم عبدالرحمان اپنی کتاب شرح سیرت رسول میں حضرت فاطمہ کائنات کی تمام عورتوں پر فضیلت کو بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں یعنی حضرت فاطمہ کی عظمت اور بزرگی کے دلائل میں سے ایک یہ ہے کہ جس مہدی کی اخری زمانے میں ظہور کی نوید دی گئی ہے وہ ان کی اولاد سے ہیں پس یہ فضیلت خاص حضرت فاطمہ کے ساتھ ہے جو کسی دوسرے کو حاصل نہیں ہے واضح ہو گیا کہ امام مہدی اولاد عترت اور اہل بیت اطہار میں سے ہیں جو حدیث ثقلین کے مصداق ہیں اور اپ بھی کبھی قران سے جدا نہ ہوں گے ان سیرت و کردار اور کتاب الہی کے مطابق ہے اج کا انسان بھی قران سے تمسک کرے اور ان حضرت کے احکامات کی پیروی کہلایا علاوہ ہدایت کے سر چشم کا سیراب نہیں ہو سکتا اج کا زمانہ ظہور زمانہ ہے لہذا وہ مہدی زارہ ہیں جن سے تمسک ضروری ہے جو امام معصوم ہیں قران کی طرح بے خطا ہیں ان سے تمسک میں نجات ہے نہ تنہا قران اور امام مہدی غیبت میں ہے ہم ان سے توسل کر سکتے ہیں پروردگار عالم ہمیں ان کے اباؤ اجداد کی تعلیمات سے اپنے زندگی گزارنے کا سلیقہ عطا کر اللہ ہمیں توفیق دے امین یا رب العالمین 

🚩 والسلام علیکم ورحمۃ اللہ.

التماس دعا ظہور وفلسطین 🤲🏻🙏😭 💔

اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم 

شہر بانو ✍



کتابچہ " امام مہدی عج شیعہ و سنی احادیث کی رو سے"
درس 10
حدیث من مات کی روشنی میں امام مہدی عج

استادِ محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب
عالمی مرکز مہدویت قم


🌹بسم اللہ الرحمٰن الرحیم🌹

اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ🚩

یا علی علیہ السلام مدد🙏🏻🙏🏻🙏🏻

▪️ معروف عمومی حدیث من مات۔۔۔ یعنی جس میں امام مہدی علیہ السلام کا ذکر مبارک باقی آئمہ معصومین علیھم السلام کے ساتھ ہے:
جو اپنے زمانے کے امام کی معرفت کے بغیر مر گیا ، اس کی موت گویا جاہلیت کی موت ہے۔
▪️ اہلسنت کی صحاح ستہ میں یہ حدیث سات صحابہ کے ریفرنس سے بیان ہوئی ہے زید بن ارقم، عبداللہ بن عباس، عبداللہ بن عمر و غیر۔۔۔ اہلسنت نے اپنی ستر دیگر کتب میں اس حدیث کو نقل کیا ہے۔

▪️ مکتب اہلبیت علیہ السّلام میں علامہ مجلسی نے اس حدیث کو چالیس شیعہ اسناد کے ساتھ بیان کیا ہے۔

▪️ اہلسنت میں ابن حدید نے اس حدیث کے متواتر ہونے کا دعوا کیا ہے۔ تشیع میں شیخ مفید رہ، شیخ بہائی رہ، علامہ مجلسی رہ 

▪️اس حدیث کے مضامین میں معنی ایک ہی بنتا ہے لیکن تعبیرات میں فرق ہے۔ مثلاً جاہلیت کی موت کی بجائے یہودی نصرانی ہو کر مرنے کی طرف اشارہ ہے بہرحال سب کا مفہوم عاقبت خراب ہونا ہے۔

▪️ پس امام زمانہ ایسا وجود مبارک جن کی معرفت واجب، اس کے بغیر عاقبت خراب ، جہالت میں زندگی و موت کا واقع ہونا ہے۔
پس یہ وجود مبارک منصوص من اللہ اور الہی شرائط کے حامل امام و رہبر ہیں۔

▪️ اہم نکات
*بلند علمی مقام کی حامل شخصیت کہ آپ کی معرفت کی بغیر ہم جاہل رہ جائیں گے۔

* پاک و پاکیزہ امام کہ آپ ع کی مطلق اطاعت کا حکم ہے۔ کبھی اپنے علم و عمل میں اشتباہ نہیں کرتے۔ جنت کی طرف لے جانے والی ہدایت اور جہنم سے بچانے والے امام 
* ایسی شخصیت کا انتخاب انسان نہیں کر سکتے۔ پس آپ ع من اللہ امامت و ولایت کے حامل ہیں۔
ورنہ اپنے بنائے ہوئے امام کی پیروی منطقی بات نہیں لگتی۔

▪️ نتیجہ 
پس جو لوگ امامت کے دعوے کرتے ہیں ان کی زندگیوں پر غور کریں تو واضح ہو جاتا ہے کہ وہ خطا سے محفوظ نہیں ہیں۔
جاہلیت سے مراد سادہ جاہلیت نہیں بلکہ شرک کا راستہ ہے۔
صرف تشیع کے پاس بارہ امام واضح ہیں جو رسول اللہ ص نے اعلان کئے۔ جب کہ باقی مکاتب کے پاس آج تک بارہ کی تعداد نہ مکمل ہے اور نہ متفق ہیں۔ 


🚩 والسلام علیکم ورحمۃ اللہ.

التماس دعا ظہور وفلسطین 🤲🏻🙏😭 💔

اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم 

شہر بانو ✍


New



*کتابچہ " امام مہدی عج شیعہ و سنی احادیث کی رو سے"*
درس 10
حدیث من مات کی روشنی میں امام مہدی عج
استادِ محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب
عالمی مرکز مہدویت قم


🌹بسم اللہ الرحمٰن الرحیم🌹
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ🚩
یا علی علیہ السلام مدد🙏🏻🙏🏻🙏🏻

 موضوع حدیث من مات یہ وہ حدیث ہے جو حدیث عام ہیں جس میں تمام ائمہ کا ذکر ہے اور ساتھ امام مہدی کا بھی ذکر ہے یہ حدیث شیعہ سنی کتابوں میں درج ہے اہل سنت کے محدثین میں سے صحاح ستہ کے مؤلفین نے اس حدیث کو سات صحابہ سے نقل کیا ہے زید بن ارقم عبداللہ ابن عباس عامر بن ربیع عبداللہ ابن عمر ابو دردہ معاذ بن جبل معاویہ اس سات افراد کے علاوہ اس حدیث کے مشابہ احادیث ابوہریرہ اور انس بن مالک سے ہے علامہ مجلسی نے اس حدیث کو 40 شیعہ اسناد کے ساتھ بہار الانوار میں ذکر کیا ہے اہل سنت نے اس حدیث کو اپنی 70 سے زیادہ کتابوں میں نقل کیا ہے جیسے ثنا ابن داؤد مصنف حافظ عبدالرزاق سنن سعید بن منصور خراسانی طبقات الکبری محمد بن سعد کاتب وقادبی مسند حافظ ابو الحسن علی بن جاد مصنف ابی شیبہ صحیح بخاری صحیح مسلم اسلام کے ایک محقق دیں اس حدیث کو 33 مضمونوں میں سے 30 مضمون جمع کر کے انہیں مرتب کیا ہے جس میں دس مضمونوں کا تعلق اہل سنت سے ہے اور 13 کا تعلق شیعہ سے ہے باقی ساتھ ایسی ہیں جو شیعہ اور سنی دونوں کے نزدیک قابل اعتماد ہیں اور ایسے علماء بھی موجود ہیں جنہوں نے اس حدیث کے متواتر ہونے کا دعوی کیا ہے اہل سنت کے اندر ابن ابی الحدید ہے تشیع میں شیخ مفید شیخ بہائی علامہ مجلسی ہیں ان مضامین کے معنی ایک ہی ہیں لیکن تعبیرات میں فرق ہے بعض جگہ میت جاہلیہ ہے اور بعض جگہ ما ما تا یہودیہ اور نصرانیہ ہے جو لوگ امام کی معرفت حاصل کیے بغیر مر جائے بعض جگہ پر تعبیر ہے کہ وہ یہودی اور نصرانی کی موت مرا یعنی ایک بری عاقبت کی طرف اشارہ ہے شروع میں من ماتا بعض جگہ پر من خرجا ہے من خراجا ہے معنی ایک ہی ہے یعنی جس نے بھی اپنے زمانے کے امام کی نافرمانی کی گویا اس کی موت جاہلیت کی موت ہے اب یہ امام ایسا امام ہے جس کا نام پہچاننا جاہلیت کی موت ہے تو یقینا یہ امام صاحب شرائط ہیں امر الہی کی طرف دعوت کرنے والا ہے ہم اس حدیث کی طرف توجہ کریں تو چند ایک نکات کی طرف ہماری توجہ ہونی چاہیے یہ امام اس حدیث کی رو سے اس کی فرمانبرداری اتنی واجب ہے ہر مسلمان پر تو گویا یہ خود علم کے بلند ترین مقام پر فائض ہے اس امت کے لیے ضروری ہے کہ اس کی فرمانبرداری واجب ہے دوسری جو چیز ہے وہ پاکیزہ امام ہے اس کے متعلق پیروی کا حکم ہے یہ اپنے علم اور عمل میں غلطی کا شکار نہیں ہوتا یہ جنت کی طرف لے جانے والا ہے اور جہنم سے بچانے والا ہے اس کی معرفت جہنم سے بچاتی ہے ہدایت بھی جنت والی ہے اب یہ کون ہے یقینا انسان تو منتخب نہیں کر سکتے پھر خدا ہی بتائے گا امامت کا ایک ایسا عہدہ ہے جسے رسول خدا نے شروع سے بیان کیا جیسے قبیلہ بنی عامر بن صعصعہ نے ان حضرات سے عرض کیا اگر ہم اپ کی اطاعت کریں اور اپ کے مخالفین پر کامیاب ہو جائیں تو کیا اپ اپنے بعد اقتدار ہمارے ہاتھ میں دے دو گے تو رسول خدا نے ارشاد فرمایا تھا اقتدار خدا کے ہاتھ میں ہے جس طرح وہ چاہے گا عمل کرے گا لہذا پیغمبر اسلام کے بعد امامت و خلافت کوئی ایسی چیز نہیں ہے کہ جسے لوگوں پر چھوڑ دیا جائے اگر ہم اہل سنت کے عقیدے کے مطابق اس کام کا اختیار امت پر چھوڑ دیں تو پھر اس حدیث کی کیا حیثیت باقی رہ جاتی ہے مسلمان خود ہی اپنے بنائے ہوئے امام کی ترغیب دلائی جا رہی ہے اس کی معرفت نہ رکھنا جاہلیت کی موت ہے انجام جہنم ہے امام کا یہ مقام ہے جو اس کی معرفت نہ رکھنا اس کی نافرمانی جہنم بس ہم حدیث من ماتا پر گہری نظر ڈالیں تو چند چیزیں سامنے اتی ہیں ایک اسلام کا جو فکری اور نظریاتی نظام ہے اس کے اندر امامت ہے اس کی اہمیت ہے اور یہ حدیث بتا رہی ہے کہ ہر دور میں ایک امام ہے جس کی معرفت واجب ہے اب وہ کون ہے اسے تلاش کریں اماموں کی تعداد چونکہ زیادہ ہے ہر دور میں امام ضروری ہے امام ہر دور میں ایک ہی ہے یہ امام علم اور تقوی میں سب سے بڑھ کر ہے اس کی معرفت سب پر واجب ہے جو شخص بھی زمانے کے امام کی معرفت نہیں رکھتا وہ جاہلیت کی موت مرتا ہے تمام حدیثوں کا مطالعہ کرنے کے بعد ہم یہ نتیجہ نکالیں گے کہ رسول اللہ نے اپنے بعد اماموں کا اعلان کیا ہے قیامت تک مبارک ہیں مکتب تشیع ہیں جو 12 اماموں کا قائل ہے باقیوں سے دوبارہ پورے ہی نہیں ہوئے یہ 12 امام ایسے ہیں جو ہر دور میں موجود ہیں جو رسول اللہ نے اعلان کیے اج ہمبارویں کے زمانے میں ہیں یہی اخری خلیفہ اور اخری امام ہے جن کی امامت کا اعلان رسول اللہ نے اپنے دور میں کیا تھا ان کی امامت پر شیعہ سنی سب کا اتفاق بھی ہے دعا ہے کہ پروردگار عالم ہم سب کو ان لوگوں میں سے قرار دے جو اپنے زمانے کے امام کی معرفت رکھے اور ان کی اطاعت کرے امین یا رب العالمین 


🚩 والسلام علیکم ورحمۃ اللہ.
التماس دعا ظہور وفلسطین 🤲🏻🙏😭 💔
اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم 
🚩زیر سرپرستی امام زمانہ عج 🙏🏻🏕️
شہر بانو ✍




کتابچہ " امام مہدی عج شیعہ و سنی احادیث کی رو سے"
درس 11
حدیث اثنا عشر کی روشنی میں امام مہدی عج

استادِ محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب
عالمی مرکز مہدویت قم


🌹بسم اللہ الرحمٰن الرحیم🌹

اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ🚩

یا علی علیہ السلام مدد🙏🏻🙏🏻🙏🏻






خلاصہ

ایسی حدیثیں جن میں اثنی عشر خلیفہ کی تعبیر یا ان کے مشابہ مضامین آئے ہیں مندرجہ ذیل نکات کو ظاہر کرتی

ہیں:

ا۔ ائمہ بارہ افراد ہیں۔ ۲۔ ان کی امامت دنیا کے اختتام تک باقی رہے گی، (بالخصوص جملہ "لا يزال الاسلام و لا بنقض" پر توجہ کرنے سے) ۔ وہ سب کے سب قریش میں سے ہیں۔ ۴۔ شیعہ حضرات کے علاوہ کسی فرقے کا یہ دعوی نہیں ہے۔ ۵۔ حضرت مہدی (عج) بارہویں امام ہیں جو ۶۰ ۲ ھ قی سے منصب امامت پر فائز ہوئے ہیں۔


پس وہ عظیم محقل جو قرآن کا ہم پلہ ہے کہ جس سے تمسک کرنا ضروری ہے اور دو خلیفہ جس کی امامت کے ذریعہ اسلام کو عزت ملے گی اور اس کی معرفت حاصل نہ کرنا اسلام سے خروج کا باعث بنتا ہے وہ صرف اور صرف حضرت مہدی علیہ

السلام ہیں۔


🚩 والسلام علیکم ورحمۃ اللہ.

التماس دعا ظہور وفلسطین 🤲🏻🙏😭 💔

اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم 

شہر بانو ✍







کتابچہ " امام مہدی عج شیعہ و سنی احادیث کی رو سے"
درس 12
احادیث خاص
امام مہدی عج کے موضوع پر مشترکہ آراء
عقیدہ مہدویت اور امام پر ایمان کا واجب ہونا

استادِ محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب
عالمی مرکز مہدویت قم


🌹بسم اللہ الرحمٰن الرحیم🌹

اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ🚩

یا علی علیہ السلام مدد🙏🏻🙏🏻🙏🏻


خواص احدیث
وہ احادیث جو صرف امام مہدی علیہ السلام سے متعلق ہیں، ان کی تعداد 2000سے زیادہ ہے۔
کتاب منتخب الاثر آیت اللہ صافی گلپائیگانی کے 157 ماخذات ہیں۔ آپ نے 900 کے قریب احادیث بغیر تکرار کے نقل کی ہیں۔

بحث کے دو عنوان
➖شیعہ سنی کا امام مہدی علیہ السلام کے متعلق مشترکہ نظریہ
➖اختلافی نظریہ یعنی کن مقامات پر اختلاف ہے

▪️ مشترک نکتہ نظر
عقیدہ مہدویت کا مشترکہ عقیدہ
امام مہدی علیہ السلام پر عقیدہ رکھنا واجب ہے
امام مہدی علیہ السلام کی عالمگیر حکومت
حضرت عیسی علیہ السلام کا نزول اور آپ ع کی اقتدا 
سفیانی کے لشکر کا زمین میں دھنسنا
سورج کا مغرب سے طلوع ہونا
امام مہدی علیہ السلام کا سیدہ زہرا سلام اللہ علیہا کی اولاد سے ہونا
امام مہدی علیہ السلام کی ظاہری صفات
ظہور امام ع کے بعد الہی نعمات کی کثرت اور برکتوں کا نزول
کعبہ اور مقام ابراہیم علیہ السلام کے درمیان آپ ع کی بیعت 
آپ ع کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہمنام ، ہمشکل، ہم سیرت ہونا
یہ مشترک نکات تقریباً چودہ ہیں۔
آخر الزمان میں آپ ع کا ظہور
یہ عقیدہ مشترک اس لئے ہے کہ شیعہ و سنی ہر دو طرف اس موضوع پر متواتر احادیث کا ذخیرہ ہے جو شک کو یقین میں بدلتا ہے۔
اہلسنت کی روایات میں چار سو کے قریب روایات جمع ہوئی ہیں۔ اور طرفین میں ان احادیث کی تعداد چھ ہزار  تکرار کے ساتھ ہے۔ تکرار کے بغیر یہ تعداد دو ہزار رہ جاتی ہے۔

▪️ علمائے اہلسنت کی آرا ء
حافظ عسقلانی:  احادیث متواتر ہیں کہ مہدی ع اسی امت اسلام میں سے ہیں۔ 
اور کثیر علما کی رائے یہ ثابت کرتی ہےکہ عقیدہ مہدویت مسلمات سے ہے۔
جناب مبارک پوری: اسلام میں یہ بات پر دور میں مشہور رہی ہے کہ آخر الزمان میں اہلبیت ع سے ایک شخصیت ظہور کرے گی۔

▪️ امام مہدی علیہ السلام پر عقیدہ رکھنا واجب
مکتب اہلبیت میں اس کی دلیل سورہ بقرہ کی آیت 2-3
 یہ وہ کتاب ہے جس میں شک و شبہ نہیں، متقین کے لئے ہدایت ہے جو غیب پر امان رکھتے ہیں۔ شیخ صدوق رہ اس کی تشریح میں فرماتے ہیں: 
کسی مومن کا ایمان اس وقت تک صحیح نہیں ہے جب تک کہ وہ اس چیز کی معرفت حاصل نہ کرے جس پر وہ ایمان لانا چاہتا ہے۔ امام مہدی علیہ السلام پر ایمان اس وقت تک فایدہ نہیں دے گا جب تک وہ زمانہ غیبت میں آپ ع کی معرفت پیدا نہ کرے ۔ 
جو آپ ع کے ظہور کا منکر ہے وہ گویا ہر اس چیز کا منکر ہو گیا جو رسول اللہ ص ہر نازل ہوئی۔
اسی طرح اہلسنت کے اہل علم کے نزدیک یہ حقیقت ثابت ہے اور وہ امام مہدی علیہ السلام پر عقیدہ رکھنے کو واجب قرار دیتے ہیں۔

🚩 والسلام علیکم ورحمۃ اللہ.

التماس دعا ظہور وفلسطین 🤲🏻🙏😭 💔

اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم 

شہر بانو ✍






کتابچہ " امام مہدی عج شیعہ و سنی احادیث کی رو سے"
درس 13
احادیث خاص
امام مہدی عج کے موضوع پر مشترکہ آراء
عالمگیر مہدوی حکومت، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول اور امام مہدی عج کی اقتداء کرنا، خسف بیدا ، لقب مہدی۔

استادِ محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب
عالمی مرکز مہدویت قم


اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ🚩
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
کورس 02...کتابچہ04
درس 13

➖➖➖➖🚩
▪️سورہ انبیاء آیت 105 اللہ کے صالح بندے زمین کے وارث ہوں گے۔
سورہ نور آیت 55
اہل ایمان سے وعدوں میں ایک وعدہ زمین کے صالح بندوں کی حکومت کا قیام ہے۔
انہیں آیات کے ذیل میں ہر دو شیعہ و سنی مکاتب میں ایسی روایات آئی ہیں کہ میری عترت سے فرد آخر زمانے میں ظہور کر کے زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا۔
پس یہ موضوع 
مشترک ہے کہ امام مہدی علیہ السلام پوری زمین پر حاکم ہوں گے۔ ایک روایت کے مطابق یہ حکومت 309 سال تک رہے گی۔ 

▪️ حضرت عیسی علیہ السلام کا نزول اور امام مہدی علیہ السلام کی اقتدا میں نماز ادا کرنا یہ بھی مشترک موضوع ہے۔

▪️ خسف بیدا
امام مہدی علیہ السلام سے مقابلے کے لئے آنے والا سفیانی لشکر مقام بیدا کی  زمین میں دھنس جائے گا۔

▪️ لقب  مہدی علیہ السلام دونوں مکاتب میں مشترک ہے۔ یعنی مخفی امر کی طرف ہدایت کرنے والے۔
🚩 والسلام علیکم ورحمۃ اللہ.

التماس دعا ظہور وفلسطین 🤲🏻🙏😭 💔

اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم 

شہر بانو ✍۔




  درس نمبر   : 14


اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ🚩
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم


  کتابچہ " امام مہدی عج شیعہ و سنی احادیث کی رو سے  "
 احادیث خاص 

" امام مہدی عج کے موضوع پر مشترکہ آراء"
 *اہم نقطہ جسپہ شعہ سنی اعتقاد رکھتے ہیں * 
 الہی امداد  اور  سورج کا مغرب سے طلوع ہونا: 
 نقطہ نمبر 1_
اہم نقطہ جسپہ شعہ سنی اعتقاد رکھتے ہیں وہ ہے کہ جب امام زمانہ عجل اللّہ تعالیٰ فرجہ الشریف ظہور فرمائیں گے تو اللّه تعالیٰ امام زمانہ علیہ کی مدد فرمائیں گے۔
امام مھدی علیہ السلام کا ایک لقب منصور ہے۔
یعنی اللّٰه تعالیٰ کی طرف سے مدد ہوگی۔
 نصرت کے پہلو 
 بعض روایات میں فرشتوں کے ذریعے نصرت ہوگی {جیسے بدر میں ہوئ تھی}۔
 بعض روایات میں کائنات کی چیزیں حتی  پتھر یہ چٹانیں یہ سب بھی پروردگار کے حکم سے امام زمانہ علیہ السلام اور انکی سپاہ کی مدد کریں گے۔
 احادیث صحیح بخاری میں" 
صحیح بخاری جسمیں ابو حریرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم سے نقل کرتے ہیں۔
 فرماتے ہیں کہ 
"قیامت اس وقت تک برپا نی ہوگی جب تک تم لوگ یہودیوں سے جنگ نہ کرو یعنی قیامت سے پہلے حتماً تم لوگوں کی یہودیوں سے جنگ ہے۔
جب یہودیوں سے جنگ ہو گی اس وقت پتھر بولے گا کہ
جس کے پیچھے ایک یہودی چھپا ہوا ہے بولے گا کہ اے مسلمان میرے پیچھے میری پشت پہ ایک یہودی ہے جو چھپا ہوا ہے اسے قتل کر"۔
اب حدیث بتا رہی ہے کہ قیامت سے پہلے یہودیوں سے جنگ ہوگی اور اس جنگ میں پتھر بھی مسلمانوں کی مدد کریں گے
حتیٰ کہ اگر کوئ یہودی پتھر کے پیچھے چھپا ہو گا تو پتھر خود بولے گا کہ اے مسلمان مجاہد تو آ اس چھپے ہوئے یہودی کو قتل کر
 صحیح بخاری میں اب مسئلہ"
مسلئہ یہ ہے کہ صحیح بخاری کے اندر جتنی بھی روایات ہیں امام زمانہ عجل اللّہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی  جتنی روایات ہیں لفظ مھدی کے بغیر اس شخص نے کوشش کی ہے کہ ان کو بیان کرے۔
اب اس میں تعصب ہے،جہالت ہے۔
حلانکہ وہ ہی روایات اہل سنت کی کتابوں میں امام مہدی اور دیگر ان کے لشکر کے ساتھ ہیں ۔
 اہلِ تشیع کی کتاب میں "
 کتاب کمال الدین میں جناب ابو بصیر رحمتہ اللہ علیہ نے امام صادق علیہ السلام کے نام سے روایت کیا: 
"کہ جب قائم قیام کریں گے اس وقت دنیا میں کوئ کافر اور مشرق نئ رہے گا"
 تشریح روایت"
روایت کہتی ہے کہ خدا کا انکار کرنے والا بھی کوئ نہیں رہے گا اور امام ع کے ساتھ شرک کرنے والا۔
یعنی جن لوگوں نے جھوٹے امام بنائے ہوئے ہیں اور انکے پیچھے چلتے ہیں وہ نئ رہے گا۔
مگر جب مولا ع ظہور کریں گے تو انہیں دکھ ہوگا۔
جب خروج کریں گے تو بہت افسوس ہوگا۔
جب خروج ہوگا ان سب کے دل تاریک ہو چکے ہوں گے کفار کے اور جو مسلمانوں کی صفوں میں مشرقین ہیں،
 جنہوں نے بدتیاں برپا کی ہوئ ہیں،
 انحراف برپا کی ہوئ ہیں۔
جھوٹے جھوٹے اماموں کے پیچھے چل پڑے ہیں یہ سب۔
اس کے بعد فرماتے ہیں کہ حتی کہ اس وقت یہ نوبت ہوگی: 
اگر کوئی کافر یا مشرک کسی پتھر کے پیٹ میں چھپا ہوا ہو
تو وہ پتھر پکارے گا
اے مومن میرے پیٹ میں ایک کافر چھپا ہوا ہے اس پتھر کو توڑ اور اس کافر کو قتل کر"
دونوں روایت کے مضمون ایک ہی ہیں۔
لیکن بخاری نے اپنی عادت کے مطابق روایت کو کاٹا ہے اور ہر جگہ سے تراشا ہے۔تھوڑی سی چیز کو نقل کیا ہے۔
اب اہل سنت کی اور کتب میں مھدی کے نام کے ساتھ موجود ہے۔
 نقطہ نمبر 2
 سورج کا مغرب سے طلوع ہونا 
 صحیح بخاری میں" 
ابو ہریرہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم سے ایک فرمان نقل کرتے ہیں صحیح بخاری میں:
قیامت قائم نئ ہوگی
یہاں تک کہ سورج مغرب سے طلوع نہ ہو
اور جب سورج مغرب سے طلوع ہوگا تو اس وقت جب سب لوگ اسے دیکھیں گے تو ایمان لے آئیں گے سب کے سب
لیکن نبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم فرماتے ہیں کہ
اس وقت کسی بھی شخص کو اس کے ایمان لانے کا کوئ فائدہ نہیں ہوگا۔
اس میں قیامت سے پہلے مغرب سے سورج طلوع ہونے کا۔۔
8 شیعہ روایت "
 شیعہ روایت کے اندر واضح ہے۔

مولا کے ظہور کی علامات میں سے ایک علامت:
 1_  سورج کا مغرب سے طلوع ہونا 
 نطفہ نمبر 1 
سورج کا مغرب سے طلوع ہونا یہ علامت حتمی نہیں ہے۔
 حتمی علامات 5 
1_  سفیانی کا خروج 
2_  یمنی کا قیام 
3_ آسمانی آواز 
4_ خصف بیدا 
 5_ نفسِ زکیہ کا قتل 
لیکن یہ جو معرب سے سورج کا طلوع ہونا ہے یہ ہے ہماری کتابوں میں لیکن
   یہ حتمی علامات میں سے نئ ہے۔
اور جیسا کہ رجال کا مسلئہ ہے
ہوسکتا ہے یہ ہو ہوسکتا ہے یہ نہ ہو۔
حتمی کا مطلب یہ ہی ہوتا ہے کہ یہ نہ ہو۔
اب یہ کہ واقعاً
سورج کس طرح مغرب سے طلوع ہوگا اس میں مختلف نظریات ہیں علماء اسلام کے۔
  علماء اسلام کے نظریات کا خلاصہ 
قیامت سے پہلے کی نشانی ہے
زمین اپنی حرکت کے تھوڑا برعکس سورج کے گرد حرکت کرے گی۔
سورج مغرب میں طلوع ہو چکا تھا تو دوبارہ معرب سے طلوع ہوتا ہوا نظر آئے گا۔
اور پھر دوبارہ روٹین پر اجائے گا۔
یعنی خدا قیامت برپا کرنے سے پہلے اپنی قدرت دکھائے گا کہ
 " میں قادر ہوں زمین کی حرکت کو مورنے پر "
لوگ خدا کو بھول چکے ہوں گے اس کو دیکھ کر وہشت کریں گے
جیسے روایت میں ہے کہ
لوگ ایمان لے آئیں گے لیکن
یہ ایمان لانا انکے لیئے فائدہ مند نہیں ہوگا۔
 جیسے ہم گزشتہ اقوام میں دیکھتے ہیں کہ
جب وہ بڑے بڑے معجزات کو دیکھتے تو خوف زدہ ہوتے تھے اور ایمان لاتے تھے۔
لیکن بعد میں دوبارا ویسی ہی حرکتیں کرنے لگ جاتے تھے۔
 یہاں بھی یہ ہی ہوگا سارے ایمان لے آئیں گے
لیکن جب سورج کی واپسی اپنی جگہ پر دیکھے گے تو پھر ویسی حرکتیں شروع کر دیئیں گے۔
بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ سورج کا مغرب سے طلوع ہونا سے مراد امام زمانہ علیہ السلام ہیں کیونکہ
   امام زمانہ علیہ السلام کو آفتاب سے تشبیہ دی ہے۔
امام زمانہ علیہ السلام کی حکومت ہوگی جو مغرب سے شروع ہو گی اور مشرق تک پھیل جائے گی۔
 دنیا ایک اس سورج کو دیکھے گی
اور اس سورج کو دیکھے گی جو آفتاب ولایت کہ جس سے پوری دنیا میں امن و امان قائم ہوگا۔
امام زمانہ علیہ السلام کی طاقت کے خوف سے ایمان ان کو کوئ فائدہ نئ دے گا۔
کیونکہ یہ دل و جان سے ایمان نئ لائے ہوں گے۔
بلکہ امام زمانہ علیہ السلام کی طاقت سے ڈر کر ایمان لے آئیں ہوں گے۔
پھر درمیان میں فساد برپا کریں گے۔
اب ہم کیسے کہ سکتے ہیں کہ یہ امام زمانہ علیہ السلام یہ جو سورج ہے مغرب سے طلوع ہوا ہے ۔
امام زمانہ علیہ السلام تو مشرق میں ہیں۔
مکہ میں امام مہدی علیہ السلام ظہور کریں۔
اب یہاں
 مختلف آراء ہیں
 بعض کہتے ہیں کہ
آپکی والدہ روم کی شہزادی تھی۔ 
تو اس حوالے سے مغرب سے طلوع کہا گیا
  کیونکہ
 رومی لوگ مسیحی لوگ وہ زیادہ تر امام زمانہ علیہ السلام سے لڑھیں گے نئ بلکہ امام زمانہ علیہ السلام کا ساتھ دیئیں گے۔
 بعض کہتے ہیں کہ
حضرت عیسیٰ علیہ السلام آئیں گے اور امام زمانہ علیہ السلام کے ناصر بن کے مغرب کو فتح کریں گے اور مغربی طاقت کے ساتھ تقویت دیئیں گے تو پوری دنیا پر حاکم ہوگا اس کا نور۔
مولا مھدی علیہ السلام کی حکومت پوری دنیا پر چھا جائے گی۔

🚩 والسلام علیکم ورحمۃ اللہ.

التماس دعا ظہور وفلسطین 🤲🏻🙏😭 💔

اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم 

شہر بانو ✍


اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ🚩

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم


نوٹ: یہ ChatGPT سے تیار کیا ہے 

🌷 *🌹بسم اللہ الرحمٰن الرحیم🌹



اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ🚩



یا علی علیہ السلام مدد🙏🏻🙏🏻🙏🏻* 



 *کورس* 2


 *کتابچہ*📖 " امام مہدی عج شیعہ و سنی احادیث کی رو سے"*



 *درس* 15



🤲🏻اللّٰھم عجل الولیک لفرج،


 پروردگار کی بارگاہ میں دعا ہے یوسف زہرا سلام اللہ علیہا کے ظہور میں تعجیل فرما ہم سب کو مولا کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین،



 📖گفتگو کا موضوع: احادیث خاص

امام مہدی عج کے موضوع پر مشترکہ آراء

امام مہدی عج کا اولاد حضرت فاطمہ س سے ہونا،ظاہری صفات، زمانہ ظہور میں نعمتوں کی فروانی ، زمین کے عدالت سے بھرنا وغیرہ 

امام مہدی (عج) کے موضوع پر احادیث کی بہت سی روایات ہیں، جو ان کے ظہور، صفات، اولاد، اور ان کے دور کی حالت کے بارے میں بیان کرتی ہیں۔ ان میں سے کچھ اہم آراء یہ ہیں:

1. امام مہدی (عج) کی ظہور کی بڑی علامت: احادیث میں بتایا گیا ہے کہ قیامت کے قریب امام مہدی (عج) کا ظہور ہوگا، جس کی بنیاد میں عدل و انصاف کی بھرمار ہوگی۔

2. حضرت فاطمہ (س) کے نسل سے ہونا: احادیث میں بیان کیا گیا ہے کہ امام مہدی (عج) حضرت فاطمہ (س) کے نسل سے ہوں گے، جو ان کے مقام و معززہ کو اور بھی بلند بناتا ہے۔

3. ظاہری صفات: امام مہدی (عج) کی بعض احادیث میں ان کے ظاہری صفات جیسے عدل و انصاف، زندگی کی نیکی، اور عالمی سلامتی کی بات کی گئی ہے۔

4. زمانہ ظہور میں نعمتوں کی فروانی: امام مہدی (عج) کے ظہور کے زمانہ میں بھی احادیث میں بتایا گیا ہے کہ ان کی فرمانبرداری سے نعمتوں کی فراہمی ہوگی۔

5. زمین کے عدالت سے بھرنا: امام مہدی (عج) کے ظہور کے بعد، زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیا جائے گا، جو دنیا کو حقیقی امن و امان فراہم کرے گا۔

یہ تمام موضوعات احادیث میں موجود ہیں اور مسلمانوں کو امام مہدی (عج) کے ظہور کی تیاری اور ان کی فرمانبرداری کی اہمیت کو سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔






 🚩 والسلام علیکم ورحمۃ اللہ.



التماس دعا ظہور و شہادت 🤲🏻🙏😭 💔


اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم 



🚩زیر سرپرستی امام زمانہ عج 🙏🏻🏕️



شہر بانو ✍ 🎤🎤 


*کتابچہ " امام مہدی عج شیعہ و سنی احادیث کی رو سے"*
درس 16
احادیث خاص
امام مہدی عج کے موضوع پر اختلافی آراء
امام زمان عج کی ولادت اور نسب پر اختلاف

استادِ محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب
عالمی مرکز مہدویت قم


کورس ٹو
کتابچہ 4
درس16


اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ🚩
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

"شیعہ سنی اعتقادات میں اختلاف پایا جاتا ھے .
اہلسنت کھتے ہیں امام مھدی عج ابھی تک پیدا نھیں ھوٸی آخر زمانہ میں پیدا ھونگے ،

جبکہ ھمارہ اھل تشیع کا یے عقیدہ ھے کہ امام مھدی ع 255 ھہ اس دنيا میں تشریف لاچکے ہیں اور 260 ھہ میں اپنے والد کی شہادت کے وقت پردہ غیبت میں چلے گٸی۔

امام ع کے والد کیاکہتے ہیں ? وہ آیا اپنے فرزند کے وجود کو ثابت کر رھے ہیں یا نہیں ۔
 وہ دایا جو موجود ہوتی ہیں جنہوں نے مولود کو دیکها ہوتا ہے آیا ان سے کوٸی بات ھوٸے۔
 

" *سب سے پھلے انکے دادا امام علی نقی علیہ السلام نے* بشارت دی تھی کہ :
میری بیٹے حسن ع ان سے ھمارہ وہ بیٹا وہ پوتا اس دنيا میں آٸے گا جو دنيا کو عدل انصاف سے بھر دے گا ۔
 
 *احمد بن اسحاق کہتے ہیں کہ* 
 انہوں نے امام حسن عسکری ع سے سنا ہے کہ آپ فرما رہے تھے کہ :
"میں خدا کا شکر گزار ہوں کہ اس نے مجھے اس دنيا سے نہیں اٹهایا یہاں تک کہ مجھے میرا جانشین دکهایا.....

🚩 والسلام علیکم ورحمۃ اللہ.

التماس دعا ظہور وفلسطین 🤲🏻🙏😭 💔

اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم 

شہر بانو ✍




درس 17
درس کا عنوان 
کچھ اعتراضات کا جواب
پہلا اعتراض کیوں احادیث مہدویت صحیح بخاری اور مسلم میں نہیں ؟ اور اسکا جواب
*آغا علی اصغر سیفی صاحب*                                                                                                                             
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ🚩
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
     
امام زمان عج کی ولادت اونسب پراختلاف                                                                                                                      
 💫 *احادیث امام مہدی (عج) میں شبہات :*
 مہدویت کا موضوع دوسرے ہر مسئلے کی طرح طول تاریخ میں دشمنوں اور مذموم اہداف والے لوگوں کا نشانہ رہا ہے۔ بالخصوص وہ لوگ جن کے لئے " مہدویت کی حقیقی تہذیب بہت بڑی رکاوٹ تھی اور ان کے مقاصد، طمع ولائی سے ہم آہنگ نہ تھی وہ ہمیشہ اس کی اساس اور اس کی اہمیت و حیثیت کو کمزور کرنے کے درپے رہے ہیں، احادیث *"مہدویت"* بھی انہی معاملوں کا ایک مرکز رہی ہیں، اس مختصر حصے میں ہم ان کے بعض اعتراضات اور ان کے جوابات بیان کریں گے :
🖇️ *پہلا اعتراض:*
 _احادیث امام مہدی (عج) اور سیمین:_
بعض لوگوں کا بے بنیاد اور فضول دعوی یہ ہے کہ بخاری اور مسلم نے امام مہدی عج کے بارے میں احادیث تحریر نہیں کی ہیں اور اس کا مطلب یہ ہے کہ " مہدویت کا موضوع ان کے نزدیک قابل قبول نہ تھا، اس بارے میں صحیح حدیثیں موجود نہیں ہیں اور یہی وجہ تھی کہ انہوں نے اپنی کتابوں میں احادیث " مہدویت کو ذکر نہیں کیا ہے اس دعوے کی جانے والی  پڑتال سے پہلے چند نکات کی طرف توجہ کرنا ضروری ہے؟

 ▫️ا۔ بخاری کی اپنی کتاب کے بارے ایک مشہور بات یہ کہتے ہیں: میں نے اس کتاب کو ایک لاکھ احادیث سے (اور ایک قول کے مطابق دولاکھ صحیح احادیث سے) لکھا ہے اور جن صحیح احادیث کو میں نے چھوڑ دیا ہے ان کی تعداد اس سے زیادہ ہے لہذا جناب بخاری کی اس صراحت کے بعد یہ معلوم ہو گیا کہ جن احادیث کو انہوں نے نقل نہیں کیا وہ اس وجہ سے نہیں تھا کہ وہ ضعیف حدیثیں تھیں بلکہ بہت سی ایسی حدیثیں تھی جنہیں وہ صحیح جانتے تھے لیکن کتاب میں نہیں لائے۔
▫️۲۔ اہل سنت کے علماء بھی اس چیز کے متعقد نہیں ہیں کہ وہ تمام روایات جو سمیعین میں نقل نہیں ہوئیں وہ ضعیف ہیں، بلکہ وہ اس کے بر عکس عقیدہ رکھتے تھے، اور ان کے نکتہ نظر کے مطابق بہت سی صحیح حدیثیں تھیں جو سمجین میں ذکر نہیں ہیں، لہذا انہوں نے ان احادیث کو دوسری کتابوں میں ذکر کیا ہے تا کہ اس ذریعہ سے سیمین میں موجود کمی کا ازالہ کرسکیں۔
۔ اصل سنت کے علماء رجال اور علماء حدیث میں سے کسی نے یہ نہیں کہا کہ ، کسی حدیث کے صحیح ہونے کا صرف
معیار یہ ہے کہ وہ حمین میں ذکر ہو، بلکہ بعض ایسی احادیث جن کا صحیح ہو نا اہل سنت کے نزدیک قطعی ہے وہ سمجھین میں نہیں آتی ہیں، ہماری اس بات پر بہترین گواه حديث *العشرة المبشرة بالحنا"* ہے کہ جسے صحیح بخاری اور مسلم دونوں میں سے کسی ایک نے بھی نقل نہیں کیا ہے، لیکن اہل سنت کے نزدیک یہ حدیث متواتر احادیث میں شمار ہوتی ہے۔ ۔ وہ لوگ جو حین میں حضرت مہدی علیہ السلام کے بارے احادیث ذکر نہ ہونے کا بہانہ بنا کر آنحضرت (ع) کے ظہور کے منکر ہوتے ہیں در حقیقت او ان حدیثوں کے مطالب سے دقیق اور کافی اطلاع بھی نہیں رکھتے۔


🚩 والسلام علیکم ورحمۃ اللہ.

التماس دعا ظہور وفلسطین 🤲🏻🙏😭 💔

اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم 

شہر بانو ✍





*کتابچہ " امام مہدی عج شیعہ و سنی احادیث کی رو سے"*
درس 18

کچھ اعتراضات کا جواب
دوسرا اعتراض: ابوخلدون اور الازھر کے کچھ علماء کا احادیث مہدویت کا انکار 
اس عتراض کا جواب
*استادِ محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب*

اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ🚩
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

عقیدہ ظہور امام مہدی علیہ السّلام کے منکر بن اعتراضات سے تمسک کرتے ہیں کہ جو ابن خلدون نے احادیث مہدویت وار کیے ہیں اور یہ نتیجہ لیتے ہیں کہ ایسی تمام احادیث غیر مستند ہیں الازھر نیورسٹی کے پروفیسر سعد محمد ابن جو احمد امین کے شاگرد ہیں انہوں نے بھی ان احادیث کے متعلق ابن خلدون کے حوالے سے جو نظریہ سامنے آیا وہ بھی ایسی نظریے کو اپناتے ہیں اور بھی کچھ لوگ سامنے آئے جیسے ابو زبیر محمد فریدوجدی جیاں ایسے گروہ یعنی اہل بیت کے سامنے آ رہا ہے جو احادیث مہدویت کا انکار کر رہے ہیں ان کی نگاہ میں کوئی مہدی آ نے والا نہیں ہے ابن خلدون کے احادیث کو فیض قرار دینے کی حقیقت ابن خلدون انہوں نے تمام احادیث مہدویت کا انکار نہیں کیا تھا بلکہ کچھ احادیث کو صحیح بھی جاننا تھا انہوں نے 23 احادیث میں سے 19 احادیث کو ضعیف قرار دیا تھا حاکم کی روایات عون اعرابی سے اور اس نے ابو صدیق ناجںی اور اس نے ابو سعید حرزی سے نقل کیا ظہور مہدی عجل کے بارے میں حاکم کی روایات حضرت علی سے اسے بھی ابن خلدون نے کہا ہے اس کی سند صحیح ہے ابی داؤد امام زمانہ عجل کی محبت سے مالا مال کیا جاسکتا ہے اور انہیں آ نحضرت کی اطاعت بیروی کے لیے آ مادہ اور تیار بھی کیا جاسکتا ہے
🚩 والسلام علیکم ورحمۃ اللہ.

التماس دعا ظہور وفلسطین 🤲🏻🙏😭 💔

اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم 

شہر بانو ✍












تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

(Ist pdf) 👈 مہدویت پر بحث کی ضرورت (استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب)

دروس عقائد کا امتحان

کتاب غیبت نعمانی کے امتحان کے سوالات اور ان کے جوابات